The Latest

وحدت نیوز (آرٹیکل) سردی بہت تھی، کسان نے سانپ کے بچے کو کھیت سے اٹھایا، گھرلایا، چولہے کے نزدیک رکھ کر گرمایش پہنچائی اور نیم گرم دودھ پلایا، جیسے ہی سانپ کا بچہ ہوش میں آیا تو اس نے کسان کے بچے کو ڈس لیا۔ ایسا ہی کچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہو رہا ہے، پاکستانی ایک جوانمرد ، شجاع ، بہادر، دلیر اور مخلص قوم ہیں۔ پاکستانیوں نے سب کے ساتھ ہمدردی کی حتی کہ پاکستان کے قیام کے دشمنوں کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دی اور ان کے لئے سیاست کے دروازے کھولے۔

قیام پاکستان کے چند بڑے مخالفین میں دو نام سرِ فہرست ہیں۔ایک خان عبدالغفار خان ہیں جنہیں باچا خان اور سرحدی گاندھی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، 1987ء میں آپ پہلے شخص تھے جن کو بھارتی شہری نہ ہونے کے باوجود “بھارت رتنا ایوارڈ“ سے نوازا گیا جو سب سے عظیم بھارتی سول ایوارڈ ہے۔اسی طرح  جب  1988ء میں آپ کا انتقال ہوا تو آپ  نے پاکستان میں دفن ہونا پسند نہیں کیا اور آپ کو  آپ کی وصیت کے مطابق جلال آباد افغانستان میں دفن کیا گیا۔    دوسری اہم اور نامور شخصیت جو قیام پاکستان سے خائف تھی وہ مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود ہیں جنہوں نے ببانگ دہل یہ کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ وہ کانگریس پارٹی کے رکن اور جمیعت علمائے اسلام کے بانی   اراکین میں سے تھے۔

اگرچہ مفتی محمود کے نزدیک پاکستان بنانا گناہ تھا  اور وہ  اپنی جماعت و مسلک سمیت ، قیامِ پاکستان کے گناہ  میں شریک نہیں تھے تاہم انہوں نے اپنے بیٹے فضل الرحمان کی طرح اس گناہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور وزیرِ اعلیٰ سرحد بھی رہے۔آج جب مولانا فضل الرحمان یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ۱۴ اگست کو یومِ آزادی نہیں منائیں گے اور پاکستان کی فوج کو دھمکاتے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں چونکہ مولانا کی تنظیم، عقیدہ  اور مسلک ہی قیام پاکستان اور آزادی ِ پاکستان سے خوش نہیں ہے۔

مولانا کے ہم فکر اور ہم مکتب لوگ جہاں بھی ہیں وہ  پاکستان اور افواج پاکستان سے اتنی عداوت رکھتے ہیں کہ نہ صرف پاکستان کو کافرستان تک کہہ جاتے ہیں بلکہ پاکستانی فوجیوں کے سروں سے فٹبال کھیلنا ان کا محبوب مشغلہ  بھی ہے۔ یاد رہے کہ  مولانا اور ان کے ہمنوا، صرف اور صرف پاکستان میں زبان چلانا اور ہتھیار اٹھانا جانتے ہیں۔

مولانا اور ان کے ارادتمندوں کے نزدیک صرف پاکستان کا بنانا ہی گناہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے علمی و عقیدتی مرکز دیوبند سے کبھی بھی کشمیر کی آزادی کے لئے کوئی ریلی نہیں نکالتے اور اسی طرح  وہ اپنے دوسرے بڑے مسلکی مرکز سعوی عرب سے بھی کبھی اسرائیل کے خلاف کوئی جلسہ جلوس نہیں نکالتے، چونکہ ان کے نزدیک جیسے پاکستان کا بنانا گناہ ہے اسی طرح کشمیر اور فلسطین کے حق میں کوئی جلسہ جلوس نکالنا بھی گناہ ہے۔اسی لئے مولانا فضل الرحمان ایک لمبے عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چئیرمین رہنے کے باوجود اخباری بیانات سے آگے نہیں بڑھے۔

یہ اس وقت تک نا خوش رہتے ہیں جب تک انہیں شریکِ اقتدار نہیں کیا جاتا ،انہیں اگر شریکِ اقتدار کرلیا جائے تو یہ ہر سال  بڑے شوق سے یومِ آزادی مناتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان خیر سے بابائے طالبان بھی ہیں  لال مسجد کی طرح ایک نہیں ہزاروں مساجد ان کی سرپرستی میں چل رہی ہیں اور مولانا عبدالعزیز کی طرح سینکڑوں برقعہ پوش مولوی حضرات ان کی آواز پر لبیک کہنے کو تلے ہوئے ہیں لہذا ہمارے سیکورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ مولانا کی طرف سے ملنے والی  دھمکیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور خصوصا ً یومِ آزادی کے موقع پر مولانا کی آل و  اولاد یعنی طالبان ، اپنے باپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کسی بھی قسم کی گھٹیا حرکت کر سکتے ہیں، اس لئے ہمارے سیکورٹی اداروں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ مجموعی طور پر  اہلیانِ پاکستان نے مولانا اور ان کے مکتب کے ساتھ کوئی متعصبانہ رویہ نہیں اپنایا لیکن ان لوگوں کو جب بھی فرصت ملی انہوں نے ملت پاکستان کو ڈسا ہے، پاکستان کے یومِ آزادی کے بائیکاٹ کا اعلان کر کے مولانا نے در اصل اپنی تاریخی شناخت پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔ اس میں ہمارے لئے بھی یہ درس ہے کہ جب تک ہماری صفوں میں اس قماش کے لوگ موجود رہیں گے تب تک ہمیں اپنی فوج کے ساتھ مل کر اپنی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔

 تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(کراچی) ڈی آئی خان میں جاری شیعہ نسل کشی اور معروف بزرگ عالم دین علامہ حیدر علی جوادی کے فرزند علامہ حسن جوادی کی بلاجواز گرفتاری اور ان پر بہیمانہ تشدد کے سبب ان کی شہادت کے خلاف سند بھر میں نماز عید الاضحٰی کے موقع پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا جائے گا ، اس بات کا اعلان مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے وحدت ہائوس کراچی سے میڈیا کو جاری بیان میں کیا، انہوں نے کہاکہ مجلس وحدت مسلمین سندھ ،اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان اوراصغریہ اسٹوڈنٹس پاکستان شہید علامہ محمد حسن جوادی کی المناک شہادت پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے 19 اگست بروز اتوار مختلف مقامات پر پریس کانفرنسز منعقد ہوں گی۔ان پریس کانفرنسز میں علمائے کرام تنظیمی اکابرین مجلس وحدت مسلمین اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان اے ایس او پی مدارس علمیہ کے ذمہ داران و دیگر ملی تنظیموں کے نمائندے  شریک ہوں گے،علامہ مقصودڈومکی نے اعلا ن کیاکہ علامہ علی بخش سجادی سکھر پریس کلب میں علمائےکرام ، ایم ڈبلیوایم اور اصغریہ آرگنائزیشن کے رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے،جیکب آباد پریس کلب میں علامہ مقصودڈومکی ایم ڈبلیوایم اور اصغریہ آرگنائزیشن کے رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد کے شیڈول کا بھی جلد اعلان کردیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ ملت کے تمام ذمہ داران اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) عمران خان عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں ،حکومت کے مثبت کاموں پر ان کی بھرپورحمایت و مدد کریں گے، وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے پر عمران خان اور تحریک انصاف کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، عمران خان کی جدوجہدپاکستانی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، ہم حقیقی تبدیلی کی فضا کو محسوس کررہے ہیں ،ایوان صدرکی جانب سے خصوصی دعوت پر سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی عمران خان کی بطور وزیراعظم حلف برداری تقریب میں شرکت جہاں انہوں نے اہم سیاسی و سماجی رہنماوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں سے ملاقات میں کہا کہ عمران خان عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں، امید کرتے ہیں وزیر اعظم عمران خان عوام سے کئے اپنے وعدوں کو پورا کریں گے ۔ حکومت کے لئے غربت ، دہشتگردی انتہاپسندی ، اقتصادی بحران ،تعلیم و صحت سمیت ملکی وقار کی بحالی اہم چیلنجز ہیں سماجی انصاف کی فوری فراہمی اور قانون کی بلادستی کو قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہونے کے ناطے جہاں حکومت کے مثبت کاموں پر ان کی بھرپورحمایت و مدد کرے گی وہاں خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کرنا بھی ضروری سمجھتی ہے جو جماعتیں بھی عدالت اور پارلیمنٹ کے علاوہ کسی اور پلیٹ فارم پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہیں  پہلے وہ قانونی و آئینی طریقے سے اپنی شکایات کو حل کرنے کی کوشش کریں اگر وہاں سے ان کی شنوائی نہیں ہوتی تو ان کے لئے عوامی جدوجہد کارستہ کھلا ہو ا ہے،اپوزیشن کا رویہ غیر جمہوری غیر اخلاقی اور غیر قانونی نہیں ہونا چاہیئے،پاکستان کی سلامتی و بقا کے لئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی اور ان کی اہلیہ پر ہونیوالے قاتلانہ حملے کو ڈیڑھ سال کا عرصہ مکمل ، قانون نافذ کرنے والے ادارے تا حال مجرمان کا سراغ لگانے میں ناکام، حکومتی عدم توجہی ، کیس تا حال منطقی انجام کا منتظر ، علامہ تصور نقوی او ان کی اہلیہ پر فروری 2017؁ء کو قاتلانہ حملے ہوا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ، زندگی و موت کی کشمکش میں رہے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے ٹرخاتے رہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی بے حسی کا بے مثال مظاہرہ کیا گیا ، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کیا ۔

 اجلاس میں ریاستی کابینہ کے تمام اراکین سمیت ضلع مظفرآباد کے سیکرٹری جنرل سید غفران علی کاظمی ، ضلع نیلم کے سیکرٹری جنرل مولانا سید فضائل حسین نقوی اور ضلع جہلم ویلی سے سید عاطف حسین ہمدانی شریک ہوئے۔ مولانا طالب حسین ہمدانی نے کہا کہ ملت جعفریہ میں مجرمان کی عدم گرفتاری اور حکومتی و انتظامی بے حسی پر شدید ترین غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مجرمان کا پکڑے جانا ریاستی امن ، بقا ء، وحدت و بھائی چارے کے لیے ضروری ہے۔ یہ علامہ تصور نقوی کی ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی امن کا مسئلہ ہے۔ اس طرح تو کل کوئی بھی فرد محفوظ نہیں ،، اتنی بڑی دہشت گردی کرنے والوں کا آزاد رہنا ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ کیا ہم اپنے حق کے لیے پھر سڑکوں پر نکلیں ؟ کہیں یہ عمل ہمارے غم و غصے کو ہوا دینے کی سازش تو نہیں ۔اجلاس میں شریک جملہ عہدیداران نے مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ ہمیں راست اقدام کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔اس کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے ، بصورت دیگر ہمارے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت  بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام پر لگائے گئے سنگین الزامات اور توہین کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آرمی میں جگہ ملنے والے ایسے افرادپاکستان آرمی کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ان جیسوں نے ملکی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کے مختلف اداروں میں ایسی کالی بھیڑیںاب بھی موجود ہیں جنکی وجہ سے ملک دہشتگردوں کے چنگل میں ہے اور بیرونی ممالک بلخصوص امریکی ظالمانہ پالیسوں میں جکڑا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان کی سرزمین اس ملک کے پچاسی ہزار بے گناہ عوام و سکیورٹی اداروں کے شہداء کے خون سے رنگین ہوئی ہے اس میں ایسے احمق یا سازشی افراد کا کارنامہ ہے۔ موجودہ خودساختہ دانشور کی گفتگو سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ اس ضیا ء مائنڈ سیٹ کا پیروکار ہے جنکی عاقبت نااندیشی اور غیروں کے آلہ کار بننے کے سبب طالبان جیسی ملک دشمن جماعت بنی اور ملک بحرانوں میں داخل ہوا۔

 آغا علی رضوی نے کہا کہ اس ناعاقبت اندیش ضیاء الحق کے فرزند کے خلاف فوری طور آئی ایس پی آر ایکشن لے اور تمام چینلز پر پابندی عائد کرانے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام سے معافی دلائیں۔ ان کے سبب ملک کے حساس ترین سرحدی علاقے میں جہاں کے سپوت نے ہمیشہ دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر جنگ لڑ ی ہے بحران پیدا ہورہا ہے اور منفی طاقتوں کو جگہ مل رہی ہے۔ جبکہ یہاں کے جوانوں نے ہی پاکستان آرمی کا نام روشن کیا اور کرگل جنگ سے لے کر دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں جانیں دیں ان سب شہداء کے خون اور غازیوں کے توہین کے مرتکب اس نام نہاد فکر کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن دشمن کے آلہ کار ہونے کا الزام ناقابل برداشت ہے۔اس خود ساختہ تجزیہ کار کو شاید معلوم نہیں کہ پورے ملک میں آزادی سیاسی جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی جبکہ گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں کے عوام نے ڈگرہ فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی اور اس آزادی میں ہمارے اسلاف نے جانیں دیں ہیں۔ معرکہ کرگل میں انڈیا کے قلب دراس کی پہاڑی چوٹیوں پر سبز ہلالی پرچم لہرایا ہے تو بلتی سربازوں نے لہرایا ہے۔ کتنی دکھ کی بات ہے کہ پاکستان آرمی جیسے اہم ادارے میں زندگی گزارنے والا شخص شاید بیرونی اشارے پر نمک حرامی کا مرتکب ہواہے اور اس بلتی قوم پر الزام لگاتا ہے جنہون نے کبھی ریاستی اداروں پر حملہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزیدکہاکہ جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس، مناوا پولیس ٹریننگ سنٹر ، آرمی پبلک سکول سمیت ریاست کے دیگر حساس مقامات اور اثاثوں پر سینکڑوں حملے میں ملوث افراد بلتی ہے نہ طالبان بنانے والے بلتی ہیں اور نہ ہی راء کے چیف سے مل کر سستی شہرت کی خاطر کتاب لکھنے والا بلتی ہے ۔ اسی طرح گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں اسماعیلی برادری کی خدمات ہیں انکے خلاف باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں۔ہم آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نام نہاد جنرل کو لگام دیا جائے اور قومی توہین پر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ملکی سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔ ہماری پاکستان کے ساتھ وابستگی نظریاتی بنیادوں پر ہے نہ کہ خوف یا لالچ میں ۔ پورے ملک میں گلگت بلتستان کے عوام سے زیادہ کوئی محب وطن نہیں ستر سالہ محرومی کے باوجود جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن کمی نہیں ۔ اس کے باوجود ایسے الزامات وہ بھی پوری قوم پر ناقابل برداشت ہے امید ہے کہ فوری طور آئی ایس پی نہ صرف اس شخص کے حالیہ بیان سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے بلکہ یہاں کے عوام کے جس طرح جذبات مجروح ہوئے ہیں اس کا ازالہ بھی کرائیں گے اور اس نام نہاد دانشور پر تمام ٹی چینلز پر پابندی عائد کریں گے اور گلگت بلتستان کے قوم سے معافی دلائیں گے۔

وحدت نیوز(گلگت ) بلتستان کے لوگ ملک کے بلند ترین محاذ سیاچن کے محافظ ہیں ان کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں کی اپنی حب الوطنی مشکوک ہے۔جنرل امجد شعیب نے محب وطن لوگوں پر بہتان لگاکر اپنی ملک دشمنی کوعیاں کردیا ہے۔92 چینل گلگت بلتستان کے عوام سے صحافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے موقف لیں بصورت دیگر امجد شعیب اور 92 چینل کے خلاف کیس دائر کیا جائیگا۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے امجد شعیب کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام سے گلگت بلتستان کے عوام ملک کے زیادہ وفادار ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ملک پاکستان کے ازلی دشمن سے یہ علاقہ بزور شمشیر آزاد کرواکر پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا ہے اور پاکستان کے رقبے میں 28 ہزار مربع میل کا اضافہ کردیا ہے۔اکہتر سالوں سے اس خطے کے عوام بے آئین ہیں اور شرافت کے ساتھ حکمرانوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ امجد شعیب جیسوں کو غدار نظر آتے ہیں۔پچھلی سات دہائیوں سے اس خطے کے بہادر جوان ملک کے سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں اور آج تک گلگت بلتستان کے ایک فرد نے بھی ریاست سے بغاوت کا اظہار نہیں کیا ہے جبکہ پارلیمنٹ کے اندر محمود خان اچکزئی افغانستان سے اپنی وفاداری کا اعلان کرتے رہے جو کہ امجد شعیب کو نظر نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ اٹک پل تک دعویداروں، گریٹر پختونستان اور گریٹر بلوچستان اور سندھو دیش کی تحریکیں چلانے والے امجد شعیب کو کیوں نظر نہیں آرہے ہیں۔اب بھی افغانستان میں بیٹھ کر آئینی صوبوں کے لوگ پاکستان مخالف تحریکیں چلانے والوں کے حوالے سے بولنے کی جرات کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان کے محب وطن عوام کو غدار کہنے اور گلگت بلتستان میں اسماعیلی سٹیٹ کا شوشا چھوڑ کر علاقے میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کرنے والے امجد شعیب کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی نے چئیر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو پاکستان کا 22ویں وزیر اعظم بننے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 22 سال جدو جہد کی اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کے بوسیدہ سیاسی نظام میں ایک ایسا شخص وزیر اعظم بنا جس کاکوئی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیںتھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ میں پاکستانی قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کا فیصلہ کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان اپنے وعدوں پر عمل کریں اورپاکستانی قوم کو مقروض کرنے والوں کو این آر او دینے کی بجائے ان کا کڑا احتساب کریں ،علامہ سید مبارک موسوی کا مزید کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں عمران خان پاکستان کے داخلی و خارجی مسائل کو حل کرنے کے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور ایک مضبوط کابینہ اور تجربہ کار ٹیم تشکیل دیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمرا ن خان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 22واں وزیر اعظم منتخب ہونے پر اپنی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے دلی مبارک باد پیش کی ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کا سادہ اکثریت سے قائد ایوان منتخب ہونا ملک کے لئے نیک شگون ہے، امید کرتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے قوم سے کیئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامع پہنائیں گے، ملک کو درپیش چیلنجزخصوصاًدہشت گردی،کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری اور توانائی اور پانی کے بحران کے حل کیلئے فوری توجہ دیں گے، کسی بھی قسم کے دبائوسے آزادخارجہ وداخلہ پالیسی کی تشکیل وطن عزیزکی سلامتی و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ، جس کیلئے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کو گٹھن فیصلے کرنا ہوں گے۔

وحدت نیوز (جیکب آباد)  جشن آزادی کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین جیکب آباد اور المصطفی اسکائوٹس کے زیراہتمام جشن آزادی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں تنظیمی کارکن اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنی آزادی اور استقلال کی قدر کرتی ہیں۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے انتھک جدوجہد کی اور انگریز سامراج بوڑھے استعمار برطانیہ کی غلامی سے اس ملک و قوم کو آزاد کیا۔ ہم جدوجہد آزادی کے ان شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں انگریز سامراج سے آزادی کی راہ میں قربانیاں دیںاور ہم شہدائے پاک وطن کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو مملکت خداداد پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لئے شہید ہوگئے۔

 انہوں نے کہا کہ قائد کے پاکستان کو تکفیری دھشت گردوں سے خطرہ ہے جو داعش طالبان اور لشکر جھنگوی کے نام پر معصوم اور مظلوم عوام کا خون بہاتے ہیں۔ جو دشمن کے آلہ کار بن کر پاک فوج اور پولیس کے جوانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ دھشت گردی اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ آخر میں قومی ترانہ پڑھا گیا اور المصطفی اسکائوٹس کے جوانوں نے قومی پرچم کو اسکاوٹس سلامی پیش کی۔ آخر میں علامہ سیف علی ڈومکی کے خطاب اور دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی

وحدت نیوز (آرٹیکل) افکار شہید حسینی کو زندہ رکھیں (امام خمینی)1980 کا سال تشیع پاکستان کی طاقت کا مظہر تھا ، اس سال کو اسلام آباد  میں  ملت تشیع پاکستان نے ایک عظیم کنونشن  کا انعقاد کیا۔ یہ کنونشن ہی تشیع پاکستان کی جدید تاریخ کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب  ہماری قوم اندرونی اختلافات کے باوجود ایک ہی قیادت کے زیر سایہ متحد تھی. چنانچہ  قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین کے حکیمانہ وجراتمندانہ اقدامات سےاس  ملت کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی . آج ہمیں ضرورت ہے کہ اس عظیم تاریخی کنونشن کے پسِ منظر کو جانیں اور موجودہ حالات میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔اس دور میں پاکستان کی متشدد مذہبی جماعتوں کے تعاون سے فوجی انقلاب کامیاب ہوچکا تھا اور جنرل ضیاءالحق جوکہ خود بھی فکری لحاظ سے ایک متشدد مذہبی خیالات کا حامل تھا اس نے قائد اعظم اور اقبال کی فکر  کی مخالف جماعتوں اور تنظیموں مثلا  جمعیت علماء اسلام ( سابقہ جمعیت علماء ھند ) اور جماعت اسلامی  کو سرکاری سرپرستی سےخوب نوازا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پاکستان جس کو اسلامی جذبے کے تحت شیعہ اور سنی مسلمانوں نے ملکر بنایا تھا اس کو رسمی طور پر ایک خاص مذھب ومسلک کا پاکستان بنانے کی کوشش کی گئی جسے وہ شیعہ قیادت کے بر وقت اقدام کی وجہ سے رسمی شکل تو نہ دے سکے لیکن عملی طور پر انکے اقتدار میں نفوذ کی وجہ سے کچھ ایسی ہی صورتحال بن گئی.پس یہ جان لیجئے کہ  یہ قیام اس سوچ اور فکر کے خلاف تھا. جس کی سربراہی اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے پاس تھی.پھر علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد جب قیادت علامہ سید عارف حسین الحسینی نے سنبھالی تو قوم عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی. اور ایک دھڑا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب کی قیادت کا اعلان کر چکا تھا اور دوسرے دھڑے نے بطور قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت پر اتفاق کیا تھا. قائد شہید نے اپنے اخلاص وتقوی ، حکمت وبصیرت اور جرتمندانہ اقدامات سے قوم میں ایک نئی روح پھونکی اور ملت کے اندر قومی شعور ، جوش و  ولولہ اور سیاسی بصیرت کو  اجاگر کیا. دوسری طرف باہمی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ملت کی ہر بااثر شخصیت کے پاس بھی گئےاور بارہا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی نیز باہمی اختلافات کے خاتمے کے لئے ہر قسم کی قربانی  کا عندیہ بھی دیا. ان کی اس معتدل روش ، اخلاق وکردار اور شجاعانہ وجراتمندانہ اقدامات سے ملت کی اکثر تنظیمیں اور ادراے انکی قیادت کے زیر سایہ آ گئے۔

 انھوں نے تشیع پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملت کے اپنے مستقل سیاسی تشخّص کی بات کی  اور انہیں سیاسی طور پر مضبوط اور طاقتور کرنے کا عہد کیا اور بھر پور انداز سے سیاسی عمل میں شمولیت پر زور دیا. انہوں نے اپنی  ہم وطن سیاسی قوتوں کے ھمراہ ایوانوں میں اپنے ترجمان ونمائندگان بھیجنے اور وزارتیں حاصل کرنے کی ترغیب دی ۔ یوں سیاسی طور پر سرزمین پاکستان پر ایک ایسا سیاسی نظام لانے کا اعلان کیا جو شیعہ اور سنی سب مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہواور ضیاء الحق کی اتحادی جماعتوں  یعنی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے نظرئیے کو مسترد کیا. پہی شہید کے  وہ افکار ونظریات تھے جنہیں زندہ رکھنے کی امام خمینی نے اپنے تعزیتی بیان میں پاکستانی قوم کو تاکید کی تھی اور یہی انکی روش تھی کہ آج تیس سال گزر جانے کے باوجود ملت کا ہر فرد انہیں یاد کرتا ہے.یقیناً  اگر انہیں شہید نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا سیاسی نقشہ کچھ اور ہوتا اور آج   کسی بھی مسلک اور مذھب کو محرومی کا احساس نہ ہوتااور پاکستان دنیا کے نقشے پر اتحاد بین المسلمین اور مکتب تشیع کے مابین وحدت کا ایک قابل تقلید مظھر اور بہترین نمونہ ہوتا.گذشتہ تقریباً دس سال سے شہید قائد کے معنوی فرزند ملک بھر سے اور بیرون ملک بھی مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔

شہید قائد کے یہ معنوی فرزند  ملت کو ہر لحاظ سے طاقتور بنانے اور وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے مخلص و بابصیرت اور بہادر وشجاع عالم باعمل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں میدان عمل میں کوشاں ہیں اور حکمرانوں کے پریشر اور شکنجوں مقابلہ کر رہے ہیں نیز تکفیریوں کے تیروں اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں. قائدشہید کے وارث ان مخلص اور نڈر افراد کو اس وقت قوم کی حمایت کی ضرورت ہے۔قوم ضرور غوروفکر کرے کہ 25 جولائی 2018 کو ووٹ کسے دینا ہے!؟ہماری قوم کے ہر باشعور شخص سے اپیل ہے کہ وہ مندرجہ زیل امور پر خاص توجہ دے:1- گھر سے نکل کر موثر انداز  میں الیکشن میں حصہ لیں اور اپنا قیمتی ووٹ ضرور کاسٹ کریں. چونکہ یہہماری قومی تاریخ کا تسلسل اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔2- مہر لگاتے وقت ذاتی وعلاقائی اور مذھبی تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مقادات کو مد نظر رکھیں۔

کسی پاکستان دشمن قوت کے ایجنٹ اور وطن کے خائن اور چور کو ووٹ نہ دیں خواہ اس پارٹی کا آپکے علاقے میں الیکشن کا امیدوار خود قدرے بہتر ہی کیوں نہ ہو. یہ کل پارلیمنٹ میں انکی بالا دستی کا سبب بن سکتا ہے.3 - کرپشن وتکفیریت مافیا سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور ان  پر پارلیمنٹ کا راستہ تنگ کرنے کے لئے پاکستان بھر میں بالعموم انتخابی نشان (( بلہ ))پر مھر لگائیں.4 - اپنے پارٹی کے تشخّص کی حفاظت اور اپنی آواز کو پارلیمنٹ ہاؤسسز میں پہنچانے کے لئے اور ملت کو سیاسی طور پر طاقتور بنانے کیلئے اپنے انتخابی نشان ((خیمہ)) پر مہر لگائیں5- تکفیریت کا راستہ روکنے کے لئے اور محب وطن قوتوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لئے جس جس علاقے میں آزاد امیدواروں اور مختلف اتحادیوں نے ہماری با بصیرت لیڈرشپ سے  انتخابی الائنس کا اعلان کیا ہے وہاں پر (( گھڑا ، گھوڑا )) یا جو بھی انتخابی نشان ہے اس پر مہر لگائیں.


 پاکستان زندہ باد              وطن عزیز پائندہ باد

تحریر:  ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

Page 1 of 872

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree