The Latest

اٹکی ہوئی سوئیاں اور دشمن

وحدت نیوز(آرٹیکل) استاد نے بچے کو کلاس سےنکال دیا، والدین پریشان ہوئے، استاد سے استفسار کیا تو استاد نے کہا کہ آپ کا بچہ مزید تعلیم کے قابل نہیں رہا، وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کے دماغ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ہے۔استاد نے سوئی اٹکنے کی دلیل یہ دی کہ یہ ہر موضوع پر ایک ہی طرح کا مضمون لکھتا ہے۔ مثلا میں نے اسے آم پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے اس طرح سے لکھا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے، لیکن یہ عرب میں نہیں پایا جاتا ، یہ عرب کے بدو کیا جانیں کہ آم کیا ہوتا ہے ۔ یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے اونٹ پر مضمون لکھنے کو  کہا تو اس نے لکھا کہ اونٹ عرب میں پائے جاتے ہیں، عرب کے بدو اونٹوں پر سواری کرتے ہیں اور اونٹوں کی طرح کینہ رکھتے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے قلم  پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے لکھا کہ قلم میں بڑی طاقت ہے لیکن عرب اس طاقت سے غافل ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے علم پر مضمون لکھنے کو دیا تو اس نے اس طرح سے مضمون باندھا کہ  علم نور ہے، علم روشنی ہے لیکن عرب اس روشنی کے بجائے عیاشی کے پیچھے لگے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔یہ بچہ ہر مسئلے کو موڑ کر اپنے من پسند موضوع میں ڈھال دیتا ہے۔

یاد رہے کہ سوئی کے اٹک جانے کا باعث اندھے تعصب کے علاوہ معلومات کی کمی بھی ہے۔اگر آپ توجہ فرمائیں تو  ہمارے ہاں اکثر لوگوں کی سوئی اٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ حکمرانوں کی  کرپشن کی بات کریں  تو وہ فوراً کہیں گے کہ لوگ بھی تو چور ہیں، آپ کرایوں میں اضافے کی بات کریں تو وہ آگے سے پھر کہیں گے لوگ بھی تو چور ہیں، آپ مہنگائی کی بات کریں تو پھر یہی جواب ملے گا کہ لوگ بھی تو چور ہیں۔۔۔یہ مسائل کو گھما کر لوگوں کی طرف لے جائیں گے۔

اسی طرح بعض لوگوں کی سوئی شیعہ سنی فساد پر اٹکی ہوتی ہے، آپ میانمار کی بات کریں یہ شیعہ سنی مسائل کو ابھارنا شروع کر دیں گے ، آپ ملک میں اسلامی اقدار کی بات کریں انہیں شیعہ سنی جھگڑے یاد آجائیں گے، آپ جہان اسلام میں اتحاد کی بات کریں یہ شیعہ سنی مناظروں پر اتر آئیں گے۔۔۔یہ ہر مسئلے کو گھسیٹ کر شیعہ سنی جھگڑوں کے ساتھ جوڑیں گے۔

اسی طرح کچھ لوگوں کی سوئی اپنے علاقائی مسائل پر اٹک جاتی ہے، آپ کہیں اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے یہ  بغیر کسی موازنے اور تجزیے کے کہیں گے کہ ہم بلوچی بھی تو مظلوم ہیں، انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ  اسرائیل کے مظالم کی نوعیت کیا ہے اور فلسطینیوں کی مظلومیت کی انتہا کیا ہے۔یہ سارے مسائل کو بلوچستان کے مسائل کے ساتھ منسلک کریں گے۔

اسی طرح اگر آپ کہیں کہ کشمیر میں ہندوستان ظلم کر رہا ہے تو یہ کہیں گے کہ ہم سندھی بھی تو مظلوم ہیں، یہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں اور یا پھر علاقائی تعصب میں اندھے۔یہ کشمیر کےمسائل کو بھی سندھ کے گرد گھمائیں گے۔

اگر آپ کہیں کہ  یمن میں ظلم ہو رہا ہے تو یہ کہیں گے ہمارے خیبر پختونخواہ میں بھی ظلم ہو رہا ہے، کیا آپ بھول گئے کہ اے پی ایف میں کیا ہوا تھا! یہ لوگ یمن پر ہونے والے ظلم کو یا تو جانتے نہیں اور یا پھر علاقائی تعصب نے انہیں اندھا کر رکھا ہوتا ہے۔یہ سارے مسائل کی جڑیں خیبر پختونخواہ میں ڈھونڈتے ہیں۔

اگر آپ کہیں کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور مسلمانوں کو لڑواکر کمزور کرنے میں غیر مسلم طاقتوں کا ہاتھ ہے تو یہ  لوگ مختلف  فرقہ پرست مولویوں کی اشتعال انگیز تقریریں اکھٹی کر کے لے آئیں گے کہ غیر مسلموں کا کوئی ہاتھ نہیں بس یہ مولوی ہی کرتا دھرتا ہیں۔

حتی کہ اگر آپ  یہ دعویٰ کریں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان سائنسدانوں کو اسرائیل  کی خفیہ ایجنسی موساد نے قتل کیا ہے تو یہ چونک کر کہتے ہیں نہیں یہ ممکن ہی نہیں مسلمانوں کو تو فقط تکفیری قتل کرتے ہیں۔۔۔

آپ لاکھ کہیں کہ تکفیری عناصر کی فکری تربیت اور مالی اعانت را اور موساد جیسی  ایجنسیاں کرتی ہیں لیکن ان کے نزدیک تکفیریت کی نشونما میں را اور موساد کا کوئی ہاتھ ہی نہیں۔

اگر آپ یہ کہیں کہ موساد کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی ایک مختصر رپورٹ یہ ہے  کہ 21 اپریل 2018 کو کوالامپور میں فلسطینی راکٹ انجنیئر کو قتل کیا گیا۔ 13 فروری کو حسن علی خیرالدین نامی پی ایچ ڈی انجنئر کو کینیڈا میں قتل کیا گیا۔ 28 فروری کو لبنان سے تعلق رکھنے والے فزکس کے طالب علم کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ 25 مارچ کو فلسطینی نوجوان سائنسدان کو اسرائیلی فوجیوں نے قتل کیا۔ موساد کی جانب سے مسلمان سائنسدانوں کے قتل کا سلسلہ پرانا ہے۔ ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں۔ حسن رمال فزکس کے میدان کے مانے ہوئے سائنسدان جنہیں 1991میں قتل کیا گیا۔

سعید بدیر میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر تھے انہیں 1989 میں قتل کیا گیا۔ سمیر نجیب نامی مصری سائنسدان ایٹمی ٹیکنالوجی میں معروف تھے انہیں 1967 میں قتل کیا گیا۔ سلوی حبیب نامی محققہ جو کہ صہیونی سازشوں کو بے نقاب کرتی تھیں، انہیں اپنے ہی فلیٹ میں بیدردی سے ذبح کیا گیا۔ حسن کامل الصباح لبنانی سائنسدان جنہیں عرب کا ایڈیسن کہا گیا انہیں امریکہ میں قتل کیا گیا۔ مصطفیٰ مشرفہ نامی ماہر فزکس کو زہر دیکر فرانس میں قتل کیا گیا۔

 ڈاکٹر نبیل القلینی نامی سائنسدان جن کا تعلق مصر سے انہیں 1975 میں اس طرح جبری لاپتہ کیا گیا کہ آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا۔ ڈاکٹر سامعیہ میمنی نامی ڈاکٹر کہ جن کی تحقیق نے دل کے آپریشن کے زاویے ہی بدل دیئے، انہیں 2005 میں قتل کرکے ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقاتی مسودات کو بھی چرالیا گیا۔ یحییٰ المشدنامی جوہری سائنسدان کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ سمیرہ موسیٰ نامی سائنسدان کہ جنہوں نے ایٹمی توانائی کے طبی مقاصد میں استعمال سے متعلق ایجادات اور تحقیق کی، انہیں بھی قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایران کے متعدد سائنسدان بالخصوص دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کو موساد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ کوشش کریں گے کہ یہ ملبہ بھی کسی نہ کسی طرح تکفیریوں پر ہی ڈال دیا جائے۔

جب تک ہم  فرقوں کی منافرت، مقامی مسائل، گلی محلے کی لڑائیوں اور انتقامی سوچ سے باہر نہیں نکلتے ، تب تک ہم استشراق، دشمن کے جاسوسی اداروں اور استعمار و استکبار کی سازشوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کا دشمن کون ہے!اس کی تاریخ کیا ہے؟ اس کے اہداف کیا ہیں، اس کا طریقہ واردات کیا ہے؟دشمن کس طرف مورچہ زن ہے ؟ اور دشمن کی سپلائی لائن کہاں ہے؟ ان سب باتوں کو سمجھے بغیر  دشمن کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(اسلام آباد) اہلیاں ضلع کرم پاراچنار نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عمائدین کرم نوجوانان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی خستہ حالی ،اسٹاف کی کمی و سہولیات کی عدم دستیابی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے اور احتجاجی بینرز اُٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مزمل حسین ،شبیر ساجدی اور یوتھ آف پاراچنار کے ذاکر طور ی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ریاست کے بنیادی حقوق میں تعلیم ، صحت ، بجلی او ر پانی میسر ہوتے ہیں۔مگر بد قسمتی سے پاراچنار کی عوام بعض اوقات سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم ان سہولیات سے بالکل محروم ہیں۔ پاراچنار میں تعلیم پرائیوٹ اداروں کے رحم وکرم پر ہے۔ سرکاری ادارے اپنی آخری سسکیاں لے رہے ہیں۔تحفظ کے نام پر بے شمار چیک پوسٹوں، تلاشیوں اور NIL دیکھا کر پارا چنار میں داخل ہونے سے عوام بے زار ہو چکے ہیں۔

خوش قسمتی سے کچھ دہائیاں پہلے ایک ہسپتال بنا کر دیا گیا۔لیکن افتتاح کے بعد کسی نے وہاں کا حال پوچھنا گورا نہیں کیا۔جو ساڑھے چھ لاکھ آبادی کے لئے قائم یہ اکلوتا ہسپتال ہر قسم کی بنیادی ضروریات سے عاری ہے۔کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں MOs پر پورے ہسپتال کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ICU کیلئے جگہ مختص تو کردی گئی ہے لیکن امراض قلب جیسے موذی مرض کیلئے بھی نہ کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے نہ ہی ICU میں کوئی بنیادی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ گائنی میں صرف دو ڈاکٹر موجود ہیں جو دن رات ڈیوٹی میں مصروف رہی ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی کو صرف دو ڈاکٹر ز کسی صورت کنٹرول نہیں کر سکتیں۔کسی ایمرجنسی کی صورت میں ڈھائی سو کلو میٹر دور پشاور تک مریض پہنچائے جاتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر کے بعد کوئی قسمت سے ہی زندہ بچ پاتا ہے۔

جبکہ 10 میڈیکل آفیسر ، 09 اسپشلسٹ ڈاکٹرز، 04 فی میل میڈیکل آفیسرز ،08 چارج نرس، 02 ہیڈ نرس، 08 ٹیکنیکل سٹاف اور انکے علاوہ 30 سے زائد لوئر اسٹاف کی آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ان کے علاوہ MRI اورسی ٹی سکین جیسی ضروری مشینری بھی دستیاب نہیں۔ نہ کسی اسٹنڈرڈ لیبارٹری کی سہولت موجود ہے۔ 30 سے زائد ڈاکٹرز اسٹاف کی ضرورت والے ہسپتال کا پورا بوجھ صرف 6,7ڈاکٹروں کے کندھے پر ڈالا گیا ہے۔ جن کے پاس بنیادی تشخیص کی سہولت بھی نہیں ایسی صورت میں ان کے پاس پشاور ریفر کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا،پچھلے دھرنے کے بنیادی مطالبات میں اس ہسپتال کے اے کیٹگری تک اپ گریڈیشن بھی شامل تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب نے منظوری کا وعدہ بھی کیا تھا۔لیکن افسوس اگر ایک آرمی چیف بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو باقی گلہ کس سے کریں۔اپ گریڈیشن کے نام ایک ٹرامہ سنٹر بنا کر دیا گیا۔ لیکن وہ بھی خالی بت ہی اس ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ہر روز عوام کے طرف سے مطالبات آتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اس بنیادی حق کیلئے بھی ہمیں سرکار کی منتیں کرنے پڑتی ہیں۔

اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
    ۱۔پاراچنار ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کیئے جائیں۔
    ۲۔ٹرامہ سنٹر فوراً عوام کی بہبود کیلئے کھول دیا جائے۔
    ۳۔DHQ ہسپتال اور باقی ضلع کرم کے دیگرBHU اورہسپتالوں میں اسٹاف کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔
    ۴۔ بالشخیل سمیت تمام اراضی تنازعات کاغذات ِ مال کے مطابق جلد از جلد حل کیئے جائیں اور تجاوزات قائم کرنے والے افراد
         سے جلد از جلد اراضی رہا کروا کے اصل مالکان کے حوالے کیئے جائیں تاکہ علاقے کا امن برقرار ہو۔

    ہم اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے اپنے مطالبات کو احکام بالا تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان پرفوری طور پر عمل در آمد کا حکم جاری کیا جائے۔
        
                       

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات جائز ہیں، حکومت فوری طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم کرے اور احتجاج ختم کروائے، پیرامیڈیکل سٹاف کے احتجاج سے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں، احتجاج کے دوران کسی قیمتی جان کا ضیاع ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ اپنے ایک بیان میں الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے اپنے جائز حقوق کیلئے جاری احتجاج پر حکومت کی بے حسی افسوس ناک ہے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے جائز حقوق کو پس پشت ڈالنا انتہائی زیادتی ہے۔

حکومت اپنی عیاشیوں پر تو کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن قوم کے خدمت گاروں کو کھڈے لائن لگانا سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے پورے گلگت بلتستان کا پیرامیڈیکل اسٹاف احتجاج پر ہے اور کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ابھی تک اس احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا، جو کہ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات کو سنیں اور ان کے حل کیلئے راست اقدامات کرکے پیرامیڈیکل سٹاف کی بے چینی کو دور کیا جائے۔

وحدت نیوز (سندھ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے فلاحی ادارے خیرالعمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ صوبہ سندھ کی جانب صوبہ بھر میںسے 11 تا 13 جنوری ایام خیرالعمل منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں تمام اضلاع کو ان تین روز میں عمل خیر کے طور پر مندرجہ ذیل سرگرمیاں انجام دہی کا کہا گیا۔1۔ صفائی کے سلسلے میں لوگوں کو آگاہی دیں اپنے محلے، مسجد، امام بارگاہ اسکول یا شہر میں صفائی کا اہتمام کریں2۔ مریضوں سے ہمدردی کے عنوان سے ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کو فروٹ،  دوا ، کھلونے بلڈ ڈونیش یا صرف ایک پھول دے کر عیادت کریں3۔ غربہ و مسکینوں کی مدد اس سلسلے میں غریبوں کے گھروں میں راشن بیگ تقسیم کرکے سردی کی مناسبت سے گرم اشیاء دے کر غریب طلبہ میں کتابیں یا ڈریس دے کر یا کچھ وقت غریبوں کے ساتھ گزار کر بھی مدد کی جاسکتی ہے۔اس پروگرام پر عمل پہرا ہوتے سندھ کے مختلف اضلاع میں بھرپور انداز میں حصہ لیا جن کی مختصر تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ضلع دادو میں 11 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل اصغر حسینی کی سربراہی میں صفائی کا اہتمام کیا گیا، 12 جنوری کو تعلقہ اسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش کیا اور  13 جنوری کے دن غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے اور ضلعی سیکرٹری جنرل نے غریب بچوں کے ساتھ وقت گزار۔ضلع سانگھڑ میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل سید عمران شاہ نے کابینہ کے ساتھ مل سید محلے کی صفائی کی اور ضلعی سیکرٹری فلاح و بہبود کی جانب سے ہسپتال میں جا کر مریضوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے ان کی عیادت کی۔ضلع بدین  12 جنوری کے دن تحصیل ماتلی میں صوبائی اسمبلی کی ایم پی اے، ادی تنزیلا قمبرانی کے ساتھ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم یعقوب حسینی نے ماتلی کے ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش، ضلعی سیکرٹری جنرل سید نادر شاہ نے بھی بدین کے ایک ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اس کے علاوہ ایم پی اے صوبہ سندھ آدی تنزیلا کی جانب سے ایام خیرالعمل کے مناسبت سے اسکول کے بچوں کتابیں اور دوسری ایشیا بھی تقسیم کی گئی۔ضلع نواب شاہ کی تحصیل دولتپور میں 11 جنوری کے دن صوبائی رہنما برادر شفقت لانگا کی قیادت میں لانگا محلے میں صفائی کا اہتمام کیا گیا۔

ضلع ٹنڈو محمد خان میں 12 جنوری کے دن شہر کے معززین کے ساتھ مل کر شجر کاری کی گئی اور 13 جنوری کے دن غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے۔ اور اسی ضلعی سیکرٹری فلاح وبہبود کی جانب سے ایک یونٹ میں صفائی کا اہتمام بھی کیا گیا ضلع ٹنڈو الہیار میں 12 جنوری کے دن امامبارگاہ بڑا پڑ پر صفائی کی گئی۔ضلع گھوٹکی میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل مولانا معشوق علی کی قیادت میں شجر کاری کی گئیضلع خیرپور کی تحصیل کنب میں صوبائی رہنما مولانا نقی حیدری نے 12 جنوری کے دن مدرسہ علی میں صفائی کا اہتمام کیا۔ضلع شکارپور میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل برادر فدا حسین کی قیادت میں سول ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش کیا گیا ان کے ہمراہ شہر کے مشہور سرجن آفتاب احمد پٹھان بھی تھے ضلع عمر کوٹ میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل نے غریب بچوں میں کپڑے اور جوتے تقسیم کیا۔ضلع سجاول کی تحصیل دڑو میں 13 جنوری کے دن صوبائی رہنما مختار دائو کی وفد کے ساتھ ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔

کراچی ڈویژن میں ڈویژنل سیکرٹری فلاح و بہبود زین رضوی کی جانب سے 12 جنوری کے دن غریبوں میں رضائیں تقسیم کی اور 13 جنوری کو مولانا نشان حیدر کی جانب سے مریضوں کی عیادت کی اور جوگی موڑ یونٹ میں صفائی کا اہتمام کیا گیاکراچی ڈویژن سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح وبہبود، ضلع جنوبی کی کابینہ اور صوبائی رہنما ناصر حسینی نے ایک وفد کی صورت میں 13 جنوری کے دن جناح ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور جوس پیش کیا ،کراچی ڈویژنل عہدے دار و ضلع شرقی عہدے داروں نے کےوفد نے 13 جنوری کے دن جے ڈی سی کے اولڈ ایج ھوم و یتیم بچوں کی رہائش کے مرکز گلستان زینبیہ س عباس ٹاؤن کا دورہ کیا اور وہاں مقیم افراد کی خیریت دریافت کی, انہیں پھل اور جوس پیش کیئے اور ان کےساتھ وقت گزارا ۔ 13 جنوری کے دن ہی ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن اور ضلع وسطی کےوفد نے ایام خیر العمل کی مناسبت سے مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر, امام جمعہ مسجد نور ایمان اور بزرگ عالم دین علامہ مرزا یوسف حسین کی عیادت کی , وفد میں ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ صادق جعفری, ناصرحسینی, زین رضوی, کاظم محمد,  عباس زیدی, اقتدارحسین شامل تھے،یم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن اور ضلع غربی کےوفد نے ایام خیر العمل کی مناسبت سے قطر اسپتال اورنگی ٹائون کا دورہ کیا اور اسپتال میں موجود مریضوں کی خیریت دریافت کی, ان کو تحائف پیش کیےاور ان کےساتھ وقت گزارا ،قطر اسپتال کی انتظامیہ نے مجلس وحدت مسلمین کے اس پر خلوص عمل کو سراہا اور مجلس کے حق میں دعاکی۔ وفد میں ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ صادق جعفری, , زین رضوی,امتیاز زیدی علی، اصغر جعفری ،امجد بیگ، حسنین علی اور قطر اسپتال کے امتیاز بھائی اور دیگر شامل تھے۔

ضلع حیدرآباد میں 13 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری لیڈیز ونگ کے تعاون سے ضلعی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم رحمان رضا نے غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے اور رضائیں تقسیم کی گئی?اظہار تشکر?♥ ہم ایام خیرالعمل کے سلسلے میں تین روز میں سرگرمیاں انجام دینے والے ان تمام اضلاع سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح و بہبود کابینہ کے افراد اسی طرح سے ڈویژن کراچی کے سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح و بہبود، صوبائی کابینہ میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل برادر یعقوب حسینی ، سیکرٹری رابطہ شفقت لانگا آفس سیکرٹری ناصر حسینی، سیکرٹری فنائس برادر ظہیر اور مختار دائو اور خواہر عظمی تقوی سیکرٹری جنرل لیڈیزونگ ضلع حیدرآباد کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہم خاص طور پر ایم پی اے سندھ آدی تنزیلا کا بھی جنھوں نے ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالااس موقع پر چیئرمین خیرالعمل آقا باقر زیدی کا بھی شکریہ ادا کرتے جنھوں نے ان ایام کو منانے میں ادارے کی طرف رہنمائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی فرمائی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے نیشنل پریس کلب کے حالیہ انتخابات میں کامیاب قرارپانے والی نئی انتظامیہ سے ملاقات کی ، نیشنل پریس کلب آمد پر انہوں نے نومنتخب صدر نیشنل پریس کلب شکیل قراراور نائب صدر سعدیہ کمال کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور آزاد پینل کو بھاری اکثریت سے نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں کامیابی پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے مبار کباد پیش کی، اس موقع پر نیشنل پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی اور گورننگ باڈی کےدیگر نومنتخب اراکین سمیت ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات سید حسنین زیدی بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان (شعبہ خواتین) کی مرکزی کابینہ کا دو روزہ اجلاس وحدت ہاوس لاہور میں منعقد ہوا،اجلاس کی صدار ت مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرانقوی نے کی ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ سید مبارک علی موسوی نے کہاکہ اگر خواتین کی تنظیم مضبوط ہوجاتی ہے تو کوئی انھیں شکست نہیں دے سکتا، انقلاب اسلامی ایران میں خواتین کا کردار سب سے نمایاں ہے۔

تیسری نشست میں مجلس وحدت مسلمین (شعبہ خواتین ) کی مرکزی سیکرٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی محترمہ زھرا نقوی صاحبہ نے مرکزی کابینہ کی توسیع کی اور نئی شامل ہونے والی خواہران سے حلف لیا گیا ، تمام عہدیداران کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا،جن میں محترمہ تحسین شیرازی (ڈپٹی سیکرٹری جنرل) - محترمہ ام البنین (ڈپٹی سیکرٹری جنرل) - محترمہ معصومہ نقوی ( شعبہ امور تنظیم سازی ) -محترمہ نرگس سجاد (شعبہ سیاسیات و تربیت) -محترمہ عظمی تقوی (شعبہ نشرواشاعت) -محترمہ فرحانہ گلزیب (شعبہ فلاح و بہبود)   - محترمہ سیمی نقوی ( شعبہ اطلاعات و روابط) -محترمہ انیلا کرن (شعبہ ذاکرات)-محترمہ سائرہ ابراھیم (شعبہ جوانان) -محترمہ سمیرا نقوی (شعبہ تعلیم )-محترمہ قراةالعین (سیکرٹری مالیات) - محترمہ فرح دیبا (سیکرٹری شماریات)- محترمہ بتول رضوی ( سیکرٹری میڈیا سیل )  ان کیساتھ چار معاونین میڈیا سیل میں فرائض انجام دینگی۔محترمہ بینا شاہ (وحدت آفس سیکرٹری ) -محترمہ شبانہ میرانی (شعبہ تحفظ عزادای) - محترمہ  بشریٰ ( شعبہ مدارس)اپنی دیگر معاونین کے ہمراہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔ محترمہ عدیلہ ( شعبہ اطفال )ان کے علاوہ شعبہ ورکنگ وومن کی مسئولیت محترمہ ڈاکٹر ردا فاطمہ کو دی گئی اور ان کیساتھ مزید چار معاونین کام کرینگی، محترمہ گلشن زیدی ، شعبہ تعلیم کی مسئولیت انجام دینگی اور ان کیساتھ بھی چار دیگر معاونین فرائض انجام دینگی۔ ۔۔۔~ معاونین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اجلاس کی چوتھی نشست کا آغاز محترمہ معصومہ نقوی نے تلاوت کلام پاک سے کیا، اس نشست میں مختلف علاقہ جات میں یونٹ سازی ، ڈویژن اور ضلع سازی کے امور پر تفصیلا ًبحث کی گئی ،نیز تنظیمی فعالیت کو تیز کرنے اور ہر شعبہ کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورت کی گئی ، شعبہ خواتین کی سینیئر عہدیداران محترمہ معصومہ نقوی، محترمہ تحسین شیرازی ، محترمہ نرگس سجاد نے بھی کابینہ کی دیگر اراکین اور انکی معاونین کی اپنے تجربات کی بنیاد پر بھرپور راہنمائی کی،دو روزہ اجلاس کی پانچویں اور آخری نشست ،جس میں تنظیم کے نظم و ضبط تمام شعبہ جات میں معاونین بنانے اور کام کرنے کے حوالے سے سب شرکاء اجلاس نے اپنی اپنی آراء و تجاویز پیش کیں اور اس بات کا عزم کیا کہ اپنی تمام تر کوشش و قوت کو بروے کار لا کر ملت کے لیے خدمات انجام دینگے ، آخر میں مرکزی سیکرٹری جنرل خانم زھرا نقوی نے تمام شرکاء کی زحمات اور کوششوں کو سراہتے ہوے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وحدت نیوز (کراچی) سکول وین ڈرائیورزکی ہڑتال طلبہ کا تعلیمی مستقبل دائوپر لگانے کی کوشش ہے، طلبہ کے تعلیمی نقصان کی ذمہ داری حکومت، عدلیہ یا ڈرائیورزمیں سے کون لے گا؟؟ ؟ حکومت مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہاکہ اسکول وینوں سے سی این جی سلینڈرز نکالے کا عدالتی فیصلہ بہترین اقدام ہے، یہ سلینڈرزچلتے بھرتے بم ہیں، پاکستان کے مختلف شہریوں میں ان خطرناک گیس سلینڈرزکے دھماکوں میں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، البتہ ان سلینڈرز کے خلاف حکومتی اقدامات کے باعث وین ڈرائیورزکی ہڑتال طلباءوطالبات کے تدریسی عمل میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے دیگر پہلوئوںکا بھی جائزہ لے ،عدالت عالیہ کو چاہئے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اوگراسے منظورشدہ سی این جی سلینڈرکی تنصیب کی اجازت فراہم کرے تاکہ وین ڈرائیورز اور پولیس کے درمیان رسہ کشی کا خاتمہ ہو اور طلباءوطالبات کا مستقبل محفوظ رہ سکے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے وکلاء کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور محرومیوں کو دور کرنے کے لئے وکلاء برادری کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وکلاء صبر و استقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں اور قانونی جنگ لڑیں تو دنیا کی کوئی طاقت جی بی کو حقوق دینے سے محروم نہیں رکھ سکتی۔

 انہوں نے کہا کہ جی بی کے حقوق کی جنگ ہم ستر سالوں سے لڑ رہے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں کے عوام کی حب الوطنی کا صلہ دیا جائے۔ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان کو حقوق دلانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی واحد تحریک ہے جو ستر سالوں سے الحاق کے لئے چل رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جی بی کسی صورت پاکستان کے آئینی دھارے میں شامل ہو جائے۔ گلگت بلتستان کو آئینی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ایک فیصلہ کن تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

 آغا علی رضوی نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ خطے کے وکلاء خطے کے آئینی حقوق کی قانونی جنگ اچھے انداز میں لڑے گی۔ وہ دن دور نہیں کہ جی بی پاکستان کا آئینی حصہ ہوگا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) شُہداء کی برسی 18 جنوری کو والہانہ طریقے سے منائی جائیگی۔مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما ، سابق وزیر قانون آغا رضا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 10 جنوری 2013 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن تھا، جس دن اہل جور وستم نے ظلم و بربریت کی ایک بدترین مثال قائم کردی جہاں علمدار روڈ پر نہتے اور بے گناہ 86 افراد کو نہائت سفاکیت سے بے جرم و خطا مارا گیا اور سینکڑوں لوگ اس دھماکے میں زخمی ہوگئے کتنے گھرانے ایسے تھے جو اپنے واحد سرپرست سے محروم ہوئے۔ کتنی ماوؤں کے گود اپنے لاڈلے اور کتنے بچے جو باپ کے سایے سے محروم ہوئے۔ یوں تو سفاک دہشتگردوں نے بارود کے ذریعے اِن شہدا کے جسموں کے ہزارو ں ٹکڑے کر دیئے۔ مگر اِن پاکیزہ اجساد کاہر ٹکڑا اتنا پُر تاثیر ثابت ہوا کہ پاکستان کے طول و ارض سے لے کر دُنیا کے کونے کونے تک انسانی ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا اور انھیں ظلم کے خلاف علم بغاوت لے کر باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے مذید کہاکہ یہ وہ پاک و مقدس لہو ہے جس نے اپنی حرارت سے سخت ترین سردی میں فضا کو ایسا گرمایا کہ لوگوں نے پورا ہفتہ سڑک پر گزار دیا اور اپنی ہمت سے اُس وقت کے کرپٹ اور ظالم صوبائی حکومت کو گھر کا راستہ دکھایا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے۔ کہ آج تک اُن قاتلوں کو نہ تو پکڑا گیا اور نہ ہی انکا پیچھا کیا گیا۔ جو بذات خود وفاقی و صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مُنہ پر ایک بدنما داغ ہے، جو کبھی نہیں دھول سکتی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شہدا کی برسی 18 جنوری کو شہدا چوک علمدار روڈ پر انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا۔ جہاں ایک بڑی تعداد میں مرکزی قائدین اور مُلک کے گوشہ و کنار سے اکابرین کی آمد متوقع ہے۔ اُنھوں نے اس حوالے سے کوئٹہ ڈویژن کے تمام یونٹس کو اپنی تیاریاں مکمل کرنے کی تلقین کی۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ میڈیا سیل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ڈویژنل سیکریٹری جنرل کونسلر کربلائی رجب علی نے کہاکہ نام نہاد قوم پرست پارٹی کے زہر آلود بے بنیاد بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے ،دین اسلام ہی فطرت بشر کے عین مطابق انسانی اقدار کے تحفظ کیلئے بہترین رہنمائی کرتا ہے قوم دوستی کے نام پر قوم کو مشکلات سے دوچار کرنے والی قوم پرست پارٹی اب خود اسلام ناب محمدیؐ کیخلاف بات کرتے ہوئے نجانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہے۔

انہوںنے کہاکہ جدید دور کے تقاضوں سے ھم آہنگ زمان و مکان کیساتھ چلنے اور قومی ثقافت کی ترویج سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیںکر سکتا جو پارٹی 20 سالوں سے کھیلوں کے فروغ کے بجائے ناچ گانے کی ترویج میں پیش پیش تھی اب ان کے کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات کے وعدے نویدِ سراب درصحرا کے سوا کچھ نہیں،ناچ گانے اور مخلوط میوزیکل پروگرام کے ذریعے قومی تشخص کو مسخ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارے معاشرے کی اکثریت دین دوست اور اپنی قومی تاریخ پر بجا طور فخرکرتی ہے،چار گلیوں کی سیاست میں ناکامی کے بعد بلوچستان کی سیاست پر بے بنیاد بیانات اخبارات کی حد تک ہیں برادر اقوام کے درمیان اچھے روابط قائم کرنے کیلئے سنجیدہ حقیقی نمائندوں کو میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔

Page 7 of 909

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree