وحدت نیوز(آرٹیکل) نبوت ختم ہوگئی، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ عالمین کے آخری نبی اور اسلام تمام زمانوں کے لئے آخری دین ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے بعد دینِ اسلام کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے مسلمانوں کے ہاں بارہ اماموں کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں ایسی احادیث موجود ہیں  جو نبوت کے بعد خلافت و امامت کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلے میں  یوں آیا ہے کہ ”جابر بن سمرة“کہتے ہیں  کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:

”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔“ (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)

”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے والدنے مجھے کہا کہ پیغمبر نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “

نبوت کے بعد امامت کا تصور ختمِ نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔

نظریہ امامت پر سارا جہانِ اسلام متفق ہے اور یہ امامت کی تفصیل  ہے کہ امام کو کیسا ہونا چاہیے؟ امام کا انتخاب کیسے ہوگا؟  امام معصوم ہوگا یا غیر معصوم وغیرہ وغیرہ۔۔۔

جہانِ اسلام کے معروف ترین اور مقبول ترین آئمہؑ میں سے ایک حسین ابن علیؑ ہیں۔ آپ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی آپ سے عشق و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ سے عشق و عقیدت رکھنے والے جانتے ہیں کہ    ۶۱؁ ھ میں دینِ اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر عائد ہوئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام ، دینِ ملوکیت بن چکا تھا، دینِ بادشاہت بن چکا تھا، ملوکیت و بادشاہت کسے کہتے ہیں عصرِ حاضر میں اس کا نپا تلا جواب آپ کو خصوصی طور پر  مولانا مودودی ؒ اور یاپھر شیخ الحدیث  ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملے گا۔

حسین ابن علیؑ نے اکسٹھ ھجری میں دینِ اسلام کی اصلی تعلیمات کی حفاظت کے لئے  اپنی ذمہ داری کو اداکیا، اگر اس وقت حضرت امام حسینؑ کی جگہ خود پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ بھی  ہوتے تو وہ وہی کچھ کرتے جو حسینؑ ابن علی نے کیا ہے اور یزید ابن معاویہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بھی وہی کچھ کرتا جو اس نے  حسین ابن علیؑ کے ساتھ کیا ہے۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ بھی اگر چہ تنِ تنہا رہ جاتے لیکن وہ  ہر گز کسی کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ دینِ اسلام کو ملوکیت و بادشاہت میں تبدیل کرےاور یزید کبھی  دینِ اسلام کو ملوکیت میں تبدیل کئے بغیر چین سے نہ  بیٹھتا۔

حضرت امام حسینؑ نے  ملوکیت سے ہیبت زدہ  ایک ایسی فضا میں قیام کیا کہ جہاں لوگ  ملوکیت کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔

دوسری طرف امام حسینؑ یہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت دینِ اسلام کی حقیقی شکل اور تعلیمات کی حفاظت نہ کی گئی تو عالمِ بشریت ظہورِ اسلام سے پہلے والے زمانے یعنی زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گا، اسلامی قوانین لغو ہوجائیں گے اور اولاد آدم بھٹکتی پھرے گی ۔ چنانچہ آپ نے ہر قیمت پر دینِ اسلام کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے اعوان و انصار کو تہہ تیغ ہونا پڑا لیکن اسلام کی تعلیمات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ جب آپ کی شہادت اور  قربانی کی خبر جہانِ اسلام میں پھیلی تو  لوگ نفسیاتی طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ۔ آپ کے قیام کی سب سے پہلی تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں کے اندر سے موت کا خوف ختم ہوگیا اور لوگ باطل کو باطل اور غلط کو غلط کہنا شروع ہوگئے جس کی وجہ سے جہانِ اسلام کے اطراف و کنار میں مختلف قیام سامنے آئے۔

اس قیام ، قربانی اور شہادت کی دوسری تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں نے اہلبیت ؑ سے عشق و محبت کا اظہار دوبارہ سے شروع کردیا اور یوں جگہ جگہ جہاں پر  امام حسینؑ کی قربانی کا ذکر ہوتا وہیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تبلیغ بھی ہوتی اور   یزید  نے دینِ اسلام میں جوانحرافات ایجاد کئے تھے ان کا بھی ذکر ہوتا۔

ہم ناصبیوں کی بات نہیں کرتے ، ناصبیوں کے علاوہ مجموعی طور پرمسلمانوں  نے دو طرح سے اس قربانی کو دیکھا ، کچھ  نے اس قربانی سے ہمدردی ، عشق اور درد کا رشتہ قائم کیا اور کچھ نے اس سے ہمدردی ، عشق اور درد کے ساتھ ساتھ تعلیم اور درس کا ناطہ بھی جوڑا۔

بالکل ایسے ہی جیسے اگر پانچ بچوں کا باپ فوت ہوجائے تو ان میں سے ہر ایک کا رد عمل مختلف ہوتا ہے، کوئی مہمانوں اور تعزیت کے لئے آنے والوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، فاتحہ پڑھتا ہے، اپنے باپ کی باتیں دہراتا اور مہمانوں کو سناتا ہے، دوسرا صرف روتا اور پیٹتا ہے، تیسرا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، چوتھے کی نیند ختم ہوجاتی ہے اور پانچواں قبرستان میں جا کر قرآن خوانی کرتا رہتا ہے۔ یہ پانچوں اپنی اپنی طرز پر اور اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلا ں مرحوم کا زیادہ سگا بیٹا ہے اور فلاں کو زیادہ غم ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سبھی کو غم ہے اور سبھی مرحوم کے حقیقی بیٹے ہیں۔

اسی طرح امام حسینؑ بھی تمام علام اسلام کے رہبر و رہنما اور محسن  ہیں اور سارے مسلمان ، آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی شہادت کے موقع پر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، جذبات کا یہ اظہار مختلف نوعیت کا ہوتا ہے ، کسی کی مظلومانہ شہادت پر جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے۔

فطری امر ہونے کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور یوں پوری دنیا مل کر حسین ابن علی ؑ کو سلام پیش کرتی ہے۔دنیا کا ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ آج اگر دنیا میں اسلام کی تعلیمات اور نام و نشان باقی ہے تو یہ امام حسینؑ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔

 بقول شاعر

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

(یگانہ)


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری حفظ اللہ نے یوم عاشورمحرم الحرام 1440ھ کے موقع پر عالم اسلام کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ امام حسین ؑان ہستیوں میں سے ہیں جن پر اللہ نے انعام کیاہے، اما م حسین ؑیقیناًصادقین میں سے ہیں، جن کا ہمیں ساتھ دینا چاہئے، جن کی معائیت میں ہمیں چلنا چاہئے،جن کی ہمیں ہمراہی کرنی چاہیے،کربلا ہمیں ہمت، حوصلہ، شجاعت اور جرائت دیتی ہے،آج ہمیں میدان میں حاضر رہنے کی ضرورت ہے ، فرعونوں، یزیدوں اور شدادوں کے خلاف، کربلا میں چند افراد کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ کربلا عدل وسچائی، انسانی شرافت اور اقتدار کو قتل کیاگیا، کربلا میں امام حسین ؑکے اصحاب وانصارکاگلانہیں کاٹا گیابلکہ سچائی کا گلا کاٹا گیا، جو لاشیں کربلا کے میدان میں پامال ہوئیں وہ عدل وانصاف کی لاشیں تھیں، یہ جن مخدرات عصمت وطہارت کو رسن بستہ کیا گیا دراصل یہ انسانی غیرت ، حمیت اور کرمت کو رسن بستہ کیا گیا،وفا اور حیاءکو قتل کیا گیا۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہاکہ امام عالی مقامؑکا قیام پوری عالم انسانیت اور بشریت کیلئے تھا، ان کاقیام مخصوص لوگوں ، حالات یا علاقےکے حوالے سے نہیں تھابلکہ تاقیام قیامت ہر شخص کیلئے تھا، امام حسین ؑکا قیام ہمیں بتلاتاہے کہ تم اکیلے ہی کیوں نا ہوں، قلیل تعدادمیں ہی کیوں ناہوتمہیں مایوس نہیں ہونا چاہئے، گھبرانا نہیں چاہئےبلکہ ہرحال میں اٹھا چاہئے ، قیام کرنا چاہئے ،ظلم کے مقابلے میں فریاد بلند کرنی چاہئے،اگر حجرت کرنی پڑے تو حجرت کرنی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عاشوراکربلامیں امام حسین ؑکی قربانی کی اوج اورمعراج ہے،عاشورامیں ہمارے کیلئے بے شمارپیغامات پوشیدہ ہیں ،عاشورامیں ہمارے لیئے ہدایت کا عظیم زخیرہ موجود ہے،کربلا ، عاشورااور شہادت امام حسین ؑہمیں ظلم سے نفرت سکھاتی ہے، یہ ہمیں دعوت دیتی ہے تم عدل کے نفاذکیلئے اٹھو، ظلم کے خلاف، خود خواہی کے خلاف اٹھو، اپنی خواہشات میں توازن لائو، امام ؑنے واضح فرمایاتھاکہ یزید کی بیعت ذلت ہے جسے میں کسی صورت قبول نہیں کروں گا، فرار اختیار نہیں کروں گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ کربلا کی طرف سفرحقیقت میں تمام انسانی فضیلتوں کی طرف سفر ہے، یہ عاشقانہ سفرہے،یہ عارفانہ سفرہے ، جو عاشوراکی طرف ہے جو مولاحسین ؑکی طرف ہے،آج سب سیاہ پوش، مردوزن سیاہ پوش ہیں،کربلا ضیافت بلاکا نام ہے، یہاں مشکلات سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتاہے،یہاں ہمت ملتی ہے یہاں شعور اور بصیرت ملتی ہے،کربلائی اور عاشورائی بصیرت کے ذریعے انسان تاریخ کے تمام کے تمام یزیدوں اور فرعونوں کو پہچان لیتاہے،ان کے مکروہ چہرے سے نقاب اتارلیتاہے۔

آخرمیں انہوں نے کہاکہ ہرسال کربلا اور عاشوراہمیں نیاءجوش وولولہ اور جذبہ دیکر جاتے ہیں،ہمیں نئی زندگی دیکرجاتے ہیں ،انشاءاللہ بیداری کایہ سلسلہ جاری رہے گا اور ایک ضرور آئے گاجب اس دنیا سے ظلم مٹ جائے گا،عدل کا نفاذہوگا، پوری بشریت منتظر ہے کہ کب وہ امام حسین ؑکی نسل کریمہ سے تعلق رکھنے والاوہ امام زمان عج آئے گااور دنیا کو عدل وانصاف سےپر کرے گا، تاریخ ایک حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،آج عزاداری اور عاشوراکے اجتماعات خصوصاًاربعین کا فقید المثال جلوس ہمیں روز بروز ظہور امام زمان عج سے نذدیک ترکررہاہے، جلد وہ وقت آئے گاکہ جب ہمارا امام عج یا لثارات الحسین ؑکی صدابلند کرکے خانہ کعبہ سے نکلے گاتودنیا بھرسے عشاق کے قافلے اس سے ملیں گے اور دنیا بھرسے ظالموں کو شکست فاش دیکر اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم کریں گے۔

وحدت نیوز(اسلا آباد) پاکستان کو درپیش بحرانوں میں سے ایک سنگین بحران قلب آب ہے، ہمارے دشمن نے پاکستان میں آنے والے دریائوں پر ڈیم بناکر آبی جارحیت کی ہے، پاکستانی عوام ، بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم بالخصوص ملت جعفریہ چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان کے ڈیم فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، ان خیالات مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مرکزی میڈیاسیل سے میڈیاکو جاری اپنے پیغام میں کیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان مستقبل قریب میں آبی قلت کے باعث بدترین خشک سالی اور بحران کا شکارہونے والا ہے، بھارت نے ہماری آبی گذرگاہوں پر بند باندھ کر اور ڈیم بناکر ہماری مادر وطن پر آبی جارحیت کی ہے، بھارت پاکستان کو بنجر بنانا چاہتاہے، وہ ہم سے انتقام لے رہاہے، اگر ابھی ہم نے اس سنگین بحران سے نپٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی نا بنائی تو ہماری آنے والی نسلیں آبی قلت سے انسانی بحران کا شکار ہوجائیں گی،مادر وطن کو اس بحران سے نکالنے کیلئے ہماری ذمہ داری ہے کہ آگے بڑھیں اپنا کردار اداکریں۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے  پاکستان قوم سے بالعموم اور عزاداران سید الشہداءؑ بانیان مجالس، ذاکرین، واعظین، خطباء، آئمہ جمعہ،ماتمی سنگتوں اور ماتموں سے خصوصی اپیل کی ہے کےاس مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیں،ہم پانی سے عشق کرنے والی قوم ہیں، ہم امام حسین ؑ اور ان پیاس کو یاد کرنے والی قوم ہیں، ایام محرم الحرام اور ایام شہادت تشنگان کربلا ہیں حکم قرآنی ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو ، خدا وندمتعال کے حکم کی پیروی کرتے ہوئےآئیںنیکی اور بھلائی کی راہ میں قدم اٹھائیںاور زیادہ زیادہ تعدادمیں چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان کے ڈیم بنائو فنڈ میں عطیات جمع کروائیں یہ ہماری آئینی، شرعی اور قومی ذمہ داری ہے ۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) اُس زمانےکےامام، انسانیت کےپیشوا، اور آزاد لوگوں کے رھبر ومقتدیٰ،حسین ابن علی ع نےاپنے زمانے کی سپر پاور اور دنیاکی سب سے بڑی حکومت وسلطنت(جسکی سرحدیں موجودہ افغانستان سے افریقہ، اور چنوبی یمن سی ترکی و آذربائیجان تک پھیلی ہوئی تھیں)کیخلاف سیاسی، اصلاحی، وفکری انقلاب برپا کرنے کیلئےقیام کیااور اپنے قیام کے مقاصد وہ خود بیان فرماتے ہیں:1؛ ظالم وفاسد حکومت کی عملا مخالفت (صرف زبانی نہیں)2؛ امت وقوم کی اصلاح (سیاسی، اجتماعی، فکری، واخلاقی اصلاح)3؛ امربالمعروف ونہی عن المنکر،جیساکہ خودفرماتے ہیں:اِنِّی لَم اَخرُج اَشِراً وَلابَطِراً وَلاظالِماً وَلامُفسِداً، بَل اِنَّماخَرَجتُ لِطَلَبِ الاِصلاحِ فے اُمَۃِجَدِی،وَاَن اَءمُرَبِالمَعرُوف وَاَنہیٰ عَنِ المُنکَرِ،وَاَسِیرُ بِسِیرَۃِجَدِی وَ اَبِی،یعنی میرے قیام کامقصد، امت کی اصلاح، امربالمعروف، نہی عن منکر، اور رسول اللہ ص وعلی مرتضی ع کی سیرت وسنت پر عمل کرانا ہے،یا فرماتےہیں: کیاتم نہیں دیکھتے کہ(حکومت وقت) حق پر عمل نہیں کراتی، اور باطل سے منع نہیں کراتی،یافرماتے ھیں کہ:میرا پیروکار، یزید جیسوں کی بیعت وپیروی نہیں کرسکتا، (یعنی اسکو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم نہیں کرسکتا)اور حسینی انقلاب یقیناکامیاب ہوگیابہتر72 افراد سے شروع ہوکر، 72 کروڑ یعنی پوری دنیاتک یہ انقلابی فکر پھیل گئ،حسینی انقلابی افکار کے پھیلنے میں تین3 عناصر مؤثر تھے1: حسینی انقلاب زمان ومکان وساتھیوں کےلحاظ سے،مکمل منصوبہ بندی کیساتھ، ناپاتولا، حساب وکتاب کیساتھ، عقلی، فطری اور حماسائی تھا، اسلیۓ خود مؤثر رہا،2: انقلاب کو اچھے وارث مل گئے،(بی بی شریکۃ الحسین ع واسیران کربلا، و ائمہ اھلیبیت ع، اور سالہاسال تک انکے عالم فاضل ومخلص شاگرد،3: عزاداری، جس نے اس انقلاب کو دلوں میں اتار دیا، بھولنے نہیں دیا، پرانا نہ ہونے دیا، عزاداری کیاھے ؟: عزاداری چار عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں خود امام حسین ع اور آئمہ اطھارع نےبیان کیا ھے،1: حسینیت، عدالت اور حق واھل حق کیساتھ اظہار وِلاء ومؤدت (جسکو ھم "تَوَلّٰا" کہتےہیں،2: یزیدیت، ظلم، باطل واھل باطل سے احتجاج و اظہار براءت (جسکو "تبراء" کہتے ھیں)3: "امربالمعروف"،4: "نہی عن المنکر"،یعنی؛ تولاء،تبراء،امر،ونہی۔رسم عزاداری:جہاں تک رسم عزاداری کی بات ہے،تو یہ مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے ھوسکتاہے،ہاں اپنی مرضی وخواہشات کےمطابق نہیں بلکہ قرآن وسنت محمدص وآل محمد کےمطابق ہو، اور خلاف نہ ہو ،مقصد عزاداری:حسینی پیغام کو مناسب، معقول ومقبول ومؤثر طریقے سے، آج کے میڈیا کے دور، اور ماڈرن وجدید دنیا (ایشیا سے یورپ، مسلم وغیرمسلم) تک پہنچانا ھے،کہ لوگ حسینی پیغام کو سنیں، اس پر سوچیں، اور اسکو قبول کریں،اسکا مطلب یہ ھے کہ: اگرعزاداری صرف اپنےلئے ہوتی، پھرتو ھماری مرضی، جیسے کرتے،لیکن عزاداری ھم صرف اپنے لئے نہیں کرتے، بلکہ اپنےساتھ دوسرے مختلف مذاھب وممالک کے لوگوں کیلئےبھی کرتےہیں،یعنی خود بھی پیغام حسینی یاد رکھنا ہے اور لوگوں کو بھی پہنچانا ہے،پس لوگوں کو بھگانا نہیں بلکہ بلانا ہے،پس رسم بھی ایسا ہو جسمیں دعوت ہو، جاذب ہو، مقبولیتہو، عقلانیتہو،پس آپس میں جھگڑنے اور لعن طعن کرنے سے بہتر ہے کہ آپ مندرجہ بالا نقاط پر ذراغور فرمائیں،اگر مناسب لگے تو قبول فرمائیں،اگر مناسب نہ ھو تو میری اصلاح فرمائیں۔


وما علینا الا لبلاغ


تحریر:محمداقبال بہشتی

وحدت نیوز (آرٹیکل)  شام اورعراق میں جیسے جیسے داعش اور ان جیسے دیگر دہشت گرد گروہوں کو شکست ہو رہی  ہےان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس وقت عالمی میڈیا پر شام کے شہر ادلب کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی خبر سامنے آرہی ہے اور سب سے زیادہ واویلا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سامنے آرہا ہے۔

شامی شہر ادلب کو دہشت گردوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے جو ۲۰۱۱ سے ہی دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہ کے طور پر سامنے رہا ہے۔ یہاں پر مختلف دہشتگرد تنظیموں کا کنٹرول رہا ہے اور اس وقت الحرار الشام نامی القاعدہ سے مربوط دہشتگرد تنظیم کا گھڑ ہے۔ ادلب وہ شہر ہے جہاں سے شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا اور آج بھی شام میں ادلب کو دہشتگردوں کی آخری پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔

شامی حکومت اپنے اتحادیوں روس، ایران، حزب اللہ کے ساتھ مل کر ادلب سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا چاہتا ہے جس کے لئے حکومتی تیاریاں جاری ہے۔ جب سےاسد حکومت نے ادلب آپریشن کا اعلان کیا ہے امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، امریکہ صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بشاراسد کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہیے، روسی اور ایرانیوں کو انسانی اورتاریخی غلطی کا سامنا کرنا ہوگا، سینکڑوں، ہزاروں لوگ مارے جائینگے اور ایسا ہونے نہیں دینگے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شامی حکومت چاہتی ہے وہاں محصور شہریوں کو دہشتگردوں کی چنگل سے آزاد کیا جائے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کیا جائے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ وہ بچے، خواتین، جوانوں سب کو اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کسی پر کسی بھی قسم کا کوئی رحم نہیں کھاتے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں دہشتگرد ہے تو امریکہ کو کیوں مشکل ہو رہی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ امریکی مشکلات کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے کچھ یہ ہے کہ:

۱۔ امریکہ نہیں چاہتا شام سے دہشتگردوں کا خآتمہ ہوں کیونکہ دہشتگرد خود امریکہ کی پیداوار ہے اور جس جس ملک میں امریکہ نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کی ہے اُن ملکوں میں امن کے بجائے تشدد اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے اور دیشتگرد پہلے سے زیادہ طاقت ور اور بھیانک ہو کر اُبھرے ہیں، افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہے جہاں پر امریکیوں کے آنے کے بعد داعش جیسے تکفیری وجود میں آئے۔

۲۔ امریکہ کا دوسرے ملکوں پرحملہ کرنے اور ان کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنے کا بہترین بہانہ دہشتگردی کے خلاف جھوٹا جنگ ہے۔

۳۔ دہشتگردی کا اگر خاتمہ ہوجائے تو غاصب امریکیوں کو دوسرے ملکوں میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملے گا، یعنی دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ دوسرے ملکوں میں ناجائز قبضے جمائے رکھنے کا زریعہ ہے۔

۴۔ امریکی اقتصاد کا ایک ستون اسلحوں کی فروخت پر قائم ہے، امریکہ، کینڈا اور دوسرے مغربی ممالک جو اپنے آپ کو انسانی حقوق اور عالمی تحفظ کا علمبردار مانتے ہیں دنیا میں جنگ، نامنیت اور غربت کے پیچھے انہی قوتوں کا ہاتھ ہے، یہی ممالک ہیں جو میڈیا پر جمہوریت اور انسانی حقوق کی بتاتیں کرتے ہیں اور پس پشت کمزور ممالک میں خانہ جنگی اور دہشتگردوں کی پرورش، منشیات اور اسلحوں کی خرید و فروخت کے دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ جس دن دنیا میں امن ہوگا ان کے بنائے ہوئے اسلحے کسی کام کے نہیں رہنگے۔

۵۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی ملک سر اٹھآ کر جیئے وہ چاہتا ہے کہ ہر ملک اس کا محتاج بنے رہے۔۶۔ مشرق وسطی کے قددرتی ذخائر پر قبضہ۔ ۷۔ مشرق وسطی میں امریکیوں کے رہنے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کی دفاع کر سکیں۔۔۔۔

لہذٰاا امریکیوں کا شور مچانا بے جا نہیں، وہ اقوام متحدہ کے زریعے بھی شامی حکومت پر دباو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں فوجی کاروائی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادلب میں وسیع فوجی آپریشن بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضایع اور خون خرابے کا موجب بن سکتا ہے۔ دوسری طرف روس کی طرف سے بھی امریکہ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو مالی و سلاحی  کمک روک دیں اور خطے کو مزید خون خرابے کی طرف نہ لے جائیں۔

امریکہ شام میں موجود فلاحی تنظیم وائٹ ہیلمیٹ اور دیگر این جی اوز کے زریعے دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے۔ بلکہ کچھ میڈا رپورٹز میں امریکی تیار کردہ ڈرامہ "اسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال" کا بھانڈا پھوٹ دیا گیا۔ ادلب میں دہشت گردوں نے ابھی سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شوٹنگ شروع کی ہے جس کی صداقت صرف کیمرہ کی حد تک ہے اس مقصد کے لئے انہوں نے شام کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں بچوں کو بھی اغواء کیا۔ اس سے پہلے بھی شام میں کیمائی اسلحلوں کی استعمال کا ڈرامہ رچایا جا چکا ہے جس میں پہلے سے تیار کردہ فیک اور جعلی تصاویریں اور ویڈیوز کو پبلک کیا گیا تھا اور اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی تھی۔

ہمیں ان حالات میں امریکہ اور نیٹو کا منافقانہ اور مکارانہ چہرہ بھی نظر آرہا  ہے، دیکھیں ۹/۱۱ کے واقعہ کے بعد جس القاعدہ کو دنیا بھر میں دہشت گرد بناکر افغانستان پر حملہ کیا گیا آج اسی القاعدہ کے دہشت گردوں کو بچانے کے لئے شام میں سر توڑ کوششیں کی جارہی ہے۔ امریکی خود اعتراف کرتے ہیں کی شام کے شہر ادلب القاعدہ کی پناہ گاہ ہے۔ ٹرمپ کے خصوصی صدارتی سفیر برٹ میک گروک کا کہنا تھا کہ" ۹/۱۱ کے بعد القاعدہ کا سب سے بڑا پناہ گاہ شامی شہر ادلب ہے"۔ اسی طرح وہاں موجود دشگردوں نے بھی کئی دفعہ اس بات کا اقرار کیا ہے کہ امریکہ و نیٹو ہماری طرف ہے اور ہمیں تیسری پارٹی کے زریعے اسلحلے و دیگر ضروریات کی چیزیں مہیا کرتا ہے۔

لہذا امریکی جانب سے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شور شرابہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے عراق پر حملے کے وقت کیا گیا تھا اور ہوسکتا ہے  یہ واویلا بھی کسی بڑے سانحے کے لئے زمینہ سازی ہو۔

لہذٰا ہمیں بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ دشمنوں کے حربوں اور سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد و نوجوان عالمی حالات اور ولڈ پولیٹکس سے بے خبر ہیں، اور ساری چیزوں کو ظاہری اور جذباتی طور پر لیتے ہیں خصوصا سوشل میڈا استعمال کرنے والے اس طرح کی خبروں کا فوری شکار بن جاتا ہے اور وہ اصل اور جعلی خبروں کی تمیز نہیں کر پاتے ہیں ایسے حالات میں ہمیں صرف سوشل میڈا پر ہی نہیں بلکہ جب بھی جہاں بھی کوئی حادثہ رونما ہو تو پہلے اس کے حقیقت کی تصدیق کریں پھر اقدام کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں دشمنوں کی سازشوں کا حصہ بن جائے۔

تحریر: ناصر رینگچن

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ سیکرٹری جنرل علامہ مقصودڈومکی شہید عارف حسین الحیسی ہاوس میں کربلا شناسی کے موضوع پر مجلس عزاسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا ایک دن کی جنگ کا نام نہیں بلکہ یہ انبیاء کی تحریک کا تسلسل ہے۔کربلاحق و باطل کے معرکہ کا نام ہے۔کربلا دین کی سربلندی کے لیے پراپنا سب کچھ نچھاور کرنے کا درس دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسفہ کربلا سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کربلاہم سے عصر حاضر کی یزیدیت کے خلاف ڈٹ جانے کا تقاضہ کرتی ہے۔امام عالی مقام نے یزید کی بیعت سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔امام حسین علیہ السلام کا یہ جملہ کربلا کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے اور ہر دور کے لیے اپنے اندر کربلا کا مکمل مفہوم سمیٹے ہوئے ہے۔یزیدی فکر ہر دور میں سر اٹھاتی رہی اور حسینی یزیدیت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ علما کا یہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ اپنے مومنین کو حالات حاضرہ سے آگاہ رکھیں۔ مجالس عزا میں غم حسین علیہ السلام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ استعماری طاقتوں کی اسلام دشمنی کو بھی آشکار کرنا چاہیے۔غدیر و کربلامحض واقعات نہیں بلکہ اپنے اندر وسیع مفہوم اور فلسفہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ مقصد کربلا کو سمجھ کر عزاداری کرنا خاندان رسالت کی معرفت عطا کرتا ہے۔دنیا و آخرت کی کامیابی کا سفر معرفت کے زینوں سے گزر کر طے ہوتا ہے جو اہلبیت اطہار علیہم السلام کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہا مجالس و جلوس خود سازی کا بہترین ذریعہ ہے۔ محرم وصفر کے مہینے میں سب کو تجدید عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی زندگیوں کو آئمہ اطہار علیہم السلام کے مطابق بسر کریں گے۔

Page 1 of 815

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree