The Latest

وحدت نیوز (کوئٹہ) ہزارہ قوم کی شناخت کو مشکوک بنانے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو گی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سید محمد رضا (آغا رضا) نے کہا ہے کہ نام نہاد قوم دوست خود پسند مفاد پرست ٹولے نے قوم کی نمائندگی اور خدمت کے بجائے پوری قوم کیلئے مشکلات پیدا کی ہے۔ جسکے نتیجے میں سرکاری دفاتر، ایف سی چیک پوسٹوں اور پولیس سٹیشنوں پر لوکل باشندوں کیساتھ امتیازی سلوک اور رویہ افسوس ناک ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایک فاشسٹ نسل پرست شخص کی غلطی کی سزا پوری قوم کو نہیں دی جا سکتی نادرا اور امیگریشن حکام ہزارہ قوم کے فرزندوں سے ہونے والے نا مناسب سلوک کا نوٹس لیں بصورت دیگر ہم پر امن احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے یا قانونی راستہ اپنانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ آئے روز معزز شہریوں کو نادرا ملازمین پولیس صفائی کے نام پر مختلف دفاتر کا چکر لگواتے ہیں امیگریشن دفتر کا بھی یہی حال ہے سفری دستاویزات بنانے میں خود ساختہ بہانوں سے رکاوٹیں کھڑی کرنا معمول بنا ہوا ہے دوسری جانب ھزارہ قوم کی شناخت پر سودے بازی کے نتیجے میں حاصل کی گئی کرسی پر براجمان فاشسٹ نسل پرست نام نہاد قوم پرست پارٹی اسمبلی میں چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کی،اس موقع پر اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی طرف سے مسودہ پیش کیا جب کہ عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن نے قانونی نکات پر دلائل دیے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کے مسودے پر کابینہ میں اعتراضات آئے ہیں، ابھی فی الحال یہ ایک مسودہ ہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور اس سے پہلے ایک عبوری انتظام چاہیے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ گلگت بلتستان اعلیٰ عدالتوں کے فنڈز گلگت حکومت سےگلگت بلتستان کونسل کو منتقل کردیے جہاں ججوں کی تعداد حکومت پاکستان بڑھا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا گلگت بلتستان میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہوگا، وہاں ججوں کی تعیناتی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سے ہونی چاہیے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا گلگت بلتستان کونسل کو قانون سازی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں،چیف جسٹس نے کہا نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت اور خود اختیاری ملنا چاہیے اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات اس تصور کے بہت قریب ہیں۔ جو اختیارات دیگر صوبوں کو حاصل ہیں وہی گلگت بلتستان کو ہوں گے.

چیف جسٹس پاکستان نے کہا گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کی جاسکتی، اس پہلو کو ذرا دیکھ لیں، اگر ریاست پاکستان کے اثاثے سے متعلق کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کا فیصلہ کیسے ہوگا؟ اور اگر جی بی سپریم اپیلٹ کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے تو کیا کرنا چاہیے،چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر دو صوبوں کا مسئلہ ہو تو پھر کیا کیا جانا چاہیے؟ گلگت بلتستان کے بھائیوں کو سارے حقوق دیں لیکن قانونی الجھنیں پیدا نہیں ہونی چاہیں۔

اس موقع پر وزیر قانون گلگت بلتستان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل ہوجائے جس پر چیف جسٹس نے کہا ایسا ممکن نہیں لیکن معاملہ اس کے بہت قریب آچکا ہے،عدالتی معاون اعتزاز احسن نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پہلے عارضی پھر مستقل صوبہ بنانے کی بات کی گئی ہے، اگر اس سے متعلق کوئی آئینی ترمیم آتی ہے پارلیمنٹ اسے پاس کرے گی،بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنانے سے پاکستان کا کشمیر پر موقف کمزور ہوجائے گا،فریقین کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

گلگت بلتستان

1848 میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجا نے ان علاقوں پر طاقت کے بلبوتے پر قبضہ کیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا، 1948 میں ہی اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی،آزادی کے بعد سے یہ علاقہ ایک گمنام علاقہ سمجھا جاتا تھا جسے شمالی علاقہ جات کہا جاتا لیکن حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے اور 2009 میں اس علاقے ہو آزاد حیثیت دے کر پہلی دفعہ یہاں انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،گلگت بلتستان 10 اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے چار بلتستان میں، چار گلگت اور دو ہنزہ۔ نگر کے اضلاع ہیں، اس سے پہلے ہنزہ۔ نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  شہید آیت اللہ نمر باقر النمر ایک عظیم اور شجاع قائد تھے، انھوں نے ظلم وناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور زمانے کے فرعونی نظام آل سعود کے سامنے مستضعف ومحروم عوام کے حقوق کی خاطر کلمہ حق ادا کیااور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نےآیت اللہ نمر انٹرنیشنل فائونڈیشن کے زیر اہتمام مجمع امام جعفرصادقؑقم میں منعقدہ افکار شہید آیت اللہ نمر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی نے کہاکہ شہید آیت اللہ باقر النمر نے سعودی عرب کے گھٹن ذدہ اور سخت معاشرے میںظالم وجابر شہنشاہی نظام کے خلاف کلمہ حق بلند کیا ، انہوںنے اپنی جان کی پرواکیئے بغیر ببانگ دہل اس باطل شاہی نظام کےمقابل قیام کیا، اسی پاداش میں انہیں کئی بار پابند سلاسل کیا گیالیکن وہ اپنےآقا ومولاؑامام حسین ؑ کی سیرت وسنت کی پیروی کرتے ہوئے راہ حق وصداقت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اوریہاں تک کہ شہادت کو گلے لگانا قبول کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید آیت اللہ باقرالنمر پاکستان کے شہید قائد علامہ سید عارف الحسینی، افغانستان کے شہید استاد عبد العلی مزاری ، ایران کے شہید نواب صفوی، عراق کے آیت اللہ شہید باقر الصدر ، لبنان شہید علامہ سید عباس موسوی اور یمن کے علامہ شہید سید حسین بدر الدین الحوثی کی سطح کے سرزمین حجاز مقدس کے قائد اور لیڈر تھے جنہوں نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے مدرسے سے حریت وآزادی کا درس حاصل کیا اور یزیدان وقت کے خلاف قیام کیا اور جس طرح نہ ضیاء الحق کا ظالمانہ نظام رہانہ روسی قبضہ ، نہ شہنشاہی نظام اور صدام کا نظام رہا اور نہ یمن پر سعودی نواز نظام اور لبنان پر اسرائیلی تسلط اور انشاء الله شہید آیت اللہ نمر کا یہ ناحق خون آل سعود کے نظام کا پیش خیمہ ثابت ہو گا ۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  بہرحال آہستہ آہستہ وقت سب کچھ بتا دے گا کہ کون کسے گھیرتا ہے، امریکہ اپنی ٹیکنالوجی کے بل پر ایران کو زیر کرتا ہے یا ایران اپنی آئیڈیالوجی کے بل پر ہمیشہ کی طرح امریکن ٹیکنالوجی کے پرخچے اڑا دیتا ہے، ایسے میں اہم یہ نہیں ہے کہ کل کیا ہوگا اہم یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ، ہمارے دل و دماغ پرٹیکنا لوجی کا غلبہ ہے یا ہم اپنی آئیڈیالوجی کو روز بروز مستحکم کر رہے ہیں ؟…

ابھی تک جو کچھ بھی کہا گیا ہے محض باتوں کی حد تک ہے اور پتہ نہیں ہے کہ شام سے کتنے فوجی نکل رہے ہیں چونکہ ابھی تک ٹرمپ انتطامیہ کے پاس اسکا جواب نہیں ہے کہ وہ نکل تو رہیں ہیں لیکن ایران کے بڑھتے اثر کا کیا کریں گے اسی لئے فیصلہ کے بعض مخالفین اسے ایران کے بڑھتے اثرات کے طور پر دیکھ رہے ہیں [۱] یہی وجہ ہے کہ فیصلہ تو ہو گیا ہے لیکن ابھی اسکے عملی ہونے کے لئے ہنوز دہلی دور است اور فی الحال امریکہ کی جانب سے بی بی سی کے مطابق اتنا ہی کہا گیا ہے کہ ” روس، ایران، شام دولتِ اسلامیہ کے مقامی دشمن ہیں۔ ہم وہاں ان کا کام کر رہے تھے اور اب گھر واپسی کا وقت ہے، البتہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا شام میں تعینات تمام دو ہزار امریکی فوجی نکالے جا رہے ہیں جبکہ امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ’مہم اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘ تاہم پینٹاگون نے بھی اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں ہیں ۔[۲]

گزشتہ بیان کئے گئے تمام ہی نکات وہ ہیں جنکی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مستقبل قریب میں ایک بڑا محاذ جنگ تشکیل پا رہا ہے اور اس محاذ کی تشکیل کو امریکی انتظامیہ کے بین السطور میں پڑھا جا سکتا ہے جہاں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ” میں دنیا میں طاقت ور ترین فوج کی تعمیر میں جٹا ہوں جبکہ داعش نے ہمیں پریشان کر رکھا تھا ۔[۳] شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ فوجی نقل و حرکت کو شام میں چھپی ہوئی جنگ hidden war in Syria” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے [۴] چونکہ صرف شام ہی کی بات نہیں ہے افغانستان سے بھی فوج کی واپسی کی باتیں ہو رہی ہیں [۵] جبکہ دوسری طرف عراق سے فوجیں بلانے کو یکسر مسترد کیا جا رہا ہے سب کچھ اپنے آپ میں اپنی نوعیت کے اعتبارے ایسا کہ کسی بھی صاحب فکر کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔

ایران کی ایک نیوز ایجنسی [۶]نے امریکی انخلاء کے پیش نظر کچھ خدشات بیان کئے ہیں جو گزشتہ و حال کی پیش نظر تحریر کو اگر سامنے رکھا جائے تو کافی حد تصویر کو واضح کر سکنے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ ایرانی تجزیہ نگار لکھتے ہیں :

“گزشتہ چند مہینوں میں ایسے متعدد امریکی اقدامات سامنے آئے ہیں جنکے پیش نظر اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ واقعا امریکہ شام سے نکل رہا ہے کیوں کہ ایسی خبریں بھی گشت کر رہی ہیں کہ امریکہ ۴۰ ہزار مقامی فورسز کی ٹریننگ کر رہا ہے اور بھاری اسلحوں کی کھیپ انکے حوالے کی گئی ہے ، دوسری طرف وہائٹ ہاووس نے گزشتہ چند دنوں قبل یہ کہا تھا کہ جب تک ایرانی فورسز شام میں ہیں، امریکا کی فورسز بھی رہیں گی، ان تمام باتوں کے پیش نظر کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے، اگر ہم امریکیوں کے شام سے نکلنے کی بات کو مان بھی لیں تو چند سوالات پھر بھی قائم ہوتے ہیں جن میں اہم سوال یہ ہے کہ امریکی بالکل آسانی سے کیوں کر اس بات کے لئے تیار ہو گئے کہ ہم شام سے باہر نکل رہے ہیں ؟

نمبر ۱ ۔پہلا مفروضہ یہ ہے کہ امریکی فورسز کا یہ انخلاء ممکن ہے جان بولٹن ، ٹرمپ اور مائیک پامییو کی مشترکہ پالیسی ہو اور وہ یہ چاہتے ہوں کہ ایران کے مسئلہ پر فوکس کر سکیں ، اس سناریو کے مطابق واشنگٹن اپنی فورسز کو خلیج فارس کی طرف منتقل کر رہا ہے اور دوسرے مرحلہ میں ممکن ہے ایران کے خلاف قدم اٹھایا جائے ، ممکن ہے یہاں پر یہ سوال اٹھے کہ یہ مفروضہ کس قدر حقیقت سے نزدیک اور قابل قبول ہے ؟

اس سلسلہ سے ہمیں چند اشاروں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے؛

الف ۔ ایک طر ف امریکہ ایران کے ساتھ ایٹمی توانائی کے جامع معاہدہ سے خارج ہو گیا ہے تو دوسری طرف ایران کے صبر کا پیمانہ بھی اب یورپ کے خالی وعدوں سے لبریز ہو گیا ہے اور یہ احتمال بعید نہیں کہ ایران بھی اس معاہدے سے دست برداری کا اعلان کر دے ۔اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اسکا سیدھا سا مطلب ہے کہ ایٹمی توانائی سے متعلق سر گرمیاں پھر سے شروع ہو جائیں گی ، یہاں پر ممکن ہے کہ امریکہ اس سرگرمیوں کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کر ے ،لہذا جو کچھ ہو رہا ہے اسے اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ب ۔ دوسرا قابل غور اشارہ امریکیوں کی جانب سے زبردست طریقے سے ایران کے باہر موجود ایرانی حکومت کے مخالف عناصر کی حمایت و پشت پناہی ہے خاص کر رضا پہلوی ، اور واشنگٹن آلٹرنیٹ کی تلاش میں ہے ،انکی کوشش ہے کہ ایک متبادل سامنے رہے جسے بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکے۔

ج۔ تیسری نشانی امریکہ کا دوبارہ خلیج فارس پر توجہ دینا ہے چنانچہ امریکی بیڑوں کا وہاں جانا اسکی ایک مثال ہے۔

نمبر ۲۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلاء کا اعلان درحقیقت روس اور ترکی کے ساتھ امریکہ کے مشترکہ سمجھوتے کا نتیجہ ہے، جسکے چلتے کچھ نہ کچھ تو واشنگٹن کے ہاتھ آہی جائے گا اور ممکن ہے اس بارے میں روس سے ڈیل بھی ہو چکی ہو کہ ہم نکل رہے ہیں اب ایران کو بھی نکالا جائے ۔

نمبر ۳ ۔ایک اور فرض یہ ہے کہ امریکیوں کا شام سے نکلنا خاشقجی کے قتل کا خون بہا ہے ، اور امریکہ نے ترکی کے خلاف جمے کردوں کی پشت پناہی سے ہاتھ روک کر ممکن ہے انہیں یہ بونس دیا ہو کہ تم سکون کی سانس لو اور سعودی شہزادے کو چین سے جینے دو باقی کردوں سے خود نبٹ لو ساتھ ہی ساتھ ممکن ہے کہ امریکیوں کے ذہن میں شام میں موجود ایرانی فورسز کے اوپر حملہ کرنے کی دھن سوار ہو اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ کام کرنا چاہیں اور ایرانی مسلح افواج کے جوا ب سے بچنے کے لئے پہلے ہی اپنی فورسز کو وہاں سے نکال لیں کہ بالمقابل ایران کے ہاتھ بہت زیادہ کھلے نہ رہیں۔

نمبر ۴۔ ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ امریکہ مکمل طور پر شام سے نہ نکلے بلکہ یہ ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کرے کہ ہم انقرہ کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے پر پابند ہیں تودوسری طرف بشار اسد کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل کو سجانے کی کوشش کرے ۔

نمبر ۵ ۔ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ شمالی علاقوں میں ترکی کو طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل سکے اور ایسا شگاف بنایا جا سکے جس میں ایران ، روس اور ترکی کے اتحاد میں سیندھ لگائی جا سکے اسکا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا کہ شام کے بنیادی دستور کے لئے جو کمیٹی بنی ہے وہ اپنا کام نہ کرسکے “۔

یہ سب کے سب مفروضے ہیں جن میں سے کسی کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن جو بات یقین سی کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ میدان جنگ تبدیل ہو رہا ہے اور ہر ایک مفروضے میں ایران جھلک رہا ہے، بعید نہیں کہ مسلسل ہر محاذ پر شکست کے بعد امریکہ میں موجود یہودی لابیوں نے ایک نا ممکن ہدف کو حاصل کر نے کی چاہت ٹرمپ کے ذہن میں ڈال دی ہو اور یہاں بھی صدام کی طرح دن میں تارے دیکھنے کی خواہش جاگ اٹھی ہو اور یوں ایران کو واقعی طور پر گھیرنے کی کوشش تیز ہو گئی ہو بہرحال آہستہ آہستہ وقت سب کچھ بتا دے گا کہ کون کسے گھیرتا ہے، امریکہ اپنی ٹکنالوجی کے بل پر ایران کو زیر کرتا ہے یا ایران اپنی آئیڈیالوجی کے بل پر ہمیشہ کی طرح امریکن ٹکنالوجی کے پرخچے اڑا دیتا ہے، ایسے میں اہم یہ نہیں ہے کہ کل کیا ہوگا اہم یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ، ہمارے دل و دماغ پر ٹکنا لوجی کا غلبہ ہے یا ہم اپنی آئیڈیالوجی کو روز بروز مستحکم کر رہے ہیں ؟

(بقلم:سید نجیب الحسن زیدی)

بشکریہ ابنا نیوز

وحدت نیوز (ڈیرہ غازی خان) مجلس وحدت مسلمین ڈی جی خان کا ضلعی شوری اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں ضلعی کابینہ سمیت ضلع کے یونٹس عہدیداران نےشرکت کی۔ اجلاس سے مولانا منیر حسین خان پرنسپل جامعہ گداٸی ۔ مولانا ساجد اسدی ضلعی سیکریٹری جنرل ، انعام حیدر زیدی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے خطاب کیا۔سیکرٹری تنظیم سازی نے ضلعی اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا۔ ضلعی کابینہ کے سیکرٹریز و یونٹ سیکرٹریز نے کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ ضلع کی طرف سے یونٹس کو تین ماہ کا ایجنڈا دیا گیا۔ یونٹ کےفراٸض و ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ اس پر علمإ کرام نے سیر حاصل گفتگو کی۔تمام یونٹس و کابینہ نے کارکاردگی کو مزید بہتر بنانے اور نئی یونٹ بنانے کا عہد کیا۔ تاکہ ضلع بھر  میں مجلس وحدت مسلمین دین ناب و مومنین کی بہتر انداز میں خدمت کرسکے۔ ان شاء اللہ

وحدت نیوز (اسلام آباد) گلگت بلتستان کونسل کے رکن اور مسلم لیگ ن گلگت بلتستا ن کےترجمان حاجی اشرف صدانے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا، اس موقع پرانہوں نے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری اسدعباس نقوی،مرکزی ڈپٹی پولیٹیکل سیکریٹری محسن شہریار، ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل آغا احمد علی نوری اور مرکزی ڈپٹی سیکریٹری تنظیم سازی آصف رضا ایڈووکیٹ سے ملاقات کی  رہنمائوں کے درمیان گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیاکہگلگت بلتستان قانون ساز  اسمبلی کے قراداد کے روشنی میں جی بی کو آئینی صوبہ بنانے کے لئے بھر پور کردارادا کرینگے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) وائس آف کارواں کے مرکزی اورصوبائی قائدین نے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سے خصوصی ملاقات کی، اس موقع پر میں علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا کہنا تھا کہ زائرین کےمسائل حل کرنےکی بھرپورکوشش جاری ہے، ایم ڈبلیوایم زائرین کو درپیش مشکلات کےحل کیلئے مستقل اور دیر پا حل کیلئے کوشاں ہے، وفاقی حکومت کے ساتھ وفود کی سطح پر زائرین کے مسائل کے حل کیلئے ملاقاتوںکا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں، انشاءاللہ جلد پاک ایران روٹ پر ریلوے سروس کی بحالی بھی متوقع ہے جس سے زائرین کی آمد ورفت میں مذیدبہتری آئے گی، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی،ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصرعباس شیرازی،مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسدعباس نقوی،مرکزی سیکرٹری تعلیم نثارفیضی،صوبائی سیکرٹری جنرل صوبہ پنجاب علامہ مبارک علی موسوی بھی موجودتھے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے کراچی سے تعلق رکھنے والے خطباء ، ذاکرین اورپاکستان شیعہ ڈیموکریٹک الائنس PSDA کے عہدیداران کے وفدنے ملاقات کی اور منبر اور اہل منبر کو درپیش مشکلات اور اس حوالے سے قوم میں اختلاف پر تشویش کا اظہار کیا ۔اس نجی ملاقات میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہاکہ تشیع کو اس وقت عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے، اور ہمیں قومی سطح پر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئےاتحاد اورہماہنگی کی ضرورت ہے، قوم میں بحیثیت شیعہ کسی قسم کےعقائد کا اختلاف نہیں ہے البتہ کچھ لوگ منبر پر ذاتی مقاصد کی خاطر اس طرح کے بیانات اور تعبیرات استعمال کرتے ہیں جس کا تشیع کے مسلمہ عقائد سے کوئی تعلق نہیں ۔

قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ ذاکرین اور علماء کے درمیان اختلاف کا فائدہ صرف دشمن اور فرصت طلب لوگوں کو ہے لہذا بات چیت کے ذریعہ افہام و تفہیم پیدا کی جائے اور اہل منبر کے لئے ایک ضابطہ پر عمل درآمد ہی راہ حل ہے۔انہوں نے کہاکہ آئمہ اطہار علیھم السلام نے غلو اور تقصیر دونوں کی مذمت کی ہے اور اعتدال کا راستہ ہی راہ نجات ہے جسے واضح طور پر ہمارے مکتب کے آئمہ علیھم السلام اور ان کی اتباع میں فقہاء اور علماء نے بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہاکہ منبر کا اصل ھدف امام زمانہ عج کےظہور کے لئے زمین ہموار کرنا ہے جس پر تمام تشیع کا ایمان ہےاور اسی ہدف کے تحت اہل منبر کو مجالس پڑھنی چاہئیں۔‏ PSDA کے اراکین نے بھی قائد وحدت کو اپنا منشور پیش کیا اور علماء و ذاکرین کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہماہنگی کی بات کی اور قوم میں اس وجہ سے پڑنے والے اختلاف پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس طرح کی ملاقاتوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کو بھی مفید قرار دیا۔

اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، پاکستان شیعہ ڈیموکریٹک الائنس PSDA کے رہنما اقبال حیدر(عمو)،علامہ خورشید عابدنقوی،علامہ اخترعباس زیدی،علامہ سید محمد نقی نقوی ودیگر بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)  فاشست نسل پرست لسانی پارٹی کا واویلا انکی بوکھلاہٹ کی دلیل ہے یہ بات مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون سید محمد رضا  نے پارٹی عہدہ داروں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہاکہ واضح رہے کہ ضمنی الیکشن میں بد ترین دھاندلی کے بعد مسلسل دوسری بار ھزارہ قبائل کی شناخت کو مشکوک بنانے کی تمام کوششیں ناکام بنائیں گے۔ ہزارہ قبائل تقسیم پاک و ہند سے بھی سو سال پہلے بر صغیر میں آباد تھے آزادی کے بعد سول و فوجی اداروں میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں اور وطن عزیز سے بے انتہا محبت ہزارہ قبائل کی پہچان ہے۔

انہوںنےکہاکہ ’فاشسٹ تنظیم‘ کے سربراہ کی جانب سے گالم گلوچ، الزامات اور تشدد اور ھزارہ ٹاون کے شہریوں کی زندگیوں کو تکلیف میں ڈالنے کی سیاست نا قابل قبول ھے۔فاشسٹ تنظیم نے ثابت کردیا ہے کہ وہ شہری مخالف سرگرمیوں کا حصہ ہے۔امن‘ خوشحالی کے برپا ہونے سے ہی زندگیوں میں سکون اور توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ہمیں متحد ہوکر فاشذم ریسزم اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ ھمیں رنگ و نسل سے بالاتر ہوکرسوچنا ھوگا۔ چند افراد معاشرے کو بگاڑنے اور ماحول کو خراب کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ اگر ہم آپس میں اتحاد قائم کریں‘ معاشرتی بُرائیوں کے خاتمے کیلئے یک جان ہو جائیں تو مٹھی بھر افراد کو شکست دی جا سکتی ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ احمد نوری نے اسلام آباد میں سابق آئی جی سندھ، معروف تجزیہ کار، سماجی شخصیت افضل علی شگری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جی بی کے آئینی حقوق کی راہ میں حال پیچیدگیوں اور دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم جی بی کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے سابق آئی جی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ہر فورم پر گلگت بلتستان کے حقوق اور مسائل حل کرنے کے لئے آواز بلند کی۔ اس اہم ملاقات میں طے پایا کہ خطے کے عوام کو محرومیوں سے نکالنے اور حقوق کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی اور تمام مکاتب کے ساتھ مل کر جدوجہد کی جائے گی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ وفاقی سیاسی جماعتوں اور دیگر ذمہ داروں کی غفلت کے سبب قدرتی وسائل سے بھرپور یہ خطہ محرومیوں کا شکار ہے۔ اس خطے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دیتے تو آج ملکی معیشت کو گلگت بلتستان سے سبنھالا دیا جاسکتا تھا، مگر آج تک کسی میگا پروجیکٹ کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ سی پیک میں بھی تاحال جی بی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ ملاقات میں افضل علی شگری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی اہمیت مسلمہ ہے اور پاکستان کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں اس خطے نے دی ہیں، چنانچہ اس خطے کے حقوق کے لئے مزید جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں دونوں شخصیات میں طے پایا کہ جی بی کو یہاں کی عوامی امنگوں کے مطابق حقوق دلانے کیلئے جدوجہد تیز کر دی جائے گی۔

Page 9 of 909

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree