The Latest

وحدت نیوز(گلگت) اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل) کے نومنتخب اپوزیشن لیڈر برائے گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن(ر)محمد شفیع  نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں غیر مشروط حمایت پرسب سے پہلے مجلس وحدت مسلمین کا شکریہ اداکرنے کیلئے صوبائی سیکریٹریٹ وحدت ہاوس  کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے  ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل عارف قنبری، صوبائی ترجمان الیاس صدیقی ، صوبائی سیکریٹری اطلاعات علی حیدر سمیت دیگر سے ملاقات اور ایم ڈبلیوایم کے اراکین اسمبلی ڈاکٹر حاجی رضوان اور بی بی سلیمہ کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں انہیں  ووٹ کاسٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ایم ڈبلیوایم کے تعاون کے ساتھ حقیقی اپوزیشن کا کردار اداکروں گا اور حکومتی ناانصافیوں کے خلاف ہمیشہ ایوان میں آواز بلند کروں گا ، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنماوں نے کیپٹن (ر) محمد شفیع کو اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور ان کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔

وحدت نیوز(چنیوٹ) امیدوار پی پی 76 اورسیشن جج ذوالفقار ناصر کے فرزند مہر حسن ناصر نول کا خیر العمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ  شعبہ ویلفیئر مجلس وحدت مسلمین کے زیرانتظام واڑہ سادات میں قائم الہادی اسپتال کا دورہ ، مریضوں کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی پر خراج تحسین، اس موقع پر مہر حسن ناصر نے اسپتال انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس پرآشوب دور میں اس دور افتادہ علاقے میں انسانی خدمت کے بے مثال ادارے کا قیام ایم ڈبلیوایم کی انسان دوستی کی اعلیٰ مثال ہے، الہادی اسپتال میں محدود وسائل میں اعلیٰ طبی سہولیات کی فراہمی قابل فخر ہیں ، انہوں نے ادارے کی کامیابی کے لیئے دعا کی اور اپنے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی کا وفدکے ہمراہ دورہ جامعتہ المنتظر، پرنسپل علامہ قاضی نیاز حسین نقوی سے ملاقات، علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کی ایم ڈبلیوایم رہنما سیدناصرشیرازی کی پنجاب حکومت کی ایماءپر غیر قانونی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت،تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے معروف اور قدیم دینی درسگاہ جامعتہ المنتظر کے پرنسپل علامہ قاضی نیاز حسین نقوی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی دونوں علمائے کرام کے درمیان اہم قومی وملی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہو ئی، علامہ احمد اقبال رضوی نے انہیں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما سید ناصرعباس شیرازی کے اغواء اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے کہا کہ ناصر شیرازی کے اغواء سے شدید دکھ پہنچاہے، ہم نے ناصر شیرازی کے اہل خانہ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے، انشاء اللہ  ناصر شیرازی کی یازیابی کیلئے جامعتہ المنتظر کسی بھی ممکنہ احتجاجی تحریک کی نا فقط مکمل حمایت کرتی ہے بلکہ اپنے مکمل تعاون کا یقین بھی دلاتی ہے، وفد میں ایم ڈبلیوایم پنجاب کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مبارک موسوی، علامہ اقبال کامرانی ، آصف رضا ایڈوکیٹ اورسابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان سرفراز حسین نقوی بھی شامل تھے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ریاستی اداروں کے خلاف نواز شریف کے منفی پروپیگنڈے کا سخت نوٹس لیا جانا چاہیے۔اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور لوٹے ہوئے سرمائے کو بچانے کے لیے ملک کے ذمہ دار اداروں کی تضحیک آئین و قانون کی بدترین پامالی ہے۔نواز شریف اپنے دور اقتدار میں اداروں کی شفافیت اور منصفانہ طرز عمل کے گن گاتے رہے ہیں ۔اب اپنے خلاف فیصلے پر ان اداروں کی کارکردگی پر اعتراض کی حقیقت ہر ایک پر واضح ہے۔انہوں نے کہاکہ حدیبہ پیپر کیس سمیت نواز شریف اینڈ فیملی کی کرپشن کے تمام مقدمات کو منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔نون لیگ کے وزرا کی طرف سے عدالتی فیصلوں کے خلاف بھرپور عوامی ردعمل کا مسلسل ڈھونڈرا پیٹا جا رہا ہے جس کا مقصد اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی ظلم و زیادتیوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں قومی سرمائے کو جس بے رحمی سے لوٹا گیا ہے اس کی پاکستانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام قومی سرمایہ لوٹنے والوں کا بے رحمانہ احتساب چاہتے ہیں۔نواز شریف اور ان کے خاندان سے لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کی جائے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی لوٹ مار کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا جس کے باعث ملکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔بھارتی  ایما ءپر پاکستان کی سالمیت و بقا کو خطرات سے دوچار کرنے والےنواز شریف کسی معافی کے مستحق نہیں۔ عہدوں کا ناجائز استعمال اور آئین کی پامالی ملک و قوم سے غداری ہے ۔کرپٹ اور لیٹرے حکمرانوں کا کڑا احتساب قانون و انصاف کا تقاضہ ہے جسے ہر حال پورا ہونا چاہیے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری و دیگر رہنماوں نے پریس کلب اسکردو میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کو تمام مکاتب فکر بلخصوص اہلسنت اور اہل تشیع نے ملکر حاصل کیا تاکہ تمام مسالک اپنی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہو جہاں کے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق فراہم ہوں۔ تکفیری عناصر کی مخالفت کے باوجود ایک طویل جدوجہد کے بعد قائداعظم محمد علی جناح اور برصغیر کے مسلمانان وطن عزیز کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نوزائدہ ملک ابتداء سے ہی طرح طرح کی اندرونی و بیرونی مشکلا ت کا شکار رہے۔ بانی پاکستان کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد ملک نئی بحرانوں میں داخل ہوگئے۔ آئین سازی، مہاجرین کی آمد، اداروں کی تشکیل، مالیاتی مسائل اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے سبب ملک شدید مسائل میں گھیرے ہوئے تھے۔ ایسے میں ریاستی اداروں کی ناقص اور کمزور خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے سبب ہمسایہ ممالک کو چھوڑ کر سات سمندر پار امریکہ سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔ دوسری جانب ملکی سیاسی جماعتوں کی من مانی، ملک دشمن پالیسی، دشمن ملک بھارت کی ریشہ دوانیوں اور عالمی طاقتوں کی سازشوں اور ملک دشمن پالیسیوں کے سبب ملک کے دوحصے ہوگئے۔ بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ سن اسی کی دہائی میں امریکہ کی نیابتی جنگ میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔ اس وطن کے بیٹوں نے اس وقت بھی اس ناپاک جنگ کی مخالفت کی۔ اس جنگ میں امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ریاستی حساس اداروں تک جہادیوں اور تکفیری سوچ رکھنے والوں کو رسائی دی گئی، انہیں ہیرو بنا کے پیش کیا گیا۔ ضیاءالحق کی فرقہ وارانہ سوچ اور ملک دشمن پالیسی کا بویا ہوا وہی بیج آج تناور درخت کی صورت میں دہشتگردی کا پھل دے رہا رہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ان دہشتگرد جماعتوں نے ملک کو لہو لہان کر دیا ہے اور انکے ہاتھوں آرمی، پولیس، حساس ادارے، ریاستی ادارے، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں غرض کچھ بھی محفوظ نہیں۔ اب تک اسی ہزار قیمتی جانیں دہشتگردی کی نذر ہو چکی ہیں۔ اس فتنے کے خلاف جاری تمام آپریشن کی حمایت سب سے بڑھ کر ملت جعفریہ نے کی اور دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن کی اخلاقی پشت پناہی اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم اب تک پچیس ہزا ر کے قریب جنازے اٹھا چکے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قیام کرنے والی ملت کو نہ صرف دیوار سے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے بلکہ اداروں میں موجود مشکوک افراد دہشتگردی کے خلاف تحریک چلانے پر ہم سے انتقام بھی لے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور موجودہ پنجاب و جی بی کی حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو تو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن دہشتگردی کے خلاف پورے وجود کے ساتھ وطن عزیز کی حفاظت میں کھڑے ہونے والے وطن کے بیٹوں کو دہشتگردوں کی ایماء پر اغوا کیا جا رہا ہے۔ ہم ریاستی اداروں سے ٹکراو کے خواہاں ہیں اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ آئین و قانون پامال ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے سیاسی جماعتوں بلخصوص نون لیگ کا آلہ کار بن کر اس ملک کو مزید نقصان پہنچانے کا باعث نہ بنے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئین پاکستان کی بالادستی ہو۔ ایک سیاسی و مذہبی جماعت کے معروف رہنماء ناصر عباس شیرازی کا ماورائے آئین و قانون اغوا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ پنجاب حکومت اپنے آپ کو ریاست سمجھ رہی ہے۔ مودی کی کاروباری شراکت دار حکومت اور ملکی دولت کو لوٹنے والی حکومت اوچھے ہتھکنڈے پر اتر آئی ہے۔ نون لیگ کے وزیر قانون نے دہشتگردوں کی ایماء پر ناصر شیرازی کو اغوا کیا ہے جو کہ آپریشن ردالفساد پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے کہا کہ مذہبی سیاسی جماعت کے رہنماء کا اغواء مسلم لیگ نون کی کارستانی ہے۔ اگر پنجاب حکومت ناصر شیرازی کے اغواء میں ملوث نہیں ہے تو ان کی جبری گمشدگی ظاہر کرتی ہے کہ پورے صوبے میں انکی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کی ہمنواء حکومت کو معزول کر کے ایسی حکومت سامنے لائی جائے، جس میں شہریوں کی جان مال عزت و آبرو کا تحفظ یقینی ہو۔ اگر حکومت پنجاب اپنی حرکت سے باز نہیں آتی تو حکومت گراو تحریک چلانے پر مجبور ہو کر تخت لاہور کی طرف روانہ ہونگے۔ ناصر شیرازی جیسی محب وطن، اتحاد بین المسلمین کی داعی، پاکستان کی نظریاتی و فکری سرحدوں کی محافظ شخصیت کو اغواء کر کے حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور ملت جعفریہ کا تصادم ریاستی اداروں کے ساتھ ہو۔ یہ بات واضح ہے کہ ناصر شیرازی اس وقت کہاں ہے، حساس اداروں کو معلوم ہے کیونکہ ریاست کے حساس ادارے دنیا کے بہترین اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اہم شخصیت موبائل فون سمیت لاہور کی معروف شاہراہ سے اٹھائی جاتی ہے اور انکو مخفی رکھنے والی جگہوں کا علم نہ ہو ممکن نہیں۔ اگر انہیں معلوم نہ ہو تو یہ خود حساس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں مجلس وحدت جی بی کے رہنماوں نے کہا کہ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے والے، دہشتگردوں کی اخلاقی و مالی پشت پناہی کرنے والے، ملک کو مختلف طریقوں سے نقصان پہنچانے، ریاستی اداروں کو کمزور کرنے والے مجرمین یا تو ایوانوں میں بیٹھے ہیں یا ریاستی پروٹول کے اندر گھوم رہے ہیں۔ جبکہ وطن عزیز کے مفادات پر اپنے مفادات کو قربان کرنے والے، دہشتگردی کی ہر صورت کی مخالفت کرنے والے، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے اس وطن کے حقیقی بیٹوں کو یا تو ٹارگٹ کلکنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا دہشتگردوں کی ہمنوا جماعتوں کے ذریعے اغواء کیا جاتا ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مزید یہ کہ عدالت عالیہ بار بار اصرار کے باوجود عدالت کے حکم کو پس پشت ڈال کر مغوی کو عدالت میں پیش نہ کرنا ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی مذموم سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان آرمی کے سربراہ اور عدالت عظمیٰ کے سربراہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری گمشدگان کے معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، نیز ریاست میں افراتفری پھیلانے والی مودی کے کاروباری شراکت دار کا گھیرا تنگ کریں۔ نیز پاکستان کی ایک محب وطن ملت کو دیوار سے لگانے کی مذموم سازش کو ناکام بنا کر تمام مکاتب فکر کو انکی تعلیمات کے مطابق آزادانہ زندگی گزرانے کا موقع فراہم کر کے انسانی بنیادی حقوق کو یقینی بنائیں اور ریاستی اداروں کو اپنی حکومت کے لیے استعمال کرنے والی طاقتوں کے مذموم مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے ناصر عباس شیرازی کی ماورائے آئین گرفتاری کے حلاف باقاعدہ تحریک کا اعلان کرتے ہیں اس سلسلے میں مرکزی فیصلے کے مطابق راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے گلگت بلتستان میں ناجائز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جاری تحریکوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ جی بی میں ہر قسم کا ٹیکس غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ آئینی حقوق کے بغیر ٹیکس کا نفاذ موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی علاقہ دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ ہم ٹیکس کے نفاذ کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو حصہ دیا جائے اور یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم کیا جائے اور شیخ نیئر عباس مصطفوی کو رہا کیا جائے۔ جی بی میں خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم جی بی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ احمد نوری، ڈویژنل صدر آئی ایس او بلتستان سعید شگری، ایم ڈبلیو ایم کھرمنگ کے سربراہ شیخ اکبر رجائی، شیخ یعقوب، ایم ڈبلیو ایم شگر کے رہنماء شیخ ضامن مقدسی، شیخ کاظم ذاکری، ایم ڈبلیو ایم روندو کے رہنما شیخ صادق، ایم ڈبلیو ایم ضلع اسکردو کے سربراہ شیخ ذیشان، شیخ مبارک، وزیر سلیم، فدا علی شگری، شیخ علی محمد کریمی، شیخ عابدی، فدا حسین سمیت دیگر رہنماء موجود تھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنماوں نے ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری کی زیر قیادت  احتجاجی ریلی  یادگار شہداء اسکردو سے پریس کلب اسکردو تک نکالی،احتجاجی ریلی میں ایم ڈبلیو ایم ضلع شگر کے سیکرٹری جنرل شیخ کاظم ذاکری، ایم ڈبلیو ایم ضلع کھرمنگ کے سربراہ شیخ شبیر رجائی، ایم ڈبلیو ایم ضلع روندو کے رہنماء شیخ صادق، ایم ڈبلیو ایم ضلع اسکردو کے مسئول شیخ فدا علی ذیشان  کے علاوہ شیخ یعقوب، شیخ ضامن مقدسی، شیخ علی محمد کریمی، شیخ فدا عابدی، فدا علی شگری، وزیر سلیم، فدا حسین، شیخ مبارک عارفی اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ریلی کے شرکاء نے پنجاب حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف نعرے بلند کیے اور ناصر عباس شیرازی سمیت دیگر جبری گمشدگان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ شرکاء ریلی پریس کلب پہنچنے کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت، پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ملک میں جاری دہشتگردی کو پی ایم ایل این کے سیاسی آقا ضیاءالحق کی ملک دشمن پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں ناصر شیرازی کے اغواء کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ضرورت پڑنے پر تخت لاہور کو گرانے کے لیے بلتستان سے بھی قافلے روانہ ہوں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) پاکستان کی طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کا ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کا مطالبہ ،مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ،سابق مرکزی صدرمتحدہ طلبہ محاذ ناصر شیرازی کے جبری اغواء پر طلبہ برادری میں تشویش پائی جاتی ہے،متحدہ طلبہ محاذ،محب وطن شہری ناصرعباس شیرازی کی جبری گمشدگی بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے،متحدہ طلبہ محاذ کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہاکہ سابق مرکزی صدرمتحدہ طلبہ محاذ اور سابق مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ناصر عباس شیرازی کے جبری اغواء پر طلبہ برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس گھناؤنے ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔ایڈووکیٹ ناصر عباس شیرازی طلبہ برادری کے سرگرم سرپرست ہیں۔وہ اتحاد بین المسلمین کی عملی کاوشوں ،پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ،دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ اورملک میں آئین اور قانون کی بالا دستی کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں اور رانا ثنااللہ کیخلاف بھی انہوں نے اس لیے پٹیشن دائر کی کہ وہ عدلیہ جیسے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ متحدہ طلبہ محاذ کے رہنماءاور مرکزی صدر آئی ایس او انصر مہدی نے کہا کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور آئین پاکستان سے روگردانی ہے۔

تمام طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی کی گمشدگی میں پنجاب حکومت ملوث ہے اگر سید ناصر عباس شیرازی کو 16نومبر کو بازیاب نہ کیا گیا تو طلبہ برادری احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی اور ان کی بازیابی تک تمام طلبہ تنظیمیں آئی ایس او پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اگر ناصر شیرازی کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالت میں باضابطہ طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔سزا و انصاف کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے۔ملک کے کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر کسی بھی شہری کو اس طرح حراست میں رکھے متحدہ طلبہ محاذ کے رہنماؤں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی اس پامالی کا فوری نوٹس لیا جائے اور فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔پریس کانفرنس میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان  ،مصطفوی ا سٹودنٹس موومنٹ، اسلامی جمیعت طلبہ ،مسلم ا سٹوڈنٹس فیڈریشن ،انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

وحدت نیوز( لاہور) رانا ثناء اللہ نا اہلی کیس کی تیسری سماعت ، سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان ، وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور الیکشن کمیشن کے حکام  5دسمبرکو ہائی کورٹ طلب، جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں قائم ڈبل بنچ نے تمام متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی ایڈوکیٹ کی جانب سے وزیر قانون پنجاب راناثناءاللہ کی نااہلی کیلئے لاہور ہایہ کورٹ میں داخل درخواست کی تیسری سماعت آج 13نومبر بروز پیر کو لاہور ہائی کےجسٹس شاہد بلال حسن کی سرابراہی میں قائم  ڈبل بنچ میں ہوئی جس میں عدالت نے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان ، وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور الیکشن کمیشن کے حکام کو  5دسمبربروز منگل کو ہائی کورٹ میں  طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی درخواست مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی ایڈوکیٹ کی جانب سےلاہور ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ فدا حسین رانا کی وساطت سے داخل کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رانا ثناءاللہ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی انکوائری رپورٹ کو میڈیا پر یہ کہہ کر متنازعہ قرار دیاتھا کہ رپورٹ تشکیل دینے والا جج (جسٹس باقر نجفی)اہل تشیع مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے لہذا اسے مسترد قرار دیا جائے، رانا ثناء اللہ کی جانب سے ایسے بیہودہ بیان سے معزز عدلیہ اور ریاستی اداروں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی گئی جس سے قومی اداروں کے خلاف انتہائی منفی تاثر پیش ہوا ، رانا ثناء اللہ کے خلاف دائر اسی پٹیشن کے باعث ناصر شیرازی گذشتہ دو ہفتے قبل لاہور سے سادہ لباس سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں اغواء کرلیئے گئے جن کا تاحال کوئی سراغ نا لگایا جا سکا اور ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے ایک اور کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔

وحدت نیوز(گلگت)  محب وطن شہریوں کو غیر قانونی طور پر غائب کردینا آئین پاکستان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سید ناصرعباس شیرازی کو جبری اغوا کرکے پنجاب حکومت اور رانا ثناء اللہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔پنجاب حکومت خود کو اس خیانت کی سزا بھگتنے کو تیار رکھے۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین گلگت بلتستان کی کوآرڈینیٹر محترمہ سائرہ ابراہیم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت جبری طور پر محب وطن شہریوں کو اغوا کرکے عوام کو اداروں سے بدظن کرانا چاہتی ہے ۔نااہل وزیر اعظم کی جماعت ملک کو انتشار اور تفرقے کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہی ہے ،مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت اس وقت قانون کے شکنجے سے خود کو چھڑانے کیلئے اپنے اختیارات کا غلط فائدہ اٹھارہی ہے۔دس دن گزرنے کے باوجودناصر عباس شیرازی کے متعلق پنجاب حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کے تکفیری گروہوں کے ساتھ مراسم ہیں اور ناصر عباس شیرازی نے انہی تکفیری گروہوں کے ساتھ ان کے مراسم پر سے پردہ اٹھانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے ۔رانا ثناء اللہ کو معلوم ہے کہ عدالت میں ان کے جرائم سے پردہ اٹھنے والا ہے اور انہوں نے ذاتی عناد اور دشمنی کی بنا پر ناصر شیرازی کو جبری طور پر اغوا کرایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز میں غیر قانونی طور پر محب وطن شہریوں کی حراست انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ایک عرصے سے زیرحراست افراد کے خانوادے حکمرانوں سے عدل و انصاف کی بھیک مانگ رہے جن کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے اور اگر حکمران مظلوموں کی فریاد سننے سے بہرے ہوجائیں تو پھر عوام انہیں ٹھیک کرنے کا گر بھی جانتے ہیں۔پنجاب حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت صرف ایک دھکے کی دوری پر ہے۔

وحدت نیوز(گلگت) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں کے اسپیکر فدا محمد ناشاد کی جانب سے اسلامی تحریک پاکستان کے رکن جی بی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع کے بحیثیت اپوزیشن لیڈرانتخاب کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، مجلس وحدت مسلمین نے اتحاد بین المومنین کی خاطر ایک مرتبہ پھر اعلیٰ ظرفی اور وسعت قلبی مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل ) کے نامزد امیدوار برائے اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) محمد شفیع کی حمایت کرکے انہیں کامیاب کروانے میں اہم کردار ادا کیا، تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیوایم کے دونوں اراکین گلگت بلتستان قانون اسمبلی ڈاکٹر حاجی رضوان علی اور بی بی سلیمہ نے اسلامی تحریک پاکستان کے رکن اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع کو اپنے قیمتی ووٹ کاسٹ کیا جس کے نتیجے میں ان کی کامیابی یقینی بنی ۔

 واضح رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر کے فرائض جمیعت علمائے اسلام(ف) کے حاجی شاہ بیگ انجام دے رہے تھے،جبکہ اپوزیشن لیڈر کی دوڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین بھی شامل تھے ، لیکن ایم ڈبلیوایم نے ایک مرتبہ پھر سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلامی تحریک کے نامزد اپوزیشن لیڈر کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا  ، ایم ڈبلیوایم کے دونوں اراکین اسمبلی کے قیمتی ووٹوں کے حصول کے بغیر اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل ) کے نامزد امیدوار برائے اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) محمد شفیع کی کامیابی غیر یقینی تھی۔

دوسری جانب ایم ڈبلیوایم کے رکن گلگت بلتستان اسمبلی ڈاکٹر حاجی رضوان اور بی بی سلیمہ نے  اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل ) کےنومنتخب اپوزیشن لیڈر برائے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع کو کامیابی پر مبارک باد دی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے وہ ایوان میں عوامی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین اسمبلی کی درست نمائندگی کریں گے۔

Page 4 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree