The Latest

وحدت نیوز(جیکب آباد) مجلس وحدت مسلمین ضلع جیکب آبادتمام شیعہ تنظیمات اور شیعیان حیدرکرارؑ کی 16روزہ جدوجہد کی بدولت متعصب ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کا ضلع جیکب آباد سے تبادلہ کرکے طارق نواز کو نیا ایس ایس پی جیکب آباد مقررکردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کالعدم تکفیری دہشت اور سانحہ جیکب آباد،شکار پور اور سہیون شریف کے ماسٹر مائنڈ حفیظ بروہی کے بھانجے ایس ایس پی جیکب آباد بشیر احمد بروہی کو ملت جعفریہ کے بھرپور احتجاج کے بعد آج جیکب آباد سے تبادلہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہےکہ متعصب ایس ایس پی جیکب آباد بشیراحمد بروہی نے چند ماہ قبل جلوس شہادت مولاعلیؑ کے انعقاد پرحملہ کرواکرسو سے زائد عزاداروں کو شدید زخمی کیا تھا اور دوسو سے زائد عزاداروں کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آرز کاٹی تھیں،ذرائع کے مطابق ایس ایس پی جیکب آباد میں کالعدم دہشت گرد جماعتوں کی پشت پناہی میں بھی مصروف تھا۔

ایس ایس پی جیکب آباد بشیر احمد بروہی کے جیکب آباد سے تبادلے پر مقامی مومنین نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کی مرکزی قیادت خصوصاعلامہ راجہ ناصرعباس جعفری ، صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ باقرعباس زیدی اور دیگر قائدین کا شکریہ اداکیا ہے جنہوں نے اس مسئلے پر مسلسل مقامی مومنین کی رہنمائی کی اور حکمرانوں اور اعلیٰ پولیس حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔

وحدت نیوز(پاراچنار) مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید وحید عباس کاظمی نے وفد کے ہمراہ دورہ پاراچنار کے موقع پر تحریک حسینی کے رہنماوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر تحریک حسینی علامہ عابد حسین جعفری اور دیگر موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ضلع کرم کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور تحریک حسینی کے رہنماوں نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں حالات کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ کیا۔

 علامہ وحید کاظمی نے تحریک حسینی کے رہنماوں کو یقین دہائی کرائی کہ وہ فوری طور پر حالات سے مرکزی قیادت کو آگاہ کریں گے اور حالات کی بہتری کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ علامہ وحید کاظمی نے پاراچنار کے فعال قومی شخصیات کے خلاف جھوٹے اور بےبنیاد مقدمات کے اندراج کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کی جانب سے کابینہ کی توسیع و حلف برداری کی گئی اور بیرسٹر عرفان رضا نقوی ایڈوکیٹ سیکرٹری لیگل افیئرز ، عون عباس انجم ایڈوکیٹ ڈپٹی سیکرٹری لیگل افیئرز ، تصدق عباس زیدی سیکرٹری تعلیم، شہباز حسین گورمانی ایڈوکیٹ نےسیکرٹری فلاح و بہبود و چیئرمین ( ADMC ) کا حلف اٹھایا۔

 بزرگ عالم دین و صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی صاحب نے برادران سے اپنے اپنے عہدوں کا حلف لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملتان غلام حسنین انصاری ، سیکرٹری تنظیم سازی قیصر عباس ، سیکرٹری آفس برادر علی اصغر ، سیکرٹری رابطہ علی موسوی ، سیکرٹری اطلاعات حسن عباس گھلو، انچارج سوشل میڈیا ارتضیٰ نقوی بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (راولپنڈی) مرکزی عید گاہ شریف میں سجادہ نشین پیر محمد نقیب الرحمٰن کی زیر صدارت اور پیر محمد حسان حسیب الرحمٰن کی میزبانی میں اتحاد امت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر نور الحق قادری اورمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت وطن عزیز کی بیشتر ممتاز خانقاہوں کے سجادہ نشین اور تمام مکاتب فکر کے علما ئےکرام جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکڑ قبلہ ایاز، پیر سید حامد سعید کاظمی، پیر امین الحسنات شاہ، پیر سید سعادت علی شاہ ، اتحاد علما پاکستان کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی، سینیٹر طلحہ محمود،پیر عبید اللہ شاہ ،پیر سید منور شاہ جماعتی پیر سید شمس الدین گیلانی،خواجہ غلام قطب الدین فریدی،مولانا عبدالخبیرآزاد، پیر سلطان احمد علی،علامہ امین شہیدی،علامہ عارف واحدی و دیگر نے شرکت کی ۔

 اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےکہا کہ جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان ایشیا کا بالعموم اور جنوبی ایشیا کا بالخصوص ایک بہت ہی اہمیت کا حامل ملک ہے ،یہاں 21 کروڑ مسلمانوں بستے ہیں یہ ایک لحاظ سے خطے کااہم ایٹمی دفاعی لحاظ سے مضبوط ملک ہے، اس ملک کے باشندے محب وطن ہونے کے ساتھ ساتھ محبان اہلبیت ؑ،عاشق رسول ﷺ و عاشق اسلام ہیں پاکستان کی اکثریت دین سے محبت کرتی ہے،جس کی دلیل یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی توہین رسالت ہو یا قرآن کی بے حرمتی یا اہلبیت ؑ کی شان میں گستاخی ہو سب سے پہلے یہاں رد عمل سامنے آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کا ہر باشندہ اسلام ،قرآن اور اہلبیت اطہار ؑسے اتنی ہی محبت رکھتا ہے اوریہ عشق رسولﷺ ہونے کا ثبوت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیزمیں اکٹھے رہنے کیلئے سب سے بہترین عمل یہ ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ اور دوسرے مسلک کو چھیڑو مت ۔ہمیں کبھی بھی ایک قوم نہیں بننے دیا گیا ۔پاکستان خود لوکیشن کے اعتبار سے خطرات کا مرکز ہے کیونکہ اس کی اہمیت دنیا پر واضح ہے ۔ ہمیں ملکر اپنا رول ادا کرنا ہو گا ۔ ہم ستر ہزار شہداء کے وارث ہیں ۔ جہاں اس ملک میں اداروں کی ذمہ داری ہے وہی علماء مشائخ کی بھی ذمہ داری ہے۔میری تجاویز یہ ہیں کہ وطن میں پہلے سے موجود قوانین پرعمل درآمد ضروری ہے /نیز ہر ماہ صاحبان اقتدار وصاحبان اختیار مزید بہتری کے لئے مل بیٹھیں۔

اتحاد امت کانفرنس کے آخر میں اعلامیہ جاری ہو جس کے اہم نکات یہ ہیں : 1.جن شخصیات کے ساتھ کروڑوں لوگوں کی عقیدتیں وابستہ ہوں وہ اہل بیت اطہار ہوں یا اصحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں ان کا ذکر خیر نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جائے اور کوئی کمزور بات ان سے منسوب نہ کی جائے 2۔دین کی مشترکہ تعلیمات کو عام کرکے اخوت و رواداری کو فروغ دیا جائے اور تفرقات کو ختم کیا جائے 3۔خفیہ فرقہ واریت پھیلانے اور کسی بھی انداز میں اس کی معاونت کرنے والے عوامل کی حوصلہ شکنی کی جائے 4. متنازعہ اور تنقیدی اسلوب تبلیغ کی بجائے مثبت اور غیر تنقیدی اسلوب تبلیغ اختیار کیا جائے 5۔ہنگامی تنازعات کے حل کے لیے سرکاری سطح پر مستقل مصالحتی کمیشن قائم کیا جائے جو غیر جانبدارانہ طور پر معاملات کو حل کرے اور کسی بھی مسلک کے اشخاص کو قانون ہاتھ میں لینے کی قطعی طور پر اجازت نہ ہو اور اگر کوئی شخص قانون ہاتھ میں لیتا ہے یا کوئی ایسی بات کرتا ہے جو مذہب اخلاقیات اور ریاست کے خلاف ہے تو اس بات کو پورے مسلک کی طرف سے نہیں بلکہ اس شخص کا ذاتی و انفرادی عمل تصور کیا جائے اور اس کے جرم کی مناسبت سے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائی 6.حقیقی رواداری کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور عدم اقرا کے قرآنی فلسفے کو اپنی زندگیوں میں لاگو کیا جائے7. ہم سب فرقہ وارانہ منافرت انتہا پسندیدہ اور دشت گردی کی مذمت کرتے ہیں یہ جو پیغام اتحاد امت کانفرنس میں متفقہ اعلامیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس بل کی صورت میں قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے اوردین کا حصہ بنایا جائے یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد نفرتوں کا خاتمہ اور محبتوں کو عام کرنا ہے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) الہی مقاصد کی خاطر اجتماعی جدوجہد کرنے والے یقینا انسانی معاشرے کے عظیم لوگ ہوا کرتے ہیں، یہ اجتماعی جدوجہد کے میدان میں کودتے ہی اس خاطر ہیں، کہ اپنی استطاعت کے مطابق انسانی معاشرے کا رخ بارگاہِ حق کی طرف موڑ دیں، اور زمانے کے فرعونوں اور نمردوں کے خلاف عَلَمِ بغاوت اس لئے بلند کرتے ہیں، کیونکہ یہ افراد آزادی و حریت، عدل و انصاف، اور امن و امان کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں، حق کی راہ پر چلنے والوں کو اذیتیں دیتے ہیں، ان کی عزت نفس پر حملہ آور ہوتے ہیں، اور انہیں جب بھی موقع ملے، یہ حق پرستوں کی توہین کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کی شخصیت گرانے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کی کردار کُشی کرکے عجیب لذت اٹھاتے ہیں۔

یہ تمام تر اذیتیں حق پرستوں اور اجتماعی جدوجہد کرنے والوں کو کبھی کبھار پریشان کرتی ہیں، ان کے دل کو تکلیف پہچانتی ہیں، اور اذیت کا سبب بنتی ہیں، حتی کہ رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم جیسی شخصیت جس کے سامنے صبر و استقامت جیسے مفاہیم سجدہ ریز ہوتے ہیں، ان کا قلبِ مبارک بھی پست انسانوں کی باتوں سے رنجیدہ ہو جاتا تھا، جس کی گواہی قرآنِ مجید نے دی ہے، ارشاد رب العزت ہے: { وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ 'فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ}، ظاہری آیت کا ترجمہ یوں ہے: [ اور بتحقیق ہم جانتے ہیں، کہ آپ کا دل ان ( کافروں اور پست لوگوں کی) باتوں سے تنگ ہوتا ہے، پس آپ اپنے رب کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح کریں، اور سجدے کرنے والوں میں سے ہو جائیں]۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ ختمی المرتبت کے قلبِ مبارک کو پہنچنے والی اذیت کو بیان کر رہی ہے۔

لیکن جو چیز دل پہ مرہم رکھتی ہے، اور ان ساری باتوں، اذیتوں اور تکلیفوں کو بے اثر کرتی ہے، وہ ذاتِ حق کی طرف سے عنایت اور نصرت ہے، ربِ قدیر کا ارشادِ مبارک ہے: { 'إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ}، ظاہرِ لفظ کا ترجمہ یوں ہے: [ بے شک ہم تیری طرف سے مذاق اڑانے والوں کے لئے کافی ہیں]۔ اور ارشاد ہوا {' وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا} ظاہری ترجمہ یوں ہے: [ اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں، اور ان کی اذیت سے صرف نظر کریں، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور اللہ کافی کام بنانے والا ہے]۔

اب جس انسان کی حفاظت کی ذمداری اللہ نے لے رکھی ہو، اور اس کے مذاق اڑانے والوں کو جواب کا خود ہی بندوبست کیا ہو، اور ظالموں کے مقابلے میں وہی مدد و نصرت کرنے والا ہو، تو اس انسان کی پریشانیاں پریشانیاں نہیں رہتیں، اور اس کے دل کو ایک گونہ سکون میسر آتا ہے۔

اس تمہید کے تناظر میں مجلس وحدت مسلمین کے حوالے سے عرض یہ ہے، اس تحریک کو بنے ہوئے ایک دھائی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، اس کا ہدف الہی مقاصد کی خاطر اجتماعی جدوجہد کرنا ہے، ملکی سطح پر قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے پاکستان کے لئے جدوجہد کرنا ہے، اور پاکستان میں موجود ہر رنگ و نسل، اور ہر دین و مذہب کے محروموں اور مستضعفوں کی جنگ لڑنا ہے، جبکہ دین و مذہب کے اعتبار سے اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ماننے والوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ خالص سیاسی اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھنے والی تحریک ہے، اس کا مقصد نہ تو مسلح جدوجہد ہے، نہ ہی کسی اور تحریک سے الجھنا ہے، اور نہ ہی کسی کی نفی کرنا ہے، بلکہ اس کی مرکزی قیادت نے ہمیشہ ہر اچھی چیز کی تعریف کی ہے، ہر اچھے کام کو سراہا ہے، اور حتی المقدور ہر نیک کام میں تعاون کرنے کی بھی کوشش کی ہے، آپ اس کی گذشتہ دس بارہ سالوں کی تاریخ ملاحظہ کریں، آپ کو کہیں نہیں ملے گا، کہ اس کی مرکزی قیادت نے کبھی تفرقہ کا ماحول بنایا ہو، چاہے وہ تفرقہ بین المسلمین ہو، یا بین المومنین ہو۔ یہ چیز جہاں اس تحریک کی قیادت کی معاملہ فہمی، دانشمندی، حکمت و بصیرت اور دور اندیشی کی نشان دہی کرتی ہے، وہاں اس کے اخلاص، انسانیت کے لئے درد، اور محروموں سے محبت کو بھی عیاں کرتی ہے۔

داخلی سطح پر جتنی بھی تحریکیں یا تنظیمیں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ماننے والوں کے لئے کام کرتی ہیں، مجلس وحدت مسلمین ان سب کا احترام کرتی ہے، اور سب کے اچھے کاموں کو سراہتی ہے، چاہے وہ علامہ سید ساجد نقوی صاحب کی سربراہی میں چلنے والی تحریک ہو، یا آئی ایس او ہو، یا کوئی اور تنظیم، اس کے علاوہ دس بارہ سال سے پاکستان میں جتنے بھی بحران پیدا ہوئے، ان سب میں مجلس نے ایک فعال، با بصیرت، اور جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ پاڑا چنار کے محاصرے کا مسئلہ ہو، یا کوئٹہ میں دہشت گردی کی بات ہو، یا راولپنڈی میں عزاداری کا مسئلہ ہو، یا ان کے علاوہ اور بہت سارے مسائل۔ ان سب قومی بحرانوں میں مجلس کی قیادت میدانِ عمل میں حاضر نظر آئی، اور وقت کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محروموں کے حقوق کے لئے بہترین جنگ بھی لڑی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مجلس وحدت مسلمین ہر غلطی سے پاک ہے، اور اس تحریک کا ہر اقدام کامل و اکمل ہے، اور اس کے کاموں پر اعتراض یا تنقید کی گنجائش نہیں، اور نہ ہی کبھی اس تحریک کے کسی ذمہ دار مسؤول نے یہ بات کی ہے، لیکن میں خداوند قدوس کو گواہ بنا کر یہ دعوی سے کہتا ہوں، کہ اس تنظیم کی قیادت نے جو بھی اقدام اٹھایا، باہمی مشاورت، نیک نیتی اور اخلاص کی خاطر اٹھایا، ان کے ارادوں پر شک نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ کبھی کسی انتشار کا سبب بنے، اور انہوں نے ہمیشہ ہر تنقید کو کھلے دل کے ساتھ برداشت کیا ہے، کیونکہ ہمیشہ مثبت اور اخلاص کے ساتھ تنقید عمل کو ترقی کے راہ پر گامزن کرتی ہے۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، کے اپنے ہی صفوں میں کچھ مہربانوں نے روز اول سے ہی مجلس وحدت مسلمین کے ہر کام پر بلا وجہ کڑی تنقید کی ہے، اور مجلس کی ساکھ کو نقصان پہنچاننے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وضاحت کی خاطر صرف چند مثالیں عرض ہیں۔

مجلس کی قیادت نے جب پہلی دفعہ محروموں کے حقوق کی خاطر غالبا 2013 کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، تو کچھ کرم فرماؤں کی طرف سے اسے طاغوتی نظام کی حمایت قرار دیا گیا، ووٹ ڈالنے کو شرک قرار دیا، اور مجلس کی اتنی تضحیک کی، کہ صاحب کچھ نہ پوچھیے، جس کی وجہ سے قوم و ملت کے بعض افراد کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، داخلی سطح پر قوم میں ذہنی انتشار پھیلا، اور شیعہ وٹ بینک تقسیم کا شکار ہوا، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ قومی مفاد میں تھا؟! کیا اس فیصلے پر تنقید کا یہی انداز ہونا چاہیے تھا؟!اسی طرح جب مجلس کی طرف سے کوئٹہ میں دہشت گردی، اور باقی قومی مشکلات کی خاطر دھرنوں کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں اسلم رئیسانی کی سرابراہی میں حکومت ختم کردی گئی، تو مجلس کے اس اقدام کو سراہنے کے بجائے، اس کا بھی خوب مذاق اڑایا گیا، اور اسے دھرنوں والی جماعت کا نام دیا گیا، اور دھرنے کو بالکل بے فائدہ عمل قرار دیا گیا۔

اسی طرح جب مجلس نے وحدت بین المومنین کی خاطر کام شروع کیا، اور داخلی سطح پر فاصلے کم کرنے کی کوشش کی، تو اسے چرسیوں، بھنگیوں، مشرکوں، بے دینوں اور لفنگوں کی حمایت کرنے والی جماعت کہا گیا، اسی طرح مجلس کی فکری اور عقائدی وابستگی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مختصر یہ کہ مجلس نے جو بھی فلاحی، اجتماعی، اور سیاسی کام کیا، کچھ کرم فرماؤں نے سخت سرزنش و ملامت کی، جبکہ اس کے مقابلے میں مجلس کی مرکزی قیادت نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔لیکن بطور ایک عام شیعہ مجھے ادب و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے چند سوال کرنے کا حق ہے؟ کیا مجلس کا کوئی بھی کام درست نہیں؟ کیا انہوں نے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھایا، جو قوم و ملت کے لئے مفید ہو؟ کیا اس کی سربراہی ملت کے جید علماء کے ہاتھ میں نہیں؟! کیا ان کی نیتوں اور ارادوں پر شک کیا جا سکتا ہے؟! کیا یہ یتیمانِ آل محمد کے حقوق کی خاطر نہیں لڑ رہے؟! اور کیا نصیحت کا یہی انداز ہونا چاہیے، جو کمیں گاہوں میں بیٹھ کر بعض مہربان کر رہے ہیں؟! ان مہربانوں کی مہربانیاں کیا قوم و ملت میں اتحاد کا سبب بن رہی ہیں یا انتشار؟! یہ مہربانیاں کیا ہمیں داخلی طور پر مضبوط کر رہی ہیں یا کمزور؟! کیا جو مہربان مجلس کے ہر عمل سے نالاں ہیں، انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے، کبھی مجلس کی قیادت کو کوئی پیغام بھیجا ہے، تاکہ انہیں علیحدہ بٹھا کر وعظ و نصیحت کی جائے؟! یا صرف ممبر اور سوشل میڈیا پر بر ملا ان کی کرادر کشی کی جا رہی ہیں؟!

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی یہی روش رہی ہے؟! کیا علی علیہ السلام کا یہی اسلوب تھا؟! کیا اللہ کے صالح بندوں کا یہی طریقہ کار ہے؟! کیا دردمند انسان ایسا ہی کرتے ہیں؟!ہر چیز پر بر ملا تنقید کرنے والوں، اور کردار کشی کرنے والوں سے گذارش ہے، کہ اگر آپ لوگوں کی یہی روش رہی، تو یہ دن نوٹ کر لیں، آپ نشانِ عبرت بنیں گے، آپ کا ذکر تاریخ کے ان لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا، جو دین کے نام پر دیندار اور الہی مقاصد کی خاطر اجتماعی جدوجہد کرنے والوں کی راہوں میں کانٹے بچھا کر تسکین محسوس کرتے تھے، جو اللہ کے صالح بندوں کی کردار کشی کرکے سستی شہرت کو تلاش کرتے تھے، جو مخلص لوگوں کو اذیتیں پہنچا کر اپنے اپنے لئے سکون دل کا سامان فراہم کرتے تھے، ہو سکتا ہے جن کو آپ تکلیف پہنچا رہے ہیں، وہ قومی مفاد کی خاطر اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو معاف کریں، لیکن تاریخ آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی، قانونِ فطرت آپ کو کبھی بھی نہیں بخشے گا، کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ اس انسان کو خوار و ذلیل کیا ہے، جو اللہ کے صالح بندوں کی کردار کشی کرتے رہے ہیں،  اگر آپ کے دل میں انسانیت کا درد ہے، تو جس پر آپ کو اعتراض ہے، اسے بلا کر بڑے پن کا اظہار کرتے ہوئے اسے نصیحت کیجئے، حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی طرح چھت پر چڑھ کر ڈھنڈورا نہ پیٹیے، ورنہ آپ نشانِ عبرت بن جائیں گے۔


(محمد اشفاق)
4 جولائی 2020

وحدت نیوز(اسلام آباد) آسمان امامت وولایت کے آٹھویں ستارے حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے سنٹرل سیکریٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں نماز ظہرین کےبعدجشن ولایت کے نام سے محفل کاانعقادکیاگیاجس میں سنٹرل سیکریٹریٹ کےاسٹاف نےشرکت کی۔ذاکراہلبیت ؑ برادر میثم رضا نے مولاامام رضا کی شان قصیدہ پیش کیا ، مولانا ظہیر کربلائی نے کرامات امام رضا کے عنوان سے اور مولانا چوہدری ضیغم عباس نے مولا امام رضا کو کیوں غریب الغرباء کہا جاتا ہے ،کے عنوان سے خطاب کیا ۔ آخر میں شرکاء کے اعزاز میں مولا امام رضا کی مناسبت سے نیاز کا اہتمام بھی کیا گیاتھا۔

وحدت نیوز(سکردو)مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع گنگچھے کی سیکریٹری جنرل، سیاسی و سماجی رہنما محترمہ حنا کلثوم نے حلقہ نمبر دو ضلع گنگچھے سے مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ اتوار کے روز ڈویژنل سکریٹریٹ سکردو میں ایم ڈبلیو ایم گنگچھے کے رہنما سید یاور عباس کاظمی نے محترمہ حنا کلثوم کیلئے انتخابی فارم سکریٹری سیاسیات کاچو ولایت علی خان سے وصول کیا۔

 اس دوران مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی رہنماوں سمیت مختلف حلقوں کے متوقع امیدوار بھی موجود تھے۔محترمہ حنا کلثوم نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی ٹکٹ پر بھرپور انداز میں الیکشن لڑینگی۔

سیکریٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان آغا علی رضوی گلگت بلتستان کی توانا ترین آواز ہیں، ہم انکے دست و بازو بنتے ہوئے علاقے کے حقوق اور عوامی مسائل کیلئے دن رات ایک کروں گی۔ الیکشن جیت کر علاقے اور عوام کے حقوق کیلئے بھرپور اور ہر ممکن کوشش کرونگی۔

وحدت نیوز(سکردو) گلگت بلتستان میں جنرل الیکشن 2020 کی تیاریوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان چیپٹر کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے مختلف حلقوں سے درجنوں امیدوار میدان میں نکل آئے ہیں۔ دیگر حلقوں کے علاؤہ حلقہ نمبر 12 ضلع کھرمنگ سے ایم ڈبلیو ایم کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے ضلعی سکریٹری جنرل شیخ اکبر رجائی سمیت آدھ درجن معروف سیاسی و سماجی شخصیات پارٹی سکریٹریٹ سکردو سے فارمز وصول کرچکے ہیں۔

 ان امیدواروں میں جی جی اویرنس فورم کے روح رواں معروف سیاسی و سماجی رہنما انجنئیر شبیر حسین بھی شامل ہیں جنہوں نے جمعے کے روز سکریٹری سیاسیات کاچو ولایت علیخان کے ہاتھوں سے انتخابی فارم وصول کئے، جبکہ اس دوران صوبائی سکریٹری جنرل آغا علی رضوی سمیت دیگر مرکزی رہنما اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ اس سلسلے میں قابل ذکر اور قابل قدر بات یہ ہے کہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہشمند شخصیات سیاسی کونسل کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے اور ہر صورت میں پارٹی پالیسیوں اور قائدین کی رہنمائی میں بھرپور دلجمعی کیساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

ہفتے کے روز اویرنس فورم کے معروف رہنما انجنئیر شبیر حسین کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے کے درجنوں بزرگان اور نوجوان پارٹی آفس آئے اور حلقے کی سیاست اور ایم ڈبلیو ایم کی پالیسیوں کے متعلق صوبائی سکریٹری جنرل آغا علی رضوی اور ضلعی سکریٹری جنرل شیخ اکبر رجائی سمیت دیگر رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی اور مختلف امور پر پارٹی پالیسیوں اور دیگر معاملات پر اپنے عرائض پیش کئے۔

پارٹی قائدین کیجانب سے مجلس وحدت مسلمین کی سرگرمیوں ، پالیسیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر شرکاء نے مکمل اعتماد اور بھرپور انداز میں کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آغا علی رضوی اور دیگر رہنماؤں نے جوانوں کے جوش و ولولے اور پارٹی پالیسیوں، سرگرمیوں، سیاسی فیصلوں اور قائدین پر اعتماد پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ہر حالت میں اقدار کی سیاست کا بول بالا کرنے میں قائدین کے دست و بازو بنتے ہوئے من محبت و بھائی اور علاقے کی تعمیر و ترقی ، علاقائی حقوق اور مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن جدوجہد کرینگے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی کابینہ کا ایک اہم اجلاس ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے کی۔مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ وحید کاظمی بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔شرکا نے ڈیرہ اسماعیل خان کی مجموعی صورتحال اور موجودہ مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔صوبے میں ملت تشیع کو درپیش مشکلات اور عزاداری کی راہ میں حائل ممکنہ رکاوٹوں اور ان کے ازالے کے لیے بہترین اور مربوط لائحہ عمل طے کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ڈی آئی خان میں ایک فعال کنٹرول  روم قائم کیا جائے گا تاکہ عزاداروں اور بانیان مجالس کو درپیش مسائل کو بلاتاخیر حل کیا جا سکے۔ڈیرہ اسماعیل خان کی کابینہ کو مزید فعال کرنے کے لیے کچھ نئے متحرک اور بیدار افراد بھی شامل کیے جائیں گے۔اجلاس میں کہا گیا کہ بہت جلد مرکز کی جانب سے صوبائی سیکرٹری جنرل کے ہمراہ ڈی آئی خان کا دورہ بھی کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(کراچی) جعفرطیارسوسائٹی، غازی ٹاؤن ، عمار یاسر اور دیگر علاقوں سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 2درجن سے زائدمعزز بزرگان اور جوانوں نے ایم ڈبلیوایم کی قیادت پر بھرپوراعتماد کا اظہار کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

 ضلعی سیکریٹریٹ میں ایس اوپی کے مطابق منعقدہ سادہ سی تقریب میں تمام نئے شامل ہونے والے اراکین کو پھولوں کے ہار پہنچاکر خوش آمدید کہا گیا۔ضلعی سیکریٹری جنرل سید احسن عباس رضوی نے ایم ڈبلیوایم کے الہیٰ کاروان میں شامل ہونے والے تمام نئے اراکین سے حلف لیا۔

ایم ڈبلیوایم میں باقائدہ شمولیت کا اعلان کرنے والوں میں محمد اسماعیل،سید ابوالحسن نقوی،حسن زیدی،حسین،مزمل مرزا،تجمل مرزا،طاہر مرزا،شعیب حسن،علی رضا،ظفر مہدی،محمد علی،حسین رضا،علی،محسن،زین علی،شجاعت علی،وجاہت علی،قمر زیدی،شعیب حسن،محمد کامران،حسنین باقری،محمد رضا،ذوالفقار رضوی ، ظہیرعباس ، فرازعباس شامل ہیں ۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے پولیٹیکل سیکریٹری میرتقی علی ظفر ، سید عارف رضا زیدی، علی احمر زیدی ، ضلعی کابینہ اور جعفرطیار یونٹ کے اراکین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

قبل ازیں ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشرحسن اور ضلعی سیکریٹری جنرل سید احسن عباس رضوی نے تعرفی نشست سے خطاب کیا، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے پولیٹیکل سیکریٹری میرتقی علی ظفر ، سید عارف رضا زیدی، علی احمر زیدی ، ضلعی کابینہ اور جعفرطیار یونٹ کے اراکین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

Page 7 of 1054

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree