The Latest

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے وفدنے صوبائی پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی کی سربراہی میں ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی سے ملاقات کی ، ایم ڈبلیوایم کے وفدنے ڈی آئی جی ایسٹ سے شہر میں امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیااور ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر پرتشویش کا اظہار کیا، ایم ڈبلیوایم کے وفدمیں ڈویژنل سیکریٹری جنرل علامہ سید صادق جعفری ، علامہ مبشرحسن، علامہ علی انور جعفری اور میر تقی ظفربھی شامل تھے۔ایم ڈبلیوایم کے رہنمائوں نے ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شہر قائد میں قائم امن وامان کو سازشی عناصرایک مرتبہ ثبوتاژکرناچاہتے ہیں، علی رضا عابدی اور فداحسین کی ٹارگٹ کلنگ اور پی ایس پی کے دفتر پر حملہ ایک ہی سازش کی کڑی معلوم ہوتی ہے،ایم ڈبلیوایم کے وفد نے ڈی آئی جی کو حساس مساجد وامام بارگاہوں ، علماءواکابرین کو درپیش سکیورٹی خدشات سے بھی آگا ہ کیا اور انہیں فول پروف سکیورٹی دینے کا مطالبہ کیا۔

وحدت نیوز (شکارپور) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل اور چیئرمین شہداءکمیٹی علامہ مقصودعلی ڈومکی کی زیرصدارت وارثان شہداء کمیٹی شکارپور کا اہم اجلاس مدرسہ جوادیہ لکھی غلام شاہ میں منعقد ہوا،اجلاس میں شکارپور کی صورتحال ، سیکورٹی سے متعلق معاملات اور برسی شہداء سے متعلق امور پر گفتگوہوئی ۔ 30 جنوری کو شہدائے شکارپور کی چوتھی برسی بھرپور انداز سے منانے کا عزم کیاگیا جسمیں ملک بھر سے علمائے کرام و اکابرین ملت شریک ہوں گے۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ 4سال گذر جانے کے باوجود حکومت کے وارثان شھداء سے کئے گئے وعدے وفا نہ ہوئے۔ آج بھی دھشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ بدنام زمانہ دھشت گرد حفیظ بروہی کی جانب سے گذشتہ ماہ قتل کی واردات شکارپور پولیس کی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے۔ شکارپور کا موجودہ نا اہل ایس ایس پی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں نا کام رہا ہے۔ جبکہ شیعہ مراکز کی سیکورٹی نا قابل اطمینان ہے۔ 72 شہداء کا کیس لڑنے والے وکیل کو مکمل سیکورٹی نہیں دی جارہی۔ موجودہ ایس ایس پی نے شیعہ مساجد شخصیات اور امام بارگاہوں کی سیکورٹی کلوز کرکے عوام کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ شہداء چوک پر یادگار شہداء ٹاور کی تعمیر کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔ مسائل حل نہ کئے گئے تو وارثان شھداء احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

وحدت نیوز (کراچی)  صوبائی سیکریٹری خیرالعمل ویلفیئراینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ صوبہ سندھ الفت عالم کربلائی نے مرکز کی مشاورت سے 11 جنوری 2019 سے 13 جنوری 2019 تک ایام خیرالعمل منانے کا اعلان کیاہے،اس سلسلے میں تما م اضلاع کو ھدایت کی جاتی ہے کہ وہ یونٹ سطح تک مندرجہ ذیل سرگرمیاں میں سے کوئی یا سب ان تین روز میں انجام دیں ۔

1۔ صفائی کے سلسلے میں لوگوں کو آگاہی دیں اپنے محلے، مسجد، امام بارگاہ اسکول یا شہر میں صفائی کا اہتمام کریں آگاہی کے سلسلے نشروعشات یا وال چاکنگ بھی کر سکتے ہیں۔
2۔ مریضوں سے ہمدردی کے عنوان سے ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کو فروٹ،  دوا ، کھلونے بلڈ ڈونیش یا صرف ایک پھول دے کر عیادت کرسکتے ہیں اس سلسلے میں بھی کسی مرض سے بچنے کے لیے آگاہی کی نشروعشات بھی کی جاسکتی ہے۔
3۔ غربہ و مسکینوں کی مدد اس سلسلے میں غریبوں کے گھروں میں راشن بیگ تقسیم کرکے سردی کی مناسبت سے گرم اشیاء دے کر غریب طلبہ میں کتابیں یا ڈریس دے کر یا کچھ وقت غریبوں کے ساٹھ گزار کر بھی مدد کی جاسکتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ بھی کوئی عمل خیر کا انجام دے کر  11 جنوری سے 13 جنوری تک خیرالعمل ایام منایا جاسکتا ،امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں اپنی ذاتی طور پر کوششیں کریں گے اور ہر ضلع و یونٹ لیول تک ان ایام کو سرانجام دے کر اپنا و قوم فریضہ ادا کریں گے،شعبہ تنظیم سازی سندھ شعبہ سیاسیات صوبہ سندھ اور شعبہ نشرواشاعت صوبہ سندھ سے درخواست ہے کہ وہ ان ایام کو منانے میں ادارے کی مدد کریں، تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ مرکزی ایگزیکٹیو باڈی میں تہہ کیا گیا ہے کہ تمام پروگرام اضلاع اپنی مدد آپ کے تحت انجام دیں گے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) وزیر اعظم پاکستان وچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی خصوصی ہدایت پر تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین کی اعلیٰ سطحی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم ۔کمیٹی کے قیام کا مقصد قومی و ملکی اہداف کے حصول کے لئے حکومت پاکستان کو تجاویز دینااور مشترکہ اہداف کے حصول میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہیں ۔جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی میں تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق ،وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شیپنگ علی حیدر زیدی اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اعجاز چوہدری شامل ہیں جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی جانب مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ ،سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی اور معاون سیکرٹری سیاسیات محسن شہریار شامل ہیں ،سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس اعلیٰ سطحی کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہرکی کہ مشترکہ اہداف کے حصول کی پیشرفت میں یہ کمیٹی اہم کردار ادا کرےگی۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرانقوی نے ایک توجہ دلاؤنوٹس میں کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 227کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین اور انتظامی امور و قرآن وسنت کے مطابق ہونا چاہئے، لہذٰا صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ تمام ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے ایسے اشتہارات پرپابندی عائد کی جائے جو خواتین کی ہتک حرمت کا باعث ہوں اور فحاشی وعریانی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں ۔

وحدت نیوز (انٹرویو)  حجت الاسلام آغا سید علی رضوی کا تعلق اسکردو نیورنگاہ سے ہے۔ وہ حوزہ علمیہ قم اور مشہد کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ گلگت بلتستان میں انقلابی تحریکوں کے سرخیل رہے ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان میں تبلیغات کے مسئول کے طور بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انقلابی فکر کے حامل جوانوں اور عوام میں ان کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ انہیں پورے خطے میں مقاومت و شجاعت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تمام ملی اور قومی بحرانوں میں عوام کی نطریں ان پر ہوتی ہیں۔ سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وہ گرفتار بھی ہوئے، تاہم حکومت عوامی ردعمل کے سبب فوری طور پر رہا کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ جی بی میں گندم سبسڈی کے خاتمے کیخلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں بنیادی اور مرکزی شخصیت انکی ذات تھی اور انہوں نے حکومت کو عوامی تائید سے بارہ روزہ تاریخی دھرنے کے بعد سبسڈی بحال کرنے پر مجبور کیا۔ موجودہ مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت میں انجمن تاجران کیجانب سے غیر قانونی ٹیکس کے خلاف سولہ روزہ دھرنے میں بھی وہ صف اول کا کردار ادا کرتے رہے اور اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عوامی حقوق کیلئے ہمہ وقت اور ہر حال میں میدان میں رہنے کے سبب خطے کے عوام انکے معترف ہیں۔ عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کے سبب انہیں شیڈول فور میں بھی ڈالا ہوا ہے۔ اسوقت عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کی مسئولیت بھی انکے کندھوں پر ہے۔ مقبول عوامی لیڈر آغا علی رضوی سے ایک بین الاقوامی خبررساں ادارےنے علاقائی صورتحال پر ایک اہم انٹرویو کیا ہے، جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

سوال: گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور دیگر حقوق کیلئے آپ مصروف عمل ہیں، بتائیں اس راہ میں کیا کیا رکاوٹیں ہیں۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین میں رکاوٹیں مختلف سطح پر ہیں۔ ایک رکاوٹ یو این سی آئی پی کی چارٹر ہے، جس کے مطابق جی بی کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس قضیہ میں انڈیا اور کشمیر دونوں شامل ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ پر اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے عوام نے مسلح جدوجہد کے بعد آزادی کے پرچم گاڑ دیئے اور ڈوگرہ فوج کو بھگانے کے بعد یہاں کے انتظامات پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں دے دیئے، اس کے باجود اسکی متنازعہ حیثیت کیسے قائم رہتی ہے؟ معاملہ کچھ بھی ہو اس وقت کے حکمرانوں نے جی بی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اس میں سب سے بڑی غلطی ہی اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے کہ جس میں گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا اور مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے کے ذریعے کرانے کا فیصلہ ہوا، تب سے اب تک جی بی کو لٹکایا ہوا ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ سے استصواب رائے کے لئے وقت کا تعین کراتا تب بھی مسئلہ حل تھا، خیر یہ ایک سفارتی کمزوری تھی۔ اقوام متحدہ کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور حکمران بھی اس سلسلے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔ وفاقی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی سنجیدہ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور جی بی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کے ابتدائی دنوں میں اگر اس معاملے کو کسی کنارے تک پہنچانے کی کوشش کرتے تو جی بی اور کشمیر دونوں پاکستان کا مسلمہ حصہ ہوتے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے اس مسئلے کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے عالمی سطح پر کوشش کرے اور ان مسائل کو حل کرے۔

سوال: جب آپکا سمجھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور انڈیا بھی گلگت بلتستان اور کشمیر کے مسئلے میں فریق ہیں، تو ایسے میں تو آئینی صوبے کا مطالبہ کیا بےجا نہیں۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! آپ کو عرض کروں کہ ہمارا ذمہ دار اداروں سے ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ بنایا جائے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہےکہ مسئلہ کشمیر کے تصفیے کے لئے بھی حکومت سنجیدہ کوشش کرے۔ ایک قوم کی تقدیر کے فیصلے میں تین نسلیں گزر گئیں، بتایا جائے مزید کتنے سال انتظار کرائیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام عالم سے مدد مانگیں اور اس مسئلہ پر انڈیا کو اور اقوام متحدہ کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ خود بنیادی انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو اس میں پاکستان حق رکھتا ہے کہ وہ خود اقدام اٹھائے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قوانین پر عملداری کے لئے ان پر عالمی سطح پر دباو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر مناسب کوشش کرے تو استصواب رائے کے لئے یعنی اقوام متحدہ کے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانا مشکل نہیں۔

دوسری بات یہ عرض کرتا چلوں کہ جب اقوام متحدہ کے فیصلے پر عملدرآمد کے مطالبے کے ساتھ یہ واضح کیا جائے کہ اگر اقوام متحدہ اپنے فیصلے نہیں کرا سکتے تو اس مسئلے پر پاکستان اپنے موقف کے مطابق کوئی اقدام اٹھائے گا اور اس کے بعد عملی طور پر کچھ اٹھانا بھی چاہیئے۔ اس سلسلے میں پاکستان آئین میں ترامیم کے ذریعے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ جیسے انڈیا نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں متنازعہ حیثیت کے حقوق کے ساتھ وہ حقوق بھی دئیے جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر شہریوں کے برابر حقوق نہیں دے سکتے تو متنازعہ خطے کو حقوق کا مطالبہ یہاں کے عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

سوال: گذشتہ دنوں آپ نے کشمیر کی قیادت سے ملاقات بھی کی اور دیکھا یہ گیا ہے کہ کشمیری قیادت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کیلئے آمادہ نہیں اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ کشمیر کی قیادت کیوجہ سے جی بی کو آئینی حقوق نہیں دیئے جا سکتے، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔؟
آغا علی رضوی: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمارا موقف شروع دن سے واضح ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں نے کشمیر کے مسئلے پر کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور نتیجے میں ستر سال بیت گئے۔ ان ستر سالوں میں کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی تو یقیناً یہ مسئلہ حل ہوا ہوتا۔ ہم دنیا کے ہر مظلوم کے حامی ہیں، چاہے وہ فلسطین میں ہو، عراق میں ہو، یمن میں ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔ لہٰذا یہ حقیقت ہے کہ کشمیری بھی مظلوم قوم ہے، بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے جوانوں اور ماں بہنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل نکلے اور ان مظلوموں کی داد رسی ہو۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے حوالے سے کشمیر کی چند قیادتیں تحفظات رکھتی ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ اگر جی بی کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا گیا تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور پڑ جائے گا۔

اس سلسلے میں چند قیادتوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جی بی آئینی حصہ بنے تو بھی اس سے نہ فقط کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف مضبوط تر ہو جائے گا۔ گلگت بلتستان کے انضمام کے بعد کشمیر کے انضمام بھی عمل میں آ سکتا ہے۔ اب کشمیر کی قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں۔ ستر سالوں سے محروم اس خطے کے کسی بھی ایشو پر کشمیر کی قیادتوں نے کبھی آواز بلند نہیں کی۔ اب جی بی کو حقوق ملنے جا رہے ہیں تو اس کے مخالف کسی طور مناسب نہیں۔ چند سیاسی رہنماوں کی وجہ سے جی بی کے عوام اور کشمیر کے عوام کے درمیان بھی فاصلہ پیدا ہونے سے ملکی مفاد کا نقصان ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہوشیاری کے ساتھ بات کرنی چاہیئے۔ پہلے کی طرح آج بھی کشمیر کے عوام کو پاکستان جس طرح کے سیٹ اپ دے یا پاکستان کا پانچواں صوبہ بھی ڈیکلیئر کرے تو ہم مخالفت نہیں کریں گے۔

سوال:گلگت بلتستان کے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے اور یہ بات سامنے آرہی ہے کہ عبوری صوبہ نہیں دیا جائیگا جبکہ ریفامز کے نام پر کوئی سیٹ اپ دیا جائیگا، جسکے بعد اگر اسکی مخالفت کی گئی تو توہین عدالت سمجھے جانے کا امکان ہے، ایسے میں آپکی جماعت جی بی کے آئینی حقوق کی جنگ کیسے لڑیگی۔؟
آغا علی رضوی: سب سے پہلے تو چیف جسٹس آف پاکستان کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے خود اس علاقے کا دورہ کرکے یہاں کی حب الوطنی کو تسلیم کیا اور خطے کی محرومی کو ختم کرنے کے لئے ایکشن لیا۔ انہوں نے عوام کی امنگوں کیمطابق جی بی کو حیثیت دینے، محرومیوں سے نکالنے کے لئے کردار ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ اس وعدے پر جی بی کے عوام کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف جمی ہوئی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے میں گلگت بلتستان کو باقاعدہ قومی دھارے میں شامل کر کے خطے کو محرومی اور مایوسی سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر یہ فیصلہ عوامی امنگوں کے برخلاف آئے اور عوام اس خطے کو پاکستان کا آئینی حصہ بنانے کے لئے کرنے والی ہر جدوجہد نہ صرف توہین عدالت نہیں ہوگی بلکہ نظریہ پاکستان کے عین مطابق اور آئینی عمل ہوگا۔

میں یہ واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ خطے کو مستقبل میں پاکستان کا مکمل آئینی حصہ بننا ہے، جس کے لئے جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی۔ اگر پاکستان خود گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ نہ دے تو جی بی میں بننے والے بڑے منصوبوں پر عالمی طاقتوں کا موقف مضبوط ہو جائے گا اور ملک کا بڑا نقصان ہوگا۔ ایک متنازعہ خطے پر بین الاقومی سطح کے منصوبے یا معاہدے کے خلاف عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ اور انڈیا آواز بلند کرسکتا ہے۔ اس لئے ہمارا رونا یہ ہے کہ ان خطوں کو محرومیوں سے نکالنے عالمی دباؤ سے آزاد کرانے اور پاکستان کے استحکام کے لئے آئینی دھارے میں شامل کیا جائے۔

سوال: ایک طرف آپ صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہیں اور آپکی جماعت مسلم لیگ نون کی سخت مخالف ہے تو دوسری طرف انکے رہنماؤں اور حکومتی شخصیات سے روابط کا نیا سلسلہ چل پڑا ہے، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! کسی بھی سیاسی جماعت سے مخالفت اصولوں اور نظریاتی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی بات کریں تو گلگت بلتستان میں انکی حکومت پر سب سے زیادہ تنقید ہم نے ہی کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انکی انتقامی سیاست، عوام دشمن فیصلے اور غیر جمہوری رویئے ہیں۔ جیسے جی بی کے محروم و مجبور عوام پر ٹیکس کا پہاڑ توڑنے کی کوشش کی، اسی طرح آرڈر 2018ء جو کہ ایف سی آز طرز کا آمرانہ حکم نامہ تھا، اس کے نفاذ کی کوشش کی، یہاں کی عوامی زمینوں پر ناجائز قبضے کی کوشش کی، عوامی فنڈز اور منصوبوں کی غیر منصفانہ تقسیم کی۔ ان وجوہات کی بنا پر اصولی طور پر ہم اب بھی مخالف ہیں اور مخالفت کرتے رہیں گے۔ تاہم جیاں تک ان سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی بات ہے تو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مخالفت کے باوجود حفیظ الرحمٰن جی بی کا ایک فرد ہے اور جی بی کے عوام کے حقوق کے لئے اور محرومیوں سے نکالنے کیلئے کسی بھی فرد سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں جی بی سے مربوط ہر فرد کو ساتھ لے کر ہی ہم جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ ستر سالوں سے ہماری محرومی کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم سیاسی، مذہبی، مسلکی، علاقائی اور لسانی تقسیمات میں پڑے رہے جس کی وجہ سے ہمیں حقوق نہیں ملے۔ اب ایک تاریخی موڑ آرہا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام جماعتوں کو مل کر جی بی کے حقوق کے لئے ایک آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں ہم نے تمام جماعتوں اور ہر طرح کی شخصیات سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک بیانیے پر سب کو لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سوال:گلگت بلتستان کے عوام ایک طرف حب الوطنی کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو دوسری طرف حقوق کے نہ ملنے کا رونا روتے ہیں، حالانکہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت گلگت بلتستان کی صورتحال بہت بہتر ہے، ایسے میں خاموش رہنا کیا حب الوطنی کے جذبے کے عین مطابق نہیں۔؟
آغا علی رضوی: پاکستان آرمی کے گلگت بلتستان کے سربراہ ہی کے جملے کو لے لیں تو بات واضح طور پر سمجھ میں آ جائے گی۔ ایف سی این اے جنرل جو کہ نہایت عوام دوست اور خطے سے ہمدردی رکھنے والے انسان ہیں، انہوں نے کئی فورمز پہ یہ آواز بلند کی ہے جو ہم کئی عشروں سے بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا پاکستان سے سر دھڑ کا رشتہ ہے۔ یعنی جی بی کو پاکستان کے وجود میں سر کی حیثیت حاصل ہے۔ جب سر ہی جھکا ہوا ہو تو کیسے وجود کے رتبے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا سر بلند سے بلند تر ہو، اس کے لئے جی بی کی تعمیر و ترقی ضروری ہے۔ جی بی کی ترقی اور تشخص نہ صرف جی بی کی ترقی ہے بلکہ پاکستان کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ جی بی کی دفاعی اہمیت، جغرافیائی اہمیت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن منصوبہ سی پیک کا ایک بڑا حصہ اس خطے سے گزر رہا ہے، جس پر دشمن کی نگاہیں بھی جمی ہوئی ہے۔

اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم جیسا اہم منصوبہ بھی اس علاقے میں تکمیل ہورہا ہے۔ آپ کو عرض کرتا چلوں کہ اگر جی بی پر توجہ دی جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ ملک کے توانائی کے بحران کا حل بھی اسی خطے سے نکل سکتا ہے، جبکہ منفی طاقتیں چاہتی ہیں کہ کسی طرح نظریاتی یا سیاسی اعتبار سے یہ خطہ پاکستان سے دور ہو، لہٰذا ہم یہ جدوجہد کر رہے ہیں اور ان قوتوں سے بھی مقابلہ کرتے ہیں جو منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلا رہے۔ ان سب کا واحد حل یہی ہے کہ اسکو شناخت دی جائے ساتھ میں اس خطے کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ جس کے نتیجے میں پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہو۔ رہی بات دوسرے علاقوں سے موازنے کی تو میں آپ سے ایک مختصر سوال کرنا چاہتا ہوں کہ قومی کی ترقی کا انحصار سب سے زیادہ تعلیم پر ہوتا ہے، آپ بتائیں کہ اس خطے میں کتنی یونیورسٹیاں ہیں جو ہائیرایجوکیشن کمیشن کے معیار کے مطابق پہلی پچاس یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہو، کتنے میڈیکل کالجز ہیں، کتنے انجینئرنگ کالجز ہیں، کتنے ٹیکنیل کالجز ہیں، کتنی زرعی یونیورسٹیاں ہیں۔ اسی موازنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کیوں ہم حقوق کی بات کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) حلقہ پی بی 26کوئٹہ کے ضمنی انتخاب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے کارکنان ، عہدیداران اور معززین کے اعزازمیں عصرانے کا اہتمام کیا گیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون آغا رضا نےکہاکہ با شعور سیاسی جد و جہد میں ہی آبرو مندانہ زندگی کا راز پنہاں ہے،ضمنی الیکشن پی بی 26 ہزارہ ٹاون میں دوسری اور مجموعی طور پر پورے حلقے میں تیسری پوزیشن لینا بڑی کامیابی ہے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان وطن عزیز پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے درمیان عملی اتحاد کی داعی دینی سیاسی جماعت ہے، ضمنی الیکشن پی بی 26 میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے نامزد امیدوار سید محمد رضا (آغا رضا ) پر عوامی اعتماد اس حلقے کی سیاسی بصیرت کی دلیل اور بھر پور عوامی تائید عوامی بیداری کا ثبوت ہے،خصوصا چیف آف ہزارہ قبائل جناب محترم سردار سعادت علی خان، ہزارہ ٹاون سے ملحقہ تمام محلوں عوام الناس سیاسی شخصیات علماء کرام بزرگ اکابرین سب ٹرائب سیاسی سماجی شخصیات نوجوانوں خواتین ماوں بہنوں بیٹیوں اور مخلص کارکنوں کے مشکور ہے جنہوں نے 40 دنوں کی کم وقت میں انتھک محنت کیں اعتماد کا اظہار کیا اور اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیا ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین صوبائی کابینہ ڈویژنل اقر ضلعی عہدہ داروں کی طرف سے تمام ووٹرز سپورٹرز اور کارکنوں کے بے حد مشکور ہیں،جنہوں نےبھر پور تعاون اور حمایت کا اعلان کیا ۔

وحدت نیوز (گلگت)  سیکرٹری ایجوکیشن گلگت بلتستان نے محکمے میں کرپٹ آفیسران کے ناک میں نکیل ڈال دیا ہے۔کام چوراور من مانیاں کرنے والے ملازمین فرض شناس آفیسر کے خلاف لابنگ کرنے میں مصروف ہیں۔محکمہ ایجوکیشن کو درست کرنے کیلئے ایسے فرض شناس آفیسر کو فری ہینڈ دیا جائے،مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کےپولیٹیکل سیکریٹری غلام عباس نے کہا ہے کہ سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی میں کرپٹ آفیسران کا ہاتھ ہے جو ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر تقرریاں اور تبادلے کرتے رہتے ہیں اور سکولوں میں بے جا مداخلت کرکے بچوں کی تعلیم کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کا گلگت بلتستان میں سب سے بڑا سٹرکچر ہے اور اتنے بڑے ادارے سے عوامی سطح پر جوفائدہ ہونا چاہئے وہ بد قسمتی سے حاصل نہیں ہوپارہا ہے۔گلگت بلتستان کے بیشتر عوام اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں سے نکال کر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کروارہے ہیں اور علاقے کی اکثریتی آبادی سرکاری سکولوں سے کنارہ کشی کرچکے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ محکمے میں بولڈ فیصلے لیکر عوامی اعتماد کو بحال کیا جائے اور سیکرٹری ایجوکیشن جیسے فرض شناس آفیسران کو حکومتی سطح پر بھرپور سپورٹ کرنا چاہئے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) ھزارہ قوم سے امتیازی سلوک انتہائی تشویش ناک ہے۔ ھمارے یہاں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا اور عوام الناس کو بیجا اذیت دینا ایک معمول بن گیا ھے جس سے مسائل اور دشواریاں جنم لیتی ھیں خصوصا'' لوکل باشندوں کو قومی شناختی کارڈ اور سفری دستاویزات بنانے میں بہ دستور مشکلات کا سامنا ہے ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سابق وزیر قانون سید محمد رضا نے ایم ڈبلیو ایم دفتر میں آئے ہوئے سائلین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔   

آغا رضا نے کہا کہ کسی ایک شخص کی کئے کی سزا ساری قوم کو دینا نا انصافی ھے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے رابطہ کیا جائیگا سرکاری دفاتر میں متعصب افسران کیخلاف قانونی کاروائی کرنا حکومت وقت کی زمہ داری ہے اگر حکومت نے ایسے منفی عناصر کیخلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی اور مرکزی حکومت نے بھی عملی اقدامات نہیں اٹھائے تو پر امن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) {وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیدِ} روز ہفتہ 11جمادی الثانی 597 ھ کو بوقت طلوع آفتاب ساتویں صدی کی حکمت و ریاضی کا منور ترین چراغ سرزمین طوس پر جلوہ گر ہو گیا ۔ اس کا نام محمد کنیت ابوجعفر ،لقب نصیر الدین محقق طوسی ،استاد البشرتھے۔خواجہ نصیر الدین طوسی نے اپنا بچپن و نوجوانی طوس میں گذرا۔ ابتدائی تعلیم عربی و فارسی قواعد،معانی بیان اور کچھ منقول علوم اپنے روحانی باپ سے حاصل کیا۔والد نے بیٹے کو منطق ،حکمت ،ریاضی و طبیعیات کے نامور استاد نور الدین علی ابن محمد شیعی کے سپرد کر دیا جو خواجہ نصیر الدین کے ماموں بھی تھے۔مدت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ایسا لگا کہ انکے علم کے کی پیاس ماموں نہیں بجھا سکتے اسی بنا پر وہ ریاضی کے مستند ماہر محمد حاسب سے متوسل ہوئے ۔خواجہ نصیر الدین روحانیت کا مقدس لباس زیب تن کرتے ہی نصیر الدین کا لقپ پاتے ہیں ۔

خواجہ نصیر الدین نےطوس میں مقدمات ومبادیات کی تحصیل کے بعد والد کے ماموں کی نصیحت و باپ کی وصیت پر عمل کرتےہوئے تحصیل علم کے لئے نیشاپور کا سفراختیار کرتے ہیں ۔مدرسہ سراجیہ نیشاپورمیں خواجہ نصیر امام سراج الدین کے دروس فقہ و حدیث اور رجال میں شرکت کرتے ہیں ۔فرید الدین داماد نیشاپوری جن کا شماراپنےزمانے کےبزرگ ترین استادوں میں ہوتا تھا مدرسہ نظامیہ میں درس دیتے تھے خواجہ نصیر ان کے [اشارات ابن سینا] کے درس میں شرکت کرتے ہیں ۔استاد وشاگرد میں علمی مباحثے کا سلسلہ بڑھا تو فرید الدین نے نصیر الدین کی استعداد علمی اور تحصیل علم میں شوق کو دیکھتے ہوئے ایک اور دانشمند قطب الدین مصری شافعی سے ملائی جو فخرالدین رازی کے شاگرد تھے اور علم طب کی مشہور کتاب [قانون ابن سینا] کے بہترین شارحین میں سے تھے۔

طوسی شہررے اور قم کے علاوہ اصفہان تک جاپہنچے لیکن کوئی استاد ایسا نہیں پایا جو طوسی کےعلمی پیاس کو بجھا سکے اس بنا پر وہ عراق کا سفر کرتے ہیں ۔ اور 619ھ میں معین الدین سے اجازۃروایت لینے میں کامیاب ہو گئے۔محقق طوسی نےعراق میں فقہ علامہ حلی سے سیکھی اور علامہ حلی نے بھی حکمت کی تحصیل خواجہ نصیر الدین سےکیں۔نصیر الدین موصل میں کمال الدین موصلی کی خدمت سے علم نجوم وریاضی کا حصول کیا۔خواجہ نصیر الدین  عراق میں تعلیم مکمل کرنے میں مشغول تھے کہ سر زمیں ایران پر مغلوں کا حملہ ہوتا ہے ۔ان کادل بھی ہم وطن اور خاندان کے افراد کے لئے بےحد مضطرب ہو گئے دوسری طرف عراق میں انکی  علم و دانش سے فائدہ اٹھانے والے بھی بہت کم نظر آتے تھے اس لئےوطن کی طرف واپس آنے کا قصد کرتے ہیں۔

طوسی اپنے خاندان سے ملاقات کے لئے شھر قائن پہنچتے ہیں اور وہاں اپنی ماں و بہن سے ملاقات کرتے ہیں اور اہل شہر کے اصرار پر امام جماعت  ہو کر لوگوں کومسائل سے آگاہ کرتے ہیں ۔ماں کی رضامندی سے 628 ھ میں فخر الدین نقاش کی بیٹی [نرگس خانم] کو اپنا شریک حیات بنا لیتے ہیں ۔خواجہ نصیر الدین چند ماہ تک قائن میں رہے اور شادی کے بعد قہستان کے [محتشم ناصر الدین عبد الرحیم بن ابی منصور جو مرد فاضل و کریم تھے] نے انہیں بلا بھیجا انکی بیوی راضی ہو گئی اور دونوں نے اسماعیلوں کے قلعے کی راہ لی ۔چونکہ اس زمانے میں ہر شہر مغلوں کے حملےسے سقوط کر رہے تھے توقلعہ بہترین اور محکم ترین جگہ تھی۔جس زمانےمیں طوسی قلعہ قہستان میں رہتے تھے بڑے احترام سے زندگی بسر کرتے تھے انہوں نے ناصر الدین کی فرمائش پر [طہارۃ الاعراق ]ابن مسکویہ کو عربی سےفارسی میں ترجمہ کر کے میزبان کے نام  اسے اخلاق ناصری سے موسوم کرتے ہیں ۔

خواجہ ناصر الدین کا مذہب اسماعلیوں سے میل نہیں رکھتے تھے ۔طوسی نے ایک مدح عباسی خلیفے کے نام لکھ دی اور مدد طلب کیں لیکن طوسی اپنے پہلے سیاسی اقدام میں شکست کھا گئے جس کے بعد طوسی کو دوبارہ قلعوں میں رہنا پڑا۔26 سال طوسی نے اسماعیلی قلعوں میں زندگی بسر کیں اور اس مدت میں متعدد کتابوں کی تالیف کی جن میں شرح اشارات ابن سینا،اخلاق ناصری ،رسالہ معینیہ ،مطلوب المومنین،روضۃ القلوب، رسالۃ تولا و تبرا ،تحریر اقلیدس ،روضۃ التسلیم قابل ذکر ہیں۔

مغلوں کے فتوحات کے بعد ہلاکو خان نے طوسی کے علم و فضل کی وجہ سے اپنے بزرگان میں شامل کئے اور جہاں جاتے طوسی کو ساتھ لے جاتے تھے ۔طوسی نے جوینی کی مدد سے قلعہ الموت کی فتح کے بعد حسن بن صباح کے عظیم کتاب خانے کو آتش زنی سے بچایا۔ابن ابی الحدید اور انکا بھائی موفق الدولۃ فتح بغداد کے بعد مغلوں میں قید تھے اور قتل کئے جانے والے تھے ابن علقمی طوسی کے پاس انکی سفارش کرتے ہیں اور طوسی نے ان دونوں کی شفاعت کر کے موت کےمنہ سے ان دونوں کو رہائی دی۔طوسی نے مراغہ میں رصدگاہ کی تعمیر اور ایک بڑے مکتب علم ، دانش کی بنیاد رکھ دیں ۔

مشہور مستشرق رونالڈس لکھتے ہیں : طوسی نے مراغہ میں ہلاکو خان سے کہا کہ فاتح حاکم کو صرف غارت گری پر اکتفا نہیں کرنے چاہیے۔اس مغل نے طوسی کا مطلب بھانپ لیا اور حکم دیا کہ مراغہ کے شمالی پہاڑ پر ایک عظیم رصد گاہ بنائی جائے اور کام شروع کئے اور بارہ سال کی مدت میں مکمل ہو گئے اس کے بعد بہت بڑا کتاب خانہ بھی بنایا گیا جس میں تمام کتابوں کو اکٹھا کر دیا گیا جو بغداد کے کتابخانوں کی غارتگری سے بکھر گئی تھیں۔

مراغہ کی رصدگاہ 656ھ میں بننا شروع ہوا اور خواجہ نصیر الدین طوسی کی وفات کے سال 672ھ میں مکمل ہوئی۔ اس تعمیر میں فلسفہ و طب اور علم ودین حاصل کرنے والے طالب علموں کے لئے الگ الگ مدارس و عمارتیں بنائی گئی تھیں جہاں  فلسفہ کے طالبعلم کو روزانہ تین درہم اور طب پڑھنے والوں کو دو درہم اور فقیہ کے لئے ایک درہم اور محدث کے لئے روزانہ نصف درہم مقرر کر لیا گیا تھا۔ اس علمی کام میں جن علما ء و دانشمندوں نےطوسی کا ساتھ دیا ان میں  چند اعلام کا ذکر کیا جاتا ہے ،نجم الدین کابتی قزوینی وفات 675 ھ صاحب کتاب منطق شمسیہ ،موید الدین عرضی  650-664،صاحب کتاب شرح آلات رصدیہ ،فخرالدین خلاصی 587-680 ھ ،محی الدین مغربی ،فرید الدین طوسی ،وغیرہ۔

مراغہ کا رصد خانہ اسلام میں پہلا رصد خانہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی کئی رصدگاہیں موجود تھیں ۔طوسی کے عظیم کارناموں میں سے ایک مراغہ کی  رصدگاہ کے نزدیک کتابخانے کی تعمیر تھیں یہاں تک کہ اس کتابخانے میں چار لاکھ کتابوں کا ذخیرہ ہو گئے۔ محقق طوسی بے پناہ علم و دانش اور مختلف فنون میں ید طولی رکھنے کے ساتھ بہترین اخلاق و صفات حسنی کے حامل تھے جسکابیان تمام مورخین نےکیاہے ۔ طوسی کو
صرف قلم وکتاب والے  دانشمندوں میں شمارنہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے علمی و فلسفیانہ کارناموں کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنایا تھا بلکہ انکے ہاں علم کو اخلاق و معرفت پر سبقت حاصل نہیں تھی چناچہ جہاں بھی انسانیت و اخلاق و کردار کی بات آتی وہ اخلاق اور تمام انسانی اسلامی قدروں کو کلام و مفہوم بےروح پر ترجیح دیتے تھے۔علامہ حلی جو علمائے تشیع میں بزرگ ترین عالم کےطور پر جانے جاتے ہیں طوسی کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ علامہ حلی اپنےاستاد کے فضائل اخلاقی کا تذکرہ یوں بیان کرتے ہیں :خواجہ بزرگوار علوم عقلی و نقلی میں بہت زیادہ تصنیفات کے مالک ہیں ،انہوں نے مذہب شیعہ کے دینی علوم پر بھی کتابیں لکھی ہیں ،میں نے جتنے دانشمندوں کو دیکھا ان میں شریف ترین شخص وہی تھے۔خدا انکی ضریح کو منور کرے میں نے  ان کی خدمت میں الہیات شفا ابن سینا اور علم ہیئت میں تذکرہ کا درس لیا جو خود انکی ایسی تالیفات میں سے ہے کہ جب تک یہ دنیا رہے گی اس کی تابانی رہے گی۔{مفاخر اسلامی ،علی دوانی ج4 ص136}
مورخین اہل سنت میں سے ابن شاکر نے اخلاقی طوسی کی تعریف اس عبارت میں کی ہے۔[خواجہ نہایت خوش شکل و کریم و سخی برباد،خوش معاشرت اور حکیم تھے ان کا شمار اس عہد کے سیاست مداروں میں ہوتا تھا ۔[؛فوات الوفیات،ابن شاکر ج۲ ص۱۴۹؛ ] خواجہ طوسی کے شاگردوں میں علامی حلی ،ابن میثم بحرانی ،قطب الدین شیررازی ،ابن فوطی ،سید رکن استر آبادی وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ کئی سو سال گزر گئے ہیں مگرآج بھی طوسی کے آثارعلم و دانش سے استفادہ جاری و ساری ہے۔طوسی بہت سے عصری علوم بالخصوص فلسفہ و ریاضی میں صاحب نظر تھے اور کلام،منطق ،ادبیات ،تعلیم و تربیت ،اخلاق ،فلک شناسی و رمل وغیرہ میں ایک مقام رکھتے تھے۔مخالفین و غیر مسلمین نے انکی جو تمجید و تعریف کی ہے وہ لائق توجہ اور خواجہ کے وسعت علمی کا ثبوت ہے ۔

جرجی زیدان اس موضوع پر لکھتے ہے[ اس ایرانی کے ذریعےحکمت و علم مغلوں کی سلطنت کے ہر دور داراز علاقوں میں یوں پہنچ گئے کہ رات کی تاریکی میں نور تاباں تھے۔[آداب الغۃ العربیہ ،فوائد الرضویہ] نصیر الدین کی جامعیت ایسی ہے کہ ہر علم و فن میں انکا نام نظر آتا ہے شاید خواجہ نصیر ان کم نظیر ترین انسانوں میں سے ہےیں جنہوں نے علم کے متعدد شعبوں میں اپنے قلم کی مہارت دکھائی ہیں ۔ اختصار کے طور پر خواجہ کے تصانیف کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔تجرید العقائد ،شرح اشارات ،اوصاف الاشراف،قواعد العقائد،اخلاق ناصری،آغاز و انجام ،تحریر مجسطی،تحریر اقلیدس،تجرید المنطق،اساس الاقتباس ،زیج ایلخانی۔۔۔۔۔۔ وغیرہ

18ذی الحج 673 ھ کو بغداد کےآسمان کا رنگ دگرگوں تھا گویا کوئی ایسا اتفاق واقع ہونے والا ہے جس سے اس شہر کا سکون ختم ہو جائے گا اور لوگ سوگوار ہو جائیں گے۔ایک ایسا مرد بستر بیماری پر پڑا ہوا تھا جس کی پر شکوہ زندگی سراسر حادثات سے بھر پور تھی جس نے سالہا سال تلوار و شمشیر کا نظارہ کیا اور ایک ہھر سے دوسرے شہر کی طرف ہجرت و اسیری کا تجربہ بھی تھا ۔ طوسی کی تمام زندگی میں تلوار کا منحوس سایہ اس کے سر پر رہے اور اسی بربریت کے سایہ تلے اس نے مکتب کے عقائد و افکار نشر کئے اور اپنی یاد گار بے شمار کتابیں چھور گئے۔ تاریخ نقل کرتے ہے کسی نے خواجہ سے وصیت کرنےکےلئے کہے ؛ کہ آپ کو مرنے کے بعد  جوار قبر امیر المومنین علیہ السلام  میں دفن کیاجائے۔خواجہ سراپا ادب تھے جواب میں بولے [مجھے شرم آتی ہے کہ مروں تو امام موسی کاظم علیہ السلام کے جوار میں اور اسکا آستانہ چھوڑ کر کہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی گفتگو کے بعد آنکھ بند کر کے اہل علم و دانش کو غم و عزا میں بٹھا دیے ۔بغداد سراسر غرق ماتم ہو ئے ،خواجہ کی تشیع
جنازہ میں بچے ،جوان ،بزرگ ،مردو عورت باچشم گریاں شریک تھے۔ انکی میت کو آستان مقدس امام کاظم و امام جواد علیہم السلام کے روضے لے گئے جس وقت قبر کھودنا چاہا تووہاں پہلے سے تیارقبر کا سراغ ملتے ہے ،عجیب بات یہ ہے کہ خواجہ کی تاریخ ولادت اور اس قبر کی تیاری ایک تاریخ کو ہوئی تھی ،کہا جاتا ہے کہ جس دن خواجہ نے طوس میں آنکھ کھولی اسی دن امام کاظم علیہ السلام نے ان کے لئے اپنے پاس جگہ مہیا کیں چونکہ خواجہ بھی تمام عمر مغلوں کے اسیر و زندانی رہے اور زندان میں ایک لحظے کے لئے بھی  شیعی اعمال و مناجات کو ترک نہیں کیں۔
طوسی کو کاظمین میں سپرد خاک کئے گئے اور انکی قبر پر آیت شریفہ{وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیدِ}نقش کر دی ۔خواجہ اگرچہ اس دنیا سے کوچ کر گئے لیکن افکار و قلم ہمیشہ ہمیشہ محبین کے گھروں میں باقی رہے ،صدیاں گزر گئے لیکن انکا نام علم و دانش کے میناروں سے چمکتے رہے اور رہینگے ۔


 
تحریر : محمد لطیف مطہری کچوروی


منابع :
1۔تخفۃ الاحباب ،محدث قمی
2۔ روضات الجنات ،قصص العلمائ ،مرزا محمد تنکابنی
3۔شرح اشارات ،شیخ عبد اللہ نعمہ
4۔ سرگذشت و عقائد فلسفی نسیر الدین طوسی ،محمد مدرسی زنجانی
5۔ فوات الوفیات ابن شاکر
6۔فلافہ شیعہ ،شیخ عبد اللہ نعمہ
7۔الوافی بالوفیات ،ابن صفدی رکنی
8 ۔ الاقاب ،محدث قمی
9۔مفاخر اسلامی ،علی دوانی
10۔آداب اللغۃ العربیہ ،محدث قمی       
11  ۔خواجہ نصیر یاور وحی و عقل،عبد الوحید وفائی ،مترجم حسن عباس فطرت   
  12  ۔احوال و آثار خواجہ نصیر الدین،محمد تقی مدرس رضوی۔

Page 8 of 909

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree