The Latest

وحدت نیوز(جھل مگسی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی کی ڈی پی او ضلع جھل مگسی گلاب خان شیخ سے ملاقات مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے گنداواہ کی معزز شخصیت سید قاسم شاہ حسینی سید عرفان علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے سابقہ ضلعی سیکرٹری جنرل سید ولایت حسین شاہ ایڈووکیٹ کی رہائشگاہ پر شہر کے مومنین اور معززین سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اربعین کا عالمی اجتماع تاریخ بشریت کا بے مثال اجتماع ہے جو اہل حق کو عالمی الہی حکومت اور نظام ولایت و امامت کے غلبے کی نوید دے رہا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہمیشہ مظلومین جہان کے حق میں اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

انہوں نےکہا کہ چین ہمارا قابل اعتماد دوست ہے۔ ہمیں امریکہ اور آل سعود کی غلامی سے نکل کر ایک آزاد اور خودمختار قوم کی طرح اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو مرتب کرنا ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی ہوگی تاکہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ ہم نچلی سطح تک اپنے نمائندے لا سکیں۔اس موقعہ پر سید ولایت حسین شاہ ایڈووکیٹ نے اپنے والد محترم سید حاکم علی شاہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن کریم کی زیارت کرائی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے ملاقات ،مقبوضہ کشمیر سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ۔ مسئلہ کشمیر ہماری اولین ترجیحات میں سے ہے حکومت ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ کریں گئے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

حکومت کےمسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کے مسائل پر اقوام عالم میں دوٹوک موقف کی تائید کرتے ہیں ۔حکومت کو زائرین کے حوالے سے مستقل پالیسی بنانی ہوگی گلگت بلتستان کے لوگ سب سے بڑے محب وطن پاکستانی ہیں انہیں مذید محروم نہ رکھا جائے حکومت کو مسنگ پرسن کے ایشو پر خصوصی توجہ کرنا ہوگی، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وفد کے ہمراہ ملاقات میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لئے اس وقت اولین حیثیت رکھتا ہے ۔حکومت وقت نے بہتر انداز میں اقوام عالم کے سامنے اس مسئلے کو اجاگر کیاہے ۔ ہمیں کشمیر کو ایک دن کے لئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا اہم حصہ ہے ۔زائرین کے مسائل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سربراہ ایم ڈبلیوایم نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال پاکستانی زائرین مقدس مقامات کی جانب سفر کرتے ہیں گزشتہ ادوار میں اس جانب بلکل توجہ نہیں دی گئی ۔ حکومت زائرین کے حوالے سے مستقل پالیسی بنائے تاکہ ان کے مسائل کا بہتر تدارک کیا جاسکے ۔ انہوں نے مذید کہا کہ وطن عزیز کا ہر فرد ملک سے محبت کرتا ہے لیکن گلگت بلتستان کے لوگ سب سے بڑے محب وطن پاکستانی ہیں انہیں مذید محروم نہ رکھا جائے۔

 ا نہوں نے مذید کہا کہ اس وقت ملک میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ توجہ کا طالب ہے کسی بھی پاکستانی شہری کو لاپتہ رکھنا انسانی حقوق اور آئین قانون کی خلاف ورزی ہے ۔تحریک انصاف کی حکومت اس اہم سنگین مسئلے پر فوری قانون سازی کرئے ۔صدر مملکت سے ملاقات میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سمیت تعلیم روزگار کے مواقع اور صحت کی سہولتوں پر بھی بات کی گئی ۔

 ایم ڈبلیوایم کے وفد سے بات کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کو وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ اور کشمیراور امت مسلمہ مسائل کے حل حوالے سے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایم ڈبلیوایم کے وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں ،مجلس وحدت مسلمین کی امت مسلمہ کے مسائل اور اتحاد امہ کے وژن کی تائید کرتے ہیں ۔ ہم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی کوششیں کر رہے ہیں ۔ زائرین کے مسئلے پر تحریک انصاف کی حکومت سے قبل کسی نے اتنی توجہ نہیں دی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کریں گے ۔

گلگت بلتستان کے مسائل پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے تحریک انصاف کا واضع موقف ہے ہم گلگت بلتستان کی عوام کی محبت اور وفاداری کے مقروض ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں سمیت تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے ۔ ملاقات میں آئندہ گلگت بلتستان کے الیکشن پر بھی بات چیت کی گئی ۔ ایم ڈبلیوایم کے وفد میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم سید ناصر شیرازی ، فوکل پرسن حکومت پنجاب و مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی ، ڈپٹی پولٹیکل سیکرٹری سیاسیات سید محسن شہریار بھی شامل تھے ۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) سیکرٹری فلاح و بہبود مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر مولانا سید زاہد حسین کاظمی کے والد محترم،حلقہ کوٹلہ کی معروف سیاسی،سماجی ومذہبی شخصیت سیدغلام سرورشاہ کاظمی المشہدی گزشتہ دنوں انتقال کرگئے،مرحوم مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید طالب حسین ہمدانی کے ماموں و سسرتھے۔مرحوم کی نماز جنازہ پیچھپی سیداں کے مقام پر ادا کردی گئی نماز جنازہ میں کثیر تعدادمیں سیاسی،سماجی،مذہبی،عمائدین و عوام علاقہ نے شرکت کی جن میں علامہ مفتی سید کفایت حسین نقوی،علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر،علامہ سید فرید عباس نقوی ممبر علماء و مشائخ کونسل آزاد کشمیر،شیخ احمد علی سعیدی ،مولانا حافظ کفایت حسین نقوی ،مولانا سید حمید حسین نقوی،مولانا قاری مختار شاہ ہمدانی کے علاوہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے مرکزی راہنما و امیدوار اسمبلی حلقہ کوٹلہ سردار تبارک علی،جماعت اسلامی کے راہنما سید نزیر حسین شاہ پی پی کے راہنما اظہرحسین ہمدانی ایڈوکیٹ اور دیگر نے شرکت کی ۔

مرحوم سید غلام سرور کاظمی المشہدی کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔مرحوم کی رسم قل مورخہ 09اکتوبر 2019 کو مولانا زاہد حسین کاظمی کی رہائش گاہ ادا کی گئ۔اس موقع پرعلامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نےخطاب کرتے ہوۓ مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے جو خلق خدا کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں مرحوم نے اپنی ساری زندگی خلق خدا کی خدمت اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کی فلاح بہبود کے لیے وقف کئے رکھی۔مرحوم کا شمار علاقہ کی بااثر سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا،مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ صدیوں پُر نہیں ہوگا،مرحوم غلام سرورکاظمی المشہدی نے علاقہ میں فروغ شعیت و اتحاد بین المسلمین کے لئے جو خدمات سرانجام دی وہ سب کے سامنے عیاں ہیں،مرحوم کی محنت سے اس وقت علاقہ کہوڑی،پٹہیکہ میں ایک بڑی تعداد میں عزاداری و محافل میلاد ہو رہی ہیں۔

علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نےمزیدکہا کہ مرحوم نے دین اسلام کے لیے جو خدمات سر انجام دی ہیں ان کا ثواب ان کو تا قیامت ان کے نام اعمال میں لکھا جاتا رہے گا انہوں نے کہا کہ حدیث پیغمبرﷺ کی رو سے جو بندہ دنیامیں تین کام کر کے وفات پاجاتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں(١)جو مسجد،مدرسہ وغیرہ قائم کر جائے(٢)دینی کتاب لکھ جائے اور(٣)اولاد صالحہ چھوڑ جائے۔ ان میں مرحوم نے مساجد،امام برگاہ قائم کی ہیں جن میں آج نماز جمعہ و جماعت وعزاداری ہو رہی ہے تالیف کے باب میں بھی مرحوم نے علاقہ کے سادات کے نسب نامے پر ایک کتاب لکھ رکھی ہےاورنیک اولاد بھی چھوڑی ہے جو علاقہ میں مصروف تبلیغ دین ہے لہذاان تینوں امورمیں مرحوم کے نامہ اعمال میں ہمیشہ ثواب درج ہوتا رہے گا اور انہوں نے کہا کہ اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

قل خوانی کی مجلس سے علا مہ سید علی اکبر شاہ کاظمی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع راولپنڈی نے خطاب کرتے ہوۓ پسماندگان سے تعزیت وتسلیت و مرحوم کی بلندی درجات کی دعا کی۔قل خوانی کی مجلس میں سابق وزیر جنگلات حکومت آزادکشمیر سردارجاوید ایوب،رہنما مسلم کانفرنس حلقہ سات مظفرآباد سیدتصور عباس موسوی،سابق چئیر مین زکوٰةحلقہ کوٹلہ سید امجد شاہ،سردار درایمان اعوان کے علاوہ دوست احباب اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق قوانین میں مذید بہتری کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پوری دنیاکو مسئلہ کشمیر کی حساسیت اور اہمیت کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار فوکل پرسن برائے بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پنجاب و مرکزی پولیٹکل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم سید اسد عباس نقوی نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے اسلام آباد میں ملاقات میں کیا ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عام پاکستانیوں کو انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی آشنائی دینا ضروری ہے جس کے لئے ملک گیر آگاہی پروگرام کا اجرا ہونا چاہئے۔کشمیر پر تحریک انصاف کی حکومت کا اقوام عالم کے سامنے دوٹوک موقف دونوں طرف کے کشمیریوں کے دلوں کی آواز تھی۔مسئلہ کشمیر اس سے قبل اتنے بہتر اور مدلل انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا تھا۔ آج دنیا کشمیر کے مسئلے کی جانب متوجہ ہوئی ہے۔

اس موقع پر وفا قی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے کہا کہ عام پاکستانیوں کے مسائل کے حل سمیت بنیادی انسانی حقوق کی ملک بھر میں فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انسانی حقوق سے متعلق قوانین میں مذید بہتری کی گنجائش موجود ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں۔ اس ملاقات میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری سیاسیا ت سید محسن شہریار بھی ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ تعلیم کی مرکزی تعلیمی کونسل کا اجلاس سنٹرل سیکرٹریٹ اسلام آباد میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں ماہرین شعبہ تعلیم نے شرکت کی۔ پروگرام میں شعبہ تعلیم کے سالانہ پروگرام پر مشاورت کی گئی اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ماہرین تعلیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب مدینۃ العلم کے ماننے والوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہمارا طرہ امتیاز ہونا چائیے ہماری اجتماعی جدوجہد جہالت کے خلاف قیام کا نام ہے انبیاءکرام اور آئمہ اطہار(ع)انسانوں کو ظلمت کے اندھیرے سے نکال کر ھدایت کی روشنی دکھلانے آئے تھے۔اجلاس میں رکن شوری عالی علامہ محمد اقبال بہشتی اور مرکزی سیکرٹری تعلیم نثار علی فیضی نے بھی گفتگو کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

وحدت نیوز (آرٹیکل)عطیہ سعد بن جنادہ عوفی جو بعض تاریخی کتابوں کے مطابق 36سے 40 ہجری کے درمیان کوفہ میں پیدا ہوئے۔ بعض تحقیقات کے مطابق چونکہ ان کی پرورش کوفہ میں ہوئی اس لئے انھیں کوفی کہا جاتا ہے۔ لیکن بعض کے مطابق وہ کوفہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کا والد سعد بن جنادہ  کوفہ کا رہنے والا نہیں تھا۔ عطیہ عرب کے معروف و مشہور  بکالی خاندان میں پیدا ہوا ۔ بکالی خاندان قبیلہ بنی عوف بن امر القیس  سے تعلق رکھتے تھےاور عرب قبائل میں اس قبیلہ کوایک خاص مقام و منزلت حاصل تھا چونکہ وہ بنی عوف قبیلے سے تعلق رکھتاتھا ، اس لئے اسےعطیہ عوفی کہا جاتاہے۔1۔ جنادہ مشہور روایوں میں سے ہیں جنہوں نے بہت ساری روایتوں کو نقل کیا ہے۔وہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے اورآپ کے ساتھ بہت سے جنگوں  میں شرکت کی اوراس بارے میں بہت سی روایات  ان سےنقل ہوئی ہیں۔

مشہور مورخ ابن سعد کہتے ہیں: سعد بن محمد ابن الحسن، عطیہ کا بیٹا نقل کرتا ہے: سعد بن جنادہ کوفہ میں امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا:یا امیر المومنین علیہ السلام: مجھے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے ، آپ اس کے لئے کوئی مناسب نام انتخاب کریں۔ امام نے فرمایا: یہ بیٹا اللہ تعالی کی طرف سے ایک عطا اور ہدیہ ہے ۔ پس وہ عطیہ کے نام سے مشہور ہوا اس کی والدہ اہل روم تھیں۔2۔
زیارۃ اربعین  کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے  کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین  کی تلاوت کرناہے۔3۔جب بھی  زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام  کا ذکر ہو  وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں  اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

بعض  افراد عطیہ عوفی کوجابر بن عبد اللہ انصاری  کا غلام تصور کرتے ہیں  جبکہ یہ بات صحیح نہیں ہےکیونکہ کسی بھی مستند منابع میں اس بات کا ذکر نہیں ہوا ہے بلکہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگ صحابی کا قابل اعتماد شاگرد رہا ہے ۔عطیہ عوفی اور جابر بن عبد اللہ انصاری 20 صفر61ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونے والے پہلے زائر تھے جو شہدائے کربلا کے چہلم  کے موقع پر   کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی مرقد پر پہنچے ۔

عطیہ عوفی بہت بڑے  عالم ،محدث، مفسر اور سماجی اور سیاسی معاملات میں متحرک مسلمان تھے۔ عطیہ تابعین میں سے تھے جنہوں نے رسول خدا کو درک نہیں کیا وہ امام علی علیہ السلام کے اصحاب اور ان کے بعد باقی ائمہ علیہم السلام کے بھی اصحاب تھے انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام کے زمانے کو بھی درک کیا۔عطیہ نے اپنے استاد سے حدیث غدیر کے علاوہ زیارت اربعین کو بھی نقل کیا ہے۔ جابر بن عبد اللہ انصاری پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  قریبی اصحاب میں سے ہیں جنہیں رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ امام باقر علیہ السلام کو ان کا سلام پیش کرنا ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ بشارت دی  تھی کہ وہ زندہ رہیں گے اور پانچویں امام سے ملاقات کریں گے۔عطیہ عوفی نے  برجستہ استادوں سے تربیت حاصل کی جن میں سب سے مشہور جابر بن عبد اللہ انصاری اور عبد اللہ ابن عباس ہیں جبکہ بعض کتابوں میں ان کے آٹھ استا تید کا  نام ذکر کیا ہے۔عطیہ نے پانچ جلدوں پر مشتمل قرآن مجید کی تفسیر لکھی ہے۔4

عطیہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے عالم دین تھےاور علمی اعتبار سے ان کو اتنا مقام حاصل تھا کہ اہل سنت علماء بھی ان پر اعتماد کرتے تھے ۔ عطیہ کے علمی آثاراہل سنت علماء کے درمیان بھی معتبر  تھے  خاص کر طبری اورخطیب بغدادی جیسی عظیم شخصیات نے اس عظیم عالم کے علمی آثار سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ عطیہ کو قرآن اور علوم قرآنی سے اس قدر محبت تھی کہ خود  ایک روایت میں نقل کرتا ہے: میں نے   ابن عباس سے قرآن پاک کی تین دورہ تفسیر سیکھا ہے  اور سترمرتبہ قرآن اس کے پاس پڑھا  ہے۔5۔

عطیہ نے بھی بعض افراد کی  تربیت کی،جن میں سے بعض کے نام کتاب تھذیب التھذیب میں ذکرہے۔ اس کےمہم ترین شاگردوں میں مشہورراوی اعمش  اور اس کے  اپنےتین بچے حسن ، عمرو اور علی شامل ہیں۔6۔

عطیہ  عالم ،مفسر قرآن اور ایک عظیم محدث ہونے کے علاوہ ایک سماجی اور سیاسی کارکن بھی تھے جیسے:
1۔عطیہ نے حدیث ثقلین،حدیث ائمہ اثنا عشر،حدیث سفینہ نوح حدیث غدیر ،حدیث منزلت ، حدیث سد الابواب وغیرہ اوروہ احادیث جو سیاسی اعتبار سے بھی زیادہ اہم  سمجھے جاتے تھے، نقل کیا ہے اسی طرح آیہ تطہیر کی تفسیر بیان کی ہے۔

2۔  عطیہ جابر کے ساتھ  اس انتہائی حساس اور خطرناک صورتحال میں  امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ، کیوں کہ امام حسین کی علیہ السلام شہادت کے بعد  یزید اپنے آپ کو  فاتح کربلاسمجھتاتھا اور اپنے ظلم و ستم اورجنایتوں کے لئے کسی کو مانع نہیں سمجھتا تھا  اور ہمیشہ اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے ذریعہ، قیام عاشورا کو اپنی جائز حکومت کے خلاف بغاوت قرار دیتاتھا۔ اس صورت حال میں جناب جابر اور جناب عطیہ کا  مدینہ سےامام حسین علیہ السلام کی زیارت کا قصد کر کے کربلاجاناور اس مقدس مرقد پر عزادری کرنا حقیقت میں آپ کے  حقیقی فتح کی ترجمانی کرناتھا۔

3۔عطیہ قیام مختار میں شریک ہوئے اور مختار کے حکم پر عبد اللہ بن زبیر کے ہاتھوں سے بنی ہاشم اور محمد بن حنفیہ کو بچانے کے لئے  ابو عبد اللہ  جدلی کی سربراہی میں مکہ روانہ ہوگئے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو ابوعبداللہ جدلی نے عطیہ کو آٹھ سو فوجیوں کی کمان دے کر شہر  روانہ کیا۔  یہ گروہ مکہ میں تکبیر کی آواز بلند کرتے مکہ میں وار ہوگئے ۔ عبد اللہ بن زبیر نے جب یہ آوازسنا تو بھاگ کر دار الندوہ  میں داخل ہو گئے ۔ بعض کے مطابق عبد اللہ بن زبیرنے کعبہ کےغلاف سے پکڑ کر پناہ لی اور کہا کہ میں خدا کی پناہ میں ہوں۔

عطیہ کہتے ہیں: ہم ابن عباس اور ابن حنفیہ کے پاس گئے ، جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھروں میں قید تھے جن کے چاروں طرف اس طرح سے لکڑی کی دیواریں بنائی گئی تھی کہ اگر کوئی اسے آگ لگا دے تو  وہ سب جل جائیں۔ ان افرادکو بچانے کے بعد ہم نے ابن عباس اور محمد بن حنفیہ سے اجازت طلب کی کہ وہ عبداللہ بن زبیر  کے نجس وجود کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے اجازت دیں لیکن انہوں نے خانہ کعبہ کے وقار کی وجہ سے اس  بات کی اجازت نہیں دی۔7

4۔ تاریخ ان کی سیاسی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ تاریخی منابع  میں  ان کے بارے میں کچھ اس طرح ذکر ہیں:کوفہ میں ظالم و جابر حکومتوں کے خلاف بے شمار تحریکیں وجود میں آئی ہیں جن میں سے ایک عبدالرحمٰن ابن محمد اشعث کی تحریک تھی۔ یہ تحریک خراسان سے شروع ہوئی تھی ، اور عراق کے کچھ بڑے دانشمند اور قاریان ، جیسے سعید بن جبیر ، ابراہیم نخعی  اور عطیہ عوفی بھی عبدالرحمٰن کے ساتھ اس تحریک میں شامل تھے۔ جب عبدالرحمٰن کو شکست ہوئی اور اسے گرفتار کرلیا گیا تو عطیہ فارس بھاگ جانے میں کامیاب ہوا۔ حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم ثقفی کو ایک خط لکھا اور  یہ حکم دیا کہ وہ عطیہ کو  اپنے پاس بلا لیں اور اسے کہ دیں کہ وہ علی بن ابی طالب پر لعنت بھیجیں۔ اگراس نے اس عمل کو انجام دیا تو ٹھیک ہوا ورنہ  اسے چار سو کوڑے مار نا اور اس کے سر کے بال اورداڑھی کومنڈوانا۔

چنانچہ اس نے عطیہ کو طلب کیا اور حجاج کے خط کو پڑھ کراسے سنایا۔عطیہ نے اس کی اطاعت  سے انکار کردیا ، اور اس نے بھی حجاج کے حکم پر عمل کیا اور اس پر چار سو کوڑے مارا اور اس  کے سرکے بال اورداڑھی کو منڈوا لیا ۔ جب قتیبہ بن مسلم نے خراسان کی گورنری سنبھالی تو ، عطیہ اس کے پاس چلا گیا اور خراسان میں رہا یہاں تک کہ عمر بن ہبیرہ نے عراقی حکومت کا اقتدار سنبھال لیا۔ اس وقت ، عطیہ نے اسے ایک خط لکھ کر کوفہ واپس آنے کا مطالبہ کیا تو ہبیرا نے اسے کوفہ  آنےکی اجازت دی۔ عطیہ کوفہ واپس آئے اور 111 ہجری میں وفات پانے تک کوفہ میں مقیم رہے۔8

عطیہ سےمنقول روایات:
1۔ حدیث غدیر:
ابن مغازلی نے اپنی کتاب میں عطیہ عوفی سے روایت  نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عطیہ نے کہا:میں نے ابن ابی اوفی کو اس کے گھر کے پاس  دیکھا جب وہ نابینا ہو چکا تھا۔ میں نے اس سے حدیث غدیر کے بارے میں پوچھا  تو  اس نے کہا: اے کوفہ کے رہنے والو :کس قدر تم بد بخت ہو ۔وائے تمہاری  اس حالت پر۔ میں نے کہا: خدا تمہارے کام کو آسان اوراصلاح کرے ، میں کوفہ سے نہیں ہوں اور  تجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں کوفہ کا رہنے والانہیں ہوں۔ اس نے پوچھا: تمہاری مراد کونسی حدیث ہے؟ میں نے کہا  حدیث غدیر کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روز غدیر علی ابن علی طالب کے بارے میں فرمایا تھا۔وہ کہتا ہے کہ حضور  اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خم کے میدان میں غدیر کے دن علی ابن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے اس طرح مخاطب ہوا:

 اےلوگو! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنین سے زیادہ  ان کے جسموں پر تصرف کا حق رکھتا ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں اے رسول خدا۔ اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرمایا: جس جس کا میں مولا ہوں اس کا علی ابن ابی طالب بھی مولا ہے ۔9۔علامہ مجلسی لکھتے ہیں:حافظ ابونعیم نے اپنی کتاب (مانزل من القرآن فی علی )میں اعمش (عطیہ عوفی  کا شاگرد)سے اور اعمش، عطیہ عوفی سے نقل کرتا ہے کہ عطیہ اس آیہ شریفہ (یا آیھا الرسول بلغ  ما انزل الیک من ربک)10۔کی شان نزول کے بارے میں کہتا ہے کہ : (نزلت ہذہ الآیہ علی رسول اللہ فی علی بن  ابی طالب) یہ علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ 11

2۔خطبہ فدک: عطیہ کا دوسرا لازوال کام حضرت زہراسلام اللہ علیہا کاخطبہ فدکیہ ہے۔ آپ نے یہ خطبہ مسجد نبوی میں دیا تھا۔ عطیہ
نے اسے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فرزند عبد اللہ بن مثنی کو نقل کیا  اور اس  طرح  یہ خطبہ ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ایک یاد گار کے طور پر ثبت ہوا۔

3۔حدیث زیارت اربعین
طبری  اپنی سند کے ساتھ عطیہ عوفی سے نقل کرتا ہے کہ عطیہ عوفی نے کہا کہ: میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی  علیہ السلام  کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادرپہنا ، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اوراپنے آپ کو  اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم  اٹھانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ حسین ابن علی کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابرنے کہا : میرا ہاتھ قبر حسین پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا  ۔ اس نے قبر حسین ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا ۔ جب  میں نے اس کے اوپر پر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں  آیا۔

 اس نے تین مرتبہ یا حسین کہ کر آواز بلند کیا اور کہا: (حبیب لا یجیب حبیبہ)کیا دوست دوست کو جواب نہیں دیتا؟ پھرجابر خود جواب دیتا ہے "آپ کس طرح جواب دو گے کہ آپ کے مقدس کو جسم سے جدا کیا گیا ہے ؟میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ پیغمبر خاتم اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور فاطمہ زہرا  کے فرزند ہیں اورآپ اس طرح کیوں نہ ہو ، کیونکہ خدا کے رسول  نے اپنے دست مبارک سے آپ کو غذا دیا ہے اور نیک لوگوں نے آپ کی پرورش اور تربیت کی ہے۔ آپ نے ایک پاک اور بہترین زندگی اور بہترین موت حاصل کی ہے  اگرچہ مومنین آپ  کی شہادت سے محزون  ہیں ۔خدا کی رضایت اور سلام شامل حال ہو اے فرزند رسول خدا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کو  ایسی  شہادت نصیب ہوئی  جیسےیحیی بن زکریا  کو نصیب ہوا تھا۔

اس کے بعد جابر نے سید الشہداء  علیہ السلام کے اطراف میں موجود  قبروں کی طرف دیکھا اور کہا: سلام ہو آپ  لوگوں پر اے پاکیزہ   ہستیاں کہ آپ  لوگوں نے حسین  ابن علی علیہ السلام کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ لوگوں نے نماز قائم کی اور زکوٰ ۃ ادا کیا اور ملحدوں کے ساتھ جہاد کیا اور خدا کی اتنی عبادت کی کہ یقین کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہو۔ قسم اس ذات کی جس نے  حضرت محمد مصطفی کو نبوت اور رسالت پر مبعوث کیا ہم  بھی آپ لوگوں کے اس عمل میں شریک ہیں ۔

عطیہ کہتے ہیں: میں نے جابر سے پوچھا: ہم کس طرح ان کے ساتھ ثواب میں شریک ہوسکتے ہیں  جب کہ ہم نہ کوئی بھی کام انجام نہیں دیا ہے ۔نہ ہم نے تلوار ہاتھوں میں لیا ہے  نہ ہم نے کسی سے جنگ کی ہےلیکن  ان لوگوں کےسروں کو ان کے جسموں سے جدا کیا گیا ہے۔ان کے بچے یتیم ہو گئے ہیں اوران کی شریک حیات بیوہ ہو گئی ہیں ؟جابر نے مجھے جواب دیا  اےعطیہ! میں نے اپنے محبوب رسول خدا سے  یہ کہتے ہوئے سنا ہےکہ اگرکوئی  کسی گروہ کو چاہتا  ہے تو وہ اس گروہ کے ساتھ محشور  ہوں گے ، اور جو بھی کسی گروہ کے عمل سے راضی ہو تو وہ بھی اس گروہ کے اعمال میں شریک ہیں۔ اس ہستی کی قسم جس نےمحمد مصطفی کو مبعوث کیا  ہے کہ میرا اور دوسرے چاہنے والوں کو ارادہ  بھی  وہی ہے جو امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفا اصحاب کا تھا ۔پھر اس  کے بعد جابرنے کہا:میرا ہاتھ پکڑ و اور مجھے  کوفہ کی طرف لے چلو۔

جابر کوفہ کی طرف جاتے ہوئے کہتا ہے:  اے عطیہ! کیا  تم چاہتے ہو کہ میں تجھے وصیت کروں؟ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ اس سفر کے بعد میں تم سے دوبارہ ملوں ۔ اے عطیہ! آل محمد کے چاہنے والوں سے محبت کرو  جب تک کہ وہ آل محمد سے محبت  اور دوستی کرتے ہیں۔  آل محمد کے دشمنوں سے عداوت کرو جب تک کہ وہ آل محمد سے دشمنی کرتےہیں گرچہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہواور رات کو شب بیداری میں ہی کیوں نہ گزارتا ہو۔ آل محمد کےچاہنے والوں کے ساتھ رواداری اور نرمی سے پیش آجاو کیونکہ اگر ان کے پاؤں گناہوں کی  بوجھ کو برداشت نہ کر سکے تو ان کا دوسرا پاؤں آل محمد کی محبت کی وجہ  سےمضبوط اور ثابت قدم رہے گا۔ بے شک  آل محمد کے چاہنے والے جنت میں جائیں گے جبکہ ان کے دشمن جہنم میں چلے جائیں گے۔ 12


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حوالہ جات:
1۔سفینۃ البحار،ج۶،ص۲۹۶۔
2۔شيخ عباس قمي، سفینۃ البحار، ج 6، ص 296 بہ نقل از تنقیح المقال۔
3۔وسائل الشیعہ جلد10، صفحہ 373۔
4۔ شيخ عباس قمي، سفینۃ البحار، ج 6، ص 296 بہ نقل از تنقیح المقال۔
5۔ریحانۃ الادب،ج۴،ص۲۱۸۔
6۔ شيخ عباس قمي، سفینۃ البحار، ج 6، ص 296 بہ نقل از تنقیح المقال۔
7۔ الطبقات الکبری، ج‌۵، ص:۷۵۔
8۔ شيخ عباس قمي، سفینۃالبحار، ج 6، ص 296 بہ نقل از تنقیح المقال۔
9۔ محمدباقر مجلسي، بحارالانوار، ج 37، ص 185 بہ نقل از الطرائف۔
10۔ مائدہ، آیۃ 67۔
11۔بحارالانوار، ج 37، ص 190۔
12۔عمادالدین قاسم طبری آملي، بشارۃ المصطفی، ص 125، حدیث 72؛ بحارالانوار، ج 68، ص 130،‌ح 62۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصودعلی ڈومکی کے سسر محترم ذاکر اہل بیتؑ جناب اکبر علی شیرازی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ۔مرحوم کی رحلت پرایم ڈبلیوایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، مرکزی رہنماؤں علامہ سید احمد اقبال رضوی، علامہ مختارامامی، علامہ غلام شبیر بخاری، علامہ اعجازبہشتی، علامہ اقبال بہشتی، علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی ، ناصرشیرازی ،اسدعباس نقوی، نثارعلی فیضی، ملک اقرارحسین، حسین شاہ ، انصرمہدی سمیت تمام صوبائی اور ضلعی سیکریٹری جنرل صاحبان نے دلی رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیاہے ۔

مشترکہ تعزیتی پیغام میں رہنماؤں نے کہاکہ مرحوم مبلغ دین وولایت تھے، ترویج مقصد حسینیؑ کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مرحوم بلوچستان کے در افتادہ علاقوں میں ذکر حسین ؑ کی محفلوں کی زینت شمار کیئے جاتے تھے۔خدوند متعال مرحوم کو جوارآئمہ معصومین ؑ میں محشور فرمائے اور تمام پسماندگان کو اپنی بارگاہ عظیمہ سے صبر جمیل مرحمت فرمائے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) چیف جسٹس آف پاکستان بدنام زمانہ دھشت گرد داود بادینی کی رہائی کا نوٹس لیں ۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے سینکڑوں معصوم انسانوں کے قاتل بدنام زمانہ دھشت گرد داود بادینی کی رھائی انصاف کے خون کے مترادف ہے کئی بار کے سزائے موت کے دہشتگرد کی رہائی ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،داود بادینی کی رھائی کسی سانحہ سے کم نہیں ہے ان خیالات کا اظہار ترجمان ایم ڈبلیو ایم علامہ مقصود علی ڈومکی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نظام انصاف سے عوام کی مایوسی کا سبب یہی ہے کہ یہاں ملک اسحاق اور داود بادینی جیسے دھشت گرد باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ نظام انصاف کی پیچیدگیا ں اور اداروں میں موجود کالی بھیڑیں معاشرے میں عام عوام تک انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ چیف جسٹس کو اس المناک سانحہ کا فی الفور نوٹس لینا چاہیے۔ نیشنل ایکشن پلان اور اپیکس کمیٹی کے ذمہ داران اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ آخر جس قاتل دھشت گرد کو عدالتیں کئی بار سزائے موت سنا چکی ہیں اور وہ سینکڑوں معصوم انسانوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہے وہ کیسے با عزت بری ہو سکتاہے۔ بدنام زمانہ دھشت گرد کی رہائی نے ریاستی اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ بلوچستان کے سینکڑوں ہزارہ شیعہ شہداءکے وارث مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دیا جائے۔ وارثان شہداءکا مطالبہ ہے کہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے سے لے کر کوئٹہ کے قتل عام تک ان سانحات میں ملوث تمام مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ اس سے قبل سانحہ شب عاشور جیکب آباد میں ملوث دھشت گردوں کو بھی باعزت بری کیا گیا ہے اس لئے قانون ساز ادارے بھی اقتدار کی رسہ کشی کی بجائے انسان دشمن دھشت گردوں کے خلاف نئی قانون سازی کریں اور عدلیہ اپنے نظام عدل میں موجود سقم دور کرے۔ تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے۔

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن(قسط ۱)

وحدت نیوز(آرٹیکل) انسان اور اختلافات لازم و ملزوم ہیں، ہر انسان دوسروں سے مختلف ہوتا ہے، یہ اختلاف سوچ، عقیدے اور نظریے سے لے کر رنگ، نسل، قبیلے، زبان،آداب، اخلاق ،تجارت، سیاست اور ہر طرح کے علمی و عملی شعبوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ہر انسان مختلف بنیادوں پر دوسروں سے اور دوسرے بھی اس سے اختلاف کرتے ہیں۔یہ اختلاف ہی ہے کہ جس سے دوسروں کے درمیان انسان کی انفرادیت قائم رہتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ صرف اپنی انفرادیت کو قائم رکھنے کیلئے بھی اختلاف کرنے کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔ یوں انسانی معاشرے میں اختلاف کے وجود سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جن مفاد پرست لوگوں نے  اختلاف کی طاقت اور توانائی کو سمجھا ہے انہوں نے ہر دور میں   اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے اختلاف کو بطورِ ہتھیار استعمال بھی کیا ہے۔

مثلاً اگر کوئی ناعاقبت اندیش   مسلمان ، غیر مسلم طاقتوں کی ایما پر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہے   تو اس کیلئے سب سے آسان اور سستا نسخہ یہ ہے کہ وہ اسلامی عقائد سے کھل کر انکار تو نہ کرے لیکن ڈٹ کر اسلامی عقائد کی مخالفت کرنی شروع کردے۔ چونکہ  کھل کر انکار کرنے سے لوگ اسے کافر اور مشرک کہنا شروع کردیں گے لہذا انکار کے بجائے اقرار بھی کرے اور اقرار کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کو رد بھی کرے۔جیساکہ اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ توحید ہے۔ اسلامی معاشرے میں جو شخص کھل کر توحید کا انکار کرے گا وہ مشرک کہلائے گا، لہذا مغرض افراد کھل کر توحید کا انکار نہیں کرتے بلکہ  مختلف الفاظ، کلمات ،آیات، روایات اوراصطلاحات کے ساتھ توحید کو عوام النّاس کیلئے مشتبہ بنا دیتے ہیں۔تلبیسِ حق کا یہ عمل جس قدر اسلامی لبادے میں ہوتا ہے اسی قدر لوگ زیادہ دھوکہ کھاتے ہیں۔

یوں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے منبر سے توحید کے خلاف ہرزہ سرائی کرے گا تو اس کیلئےکسی دوسرےپلیٹ فارم کی نسبت اسلام کے منبر سے لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا آسان ہوگا، پھر اگر یہی شخص اپنے نام کے ساتھ نعوذباللہ   مداح  و ثناخوان  رسولﷺ، نعت خوا ن ،ذاکرِ اہلبیتؑ، مبلغِ اسلام، ڈاکٹر اورعلامہ ۔۔۔وغیرہ بھی لگا ئے گا تو لوگ اور بھی دھوکہ کھائیں گے اور  پھر اگر ایسا شخص عمامہ اور عبا قبا بھی پہن لے تو پھر تو اس کا شر اور بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔پس تلبیسِ حق کا عمل حق کے لبادے میں ہی آسانی سے انجام پاتا ہے۔

استعماری طاقتیں جیسے مسلمانوں کے عقائد پر حملہ آور ہیں اسی طرح مسلمانوں کے احساسات و جذبات، معیشت و اقتصاد، سیاست و اخلاق، وحدت و بھائی چارے، علم و ٹیکنالوجی، بیان و ہنر نیز ہر شعبہ زندگی  پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہیں۔استعماری طاقتوں کے کچھ ایجنٹ منبر و محراب کے ذریعے واردِ عمل ہیں اور کچھ قلم، ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی ذمہ داری کونبھا رہے ہیں۔منبر ومحراب والوں کی بات ہوچکی اب ذرا قلم اور ذرائع ابلاغ والوں کی بھی خبر لیجئے۔ یہ ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کیلئے متحرک اور فعال رہتے ہیں۔ یہ کبھی بھی سی آئی اے، ایم آئی سکس ۔۔۔ یا مستشرقین کی سازشوں کی کوئی بات میڈیا پر آنے ہی نہیں دیتے اور نہ ہی اس سلسلے میں مستقل طور پر  تجزیہ و تحلیل کے کسی سلسلے کو چلنے دیتے ہیں بلکہ یہ ہمارے ہاں کے مسلمانوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ آپ کے دشمن ہندوستان ، امریکہ ، برطانیہ  اور اسرائیل نہیں بلکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز،امام احمد رضا خان بریلوی ، امام خمینی اور سید علی خامنہ ای ۔۔۔وغیرہ ہیں۔ چنانچہ یہ مختلف کتابوں میں لکھے ہوئے پرانے اختلافات، کہنہ غلط فہمیوں، ناخوشگوار واقعات اور قدیمی فتووں کو ہر دور میں زندہ کرتے ہیں، اور لوگوں میں ان کی تکرار کرتے ہیں تاکہ مسلمان کبھی بھی  آپس میں متحد نہ ہو سکیں۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ عصرِ حاضرمیں استعماری طاقتوں کی چالوں کو ایران میں اسلامی انقلاب کے رہنماوں نے خود بھی اچھی طرح سمجھا ہے اور عوام النّاس کو بھی احسن طریقےسے سمجھایا ہے۔استعمار کی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنماوں نے علمی اور عملی طور پر اہل تشیع اور اہل سنّت کے درمیان اتحاد اور وحدت کیلئے ہر قربانی دی ہے اور ہر قدم اٹھایا ہے۔یہانتک کہ ایران میں شیعہ اکثریت ہونے کے باوجود کبھی کسی شیعہ فقیہ نے اہل سنت یا وہابی و دیوبندی مسلمانوں کے خلاف کفر یا واجب القتل ہونے کا فتویٰ نہیں دیا، صرف یہی نہیں بلکہ  کبھی اہل سنت کے کسی بھی فرقے کے خلاف  کوئی ایسا جلوس نہیں نکالا گیا کہ جس میں کافر کافر فلاں فرقہ کافر کے نعرے لگائے گئے ہوں۔ اس کے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر اور ولی فقیہ نے باقاعدہ یہ فتوی دیا ہے کہ اہل سنت کے مقدسات و اکابرین کی توہین اور ان کی دل آزاری حرام ہے۔صاحبانِ علم و فکر بخوبی جانتے ہیں کہ بلاشبہ مسلمانوں میں بصیرت پیدا کرنے، استعمار کو پہچاننے اور آپس میں اتحاد و وحدت کے حوالے سے ایران کے مذہبی رہنماوں کی کوششیں آبِ ِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

مسلمانوں کے درمیان ، دشمن شناسی، بصیرت، استعمار کے مقابلے اور باہمی اتحاد و وحدت کی فضا استعمار ی طاقتوں کو ہر گز گوارا نہیں چنانچہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں کے عقائد پر حملہ آور ہیں، ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بار بار زندہ کرتے ہیں اوردوسری طرف وہ مسلمانوں کو ہر اس مرکزو محور سے بد ظن کرنے میں مصروف ہیں جو مسلمانوں کو متحد کرنے کا باعث بنے۔

ایسا ہی کچھ حالیہ دنوں میں عروج پر ہے۔ ان دنوں امام حسینؑ کے چہلم کی تقریبات کے خلاف بھی استعماری طاقتیں سرگرمِ عمل ہیں۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایام حضرت امام حسین عالی مقام کے چہلم کے ایّام ہیں۔ان ایّام میں صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل اسنت بھی جوق در جوق کربلا جانے کیلئے عراق کا رخ کرتے ہیں۔بلکہ غیرمسلم بھی عراق آتے ہیں،  یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد، بے مثل اور انوکھا عظیم الشّان اجتماع ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شیعہ اور سنی نہیں ہوتا، کوئی عربی و عجمی نہیں ہوتا، کوئی کالا اور گورا نہیں ہوتا، المختصر یہ کہ اگر عصرِ حاضر میں کسی نےمسلمانوں کے درمیان اخوّت، بھائی چارے، فداکاری، جانثاری، رواداری اور دینداری کی زندہ مثال کو دیکھنا ہوتو وہ ایک مرتبہ ضرور اس اجتماع  کو قریب سے دیکھے۔مسلمانوں کے درمیان  یہ اخوّت،یہ  بھائی چارہ، یہ محبت ، یہ فداکاری،یہ  جانثاری، یہ رواداری اوریہ  دینداری کسی بھی صورت  میں استعماری طاقتوں کو نہیں بھاتی۔ خصوصاً یہی عراق کہ جو گزشتہ چند سالوں تک استعمار کی ایک کالونی تھا اب اس میں مسلمانوں کی  وحدت اور اتحاد  نے استعمار کی نیندیں اڑا رکھی ہیں اور اب اسی عراق میں فرزندانِ اسلام کا یہ سالانہ عظیم الشّان اجتماع  امریکہ و برطانیہ کیلئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔

چنانچہ امسال اس اجتماع کے موقع پر مسلمانوں کو ہراساں اور بدظن کرنے کیلئے ذرائع ابلاغ   خصوصاً بی بی سی لندن پیش پیش  ہے۔ ایک تو لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جا رہی ہے تاکہ لوگ اس اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے گھروں سے نہ  نکلیں اور دوسرے اس اجتماع کے تقدس کو پامال کرنے کیلئےایسی تحریریں اور ڈاکومنٹریز وائرل ہو رہی ہیں  کہ جن سے عام لوگوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ  اس  اجتماع میں جنسی بے راہروی اورخواتین کی خرید و فروش کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔

مقصد صرف یہی ہے کہ مسلمان اس اجتماع  میں شرکت نہ کریں خواہ  وہ بدامنی اور جنگ سے ڈریں اور خواہ  وہ اس اجتماع کو غیر مقدس سمجھ کر اسے اہمیت نہ دیں ۔ قابل ذکر ہے کہ راقم الحروف کو خود بھی اس اجتماع میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ہے البتہ اس مرتبہ ویزہ نہ مل سکنے کے باعث شامل نہیں ہوسکا ورنہ بی بی سی کا مکمل طور پر پول کھولنے میں مجھے بہت آسانی ہوتی۔اس کے باوجود آئندہ قسط میں اربعین امام حسینؑ کے موقع پر استعمار ی ذرائع ابلاغ خصوصابی بی سی کی کارستانیوں کے حوالے سے  مزید  کھل کر بات کی جائے گی۔


تحریر: نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ

وحدت نیوز(آرٹیکل) مسئلہ فلسطین کی ابتداء کو آئندہ ماہ ایک سو دو برس مکم ہو جائیں گے۔ تاریخ میں عام طور پر مسئلہ فلسطین کی ابتداء 1948ء سے کی جاتی ہے جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قیام عمل میں آیا تھا تاہم اگر دقیق نگاہ سے ا س مسئلہ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی ابتداء تو اسی دن ہو گئی تھی جب بوڑھے استعمار برطانیہ کے اعلیٰ عہدیدارجیمز بالفور نے ایک اعلان نامہ کے ذریعہ فلسطین کی تقسیم صہیونیوں کے حق میں کرنے کے لئے حکومت برطانیہ کو خط لکھا تھا۔ اس اعلان کو اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ 2نومبر سنہ1917ء کی بات ہے کہ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے فوری بعد صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کی ٹھان لی تھی۔اقوام متحدہ جو اس وقت لیگ آف نیشن کے نام سے کام کر رہی تھی،فلسطین کا مقدمہ پیش کیا گیا تو عالمی طاقتوں کی ایماء پر اس مقدمہ کو صہیونیوں کے مقابلہ میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو پائی۔سنہ1922ء کے بعد 1947ء میں نئی اقوام متحدہ نے قرار داد نمبر 181کے ذریعہ فلسطین کی ناجائز تقسیم کا اعلان کر ڈالا۔نتیجہ میں دنیا بھر سے لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست اسرائیل سنہ1948ء میں قیام عمل میں آ گئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین ہمیشہ بنیادی مسائل کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے اور اس عنوان سے اقوام متحدہ نے کئی ایک قرار دادیں منظور کی ہیں جن کو بعد ازاں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی جانب سے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا رہاہے۔

بہرحال ہم بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے 74ویں سالانہ اجلاس کی کہ جو فلسطین پر صہیونیو ں کے غاصبانہ تسلط کے 72سال مکمل ہو نے پر ہو رہا ہے۔اس اجلاس کی تمام تر روئیداد کو دیکھنے اور طائرانہ نظر دوڑانے پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر دنیا کے سب سے اہم ترین اور پہلے مسئلہ کی طرف کسی نے توجہ مبذول کروائی ہے تو ایران اور ترکی تھے کہ جن کے سربراہان مملکت نے اپنی تقاریر میں فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کے خلاف بات کی اور فلسطینیوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی اگر بات کریں تو ایران، سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت فلسطینیوں کی تحریک آزادی اور فلسطین کی آزادی کا سب سے بڑا خواہاں ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور ر فلسطین کاز کا مدد گار بھی ہے، حتیٰ کہ ایران کے دستور میں فلسطین سمیت دنیا کے تمام مظلوموں کی حمایت بنیادی اصولوں کی دستاویز کے طور پر درج بھی ہے۔لہذا ایران کے صدر روحانی نے اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے بھی فلسطین کاز کی حمایت کو اقوام متحدہ کے فورم پر بیان کیا اور فلسطین کا مقدمہ پیش کیا ہے۔

دوسری طرف ترکی کے سربراہ مملکت رجب اردگان ہیں کہ جو ایران کے ہمسایہ بھی ہیں۔ماضی میں بھی فلسطین کا زکی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں حالانکہ حکومتی سطح پر ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات موجودہیں لیکن اردگان حکومت نے گاہے بہ گاہے فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ترکی کے صدر کے طرز حکومت اور دنیا کے بدلتے سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔حالانکہ شروع شروع میں ترکی شام کے خلاف سرگرم تھا اور یہی اردگان کہتے تھے کہ بشار الاسد کی حکومت کو جانا ہو گا لیکن اب ان کا موقف تبدیل ہو چکا ہے اور یہ سمجھ چکے ہیں کہ شام سمیت عراق کو غیر مستحکم کرنے کا امریکی منصوبہ جہاں شام و عراق کو تباہ کر دیتا وہاں ساتھ ساتھ ترکی بھی اس کا شکار بنے بغیر نہ رہتا۔

بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کی اور اس میں فلسطین کا مقدمہ پیش کرنے کی تو ایران کے بعد ترک صدر تھے کہ جنہوں نے فلسطین کا زکی کھل کر حمایت کی اور صہیونی جرائم کو آشکار کرتے ہوئے صہیونیوں کی مکاریوں اور ظلم و ستم کی داستانوں کو بیان کیا۔اردگان کی تقریر کے تاریخی جملوں میں قابل ذکر جملے یہ تھے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ نا انصافی فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ آج مقبوضہ فلسطین صہیونی مظالم کی زدمیں ہے اور سب سے زیادہ ناانصافی فلسطینی عوام کے ساتھ ہو رہی ہے جبکہ غاصب اسرائیل کہ جو سنہ1947ء سے پہلے کوئی وجود نہ رکھتا تھا آج تک ظلم و ستم کے ساتھ مقبوضہ فلسطین پر قابض ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہاہے۔یہاں اردگان کے جملوں کو تاریخی جملے کہنے کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ انہوں نے صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی اصل حقیقت کی قلعی کھول دی ہے اور بتایا ہے کہ سنہ1947ء سے پہلے اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ تھی، اس کا واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ اردگان نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے فلسطین کی آزاد ریاست کہ جس کی بنیاد سنہ1948ء سے قبل کی ہے اس کی حمایت کی ہے جس میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی۔

اردگان نے اسرائیل کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے اقوام عالم سے سوال کیا کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ جولان کی پہاڑی علاقوں کو جعلی ریاست اسرائیل دنیا کی آنکھوں کے سامنے اپنے اندر ضم کر لے جیسا کہ پہلے بھی اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کو مقبوضہ بنا رکھا ہے۔یعنی اس عنوان سے اردگان کا موقف شام کی حمایت میں بھی سامنے آیا ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

اردگان کی تقریر میں اہم ترین بات جو غاصب صہیونیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے لئے کافی تھی وہ اردگان کا تقریر کے دوران ہاتھوں میں مقبوضہ فلسطین کا نقشہ اٹھا کر اقوام عالم کو دکھانا تھا۔اردگان کے ہاتھوں میں موجود فلسطین کا نقشہ در اصل صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ان جھوٹے اور منفی پراپیگنڈوں کا جواب بھی تھا کہ جس میں وہ گذشتہ برس ہاتھوں میں ایسی من گھڑت تصاویر لے کرآئے تھے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور دیگر بتا رہے تھے تاہم اس مرتبہ اردگان کے ہاتھوں میں فلسطین کا نقشہ صہیونی ریاست کے وجود کی نفی کے ساتھ بہترین حربہ تھا جس پر اب تک صہیونی ذرائع ابلاغ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

اسرائیل کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے ترک صدر کو فلسطین کے حقائق بیان کرنے اور صہیونی ریاست کی نفی کرنے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اردگان نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی نفی کے معاملے میں جھوٹ بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ اردگان نے کہا تھا کہ سنہ1947ء سے قبل دنیا میں کسی بھی جگہ اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہ رکھتی تھی۔یقینا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اس بات پر شدید برہم ہیں۔نیتن یاہو نے ساتھ ساتھ ترک صدر کو کرد عوام کا قاتل بھی قرار دیا ہے۔

نیتن یاہو کے جواب میں ترک صدر کے ترجمان ابراھیم کالن نے نیتن یاہو کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی جانب سے تاریخی حقائق بیان کرنے پر لگتا ہے کہ نیتن یاہو کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں مسلم دنیا کے 57ممالک میں سے صرف ایران اور ترکی ہی واضح طور پر فلسطین کی حمایت میں کھڑے نظر آئے ہیں جبکہ امید یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے اولین مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کریں گے۔


تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

Page 8 of 977

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree