وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی الیکشن میں ریٹنگ نیچے جا رہی ہے اس لیے ہمیں زیادہ تیار رہنا ہوگا۔ اسلام آباد میں  اخبارات کے ایڈیٹرز اور  مالکان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں الیکشن مہم پاکستان کی نفرت کی بنیاد پر ہو رہی ہے، ہم بھارت کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاہم انتخابات تک خطرہ ہےاس لیے زیادہ تیار رہنا ہے۔ معاشی صورتحال پر وزیراعظم نے بتایا کہ جب حکومت سنبھالی تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، غیر مستحکم اور غیر یقینی کی صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا، ابتدا میں آئی ایم ایف سے رابطہ کیا تو انہوں نے سخت شرائط رکھیں لیکن دوست ممالک سے فنڈز اکٹھے کیے اور اب آئی ایم ایف سے معاملات کنٹرول میں ہیں۔

کالعدم تنظیموں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو کسی صورت برادشت نہیں کیا جائے گا، ماضی میں کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بڑی غلطی ہوئی اب عالمی برادری ہم پر انگلیاں اٹھاتی ہے، کوئی بھی ملک مسلح جتھوں کو رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہم بھی مسلح ملیشیا کے وجود کو برادشت نہیں کریں گے۔ جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نومبر  میں ریٹائرمنٹ کے حوالے سے پوچھا گیا تو وزیراعظم مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی نومبر بہت دور ہے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا ابھی نہیں سوچا۔

وزیراعظم نے سرکاری اخراجات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شہبازشریف نے طیارے پر 35 کروڑ روپے خرچ کیے لیکن میں نے 22 لاکھ روپے کا خرچہ کیا وہ بھی سرکاری منصوبوں کے افتتاح کی مد میں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کے افواہوں پر وزیراعظم نے عثمان بزدار کا مکمل دفاع کیا اور کہا کہ وزیراعظم پنجاب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیڈر بننے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہے۔

وحدت نیوز(سوشل میڈیا ڈیسک)13رجب المرجب کو امیر المومنین ، ولی خدا وصی رسول خدا، مولائے متقیان، فاتح خیبر،پدر حسنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے روز ولادت اور عالمی یوم پدر کے پر مسرت موقع پر وحدت سوشل میڈیا ٹیم اور دیگر ملی سوشل میڈیا ٹیموں کے اشتراک سے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹوئٹر پر آغاز کردہ  #جشن _آمد_شیرخدا کا ٹرینڈپاکستان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرگیا، پاکستان کے ہزاروں سوشل میڈیا صارفین نے اپنے آقاومولا ؑ مشکل کشاءحضرت علی ابن ابی طالب ؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر ان کے اقوال زریں،سیرت مبارکہ اور معجزات پر مشتمل 18800سے زائد ٹوئٹس کرکے دنیا بھر میں موجود سوشل میڈیا صارفین کو سیرت امیر المومنین ؑ سے آشنائی فراہم کی ۔

وحدت نیوز (سوشل میڈیا) وحدت سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سےسلسلہ امامت کے پانچویں تاجدار امام محمد باقر علیہ سلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سےجاری ہیش ٹیگ #ولادت_باقرالعلومؑ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، تفصیلات کے مطابق وحدت سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے یکم رجب المرجب کویوم ولادت حضرت امام محمد باقرؑکےپرمسرت موقع پر پاکستان بھرمیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرٹرینڈنگ کی گئی جسمیں  #ولادت_باقرالعلومؑ کا ہیش ٹیگ منتخب کیا گیا، ملک بھرکے ہزاروں سوشل میڈیا صارفین نے اس ہیش ٹیگ کے ساتھ 17ہزارسے زائد ٹوئٹس کیئےجس میں صارفین نے حضرت امام محمد باقرؑکی ولادت باسعادت کی مبارک باد ، اقوال زریں، سیرت مبارکہ اور حالات زندگی پر مبنی پیغامات نشرکیئے اور دنیا بھرمیں سوشل میڈیا صارفین میں اس کی ترویج کی جس کے باعث ہیش ٹیک #ولادت_باقرالعلومؑ پاکستان کی ٹرینڈنگ میں پہلے نمبر پر رہا۔

وحدت نیوز (انٹرویو) علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، انہوں نے بہت ہی کم عرصہ میں قیام کرکے پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ علمی حوالے سے بہت مضبوط ہیں، اسکے علاوہ حالات حاضرہ کا بہت ہی زبردست تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔ ایران کی سرزمین قم المقدس میں دینی تعلیم حاصل کی، اتحاد بین المسلمین کیلئے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجلس کے مرکزی پروگراموں میں اہل سنت جماعتوں کے قائدین موجود ہوتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے  نے علامہ ناصر عباس جعفری سے موجودہ ملکی صورتحال اور مشرق وسطٰی کے حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

سوال: سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پاکستان کے سیاسی حالات پر کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران بڑھتا جا رہا ہے، جس کا کوئی حل سامنے نہیں آرہا، پاکستان کے دشمن ایک ہوچکے ہیں، نواز شریف اور لیگی حکومت کے اقدامات اس مادر وطن کو اور بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس وقت حکومت کون کر رہے ہیں اور کیسے چل رہی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، پوری حکومت کی توجہ فقط نواز شریف کو بچانے پر صرف ہو رہی ہے، ایک کرپٹ وزیراعظم کو اتنے مواقع دیئے جا رہے ہیں کہ وہ جو ملک کیخلاف کرسکتا ہے اور بول سکتا ہے، اسے بولنے دیا جا رہا ہے، کیا آج سے پہلے ایسے تھا؟، اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کہاں ہو رہا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔ اس بحران کو اتنا طول دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف سی پیک مکمل کرنا چاہتے ہیں، دوسری جانب یہ بحران بھی چل رہے ہیں۔

سوال: پاکستان کے حالات پر کیا کہتے ہیں، دہشتگردی ختم ہونیکا نام ہی نہیں لے رہی، ملک کو بحرانوں سے کیسے نکالا جائے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں آج تک جو کچھ بھی ہوا وہ ہمارے خلاف ہوا، دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان میں اسی ہزار پاکستانی شہید ہوئے ہیں، جس میں بیس ہزار صرف شیعہ شہید ہیں، جتنی بھی نسل کُشی ہوئی، اس میں اندرونی اور بیرونی سازش کار ایک پیج پر تھے اور ہیں، ان کے نشانے پر پاکستانی ہیں، یہ بھی مار کر پاکستان کو ہی کمزور کرنا چاہتے تھے، انڈیا کی مداخلت پاکستان میں سب کے سامنے ہے، خاص طور پر بلوچستان کے حالات سب پر واضح اور عیاں ہیں، بلوچستان ہر طرف سے حملوں میں گھرا ہوا ہے، دنیا بھر کی ایجنسیاں وہاں پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے اندر شیعہ اور سنی جیتنا آج قریب ہیں پہلے نہیں تھے، ہم جتنا قریب ہوں گے، اتنا ہی دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرسکیں گے، ہم اس وطن کو خوبصورت بنائیں گے اور اس کو آگے لے کر جائیں گے، بحرانوں سے نکالیں گے۔ یہ ہماری مادر وطن ہے، اس کو ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔

سوال: حکومت پاکستان سے کیا مطالبہ کرتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میں تو یہ چاہتا ہوں پاکستان کے اندر یہ جو مسائل دن بہ دن آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ سیاسی ہوں، اخلاقی ہوں، سوشل ہوں یا سکیورٹی سے مربوط مسائل ہیں، یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی خطرناک ہیں، میں پاکستان کی حکومت اور پاکستان سے محبت کرنے والوں سے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کو بچائیں اور جن لوگوں نے پاکستان پر حکومت کی اور جن کے پاکستان سے باہر بینک بیلنس ہیں، وہ خدارا پاکستان کو مسائل اور بحران سے نکالیں۔ بہت ہوگیا اب اس مادر وطن کو ترقی کے راستے پر ڈالیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم تو ڈوبے تمہیں بھی لیکر ڈوبیں گے۔ کچھ قوتیں پاکستان کے دشمنوں سے ملکر ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

سوال: پاک ایران تعلقات پر کیا کہتے ہیں، خاص طور پر آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران کی تناظر میں کیا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، پاکستان کو ایک سازش کے تحت کوشش کی گی تھی کہ اس کو اپنے ہمسایہ ممالک سے الگ کیا جائے، اس کے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسائل ہوں اور اسے ایران سے دور رکھا جائے، یہ دشمن کا پلان تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو کمزور کرنے اور اپنی مرضی کے فیصلے پاکستان سے کرانے کیلئے سازش بنی گئی، دراصل یہ پاکستان کے دشمن طاقتوں کی کوشش تھی، آرمی چیف نے ایران کا دورہ کیا ہے، جو بہت زبردست بات ہے اور اب حالات بہتری کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں، ابھی آپ دیکھیں کہ جب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کا افتتاح ہوا تو اس میں پاکستان کے وزیر (حاصل بزنجو) کو بھی ساتھ کھڑا کیا گیا، اس سے دشمن کو پیغام گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اب پاکستان ترقی کی طرف جا رہا ہے، اگر ہماری سمت درست ہوگئی تو ہمیں اس راستے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان، چین، ترکی، روس، عراق اور ایران ایک بلاک بن جائے تو افغانستان میں موجود فورسز کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے، اس سے پاکستان کی مشرقی سرحد کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے، اسی طرح پاکستان کا چین پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا، پاکستان پر جو عالمی پریشر ہے، وہ بھی ختم ہو جائے گا اور یوں پاکستان بحران سے نکل جائے گا۔

پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کسی اور ملک کے ساتھ کمپرومائز نہیں کرنے چاہئیں، پاکستان کو اپنا قومی مفاد لیکر چلنا چاہیئے، اس کو سامنے رکھ کر اپنی قومی پالیسی ترتیب دینی چاہیئے، ابھی ایران کی طرف سے گیس پائپ لائن پاکستان کے بارڈر تک آئی ہوئی ہے، اگر یہ گیس پاکستان میں آجاتی ہے تو ہمارے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے، پاکستان میں سستی گیس آجائے گی اور ہماری فیکٹریاں چل پڑیں گی۔ سی پیک پاکستان میں آرہا ہے، اگر پاکستان نے اپنا گھر ٹھیک نہ کیا تو بہت مشکلات سے دوچار ہو جائیگا، میرے خیال میں ایران پاکستان تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں، توانائی شعبہ میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے، پاکستان سے چین تک گیس پائپ لائن جا سکتی ہے، جس سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا، یاد رکھیں کہ پاکستان پانچ ارب لوگوں کو آپس میں ملاتا ہے، پاکستان اگر اچھے تعلقات بناتا ہے تو ایشیاء کو طاقتور بنائے گا اور خود بھی طاقتور ہوگا۔

سوال: آپ نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی اور مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، مجلس کیا کرنے جا رہی ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں ہمارا اصولی موقف شروع دن سے واضح ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ان کے چودہ افراد کا خون بہایا گیا ہے، خواتین کے منہ میں گالیاں ماری گئی ہیں، ان کو انصاف نہیں ملا، انہیں انصاف ملنا چاہیئے۔ اس معاملے پر ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا کسی اور ملک میں قاتل شخص وزیراعلٰی رہ سکتا تھا؟، جس وزیر قانون کے حکم پر یہ ہوا، وہ آج بھی صوبائی وزیر قانون ہے۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ نامزد ہوچکے ہیں۔ اب انہیں سزا ہونا باقی ہے۔ انہیں مظلوموں کی آہ لے جائیگی۔ اس وقت تمام اپوزیشن جماعتیں ماڈل ٹاون کے معاملے پر ہم آواز ہیں اور مجلس کی آواز بھی ساتھ ہے۔

سوال: ٹرمپ کے بیت المقدس سے متعلق بیان کے بعد کیا اتحاد بین المسلمین کو مزید فروغ دیکر قبلہ اول کے مسئلے کو مزید بہتر انداز میں اجاگر نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے کیا کوششیں کی جاسکتی ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں ہم اگر آج اکٹھے نہیں ہوئے تو قبلہ اول مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا، مسلمانوں کو پوری دنیا میں اکٹھا ہونا چاہیے، امت مسلمہ اگر یکجا ہو جائے تو مسلم حکومتوں کو اپنی سمت درست رکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، یہ اتحاد خود امت مسلمہ کی عزت و وقار کے لئے لازم ہے اور امت کو جو خطرات لاحق ہیں، اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن نے ہمیں کہا ہے کہ ہم اتفاق اور اتحاد سے رہیں۔ وحدت اور اتحاد حکم قرآنی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

سوال: ٹرمپ کے اقدام کے بعد مشرق وسطٰی کی کیا تصویر بنے گی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: اللہ نے ہمارے دشمنوں کو احمق قرار دیا ہے، قرآن میں ہے کہ انہوں نے بھی چال چلی اور اللہ نے بھی اپنی چلی، بہتر چال اللہ ہی چلنے والا ہے، اللہ کی طرف سے جو چالیں چلی جاتی ہیں، وہ مومنین کی طرف سے چلی جاتی ہیں، خدا نے ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کو رسوا کر دیا ہے اور پچھلے کئی سالوں کی انویسمنٹ پر پانی پھر دیا ہے، وہ کوشش کر رہے تھے کہ عرب کی اسرائیل سے توجہ ہٹا کر ایران کی جانب کر دی جائے اور ایران کو دشمن بنا دیا جائے، عرب ممالک کیلئے ایران کو اسرائیل سے بھی بڑا تھریٹ بنا دیا جائے، اسرائیل ایران دشمنی کو شیعہ سنی میں تبدیل کر دیا جائے، انہوں نے کوشش کی کہ فلسطین کے ایشو کو ہٹا کر ایران عرب کا ایشو بنا دیا جائے۔ یہی وجہ بنی کہ انہوں نے شام کو ڈسٹرب کیا، عراق کو تباہ کیا، داعش کو لایا ہی اسی کام کیلئے گیا تھا۔ یمن پر حملہ کرایا گیا۔ اسی طرح لبنان کے حالات خراب کئے گئے، سعد حریری سے استعفٰی دلوایا گیا، ایران کے ترکی سے اور ترکی کے ایران سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹرمپ کے ایک عمل نے سب کچھ الٹ کر دیا، اب امت مسلمہ کا دوبارہ ترجیحی ایشو فلسطین بن گیا ہے، تمام ممالک اسرائیل کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ دشمن نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی چال۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سرسری جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک میں تمام خرابیوں کا بنیادی سبب مخلص اور دیانتدار قومی قیادت کا فقدان ہے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے ذات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفادات کوفوقیت نہیں دی۔ ان کی تمام سرگرمیاں اقتدار کے حصول اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے گرد گھومتی ہے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل سید عباس نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ  سیاست کو سماجی خدمت کا ذریعہ بنانے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا اور عوامی مسائل سے لاتعلق رہے۔ یہی وجہ ہے کہ 70سال گزرنے کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران ملک میں سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ اخلاقی نظام قائم کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ ہمارے زیادہ تر مسائل کا تعلق اخلاقی اور سماجی نظام سے ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود ہم اخلاقی گراونڈ سے دو چار ہیں۔ سو ہمیں ایسی قیادت میسر آتی ہے جیسے ہم خود ہیں ۔ ہم نے لاکھوں انسانوں کی قربانی دے کر یہ خطہ زمین اس لیے حاصل کیا تھا کہ یہاں قرآن و سنت کے زریں اصولوں کے مطابق نظام قائم ہوگا۔ ہماری زندگیاں اسلام کے مطابق ہوں گی لیکن ہمارا کردار اور عمل اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہے۔ ناپ تول میں کمی ، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، دھوکہ بازی ، جھوٹ اور فریب جیسے برائیوں میں گرفتار ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہم بحیثیت قوم قیام پاکستان کے اصل مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہی رہے ہیں لیکن اس ناکامی کا ملبہ دوسروں پر گرانے کی بجائے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری زندگیاں کس حد تک اخلاقی نظام کے پابند ہیں۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام شہدائے سانحہ کوہستان، سانحہ چلاس، سانحہ بابوسر کی برسی کی مناسبت اور شہدائے پاکستان و گلگت بلتستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک عظیم الشان عظمت شہداء کانفرنس کا انعقاد گمبہ اسکردو میں ہوا۔ جس میں علماء، عوام، زعماء اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ عظمت شہداء کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ اعجاز حسین بہشتی، ایم ڈبلیو ایم شگر کے رہنماء شیخ کاظم ذاکر، ایم ڈبلیو ایم کھرمنگ کے سربراہ شیخ اکبر رجائی، ایم ڈبلیو ایم تحصیل گمبہ کے سربراہ شیخ کریمی، علامہ شیخ کرامتی، ابراہیم آزاد، سید نوری، شیخ ذیشان علی اور فدا حسین نے خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جی بی کے عوام سے بار بار جھوٹے وعدے کئے گئے لیکن ستر سالوں سے بنیادی آئینی حقوق سے جان بوجھ کر محروم رکھا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کو منہا کیا جائے تو پاکستان چین کیساتھ اقتصادی راہداری منصوبے کا سوچ بھی نہیں سکتا، لیکن یہاں کے نااہل منتخب حکمرانوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کیلئے ایک روپے کا منصوبہ بھی شامل نہیں کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ الیکشن سے قبل اور بھاری مینڈیٹ کے ساتھ حکمرانی ملنے کے بعد چار مرتبہ افتتاح کئے جانے کے باوجود اسکردو گلگت روڈ پر بھی اب تک کام شروع نہیں کیا گیا۔ اب کہ بار ایک دفعہ پھر سے افتتاح کی باتیں کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ عظمت شہداء کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ ملک کے وزیراعظم کو اعلٰی عدلیہ کے دو منصفوں نے باقاعدہ مجرم اور بقیہ تین ججز نے ملزم قرار دے کر تحقیقاتی کمیٹی کے سپرد کیا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ موصوف اب بھی کرسی وزارت عظمٰی پر فائز رہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ضروری ہے کہ عوام بیداری کا ثبوت دیں اور ملک میں ہونے والی ظلم و ناانصافیوں کے خلاف ڈٹ جانے کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خطے میں داعش پہنچ چکی ہے اور ملک کے اندر بھی بہت سارے انسان سوز دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری داعش قبول کر چکا ہے۔ لیکن حکمرانوں کو اپنی کرپشن اور کرسی کی فکر ہے۔

عظمت شہداء کانفرنس سے خطاب میں مقررین نے مزید کہا کہ جی بی جغرافیائی اور سیاسی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے، لیکن حکمرانوں نے اس خطے کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔ یہاں معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی بجائے وعدے وعید پر ٹرخایا جاتا رہا ہے، جو کہ خطے کے مستقبل کو جان بوجھ کر برباد کرنے کی سازش کے مترادف ہے۔ یہاں کے پرامن اور محب وطن عوام دہشتگردی کے واقعات کی نذر ہو جاتے ہیں، لیکن کوئی نیشنل ایکشن پلان حرکت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس پرامن علماء اور شہریوں کو شیڈول فور میں ڈالا جاتا ہے اور یہاں کی زمینوں کو خالصہ سرکار قرار دیکر قبضہ کیا جاتا ہے، جو کہ یہاں کے عوام کیلئے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کانفرنس میں شہدائے گلگت بلتستان، شہدائے بابوسر، کوہستان اور شہدائے چلاس کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور سابقہ و موجودہ حکومت کی نااہلیوں کو طشت از بام کرتے ہوئے انہیں دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دیا گیا۔ سانحہ چلاس کے دہشتگردوں کے خلاف حکومت وقت سے فی الفور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرکے انکو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ گلگت بلتستان عوام کی ملکیتی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ وطن عزیز پاکستان کب تک دوسروں کی جنگ لڑتا رہے گا۔

Page 1 of 26

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree