وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی نے صوبائی سیکٹریٹ سولجر بازار سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کراچی کے عوام کے معاشی قتل عام کے ساتھ ساتھ ان کے سروں سے چھت بھی چھینے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات کی آڑ میں لوگوں کے جائز کاروبار اور گھروں کو توڑنے کی منصوبہ بندی کراچی کے عوام کے خلاف سازش ہے، جس سے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، عوام میں مایوسی کے ساتھ ساتھ اشتعال بھی بڑھتا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، عوام بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں اور حکمران ثقافت ڈے کے نام پر کروڑوں روپے ڈانس پارٹیز اور ریلیز پر تو خرچ کر رہے ہیں، مگر کراچی کی عوام کو پانی کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ملیر ضلع کورنگی اور ضلع غربی میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے عوام سراپا احتجاج ہیں، مگر واٹر بورڈ عملی اقدامات میں قطعی طور پر ناکام ہوچکا ہے اور حکومت صرف کے فور منصوبے کا راگ الاپنے میں مصروف ہے۔

سید علی حسین نقوی نے کہا کہ کراچی کے عوام سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو کی مد میں حکومت کو فراہم کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے میں کراچی کی عوام کا مستقل استحصال کیا جاتا ہے، کراچی کا پانی واٹر بورڈ کی سرپرستی میں ٹینکر مافیا کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور پانی چوروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی، ہم عوام کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور عوامی حقوق کے حصول کی خاطر بھرپور جدوجہد کریں گے، اگر عوام کا استحصال بند نہ کیا گیا اور انہیں ان کے جائز حقوق فوری طور پر فراہم نہ کئے گئے تو پھر عوام کے ساتھ سڑکوں اور چوراہوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

وحدت  نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ ملازم حسین نقوی نے اپنے ایک بیان میں پاک افواج کے جوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے ناگا پربت جیسے خطرناک پہاڑ پر کامیاب ریسکیو آپریشن کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاک فوج دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے سخت موسم میں ناگا پربت پر ریسکیو آپریشن ناممکن تھا لیکن پاک افواج کے جوانوں نے اس ناممکن کو ممکن بنا کر ملکی وقار کو بڑھایا ۔

علامہ ملازم حسین نقوی نے پاک فوج کو اس کامیاب آپریشن پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جوانوں کی جتنی حوصلہ افزائی اور تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک بزدل دشمن ہے جو نہتے شہریوں پر حملہ کر کے اپنی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ علامہ ملازم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کویہ مسئلہ عالمی سطحہ پر اٹھانا چاہیے تاکہ بھارتی جارحیت کو اقوام عالم میں بے نقاب کیا جاسکے۔علامہ  ملازم حسین نقوی نے لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والوں کی مغفرت کے لیئے دعا کی اور کہا کہ ہم ان شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام مستونگ میں کار پر تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے چار ہزارہ شیعہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف مسجدِ ولی عصر علمدار روڈ سے چوکِ شہداء تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کی اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رکن بلوچستان اسمبلی آغا رضا، علامہ ولایت جعفری اور عباس علی سمیت خواتین سمیت مردوں کی بڑی تعداد شریک تھی جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کے خلاف اور شیعہ نسل کشی میں ملوث دہشت گردوں کی سزاکے حق میں نعرے درج تھے ۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے رہنماوں نے کہا کہ مستونگ میں شیعہ نسل کشی کا یہ سانحہ ہمارے مقتتدر حلقوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی اور صوبائی حکومت پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے،  تواتر کیساتھ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں پولیس کو نشانہ بنائے جانے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی ، گذشتہ 18 سالوں میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت کوئٹہ اور اسکے گردنواں میں ہماری ٹارگٹ کلنگ اور پھر منظم طور پر ہماری نسل کشی کا منصوبہ بنایا گیا اس میں بعض خلیجی ممالک خصوصا سعودی عرب کے اسرائیل پرست اور امریکہ پرست افکار کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں،دہشتگردوں کے نرسری کالعدم شدت پسند گروہ کو بلوچستان میں مکمل آزادی دینا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ناکام بنانے کی سازش ہے، ان دہشتگردوں گروہوں نے نام بدل کر پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اب یہ سارے دہشتگرد گروہ داعش کے کے تلے جھنڈے منظم ہوکر پاکستان کو اپنی آماجگاہ بنانے میں کوشاں ہےاور ہر سانحے کے بعد باقاعدہ طورپر داعش واقعے کی ذمہ داری نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ آئندہ بھی اسی طرح کے حملوں کی دھمکیاں دیتی ہے  ،وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اگر عوام کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے یا پھر وزیر داخلہ کے پاس اختیارات نہیں ہے  تو اپنے عہدہ سے مستفی ہوجائیں ۔ رہنماوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کی طرز پر کوئٹہ ، مستونگ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں قائم داعش، طالبان اور لشکر جھنگوی کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف آپریشن خیبر فور کی طرز کا ٹھوس آپریشن جلد از شروع کیا جائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بناکر میڈیا کو ہزارہ ٹائون آنے سے روکنے پر سڑک کنارے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مستونگ کے خونی سانحےمیں ہزارہ شیعہ قوم سے تعلق رکھنے والے 4 شہید اور 1 زخمی ہے جو کہ ہمارے مقتدر حلقوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی اور صوبائی حکومت پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جسکا جواب ہم نے اور پاکستان بھر کے مظلوم عوام نے بار بار طلب کیا ہے لیکن جواب تو درکنار اشک شوئی کیلئے بھی ان میں سے کسی کے پاس مظلوم عوام کی داد رسی کیلئے بالکل ہی وقت نہیں۔اور تواتر کیساتھ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں پولیس کو نشانہ بنائے جانے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی۔ اس موقع پر مرکزی رہنما و امام جمعہ کو ئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی،ایم ڈبلیو ایم رہنما علامہ ولایت حسین جعفری اور کوئٹہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل سید عباس علی بھی موجود تھے۔

رہنماوں کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں،دہشتگردوں کے نرسری کالعدم شدت پسند گروہ کو بلوچستان میں مکمل آزادی دینا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ناکام بنانے کی سازش ہے، ان دہشتگردوں گروہوں نے نام بدل کر پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اب یہ سارے دہشتگرد گروہ داعش کے کے تلے جھنڈے منظم ہوکر پاکستان کو اپنی آماجگاہ بنانے میں کوشاں ہیاور ہر سانحے کے بعد باقاعدہ طورپر داعش واقعے کی ذمہ داری نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ آئندہ بھی اسی طرح کے حملوں کی دھمکیاں دیتی ہے ،وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اگر عوام کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے یا پھر وزیر داخلہ کے پاس اختیارات نہیں ہے تو اپنے عہدہ سے مستعفیٰ ہوجائیں۔  

رہنماوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 18 سالوں میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت کوئٹہ اور اسکے گردنواں میں ہماری ٹارگٹ کلنگ اور پھر منظم طور پر ہماری نسل کشی کا منصوبہ بنایا گیا اس میں بعض خلیجی ممالک خصوصا سعودی عرب کے اسرائیل پرست اور امریکہ پرست افکار کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔ اور اب بظاہر داعش کے خلاف بنائے گئے مسلم ممالک کے اتحاد کا مقصد صرف اور صرف داعش کو پروان چھڑانا اور شام و عراق سے بری طرح پیٹھنے کے بعد اسکو اس خطے میں لاکے بسانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہے۔ جہاں تک نواز حکومت کا تعلق ہے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پہلے ہی دن سے انہیں عوام سے زیادہ اپنی حکومت بچانے کی فکر لاحق رہی ہے اور اب بھی ملک بھر میں خصوصا کوئٹہ، پارہ چنار، کراچی میں معصوم عوام کے قتل عام سے حکومت بالکل بیگانہ نظر آتی ہے جسکی بڑی اور واضح مثال حالیہ واقعات کوئٹہ ،پارہ چنار اور کراچی میں شہید ہونے والوں کے جنازوں پر حکومت کی طرف سے کسی ایک شخص نے بھی شرکت نہیں کی اور نہ ہی لواحقین سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کی زحمت گوارا کیں۔اور پارہ چنار میں بم دھماکوں جن میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے اور اسکے بعد پارہ چنار میں دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا تو حکومت کی طرف سے روایتی بے حسی جاری رہی اور مجبورا وہاں کی عوام کو آرمی چیف سے مذکرات کا مطالبہ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان کے اقتصادی ترقی کے دشمن کالعدم شدت پسندوں کے زیر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے در پے ہیں ،ہم سانحہ مستونگ میں ملک دشمن دہشتگردوں کی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ہم شہداءکے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں انشاء اللہ ہمارے ان شہداء کا پاکیزہ لہو وطن سے دہشتگردوں کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ،ہم شہدا ءکے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔

وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے پیپلزپارٹی کی ریلی پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کا امن وامان دن بدن خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی تمام تر توجہ سڑکیں اور پل بنانے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ صوبے کے 10 کروڑ عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوں کی ریلیوں پر حملے صورتحال کو مزید خراب کر دیں گے۔ حکومت عوام، تمام دینی وسیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان، بہاولپور، لاہور سمیت صوبے بھر میں لاقانونیت کی انتہاء ہو چکی ہے۔ تھانہ کلچر کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو امن وامان کی صورتحال میں بہتری آسکی ہے اور نہ ہی تھانہ کلچر کو عوام دوست بنایا جا سکا ہے۔ محکمہ پولیس پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے ساتھ واردات ہونے کے باوجود پولیس کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ جب تک صوبے میں تھانہ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کا قلع قمع نہیں کیا جائے گا اس ادارے میں بہتری نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی، اسٹریٹ کرائمز اور قتل وغارت گری کی وارداتوں سے قومی میڈیا بھرا نظر آتا ہے مگر شاید ایسی خبریں حکمرانوں کے لیے قابل توجہ نہیں۔ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کے بدولت عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہو چکی ہے۔ ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کے لیے امن وامان کی ناگفتہ بہ صورتحال کو بہتر کرنا ہوگا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کی ریلی پر ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات کرواتے ہوئے اصل حقائق سامنے لائیں اور ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔ کسی بھی شخص کو امن وامان کی صورتحال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وحدت نیوز (ساہیوال) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے ساہیوال میں ڈاکٹر قاسم شہید کی رسم قل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں پے درپے ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت پنجاب اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے، نیشنل ایکشن پلان کے نام پر سیاسی حریفوں کو انتقامی کارروائی کا سامنا ہے، پنجاب میں کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ صوبہ بھر میں مکمل آزاد ہیں، پنجاب میں دہشتگردوں اور سی ٹی ڈی کا ہدف ہمیں ایک ہی نظر آتا ہے، دہشتگرد ہمیں قتل کرتے ہیں اور سی ٹی ڈی بھی ہمارے ہی پُرامن علماء اور کارکنوں کو غائب کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزید ایسے مظالم پر خاموش نہیں رہیں گے، ساہیوال میں 2 ماہ کے اندر ہم 3 جنازے اُٹھا چکے ہیں، ڈاکٹر خالد بٹ اور ان کے بیٹے کے قاتلوں کا ابھی سراغ نہیں لگا تھا کہ ڈاکٹر قاسم کو سربازار شہید کر دیا گیا، کیا پنجاب میں میں جنگل کا قانون ہے؟ آخر ہمارے شہداء کے ورثا انصاف کیلئے کہاں جائیں؟ علامہ مبارک موسوی نے 9 فروری کو علماء اور عمائدین کے اجلاس کے بعد صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں پنجاب میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ ملت جعفریہ کے افراد کی گمشدگی پر پریس کانفرنس کا بھی اعلان کیا۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree