وحدت نیوز (سکردو)  مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل  مجاہد ملت آغا علی رضوی نے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے زیر اہتمام احتجاجی جلسے میں اپنے رفقاء اور علاقے کے امور کا درک رکھنے والے باشعور نوجوانوں اور بزرگوں کے ہمراہ شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم گلگتبلتستان کے عوامی رائے کے خلاف جبری مسلط کئے جانیوالے کسی بھی آرڈر کو نہیں مانتے،ستر سال ہم نے استحصال برداشت کیا مگر اب کسی بھی جبر کو ہم عوامی طاقت سے رد کرکے دکھائیں گے،عوام کے حقیقی ہمدرد نام نہاد جی بی آرڈر اور کالے قانون خالصہ سرکار کے خلاف سڑکوں پر آگئی ،عوام اور جوان اب بیدار ہیں،ہر درباری کو ہم پہچانتے ہیں،ہر سازشی کو جانتے ہیں،سی پیک میں مقامی حکومت کی بدترین نا اہلی سے ہم ایک پائی بھی نہیں پاسکتے، اب جی بی آرڈر کو زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کی گئی تو عوام انکو ذلت و رسوائی سے دوچار کر چھوڑیں گے، مقررین نے کالے قانون خالصۃ سرکار کو کسی بھی صورت میں ماننے سے انکار کردیا، آغا علی رضوی نے گہورے کھرمنگ ہیڈکوارٹر کے معاملے میں انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو دھوکہ سے باز رہیں. یہ مت بھولنا کہ ہم خالصۃ سکھ قرار دینے کی کوشش کرنے والے افسران شاہی سے نمٹنا اچھی طرح جانتے ہیں۔جی بی آرڈر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کسی آرڈر کو ہم نہیں مانتے، ہم حقوق مانگ رہے ہیں مجبور کیا تو حقوق چھین لیں گے، استحصال برداشت نہیں. جو بھی فیصلہ ہو وہ ہمارے اپنے نمائندے کریں گے لیکن اگر ہمارے اوپر فیصلے مسلط کرنے کی سازش میں مقامی نمائندے شامل ہوئے تو وہ عوام اور گلگت بلتستان کا غدار ہونگے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس مولانا سلطان رئیس کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی، مولانا عبدالسمیع، انجینئر شبیر حسین، حاجی زرمست خان اور دیگر افراد شریک تھے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے حالیہ اصلاحاتی پیکیج اور لینڈ ریفارمز کے نام پر عوامی اراضیوں پر حکومتی قبضے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ شرکائے اجلاس نے متقفہ طور پر اصلاحاتی پیکج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے طوق غلامی قرار دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عوامی امنگوں کے برخلاف اور خطے کے مفادات سے متصادم کسی بھی اصلاحاتی پیکیج کے جبری نفاذ کی صورت میں عوامی ردعمل کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہونگی۔ جی بی کے عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر خطے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے کسی بھی قانون سازی یا اصلاحاتی پیکج کو مسترد کیا جائے گا۔ اس موقع میں پر حافظ سلطان رئیس نے کہا کہ حالیہ اصلاحاتی پیکج جی بی کے عوام کیلئے طوق غلامی ہے، جسے کوئی بھی ذی شعور شہری قبول نہیں کرے گا۔ اجلاس میں آغا علی رضوی نے کہا کہ اس اصلاحاتی پیکیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار نہیں بنانا چاہتی۔ جی بی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ تمام تر ٹوپی ڈراموں کو ختم کرکے تمام اختیارات جی بی کو دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ٹیکس ایشو اور گندم سبسڈی کے ایشو کی طرح اسے بھی عوام میں لے کر جائے گی۔

وحدت نیوز (گلگت)  سید علی رضوی عز م و استقامت کے پیکر ہیں ،انہوں نے اپنی زندگی گلگت بلتستان کے عوام کے نام وقف کردی ہے۔گندم سبسڈی کی بحالی، ٹیکسوں میںچھوٹ اور خالصہ سرکار سے حکومت کا یوٹرن سید علی رضوی اور ان کے ساتھیوں کی جہد مسلسل کا نتیجہ ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ نیئر عباس مصطفوی نے کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین محض زبانی دعووں پر یقین نہیں رکھتی ، آغا علی رضوی نے چھومک میں 19 دن دھرنا دیکر حکومت کو اپنے موقف کو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔حکومت کا لینڈ ریفارمز کمیشن کے قیام اور ناتوڑ رول کو ختم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے ، عوامی خواہشات کے مطابق قانون سازی کی مجلس وحدت مسلمین ہرممکن تعاون کرے گی لیکن زبردستی عوام کو اپنے ملکیتی زمینوں سے بیدخل کرنے کی ہر کوشش کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نومل چھلمس داس میں سرکاری اداروں کے نام الاٹمنٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔جن اداروں اور محکموں کے نام عوامی زمین کی بندربانٹ کی گئی ہے انہیں فوراً کینسل کیا جائے اور تعمیراتی کام کو بند کروایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن حکمرانوں نے عوامی ملکیتی زمین کی بندر بانٹ کی تھی عوام نے انہیں اقتدار سے باہر کردیا اور موجودہ حکومت کو مینڈیٹ ماضی کی حکومت کی عوام دشمن فیصلوں کے نتیجے میں ملا ہے۔موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے اور عوام کو سڑکوں پر لاکر ایشوز ایڈریس کرنے کا موقع فراہم نہ کرے۔

انہوں نے کہا ہے حکومت اقتدار میں دوام چاہتی ہے تو عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرے،گلگت بلتستان میں رہنے والے تمام مسالک کے عوام کو ایک ہی نظر سے دیکھیں ۔شیعہ نشین علاقوں سے متصل زمینوں پر حکومت جبری قبضے کرکے ناتوڑ رول کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں ناتوڑ رول نافذالعمل ہی نہیں،اگر حکومت کے دعووں میں سچائی ہے تو ہر جگہ ایک ہی قانون ہونا چاہئے۔مختلف علاقوں میں مختلف قوانین کا اطلاق حکومت کے دوغلے پن کا ظاہر کرتی ہے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے کمشنر بلتستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستا ن میں خالصہ سرکار کا تصور انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ پورے جی بی میں ایک انچ خالصہ سرکار نہیں بلکہ عوامی اراضی ہے۔ خالصہ سرکار کی آڑ میں جی بی میں بے چینی پھیلانے کی تمام تر کوششیں قابل مذمت ہیں۔گلگت بلتستان میں عوامی اراضی پر قبضے کی کوشش ظلم ہے اور اس ظلم پر کسی صورت خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا حکومت کو جہاں کہیں زمین درکار ہے معاوضہ دیکر حاصل کرے اورزبردستی قبضے کی کوشش کی گئی تو چلاس سے لے کر خپلو کی سرحد تک عوام میں تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکردو کی بات ہی نہیں چلاس اور داریل تانگیر میں بھی عوامی اراضی پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ مضبوط گلگت بلتستان ہی مضبوط پاکستان کا ضامن بن سکتا ہے اور مضبوط گلگت بلتستان یہاں کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم ہر اس اقدام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے جہاں عوام کا استحصال اور ظلم و زیادتی ہو۔ جی بی کے عوام ہر حوالے سے کمزور اور مستضعف ہیں۔ تعلیمی صورتحال ناگفتہ بہہ، طبی سہولیات ناپید، انفراسٹریکچر ناقابل بیان اور فلاحی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں عوامی اراضی کو ہتھیانا یہاں کے عوام کو مزید کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گلگت بلتستان میں ہر مکتبہ فکر اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے صف اول کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے کہا کہ چھومک و کتپناہ میں عوامی اراضی پر شب خون مارنا علاقہ دشمنی اور خطے کی سالمیت کے خلاف سنگین سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کی ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا ہر شہری پر فرض ہے۔ خالصہ سرکار کے نام پر گلگت بلتستان کو 48 سے پہلے کی صورتحال کی طرف دھکیلنے کی کوشش انتہائی خطرناک اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی نہ صرف کوشش ہے بلکہ اس عمل سے دشمن ملک کے موقف کو تائید ملتی ہے۔ خالصہ سرکار کے نام پر جی بی کو ہندوستان سے جوڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ دشمن کے عزائم خاک میں مل جائیں۔ چند انچ اراضی کے مفت حصول کے لئے انتظامیہ دشمن کے موقف کی عملی حمایت کرنا چھوڑ دے۔ یہ خطہ یہاں کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا ہے اور آزادی کے ستر سال بعد اس کی زمینوں کو سینکڑوں سال قبل کی خالصہ سرکار سے جوڑنا ریاست سے غداری اور جنگ آزادی کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ انتظامیہ ایسے غلط فیصلے سے باز رہے جس کے نتیجے میں یہاں کے عوام سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔ خالصہ سرکار کا مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت تک پہنچ جائے تو نہ صرف انتظامیہ کو شدید دھچکا لگے گا بلکہ خطے کی سیاسی صورتحال متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر اور جی بی پر پاکستان کا موقف کمزور پڑ جائے گا لہذٰا میں ریاستی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسا اقدام اٹھانے سے باز رہے جس کے نتیجے میں دشمن کے لئے راہ ہموار نہ ہو۔ اگر ریاستی اداروں کو پورے خطے میں کہیں بھی زمین چاہیئے تو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حاصل کرنے میں کوئی بھی طاقت مانع نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ بھی عوامی فلاح کے لئے اگر کہیں کوئی زمین درکار ہوتی ہے تو عوام کو بھی آمادہ کیا جاسکتا ہے، لیکن طاقت کا استعمال کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔ ویسے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جی بی سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ غیرقانونی عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی اراضی پر ناجائز قبضے کے خلاف تحریک کے لئے عوام تیار رہیں۔ اس ظلم کے خلاف کسی بھی سطح تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ ہم ہر قسم کی قربانی دیں گے لیکن خالصہ سرکار کے نام پر گلگت بلتستان کو سکھوں کی راج دھانی میں رہنے نہیں دیں گے۔ ہم نے آزادی شعور کے ساتھ حاصل کی ہے خالصہ سرکار نہیں بلکہ پاکستان ہماری پہلی اور آخری منزل جبکہ آئین پاکستان ہمارا دستور ہے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی معاشرہ کی تعمیر و ترقی اساتذہ اور ڈاکٹر کی خدمات کے بغیر ممکن نہیں لیکن ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ان دونوں پیشوں سے تعلق رکھنے والوں کی بے توقیری کی جاتی ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اساتذہ اور ڈاکٹر ز کو بھی حقوق کے لیے سڑکوں میں آنا پڑتا ہے اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں اساتذہ کی بے توقیر ی کے ساتھ ساتھ انکا معیار زندگی بھی قابل رحم ہوتا ہے جبکہ وہ قوم کی تابناک مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ جی بی میں این آئی ایس اساتذہ کے مسائل ایک بڑے عرصے سے لٹکے ہوئے ہیں اورانہیں دلاسے پے دلاسے دئیے جارہے ہیں ۔ صوبائی حکومت ان اساتذہ کے ساتھ انصاف کرے اور ان کے مسائل حل کرے۔ان کے علاوہ کنٹرکٹ پر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر ز کے مطالبات کو فوری طور حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کسی طور صوبائی حکومت کے حق میں نہیں کہ ہر مسئلے پر عوام احتجاج کرے۔ بہت سار ے مسائل ایسے ہیں جنہیں حل کرنے کے حکومت کو خود سے کردار ادا کرنا چاہیے۔آغا علی رضوی نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں تعلیم اور صحت پر توجہ دے اور دونوں محکموں میں موجود خامیوں کو دور کرے۔ ان دو نوں شعبوں کو نظر انداز کرنا قوم کے ساتھ خیانت ہے۔ گلگت بلتستان کے عارضی ڈاکٹر ز نے دور دراز علاقوں میں خدمات سرانجام دیں ہیں انکی خدمات کو فراموش کسی صورت نہیں کیا جاسکتا۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree