The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) ماہ ربیع الاول امت مسلمہ کی اتحاد وحدت کا عظیم عکاس ہے ۔حضور نبی کریم نے امت کو اخوت،رواداری اور بھائی چارے کا درس دیا ہے ۔ہم شیعہ سنی بھائی مل کر جشن میلا دالنبی کو شایان شان طریقے سے منائیں گئے ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم علامہ سید احمد اقبال رضوی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی تنزلی کا سب سے بڑا سبب رحمت اللعالمین کی حقیقی تعلیمات سے دوری ہے۔ دین اسلام جبر و بربریت سے نہیں بلکہ اسوہ حسنہ سے پھیلا ہے۔حضور کریم کی ذات مبارکہ سے محبت کے زبانی اقرار کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات کو عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کے دشمنانِ اسلام کی کوششوں کوناکامی سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ دنیا کے دیگر مذاہب حضور کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے اسلام کے نظام عدل و مساوات اور باہمی احترام پر عمل پیرا ہیں ۔انہوں نے مذید کہا کہ ہم وطن عزیز میں امن اور استحکام کے خواہا ں ہیں اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے ہر ممکنہ کوششیں جاری رکھے گی۔

وحدت نیوز(لاہور)مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین لاہور کی سیکرٹری جنرل محترمہ حنا تقوی سےوحدت ہاؤس میں محترمہ ثروت شجاعت صاحبہ پرنسپل اینڈ ماسٹر مونٹیسوری ٹیچر ٹریننگ،وائس چیئرپرسن پنجاب لائبریریز فاؤنڈیشن نےخصوصی ملاقات کی۔

اس موقع پر محترمہ عظمیٰ نقوی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین لاہور بھی ہمراہ موجود تھیں۔ملاقات میں محترمہ ثروت شجاعت صاحبہ کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی وحدت کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامہ پیش کیا گیا۔مختلف تنظیمی و اصلاحی امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

عراق اور اقوام عالم کامستقبل

وحدت نیوز(آرٹیکل)عرق ریزی وجُہدِمسلسل کی سرزمین
عبرتناک ماضی و تابناک مستقبل کی سرزمین،
تاریخ وتہذیب وتمدن کی سرزمین،
    ،،،خلاصۃُالتواریخ،،،
 ،،، محمداقبال بہشتی ،،،

عراق، تاریخی، جغرافیائی، اور عقیدتی، اعتبار سے انتہائی اھم ملک رہاہے،

جغرافیائی لحاظ سے عالمی تجارتی گزرگاہ خلیج فارس کے شمالی سرے پر واقع،
تیل وگیس وقدرتی ذخائرومعادن کا دفینہ،
دجلہ وفرات جیسے بڑے دریاؤں اور سینکڑوں نہروں کے آبِ زُلال کا خزینہ،
اور خرما و اناج وزراعت و صحتمند انسانوں کا زمینہ ھے،

تاریخی لحاظ سے، جس کثرت سے ماقبل تاریخ کے تاریخی حقائق اس سرسبزوشاداب سرزمین کے سینےمیں محفوظ ہیں، کسی اورقطعۂ زمین میں نہیں،

پہلا انسان، پہلا نبی، اور پہلا حجۃِخدا حضرت آدم ابوالبشر،
کہاں کہاں سےہوتےہوۓ اس سرزمیں پر تشریف لاۓ، خدا کی عبادت و قانون وشریعت کی بنیاد رکھی،

حضرت نوح ع کی جہدِمسلسل سے بھری زندگی اسی سرزمین پر گزری،
طوفان نوح کی ابتداء و انتہا موجودہ مسجد کوفہ کے مقام پر ہی ہوئی،
بلکہ بعض روایات میں کشتی کے ٹہرنے کامقام  کوہِ جودی نجف کے ٹیلے کو کہا گیاھے،
نتیجتاً؛ طوفان سے نسل آدم کے خاتمےو اِنقِراض کیبعد، دوبارہ آدم ثانی سے نسل بشر کی تولیدوتناسل اور رشدونمو کیلۓ بھی یہی سرزمیں مھد قرارپایا،

اورآدم ونوح ع کا مدفن بھی نجف کا ٹیلہ ہی قرار پایا، السلام علے ضَجِیعَیکَ آدم ونوح،

بابل ونینوا کے آثارِ قدیمہ کن تہذیبوں کےقصے سنا رہی ہیں،

آتش وکفرِ نمرود اور عشق وایمانِ ابراھیم کاتماشہ بھی عقلِ بشر نےاسی بام سےدیکھا،

خدا کی راہ میں ایوب و ھود وصالح جیسے ھزاروں انبیاءع کے صبرو استقامت کا بھی یہ سرزمین شاھد بھی ھے اور مدفن بھی،
 
بعض روایاتِ معراج کے مطابق صاحب معراج ص نے اسی مقدس سرزمین پر نماز پڑھنےکی خواھش ظاھر کی،
اور جبرائیل ع کے ھمراہ یہاں رک کر نماز پڑھی، جسکا مصلیّٰ آج بھی ہے،
اورپھر یہاں سے ہی آسمانوں کیطرف عروج فرمایا،

باب العلم حضرت علی ابن ابی طالب ع نے عراق وکوفہ کو ہی مسندِخلافۃ قرار دےکر حکومۃ واِمارۃ کو زینت بخشی،
مسجدوممبرِ کوفہ سےہی سَلُوانِی سلوانی کی کُنجی سے علم کے دروازے کھلواۓ (السُؤالُ مِفتاحُ العلم)،
 کبھی بغیر الف کے کبھی بغیر نقطہ کے، طبیعت و مابعد طبیعت کے ھزاروں موضوعات پر مشتمل فصاحت وبلاغت کے شاہکار کلام کو امیرالکلام کادرجہ دیا،

مسند قضا بِچھاکر عدلِ اِلہی کاجَلوہ بنکر عدل اجتماعی کا بےمثل مثال قائم کیا،
اور کفروشرک ونفاق وجھل کیخلاف جھاد بالسیف وقلم ولسان کرنے کیبعد اجتماعی ناانصافیوں کیخلاف جُہدِمسلسل کرتےہوۓ، کوفہ کےمحراب عبادت سے ہی فُزتُ بِربِّ الکعبہ کی صدا بلندکیا،
اور فوزِعظیم کےمعراج فائزہوگۓ،
قُتِلَ عَلِیّ لِشِدَّۃِ عدلِہِ،

اور اپنے دونوں اجداد آدم ونوح ع کے پہلو میں آرام فرماکر، نجف کی بلندی سے فردوس کی بلندیوں پر پہنچ گۓ،
السلام علیک وعلی ضجِیعَیکَ آدمَ و نوح،

جیساکہ روایاتِ معراج کیمطابق حسین کےنانا ص، مسجدالحرام و مسجدالاقصیٰ، کے بعد عراق کے مسجد کوفہ سے ہوتےہوۓ آسمانوں پر تشریف لےگۓتھے،

حسین منی وانامن الحسین کےمخاطب و مصداق فرزندرسول ع نے بھی صداۓ "ارِجَعِی اِلےرَبِّکَ" کو لبیک کہتے وقت اپنے دائمی معراج کیلۓ سرزمین عراق وکربلا کا ہی انتخاب فرمایا،


کہ تنہا حسین نہیں بلکہ اس سرزمین سے ان چودہ صدیوں میں لاکھوں عاشقان خدا معراج پر جاپہنچے،کیا مناسب، معقول وبہترین انتخاب تھا،
 بلکہ یہاں سےآج بھی اِن خاکی فرشتوں کیلۓ نہ ختم ہونے والا سلسلۂِ معراج جاری ھے،

بغداد کے تاریک قیدخانوں میں نور مطلق کےحضور سجدہ ریز نورامامت، جسکی دھیمی دھیمی سانسیں  ھارون رشید کی استبدادی حکومت کیلۓ طوفان تھیں،
دجلہ کےپل جسرِبغداد پر اس مظلوم دلیر مرد کی زنجیروں میں جھکڑی ہوئی لاش،
اور کاظمین میں فرشتوں کے مَطاف دو نورانی گنبدوں میں آرام فرماؤں کی کظامت و کرامت کا ذکر کروں،

یا سامرہ کے معسکر فوجی چھاؤنی میں نظربند مجسم نورِخدا، اور ہیبتِ الہی کے جلوہ گاہ نقی و عسکری ع کی جھکی ہوئی نگاہوں کی وجاھت وجلالت بیان کروں،

وہ سرزمین جسے رب ذوالجلال نے  اپنے جلال وجمال کے آخری مظھرِکامل و حجتِ غائب وغالب کی ولادت کیلۓ منتخب کیا،
آج بھی وہ سردآب وتہخانہ موجودھے جہاں آسمان ولایت کے چودھویں سورج کاطلوع ہوا،
اورسنہ255ھ میں سلسلۂ امامت وحجج الہی کے آخری  امام ھُدیٰ کی ولادت ہوئی،
اور پانچ سال وہاں پر ہی اپنی پربرکت زندگی گزاری،
اور وہاں سے ہی سنہ260ھ میں ان کی 69سالہ غیبت صغری، اورپھر سنہ329ھ میں غیبت کبری کا آغازہوکر،    یہ شمس ضُحیٰ بادلوں کے اوٹ میں جاکر، تقریبا بارہ سو1200 سالوں سے افکارِعالَم کو مُنَوَّرکرتا رہا،

وادئ سلام جہاں ھزاروں انبیاء مدفون ہیں، اور پوری دنیا سے مؤمنین کے ارواح مرنے کیبعد جمع کیۓ جاتے ہیں اسی  سرزمین پر واقع ھے،

شیخ صدوق وشیخ مفید وشیخ طوسی وشیخ کلینی ومقدس اردبیلی وعلامہ حلی وسیدمرتضی وسیدرضی جیسے ھزاروں ثقاتِ اسلام نےاسی مھدِعلم وتقوی سے استفادہ کرکے نورافشانی فرمائی،

حوزہ علمیہ نجف کی بنیاد باب العلم کی دہلیز پررکھی گئ،
اور یہاں ہی کُتُب اربعہ جیسے علمی خزانے وجود میں آۓ،
اور نہج البلاغہ جیسی اُختُ القرآن کتابیں مرتب ہوئیں،

سلسلہ فقاھت و مرجعیت کے سرتاج، عصرحاضرکے فرعون شکن،
اسلام کا اجتماعی سیاسی چہرہ روشناس کرانےوالا،
اقوام عالم کو عملاً دعوت اسلام دینے والا،
اور اسلامی نظام کو کتابوں سے نکال کر ایک بڑےملک میں نافذ کرکے پوری دنیا کےسامنے پیش کرنے والا،
 امام المجاھدین خمینی بُتشِکن نے اپنی شاہکار کتاب "حکومت اسلامی" کےدروس عراق ونجف میں ہی ارشاد فرماۓ،
اورایران سےباھر بھی عظیم انسانوں شھیدباقرصدر(عراقی)، شھیدعارف حسین الحسینی (پاکستانی)، شھیدامام موسی صدر (لبنانی)، شھیدراغب حرب (لبنانی)، شھیدحسین بدرالدین (یمنی)، وابراھیم زکزاکی (افریقی) جیسی شخصیات کو عالمی انقلابی نھضت کیلۓ تیار کیا،
اور یہی کتاب موجودہ حکومت اسلامی کی بنیاد بنی،
وہ حکومت جس نے  شرق وغرب عالم پر مسلط دو قطبی استکبار کو للکارکر  کٹہرے میں کھڑاکیا،
جس نے مستضعف بےشعوروں کوشعور، بےزبانوں کوزبان، اور بےحوصلوں کو حوصلہ دیا،
جسنے یآس کو امید، خطرات کو فرصتوں،کسالت کومقاومت، پَسقدمی کو پیشقدمی، اور مسلمانوں کی مسلسل شکست فاش کو فتح مبین میں تبدیل کیا،
جسنے مفاھمت کیساتھ مقاومت کوجوڑ کر، زبانی دلیل کیساتھ میدانی سبیل کی بھی نشاندہی کی،
وہ امام
جسنےبلال کی سرزمین پر زکزاکیوں کو آذانِ بلال سکھایا،
جسنے ابوذر کی سرزمین پر فرزندانِ ابوذر کو میدان دیا،
جسنے خراسانی و یمنی کے روایات کو کتابوں سےنکالکر انکی لشکروں کو جولان بھی دیا،
جسنے اپنے مولا ومنوب عنہ کے ظھور کی زمینہ سازی کیلۓ پہل کرکے سب سے بڑا اور مضبوط قدم اُٹھایا،

آتےہیں پھر اس تاریخساز سرزمیں کیطرف،
جسکاماضی دعوت وعبرت ھے،

اورجسکا "مستقبل" سراپا امید ونور وھدایت ھے،
اور اسمیں اگرکوئی تاریک نکتہ نظر آتابھی ہے تووہ بھی ابتلاءوامتحان ہے اور کامیابی ک زینہ ہے، (ماضی اسکاشاھدھے)

اللہ رب العزت نے کیا عزت ومقام دی ھے ابوتراب کی اس سرزمین خاک نجف وکوفہ وکربلا کو،
یہ عبادت وبندگی کی سرزمین ھے،
یہ استقامت وپامردی کی سرزمین ھے،
یہ فداکاری وجانبازی کی سرزمین ھے،
یہ حریت وآزادی کی سرزمیں ھے،
 یہ سرزمین شیطانی قوتوں کے خون آشام پنجوں سے آزاد ہوکر رہےگی،
بلکہ پوری دنیا کو آزادی دلاۓگی،


اس عالَم کامستقبل

حقیقتا دنیا کے آئندہ کےبارےمیں تمام مکاتب فکر صُمّ بُکم ہیں،
اھل کتاب، غیراھل کتاب، حتی اکثر مسلمانوں کا نظریہ بھی،
 مبھم، غیر واضح، گومگوکا شکار، مایوس کن، بلکہ تاریک ھے،
کسی کےپاس بھی کوئی دوٹوک و واضح پلان و نقشہ موجود نہیں،

بلکہ جہان کے مستقبل کے بارے میں انکے عقلی ونقلی اعتقادات، حقیقت میں تضادات کا مجموعہ ھے،
جو اطمئنان کی بجاۓ اضطراب اور سکون کی بجاۓ پریشانی کاباعث بنتاھے،

 جبکہ عقل و فطرت کا تقاضہ اور قرآن وسنت کا اَٹل فیصلہ ھے کہ
?وَنُرِیدُ اَن نَمُنَّ علےالذین اُستُضعِفوافےالارضِ ونَجعَلَھم اَئِمَۃًونجعلھم الوارثین(قرآن?) اور ھمارا ارادہ ھے کہ مستضعفین پر منت واحسان کریں، اور انہیں دنیا کے امام (وقائد)قراردیں،
اور انہیں ہی زمین کےوارث قراردیں،

 اورصرف مکتب قرآن واھلبیت ہی وہ علمی وعقلی مکتب وعقیدہ ھے،
جسنے قرآنی آیات واحادیث  کی روشنی میں، دنیا کے مستقبل (آئندۂ جہان) کے بارے میں، ایک واضح، شفاف، دوٹوک، مفصل، جزئیات پرمشتمل، حتی مقامات وشخصیات وواقعات کی فہرست پرمشتمل، نقشہ وروڈمیپ پیش کیاھے،
جو بہت روشن اطمئنان بخش اور امیدافزا ھے،
جسکا خلاصہ یہ ھے کہ:
فلسفۂ تخلیق انسان اور حکمت ورحمت خداوندی کا تقاضہ یہ ھے کہ:
قیامت سےپہلے، اسی دنیا میں انسان کو اپنے مادی ومعنوی، اور علمی وفطری کمالات تک پہنچانے کیلۓ،
کچھ متعدد شرائط وعلامات کے پورا ہونے کیبعد،
مصلح کل جہان، اور منجئ بشریت یعنی صاحب آخرزمان امام مھدی ع تشریف لائینگے،
جو دنیا سے ھرقسم کے کرپشن، فساد، ظلم، وجھالت کاخاتمہ کرینگے،

 تمام انسانوں حتی حیوانات و نباتات کے حقوق کی پاسبان ایک عالمی عادلانہ حکومت قائم کرینگے،
جس سے انسان علم وعقل، کمال وترقی اورسکون واطمئنان کے معراج پر پہنچےگا،
اور اپنے مقصدِ خلقت کو کاملاً حاصل کریگا،

دنیاکوھےاس مھدئ برحق کی ضرورت،
ہو جسکی نگاہ زلزلۂ عالم افکار،

عصرِظھور

کبھی اےحقیقتِ مُنتظَر نظر آ لباس مجاز میں،
کہ ھزاروں سجدےتڑپ رہی ہیں میری جبینِ نیاز میں

مُنجئِ بشریت، مُصلحِ کُل،
حضرت مھدی برحق،
مکہ میں ظھور کیبعد اپنے جد علی ع کیطرح عراق آکر کوفہ کو ہی اپنا دارالخلافہ قرار دینگے،

یہاں ہی یمن و خراسان کے لشکر آکر جیش المھدی کے یُمنیٰ ویُسریٰ تشکیل دینگے،
تین سوتیرہ 313 خاص الخاص جرنیلوں کے کمان میں،
ھزاروں جرنیلوں، لاکھوں افسروں اور میلینز جوانوں پر مشتمل تقوی وتربیت اور معنوی ومادی سلاح سے مُجَہَّز فوجِ عدل وایثار تیار ہوگی،

اور روایات کیمطابق مسجد کوفہ سے ہی دنیا کے سات براعظموں کی فتح وآزادی شروع ہوجائیگی،

صرف اسلحہ کی گرم جنگ نہیں، بلکہ مختلف الجہت جنگ ہوگی،
فتنوں کی جنگ، پراپیگنڈہ، تبلیغاتی اور سافٹ جنگ،
پیسہ، رشوت، وعدو وعید،  گمراہی، اور ورغلانے کی جنگ،
غرض یہ کہ ھمہ جہت جنگ ہوگی،
جسکا اھل بصیرت وتقوی وقناعت ہی مقابلہ کرسکتےہیں،
   
سفیانی صیہونیوں کی پشت پناہی سے سامنے آئیگا،
اورانتہائی طویل، شدیدوخونریز جنگوں کیبعد، قتل ہوکر پورا جزیرۃالعرب اور مراکش وجنوبی افریقہ تک براعظم افریقہ فتح ہوجائیگا،
اور وہاں فرزندان بلال کی الہی بالادستی قائم ہوجائیگی،
 
براعظم اسٹریلیا، وایشیاء، جاپان چین و ہندوستان سمیت، کچھ تسلیم کچھ فتح ہوجائینگے،

براعظم امریکہ ویورپ اور عالمی صیہیونزم کیساتھ جنگ انتہائی سخت، کثیرالجہت، صبرآزما ونبردآزما، اور فیصلہ کن ہوگی،

دجال کھل کر سامنے آئیگا

مسیحی مسیحا کے انتظار میں حیران وپریشان ہونگے،
عیسی مسیح ع زندہ نازل ہوکر امام مھدی ع کےھاتھ پربیعت کرکے حضرت کی امامت میں نماز ادا فرمائینگے،
بہت سارے مسیحی بھی حضرت عیسی کی برکت سے ھدایت پاکر اسلام کےسامنے تسلیم ہوکر امام مھدی ع کےہاتھ پر بیعت کرینگے،

دجال و اھل دجال کیساتھ آخری فیصلہ کن جنگ میں مزید شدت آئیگی،
معلوم نہیں کتنی طولانی جنگوں کیبعد بالاخرہ دجال قتل اور شیطانی قوتوں کے آخری محاذ ومورچے تباہ وفتح ہوجائینگے،

لِیُظھِرَہُ علےالدینِ کُلِّہِ وَلَوکَرِہَ المُشرِکونَ،
محقق ہوکر کل عالم میں صرف ایک دین یعنی اسلام نافذ ہو جائیگا،

پوری دنیا کی فتح، ظلم و فساد کا مکمل خاتمہ، اور اس سے بڑکر عادلانہ نظام کے قیام کیلۓ،
کتنےوقت، کتنے وسائل وامکانات،  کتنےنظم وانضباط، کتنی تعلیم وتربیت وتجربہ کاری اور کتنی افرادی قوت کی ضرورت ہوگی؟؟؟
خدا ہی بہتر جانتاھے،
اتنا واضح ھے کہ یہ تاریخ عالم کا سب سے بڑا تحوُّل ہوگا،
اسی لیۓ تو اس کو قیامت صغری کہاگیاھے، اللہ اکبر،،،

اور اگرظھورقیامت صُغریٰ ھے،
تو ظھور کےبعد دنیا بھی جنت نظیر یا جنتِ صغریٰ بن جائیگی،
علوم فراواں، عقول کامل، قلوب سالم، نفوس مطمئن، جسم صحتمند، اورچشم وشکم سیراب ہوجائنگے،

لہذا جہالت وحماقت، رقابت وحسادت، کسالت ورذالت کا خاتمہ ہوجائیگا،

روایاتِ رجعت کیمطابق،
اس جنت نظیر کرۂ ارض پر،
چودھویں افتاب ولایت کی طولانی طلوع کیبعد،
اب امامت وولایت کا ایک ایک سورج طلوع ہوتا رہیگا،
اور انسان وحیوان ونبات وجماد اس نور سے منور ہوتے رہینگے،
حتی کہ مدت کے لحاظ سےبھی دنیا کا نورانی دور دنیا کے تاریک دور پر غالب آجاۓ،
اور دنیا پر اللہ کی حاکمیت کا دور طاغوت کی حاکمیت کےدور سے طولانی ہوجاۓ،
واللہُ عالِم الغیب ،،،،،

وہ تھا  ماضی،
یہ تھا مستقبل،
اب سنیں حال،

خلاصہ و اختصار یہ کہ:
جب ھم ماضی پر اتنا افتخار اورمستقبل کا اتنا انتظار کررہے ہیں،
تو جس دشمن کیلیۓ وہ ماضی اور یہ مستقبل موت وحیاۃ کا مسئلہ ھے
وہ کیسے اس سے غافل ولاتعلق رہ سکتاھے،

جب اپ نے ساتوں براعظموں اور پوری دنیا سے اسکے تمام شیطانی مفادات بلکہ اسکے خونخوار وجود کو ختم کرناھے اور چودہ صدیوں سے اعلان بھی کررہے ہیں،
توکیا وہ خاموش بیٹھکر اپنی موت کاتماشہ دیکھتارہیگا،

نہیں بلکہ وہ پوری قوت کیساتھ اپکے سامنے آئیگا اورجو کرسکتاھے وہ کریگا،

تمھارے حال کو اتنا دگرگوں، خراب،  مضطرب، اور مشکلات کاشکار کریگا،
کہ تم اپنے درخشاں ماضی اور تابناک مستقبل کو بھول جاؤ، جیسا کہ بہت سارے لوگ انہی مشکلات کیوجہ سے اپنی حقیقت بھول گۓ،
 
اب یہاں اولوالعزمی، مضبوط ارادے، اور بلند حوصلے چاہیۓ،
یہاں زندہ واگاہ رہبر کی بصیرت چاہیۓ،
یہاں اھلبیت ع اور انکےپروردوں کی سیرت چاہیۓ،
یہاں صبروشعور چاہیۓ
یہاں کل ارض کربلا، و کل یوم عاشورہ کا شعارچاہیۓ،

یہاں مکمل تیاری کیلۓ میدان چاہیۓ،
فکری و عملی تجربہ گاہ چاہیۓ
جسمانی وروحانی مشق وایکسرسائیز کیلۓ مسیر وجولانگاہ چاہیۓ،
زمینہ سازی کیلۓ زمینہ چاہیۓ،

اور انقلاب اسلامی وہی زمینہ وتجربہ گاہ ھے،

سلسلۂ مقاومت وہی میدان وجولانگاہ ھے،

اور آجکا اربعین وہی جسمانی وروحانی مشق وایکسرسائیزھے،
کاش اس نعمت عظمیٰ کی قدروقیمت  لوگ جانتے،

لیکن غریقِ نعمت چہ می داند قدرِنعمت را،
و ماھی در آب چہ می داند قدرِآب را،
کیونکہ ھمعصرہونابھی ایک حجاب ھے

 


محمداقبال بہشتی
صفرسنہ1441ھ
سفرِ اربعین

وحدت نیوز(لاہور)ایم ڈبلیوایم کی جانب سے 17نومبر بروز اتوار ایوان اقبال لاہور میں منعقدہ وحدت کانفرنس کی دعوتی مہم تیزی سے جاری ہے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان مرکزی سیکریٹری امور سیاسیات اور فوکل پرسن حکومت پنجاب برائے بین المذاہب ہم آہنگی سید اسدعباس نقوی کی ایم ڈبلیوایم کی جانب سے جشن عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہ وحدت کانفرنس کی دعوتی مہم کے سلسلے میں جمیعت علماء پاکستان نیازی کے صدر پیر معصوم نقوی،مہتمم جامعہ حزب الاحناف پیر سید مصطفے اشرف رضوی، سجادہ نشین دربار دادا ہنجر پیر پیر عاصم سہروردی اور جماعت اسلامی رابطہ علماء و مشائخ کےسیکرٹری پیرزادہ برہان الدین عثمانی سے ملاقاتیں ۔

اس کے علاوہ انہوں نے دربار پاکپتن شریف کے زیب سجادہ پیر دیوان عظمت مسعود،پیر معین الدین معصومی سجادہ نشین آستانہ عالیہ موہری شریف سے بھی ملاقات کی اور ان کو وحدت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان نیازی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر امجد چشتی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(شکارپور) ضلع دادو تحصیل جوہی گاؤں فھلجی کے رہائشی ملعون عبدالستار جمالی نے سوشل ميڈیا پر اپنی ایک ویڈیو وائرل کی جس میں واضح طور پر پاکستان کے اداروں اور وکلاء کو للکارا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرزند رسولؐ امام محمد مہدی علیہ السلام کے شان میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرکے امام مہدی علیہ السلام کے شان میں گستاخی کی ہے ۔

ملعون عبدالستار جمالی کےاس اقدام سے امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی ہے ۔اس موقع پر ایم ڈبلیوایم یونٹ پیرچنڈام سیکرٹری جنرل خادم حسین ابڑو ،مستنصر مہدی ابڑو ،امتياز علی ابڑو کی قیادت میں مرکزی علم پاک سے احتجاجی ریلی نکال کر شٹرڈاؤن ہرتال کرکے پیرچنڈام میں دھرنا دیا گیا ۔

یہ احتجاجی دھرناایک گھنٹے تک جاری رہا اس موقع پر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع دادو میں ستار جمالی نے ہمارے آقا امام مہدی علیہ السلام کے شان میں گستاخی کی ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ایس ایس پی دادو اورڈپٹی کمشنر دادو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر کاروائی کرکے ستار جمالی کو سخت سزا دی جائے۔

مجلس وحدت مسلمین تحصیل گڑھی یاسین رہنما مستنصر مہدی ابڑو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دادو میں کھلم کھلا امام مہدی علیہ السلام کے شان میں گستاخی کرکے ملت جعفریہ کی دل آزاری کی ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے شان میں ہونے والی گستاخی پر ہم کو دلی صدمہ پہنچا ہے اور ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ستار جمالی کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔بصورت دیگرحالات کی ذمہ دار حکومت سندھ ہوگی ۔ یہ احتجاجی مظاہرے دہرنے تب تک جاری رہیں گے جب تک ستار جمالی کو سرعام پھانسی پر نہیں لٹکایا جائے گا۔

وحدت نیوز (کراچی) ماہ مبارک ربیع الاول کے موقع پر پاکستان کے غیور شیعہ و سنی عوام مشترکہ طور پر جشن عید میلادالنبیؐ مناتے ہوئے ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیل اور دیگر تکفیری عناصرکی مذموم سازشوں کوناکام بنا ئیں۔  12ربیع الاول کا دن ملت جعفریہ اپنے اہلسنت بھائیوں کے ہمراہ جشن میلاد النبی شایان شان طریقے سے منائے گی۔

اطلاعات کے مطابق صوبائی میڈیا سیل سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کے موقع پر ہر سال کی طرح اس سال بھی امام خمینی ؒ کے فرمان اورمجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایت پر 12تا17ربیع الاول ہفتہ وحدت منایا جائے گا۔

اس سلسلے میں کراچی سمیت ملک بھر میں جشن میلاد النبی و ہفتہ وحدت کانفرنسز،ریلیاں۔درود وسلام کی محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ 12ربیع الاول کا دن ملت جعفریہ اپنے اہلسنت بھائیوں کے ہمراہ بھرپور انداز میں جشن میلاد النبیؐ کے دن کو شایان شان طریقے سے منائے گی۔جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے عید میلادالنبیؐ کے جلوسوں کے راستوں پر استقبالیہ کیمپ اور سبیلوں کے اسٹالز بھی لگائے جائیں گے۔

علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ شیعہ سنی مسلمانوں نے محرم الحرام میں اپنے اتحاد و اتفاق سے دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیاہے، نواسہ رسولؐ  امام حسین ؑ کا غم اور رسولؐ خدا کی ولادت کا جشن امت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کے حکمران اور سیاست دان اگر رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں تو ملک کو درپیش مشکلات اور دہشت گردی جیسے عفریت سے مکمل چھٹکارہ ممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ کی ذات اقدس امت مسلمہ کیلئے نقطہ اتحاد ہے۔ ربیع الاول کا مقدس اور بابرکت مہینہ امت محمدی کے لئے اتحاد اوربھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان وطن عزیز میں عملی وحدت کی داعی جماعت ہے ، ہم تمام مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کے لئے کوشاں رہے ہیں اور رہیں گے۔

 علامہ باقر زیدی کا مزید کہنا تھا کہ امت مسلمہ کااتحاد ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیلی اور تکفیری عناصر کی جانب سے انتشار و نفرت پھیلانے کی مذموم سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے ۔ علامہ باقر زیدی نے ملکی سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ جشن میلاد النبی ؐکےجلسے ، جلوسوں اور خصوصا محافل کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے ۔

وحدت نیوز (کرم) ضلع کرم کے مذہبی ،سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے امام مہدی ؑکی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی ہے اور گستاخی کے مرتکب ملعون عبدالستار جمالی کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے رہنما حاجی سردار حسین، علامہ یوسف حسین ،علامہ اخلاق حسین ، اہلسنت والجماعت کے رہنما حاجی میر زمان بنگش ، علامہ سید صفدر علی شاہ ، حاجی عابد حسین ، علامہ باقر حیدری ، علامہ زاہد حسین ، پادری دلدار مسیح نے کہا کہ کوئی بھی مذہب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آئمہ اطہار اور صحابہ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دیتا اس لئے امام مہدی کی شان میں گستاخی کا مرتکب عبدالستار جمالی واجب القتل ہے اور حکومت اسے فوری طور پر پھانسی پر لٹکائے۔

 رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قسم گستاخانہ حرکتیں نہ صرف پاکستان میں انتشار کو ہوا دینے کیلئے کی جارہی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عبدالستار جمالی نے جو گستاخی کی ہے وہ قابل مذمت ہے اور گستاخ انسان دائرہ اسلام اور انسانیت سے بھی خارج ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ انہیں احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور گستاخِ امام مہدیؑ کو فوری طور پھانسی دی جائے۔

اب میری سُنو۔۔۔۔۔!| آئی ایچ نقوی

وحدت نیوز(آرٹیکل) قارئین محترم یہ پاکستان ہے اور بہت پیارا ملک ہے اس میں چار موسم ہیں ،لوٹ مار پر کوئی پابندی نہیں قتل و غارت گری بھی ہوسکتی ہے، جمہوری حکومت بھی ہوسکتی ہے اور مارشل لابھی، لیکن جو چیز ایک بار مہنگی ہو جائے وہ سستی نہیں ہوسکتی یہاں کوئی سیاسی جماعت ہو کوئی مذہبی جماعت ہو، کوئی سکالر ہو، کوئی عام آدمی ہو اپنی ہی بات کو صحیح سمجھتا ہے لہذا جہالت اپنے عروج پر ہے جس کو ہر مقام اور ہر جگہ حکومت کے اندر اور حکومت کے باہر بھی باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔    

عزیزان محترم آج مجھے فقط اور فقط اسلام آباد پر ہی بات کرنی ہے میڈیا پر بار بار حکومتی ذمہ داران ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ حکومت اور جے یو آئی ایف کا ایک معاہدہ ہوا لہذا حکومت سمجھتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس کی پاسداری کریں گے اور معاہدے کے مطابق اسلام آباد میںقیام کریں گے جبکہ بعدازاں واپس گھروں کو چلے جائیں گے۔ لیکن جب مولانا فضل الرحمن نے دھمکی دی کہ یہ عوام وزیراعظم کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے ۔

وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ استعفیٰ دیں ورنہ اگلا لائحہ عمل بتائیں گے۔ آپ نے بھی یہ بات سنی ہوگی لیکن مجھے عجیب سا لگا یعنی کوئی بھی شخص جب چاہے ۔پچیس تیس ہزار لوگ اکٹھے کرکے اسلام آباد آجائے اور وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کردے کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟میں اس کی حمایت نہیں کرتا جبکہ یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ زیادہ تر مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگ ہوتے ہیں جو گڑبڑھ کرنے اور افراتفری پھیلانے میں ماہر ہوتے ہیں چونکہ بات اسلام آباد کی ہو رہی ہے تو آپ نے سنا ہوگا انصارالاسلام نامی عسکری ونگ جے یو آئی ایف میں بھی متحرک دکھائی دیتا ہے اور ڈنڈوں سے مسلح ہیں جبکہ مجھے یقین ہےان کے پاس اسلحہ بھی ہوگا۔    

مجھے حکومت کی معصومیت پر ہنسی آرہی ہے کہ انہوں نے مولانا صاحب کی باتوں پر اعتبار کرکے کھلے عام اسلام آباد پر چڑھائی کا موقع دیا اگر دیکھا جائے تو ملک کے ایک مخصوص حصہ سےانکے چند ارکان پارلیمنٹ ہیں اور خود مولانا فضل الرحمن اپنی سیٹ جیت نہ سکے کے ۔اس بات سے انکار نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت معمولات مملکت چلانے میں متحد نظر نہیں آتی ۔مہنگائی اور بے روزگاری میں بے حد اضافہ ہوا ملک شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے، کشمیر جو ہماری شہ رگ حیات تھی اس کو انڈیا باقاعدہ کاٹ چکا ہے ہے ملکی معیشت انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔    

اس کی وضاحت میں مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام کے ایک واقعے سے کرتا ہوں ایک دفعہ آپ کی عدالت میں ایک بچہ لایا گیا جس کے اوپر دو حواتین دعویدار تھیں یعنی ہر خاتون یہ کہہ رہی تھی کہ یہ اس کا بچہ ہے جب مولا علی علیہ السلام نے یہ معاملہ سنا تو آپ نے کہا کہ اس بچہ کو دو حصوں میں برابر کاٹ کر دونوں کو آدھا آدھا دے دیا جائے تو فورا ایک خاتون نے کہا نہیں اس کو کاٹو مت اس کو دوسری عورت کو دے دو میں اپنا مطالبہ واپس لیتی ہوں جس پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بچہ اس عورت کو دے دو کیونکہ یہی اس بچے کی ماں ہے اس کے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ میرا بچہ زندہ رہے چاہے دوسری عورت کے پاس ہی رہے۔

 اسی طرح اگر مولانا پاکستان کے ہمدرد ہوتے تو اس وقت یہ مسئلہ کھڑا نہ کرتے ،لیکن کیا کریں ان کے بڑے بھی پاکستان بننے کے مخالف تھے تو آج ان کا یہ عمل جائز ہے دراصل اگر کوئی سیاسی جماعت یا مذہبی جماعت کے عام کارکن ہوتے تو بات سمجھ میں آتی تھی لیکن ان بنیاد پرست شدت پسند افراد کو اسلام آباد کی زمین پر بٹھانا خطرے سے خالی نہیں ہے یہ کوئی سیاسی دھرنا نہیں ہے بلکہ یہ مسلح جتھے کا اسلام آباد پر حملہ ہے اور ملکی نظم ونسق کو تباہ کرنے کی سازش ہے اس کے عوامل کیا ہیں یہ تو اداروں کا کام ہے کہ وہ چھان بین کریں۔    

اس کے ساتھ ساتھ اس مارچ اور دھرنے میں شامل سیاسی جماعتیں اور ان کے چند کارکنان خود ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں اور خود مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا امتحان ہے جو انہوں نے خود سے اپنے سر پر ڈالا ہے اس سے پہلے کہ اسلام آباد کے حالات خراب ہوں اور پھر سارے ملک میں اس کے اثرات آئیں حکومت کو چاہیے کہ وہ حکومت میں رہ کر اتنے عرصہ میں جتنے پیسے کما لیتے تھے وہ دے دیئے جائیں اور ان کو فارغ کردیا جائے ورنہ یہ جو آزادی مارچ ہے اس کا مفہوم سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا نعرہ لگا کر ملک کو نازک صورتحال میں دھکیلنا اور سرعام ریاست اورریاستی اداروں کو دھمکیاں دینا ناقابل فہم اور ناقابل معافی جرم ہے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو مزید مولانا پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور ضروری اقدامات فور اٹھانے چاہیے بلکہ میں تو یہ کہوںگاچاہےکسی کو برا لگے اس علاقے کا سارا انتظام پاک آرمی کے جوانوں کو سنبھال لینا چاہیے کیونکہ پروٹیسٹر شدت پسند مذہبی انتہا پسندی کا شکار لوگ ہیں ۔جہاں خواتین صحافیوں کو کوریج کرنے سے روک دیا گیا ہے ان کے ذہنوں کی شدت پسندی کی واضح مثال ہے یہ کوئی دھرنا ورنہ نہیں ہے یہ ایک گروہ کا اسلام آباد پر حملہ ہے اور پاک فوج کو آگے بڑھ کر اس حملے کو روکنا چاہیے بصورت دیگر کسی بھی قسم کے نقصان کی صورت میں حکومت وقت اور ادارے ذمہ دار ہوں گے اور یہ ایک مضحکہ خیز بات ہوگی ۔بیس پچیس ہزار لوگ بائیس کروڑ عوام کے ملک میں اپنی من مانیاں کرتے پھریں اور ان کو روکنے والا کوئی نہ ہو۔

ویسے مولانا کی دو دن کی مہلت اقتدار سے ان کی اداسی کا بھی پتہ دیتی ہے اور اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا زیادہ لمبی عصابی جنگ نہیں لڑ سکیں گے کیونکہ اس بات کا ان کو بھی اندازہ ہوگا کہ دو دن کی مہلت سے وزیراعظم سے استعفی مانگنا مضحکہ خیز ہے لہذا اس فرسٹریشن اور جلد بازی میں مولانا کوئی غلط فیصلہ کرسکتے ہیں ان کا سارا سیاسی کیریئر ر داؤ پر لگ گیا ہے لہذا اس وقت سنجیدگی کی ضرورت ہے اور معاہدہ معاہدہ کاراگ الاپنے سے بہتر ہے عملی لائحہ عمل بنایا جائے اور پرامن طریقہ سے بغیر کسی نقصان کے ملک اور اسلام آباد میں بسنے والے شہریوں کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے۔


تحریر:آئی ایچ نقوی

وحدت نیوز (شکارپور) مجلس وحدت مسلمین ضلع شکارپور کے رہنما سید ہزار شاہ کے برادر سراج احمد شاہ کی پہلی برسی کے موقع پر مجلس عزا سے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ حضرت سید الانبیاء ص کی ذات گرامی عالم انسانیت کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل ہے ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر شیاطین عالم کو عبرت ناک شکست دے سکتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ عالمی سامراج کے مقابلے میں مقاومتی بلاک نے اللہ تعالی پر ایمان و توکل اور جرئت و بہادری سے استقامت دکھائی جس کے باعث شیطان بزرگ امریکہ اور شیاطین عالم کو یکے بعد دیگرے مسلسل ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

وحدت نیوز(مظفر گڑھ) مجلس وحدت مسلمین ضلع مظفرگڑھ کے زیراہتمام سندھ کے شہر دادو میں امام زمانہ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے ملعون عبدالستار جمالی کے خلاف مظفرگڑھ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ضلع مظفرگڑھ کے سیکرٹری جنرل مولانا اسلام حسین الحسینی نے کی۔

مظاہرین نے اس موقع پر گستاخ امام زمانہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم مظفرگڑھ کے سیکرٹری جنرل مولانا اسلام حسین الحسینی کا کہنا تھا کہ آج تشیع عالم کا دل چھلنی ہوچکا ہے اور اس چھلنی دل کا مداوا اُس وقت ہوگا جب گستاخ کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں یذیدی نسل ایک بار فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے آج اگر اس کا قلعہ قمع نہ کیا گیا تو ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا، ہم اس ملک کے پُرامن شہری ہیں لیکن اگر ہمارے مقدسات اور ایمان پر حملہ کیا گیا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

ان کامزید کہنا تھاکہ آج کا ہمارا پُرامن احتجاج حکومت کو متنبہ کرنے کے لیے ہے اگر حکومت سندھ نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس گستاخ امام کے خلاف کاروائی نہ کی تو حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔

Page 3 of 977

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree