The Latest

وحدت نیوز(گلگت) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان گلگت کے زیر اہتمام زینبِ کبرا س اکیڈمی میں، جشنِ صادقین کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقے کی خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔بچیوں نے بارگاہِ ختمی مرتبت محمد ﷺ اور امام جعفرِ صادق ع کی بارگاہ میں ہدیہ نعت اور منقبت پیش کیں۔ جسکےبعد مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین پاکستان گلگت کی سیکرٹری جنرلمحترمہ سائرہ نے سیرت النبی ﷺ پر روشنی ڈالی۔اور کمالِ اخلاق النبوی کے فضائل، بیان فرمائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے ڈویژنل اور ضلعی کابینہ عہدہ داروں و کارکنان نے ایم ڈبلیو ایم کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حلقہ پی بی 26 کوئٹہ 3 کی خالی نشست کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد امیدوار سابق وزیر قانون سید محمد رضا (آغا رضا) پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ،ایم ڈبلیو ایم دفتر ہزارہ ٹاون میں کوئٹہ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے ڈویژنل اور ضلعی کابینہ عہدہ داروں سمیت پارٹی کارکنوں نے شرکت کی۔

تمام عہدہ داروں اور کارکنوں نے ایم ڈبلیو ایم کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حلقہ پی بی 26 کوئٹہ 3 کی خالی نشست کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نامزد امیدوار سابق وزیر قانون سید محمد رضا (آغا رضا) کو کامیاب بنانے کا عزم کیا۔

پارٹی عہدہ داروں  نے مرکزی قیادت اور ہزارہ ٹاون کے کارکنوں بشمول ڈویژنل کابینہ شوری بزرگان یونٹ کی متفقہ طور پر آغا رضا کی نامزدگی کو خوش آئند قرار دیا اور انکی پانچ سالہ بہترین نمائندگی وکارکردگی، مجموعی عوامی افکار اور امنگوں کی ترجمانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بے مثال ترقیاتی اسکیموں کا اجرا کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

شرکاء نے کہا کہ آغا رضا کی قد آور شخصیت سیاسی بصیرت دلیری و شجاعت اور بے لوث خدمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،ہمیں امید ہے کہ اللہ کی مدد و نصرت سے حلقہ پی بی 26 کوئٹہ 3 کے با شعور عوام اپنی قیمتی رائے سے آغا رضا کو کامیاب بنائیں گے۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی رہنما اور رکن قانون ساز اسمبلی بی بی سلیمہ نے کہاکہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں قندیل زہرا وہ پہلی خاتون ہیں جس کو ایم بی بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے صرف نوجوانوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبہ سندھ کے جامعات اور میڈیکل و انجینئرنگ کالجز میں گلگت بلتستان کے طلباء کا کوٹہ نہ ہونے کے برابر ہے ،اس کوٹے میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کے طلباء کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

گلگت بلتستان کی ہو نہار طالبہ قندیل زہرا نے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار ایم بی بی ایس میں گولڈ میڈل لینے کا اعزاز حاصل کیاہے۔قندیل زہرا کا تعلق گلگت شہر کے نواحی علاقے نومل سے ہے اور ان کے والد علی حیدر ایک سیاسی اور سماجی شخصیت ہیں۔قندل زہرا نے پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال سے سال 2012 میں ایف ایس سی کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا جس کے بعد ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماتحت شہید بے نظیر میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور سال 2017 میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرکے ہائوس جاب شروع کیا۔ڈائو میڈیکل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے ہونہار طالبہ قندیل زہرا کی ایم بی بی ایس میں اعلیٰ کارکردگی پر گولڈ میڈل دینے کا اعلان کردیا ہے۔

 

وحدت نیوز(آرٹیکل) یمن مشرق وسطی کا ترقی پذیر اور غریب ترین ملک ہے جس کا کل رقبہ پانچ لاکھ ستائیس ہزار نو سو ستر مربع کلومیٹر ہے۔جس کے شمال میں سعودی عرب مغرب میں بحرہ احمر جنوب میں خلیج عدن اور مشرق میں بحرہ عرب اور عمان واقع ہیں یمن تقریبا دو ہزار کلومیڑ ساحل سمندر بھی رکھتا ہے یمن کی ا?بادی 2016کی شماری کے مطابق تقریبا دو کروڑ پچھتر لاکھ چوراسی ہزار کے لگ بھگ تھی بنیادی طور پر یمن ایک زرعی ملک ہییمن پر 275قبل مسیح یہودی حکمران تھے چوتھی صدی مسیح میں یہاں عیسایت پہنچی اور ساتویں صدی میں میں اسلام کی تیزی سے ترویج ہوئی اور یمن اب ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ یمن کی جنگ کا محرک 2011قبل پیدا ہونے والا سیاسی بحران تھا جو کہ غربت بے روزگاری کرپشن کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں سے شروع ہوا اور سن1978یعنی 34سال سے یمن پر حکمرانی کرنے والے صدر علی عبداللہ صالح کو عوامی احتجاج کے جواب میں مستعفی ہونا پڑا۔21فروری 2012 میں صدر عبداللہ منصور الہادی کو عبوری صدر کے طور پر اقتدار منتقل کیا گیا ۔

اقتدار کی اس منتقلی میں عوامی کسی قسم کی رائے شامل نہیں تھی اور عوام منصور کو بیرونی ممالک سے وابستگی رکھنے والے ایک فرد کے طور دیکھ رہے تھے۔ عبداللہ منصور الہادی نے دو سال میں الیکشن کروا کر اقدار منتقل کرنے کا وعدہ کیا مگر اس پر عملدا?مد نہیں کیا دوسال بعد بھی حکومت چلتی رہی اور اس نے استعفی بھی دیا مگر خود ہی واپس لے لیا جس نے یمن کی دو بڑی سیاسی قوتوں الاصلا ح اورانصاراللہ پارٹی کے درمیان سیاسی کشمکش کو مزید بڑھا دیا اور عوامی احتجاجات نے شدت اختیار کرلی 2014میں انصاراللہ نے دارالحکومت میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور دارالحکومت کی اہم عمارتوں پر قبضہ کرلیا اس میں سابق صد ر علی عبداللہ الصالح کی مدد بھی شامل تھی۔دارحکومت صنعا پر اپوزیشن جماعتوں کے قبضے کے بعد صدر منصور الہادی نے سعودی عرب میں پناہ لے لی۔ اور اپنی عبوری حکومت کی بحالی کے لئے سعودی عرب سے مدد مانگی وہ اس عوامی احتجاج کا سارا ملبہ حوثی قبائل پر ڈال رہا تھا جبکہ منصور ہادی کیخلاف احتجاج میں یمن کی اکثر چھوٹی بڑی پارٹیاں بشمول معزول صدر علی عبداللہ کی پارٹی بھی شامل تھی۔

سعودی عر ب صدر منصورالہادی کی بحالی چاہتاتھا اوراپوزیشن چاہتی تھی کہ الیکشن دوبارہ کروائے جائیں۔ اور نوبت جنگ وجدل کی جانب چلی گئی یوں عبوری حکومت کی بحالی کے نام پر سعودی عرب نے دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن پر چڑھائی کردی۔اسی دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح تنازعات کا شکار ہوئے اور انہوں دسمبر 2017میں قتل کر دیا گیا۔اس قتل نے بھی ملکی سیاسی تنازعے میں اضافہ کیا ۔ سعودی عرب کا دعوی تھا کہ وہ جلد ہی منصورالہادی کی حکومت بحال کروا دے گا۔مگر تین سال سے زیادہ عرصہ مسلسل جنگ کے بعد صر ف اور صر ف یمن کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا۔مسلسل بمباری اور میزائل حملوں نے انفرسٹریکچر تباہ کر دیا جنگ کے نتیجے میں اب تک لا کھ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور بے شمار زخمی ہوئے۔ جنگ نے ملک کی معیشیت تباہ کر گی۔ ملک میں قحط کی صورت حال پیدا ہو گی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اگر جلد ہی اقوام عالم نے یمن کا مسئلہ حل کرنے کی سنجید ہ کوشش نا کی تو جنگ سے پیدا ہونی والی قحط سالی اور اس کے نتیجے میں انسانی ہلاکتوں ایک عظیم انسانی المیہ جنم دے گی جس کے بعد لوگ افریقہ کے ممالک کی قحط سالی کے سانحات کو بھول جائیں گے۔ سعودی عرب کو اب تک اس جنگ میں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔حالیہ ایک مثال ہی لے لیں حدیدہ کی بندرگا ہ پر سرتوڑ کوششوں کے باوجود 16جون سے جاری حملوں کے بعد بھی قبضہ نہیں کیا جا سکا ۔16جون کو حدیدہ بندرگاہ پر ہونے والے آپریشن میں امریکی ،برطانوی اور فرانسیسی نیوی ایئر فورس سمیت متحدہ عرب امارات کی فورسز بھی موجود تھیں ۔ایک غریب پڑوسی ملک میں سیاسی بحران کی پشت پناہی اور عوام پر مرضی مسلط کرنے کی ضد نے خود سعودی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اب تک اس جنگ میں سعودی عرب اربوں ڈالر جھونک چکا ہے۔مگر نتیجہ کچھ حاصل نا کر سکا۔ عالمی سطح پر سبکی الگ ملک کے اندر سے اٹھنے والے سوالات اور تشویش خود سعودی بادشاہت کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔جنگ سے ہاتھ ہٹاناسعودی بادشاہت کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اور سعودی عرب یمن جنگ کے دلدل میں بری طرح پھنس چکاہے۔ جنگ کے اخراجات اور دنیا کو خاموش رکھنے کے لئے دی جانی والی بڑی رقوم نے ملکی معیشت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔بے روزگاری میں اضافہ۔ٹیکسوں میں اضافہ۔مہنگائی۔غیر ملکی مقیم ہنر مندوں اور مزدوروں کو اپنے ممالک واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اب خود حکومت سعودی عرب اس جنگ سے باعزت باہر نکلنے کا رستہ تلاش کر رہی ہے۔

حوثیوں کے ساتھ سعودی عرب کے اعلی سطح پر کئی مزاکرات کے دور بھی چلے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے عوامل خصوصا اثر انداز ہونے والے ممالک سے یمن صورتحال حال پر سعودی بیانیہ کو تقویت دینا بھی شامل ہے۔ الاصلاح اور انصاراللہ جو کہ منصور الہادی کے معاملے پر دست وگریبان ہو گئے تھے لیکن اب بیرونی حملے نے یمن بحران کے دو سیاسی کرداروں کو بھی متحد کر دیاہے اس وقت الاصلاح جماعت انصاراللہ سے تعاون کر رہی ہے ۔عوام میں انصاراللہ جماعت کی محبوبیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ تو تھے کچھ تاریخی اور موجودہ حقائق اب بات کرتے ہیں پاکستان کی، آیا ایسی کیا وجوہات تھیں کہ پاکستان یمن جنگ کا حصہ دار بن گیا بلکہ یوں کہنا بجا ہو گا فریق بن گیا ہے۔ تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ پاکستانی سیاست کبھی بھی عالمی طاقتوں کی مداخلت اور اثر ورسوخ سے خالی نہیں رہی۔ اگر ہم عرب ریاستوں کی بات کریں تو سب سے زیادہ اثر سعودی عرب کا رہا ہے جہاں ایک طرف سعودی عرب میں موجود مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی بدولت پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ سرزمین وحی کے لئے تقدس اور احترام کا جذبہ رہا وہیں پر علاقائی سیاسی صورت حال نے بارہا سعودی بادشاہت کو علاقے میں اہم رول ادا کرنے کا موقع دیا۔

نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر سعودی عرب کا ایک نیا تعارف اور کردار سامنے آیا۔ پاکستان کے سیاسی و سماجی معاملات میں سعودی عرب کا ہمیشہ ایک نقش موجود رہا ہے۔ جب یمن جنگ کی ابتدا ء ہوئی تو کسی کو اندازہ نہیں تھاکہ مفلوک الحال ننگے پاوں لڑنے والے یمنی زیادہ دیر مزاحمت کر سکیں گئے۔مگر یہ جنگ شروع دن سے ہی خود سعودی عرب کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی چلی گئی۔ اس دوران سعودی عرب کی جانب سے ایک اکتالیس ملکی ملٹری الائینس کی تشکیل سامنے آئی جسے کو دہشت گردی کے خلاف آراستہ کرنے کا نعرہ لگایا گیا یاد رہے اس دوران شام و عراق میں داعش کا عفریت اپنے پنچے گاڑ چکا تھا۔مگر سنجیدہ طبقے نے اس الائنس کو علاقے کی ایک اور طاقت ایران کے خلاف اور یمن جنگ میں استعمال کرنے کا خدشہ پیش کیا اور وقت نے ثابت کیا کہ اس ملٹری الائینس کے مقاصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں تھا بلکہ درپردہ مقاصد یمن جنگ میں فتح حاصل کرنا اور خطے میں اپنی طاقت کا اظہار کرنا تھا۔اسی ملٹری الائنس کی متنازہ کردار نے قطر کے ساتھ جوکہ سعودی عرب کا سب سے اہم اور بڑا اتحادی تھا اختلافات کو جنم دیا اور بات ایک دوسرے کے بائیکاٹ دھمکیوں اورپھر جو ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جو چلا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔ اس متنازہ اسلامی ملٹری الائینس کی سربراہی کے لئے پاکستانی ریٹائرڈ جنرل رحیل شریف کو پیشکش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی جبکہ جنرل صاحب نے حکومت وقت سے اس حوالے سے کوئی اجازت نہیں لی۔سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں جنر ل راحیل شریف کی سعودی ملٹری الائینس کی سربراہی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔سعودی حکومت نے اس وقت کی حکمران جماعت سے ن لیگ سے یمن جنگ میں براہ راست شمولیت کے لئے درخواست کی جبکہ اس وقت بھی مختلف پروگرامات کے تحت پاکستانی ملٹری سعودی عرب میں موجود ہ تھی۔ حکومت ابھی اس حوالے سے کشمکش کاشکار تھی کہ آیا فورسز بھیجی جائیں کہ نہیں اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کی مخالفت شروع کر دی جس میں تحریک انصاف پیش پیش تھی اس کے علاوہ ایک سیاسی مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین نے ملک کے کئی شہروں میں افواج پاکستان کی غیر ملک کی جنگ میں شمولیت کی مخالفت میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہر ے کئے۔

تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی نے اس وقت پارلیمنٹ ہاوس میں بیان دیا کہ ہم ہر صورت یمن جنگ میں پاکستانی افواج کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہیں ہم پاکستان کو مذید کسی غیر کی جنگ کا فریق نہیں بننے دیں گے۔یمن پر حملہ کیا گیا ہے وہا ں موجود سیاسی بحران کو حل کرنے کے لئے غلط رستے کا انتخاب کیا گیا ہے۔ہم حکومت پاکستان کے اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کریں گئے۔ جس کے بعد حکومت کو اس معاملے پر پسپائی اختیار کرنا پڑی اور سعودی حکومت نے ابھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ 2018کے الیکشن کے بعد اقتدار تحریک انصاف کے پاس آیا۔تبدیلی کے نعرے سے حکومت بنانے والی تحریک انصاف کو جب اقتدار ملا تو سابقہ حکومتوں کی رویات کے مطابق انہوں نے بھی چلانا شروع کردیا کہ خزانہ خالی کر دیا گیا ہے ملکی معیشت خطرے میں ہے۔لہذا قرض لینا ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن حسب روایت تحریک انصاف نے آئی ایم ایف یا دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے سخت اور اوپن شرائط پر قرض لینے کی بجائے۔اپنے دوست ممالک سے نرم اور خفیہ شرائط پر قرض لینے کی تگ ودوشروع کی پھر رویت کے برخلاف نئے وزیر اعظم پاکستان نے امریکہ یا چین کی بجائے سعودی عرب کا دورہ کیا مگر قرض کی شرائط میں یمن جنگ پر تحریک انصاف کے سابقہ موقف کے برخلاف نکات شامل تھے لہذا فوری طور پر کوئی بات نہیں بن سکی مگر درپردہ بات چیت چلتی رہی اس دوران تحریک انصاف کی حکومت نے یمن جنگ پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا۔اور کچھ ہی دنوں بعد پھر سعودی عرب میں منعقد ایک عالمی تجارتی کانفرنس میں شمولیت کے لئے وزیراعظم عمران خان سعودی عرب پہنچے اور چھ ارب ڈالر کا ایک پیکچ منظور کروائے میں کامیاب بھی ہو گئے یاد رہے کہ ترقی میں سعودی صحافی جمال خاشجقی کے قتل کے بعد دنیا کی بہت سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنزنے اس کانفرنس کا بائیکاٹ بھی کیا۔ اور یہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یمن میں قتل ہوتے ہوئے ہزاروں خاشجقی نظر نہیں آئے ، پاکستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ دونو ں ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے یمن جنگ میں ثالثی کے کردار کی تائید اور اس پر پیشرفت کی نوید سنائی۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں یمنی سفیر جسے آج تک کبھی کسی سرکاری پروگرام میں مدعوبھی ناکیا گیا جوکہ منصورالہادی حکومت کانمائندہ ہے سے ملاقات کی اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ منصور الہادی کی حکومت کی بحالی کے لئے کوشش کریں گئے۔ مگر یہ کیا ہو ایہ موقف تو شروع دن سے سعودی حکومت کا تھا کہ منصور الہادی کی حکومت بحال کی جائے جس کے لئے اس نے یمن پر ہزاروں ٹن بارود برسا دیا جبکہ یمنی عوام کا مطالبہ نئے آئین کی تشکیل اور نئے سرے سے انتخابات تھے اور اب بھی یہی مطالبہ ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کا موجودہ موقف اپنے گزشتہ موقف سے یکسر مختلف ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر منصورالہادی کی حکومت کی بحالی ہی تحریک انصاف کا موقف تھا تو ن لیگ دور حکومت میں یمن مسئلہ پر کیا صرف اپوزیشن کی گئی تھی؟ن لیگ بھی تو سعودی حکومت کے موقف یعنی منصورالہادی حکومت کی بحالی کی کوشش کرنا چاہتی تھی۔ ثالثی تو تب ہوتی جب حکومت کا موقف کوئی نیا حل نکالنے پر ہوتا مگر سعودی عرب کے موقف کو بیان کر کے تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی جانب داری واضع کر دیا ہے۔

 اس وقت عوامی مزاحمت کے نتیجے میں قائم ہونے والی انصاراللہ کی حکومت جس نے چار سال سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی بمباری کا مقابلہ کیا ہے اسی منصور الہادی کی حکومت بحالی کے سیاسی بحران نے جہاں ہزاروں یمنی جان سے گئے اور لاکھو ں زخمی ہوئے ہیں اور یمن قحط سالی کے حالات سے گزر رہا ہے وہ کیسے منصورالہادی کی حکومت کو بحال کروانے پر رضا مند ہو سکتے ہیں۔ لہذ اتحریک انصاف کی حکومت نے جو موجودہ موقف اپنایا ہے یہ مذید مسئلے کو بڑھا سکتا ہے حل نہیں کر سکتا۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ یمن کے مسئلہ پر کوئی سنجیدہ کردار ادا کرئے تو اسے تما م فریقین سے بات کرنا ہو گی ،لیکن ایسا دیکھائی نہیں دیتا ہے 6ارب ڈالر تھوڑی رقم نہیں ہوتی ہے ۔اور یمن مسئلہ پر ہی وزارت خارجہ نے عالمی سطح پر ایک اور سبکی بھی اٹھا ئی ہے گزشتہ دونو ں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں یمن پر جاری جنگ اور اس کی تحقیقات کے لئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جانب سے جاری تحقیقات کے دورانئے میں اضافے کے لئے ایک قرادراد پیش کی گئی جس کی مخالفت میں تحریک انصاف کی حکومت نے ووٹ دیا باوجود اس کے یہ قرادرا منظور ہو گئی یادر رہے کہ یہ وہی موقف ہے جو کہ پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ہندوستانی مظالم پر عالمی انسانی حقوق کی تنظم کے زریعے تحقیقا ت کروانے سے متعلق ہے۔اور ہم کشمیر میں تو عالمی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں مگر یہی ادارہ اگر یمن جنگ پر تحقیقات کرنا چاہ رہا ہے تو ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ہیں پاکستان کے اس موقف سے مسئلہ کشمیر پرپاکستانی موقف کمزور اور متاثر ہوا ہے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب ملک یمن کے خلاف جنگ فوری طور پر روکی جائے اور وہاں فوری طورپر امدادی پیکچ فراہم کئے جائیں۔انفرسٹکچر کی بحالی کے لئے امداد کی جائے یمن جنگ کے تمام فریقین جب تک برابری کی سطح پر آکر بات چیت نہیں کریں گئے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔اس مسئلے کا سب سے اہم فریق خود یمنی عوام ہے یمنی عوام کی رائے کے برخلاف کوئی بھی لا ئحہ عمل یا منصوبہ کسی صورت مسئلے کا حل اور پائدار امن کی ضمانت نہیں دے سکے گا ۔

تحریر :شجاعت علی بلتی

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی نے صوبائی سیکٹریٹ سولجر بازار سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کراچی کے عوام کے معاشی قتل عام کے ساتھ ساتھ ان کے سروں سے چھت بھی چھینے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات کی آڑ میں لوگوں کے جائز کاروبار اور گھروں کو توڑنے کی منصوبہ بندی کراچی کے عوام کے خلاف سازش ہے، جس سے امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، عوام میں مایوسی کے ساتھ ساتھ اشتعال بھی بڑھتا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، عوام بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں اور حکمران ثقافت ڈے کے نام پر کروڑوں روپے ڈانس پارٹیز اور ریلیز پر تو خرچ کر رہے ہیں، مگر کراچی کی عوام کو پانی کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ملیر ضلع کورنگی اور ضلع غربی میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے عوام سراپا احتجاج ہیں، مگر واٹر بورڈ عملی اقدامات میں قطعی طور پر ناکام ہوچکا ہے اور حکومت صرف کے فور منصوبے کا راگ الاپنے میں مصروف ہے۔

سید علی حسین نقوی نے کہا کہ کراچی کے عوام سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو کی مد میں حکومت کو فراہم کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے میں کراچی کی عوام کا مستقل استحصال کیا جاتا ہے، کراچی کا پانی واٹر بورڈ کی سرپرستی میں ٹینکر مافیا کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور پانی چوروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی، ہم عوام کے حقوق کے لئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور عوامی حقوق کے حصول کی خاطر بھرپور جدوجہد کریں گے، اگر عوام کا استحصال بند نہ کیا گیا اور انہیں ان کے جائز حقوق فوری طور پر فراہم نہ کئے گئے تو پھر عوام کے ساتھ سڑکوں اور چوراہوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کے لئے جی بی کے عوام کو مکمل آئینی حقوق دینا ہونگے، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے وفد کے ہمراہ ملاقات میں علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو ان کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے حقیقی پاکستانی اور وطن عزیز کے سچے فرزند ہیں، گلگت بلتستان کے مسئلے پر جلد از جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور مزید دیر کرنا کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ یہ مسئلہ تیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے،علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے ہمراہ وفدمیں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سیداحمد اقبال رضوی، سید ناصرشیرازی، اسدعباس نقوی، محسن شہریار اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرانقوی بھی شامل تھیں۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے معاملے کا جلد حل ہونا ضروری ہے، اس کے لئے سپریم کورٹ سمیت تمام آئینی اداروں اور انسانی حقوق کی وزارت کو بھرپور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو کہ انسانی حقوق سے متعلق ہے۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک مضبوط اور بااختیار کمیشن کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے یمن اور فلسطین سمیت امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے پاکستان کے مثبت اور موثر کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ کہ ملکی استحکام اور آئین کی سربلندی کے لئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے، ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، گلگت بلتستان کے عوام کو جلد خوشخبری سنائیں گئے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، ہم اس مسئلے کی جانب متوجہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب ختم ہو جائے۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے ہمراہ وفدمیں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سیداحمد اقبال رضوی، سید ناصرشیرازی، اسدعباس نقوی، محسن شہریار اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرانقوی بھی شامل تھیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے وفد کی صوبائی وزیر لیبر اور انسانی وسائل اور پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے صدر حاجی غلام مرتضیٰ بلوچ سے سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات ہوئی،جس میں یوسی 11جعفرطیار کے ضمنی بلدیاتی الیکشن اور علاقائی مسائل کے حوالے سے تفصیلی گفتگوہوئی، وفدمیں ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے پولیٹیکل سیکریٹری میرتقی ظفر، سیکریٹری اطلاعات سید احسن عباس رضوی، ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل اور نامزد امیدوار برائےوائس چیئرمین یوسی 11 عارف رضا زیدی ، ضلعی پولیٹیکل سیکریٹری سید حسن عباس اور سیکریٹری فلاح وبہبود سعید رضا رضوی شامل تھے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زہرانقوی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں گلی محلوں، ٹریفک سگنلز اور چوراہوں پر بھیک مانگنے والوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی قرارداد بھاری اکثریت سےمنظور کرلی گئ،قرار داد میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں گلی محلوں، ٹریفک سگنلز اور چوراہوں پر لوگ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، حکومت ان کو کارآمد شہری بنانے کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے۔

وحدت نیوز(حیدرآباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین صوبہ سندھ اور ام ابیھا تعلیم بالغاں اسکول حیدرآبادکےزیر اہتمام رسول خداص اور امام جعفر صادق ع کی ولادت باسعادت کے پر نور موقع پر جشن صادقین ؑ کی پرنورمحفل کا انعقاد کیا گیاجس میں اسکول کی خواتین اور بچیوں نے ہدیہ تلاوت،حمد،نعت پیش کی اور زاکرین اہل بیت ؑ محترمہ کنول بتول ،محترمہ رضوانہ نے بچیوں کو فضائل امام جعفر صادق ؑاور رسول خداص کے مشن عالم اسلام کو بڑھانے پر روشنی ڈالی محترمہ سیمی نقوی معلمہ تعلیم بالغاں اسکول نے مہمان گرامی کا تبرک اورتحا ئف سے شکریہ ادا کیا اوردعائے امام زمانہ عج کے ساتھ میلاد کا اختتام کیا گیا۔

امریکہ فلسطینیوں کے حقوق کا دشمن

وحدت نیوز(آرٹیکل) مسئلہ فلسطین کی ستر سالہ تاریخ کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا وجود سنہ1948ء میں قائم ہوا جس کی پشت پناہی سنہ1917ء میں برطانوی سامراج نے اعلان بالفور نامی خط کے ذریعے کی تھی تاہم یہ کہنا درست ہو گا کہ فلسطینی عربوں کے ساتھ ہونے والی اس خیانت کو ایک سو سال یعنی ایک صدی بیت چکی ہے اور فلسطینی عوام تاحال اپنے حقوق کی جد وجہد کر رہے ہیں اور مسلسل غاسب صہیونی ریاست اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کی پائمالی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ درا صل دیکھا جائے تو روز اول سے ہی فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی میں استعماری قوتوں کا باقاعدہ کردار رہاہے جہاں ایک طرف برطانوی سامراج نے فلسطین سے اپنی کفالت کو ختم کرنے سے قبل صہیونیوں کو فلسطین میں آباد کیا اور بعد میں یہاں ایک غاصب جعلی ریاست بنام اسرائیل قائم کی وہاں امریکہ جیسی شیطان استعماری طاقت بھی برطانوی سامراج کی جرائم میں کسی طور پیچھے نہ رہی اور دنیا میں سب سے پہلے جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دیگر یورپی ممالک پر دباؤ ڈال کر اسرائیل کی پشت پناہی کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا اور تاحال ایک سو سالوں سے امریکی سیاست کا مرکز و محور صہیونیزم کے دفاع اور اس کی بقاء پر استوار ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام ہمیشہ سے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے آئے ہیں کہ آخر امریکی عوام کے ٹیکسز کا پیسہ صہیونیوں کو کیوں دیا جا رہاہے اور اس پیسہ سے بالآخر صہیونی فلسطین میں عربوں کا قتل عام صرف اور صرف نسل پرستی کی بنیاد پر کر رہے ہیں ، واضح رہے کہ فلسطینی عرب کی جب بات ہوتی ہے تو ا س سے مراد فلسطینی قومیت کے حامل وہ تمام فلسطینی مسلمان، عیسائی اور یہودی سمیت دیگر چھوٹے مذاہب کے لوگ شامل ہیں کہ جو فلسطین کے باسی تھے اور ہیں اور جنہوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر قائم ہونے والی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو یہودیوں کی ریاست تسلیم نہیں کیا۔اس حوالے سے خود امریکہ میں دسیوں ہزار یہودی اور ان کی تنظیم نووی کارٹا موجو دہے کہ جس کا نعرہ آزادی فلسطینی ریاست ہے اور ایسی فلسطینی ریاست کہ جس کا دارلحکومت یروشلم یعنی بیت المقدس ہے۔

جہاں تک امریکہ کی فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنے کی بات ہے تو دنیا بہت اچھی طرح سے واقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے فلسطین میں قائم جعلی ریاست اسرائیل کے لئے امداد کے نام پر اربوں ڈالرز جاری کئے جاتے ہیں اور اس رقم کے علاوہ اسرائیل کو امریکی ساختہ جدید اسلحہ اور بھارتی جنگی سازو سامان کے ساتھ ساتھ جدید جنگی ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جاتی ہے جس کا استعمال غاصب صہیونی ریاست مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کے خلاف کرتی ہے اور نہ صرف فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ خطے میں موجود دیگر عرب ریاستیں بھی صہیونی ریاست کے ناپاک عزائم اور جنگی شر انگیزیوں سے محفوظ نہیں رہتے ہیں ۔ اس کی چند ایک مثالیں شام، لبنان، اردن اور مصر جیسے ممالک ہیں کہ جن کی پہلے ہی کچھ زمینیں غاصب صہیونی ریاست اپنے تسلط میں لے چکی ہے اور اس کے علاوہ لبنان پر جنگیں مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور مختلف علاقوں میں بمباری کرتی رہی ہے۔

امریکہ کی اسرائیل کی دی جانے والی مسلح امداد سے ہمیشہ فلسطینیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوتا رہاہے۔ سنہ1982ء میں جب صہیونیوں نے لبنان میں فوجی اتاریں تو صابرا اور شاتیلا کے کیمپوں میں انسانیت کا قتل عام صہیونی درندوں کے ہاتھوں امریکی اسلحہ سے کیا گیا جس پر نہ تو امریکہ کے ایوانوں میں انسانی حقوق کی دفاع کا شور و غل سننے میں آیا اور نہ ہی کسی اور مغربی ملک نے فلسطینیوں کے اس بہیمانہ قتل عام پر انسانی حقوق کے بارے میں واویلا کیا ۔لیکن جب بات امریکی مفادات کے بر خلاف ہو رہی ہو تو امریکہ کو ہر دوسرے ملک میں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی نظر�آتی ہے لیکن امریکہ کو کبھی یہ نظر نہیں آتا ہے کہ امریکی امداد کے نام پر اسرائیل جیسی جعلی صہیونی ریاست کو دیا جانے والا بھاری اسلحہ اور جنگی ساز و سامان غز ہ میں محصور مظلوم اور نہتے فلسطینی عربوں کیخلاف استعمال کیا جا رہاہے۔امریکی سرکار کو کبھی یہ نظر نہیں آتا ہے کہ فلسطین میں بسنے والے فلسطینی عرب انسان ہیں بلکہ شاید استعماری قوتوں کے نزدیک فلسطینیوں کو انسان قرار ہی نہیں دیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے حقوق کے بارے میں بات کرتے وقت امریکہ سمیت تمام استعماری قوتیں گونگی اور بہری ہو جاتی ہیں اور جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے اپنے دفاع میں اگر ایک پتھر بھی غاصب صہیونی فوجیوں کی طرف پھینکا جائے تو دنیا میں سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار پاتا ہے ، اسی طرح اگر ایک نوجوان فلسطینی لڑکی اپنے گھروں اور اپنے لوگوں کے دفاع کی خاطر صہیونی فوجی کو تھپڑ مار دے تو یہ دنیا کے تمام قوانین کی توہین قرار پاتی ہے اور اس جرم میں اس نوجوان لڑکی کو کئی ماہ صہیونیوں کی جیل میں قید رہ کر مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہاں امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کے لئے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔

ان تمام باتوں سے بالا تر امریکہ نے دنیا بھر میں اسرائیل کی دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے نت نئے ناموں سے دہشت گرد گروہ قائم کئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسی حکومتوں کو مدد و تعاون فراہم کیا ہے جو ان دہشت گردوں کی طرح کام انجام دیں، اس حوالے سے داعش، النصرۃ، القاعدہ ، طالبان سمیت نہ جانے کئی ایک نام موجود ہیں کہ جنہوں نے پاکستان سمیت افغانستان، عراق، ایران، لبنان ، لیبیا اور دیگر مقامات پر امریکی و صہیونی مفادات کے خاطر قتل عام کیا اور دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دی ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ امریکہ نے جہاں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے میں صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی سرپرستی کی ہے اسی طرح اب ایک مرتبہ پھر امریکہ نے اپنا سفارتخانہ القدس شہر میں منتقل کر کے نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پامال کئے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں، اسی طرح فلسطینیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ایک نیا راستہ جو امریکہ نے اختیار کیا ہے وہ مسئلہ فلسطین سے متعلق نام نہاد راہ حل ہے کہ جسے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا نام دیا ہے جس کا لب لباب کچھ اس طرح سے ہے کہ فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال دو اور صہیونیوں کو پورا فلسطین دے دو۔اب اس کام کے لئے امریکہ دنیا کے تمام تر قوانین اور انسانی حقوق کی اقداروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے مکمل طورپر نکالنے پر تلا ہو اہے اور اس کام کے لئے عرب ممالک کی ملوکیت کو رام کر لیا گیا ہے تاہم فلسطینیوں نے اس ڈیل کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنے کا اراد ہ کر رکھا ہے اور کسی صورت بھی فلسطین سے بے دخلی کو قبول نہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے جس کا ایک نمونہ ہمیں گذشتہ دنوں غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملوں او ر جنگ کے نتیجہ میں دیکھنے کو ملا ہے کہ جہاں فلسطینیوں نے پائیدار مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل کو دو روز میں ہی پسپائی پر مجبور کر دیا تھا۔بہر حال امریکہ فلسطینی تاریخ میں فلسطینیوں کے حقوق کا ایک سو سال سے دشمن اور حقوق کو پامال کرنے والی ایک شیطان قوت کے طور پر سامنے آیا ہے جسے یقیناًآئندہ تاریخ میں نسلیں اسی عنوان سے ہی یاد رکھیں گی کہ امریکہ فلسطینیوں کے حقوق کا دشمن ہے۔

تحریر:  صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

Page 3 of 894

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree