The Latest

شیعت نیوز: ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی پیشہ کے اعتبار سے قانون دان ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ قبل ازیں وہ ایم ڈبلیو ایم میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات کے عہدے پر بھی کام کرچکے ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ انکا بنیادی تعلق پنجاب کے معروف ضلع سرگودھا سے ہے۔ انہوں نے تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور قانون میں ایم فل کیا ہے۔ آئی ایس او پاکستان کی مرکزی صدارت کے دوران متحدہ طلبہ محاذ کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔ سید ناصر شیرازی ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار ہیں، وہ اپنی تحریر و تقریر میں حقائق کی بنیاد پہ حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، ملت جعفریہ میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں بھی ناصر شیرازی کا اہم کردار رہا ہے، شیعہ سنی وحدت کیلئے بھی انکی خدمات انتہائی نمایاں ہیں۔ یمن جنگ، اس کے نتائج اور اس جنگ کے تناظر میں ایران سعودی عرب اور ایران امریکہ کشیدگی کے موضوع پرایک بین الاقوامی خبر رساں ادرے نے سید ناصر عباس شیرازی کے ساتھ خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا، اس انٹرویو کا پہلا حصہ پیش ہے۔ (ادارہ)

سوال:  سعودی عرب نے دولت اور طاقت کے بل بوتے پہ یمن پر جو جنگ مسلط کی، اس میں سعودی اہداف کیا تھے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی: سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ حرمین شریفین بھی سعودی عرب میں ہیں، عمرہ، حج کی وجہ سے سعودی عرب کو کافی آمدن ہوتی ہے۔ بلیک گولڈ یعنی کہ تیل کی سب سے زیادہ پیداوار اسی ملک کی ہے، جس کے باعث دنیا میں پیسے کے اعتبار سے جو سب سے زیادہ مضبوط بادشاہت تھی تو وہ سعودی عرب تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیاروں کا خریدار ملک بھی ہے۔ سعودی عرب کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت مضبوط اتحاد ہے۔ یمن جنگ میں بھی دونوں کا باقاعدہ اشتراک تھا۔

یمن دنیا کا اور خطے کا غریب ترین ملک ہے۔ پہلے یمن دو حصوں میں تقسیم تھا۔ پھر دونوں حصے اکھٹا ہوئے۔ شمالی یمن اور جنوبی یمن۔ ایک حصہ اس کا صحراوں پہ مشتمل ہے۔ دنیا میں القاعدہ عراق کے بعد القاعدہ یمن خطرناک ترین برانچ سمجھی جاتی تھی۔ یمن کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، ان میں حوثی ایک باقاعدہ عوامی جمہوری سسٹم کے خواہش مند تھے، جبکہ ہادی المنصور جسے اس شرط پہ حکومت سونپی گئی تھی کہ وہ دو سال کے اندر انتخابات کرائے گا اور اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرے گا۔ منصور ہادی نے یہ نہیں کیا اور اپنی حکومت کو دوام دینے کی کوشش کی۔ جس پہ حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے شروع ہوئے۔ جنہیں بزور طاقت دبانے کی کوشش کی گئی، مگر منصور ہادی حکومت عوام کو دبانے میں ناکام رہی۔ عوامی مظاہروں پہ منصور ہادی بھاگ کر سعودی عرب چلا گیا اور سعودی عرب نے منصور ہادی حکومت کے قیام کیلئے یمن پہ جنگ مسلط کر دی۔ یمن میں حوثی بنیادی طور پہ اہلسنت کے ساتھ اتحاد رکھتے ہیں۔شافعی اور حوثی یمن کی ساٹھ فیصد آباد ی کی نمائندگی رکھتے ہیں۔

سوال: سعودی عرب نے دولت اور طاقت کے بل بوتے پہ یمن پر جو جنگ مسلط کی، اس میں سعودی اہداف کیا تھے۔؟
سید ناصر عباس شیرازی: سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ حرمین شریفین بھی سعودی عرب میں ہیں، عمرہ، حج کی وجہ سے سعودی عرب کو کافی آمدن ہوتی ہے۔ بلیک گولڈ یعنی کہ تیل کی سب سے زیادہ پیداوار اسی ملک کی ہے، جس کے باعث دنیا میں پیسے کے اعتبار سے جو سب سے زیادہ مضبوط بادشاہت تھی تو وہ سعودی عرب تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیاروں کا خریدار ملک بھی ہے۔ سعودی عرب کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت مضبوط اتحاد ہے۔ یمن جنگ میں بھی دونوں کا باقاعدہ اشتراک تھا۔

یمن دنیا کا اور خطے کا غریب ترین ملک ہے۔ پہلے یمن دو حصوں میں تقسیم تھا۔ پھر دونوں حصے اکھٹا ہوئے۔ شمالی یمن اور جنوبی یمن۔ ایک حصہ اس کا صحراوں پہ مشتمل ہے۔ دنیا میں القاعدہ عراق کے بعد القاعدہ یمن خطرناک ترین برانچ سمجھی جاتی تھی۔ یمن کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، ان میں حوثی ایک باقاعدہ عوامی جمہوری سسٹم کے خواہش مند تھے، جبکہ ہادی المنصور جسے اس شرط پہ حکومت سونپی گئی تھی کہ وہ دو سال کے اندر انتخابات کرائے گا اور اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرے گا۔ منصور ہادی نے یہ نہیں کیا اور اپنی حکومت کو دوام دینے کی کوشش کی۔ جس پہ حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے شروع ہوئے۔ جنہیں بزور طاقت دبانے کی کوشش کی گئی، مگر منصور ہادی حکومت عوام کو دبانے میں ناکام رہی۔ عوامی مظاہروں پہ منصور ہادی بھاگ کر سعودی عرب چلا گیا اور سعودی عرب نے منصور ہادی حکومت کے قیام کیلئے یمن پہ جنگ مسلط کر دی۔ یمن میں حوثی بنیادی طور پہ اہلسنت کے ساتھ اتحاد رکھتے ہیں۔شافعی اور حوثی یمن کی ساٹھ فیصد آباد ی کی نمائندگی رکھتے ہیں۔

ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ اگر جمہوری طریقہ بھی اپنایا جائے تو انہی کی حکومت بنے گی۔ فوج کی اکثریت بھی ان کے ساتھ تھی۔ سعودی عرب جو کہ پہلے سے ہی یمن پہ اپنے اثر اور حاکمیت کو خطرے میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے پہلے سے ہی کئی جنگیں شروع کی ہوئی تھیں۔ سعودی عرب سے ملحقہ یمن کا علاقہ حوثی قبائل کا ہے۔ اس اعلانیہ جنگ سے قبل بھی سعودی عرب نے حوثیوں پہ کئی حملے کئے ہیں، جو کہ کئی کئی ماہ جاری رہے ہیں۔ تاہم سعودی عرب نے دیکھا کہ حوثی یمن میں حکومتی سطح پہ فعال ہو رہے ہیں تو پھر اس کے بعد اعلانیہ جنگ مسلط کر کے سعودی عرب نے بھیانک حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ سعودی عرب نے اس جنگ میں ہدف یہ رکھا کہ تین ماہ کے اندر منصور ہادی حکومت کو دوبارہ قائم کرنا ہے اور یمن میں حوثی کردار کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور منصور ہادی حکومت کے ذریعے یمن کو پھر سے اپنے تابع رکھنا ہے۔

سوال: یمن کیخلاف جارحیت کرنیوالے اتحاد کتنے ہیں اور سعودی عرب کو یمن سے اتنی مزاحمت کا اندازہ تھا۔؟
سید ناصر شیرازی: سعودی عرب کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یمن کے اندر سے مزاحمت اتنی شدید ہو سکتی ہے۔ یمن پہ حملہ آور دو طرح کے اتحاد قائم ہیں۔ ایک سولہ ملکی اتحاد ہے، جس میں بیشتر مغربی ممالک ہیں۔ دوسرا اتحاد چالیس ملکی اتحاد ہے کہ جس میں مسلم ممالک شامل ہیں، اس کو اسلامک الائنس کا نام دیا گیا ہے اور اس کی عسکری کمانڈ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پاس ہے۔ ان دونوں اتحادوں نے یمن کے حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ انہوں نے یمن پہ کارپٹڈ بمباری کی ہے، یہاں سے اندازہ لگائیں کہ اقوام متحدہ میں یمن میں ہونے والے جانی و مالی نقصان سے متعلق عظیم تباہی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں انسانی ہاتھوں سے جو بھیانک ترین تباہی پھیلی ہے وہ یمن میں آل سعود کے ہاتھوں پھیلی ہے اور عالمی و جنگی قوانین کی جتنی دھجیاں یمن میں اڑائی گئی ہیں بلکہ اڑائی جا رہی رہیں، وہ کہیں اور دیکھائی نہیں دیتیں۔ جمہوریت کے نام نہاد متوالے یہاں جمہوری نظام کے لیے آگے نہیں آتے۔

جنگوں میں جن ہتھیاروں پہ پابندی ہے، ان کا نہ صرف یمن میں استعمال جاری ہے، بلکہ ان غیر قانونی ہتھیاروں کی باقاعدہ خرید و فروخت جاری ہے اور یہ ہتھیار بیچنے والے اور خریدنے والے بھی وہی ممالک ہیں کہ جو ظاہراً ان ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف شور مچاتے ہیں۔ یمن اس وقت بدترین قحط کا شکار ہے، وہاں غذا نہیں ہے، دوا نہیں ہے۔ وہاں زندگی کی بنیادی ضرورت میسر نہیں ہیں۔ بچوں کو غذا اور دوا کی قلت کا اس حد تک سامنا ہے کہ دنیا میں بھوک اور متعددی امراض کے ہاتھوں مرنے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد یمن کے اندر ہے اور یہ سب اس جنگ کی وجہ سے ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ سعودی عرب کو یمن کے اندر اتنی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ننگے پاؤں پھرنے والے یہ لوگ سعودی عرب کے اندر اس حد تک گھس جائیں گے کہ وہ جنگ جسے تین مہینوں میں سعودی عرب جیتنا چاہتا ہے، کئی سالوں پہ محیط ہو جائے گی اور اس جنگ کے نتیجے میں صورتحال یہ ہوجائے گی کہ یمن کے اندر حوثی مضبوط ترین پوزیشن میں ہوں گے، سیاسی لحاظ سے بھی، عسکری لحاظ سے بھی
ہاں تک کہ نظم اور استحکام کے حوالےسے بھی، ان کے علاقے مستحکم اور پرامن ہوں گے۔

سوال:جنگ زدہ یمن میں حوثی مجاہدن کے زیرکنٹرول علاقے اور منصور ہادی کے زیراثر علاقوں کے حالات میں کیا فرق ہے؟
سید ناصر شیرازی: آج حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں استحکام ہے، جبکہ جہاں منصور ہادی یا سعودی اثر زیادہ ہے، یعنی عدن وغیرہ میں امن و امان کی بدترین کیفیت ہے۔ مختلف گروہوں کی وہاں آپس میں مسلسل لڑائی چل رہی ہے۔ تازہ لڑائی جو ابھی وہاں پہ جاری ہے۔ وہ دو گروہوں کے مابین ہے۔ ایک گروہ کو متحدہ عرب امارات سپورٹ کرتا ہے کہ جن کو علیحدگی پسند کہا جاتا ہے، یہ گروہ عدن میں ایک علیحدہ حکومت قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔ دوسرا بڑا گروہ منصور ہادی کا ہے، جسے سعودی عرب کنٹرول کر رہا ہے۔ وہ مشترکہ حکومت کا قائل ہے، یہ سعودی گروہ بھی اس لیے مشترکہ حکومت کا قائل ہے، کیونکہ انہیں یہ اندازہ ہے کہ اگر حکومتیں دو ہو گئیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نادرن یمن سو فیصد حوثیوں کے زیر کنٹرول ہے اور سعودی عرب کی سرحد کے اوپر صورتحال مزید خراب رہے گی۔ یہ وہ کیفیت ہے کہ جس میں یمنیوں نے ایک بڑی جنگ لڑی ہے۔ یمن کی مزاحمت میں موجود لوگوں کا واحد راستہ جو سمندر سے انہیں ملاتا ہے وہ حدیدہ کا ہے۔ اس اتنے بڑے پورے اتحاد نے کوئی تین مرتبہ یہاں جنگ کرنے اور اسے اپنے زیر کنٹرول کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں منہ کی کھانا پڑی اور حوثیوں نے انہیں ایک انچ بھی اندر داخل نہیں ہونے دیا زمین، فضائی اور بری تینوں لحاظ سے یہ بڑے حملے تھے اور اس پورے خطے میں اس طرح کا اتنا بڑا حملہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہے مگر اس کے باوجود حوثیوں کو کامیابی ملی جبکہ حملہ آور اتحاد کو منہ کی کھانا پڑی۔

سوال:سعودی اتحاد کیخلاف برسرپیکار حوثیوں کے عزم و ارادے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی مزاحمت کامیاب رہیگی؟
سید ناصر شیرازی: عبدالمالک الحوثی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ لوگ ہمیں تکبر سے ڈرانا چاہتے ہیں، ہمیں دبانا چاہتے ہیں، مگر یہ لوگ ہمیں شعب ابی طالب میں بھی نہیں دبا سکے تھے اور اگر یہ لوگ ہمیں اپنی طاقت سے ڈرانا چاہتے ہیں اور طاقت سے دبانا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ہمیں کربلا میں بھی اپنی طاقت سے نہیں دبا سکے تھے۔ حوثیوں نے نہ صرف سعودی اتحاد سے اپنے علاقے، اپنی زمین کو بچایا ہے، وہاں استحکام رکھا ہے، انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے اسے کٹہرے میں بھی کھڑا کیا ہے اور ساتھ اپنی جنگی استعداد کا بھی بھرپور اظہار کیا ہے اور یہ اظہار بھی سعودی عرب کے اندر اس کے حساس مقامات پہ کیا ہے۔ حوثیوں نے جو کہا، وہ کرکے دیکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ائیرپورٹس کو نشانہ بنائیں گے وہ انہوں نے کرکے دیکھایا۔ حوثیوں نے اعلان کیا کہ آپ نے جو کرائے کے قاتل بلائے ہوئے ہیں، ہم انہیں نشانہ بنائیں گے، انہوں نے یہ بھی کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سعودی اتحاد نے یمن پہ حملوں اور جارحیت کا سلسلہ بند نہ کیا تو وہ بڑی جوابی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کر دیکھایا۔ حوثیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی پچاس فیصد تیل کی پیداوار رک گئی۔ اس ایک جوابی کارروائی کے نتیجے میں دنیا میں تیل کی قیمتوں میں بدلاو آیا اور ایک ہی دن میں دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل میںبیس فیصد کمی واقع ہو گئی۔

یہ اس ایک بڑی جوابی کارروائی کا نتیجہ تھا کہ جس کے بارے میں حوثیوں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی دیکھایا کہ وہ زمینی سطح پہ بھی اتنے طاقتور ہیں کہ حملہ آور فوج کے خلاف بھرپور کارروائی کرسکتے ہیں۔ ابھی تازہ کارروائی کی ویڈیوز جاری ہو چکی ہیں۔ جس میں حوثیوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے بلائے گئے کرائے کے قاتلوں کے علاوہ بڑی تعداد سعودی فوجیوں کو گرفتار کیا ہے اور بڑی تعداد سعودی قیمتی گاڑیوں کی ہے جو تباہ ہوئے ہیں۔ حملہ آور اتحاد کے تین بریگیڈ کم از کم تباہ ہوئے ہیں۔ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جو بیلنس آف پاور ہے وہ اس وقت یمنیوں کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ حوثیوں کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔ سعودی عرب جو کہ سیاحت کو فروغ دینا چاہتا ہے، مذہبی اثر سے نکال کر آزاد ملک بنانا چاہتا ہے۔ اسے اس وقت نہ ہی مذہبی حلقوں کی پذیرائی حاصل ہے اور خاشقجی قتل کے بعد اور یمن بحرانوں کے بعد نہ ہی اسے آزاد دنیا سے تائید و حمایت مل رہی ہے، داخلی سطح پہ شاہی خاندان کے ناروا سلوک اور مذہبی طبقے کو سائیڈ لائن کرنے کی وجہ سے، اہل تشیع کے ساتھ بدسلوکی کے باعث سعودی حکومت داخلی و خارجی سطح مسلسل تنہائی کی جانب گامزن ہے۔ سعودی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ یمنیوں کی اس جاری مزاحمت کے مقابلے میں کھڑی ہو سکے۔

سوال:متحدہ عرب امارات دوران جنگ سعودی عرب کا ساتھ کیوں چھوڑ رہا ہے۔؟
سید ناصر شیرازی: یمنی اس جنگ میں اس حد تک ثابت قدم رہے ہیں کہ سعودی عرب کے حلیف اسے دوران جنگ ہی چھوڑنا شروع ہو گئے ہیں، اسی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ یو اے ای کو بھی یہ خبر ہو چکی ہے کہ اگر ان کے ملک میں بھی یمنیوں نے اس طرز کی کوئی کارروائی کر دی کہ جیسی انہوں نے سعودی عب میں انجام دیں ہیں تو انہیں شدید مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یو اے ای کو اندازہ ہے کہ ان کے ملک میں جو یورپی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے افراد کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے، ایک واقعہ کے بعد ہی سب کے سب واپس چلے جائیں گے، کیونکہ اگر امن نہیں ہو گا تو یہاں کوئی نہیں رہیگا۔ یواے ای اس وقت پیچھے ہٹ چکا ہے۔ عدن کے اندر دونوں گروہوں کے مابین تصادم ہے اور الائنس میں سعودی عرب اور یواے ای کے مابین بھی تصادم ہے۔ یمن جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ دنیا کے پینسٹھ فیصد آئل کا راستہ یہی ہے۔ سب سے بڑی تجارتی گزرگاہ ہے۔ یورپ اور ایشیا کے مابین مختصر ترین راستہ ہے۔ یمن میں حوثی حکومت کا مطلب اس اہم ترین راستے پہ ان کا تصرف ہے، جو سٹریٹجک حوالے سے بہت اہم ہے۔

عالمی طاقتوں کے اس جنگ میں مفادات ہیں۔ آرامکو پہ جو حملہ حوثیوں نے کیا ہے، بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑا اس سے محض پچاس کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایک واضح اور کھلا پیغام اس بیڑے کو بھی ہے کیونکہ وہ بیڑا اس حملے کی نشاندہی کرنے میں یا اسے روکنے میں ناکام ہوا ہے۔ اس سے پہلے جو حملے سعودی عرب میں کئے گئے تھے، جن میں ایک بیلسٹک میزائل حملہ اور دوسرا ڈرون اٹیک، وہ عرب امارات سے تقریباً ایک سو کلومیٹر دور تھا۔ گویا یہ واضح اور کھلا پیغام یو اے ای کیلئے بھی تھا کہ ایک سو کلومیٹر مزید آگے جانا تو کوئی بڑی بات نہیںہے۔ حوثیوں نے یہ اظہار کیا ہے کہ یو اے ای بھی ان کی رینج میں ہےاور اگر یو اے ای نے یہ خیانتیں جاری رکھیں تو حوثی اس کے خلاف بھی بڑا اقدام کریں گے۔ اب دنیا بھی اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ حوثی بڑا اقدام کر بھی سکتے ہیں اور انہوں نے کئے بھی ہیں۔ یمن میں سعودی اتحاد کو بالآخر پیچھے ہٹنا پڑے گا ورنہ سعودی عرب کی اقتصادی صورتحال بری طرح تباہ ہوچکی ہے اور آئندہ کچھ عرصے میں بدترین اقتصادی مشکلات کا شکار ہوجائے گا مگر ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سعودی بادشاہت کے تکبر کی ناک یمن کی خاک پہ رگڑی جارہی ہے اور آپ اسے عصر حاضر کا معجزہ قرار دے سکتے ہیں۔

سوال: حوثیوں کو ایران کی جانب سے کتنی مدد حاصل ہے۔؟
سید ناصر شیرازی: ساری صورتحال میں کہا جارہا ہے کہ یمن کے حوثی بنیادی طور پر ایران سپانسرڈ ہیں۔ ایران کے ساتھ ان کا جغرافیائی لنک نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لیے آسان ہے کہ سمندری محاصرہ توڑ کر وہ ان تک پہنچے۔ حوثیوں کے پاس زمینی راستے دو ممالک سے ہیں، ایک سعودی عرب سے اور دوسرا عمان سے۔ ظاہر ان دونوں ممالک سے ایران کی حوثیوں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ ہوائی اڈے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ایران کے پاس نہ زمینی راستہ ہے اور نہ سمندری کہ حوثیوں تک رسائی حاصل کرے۔ اس صورتحال میں ایران کو اگر یمن میں حوثیوں تک رسائی ملی بھی ہے، تو اس میں بڑی وجہ سعودی عرب کی حماقت ہے اور بدترین ظلم و طاقت کا استعمال ہے کہ جس کے نتیجے میں یمنیوں کا ایران کی جانب جھکاؤ ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یمنی ایران کی رہبریت، ایران کی لیڈر شپ اور عالمی استعمار کے مقابلے میں ایران کے قیام سے متاثر ہیں اور نظریاتی طور پر وہ ایران کے بہت قریب آچکے ہیں۔ جب نظریاتی تعلق قائم ہو جائے تو پھر باقی چیزیں کافی آسان ہو جاتی ہیں۔ اب تو حوثیوں نے سعودی عرب سے اتنا اسلحہ اور جنگی ساز و سامان حاصل کر لیا ہے کہ وہ کئی سالوں تک لڑنے کی پوزیشن میں ہیں اور اس کیلے وہ تیار بھی ہیں۔

سوال:کیا سعودی عرب یمن میں حوثی حقیقت کو تسلیم کرلے گا۔؟
سید ناصر شیرازی: اب سعودی عرب کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ کمپرومائز کی جانب آئے، مذاکرات ہوں اور سعودی عرب طاقت کے استعمال کی حماقتوں سے آئندہ کیلئے باز رہے۔ اگر چہ سعودی عرب کی پوری کوشش ہو گی کہ اس جنگ کے بعد بھی یمن اندرونی عدم استحکام کا شکار رہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ آئندہ یمن کے امور میں حوثیوں کا کلیدی و بنیادی کردار ہو گا۔ یہ وہی حوثی ہیں کہ جو الموت امریکہ، الموت اسرائیل کے قائل ہیں۔ جو نظریاتی فکری لحاظ سے انقلاب ایران کے بہت قریب ہیں اور اس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس کشیدگی میں سعودی عرب واضح شکست کھا چکا ہے۔ ایران کا اثر و رسوخ اس لحاظ سے خطے میں مسلسل بڑھ رہا ہے کہ ایران نے مظلوموں کی حمایت کی ہے۔ ان کی اقتصادی، سیاسی حمایت کی ہے اور عین ممکن ہے کہ انہیں تکنیکی تربیتی مدد بھی فراہم کی ہو مگر یہ درست ہے کہ سعودی عرب کو جتنا بھی ردعمل مل رہا ہے وہ یمن کی زمین سے آرہا ہے اور وہ یمنی ہی دے رہے ہیں۔ حوثیوں نے اگر انقلاب اسلامی ایران سے امداد لی بھی ہے تو وہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی بدترین دہشتگردی اور بدترین جارحیت کے خلاف لی ہے، جو ان کا بنیادی حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

سوال:یمن کے تناظر میں ایران کے سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ معاملات کونسی سمت اختیار کریں گے۔؟
سید ناصر شیرازی: ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں جو کشیدگی اور تناؤ تھا وہ اب سعودی عرب کو بالآخر جھکنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ جیسا کہ ابھی سعودی عرب نے کہا بھی ہے کہ مذاکرات شروع کئے جائیں تو مذاکرات کیلئے مسئلہ یمن ہی ہے۔ سعودی عرب موجودہ اقتصادی صورتحال کو مزید برقر ار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسے بہت زیادہ فنڈنگ کرنا پڑ رہی ہے، کرائے کی جو فوج اس نے منگوائی ہوئی ہے، اس پہ بھی اس کو بہت زیادہ اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں اور ان کے مطالبات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ خطرے کی اس بجتی ہوئی گھنٹی اور تیزی سے کم ہوتے اتحادیوں کے باعث سعودی عرب مذاکرات کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ سعودی عرب پہ عالمی پریشر بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جمال خاشقجی والا مسلہ اپنی جگہ موجود ہے۔ اس کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ وہ بیک چینل ڈپلومیسی کو استعمال کرکے ایران کے ساتھ معاملات کو تھوڑا بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ مکمل طور پر تمام معاملات درست شائد نہ ہوں مگر کم از کم یمن کی حد تک معاملات بہتر ہوں اور آہستہ آہستہ سعودی عرب اس حقیقت کو قبول کر لے کہ یمن کے اندر آئندہ فیصلہ سازی حوثیوں کے ہاتھ میں ہے۔

سعودی عرب، ایران امریکہ تعلقات کا مستقبل بھی یہ ہے کہ اس خطے میں جو یمن جنگ ہوئی ہے۔ اس میں صرف سعودی عرب کو شکست نہیں ہوئی ہے، بلکہ جو سولہ رکنی اتحاد ہے، امریکہ اس اتحاد کا حصہ ہے، ان کی فیولنگ وغیرہ امریکہ ہی کرتا ہے، ملٹری ایڈوائزر امریکی ہیں۔ وہ بدترین شکست کا شکار ہوئے ہیں۔ امریکہ اس خطے کے اندر سعودی عرب کے اوپر کافی انحصار کرتا ہے۔ خطے کے اندر امریکہ جو اہداف اپنے غیر مسلم چہرے کی وجہ سے اسلامی ممالک سے حاصل نہیں کر سکتا، وہ تمام اہداف امریکہ سعودی عرب کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ امریکہ یمن پہ براہ راست حملہ نہیں کر ے گا۔ امریکہ نے عراق اور شام میں جو کام کئے ہیں وہ امریکہ کیلئے بہت مشکل ہیں مگر وہی اہداف، وہی کام اس نے سعودی عرب کے ذریعے انجام دیئے ہیں۔ خواہ وہ داعش کی صورت میں ہو۔ دہشتگردوں کی صورت میں یا کسی اور صورت میں۔ خطے میں امریکی اوزار کا اگر کوئی کام کررہا ہے تو وہ آل سعود ہیں۔

یمن کے تناظر میں جہاں تک ایران امریکہ تعلقات کی بات ہے تو ایران نے بہت کامیابی کے ساتھ سفارتی جنگ بھی جیتی ہے اور عسکری جنگ بھی جیتی ہے۔ عسکری جنگ سے مراد یہ ہے کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ اس کی جنگی استعداد، جدید عسکری ٹیکنالوجی پہ عبور اور اس کا ماہرانہ استعمال، ایران کے مخالفین کے اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایران نے سیاسی اور عسکری دونوں حوالوں سے اپنی مہارت کا بہت عمدگی کے ساتھ اظہار کیا ہے۔ وہ امریکی ڈرون کہ جو مالیت کے اعتبار سے صرف دو تیار کئے گئے اور ان میں سے ایک کی مالیت ایرانی فوج کے ایک سالہ بجٹ کے برابر ہے، اس ڈرون کو نہ صرف ایران نے بڑی مہارت کے ساتھ پکڑا ہے بلکہ اس کے بعد آنے والے ردعمل کو بھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر استعمال کیا ہے۔

(جاری ہے)

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے پولیٹیکل سیکریٹری غلام عباس کی ضمانت منسوخ کرکے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ گزشتہ پیشی پر عدالت کے روبروپیش ناہونے کی پاداش میں عدالت نے بغیر کسی وارننگ اور تنبیہ کے غلام عباس کی گرفتاری کا جلد بازی میں فیصلہ دے دیا۔

واضح رہے کہ 2015میں یمن میں سعودی حملے کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی نکالنے پرغلام عباس سمیت متعدد علماء اور شیعہ رہنماؤں کیخلاف اس وقت کے عبوری حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات بنائے تھےاور سب ضمانت پر تھے، عدالت نے عدم حاضری پرغلام عباس و دیگر رہنماؤں کی ضمانت منسوخ کرکے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیاہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے رہنماؤں نے غلام عباس کی گرفتاری پر مذمتی بیان میں کہاکہ داعی اتحاد بین المسلمین، عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم مرکزی رہنما و صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان غلام عباس کی گرفتاری بدترین ریاست گردی اور غیر آئینی علاقے میں پر امن محب وطن شہریوں کیخلاف نام نہاد دہشتگردی کے قوانین کے بےجا استعمال کا واضح ثبوت ہے۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے صوبائی حکومت کی اقربا پروری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں من اقربا پروری جیسی لعنت نے معاشرے کو بدامنی کا شکار کر دیا ہے اور موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں من پسند افراد کو نوازنے کی بدترین مثالیں قائم کی گئی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جی بی حکومت سیکرٹری قانون کے ذریعے من پسند افراد کو نوازنا چاہتی ہے جو کہ میرٹ کی انتہائی خلاف ورزی اور اہل امیدواروں کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ ایف پی ایس سی کے ذریعے ٹیسٹ انٹرویو کروا کے اہل افراد کو بھرتی کیا جائے۔ الیاس صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں ججوں کی بھرتی میں تاخیر کی وجہ سے لوگ جیلوں میں انصاف کے منتظر ہیں جو کہ انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ عرصہ دراز سے انسداد دہشت گردی عدالت نمبر دو میں جج کی عدم تقرری سے کیسز سست روی اور التویٰ کے شکار ہیں، لہٰذا انسداد دہشت گردی کورٹ 2 کے جج کی فوری تعیناتی عمل میں لا کر انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ ہائیکورٹ بار کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ سپریم اپیلیٹ کورٹکورٹ سمیت انسداد دہشت گردی کورٹ 2 کے جج کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ پراسکیوشن کی خالی پوسٹوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کیا جائے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) ذاتی مفاد واقتدار کی ہوس کے لئے دھرنا دینے والوں کے مخالف ہیں ۔احتجاج ہر پاکستانی شہری کا حق ہے لیکن مولانا کا ایجنڈہ انتشار اور اپنی ذات کی تسکین ہے ۔ان خیالات کا اظہار فوکل پرسن وزیراعلی پنجاب ومرکزی سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیوایم سید اسد عباس نقوی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہردور حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے سے ایک سال اقتدار سے دوری برداشت نہیں ہو رہی ہے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ مولانا فضل الرحمان جن جماعتوں پر انحصار کر کے اسلام آباد لاک ڈاون کرناچاہتے ہیں وہ درحقیقت مولانا فضل الرحمان کو دھکیل کر اسلام آباد لانا چاہتے ہیں کیا ن لیگ اور پی پی پی کے پاس ایسے کارکن ہیں جو مولانا فضل الرحمان کے نعروں پر لبیک کہیں گئے ؟ پورے پنچاب میں پی پی پی اور ن لیگ کے احتجاجات اور پروگرامات میں چند چہرے ہی ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ایک بے مقصد اور بے وقت کا راگ ثابت ہو گا۔


وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری اور فوکل پرسن بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پنجاب
سید اسدعباس نقوی کی سربراہی میں ہنگو کے مشران نے وفدکی صورت میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے مشیر سید ذلفی بخاری کے والد سید واجد بخاری سے اہم ملاقات کی ہے ۔

وفد اور سید واجد بخاری کے درمیان کے پی کے اور خصوصا ہنگو کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی گئی ۔ وفد نے ہنگو میں تکفیری جماعت کی جانب سے علاقائی امن وامان اور شیعہ سنی وحدت کے خلاف حالیہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ملاقات میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنماعلامہ اقبال بہشتی ،علامہ ارشاد علی ، جناب حسینی صاحب ،ملک عرفان علی ایڈوکیٹ، سید ابن علی شیرازی اورسید محسن شہریار بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(جھل مگسی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی کی ڈی پی او ضلع جھل مگسی گلاب خان شیخ سے ملاقات مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے گنداواہ کی معزز شخصیت سید قاسم شاہ حسینی سید عرفان علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے سابقہ ضلعی سیکرٹری جنرل سید ولایت حسین شاہ ایڈووکیٹ کی رہائشگاہ پر شہر کے مومنین اور معززین سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اربعین کا عالمی اجتماع تاریخ بشریت کا بے مثال اجتماع ہے جو اہل حق کو عالمی الہی حکومت اور نظام ولایت و امامت کے غلبے کی نوید دے رہا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہمیشہ مظلومین جہان کے حق میں اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

انہوں نےکہا کہ چین ہمارا قابل اعتماد دوست ہے۔ ہمیں امریکہ اور آل سعود کی غلامی سے نکل کر ایک آزاد اور خودمختار قوم کی طرح اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو مرتب کرنا ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی تاکہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ ہم نچلی سطح تک اپنے نمائندے لا سکیں۔اس موقعہ پر سید ولایت حسین شاہ ایڈووکیٹ نے اپنے والد محترم سید حاکم علی شاہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن کریم کی زیارت کرائی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے ملاقات ،مقبوضہ کشمیر سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ۔ مسئلہ کشمیر ہماری اولین ترجیحات میں سے ہے حکومت ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ کریں گئے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

حکومت کےمسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کے مسائل پر اقوام عالم میں دوٹوک موقف کی تائید کرتے ہیں ۔حکومت کو زائرین کے حوالے سے مستقل پالیسی بنانی ہوگی گلگت بلتستان کے لوگ سب سے بڑے محب وطن پاکستانی ہیں انہیں مذید محروم نہ رکھا جائے حکومت کو مسنگ پرسن کے ایشو پر خصوصی توجہ کرنا ہوگی، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وفد کے ہمراہ ملاقات میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لئے اس وقت اولین حیثیت رکھتا ہے ۔حکومت وقت نے بہتر انداز میں اقوام عالم کے سامنے اس مسئلے کو اجاگر کیاہے ۔ ہمیں کشمیر کو ایک دن کے لئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا اہم حصہ ہے ۔زائرین کے مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سربراہ ایم ڈبلیوایم نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال پاکستانی زائرین مقدس مقامات کی جانب سفر کرتے ہیں گزشتہ ادوار میں اس جانب بلکل توجہ نہیں دی گئی ۔ حکومت زائرین کے حوالے سے مستقل پالیسی بنائے تاکہ ان کے مسائل کا بہتر تدارک کیا جاسکے ۔ انہوں نے مذید کہا کہ وطن عزیز کا ہر فرد ملک سے محبت کرتا ہے لیکن گلگت بلتستان کے لوگ سب سے بڑے محب وطن پاکستانی ہیں انہیں مذید محروم نہ رکھا جائے۔

 ا نہوں نے مذید کہا کہ اس وقت ملک میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ توجہ کا طالب ہے کسی بھی پاکستانی شہری کو لاپتہ رکھنا انسانی حقوق اور آئین قانون کی خلاف ورزی ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت اس اہم سنگین مسئلے پر فوری قانون سازی کرئے ۔صدر مملکت سے ملاقات میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سمیت تعلیم روزگار کے مواقع اور صحت کی سہولتوں پر بھی بات کی گئی ۔

 ایم ڈبلیوایم کے وفد سے بات کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کو وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ اور کشمیراور امت مسلمہ مسائل کے حل حوالے سے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایم ڈبلیوایم کے وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں ،مجلس وحدت مسلمین کی امت مسلمہ کے مسائل اور اتحاد امہ کے وژن کی تائید کرتے ہیں ۔ ہم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی کوششیں کر رہے ہیں ۔ زائرین کے مسئلے پر تحریک انصاف کی حکومت سے قبل کسی نے اتنی توجہ نہیں دی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کریں گے ۔

گلگت بلتستان کے مسائل پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے تحریک انصاف کا واضع موقف ہے ہم گلگت بلتستان کی عوام کی محبت اور وفاداری کے مقروض ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں سمیت تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے ۔ ملاقات میں آئندہ گلگت بلتستان کے الیکشن پر بھی بات چیت کی گئی ۔ ایم ڈبلیوایم کے وفد میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم سید ناصر شیرازی ، فوکل پرسن حکومت پنجاب و مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی ، ڈپٹی پولٹیکل سیکرٹری سیاسیات سید محسن شہریار بھی شامل تھے ۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) سیکرٹری فلاح و بہبود مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر مولانا سید زاہد حسین کاظمی کے والد محترم،حلقہ کوٹلہ کی معروف سیاسی،سماجی ومذہبی شخصیت سیدغلام سرورشاہ کاظمی المشہدی گزشتہ دنوں انتقال کرگئے،مرحوم مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید طالب حسین ہمدانی کے ماموں و سسرتھے۔مرحوم کی نماز جنازہ پیچھپی سیداں کے مقام پر ادا کردی گئی نماز جنازہ میں کثیر تعدادمیں سیاسی،سماجی،مذہبی،عمائدین و عوام علاقہ نے شرکت کی جن میں علامہ مفتی سید کفایت حسین نقوی،علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر،علامہ سید فرید عباس نقوی ممبر علماء و مشائخ کونسل آزاد کشمیر،شیخ احمد علی سعیدی ،مولانا حافظ کفایت حسین نقوی ،مولانا سید حمید حسین نقوی،مولانا قاری مختار شاہ ہمدانی کے علاوہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مرکزی راہنما و امیدوار اسمبلی حلقہ کوٹلہ سردار تبارک علی،جماعت اسلامی کے راہنما سید نزیر حسین شاہ پی پی کے راہنما اظہرحسین ہمدانی ایڈوکیٹ اور دیگر نے شرکت کی ۔

مرحوم سید غلام سرور کاظمی المشہدی کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔مرحوم کی رسم قل مورخہ 09اکتوبر 2019 کو مولانا زاہد حسین کاظمی کی رہائش گاہ ادا کی گئ۔اس موقع پرعلامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نےخطاب کرتے ہوۓ مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے جو خلق خدا کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں مرحوم نے اپنی ساری زندگی خلق خدا کی خدمت اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کی فلاح بہبود کے لیے وقف کئے رکھی۔مرحوم کا شمار علاقہ کی بااثر سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا،مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ صدیوں پُر نہیں ہوگا،مرحوم غلام سرورکاظمی المشہدی نے علاقہ میں فروغ شعیت و اتحاد بین المسلمین کے لئے جو خدمات سرانجام دی وہ سب کے سامنے عیاں ہیں،مرحوم کی محنت سے اس وقت علاقہ کہوڑی،پٹہیکہ میں ایک بڑی تعداد میں عزاداری و محافل میلاد ہو رہی ہیں۔

علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نےمزیدکہا کہ مرحوم نے دین اسلام کے لیے جو خدمات سر انجام دی ہیں ان کا ثواب ان کو تا قیامت ان کے نام اعمال میں لکھا جاتا رہے گا انہوں نے کہا کہ حدیث پیغمبرﷺ کی رو سے جو بندہ دنیامیں تین کام کر کے وفات پاجاتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں(١)جو مسجد،مدرسہ وغیرہ قائم کر جائے(٢)دینی کتاب لکھ جائے اور(٣)اولاد صالحہ چھوڑ جائے۔ ان میں مرحوم نے مساجد،امام برگاہ قائم کی ہیں جن میں آج نماز جمعہ و جماعت وعزاداری ہو رہی ہے تالیف کے باب میں بھی مرحوم نے علاقہ کے سادات کے نسب نامے پر ایک کتاب لکھ رکھی ہےاورنیک اولاد بھی چھوڑی ہے جو علاقہ میں مصروف تبلیغ دین ہے لہذاان تینوں امورمیں مرحوم کے نامہ اعمال میں ہمیشہ ثواب درج ہوتا رہے گا اور انہوں نے کہا کہ اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

قل خوانی کی مجلس سے علا مہ سید علی اکبر شاہ کاظمی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع راولپنڈی نے خطاب کرتے ہوۓ پسماندگان سے تعزیت وتسلیت و مرحوم کی بلندی درجات کی دعا کی۔قل خوانی کی مجلس میں سابق وزیر جنگلات حکومت آزادکشمیر سردارجاوید ایوب،رہنما مسلم کانفرنس حلقہ سات مظفرآباد سیدتصور عباس موسوی،سابق چئیر مین زکوٰةحلقہ کوٹلہ سید امجد شاہ،سردار درایمان اعوان کے علاوہ دوست احباب اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق قوانین میں مذید بہتری کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پوری دنیاکو مسئلہ کشمیر کی حساسیت اور اہمیت کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار فوکل پرسن برائے بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پنجاب و مرکزی پولیٹکل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم سید اسد عباس نقوی نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے اسلام آباد میں ملاقات میں کیا ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عام پاکستانیوں کو انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی آشنائی دینا ضروری ہے جس کے لئے ملک گیر آگاہی پروگرام کا اجرا ہونا چاہئے۔کشمیر پر تحریک انصاف کی حکومت کا اقوام عالم کے سامنے دوٹوک موقف دونوں طرف کے کشمیریوں کے دلوں کی آواز تھی۔مسئلہ کشمیر اس سے قبل اتنے بہتر اور مدلل انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا تھا۔ آج دنیا کشمیر کے مسئلے کی جانب متوجہ ہوئی ہے۔

اس موقع پر وفا قی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے کہا کہ عام پاکستانیوں کے مسائل کے حل سمیت بنیادی انسانی حقوق کی ملک بھر میں فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انسانی حقوق سے متعلق قوانین میں مذید بہتری کی گنجائش موجود ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں۔ اس ملاقات میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری سیاسیا ت سید محسن شہریار بھی ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ تعلیم کی مرکزی تعلیمی کونسل کا اجلاس سنٹرل سیکرٹریٹ اسلام آباد میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں ماہرین شعبہ تعلیم نے شرکت کی۔ پروگرام میں شعبہ تعلیم کے سالانہ پروگرام پر مشاورت کی گئی اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ماہرین تعلیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب مدینۃ العلم کے ماننے والوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہمارا طرہ امتیاز ہونا چائیے ہماری اجتماعی جدوجہد جہالت کے خلاف قیام کا نام ہے انبیاءکرام اور آئمہ اطہار(ع)انسانوں کو ظلمت کے اندھیرے سے نکال کر ھدایت کی روشنی دکھلانے آئے تھے۔اجلاس میں رکن شوری عالی علامہ محمد اقبال بہشتی اور مرکزی سیکرٹری تعلیم نثار علی فیضی نے بھی گفتگو کی۔

Page 1 of 970

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree