The Latest

وحدت نیوز (گلگت) غیرائینی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء کے لئے مجلس وحدت مسلمین  اور وحدت یوتھ گلگت کے زیر اہتمام استقبالیہ اور میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا،   جہاں چھ روز سے جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ دور دراز سے آنے والوں کو خوش آمدید کہا گیا،اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع خان،پی ٹی آئی کے رہنما گلاب شاہ آصف،پیپلز پارٹی کے رہنما کامران دانش،امداد جعفری اور ایم ڈبلیوایم کے صوبائی رہنماغلام عباس،مطہر عباس و دیگر نے کیمپ کا خصوصی دورہ بھی کیااور وحدت یوتھ کے جوانوں کی اس کاوش کو خوب سراہا۔

وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سربراہ و عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں جی بی کے عوام نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے غیور عوام کسی کی ساز ش میں آنے والے نہیں ہیں۔ چلاس سے داریل تانگیر اور ہنزہ سے کھرمنگ تک کے عوام نے جس اتحاد و ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا لائق فخر ہے۔ میں اس تحریک کے ادنی سے کارکرکن کی حیثیت سے اس تحریک میں حصہ لینے والے علماء، بزرگان، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنا ن کا انتہائی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے تاریخی ہڑتال اور لانگ مارچ کر کے حکومت کو واضح کر دیا کہ یہاں کے عوام باشعور ہو چکے ہیں اور کسی بھی حکمران کو ظلم کرنے نہیں دیں گے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ٹیکس مخالف تحریک کے قائد غلام حسین اطہر کے خلوص و ثابت قدمی کو سلام پیش کرتا ہوں انکی قیادت کے نتیجے میں حکومت مذاکرات کی ٹیبل پر آنے کے لیے تیار ہوگئی اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے سبب لانگ مارچ کو روندو سے ختم کر کے اسکردو جانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔بلتستان میں جب تک ٹیکس کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت کے مشکل ترین حالات میں استقامت دکھانے پر برادر عزیر مولانا سلطان رئیس اور انجمن تاجران کے صدر کو سلام پیش کر تا ہوں ۔ ان کی بصیرت کے سبب کسی قسم کی علاقائی ، مسلکی اور لسانی تعصبا ت کو ہوا دینے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کو مزید شیعہ سنی اور بلتی گلتی کے نام پر لڑاکر حکمرانی کرنے کا دور ختم ہو گیا ہے۔ آج تمام گلگت بلتستان کے مسالک ایک ہی گلدستے کے پھول ہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جی بی کے عوام جی بی کو آئینی حصہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار رہیں ۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں بھی حصہ دلانے میں صوبائی حکومت ناکام ہوگئی ہے اور غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں ۔ میں آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کے امین جی بی کے عوام کو آئینی خودمختاری دی جائے اور سی پیک میں اس خطے کو بھر پور حصہ دیا جائے۔ پاکستان دشمن طاقتیں سی پیک سمیت جی بی کو آئینی حقوق دلانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں ۔ دشمن نہیں چاہتے کہ گلگت بلتستان اورپاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ سی پیک میں حصہ ملنے سے گلگت بلتستان مزید مستحکم اور مضبوط ہو جائے گا۔ مضبوط گلگت بلتستان ہی مضبوط پاکستان کا ضامن بن سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جی بی کو مضبوط کرنے کے لیے سی پیک میں حصہ دلانے کی بجائے مزید ٹیکس عائد کر کے عوام میں بے چینی پھیلا رہی ہے اور معاشی طور پر مزید کمزور ہو رہا ہے ۔ جی بی میں حالیہ دھرنون میں انڈیا مخالف اور پاکستان آرمی کے حق میں لگائے جانے والے نعروں نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے عوام پاکستان کی دفاعی فرنٹ لائن ہے۔ یہاں کے عوام پاکستان کے دفاع کا ضامن ہے ۔

گلگت بلتستان سے رشتہ کیا!؟

وحدت نیوز(آرٹیکل) لکھنے والے بہت کچھ لکھ چکے ہیں، اس منطقے کی جغرافیائی اہمیت، معدنی کانیں، آبی ذخائر اور قدرتی حسن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، رہی بات پاکستان سے محبت کی تو عوامِ علاقہ کی تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے ضیاالحق جیسے آمر کے مظالم تو سہے لیکن ملکی محبت پر کبھی بھی  آنچ نہیں آنے دی۔

آئے روز یہ جو گلگت بلتستان میں ہڑتالیں جاری رہتی ہیں ، ان کے حقیقی  اسباب اور اصلی مسئلے کو جاننے کی ضرورت ہے،  بعض لوگ اسے آٹے اور چینی کے مہنگے اور سستے ہونے کا جھگڑا سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف  صورتحال یہ ہے کہ عوامِ علاقہ حکومتِ پاکستان سے اپنی قومی شناخت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہم نے جس طرح بنگالیوں کی ہڑتالوں اور اُن کےجذبات کو اہمیت نہیں دی تھی اُسی طرح ہم گلگت و بلتستان کے عوام  کے حقیقی مطالبات سے بھی  آنکھیں چرا رہے ہیں۔

یہ ہمارے سیاسی و قومی اکابرین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ  اس منطقے کے عوامی کی قومی حیثیت کو مشخص کریں۔ اگر مسئلہ کشمیر کی وجہ سے انہیں گلگت و بلتستان کو  صوبے کا درجہ دینے میں مشکلات درپیش ہیں تو پھر عوامِ علاقہ کو اعتماد میں لے کر اُن کے لئے کسی موزوں اور متناسب نیز متبادل سیٹ اپ پر غور کیا جائے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں شمولیت کی خواہش ایک آئینی و جمہوری خواہش ہے  اور ہمارے  سیاسی زعما کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

گلگت بلتستان میں  اس وقت کتنے ہی دنوں سے ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف غذر سمیت مختلف علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ سخت سردی میں لوگ  اپنے حقوق کی خاطر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ تمام چھوٹی بڑی دکانیں، کاروباری مراکز، نجی ادارے   اور پبلک ٹرانسپورٹبند ہیں، عوام کا مطالبہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کو قومی سطح پر نمائندگی نہیں دی جاتی اس وقت تک کسی بھی طرح کے ٹیکسز کا نفاذ ناقابل قبول ہے۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ  اگر وقتی طور پر حکومت ٹیکسز کے مسئلے سے عقب نشینی کر بھی لے تو پھر بھی یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ، چونکہ اصل مسئلہ  عوامی و انسانی حقوق اور گلگت بلتستان کی ملی شناخت کا ہے۔

ایسے میں ہم سب پاکستانیوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا بھی گلگت و بلتستان سے کوئی دینی و نظریاتی رشتہ ہے یا نہیں!؟ اگر ہم اہلیانِ گلگت و بلتستان کو  دینی بھائی سمجھتے ہیں اور پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔لاالہ الااللہ  کی حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں بھی اس ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں اہلیانِ گلگت و بلتستان سے اظہار یکجہتی کے لئے  اپنے ایمان کی حرارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اب یہ بات پاکستانی دانشوروں اور اربابِ حل و عقد کو اپنے پلے باندھ لینی چاہیے کہ   جاری ہڑتال جس نتیجے پر بھی منتہج ہو ہمیں بہر حال گلگت و بلتستان کی ملی شناخت اور علاقائی سیٹ اپ کے حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔روز روز کی ہڑتالوں سے جہاں ملکی اقتصاد اور ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے وہیں اس سلسلے میں ہماری سرد مہری  سے ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی  مسلسل فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپنے ملک کو اقتصادی نقصانات اور بھارت کی چالوں سے بچانے کے لئے  ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ  اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن ادا کریں اور  پاکستان کے دیگر علاقوں کے عوام بھی  اہلیان گلگت و  بلتستان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے اُن سے اظہار یکجہتی کریں ۔

اگر ہم سب جی بی کے اصل مسئلے یعنی ان کی ملی شناخت اور قومی سیٹ اپ کے حل میں سنجیدہ ہو جائیں تو درپیش مشکلات پر  قابوبھی پا سکتے ہیں اور اپنے دشمن کو مایوس اور ناکام  بھی کر سکتے ہیں۔

لہذا یہ ہم سب کی دینی و ملی ذمہ داری ہے کہ ہم جی بی کے مسئلے کو ملی تناظر میں دیکھیں اور اس کے حل کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

 

 

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

معصومہ اہل بیتؑ

وحدت نیوز( آرٹیکل) حضرت امام موسیٰ کاظم  کی صاحبزادیوں میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مرتبہ نہایت درجہ بلند ہے۔ آپ کو' معصومۂ'' اور'' کریمہ اہل بیت'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،آپ یکم ذی القعدہ سن ١٧٣ھ .ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور آپ نے ٢٨ سال کی عمر میں ربیع الثانی کی دس یا بارہ تاریخ کو سن ٢٠١ ھ.ق میں شہر قم میں شہادت پائی۔آپ کے عالی ترین فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ آپ خانہ وحی و رسالت سے منسوب ہیں،آپ کے القابات (بنت رسول اللہ، بنت ولی اللہ، اخت ولی اللہ اور عمة ولی اللہ ) سرچشمہ فضائل و کمالات ہیں۔آپ نے حضرت امام موسی کاظم  اور حضرت علی ابن موسی الرضا  کے سائے میں زندگی بسر کی ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ مکتب ائمہ اطہار  کی تربیت یافتہ ہیں ۔

حضرت امام رضا  نے آپ کی شان میں فرمایا :من زار المعصومة بقم کمن زارنی۔جس نے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی ۔

وہ ہستیاں جو شفاعت کرسکتی ہیں ان میں سے ایک نام فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا بھی ہے۔جیساکہ امام صادق  کا فرمان ہے کہ تدخل بشفاعتھا شیعتی الجنة باجمعہم: ان کی شفاعت (معصومہ ) سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہونگے۔اسی لئے امام کے حکم سے آپ کی زیارت میں ہم کہتے ہیں یا فاطمة اشفعی لی فی الجنة  یعنی اے فاطمہ معصومہ! جنت میں میری شفاعت فرما۔آپ کے زیارت نامہ میں دوسری جگہ آیاہے کہ فانّ لک عند اللہ شانا من الشان یہ جو کہ ہم آپ سے شفاعت طلب کر رہے ہیںوہ اس لئے ہے کہ آپ کو خدا وند عالم کے ہاں بلند اور عظیم مرتبہ و مقام حاصل ہے۔

آپ کی زیارت کی فضلیت:

امام رضا  فرماتے ہیں: من زارہا فلہ الجنة  جو فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔

امام جواد فرماتے ہیں : من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنة  جو قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے۔

امام رضا  فرماتے ہیں: من زارہا عارفاً بحقہا فلہ الجنة   جو فاطمہ معصومہ کی قم میںمعرفت کے ساتھ زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے۔

سفر عشق:  کیا آج تک آپ نے حضرت امام موسی کاظم  کی اس بہادر بیٹی کی علت شہادت کے متعلق سوچا ہے کہ جس نے اپنے بھائی علی ابن موسی الرضا کے شوق وصال میں دکھ درد کا لباس زیب تن فرما کر پہاڑوں اور بیابانوں کی کٹھن راہوں کو طے فرمایا ؟

 کیاآپ نے اس مظلومہ و معصومہ کی جدائی پر گریہ کیا ہے جس کو اپنے والد گرامی امام موسی ابن جعفر  کی طرف سے فداھا ابوھا کی لوح افتخار عطا ہوئی؟

٢٠٠ ھ ق میں مامون عباسی کے اصرا ر پر حضرت امام رضا  ''مرو'' کی جانب سفر کرنے پر مجبور ہوئے ۔آپ  اپنے اہلیبیت اور احباب میں سے کسی کوبھی اپنے ساتھ لئے بغیر خراسان کی جانب روانہ ہوگئے۔

بھائی کی ہجرت کے ایک سال بعد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کے شوق دیدار میں بے تاب ہو کر اپنے کچھ بھائیوں اور ان کے بیٹوں کو لے کر خراسان کی طرف سفر کیا ۔آپ جس علاقے اور شہر میں بھی وارد ہوئیں وہاں کے لوگوں نے آپ کاشاندار اور پرتپاک استقبال کیا ۔ آپ بھی اپنی پھوپھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح مکّار حکمرانوں کے چہرے بے نقاب کرتی رہیں۔

جب حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کاکاروان شہر ساوہ پہنچا تو دشمنانِ اہل بیت  جن کی حمایت حکومت کے مامورین کررہے تھے ،انہوں نے آپ  کا راستہ روک کر آپ کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کی ۔اس جنگ کے نتیجے میں آپ کے ساتھ آئے ہوئے تمام مرد درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے ۔ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو بھی زہر جفا دے کر مسموم کردیا گیا۔بہر حال اس خونچکاں اور جانکاہ حادثے کے شدت غم یا زہر جفا کی وجہ سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا مریض ہوگئیں ۔

اس مرض کی سبب سے خراسان تک سفر جاری رکھنا آپ کے لئے ممکن نہ تھا اس لئے آپ نے شہر قم میں ٹھہرنے کاارداہ فرمایا ۔آپ نے پوچھا : اس جگہ (ساوہ) سے قم تک کافاصلہ کتنے فرسخ ہے ؟جو  فاصلہ بنتا تھا بتادیا گیا ۔آپ نے فرمایا مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے ۔شہر قم ہمارے شیعوں کامرکز ہے۔

 قم کے اشراف واکابرین نے جب یہ خبر سنی تو آپ کے استقبال کے لئے قم سے باہر نکل آئے ۔اشعری خاندان کی بزرگ شخصیت موسیٰ بن خزرج نے آپ کی سواری کی لگام تھامی، بہت سے افرا دپیدل اور سواریوں کی صورت میں آپ کی سواری کی گرد چلتے رہے ۔تقریباً ٢٣ ربیع الاول    ٢٠١ ھ ق کو آپ شہر قم میں وارد ہوئیں ۔

پھر اس مقام پر جسے آج'' میدان میر ''کہتے ہیں خود موسی بن خزرج کے گھر کے سامنے آپ کی سواری رک گئی اور آپ کی میزبانی کا شرف بھی اسے نصیب ہوگیا۔

آپ نے صرف ١٧ دن قم المقدس میں زندگی گزاری۔ اس قلیل عرصے میں آپ راز ونیاز اور عبادت ِ پروردگار میں مشغول رہیں۔

آپ کی عبادت گاہ ،مدرسہ ستیہ بنام ''بیت النّور'' آج بھی عاشقان اہل بیت  کے لئے زیارت گاہ بناہوا ہے۔

وفات یا شہادت؟

بالآخر دسویں ربیع الثانی '' بنابر قول دیگر بارہویںربیع الثانی '' ٢٠١ ھ ق کو اپنے بھائی کا دیدار کرنے سے پہلے عالم غربت میں شدید غم واندوہ کے ساتھ اس دارفانی سے رخصت کر گئیں ۔یوں شیعیان آل محمدؐنے ایک بار پھر صف ماتم بچھایا۔اہل قم نے اس معظمہ خاتون کے بدن مطہر کو انتہائی عزت واحترام کے ساتھ اسی جگہ پر جہاں آپ دفن ہیں لے آئے جسے اس وقت ''باغ بابلان ''کہتے تھے ۔جب قبر تیار ہوئی تو سب  لوگ شش وپنچ میں مبتلا ہوئے کہ اس معصومہ کے جسد اطہر کو کون قبر میں اتارے ۔یکایک قبلہ کی طرف سے دونقاب پوش سوار نمودارہوئے جن میں سے ایک نے نماز پڑھائی اور ان میں سے دوسرا قبر میں داخل ہوا ایک نے جسم مطہر کو ان کے حوالے کر دیا ۔یوں کریمہ اہل بیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو سپرد خاک کیاگیا۔

مراسم تجہیز و تکفین ختم ہونے کے بعد وہ دو افراد کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے ۔

بعید نہیں ہے کہ وہ دو بزرگوار حجت خدا ،امام رضا اور امام جواد  ہوں ۔شرعی دستور کے مطابق معصومہ کی تجہیز وتدفین معصوم کے ہاتھوں سے ہونی چاہیے تھی کیونکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکو خود امیرالمومنین  نے غسل وکفن دے کر دفن کیاتھا اورحضرت مریم  کو حضرت عیسیٰ نے بنفس نفیس غسل دیا تھا ۔

 حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن خزرج نے کپڑوں کا سایہ آپ کی قبر مطہرپر بنایا تھا یہاں تک کہ امام جواد کی بیٹی  حضرت زینب نے ٢٥٦  ھ ق میں پہلی بار آپ کی قبر شریف پر گنبد بنوایا۔یوں آپ کی قبرِ مطہر عاشقانِ اہل بیت علہیم السلام اور ولایت وامامت کے ماننے والوں کے لئے دارالشفاء بن گئی۔

بہ جز  عشق  دلبر   نیست   مارا

غم   دل ہست و یاور نیست   مار

 بود    این  بارگاہ     دختر      اما

  نشان    از   قبر مادر   نیست  مارا

ریاض الانساب کے مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ ١٦٠ پر مرحوم منصور ی ،جو کتاب الحیاة السیاسیہ کے مؤلف ہیں سے روایت نقل کی ہے :کہ جس زمانے میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہانے ہجرت کی اس وقت اہل ساوہ خاندانِ نبوت کے سخت ترین دشمن تھے  ۔جب حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا کاروان ساوہ پہنچا تو انہوں نے بھر پور حملہ کیا یوں جنگ چھڑ گئی اور یہ جنگ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بھائیوں اور ان کے بیٹوں کی شہادت پر تمام ہو ئی ۔ حضرت معصومہ ٢٣ عزیزانِ زہرا کے پارہ پارہ اجسام مطہر کو مشاہدہ کرنے کی وجہ سے سخت بیمار ہوگئیں اور اسی بیماری میں آپ شہید ہو ئیں۔

قال رسول اللہ  ۖ

من مات علی حب آل محمد مات شہیدا

پیغمبر اسلام ص  فرماتے ہیں کہ جو بھی محبت آل محمد ۖپر مر جائے تو وہ شہید ہے ۔

الحیاة السیاسیہ ا لامام رضا  کے مولف جعفر مرتضی عاملی ص ٤٢٨ ، قیام سادات علوی کے ص ١٦١ اور ١٦٨ پر نقل کرتے ہیںکہ جنا ب ہارون ابن موسی ابن جعفر کاکاروان جب ساوہ پہنچ گیا تو دشمنوں نے آپ لوگوں پر اس وقت حملہ کیا جب آپ لوگ کھانا تناول فرمارہے تھے اور آپ کو ٢٣ افراد کے ساتھ شہید کر دیا اور کارواں کے دوسرے افراد کو زخمی کردیا ۔اسی اثناء میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے کھانے میں زہر ڈال دیاگیا ۔یوں ولایت امیرالمومنین کی مدافع ، زہر جفا کے اثر سے مریض ہوئیں اور قم میں تشریف لانے کے ١٧ دن بعد شہید ہو گئیں  ۔ وسیلة المعصومین ص ٦٨ میں میرزا ابوطالب نے بیان کیا ہے کہ اس جلیل القدر معظمہ کو ساوہ میں ایک ملعونہ عورت کی وساطت سے زہر دیا گیا۔

 

تحریر :سید قمر عباس حسینی حسین آبادی

وحدت نیوز (کوئٹہ) علمدار روڈ میں دیا گیا دھرنا،تاریخی دھرنا تھااور اسکا شمار پاکستان کے اہم واقعات میں ہوتاہے، ملک بھر کے میڈیا میں علمدار روڈ کے دھرنے میں امن و امان، نظم و ضبط اور صبر و تحمل کی مثالیں دی جاری تھی۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما و ممبر بلوچستان اسمبلی آغار ضا نے میٹینگ میں ایم ڈبلیو ایم ڈویژنل کابینہ کے اراکین سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں چند اہم دنوں میں سے ایک 10 ـ جنوری 2013ء ہے، جب قوم کو اپنی طاقت، اپنے وجود، اپنے حقوق اور اپنی ذمہ داریوںکا احساس ہوا تھا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پورا ملک سراپا احتجاج ہوا تھا۔ علمدار روڈ میں دھماکوں کے بعد احتجاج میں پورے ملک نے ہمارا ساتھ دیا تھا اوراس وقت کے حکومت کو انکی بے حسی کا احساس دلا یا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کو بھول جائے، شہدائے علمدار روڈ نے پورے ملک کو بیدار کیا، سانحہ علمدار روڈ جیسے دہشت ناک اور المناک واقعے پر دنیا بھر میں مختلف ممالک کے لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پرنکلے تھے ، اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان خود علمدار روڈ آئے اور شہدائے علمدار روڈ کے لواحقین کے مطالبات تسلیم کئے علاوہ ازیں اُس وقت کے نااہل وزیر اعلیٰ کی حکومت کوختم کردیا گیا تھا ، یہ سب کسی انقلاب سے کم نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ لوگ سراپا احتجاج تھے مگر اس کے باوجودکسی قسم کے تشدد کا واقع پیش نہیں آیانقصان تو دور کی بات ایک ٹائر تک نہیں جلائی گئی۔ صرف احتجاجوں سے پورے ملک کا پہیہ جام ہوگیا تھا اور حکومت وقت پہلی بار خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہوئے ،بے حسی کو پیچھے چھوڑ کر ملک کی حالت کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔ ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ظالم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے،  یہ درس ہمیں واقعہ کربلاء سے ملا ہے جسکی پیروی نے جنوری 2013 میں ہمیں سرخ رو کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین مظلوموں کی حامی جماعت ہے، ہماری مرکزی قیادت سمیت تمام علاقائی قیادتوں نے ہمیشہ ظالم کے خلاف ہر میدان میں جنگ لڑی ہے۔ قوم ہم پر اعتماد رکھتی ہے ، یہ اعتماد ہماری کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ اس کے علاوہ شہدائے علمدار روڈ کی برسی کے موقع پر ایک جلسے کا انعقاد بھی کیا گیا ہے جس میں شہدائے انقلاب کی یاد کو تازہ کیا جائے گا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جاری اینٹی ٹیکس موومنٹ کی وہ مکمل حمایت کرتے ہیں۔حکومت کی جانب سے آئینی حقوق دیے بغیر ٹیکس کا نفاذ غیر منصفانہ اقدام ہے۔جی بی کے عوام کی محرومی دور کرنے کے لئے وزیر اعظم ،آرمی چیف، سیاسی جماعتیں اور مقتدر ادارے اپنا کردار ادا کریں اوریہاں کے باسیوں کو ان کا حق دلائیں جو گزشتہ ستر سال سے اس سرزمین آئین پر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔انجمن تاجران ، عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر جماعتوں کی قومی ایشو پر مشترکہ جدوجہد لائق تحسین ہے۔ گلگت بلتستان دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جو کسی ریاست کے ساتھ الحاق کے لیے بے قرار ہے ورنہ دنیا بھر میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔گلگت بلتستان کی عوام کو ان کی امنگوں کے مطابق آئینی حقوق دیے جائیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والے ہر فرد کو یکساں بنیادی حقوق حاصل ہیں۔آئینی حقوق دیے بغیر ٹیکسز کا نفاذ ظالمانہ اقدام ہے۔ آئینی حقوق کے حصول کے لئے جی بی کے عوام کا مطالبہ اصولی اور قابل عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام نے تحریک آزادی کی جنگ اپنے زور بازو پر لڑی اور پاکستان میں غیر مشروط طور پر شمولیت کا اعلان کیا ۔وہاں کے باسیوں کا یہی دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس علاقے کو پاکستان کا حصہ قرار دیا جائے۔گلگت بلتستان معدنی وسائل اورجغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کے لیے انتہائی سود مند ہے۔اسے نظر انداز کرنا کس بھی طور ملک کے مفاد میں نہیں۔ گلگت کی عوام سے ریاست سوتیلی ماں کا سلوک نہ کرے۔یہاں کے لوگوں سے ان کی اراضیاں جبراََ چھینی جا رہی ہیں اور حقوق کی بات پر منہ دوسری طرف موڑ لیا جاتا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔گلگت بلتستان کے عوام نے ارض پاک کی سلامتی و استحکام کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ہیں۔پاک چائنا اکنامک کوریڈور کا ایک سرا گلگت بلتستان جبکہ دوسرا گوادر میں ہے۔جی بی کی عوام کو سی پیک کے ثمرات ہر حال میں حاصل ہونے چاہیے۔یہاں کے باسیوں کی حب الوطنی لائق تحسین ہے۔وطن عزیز کی ترقی اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کرنے وا لی متعدد شخصیات کا تعلق اسی خطہ سے ہے۔انہوں نے ٹیکس کے نفاذ کے خاتمہ ،منرلز کنسیثنل رولز 2016 کو کالعدم قرار دینے، حالیہ تحریک کے دوران دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کی جانے والی ایف آئی آر کے اخراج اور سی پیک میں گلگت بلتستان کے عوام کو حصہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ سیدہ زہراء نقوی نے دسمبر کے آخری ہفتے میں لاہور ،اسلام آباد اور خیبرپختونخواہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مہدی برحق ورکشاپس اور جشن صادقین کے پروگراموں میں شرکت کی ۔وہ اس سلسلے میں کراچی سے سنٹرل پنجاب ،اسلام آباد اور کے پی کےوزٹ پر آئیں تھیں۔ اسلام آباد میں انہوں ورکشاپ کے اختتام پر اپنے خطاب میں کہا کہ ان ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد خواتین میں تنظیمی اور تربیتی شعور کو اجاگر کرنا ہے تاکہ خواتین معاشرے میں اپنا مثبت رول ادا کرسکیں اور تنظیمی امور میں اپنے مردوں کےشانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی فعالیت کو اجاگر کر سکیں ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی خواتین کارکنان ہماری تنظیم کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں انہیں تنظیمی میدان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان ورکشاپ کا انعقاد بے حد ضروری ہے ۔ امید ہے ان ورکشاپس کے انعقاد سے ہماری تنظیمی خواتین بھر پور استفادہ کریں گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیمی خواتین  کے اصرار پر سال 2017 میں یہ پنجاب میں تیسری مرتبہ ورکشاپس منعقد ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی اور اندرون سندھ میں اس سلسلے میں کئی ایک ورکشاپس کا انعقاد کیا جس سے وہاں کی خواتین نہ صرف مستفید ہوئی ہیں بلکہ انہوں نے عملی میدان بھی اپنا رول احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں ۔ محترمہ سیدہ زہراء نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیشہ ان ورکشاپس میں خواتین کی ایک کثیر تعدادنئی ممبر سازی کرتی ہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ تیزی سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں خواتین شمولیت ہمارے لئے باعث اطمینان ہے کہ معاشرے میں ہمارا رول ایک حوصلہ افزاء قدم ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری خواتین کارکنان  کسی بھی تنظیمی اور تربیتی میدان میں اپنے مردوں سے پیچھے نہ رہیں ۔ آج تک الحمدللہ اس سلسلے میں ہم کامیابی سے اپنے تنظیمی سفر کی جانب گامزن ہیں اور ان شاء اللہ آگے بھی اسی طرح ہر میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں گیں ۔

ان کامذید کہنا تھا کہ قائد وحدت اور مجلس وحدت کی معزز کابینہ کی جانب سے ہمیشہ ہمیں بہت ہی عزت ملی ہے جس کے لئے ہم اپنے قائد وحدت اور مسئولین کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے اور ہمارے لئے تنظیمی میدان فراہم کیا ہے ۔ انہوں نےذمہ دار خواتین  سے گزارش کی کہ بلاتاخیر اپنے اپنے علاقوں فعالیت انجام دیں تاکہ آئندہ سیاسی میدان ہم ملت کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لئے ایک زمینہ ہموار کرسکیں ۔ سیاسی میدان میں خواتین بہتر انداز میں اپنا رول ادا کرسکتی ہیں ۔ اور اپنے خاندان کے علاوہ محلے اور انتخابی حلقے میں اپنا مثبت رول انجام دے سکتی ہیں ۔ آج بھی ہماری خواتین  مردوں کے ہمراہ اسمبلیوں بھی اپنا سیاسی حصہ ڈال رہی ہیں اور ملک و ملت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔ آنے والے الیکشن میں ان شاء اللہ ہم پہلے سے بہتر ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں وارد ہوں گے ۔ تاکہ ہماری حکمت عملی گذشتہ کی نسبت مزید بہتر ہو ۔ ان شاءاللہ

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیرکے ڈپٹی سیکر یٹری جنرل مولانا غلام محمد فاضلی نے ضلعی سیکرٹریٹ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہ صرف ٹیکس سے مثتثنیٰ  ہے بلکہ حکومت پابند ہے کہ وہاں 28 بنیادی ضرورت کی اشیاء پر عوام کو سبسڈی دے۔ اس وقت تک کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو جائے اور اس خطے کو کوئی آئنی حیثیت مل جائے، مگر افسوس کہ عوام گلگت بلتستان کی نہ صرف سبسڈیز ایک کے بعد ایک ختم کر دی گئیں بلکہ اُن کے اُوپر ٹیکسز کا بوجھ بھی ڈالناڈال دیاگیا، گلگت بلتستان کوجب حقوق دینے کی بات ہو تو اقوام متحدہ کی قراردادیں اور مسئلہ کشمیر آڑے آجاتی ہیں مگر حقوق غصب کرتے ہوئے انکو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی،کئی دن سخت سردی میں احتجاج کے باوجود عوام گلگت بلتستان کی کوئی شنوائی نہ ہونا لمحۂ فکریہ ہے،مجلس وحدت مسلمین کاہر کارکن گلگت بلتستان کی عوام کےساتھ شانابشانہ کھڑا ہے، گلگت بلتستان میں پانچ روز سے جاری احتجاجی تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (قم) مجلس وحدت مسلمین قم  کابینہ کا اجلاس گزشتہ روزوحدت ہاوس قم  میں منعقد ہوا، اجلاس میں تنظیمی امور اور پالیسیوں کے علاوہ حضرت عیسیٰ ؑ اور  قائداعظمؒ کے حوالے سے بھی اہم گفتگو کی گئی۔  اس موقع پر مرکزی سیکرٹری امور خارجہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے  یوم ولادت حضرت عیسی علیہ السلام کی مناسبت سے جہان اسلام ومسیحیت کو مبارکبادیتے ہوئے کہا کہ عالمِ بشریت کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام مینارہِ نور اور شمع ہدایت ہیں۔اس کے ساتھ  انہوں نے 25دسمبر روز ولادت بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی ولادت  کی نسبت سے بھی تمام حریت پسند انسانوں کو مبارک بادد ی  اور کہا کہ  اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے قائد اعظم کے ہمہ گیر اور عالمگیر  افکارہمارے  موجودہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بہترین ذریعہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ  پاکستان میں ایک  منظم سازش کیساتھ افکار قائد اعظم اور پاکستان کے حقیقی محسنوں کے حقیقی کردار کو نظر انداز کرکے ان لوگوں کے افکار کوسکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں کی  درسی کتابوں اور نصاب میں شامل کردیا گیا ہے جو قیام پاکستان اور قائداعظم کے سخت مخالف تھے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص لابی جو قیام پاکستان کے ہی خلاف تھی اور آج بھی آئین پاکستان کو نہیں مانتی ، اس لابی کے لیڈروں کو پاکستان کے قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے  محب وطن پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ  پاکستان کے تعلیمی اداروں میں قائداعظم کے دشمنوں اور مخالفین کے نظریات کو  پڑھائے جانے کا سختی سے نوٹس لیں، انہوں نے باشعور طبقے سے اپیل کی کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں سے پاکستان اور قائد کے مخالف لوگوں کے افکار و شخصیات کو حذف کرکے نسلِ نو کو محب وطن پاکستانی بنایا جا ئے اور پاکستان  کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنانے کی کوشش کی جائے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کے زیر اہتمام مھدی برحق ؑ تنظیمی و تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہو ئے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ خواتين کسی ملک يا قوم کی ترقی اور فلاح و بہبود ميں برابر کردار ادا کر سکتی ہيں ۔کسی بھی ملک کی تعمير و ترقی ميں عورتوں کا مردوں کے برابر حصہ ہوتا ہے ، مردوں کے ساتھ عورتيں بھی سماجی اور اقتصادی ميدان ميں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرکے آگے بڑھ سکتی ہيں ۔ انسان ہونے کے ناطے تو مرد اور عورت دونوں مساوی ہيں ،تمدن کی تعمير اورتہذيب کی تشکيل اور انسانيت کی خدمت ميں دونوں برابر شريک ہيں ۔ضرورت اس بات کی تھی کہ ’’مساوات مرد وزن‘‘ کے کھوکھلے نعرے کے بجائے تمدن کی فلاح کيلئے دونوں کی دماغی تربيت اورعقلی وفکری نشونماکے مواقع بہم پہنچائے جاتے کيونکہ ہر تمدن کا فرض ہے کہ سماج کا يہ نصف حصہ اپنی فطری استعداد اور صلاحيتوں کے مطابق سماج کی ترقی ميں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرے عزت نفس کا بھی بہترين شہري صفات کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام دنيا کا پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو مرد کے برابر مقام ديا ہے بلکہ سماج کی تشکيل ميں عورت کو مرد سے زيادہ اہميت دی ہے، اسلام کی نظر ميں عورت معمار اول کا درجہ رکھتی ہے، عورت اور مرد انسانيت کی گاڑی کے دو پہيے ہيں ، کسی ايک پہيے کے بغير انسانيت کی ترقی و عروج کا تصور نہيں کيا جا سکتا، قرآن حکيم نے عورت کے حقوق اور معاشرہ ميں اس کی اہميت پر بہت زور ديا ہے اور جو بھی احکامات دئیے ہيں ، ان ميں عورت اور مرد دونوں برابر کے شريک ہيں ، ایک موقع پر اردو کے معروف اسکالر اور شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ قرآن کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کيا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس ميں عورتوں کے حقوق اور ان کی اہميت پر اتنا زور ديا گيا ہے کہ گويا يہ کسی عورت کا کلام ہو، ان حقوق و اختيارات کی لسٹ کافی طويل ہے جن کے عنوانات پر ہی نظر ڈال لينا کافی ہو گا، اسلام نے مرد اور عورتوں ميں حقوق کی مساوات رکھی ہے، عورت کی مستقل حيثيت کو تسليم کيا ہے، سزا اور معافی ميں مرد اور عورتوں کو برابر رکھا ہے، عورت کو اپنے شوہر کے انتخاب کے ساتھ ساتھ وراثت ميں بھی حق حاصل ہے، جو اسے ماں باپ اور شوہر دونوں کی طرف سے ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی معاشرے میں مرد و زن کے لئے میدان کھلا ہوا ہے۔ اس کا ثبوت اور دلیل وہ اسلامی تعلیمات ہیں جو اس سلسلے میں موجود ہیں اور وہ اسلامی احکامات ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں طور پر سماجی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں۔ یہ تو پیغمبر اسلامﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ " من اصبح و لا یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم" ( جو شخص شب و روز گزارے اور مسلمانوں کے امور کی فکر میں نہ رہے وہ مسلمان نہیں ہے) یہ صرف مردوں سے مخصوص نہیں ہے، عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے امور، اسلامی معاشرے کے مسائل اور عالم اسلامی کے معاملات بلکہ پوری دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کے سلسلے میں اپنے فریضے کا احساس کریں اور اس کے لئے اقدام کریں، کیونکہ یہ اسلامی فریضہ ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات گرامی، جو بچپن میں اور مدینہ منورہ کی جانب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کے بعد مدینے میں اپنے والد کو پیش آنے والے تمام معاملات میں، اپنا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے، ایک نمونہ ہے جو اسلامی نظام میں عورت کے کردار اور فرائض کو ظاہر کرتا ہے۔ سورہ احزاب کی ایک آيت کہتی ہے کہ اسلام ہو، ایمان ہو، قنوت ہو، خشوع و خضوع ہو، صدقہ دینا ہو، روزہ رکھنا ہو، صبر و استقامت ہو، عزت و ناموس کی حفاظت ہو یا ذکر خدا ہو، ان چیزوں میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ معاشرے میں عورتوں کی وہ سرگرمیاں بالکل جائز، پسندیدہ اور مباح و بلا اشکال ہیں جو اسلامی حدود کی پابندی کرتے ہوئے انجام دی جائيں۔ جب معاشرے میں مرد اور عورتیں دونوں ہی تعلیم حاصل کریں گے تو تعلیم یافتہ افراد کی تعداد اس دور کے مقابلے میں دگنی ہوگی جس میں تعلیمی سرگرمیاں صرف مردوں سے مخصوص ہوکر رہ جائیں۔ اگر معاشرے میں عورتیں تدریس کے شعبے میں سرگرم عمل ہوں گی تو معاشرے میں اساتذہ کی تعداد اس دور کی بنسبت دگنی ہوگی جس میں یہ فریضہ صرف مردوں تک محدود ہو۔ تعمیراتی سرگرمیوں، اقتصادی سرگرمیوں، منصوبہ بندی، فکری عمل، ملکی امور، شہر، گاؤں، گروہی امور اور ذاتی مسائل اور خاندانی معاملات میں عورت و مرد کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے فرائض ہیں جن سے ہر ایک کو عہدہ بر آ ہونا چاہئے۔

انہوں نے مذید کہا کہ اگر اسلامی معاشرہ عورتوں کو اسلامی تربیت کے نمونوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عورت اپنے شایان شان مقام و منزل پر پہنچ گئی ہے۔ اگر معاشرے میں عورت علم و معرفت اور روحانی و اخلاقی کمالات پرفائز ہو جائے جو اللہ تعالی اور ادیان الہی نے تمام انسانوں، بشمول مرد و زن، کے لئے یکساں طور پر معین کئے ہیں تو بچوں کی بہتر تربیت ممکن ہو سکے گی، گھر کی فضا زیادہ پاکیزہ اور محبت آمیز ہو جائے گی، معاشرہ زیادہ ترقی کر سکے گا، زندگی کی مشکلات زیادہ آسانی سے برطرف ہوں گي۔ یعنی مرد اور عورت دونوں خوشبخت ہو جائیں گے۔ مقصد عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں صف آرا کرنا نہیں ہے، مقصد عورتوں اور مردوں کی معاندانہ رقابت نہیں ہے۔ ہدف یہ ہے کہ عورتیں اور لڑکیاں اسی عمل کو دہرا سکیں جس کو انجام دے کر مرد ایک عظیم انسان میں تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ ممکن بھی ہے اور اسلام میں اس کا عملی تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ انتہائی اہم چیزوں میں ایک، گھر کے اندر کے فرائض یعنی شوہر اور بچوں سے برتاؤ کی نوعیت کے تعلق سے عورتوں کو صحیح طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔ ایسی عورتیں بھی ہیں جو بہت اچھی ہیں، ان میں صبر و تحمل، حلم و بردباری، درگزر اور رواداری کا جذبہ اور اچھا اخلاق پایا جاتا ہے لیکن وہ بچوں اور شوہر کے سلسلے میں اپنا رویہ درست نہیں کرتیں۔ یہ رویہ اور روش با قاعدہ ایک علم ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانی تجربات کے ساتھ روز بروز بہتر ہوئی ہیں اور آج اچھی صورت حال میں موجود ہیں۔ بعض لوگ ہیں جن کے پاس بڑے گرانقدر تجربات ہیں۔ کوئی ایسا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے جس سے یہ عورتیں گھر کے اندر رہتے ہوئے ان روشوں اور طریقوں سے آگاہ ہو سکیں اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔

مرکزی سیکرٹری شعبہ خواتین ،خواہر زہراء نقوی نے خطاب کیا اور تنظیم کے ثمرات اور افادیت کے بارے میں بتایا، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھی ہمیشہ خواتین کو پاکستانی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے میدان فراہم کیا ہے ۔ اور ذمہ داریاں سونپی ہیں لہذا ہماری پاکستان کی تمام خواہران سے گزارش ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور مجلس وحدت مسلمین کا حصہ بن کراپنا بھر پور کردار ادا کریں ۔قائد وحدت اور ان مخلص کابینہ نے ہمیشہ خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ اور خواتین کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔

ورکشاپ کے دوسرے مقررعلامہ سید حسنین گردیزی نے خطاب کیا اور امت مسلمہ کے مسائل اور ان کے حل کیلئے نہج البلاغہ کی نظر میں ان کا حل بتایا،گروپ ڈسکشن کی گئی جس میں انتظار امام ؑ کیسے کیا جائے اور اس میں ہماری ذمہ داری بتائی گئی۔سید حسنین گردیزی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مردوں کے ساتھ عورتوں کو شانہ بشانہ ساتھ چلنا ہو گا۔اور اپنے مسائل کا حل نہج البلاغہ سے لیناتلاش کرنا ہو گا اس وقت معاشرے کو تعلیمی پسماندگی ، جہالت،کمزور معیشیت، فقرو ناداری اورتفرقہ، دین میں تحریف و بدعت ۔ان سب کا حل نہج البلاغہ بآسانی لیا جا سکتا ہے۔تعلیم کو عام کیا ہے۔ جہالت کا خاتمہ علم ایک زندگی ہے۔ غربت و افلاس کو ختم کیا جائے۔

 ورکشاپ کے آخر میں پنڈی ڈویژن کی خواتین کی سرگرمیوں سے متعلق سید قندیل کاظمی نے روشنی ڈالی ۔ انتظار امام اور اُس کی تیاری پرخواہر نگین نقوی صاحبہ نے سیر حاصل گفتگو کی اس ورکشاپ میں تنظیمی خواہران ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور خواہران اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی وکشاپس کا انعقادتنظیمی خواتین کی صلاحیتیوں کو بڑھانے کےلئے ازحد ضروری ہیں ۔ ان ورکشاپس کے انعقاد سے ہمیں کام کرنےکی روش کے علاوہ اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا حوصلہ اور جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے اور ایک معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ایک نئی جہت ملتی ہے جس سے بنحو احسن ہم اس الہی تنظیم میں اپنا رولادا کر سکتی ہیں ۔

Page 10 of 808

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree