The Latest

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ مسجد پر فائرنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈر فوری اظہار یکجہتی کیلئے شہدا کے لواحقین کے پاس پہنچی تھیں۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے اب تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی، جو کہ بے حسی اور ان کی بے بسی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ بھی پاکستان کے باشندے ہیں یہاں اقلیتوں کیلئے تو شور مچ جاتا ہے مگر شیعہ ہزارہ مسلمانوں پر ظلم ہو تو نجانے کیوں سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے کوئی مذمت تک نہیں کرتا، حکومت کو دہشتگردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی اور کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا ہوگا، بصورت دیگر دہشتگردی ختم نہیں ہو گی۔ ان خیالات کااظہار اُنہوں نے ملتان میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت سیال، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی، سید شبر رضازیدی، سید ندیم عباس کاظمی اور دیگر نے شرکت کی۔

 علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ حکومتیں ہمیں تحفظ دینے میں بُری طرح ناکام ہیں، پچھلی حکومت میں بلند و بانگ دعوے کرنے والے عمران خان کو شاید معلوم نہیں کہ وہ اب اس ملک کے وزیر اعظم ہیں، سلیم عباس صدیقی نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس دہشتگردی کا سبب کیا ہے لیکن بیرونی آقائوں کو خوش کرنے کے لیے چپ سادھ رکھی ہے، کوئٹہ کی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج منائیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ لہو لہو کوئٹہ کے درد کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے پاکستان کے دعویدار کہاں ہیں؟ مظلوم عوام کی فریاد سننے کے لئے کوئی نہیں پہنچا۔  وطن عزیز پاکستان میں شیعیان علی علیہ السلام کی نسل کشی کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلسل قتل عام کے خلاف جمعہ 19 اپریل کو ملک گیر احتجاج کے موقع پر سندھ کے تمام اضلاع میں بھرپور احتجاج کیا جائے۔ قائد وحدت ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر عوام مظلومین کوئٹہ و ڈیرہ اسماعیل خان کے حق میں صدائے احتجاج بلند کریں۔ ایک طرف شیعہ نسل کشی جاری ہے تو دوسری جانب ہمارے جوانوں کو ریاستی ادارے ماورائے آئین و قانون اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین  مظلومین کوئٹہ کا ہر محاذ پر ساتھ دے گی۔

وحدت نیوز(گلگت) ہمارے حکمرانوں کو دہشت گردنظر نہیں آرہے ہیں صرف دہشت گردی نظر آتی ہے۔اگر غلطی سے کہیں دہشت گرد پولیس کے ہاتھ لگ جائے تو تھانے سے ہی رہائی مل جاتی ہے اور اگرتھانے والوں سے ان بن ہوجائے تو پھر عدالتیں منہ چڑھاکر دہشت گردوں کو پاک صاف قرار دیکر باعزت بری کردیتے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی رہنما ورکن گلگت بلتستان اسمبلی بی سلیمہ کا کہنا ہے کہ ملک میں ہزاروں سپاہیوں کی لازوال قربانیوں کے باوجود دہشت گردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہمارا ہدف نہیں یا پھر دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات درست نہیں وگرنہ کئی سالوں کی محنت اور قربانیوں کے باوجود مظلوم پاکستان اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور نہ ہوتے۔سانحہ ہزار گنجی کوئٹہ میں ہونے والا یہ دھماکہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل ہزارہ قبیلے پر سینکڑوں حملے کرکے خواتین،بچوں اور بزرگوں کو خون میں نہلادیا گیا اور اس قبیلے کے ہزاروں خاندان اندرون ملک وبیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔حکومت دہشت گردی کے ہرواقعے کے بعد ایک مذمتی بیان دیکر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجاتی ہے اور دہشت گرد موقع پاکر دوسری وارادت کرجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس تمام تر وسائل موجود ہیں اور مٹھی بھر دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے امریکہ،اسرائیل،سعودی عرب اور انڈیا سے ملتے ہیں جبکہ سہولت کار ی کیلئے پاکستان میں ایک خاص مکتبہ فکر کے افراد استعمال ہوتے ہیں اور یہ سہولت کار نامعلوم نہیں بلکہ ان میں سے کچھ تو حکومت کی بغلوں میں بیٹھے ہیں ۔ہزارہ قبیلے کیساتھ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔سانحہ ہزار گنجی میں شہید ہونے والوں کو اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر عنایت کرے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سانحہ ہزار گنجی اور ڈی آئی خان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعے کے روز ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا ۔ کوئٹہ کا ہزار ٹاون غزہ بنا ہوا ہے جس کے مکینوں پر شہر میں آمدورفت مشکل بنا دی گئی ہے قومی سیاسی قیادت ہزار ٹاون جانے کی بجائے مل بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان کو موثر بنانے پر کام کرئے ۔ ہم شہدا کے خانوادوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گئے ۔ دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کی بجائے دہشتگردوں کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ملک بھر سے مظلوم طبقے نے نظام اور حالات میں تبدیلی کے لئے ووٹ دیئے تھے ۔حالیہ سانحہ پر ایسی بے حسی ناقابل برداشت ہے بتایا جائے کہ کس طرح سے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتلوں کومین سٹریم میں لانے کے نام پر معاف کیا جارہا ہے ۔ جبکہ شہیدوں کے خاندان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔یہ سلسلہ بند کیا جائے قاتلوںکو کوئی دوسرا معاف نہیںکرسکتا۔ قصاص،دیت یا معاف کردینے کا حق صرف اور صرف شہداءکے ورثا کوہے۔قاتلوں کو سزادینے کی بنائے حفاظتی تحویل میں رکھا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں کوئی آئین یا قانون بھی موجود نہیں ہے کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔کہاں ہے وہ ماں؟ کیا قومے میں ہے؟کس حالت میں ہے وہ جسے ریاست کہتے ہیں۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے ۔ ہمیں اس حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں کہ یہ سابقہ حکمرانوں کی طرح بے حس نہیں ہونگے ۔عوام کے مایوس ہونے سے پہلے حکومت کوسنجیدہ اقدامات کرنا ہونگے ۔ اتنا بڑا سانحہ ہوا نیشنل ایکشن پلان کے تحت نیکٹاکا اجلاس بلا کر کیوں سنجیدہ تحقیقات کی کوششیں نا کی گئیں ؟ ہم ملک و قوم کی ترقی اور امن چاہتے ہیں ہر اچھے کام میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری شیعہ نسل کشی افسوس ناک ہے ریاستی ادارے دھشت گردی کے خاتمے کیلئے بھرپور کاروائی کریں۔ دوغلی پالیسی کے سبب دھشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ گذشتہ بیس سال سے دھشت گردوں کے نشانے پر ہیں مگر مٹھی بھر دھشت گردوں کے آگے ریاستی ادارے بے بس نظر آتے ہیں دھشت گرد گروہوں کی بیرونی امداد روکنا ضروری ہے۔ بدنام زمانہ دھشت گرد تنظیم داعش نے کوئٹہ سانحے کی ذمہ داری قبول کی ہے اس دھشت گرد تنظیم کا پاکستان میں فعال ہونا ریاست اور نہتے عوام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم فوری طور پر کوئٹہ پہنچ کر مظلوم ہزارہ شیعہ کے غم میں شریک ہوں اور سپریم کورٹ کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی کا از خود نوٹس لے۔  انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ہر مرحلے پر مظلومین کوئٹہ کے ساتھ ہے اور اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان میں حکومت کی نہیں دہشتگردوں کی رٹ قائم ہے،ہزارگنجی دھماکے اور کوئٹہ میں موجودہ شیعہ ہزارہ برادری کی نسل کشی کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔تسلسل کیساتھ جاری اس ظلم و بربریت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھاکہ ہماری تمام ترہمدردیاں کوئٹہ کے مظلومین کے ساتھ ہیں کوئٹہ میں جاری دھرنے کی کاز کے ہم حامی ہیں لیکن اس میں ملکی مفادات کے خلاف جاری زبان درازی جو کہ ملکی سا لمیت کے لئے خطرہ ہے اس کی ہم بالکل حمایت نہیں کریں گے۔

 انھوں نے کہا کہ آخر ہماری حکومتیں بلوچستان کو کیوں نظر انداز کرتی ہیں،یہاں کے امن پر پے در پے حملوں پر حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ،مستقبل کے معاشی کیٹ وے کو نظر انداز کرنا انتہائی مضاحقہ خیرہے، بلوچستان میں دہشتگردوں کی نرسری اورکالعدم گرہوں کو لگام نہ دینا حکمرانوں کی نااہلی ہے کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟؟؟ہمیں مصالحتی رویہ ترک کرتے ہوئے ملکی و قومی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہونگے۔ہم خانوادہِ شہداء کے لواحقین کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل کی گھڑی میں انکو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گئے اور نہ ہی اس مقدس شہداء کے لہو کو سازشی عناصر کے ہاتھوں راہگاں جانے دیں گے۔کوئٹہ کے باشعور اور محب وطن عوام ان سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے دشمن کے مضموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ ہاشم موسوی نے سانحہ ہزار گنجی کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہزار گنجی کے فروٹ مارکیٹ میں دہشت گردی کا واقع ہونا لمحہ فکریہ ہے ان انتہا پسند عناصر کا قلع قمع کرنا اور در پردہ سہولت کار کا پتہ لگاناحکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے ۔دہشت گردوں کا ایک مرتبہ پھر سر گرم ہونا عوامی جان و مال کو تحفظ دینے والے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔پر امن محب وطن نہتے سبزی فروشوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن حکومت دہشت گردوں کو پکڑنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔دہشت گردی میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ماضی کے واقعات میں ملوث عناصر کیخلاف کاروائی کیجاتی تو آج مزید قمیتی جانیں ضائع نہ ہوتی  ، صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ صوبائی حکومت محض دعوئوں کے سوا عملی اقدامات ادا کرنے سے قاصر ہے صو بائی اسمبلی میں ہوں یا صوبائی اسمبلی سے باہر حکومت اور اپوزیشن محض فنڈز کی تقسیم کے جھگڑے میں الجھی ہوئی ہے حکومت اور اپوزیشن کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں۔اس سے قبل بھی لورالائی اور سنجاوی میں دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت ان دہشت گردوں کو پکڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فنڈز کی تقسیم کے جھگڑے سے ہٹ کر ان عوامی مسائل پر توجہ دے۔دہشت گردی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے حکومت ان سفاک دہشت گردوں کیخلاف سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرے۔ مجلس وحدت مسلمین غم زدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو  ہیں۔

وحدت نیوز(قم) مجلس وحدت مسلمین شعبہ امور خارجہ کی ایک ٹیم امدادی سامان کی دوسری کھیپ لیکر 16 اپریل کو سیلاب متاثرہ علاقوں میں جائے گی. شعبہ امور خارجہ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ایران کے سیلاب متاثرین سے اظہار ہمدردی اور متاثرین کے درمیان امدادی سامان کی دوسری قسط تقسیم کرنے کی غرض سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور خارجہ کی ایک ٹیم 16 اپریل کو دوبارہ ایران کے صوبہ خوزستان اور لرستان روانہ ہوگی. امدادی سامان میں راشن و دیگر ضروریات زندگی پر مشتمل اشیاء شامل ہوں گی. شعبہ امور خارجہ کے مسؤولین پاکستان کی غیور عوام کی طرف سے اور دیگر ممالک سے جمع ہونے والی امداد کو براہ راست متاثرین سیلاب تک پہنچائیں گے اور قوم کو امداد کی تقسیم کے عمل سے ذرائع ابلاغ پر اپنے رسمی فورمز کے ذریعے آگاہ رکھیں گے. ایران کے سیلاب متاثرین کی مدد کے اس انسانی, اخلاقی اور شرعی وظیفے پر عمل کے خواہشمند افراد مجلس وحدت مسلمین کے نزدیکی دفاتر یا شعبہ امور خارجہ کے پاکستان و دیگر ممالک میں موجود نمایندہ دفاتر کے مسؤولین کے فون نمبرز پر رابطہ کرکے اپنے عطیات جمع کروا سکتے ہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) دنیائے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے عنوان سے جب بھی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی یا دہشت گردانہ عزائم کی بات کی جائے گی تو رہتی دنیا تک امریکی انتظامیہ اور امریکن افواج دہشت گردانہ عزائم میں سرفہرست پائے جائیں گے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب فلسطینیوں کی زمین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو قائم کرنے کی گھنائونی سازش کو عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا تو اس وقت امریکن انتظامیہ دنیا کی سب سے بڑی شیطانی قوت تھی کہ جو صہیونیوں کے اس ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنانےکے لئے برطانوی استعما ر کے شانہ بہ شانہ تھی یا یوں کہہ لیجئے کہ اصل محرک ہی امریکی انتظامیہ تھی۔فلسطین پر صہیونیوں کے تسلط کے آغاز کی تاریخ اب ایک سو سالہ تاریخی پس منظر رکھتی ہے اسی طرح امریکی دہشتگردانہ عزائم کی تاریخ پر بات کی جا ئے تو ہمیں امریکہ اور امریکن افواج کی جارحانہ دہشت گردانہ پالیسیوں کی ایک سو سال سے بھی زیادہ کی تاریخ ملتی ہے ۔اس عنوان سے کاتب نے پہلے ہی متعدد مقالہ جات میں امریکہ کی ایک سو سالہ دہشت گردانہ کاروائیوں پر تسلسل کے ساتھ متعدد مقالہ جات تحریر کئے ہیں جو شائع ہو چکے ہیں۔آئیے امریکن افواج کے دہشت گردانہ عزائم پر مبنی کارناموں کا جائزہ فلسطین سے شروع کرتےہیں۔فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام سے ہمیشہ ستر برس میں امریکی افواج نے صہیونیوں کو نت نئے انداز سے فلسطینیوں کے قتل عام کے طریقہ سکھائے ہیں ۔

صہیونیوں کی غاصب افواج کے ساتھ امریکن افواج نے مشترکہ مشقوں میں صہیونیوں کو ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ فلسطین کےنہتے مظلوموں پر ٹینکوں سے گولہ باری کیسے کی جاتی ہے ۔ بات صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ امریکن افواج نے صہیونیوں کو اربوں ڈالر کے فوجی آلات امداد کے نام پر دئیے ہیں تا کہ فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام کو قتل کیا جا سکے اور یہ سلسلہ ستر برس سے جاری ہے۔اب فیصلہ دنیا کو کرنا ہے کہ امریکن فوج ایک ملک کی فوج ہے یا دہشت گردانہ عزائم کو پروان چڑھانے والی فوجی فیکٹری ہے۔امریکن فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی داستان ہمیں فلسطین کے بعد لبنان پر غیر قانونی تسلط کے زمانے میں بھی ملتی ہیں۔یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو امریکی نظام کے منہ پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے کہ جسے امریکن انتظامیہ چاہتے ہوئے بھی صاف نہیں کر سکتی ہے۔

لبنان میں سول جنگ کے زمانے کی ابتداء ہو یا پھر امریکن افواج کا لبنان میں داخل ہو کر لبنان کے عوام پر مظالم کا سلسلہ ہو، سب کا سب امریکن فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں اور دہشت گردانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔امریکن فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا عملی نمونہ ویت نام جیسے ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں امریکی افواج نے جارحیت کرتے ہوئے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا اور نتیجہ میں آج تک امریکی افواج کو دہشت گردی کا لیبل حاصل ہوا۔ویت نام کے عوام آج بھی امریکی افواج کے انسانیت سوز مظالم کو یاد کر کے جہاں ایک طرف اپنے پیاروں کے غم کو فراموش نہیں کر پاتے ہیں وہاں ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو درس دیتے ہیں کہ امریکی افواج دنیا کی جارح اور دہشت گرد افواج ہیں کہ جن کا کام صرف اور صرف دنیا کے کمزور ممالک میں جارحیت کرنا اوران ممالک کے سیاسی نظاموں کو اپنے نظام کے ماتحت کرنا ہے۔امریکی افواج کی دہشت گرد ہونے کا سب سے بڑا ثبوت امریکی افواج کی جانب سے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم ہیں کہ جس کے اثرات آج تک وہاں کی اقوام بھگت رہے ہیں۔جاپان میں بھی امریکی افواج کو دہشت گرد افواج کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے۔

امریکی افواج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی سب سے بڑی مثال افغانستان ہے۔جہاں امریکی افواج نے اپنے دہشت گردانہ عزائم کے ذریعہ دسیوں ہزار بے گناہ انسانوں کو صرف اس لئے موت کی نیند سلا دیا کہ امریکی نظام کو افغانستان میں قوت حاصل ہو اور افغانستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکی دہشت گردانہ نظام کا تابع ہو جائے لیکن نتائج اس کے بر عکس نکلے اور آج دنیا کی دوسری اقوام کی طرح افغانستان کی قوم بھی یہی نعرہ لگاتی نظر آتی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی دہشت گرد فوج ہے تو وہ امریکی افواج ہیںکہ جن کا کام صرف اور صرف دہشت کا راج کرنا ہے۔امریکی افواج اور دہشت گردانہ عزائم کی بات کریں تو ہم کسی طور بھی عراق کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں کہ جہاں کئی برس تک امریکی افواج جارحیت کے ذریعہ دہشت گردانہ کاروائیوں کو پروان چڑھاتی رہی ہیں اور عراقی بے گناہوں کا بڑے پیمانہ پر ہونے والا قتل عام امریکی افواج کے دہشت گرد ہونے کا ایسا بے باک ثبوت ہے کہ جسے خود امریکی افواج میں شامل فوجی دہشت گرد بھی ماننے پر مجبور ہو چکے ہیں۔درجنوں ایسے فوجیوں نے خو دکشی کر لی ہے ۔دسیوں ہزار عراقی بے گناہ اگر کسی کی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں تو صرف اور صرف امریکی نظام اور افواج کے ہاتھوں۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج فلسطین،لبنان، شام،افغانستان ، ویت نام اور جاپان سمیت دیگر ممالک کی اقوام کی طرح عراقی عوام نے امریکن افواج کو دہشت گرد افواج کا لقب دیا ہے۔یمن کی بات کرتے ہیں۔

یمن ایک مسلمانوں کا ملک ہے کہ جہاں پر ایک مسلم ملک سعودی عرب نے جنگ مسلط کر رکھی ہے لیکن اس جنگ میں بھی امریکی افواج اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مہارت سے محروم نہیں رہی ہیں بلکہ سعودی حکام کے ساتھ مل کر یمن میں دہشت گرد ی کی نت نئی کاروائیوں میں برابر کی شریک جرم ہیں۔یمن کے عوا م جب بھی سڑکوں پر آتے ہیں ان کے چند نعروں میں اللہ اکبر، مردہ باد امریکہ، اسرائیل نامنظور اور امریکی افواج دہشت گرد افواج کے نعرے نمایاں ہوتے ہیں جو یمن کے عوام کے خیالات اور سوچ کی عکاسی ہے۔گذشتہ دنوں امریکہ نے ایران کی افواج کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش اس لئے کی ہے کیونکہ ایران کی افواج نے شامی حکومت کی درخواست پر شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کے لئے شام کی حکومت ، افواج اور عوا م کا ساتھ دیا ۔جبکہ امریکی افواج یہاں بھی جارح افواج ہیں اور بغیر شامی حکومت کی دعوت یا اجازت کے شام میں پہنچی تھیں۔دنیا اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ مغربی ایشیائی ممالک میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو وجود دینے میں بھی امریکی نظام سیاست و افواج کے اداروں کا ہاتھ شامل رہاہے کہ جس کا مقصد مغربی ایشیاء کی امریکہ و اسرائیل مخالف ریاستوں کو غیر مستحکم کر کے امریکی دہشت گرد افواج کے لئے راہیں ہموار کرنے کا ہدف متعین کیا گیا تھا۔

امریکہ نے ایران کی افواج کو دہشت گرد اس لئے کہنا شروع کیا ہے کیونکہ انہوںنے عراق اور شام سمیت لبنان میں امریکی دہشت گرد افواج کوشکست سے دو چار کر دیا ہے اور داعش کو نابود کیا ہے۔اسی طرح ایران کی افواج کو دہشت گرد اس لئے بھی قرار دینےکی کوشش کی گئی ہے کیونکہ انہوںنے فلسطین میں نہتے فلسطینیوں کو مزاحمت کےلئے اسلحہ اور تربیت سمیت فلسطین کی مزاحمتی جماعتوں کو مالی ومسلح مدد جاری رکھی ہوئی ہے تا کہ فلسطین کے مظلوم اقوام غاصب اور جارح دشمن اسرائیل کا مقابلہ کریں اور عزت و افتخار کے ساتھ سربلند رہیں۔خلاصہ یہی ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں امریکی افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خود امریکی افواج ہی دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد افواج ہیں کہ جن کا کام صرف اور صرف دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینا اور نت نئے دہشت گرد گروہوں کا قیام اور ان کی تربیت کر کے مسلم دنیا میں انارکی پھیلا کر اسلامی دنیا کو کمزور کرنا اور اسلامی ممالک کی افواج کو بھی کمزور کرنا ہے۔لہذا یہ بات واضح ہے کہ ایران یا کسی اور ملک کی افواج کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں بلکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ خود امریکی افواج دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد افواج ہیں۔


تحریر:صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشرحسن نے میڈیاسیل سے جاری بیان میں جعفریہ الائنس کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان مجتبیٰ نقوی کی جلد مکمل صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی ہے، رہنمائوں نے کہاکہ سلمان مجتبیٰ ملت جعفریہ کے فعال اور متحرک رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں ، ان کی عزاداری اور ملت کے لئے گراں بہاخدمات ہیں ، ایم ڈبلیوایم ان کی شفاءیابی کیلئے بارگاہ خداوندی میں دعاگو ہے، خدا وند متعال انہیں امام سید سجاد ؑ کے صدقے صحت کاملہ وعاجلہ عنایت فرمائے، واضح رہے کہ سلمان مجتبیٰ نقوی فالج کے عارضے کے باعث شدید بیمارہیں ، اس سے قبل ان کا برین ٹیومرکا کامیاب آپریشن بھی ہوچکاہے۔

Page 10 of 935

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree