The Latest

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےمرکزی رہنما و سابق وزیر قانون سید محمد رضا ( آغا رضا ) نے گذشتہ روز مچھ میں رونما ہونے والی دہشت گردی کے واقع کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقع میں ملوث دہشت گرد کی پولیس کے ہاتھوں فوری گرفتاری قابل تحسین عمل ہے ۔کان کن نور علی پر قاتلانہ حملے میں ملوث گرفتار دہشت گرد قاتل کو سخت سزا دیجائے ۔عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت اور سکیورٹی پر مامور اداروں کی ذمہ داری ہے ۔امن و امان کی صورت حال قدرے بہتر کیا ہوئی کہ ایک اور افسوس ناک دہشت گردی کا واقع رونما ہوا یہ واقعہ کھلی دہشت گردی ہے جسے رہزنی کا واقع قرار دیا جا رہا ہے گرفتار مجرم کو سخت سے سخت سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے قانون کیمطابق جرائم میں ملوث عناصت کو سزا ملنے سے ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام میں کمی لائی جا سکتی ہے ماضی میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کیوجہ سے ایسے واقعات کو دوام بخشا اور جرائم میں اضافہ ہوتا گیاجسکا خمیازہ آج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑھ رہا ہے ۔

تاریخچہ علم منطق / THE HISTORY OF LOGIC

وحدت نیوز(آرٹیکل) [دورہ یونان}علم منطق کب اور کیسے اپنے سیر تکامل کو طے کیا اس کا بیان ایک دشوار اور ناممکن کام ہے لیکن اکثر مورخین کا عقیدہ ہے کہ اس علم کی بنیاد دوران یونان باستان سے ملتا ہے ۔تاریخی کتابوں کےمطابق پہلا شخص جس نے عقلی استدلال سےاستفاد ہ کیا وہ {پارمیندس م  487} تھا۔ اس نے ان مباحث کو جدلی رو ش کےمطابق بیان کیا  لیکن اس کے بعد [زنون م426۔491] جو پارمیندس کے شاگرد تھااپنے استاد کی پیروی کرتے ہوئے اس روش کو مزید آگے لےگیا  اوراس استدلالی روش کومزید رونق بخشا۔

قرن پنجم کےآخر میں یونان کے بعض اندیشمندوں نے اپنے شاگردوں  کو جدل اور مناظرہ کی طرف تشویق کی۔ان اندیشمندوں میں  سے برجستہ ترین فرد[پرودیکوس] کا نام لیا جاسکتا ہے  جو آخری عمر میں جلا وطن ہو ا یہاں تک کہ اس کے تمام تالیفات جلائے گئےکیونکہ اس نے  عرف  یعنی موجودہ نظام  کی سخت مخالفت کی تھی  ۔ اس نے جدلی روش کو اس حد تک آگے بڑھایا کہ تمام موجودات کے لئے انسان کو معیار و ملاک قرار  دیا اور حقایق ہستی کے منکر ہو ا۔بعض افراد محکمہ قضائی میں اپنے حقوق کی اثبات کے لئے جدلی و استدلالی دانشمندوں سے استفادہ  کیاکرتے تھے جو ایک مدت کے بعد سوفیست  [دانشمند ] کے نام سے پہچانے جانےلگے۔ ان افراد میں [پروتاگراس  380 ۔485 م] کا نام لیا جاسکتا ہے۔ان دانشمندوں کے لئے جو چیز زیادہ اہمیت کا  حامل تھا وہ محکمہ قضائی  میں   اپنے موکلوں کےحق کوحاصل کرنا تھا۔یہ افرادحق بات کی اثبات کے درپے نہیں تھے اس لئے انہوں نے اپنی استدلال میں مغالطہ سے کام لینا شروع کیا  جس کی وجہ سے  یہ لقب [سوفیست] اپنے حقیقی معنی سے نکل کر ان لوگوں پر اطلاق ہونا شروع ہواجو روش مغالطہ سے استدلال کیا کرتے تھے۔

اس غبار آلود دور میں  سقراط[399 ۔469 م]  نےعلم و دانش کے میدان میں قدم رکھا۔  اس نے سوفیست  کی فکری روش کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے وہ قلیل عرصے میں  زیادہ مشہور ہوگیا ۔اس نے اپنے علمی کوششوں سے اس گروہ کا  خاتمہ کیا اوراس گروہ کوسخت شکست سے دوچار ہوناپڑا اور یہی سقراط کے لئے بہت زیادہ پیرورکار فراہم کرنے کاسبب بنا ۔

سقراط کے برجستہ ترین پیروکاروں اور شاگردوں میں  افلاطون [347 ۔427 ق م ]کا نام لیا جاسکتا ہے۔ افلاطون نےسقرا ط کے تجربات کی حفاظت کی ۔افلاطون  اشیاء کی تعریف کرنے کے  لئےجنس و فصل  کا سہارالیا کرتے تھے ۔ اس نے [آتن] میں زندگی گزارنے اور تدریس کرنے کے لئے ایک باغ  کاانتخاب کیا جو بعد میں افلاطون اکیڈمی  کے نام سے مشہورہوا۔افلاطون کے برجستہ شاگردوں میں سے ایک ارسطو تھا۔ مورخین کے مطابق ارسطو [ارسطا طا لیس 322 ۔384  ق۔م ] مقدونیہ کے شھر استاگیرا میں متولد ہوا۔اس کا باپ [نیکو ماخوس]ایک طبیب تھا ۔ارسطو اپنے خاندانی پس منظر اور علم دوستی کے سبب تحصیل علم   میں مصروف ہوا اور اسی بنا پر 17 [سترہ] سال کی عمر میں  افلاطون کے درس میں  حاضر ہوا اور افلاطون کے پاس بیس سال  تک شاگردی اختیارکی اور یہ شاگرد زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے استاد سے بھی زیادہ مشہور ہو گیا۔

افلا طون استدلال کے لئے صرف صحیح تعریف کو کافی نہیں سمجھتا تھا۔ اس لئے اس نے  پہلی مرتبہ علم منطق کو آٹھ ابواب میں تدوین کیا جو یہ ہیں:

۱۔ قاطیغوریاس [مقولات دہ گانہ]
۲۔باری ارمیناس [قضایا]
۳۔انولوطبقای اول [قیاس]
۴۔ انولوطبقای دوم  [برہان]
۵۔طوبیقا [جدل]
۶۔ ریطوریقا [خطابہ]
۷۔سوفیسطیقا [مغالطہ]
۸۔ بوطیقا  [شعر]

ارسطو کی طرف بہت سے تالیفات کی نسبت دی گئی ہے یہاں تک کہ بعض مورخین کے مطابق ان تالیفات کی تعداد ایک ہزار ہیں۔انہی تالیفات میں سے  صرف منطقی  مباحث کے بارے میں تالیف کی گئی  منطق ارسطو باقی رہ گیا ہے ۔یہ کتاب [ارغنون ۔ ارگانون] {آلت و ابزار} اب بھی علم منطق میں ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے ۔

ارسطو کے دنیا سے جانے کے بعد  زنون رواقی[260 ۔350 ق۔م] نے ارسطو کے مباحث کوجا ری رکھا اور اس نے [معرف] اور [قیاس  شرطی] کے مباحث  کو اضافہ کیا۔فرفوریوس صوری [233 ۔304 ق۔م]  نےزنون کے بعد  ارسطو کی کتاب پر شرح لکھااور ایک مقدمہ بعنوان مدخل کا اضافہ کیاجو کلیات خمس کے مباحث پر مشتمل  تھا۔اس کے بعد یہ بحث ایک مباحث منطقی اور ایساغوجی مباحث کے نام سےمشہور ہوا۔ارسطو کی یہ تقسیم بندی ایک طولانی مدت تک بڑی آب و تاب  کے ساتھ  جاری رہا یہاں تک کہ فر فوریوس کے بعد بعض  اہل منطق نے مقولات عشر کو منطق سے جدا کر کے فلسفے کے مباحث کے ساتھ ملحق کیااور مباحث معرف جو برہان  کےباب میں شامل تھا اسے کلیات خمس میں سے قرار دیا۔یہ سلسلہ دکارت[1596 ۔1650 ق۔م] کے زمانے تک جاری رہا ۔دکارت نے نئے  نظریوں کے ذریعے علم منطق میں قابل توجہ تحول لے آیا اور یہ تحول و تبدل منطق جدید کے وجود میں آنے تک فراز و نشیب کے ساتھ پائیدار رہا ۔

بعض مورخین اس گزارش کے برخلاف علم منطق کے زادگاہ کو مشرق زمین سمجھتے ہیں اور ہندوستان ، ایران ، جاپان ،چین  اور مصر کو اس علم کا مرکز و گہوارہ سمجھتے ہیں ۔

[دورہ اسلامی]
 اسلامی تہذیب و تمدن میں علم منطق کب اور کیسے وارد ہوا اس حوالے سے بھی مورخین کے درمیا ن شدید اختلافات پائے جاتےہیں  لیکن  جو  بات مشہور ہے وہ یہ ہے کہ فلسفہ [فلوطین] پہلی مرتبہ مشرق زمین میں وارد ہوا ہے۔مسلمانوں نے جب اسکندریہ کو فتح کیا تو مسلمانوں  نے یونان کے علمی و فلسفی  مراکز تک رسائی حاصل کی کیونکہ اس زمانے میں اسکندریہ فلسفہ و الہیات یونان کا مرکز تھا ۔ شام و عراق کے مناطق  میں بسنے والے افراد جو سریانی زبان بولتے تھے،  یونانی زبان کے مطالعے میں مشغول ہو گئے  اور انہی افراد نے بہت سارے اہم منطقی  آثارکا ترجمہ کیا اور یہی مسلمانوں کے ان آثار سے زیادہ آشنائی پیدا کرنے کا سبب بنا ۔یہ ترجمے فقط ارسطو کے مباحث{ ایساغوجی  ،فرفوریوس و قاطیغوپارس باری آرمیناس اور آنولو طبقای اول} پر مشتمل تھے۔ جن افراد نے ترجمے کاکام مکمل کیا ا ن میں یعقوب ہاوی م 708 م سورس بسوخت  م667 م جارجیوس م 724م اور حسین بن اسحاق  قابل ذکر ہیں ۔

اسلامی مناطق میں فلسفی و منطقی مباحث کو اس وقت زیادہ  رونق آیا جب وہاں  علمی مراکز وجود میں آیا مخصوصا ایسے مراکز جن میں یونانی  متون اور کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے اور اکثران مراکز کی بنیاد خلفای عباسی کے دور میں رکھی گئی ۔اہم ترین مدرسہ و مرکز[ بیت الحکمۃ] تھا جو مامون عباسی کے دستور پر بنایا گیا تھا۔ عبد اللہ بن مقضع جنہوں نے ارسطو کے قاطیغوریاس اور انولوطبقای اور فرفوریوس کے ایساغوجی کو منصورخلیفہ عباسی کے لئے ترجمہ کیا ۔منصور عباسی کے دورکے بعد  منطق دانوں نے منطقی کتابوں  کی تفسیر وتشریح پر زیادہ کام شروع کیا یہاں تک کہ بعض افراد نے اس ضمن میں نئی کتابیں بھی تالیف کی ۔ابو  یوسف ،یعقوب بن  اسحاق الکندی [م258 ھ۔ق] ملقب بہ فیلسوف عرب جو  اپنے استعداد علمی کی وجہ سے مامون اور معتصم کے پاس ایک خاص مقام رکھتا تھا نے   بیشتر ارسطو کی کتابوں کا شرح  لکھا۔ ابو العباس سرخسی [م280ھ۔ق]اور محمد بن زکریا رازی[م 151 ھ۔ق] کے دور  میں بھی یونان سے آئے ہوئے علوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ اس زمانے میں علم منطق اپنے طفولیت سے گزر رہاتھا۔اس دور کے بعد فلسفہ ا و رمنطق جدید دور میں داخل ہوا جسے عصر طلائی حکمت کہا جاتاہے۔

اس دور میں جس اہم شخصیت  نے بنیادی کردار ادا کیا وہ حکیم ابو النصر محمد فارابی [260۔ 339 ھ۔ق] معروف بہ معلم ثانی ہے ۔فارابی کا علم منطق میں نقش و تاثیر  اس قدر زیادہ ہے کہ اکثر دانشمندان فارابی کو اسلامی دور میں علم منطق کا بنیان گزار سمجھتے ہیں ۔

فارابی کے اہم کاموں میں سے ایک [منطق ارسطو ]  ارغنون اور [ایساغوجی] فرفریوس پر شرح لکھنا ہے ۔اس کے علاوہ  انہوں نےبے شمار کتابیں علم منطق کے موضوع پر تالیف کی جو آج بھی علم منطق کے اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتے ہیں ۔فاربی  نےمتعدد شاگردوں کی تربیت کی۔ ان کے معروف شاگردوں  میں یحیی بن عدی منطقی  کا نام لیا جا سکتا ہے ۔اس عصر کے دوسرے منطق دانوں میں  ابو سلیمان سجتانی[398 ھ ۔ ق ] ابوحیان توحیدی[م414 ھ۔ق] عیسی بن زرعہ[م 398 ھ۔ق] ابن مسکویہ [م 325 ھ۔ق ابو عبد اللہ ناتلی [343 ھ۔ق] وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ فارابی کے علاوہ یہ تمام افراد اس قدر مشہور نہیں ہوا  اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ  [ناتلی]
کے برجستہ  ترین شاگرد علم و حکمت کے میدان میں وارد ہوا اور یہ فیلسوف و حکیم حسین بن عبد اللہ شیخ الرئیس بو علی سینا  جو شہر بخارا  کے  کسی دیہات میں 370 ھ ق میںمتولدہوا۔پانچ سال کی عمر میں والد کے ہمراہ بخارا آیا اور قرآن کی تعلیم حاصل کی ۔دس سال کی عمر میں  ادب کے علوم میں مہارت حاصل کی اور کچھ مدت تک مذہب اسماعلیہ کوقبول کیا ۔انہوں نے حکمت ، منطق اور ریاضی کو ابو عبد اللہ ناتلی کے پاس سیکھا اور بعد میں وہ خود ان علوم کے برجستہ ترین اساتیذمیں شامل ہوا ۔ابن سینا عقلی علوم کے علاوہ  طبی علوم کے بھی بڑے اساتیذ جیسے ابو ریحان بیرونی اور ابو سہل مسیحی سے سیکھااور اپنے دور میں معروف طبیب کے عنوان سے مشہور ہوا۔بو علی سینا کے بے شمار گرانقدر تالیفات ہیں کہ ان میں سےکتاب شفا و قانون قابل ذکر ہے ۔ بھمینار بن مرزبان [458ھ۔ق] ابو عبد اللہ معصومی بو علی سینا کے شاگرد ہیں ۔ ابن سینا کے بعد بے شمار منطق دان میدان میں واردہوئے لیکن کوئی بھی ابن سینا کی طرح مشہورنہیں ہوا جیسے ابو حامد غزالی ،قاضی زید الدین عمر سہلان ساوجی ،محمد بن عمر فخر رازی ۔ابو جعفر نصیر الدین طوسی ،نجم الدین علی بن کاتبی قزوینی ،شیخ شہاب الدین سہروردی [بنیانگذار حکمت اشراق]ابو جعفر قطب الدین محمد بن رازی ،سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی ،سعد الدین محمد داونی ،محمد بن ابراہیم شیرازی  ملا صدرا[بنیادگذارحکمت متعالیہ اور ملا ہادی سبزوار ی وغیرہ ۔یہ سب حکماء ایک درجے کے نہیں تھے ان میں سے بعض جیسے سہروردی اور ملا صدرا  نےحکمت مشائی میں ایک نئے تحول لے کرآیا جس کی وجہ سے یہ افراد  بنیانگزار کے طور شہرت پایا۔

[دورہ منطق جدید ]
منطق جدید کو منطق ریاضی و منطق نمادی بھی کہا جاتا ہے  ۔بعض ریاضی دان جیسے لایب نیتز[1646 ۔1716] فلیسوف و ریاضی دان آلمانی علم منطق اور ریاضی کو تلفیق کرنےکے لئےکوشش کی  کیونکہ وہ چاہتے تھا کہ منطقی  مسائل کو حل کرنے کے لئے ریاضی سے مدد لے۔
لایب نیتزنے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے زیادہ سعی و کوشش کی اسی بنا پر بعض افراد ان کو[ پدر علم منطق جدید] کے نام سے یاد کرتے ہیں۔جرج بوی ریاضی دان انگلستان،آگو ستوس دمورگانریاضی دان انگلستان ،گوتلوپ  فرگر ،زوزف پائانو ریضی دان اٹلی  یہ سب  ایسےافراد  تھے جنہوں نے منطق جدید کی تدوین میں  کام کیایہاں تک کہ بر تراند راسل [1872 ۔1970 م]اور آلفردنودث وایتہد [1871۔ 1937م] فلاسفر انگلستان نے  اصول ریاضی کے عنوان سے کتابیں لکھی جو  منطق جدید کی تدوین میں مددگار ثابت ہوئے۔اور یہ سلسلہ ان دونوں کے بعد بھی جاری و ساری رہا لیکن اختصار کی خاطرہم  ان سب کو یہاں ذکر نہیں کریں گے ۔
علم منطق آج ایک اہم بحث  اور موضوع کے طورپر پورےدنیا  کے یونیورسٹیوں  میں تدریس کی جاتی ہے  ۔ علم منطق کی اہمیت اور مختلف علوم میں  اس کا اثر اورنقش قابل انکار ہے ۔


منابع:
1۔سیر حکمت در اروپا، آماکوویسکی
2۔تاریخ فلسفہ۔ برتداندراسل ترجمہ:بہالدین خرمشاہی
3۔تاریخ فلسفہ اسلامی۔ ترجمہ گروھی از دانشمندان
4۔تاریخ فلسفہ غرب۔   ترجمہ:نجف دریا بندری
5۔سیر فلسفی در جہان اسلام۔دکتر علی اصغر حلبی
6۔مبانی منطق جدید۔  سید علی اصگر خندان
7۔دوران اسلامی۔  میر محمد شریف
8۔یونان باستان۔محمد علی فروغی
9۔تاریخ منطق۔کاپلتون فردریک ترجمہ:فریدون شایان
10۔درآمدی بر منطق جدید۔ضیاء موحد
11۔دورری منطق جدید۔ لطف اللہ نبوی
12۔تاریخ فلاسفہ ایرانی از آغاز اسلام تا امروز۔دکتر سید حسین نصر
13۔تاریخ فلسفہ درایران۔میر محمد شریف
14۔منطق مقدماتی ۔ابوالفضل روحی
15۔ تاریخ فلسفہ د  ر اسلام میر محمد شریف ج 1 باب 1


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز (گلگت) گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے متعلق کشمیری سیاستدانوں کی غیر ضروری مداخلت سے علاقے میں کشمیر کیلئے نفرت کا ماحول بن رہا ہے۔سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان کی حیثیت سٹیٹ جیسی نہیں رہی ہے ۔گلگت بلتستان کو مزید بے آئین حالت میں نہیں رکھا جاسکتا۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ کشمیر ی رہنما محض بدنیتی کی بنیاد پر گلگت بلتستان کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور اکہتر سالوں سے 28 ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے علاقے کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام کا آئینی حقوق کے حوالے سے ایک ہی بیانیہ ہے جبکہ چند لوگ جن کی تعداد انگلیوں میں گنی جاسکتی ہے وہ آئینی حقوق کی مخالفت میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ آئینی گلگت بلتستان میں نہیں رہنا چاہتے وہ بے شک کشمیر چلے جائیں۔گلگت بلتستان کا نمائندہ فورم قانون ساز اسمبلی ہے جس نے دو مرتبہ متفقہ طور پر آئینی حقوق کے حوالے سے قرارداد پاس کی ہے جبکہ سول سوسائٹی اور بار کونسلز کے کئی مرتبہ آل پارٹیز کانفرنسز کا متفقہ اعلامیہ بھی آئینی گلگت بلتستان کے حوالے سے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو مایوس کیا ہے اور موجودہ تحریک انصاف کی حکومت اور سپریم کورٹ سے عوام نے امیدیں وابستہ کی ہوئیں ہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

وحدت نیوز(بھکر) مجلس وحدت مسلمین ضلع بھکر کے زیراہتمام پنجگرائیں میں مرکزی امام بارگاہ قصرابوطالب میں جشن صادقین کا اہتمام کیا گیا، جشن صادقین سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری تنظیم سازی آصف رضا ایڈووکیٹ، ضلعی سیکرٹری جنرل سمیت دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا، ضلع بھکر میں جشن صادقین کا دوسرا پروگرام ایم ڈبلیو ایم سیال یونٹ کی جانب سے امام بارگاہ موکب حسینی میں بھی جشن صادقین کا بھی اہتمام کیا گیا، علامہ احمد اقبال رضوی نے مختلف مقامات پر جشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرورکائنات کی شخصیت عالم اسلام کے لیے وحدت کی عظیم مثال ہے، آپ کی سیرت رہتی دنیا تک مثالی ہے، ہمارا معاشرہ اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک آپ کی سیرت پر عملی طور پر عمل نہ کیا جائے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم بھکر کے ضلعی سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ سفیر حسین شہانی، سید ظہیر عباس نقوی، مزمل عباس اور دیگر رہنما موجود تھے۔

وحدت نیوز(لیہ) مجلس وحدت مسلمین ضلع لیہ کے زیراہتمام مسجد و امام بارگاہ ٹبی کربلا میں ماہ ربیع الاول کے حوالے سے جشن صادقین کا اہتمام کیا گیا، جشن صادقین سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری تنظیم سازی آصف رضا ایڈووکیٹ، ضلعی سیکرٹری جنرل سمیت دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا، بعدازاں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید احمد اقبال رضوی نے آئی ایس او کے ادارے المصطفیٰ ہاسٹل کا دورہ کیا اور نوجوانوں سے ملاقات کی، اس موقع پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اُمت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت کی اشد ضرورت ہے، اس سال ربیع الاول کے دوران ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان اور رہنمائوں نے میلاد کے جلوسوں میں شرکت کرکے وحدت کی فضا کو ہموار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما و سابق وزیر قانون سید محمد رضا (آغا رضا) ضمنی الیکشن پی بی 26 کیلئے امیدوار ہوں گے ۔واضح رہے کہ سید محمد رضا نے بائی الیکشن شیدیول جاری ہونے سے پہلے ہی اس الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا جسے پارٹی قیادت نے رد کر دیا تھا اس دلیل کیساتھ کہ شخصیات پارٹی قیادت اور پالسیسیوں کے پابند ہوتے ہیں لہذا انہوں نے پارٹی قیادت اور کارکنان کے متفقہ فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اپنے ذاتی فیصلے پر نظر ثانی کر کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعادہ کیا تھا آج انہوں کاغذات نامزدگی جمع کروا دی ہے۔انہوں نے پارٹی کارکنان سے مختصر خطاب میں کہاکہ حلقہ پی بی 27 سے منتخب ہو کر حلقہ پی بی 26 میں شہدا ہاوسنگ سکیم کا اجراء کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں حلقوں میں بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔

ولادت پیامبرص اور ہماری ذمہ داری

وحدت نیوز(آرٹیکل) شروع کرتا ہوں اُس ذات اقدس کے بابرکت نام سے جو نہایت رحمان و رحیم ہے، وہ مالک و خالق ہے جس کی قدرت میں ہماری جان ہے اور یہ تمام کائنات اُسی کی بنائی ہوئی ہے وہ عالمین کا رب ہے۔ سورہ حمد میں ہم ہر روز ہر نماز میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ "ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے"۔ اس خالق نے کائنات کو ایسے ہی خلق نہیں فرمایا ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا قادر، دانا و حکیم ہے اور حکیم کبھی کوئی بے فائدہ کام انجام نہیں دیتا، اُس نے اس عالم کو خلق کیا ہے تو ایک خاص مقصد اور ہدف کے ساتھ خلق کیا ہے، اس کائینات میں موجود ہر چیز چاہے وہ جاندار ہو یا بےجان بےفائدہ نہیں ہیں۔ وجود کائینات کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں کوئی اس کو ایک حادثہ قرار دیتے ہیں تو کوئی انسانوں کو بندروں یا ان جیسی نسلوں سے قرار دیتے ہیں لیکن انسان جو اس دنیا کی تمام چیزوں سے افضل اور قیمتی شی ہے بلکہ یوں کہیں کہ دنیا بنی ہی انسانوں کے لئے ہے اور انسانوں کو جو چیز باقی سب سے ممتاز کرتی ہے وہ اُس کی عقل ہے۔ آج ہم خلقت کائنات کے حوالے سے مختلف نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ یہ دنیا بے فائدہ اور ہدف سے خالی نہیں ہے اس صورت میں فقط نظریہ اسلامی ہی ہے جو انسانوں کے اس شبہ کو دور کرتا ہے اور انسانوں کے قلوب کو تسکین واقعی پہنچاتا ہے۔

تو ہم ذکر کر رہے تھے دانا و حکیم خالق کا کہ اُس نے انسانوں کو ہدف کے بغیر خلق نہیں فرمایا بلکہ ایک خاص ہدف کے ساتھ خلق فرمایا ہے اور حکیم جو کام کرتا ہے اُسے سلیقے کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ اُس نے انسانوں کو خلق کیا ہے پھر ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے بھی ایسے انسانوں کو خلق فرمایا جو کہ ہمارے ہی جنس سے ہیں لیکن وہ ایمان کے اعلی درجہ پر فائز ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خداوند عالم کی طرف سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں تاکہ انسانوں کو اپنے اصلی ہدف کی طرف رہنمائی کرسکیں اور ان کو اس دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر صراط مستقیم کی راستے پر چلا سکیں۔

ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو پیغمبر آخرزمان کے امتی کہلاتے ہیں جودنیا میں رب عالمین کی طرف سے آخری پیامبر ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتاب آخری کتاب آسمانی ہے اور تمام آسمانی کتب میں سے جامع ترین کتاب ہے جو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے ہدایت و معجزہ بن کر نازل ہوئی ہے۔

ربیع لاول کا مہینہ مسلمانوں کے لئے خوشی کا مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں خداوند عالم کے پیارے اور محبوب نبی، سردار انبیاء رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ص دنیا میں تشریف لائے۔ تاریخ ولادت پیامبر کے حوالے سے اھل سنت حضرات اور اھل تشیع میں اختلاف ہے، اھل سنت کی نظر میں آپ کی ولادت ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی اور اھل تشیع ۱۷ ربیع الاول کو روز ولادت مانتے ہیں۔ لیکن کچھ سالوں سے اس ہفتہ کو "ہفتہ وحدت" کے طور پر مناتے ہیں جوکہ اتحاد امت مسلمہ کے لئے ایک اچھی کاوش ہے۔

ہمارے نبی ص وہ عظیم پیامبر ہے کہ جس کے بارے میں سورہ الانبیاء کی آیت نمبر ۱۰۷ میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے " اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے۔"

رحمت کا معنی بخشش و مھربانی ہے یعنی پیغمبر ص کی ہر رفتار و گفتار انسانوں کی اصلاح کے لئے ہے ان کا اٹھنا بیٹھنا، ان کا جہاد ان کی قضاوت، ان کے اصول ان کے فرامین غرض ان کی ہر ہر حرکت رحمت سے خالی نہیں ہے بس صرف سمجھنے کی دیر ہے۔مگر ہم ان چیزوں کو سمجھ نہیں پاتے ہیں ہمارے میموری میں اتنی کیپسٹی بھی نہیں ہوتی کہ ہم ان کے افکار کو سمجھ سکیں بشرطیکہ ہم غوروفکر کریں۔ ہم جب بھی بازار سے کوئی نئی چیز خریدتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے ہدایت نامہ کو پڑھتے ہیں تاکہ اس چیز کے چلانے کے طریقے کو صحیح سمجھ سکیں اور اس کی حفاظت کر سکیں لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ہم سب سے آسان اسلام کو سمجھتے ہیں جس کے بارے میں تلاش و تحقیق تو کوئی نہیں کرتا لیکن نظریہ دینے کے لئے سب تیار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں نااتفاقی، انتشار، فساد کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہی ہے۔ ہم صرف خاندانی مسلمان ہیں لیکن تحقیقی کوئی نہیں ہے اسی لئے ہم فوری دوسروں کے بہکاوے میں آجاتے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان عالم اسلام کو پہنچتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک جگہ چار دوست رہا کرتے تھے ان میں سے ایک ترکی، ایک عربی، ایک رومی اور ایک پاکستانی تھا۔ ایک دن وہ لوگ پیشے جمع کر کے میوہ فروش کے پاس میوہ خریدنے جاتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر ان کے درمیان لڑائی شروع ہوجاتی ہیں کیونکہ ان چاروں کا ایک میوہ پر اتفاق نہیں ہوتا، پاکستانی بولتا ہے مجھے انگور خریدنا ہے، عربی کہتا ہے مجھے عنب چاہئے، ترکی بولتا ہے مجھے اُزوم چاہئے اور رومی بولتا ہے مجھے استنابیل خریدنا ہے۔ اتنی دیر میں ایک شخص وہاں پہنچتا ہے جس کو ان چاروں زبانوں پر عبور حاصل تھا وہ اس مسئلہ کو سمجھتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ پیسے مجھے دو میں تمھارے مسئلہ کو حل کرتا ہوں۔ وہ شخص ان چاروں سے پیسے لیتا ہے اور میوہ فروش سے کہتا ہے کہ بھائی ان کو انگور دے دو، جب وہ انگور دیتا ہے تو چاروں خوشی خوشی اسے لے کر چلے جاتے ہیں۔ ان چاروں کا ہدف ایک ہی ہوتا ہے یعنی انگور لیکن چاروں اپنی اپنی زبان میں بول رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ لوگ لڑ رہے تھے۔

میری نظر میں مسلمانوں کی اختلافات کا ایک سبب ہمارے پاس دین اسلام کے بارے میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔ کیونکہ دین اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس میں انسانوں کے لئے مکمل ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔ انسان کی ذاتی زندگی، عائلی زندگی، معاشرتی زندگی، معاشی زندگی، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، حقوق والدین، حقوق زوجین، حقوق ہمسائگی، طریقہ جہاد، دشمنوں کے ساتھ سلوک، مجرموں کے ساتھ سلوک، حقوق بشر کوئی ایسی چیز نہیں جس کا ذکر اسلام نے نہ کیا ہو۔ لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام برائیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کو صرف زبان کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے کبھی اسلام کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔ اسلام کے اصولوں کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن ، روایات، احادیث و تفاسیر کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔

ہمیں اپنی اصلاح کے لئےکس کو اپنا نمونہ عمل بنانا چاہئے؟ اسی بارے میں سورہ احزاب آیہ نمبر ۲۱ میں خداوند ارشار فرماتا ہے "مسلمانو، تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔" جس دن ہم نے اپنا آئیڈیل رسول اکرم ص کو بنایا، سمجھیں اس دن ہم کامیاب ہوجائیں گے پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں راہ راست سے نہیں ہٹا سکتی نہ ہی ہمارے درمیان فتنہ و فساد پیدا کر سکتی ہے۔ ہمارا جس فرقے سے بھی تعلق ہو ہم سب کا اصل اثاثہ پانچ چیزوں پر مشتمل ہے۔ اول توحید، دوسرا عدل، تیسرا نبوت، چوتھا امامت، پانچواں قیامت ہے جس پر تمام مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ بس ہمارے درمیان کچھ اختلافات ہیں جس کو دور کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح اوپر مثال میں چار دوستوں کا ذکر کیا جن کے ہدف ایک تھے لیکن وہ لوگ ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھ نہیں پارہے تھے لیکن ایک عالم و دانا شخص نے ان کے اختلاف کو ختم کیا۔ اسی طرح ہم سب بھی اگراپنے فرائض کو صحیح انجام دیں تو دین اسلام کی نشوونما اور حقیقی اسلام کو دنیا تک پہنچانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی اور ہمارے اختلاف بھی ختم ہونگے ساتھ ہی عالم اسلام کے دشمنوں کے ناپاک عزائم بھی خاک میں مل جائیںگے۔

لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کی اس ہفتہ کو ہفتہ وحدت کے طور پر منائیں اوراس پلیٹ فارم سے  اپنے مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کریں اور اتحاد امت کے لئے اپنی کوششوں کو برروی کار لائیں، اور اسلام کے حقیقی چہرہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ اسلام کے خلاف مغربی اور ان کے آلہ کاروں کے پروپگینڈوں کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔


تحریر: ناصر رینگچن

وحدت نیوز(کراچی) وحدت و اتحاد کی سب سے مضبوط رسی ربیع الاول کا مقدس مہینہ ہے، سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کا میلاد مناکر امت کے سبھی فرقے محبت و اخوت کی لڑی میں پروئے جاسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنما علامہ مبشر حسن نے ہفتہ وحدت کے حوالے ایم ڈبلیو ایم اور خیر العمل ٹرسٹ کے زیر اہتمام عظیم الشان جشن عید میلاد النبی (ص) و امام جعفر صادق (ع) ریلی سے خطاب میں کیا۔ ریلی میں سینکٹروں کی تعداد میں عاشقان رسول (ص) نے شرکت کی اور نبی کریم (ص) سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے لبیک یارسول اللہ (ص)، سرکار کی آمد مرحبا کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر شاہراہ پاکستان پر مختلف نعت و منقبت خواں حضرات نے اپنے اپنے کلام عقیدت بھی پیش کئے۔ شرکاء سے خطاب میں علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ماہ بیع الاول ایم ڈبلیو ایم پورے ملک میں ماہ وحدت کے طور پر منا رہی ہے، کچھ شرپسند داخلی و خارجی قوتیں کبھی دوست اور کبھی دشمن کے روپ میں شیعہ سنی کو دو ایسے متحارب گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں جو نوے فیصد مشترکات پر باہم ہونے کی بجائے ان اختلافات کی زد میں ہوں، جو دس فیصد سے بھی کم ہیں۔

علامہ مبشر حسن نے کہا کہ ہمیں اختلافات میں الجھنے کے بجائے بھائی چارہ قائم کرکے وطن عزیز کو ایک ایسی مثالی ریاست ثابت کرنا ہے، جو ہر طرح کے تعصب اور تفریق سے پاک ہو، پاکستان کے ریاستی اداروں کی طرف سے ان عناصر کے خلاف موثر کارروائی ہونی چاہیئے، جو ہم وطنوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ ریلی میں مولانا نعیم الحسن، مولانا علی غنی نقوی، علامہ صادق جعفری، مولانا ملک غلام عباس، میر تقی ظفر، زین رضوی، رضی حیدر رضوی سمیت اہلسنت علماء مولانا عبداللہ جونا گڑھی سمیت ضلعی عہدیداران بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے سابق وزیر قانون بلوچستان آغا سید محمد رضارضوی (آغارضا)ضمنی الیکشن برائے حلقہ پی بی 26 ہزارہ ٹائون سے امیدوار نامزدہوگئے ہیں،واضح رہے کہ پہلےآغارضانے اپنی ذاتی مصروفیات کی بنا پر ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا تاہم ایم ڈبلیو ایم مرکزی قائدین خصوصا" ہزارہ ٹاون کے پارٹی عہدہ داران و کارکنان بشمول صوبائی  سیکریٹریجنرل و علمدار روڑ کے تمام یونٹ سیکریٹریز، اراکین شوری بزرگان، یونٹ سمیت مومنین کی بے حد اسرار کے بعد پارٹی قیادت نے متفقہ طور پر سابق وزیر قانون جناب سید محمد رضا ( آغا رضا ) کو نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔جس کے بعد جناب آغا رضا نے مرکزی قیادت بروری ہزارہ ٹاون علمدار روڑ پارٹی کارکنان کی بے حد اسرار کے بعد اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر کے بائی الیکشن میں حصہ لینے کا باقائدہ اعلان کردیا ہے۔ واضح رہے کہ حلقہ پی بی 26 کو الیکشن کمیشن کیجانب سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے احمد علی کوہزاد کے پاکستانی شہریت کی منسوخی کے بعد خالی قرار دیا جا چکا تھا، جس پر 31 دسمبر 2018ء کو دوبارہ ضمنی انتخابات ہونگے۔

وحدت نیوز(کراچی) ضمنی الیکشن برائے انتخاب وائس چیئرمین یوسی 11جعفرطیارکیلئےمجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کی جانب سے سیدعارف رضا زیدی (ضلعی سیکریٹری جنرل) کوامیدوار نامزد کردیاگیاہے، ایم ڈبلیوایم کے نامزد امیدوار عارف رضا زیدی نے اپنے کاغذات نامزدگی ضلعی الیکشن کمشنر کے روبرو داخل کروادئیے ہیں،تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین نے ایک مرتبہ پھر انتخابی سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ایم کیوایم کے وائس چیئرمین یوسی 11جعفرطیار حمید الظفرکی جانب سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے کے بعد چھوڑی جانے والی نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے، وائس چیئرمین کے انتخاب کے لئے پولنگ 23دسمبر 2018کو ہوگی، ایم ڈبلیوایم نے وائس چیئرمین کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے ایم ڈبلیوایم ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل سید عارف رضا زیدی کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیاہے اور ان کے کاغذات نامزدگی بھی داخل کروادئیےگئے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں یوسی 11جعفرطیار سے ایم ڈبلیوایم کے مکمل پینل نے انتخاب میں حصہ لیا تھا جس میں ایم ڈبلیوایم یقینی فتح کو ٹھپہ مافیا نے شکست میں تبدیل کیا تھا اور منظم دھاندلی کے باوجود ایم ڈبلیوایم کا انتخابی پینل دوسری پوزیشن پر رہا تھا، کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد ایم ڈبلیوایم کے نامزد امیدوار عارف رضا زیدی نے کارکنان اور عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم ڈبلیوایم کی قیادت کا مشکور ہوں کے جنہوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے پارٹی ٹکٹ جاری کیا، انشاءاللہ ہم ماضی کی طرح اس بار بھی سیاسی میدان میں بھرپور مقابلہ کریں گےاور  اہلیان یوسی 11 جعفرطیار 23دسمبر کو خیمہ کے نشان پر ہر لگاکر ایم ڈبلیوایم کے نامزد وائس چیئرمین کو کامیاب بنائیں گے۔

Page 4 of 894

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree