The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد)شہید قائد ِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی ؒ کی 32ویں برسی کی تیاریوں کے سلسلے میں نثار علی فیضی چیئرمین برسی شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی ؒ و مرکزی سیکریٹری تعلیم کی زیر صدارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ میں کور کمیٹی کاایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں علامہ محمد اقبال بہشتی مرکزی سیکریٹری مالیات، برادر اسد عباس نقوی مرکزی سیکریٹری سیاسیات، برادر اقرار حسین ملک چیئر مین عزاداری کونسل پاکستان و مرکزی سیکریٹری ایمپلائز، علامہ وحید کاظمی صوبائی سیکریٹر ی صوبہ خیبر پختونخواہ، برادر نجیب الحسن نقوی صوبائی سیکریٹری فلاح و بہبود پنجاب، علامہ نیاز حسین بخاری معاون مرکزی سیکریٹری مالیات، مولانا غلام محمد عابدی صاحب ڈپٹی سیکریٹری ضلع راولپنڈی، برادر تحسین نقوی ضلعی سیکریٹری جنرل ضلع اٹک، برادر سید ظہیر نقوی ضلعی سیکریٹری جنرل اسلام آباد، برادر علی نقوی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ضلع اسلام آباد، برادر شجاعت علی مسؤل مرکزی میڈیا سیل، برادر ظہیر کربلائی مدیر مجلہ بصیرت، برادر مدثر علی کاظمی معاون مسؤل مرکزی آفس اسلام آباد نے شرکت کی۔

برادر نثار فیضی نے کہا کہ اس سال برسی شہید قائد ؒ کے پروگرام کو ایک نے انداز سے منانے کا تجربہ کریں گے۔ کرونا وبا کے پیش نظر لوکل سطح کی شخصیات، علماء کرام،بانیان مجالس، ماتمی انجمنوں اور ٹرسٹیز کو مدعو کیا جائے گا۔ اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار میڈیا کے دوستوں پر بہت ذیادہ ہے۔ اس سال اس سارے پروگرام کو آن ایئرنشرکیا جائیگا۔ ملک کے اندر اور ملک سے باہر جو پروگرام منعقد ہو رہے ہونگے انہیں آپس میں لنک کیا جائے گا۔انٹرنیشل سطح کا پروگرام منعقد ہو گا۔ مرکزی پروگرام کے علاوہ ملک کے اندر 14 مقامات اور بیرون ممالک(مشہد، قم، عراق نجف اور کویت) حد اقل 4 مقامات پر بیک وقت پروگرامز منعقد ہونگے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا خطاب مرکزی خطاب لائیو نشر کیا جائے گا۔ میڈیا کے دوستوں سے گزارش ہے کہ ابھی سے اپنے پیجز اور آئی ڈیز کو فعال کریں۔ اس سال قائد شہید کی زندگی پر ایک ڈاکو منٹری پر بھی کام شروع ہو چکا ہے اور کوشش ہو گی کے اسے اس موقع پر نشر کیاجائے۔ اس سال بیرون ممالک سے شخصیات ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب فرمائیں گی۔ لوگوں کو ابھی سے پروگرام کو لائیو دیکھنے کے لئے آگاہی دی جائے۔ کرونا کے پیش نظر مکمل احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھا جائے گا، اور شرکاء کو سخطی سے عمل کرایا جائے گا۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) پانچ اپریل 2020 کی تازہ رپورٹ کے مطابق ابتک دنیا بھر میں کرونا وائرس کی کنفرم تشخیص ہونے والوں کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ (1,202,433) ہے اور مرنے والے پونے پینسٹھ ہزار (64,729) افراد۔ سب سے زیادہ متاثرین امریکا میں رپورٹ ہوئے جنکی تعداد 311301 افراد ہیں جبکہ سب سے زیادہ اموات اٹلی میں 15,362 افراد کی ہوئیں جہاں کنفرم وائرس لگنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار افراد سے زیادہ ہے۔ جبکہ اسپین میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب افراد میں وایریس کنفرم ہوچکا ہے جہاں بارہ ہزار کے قریب افراد اس وبا کی نذر ابتک ہوچکے ہیں۔ یورپ کی دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سے جرمنی کے 86 ہزار کے قریب افراد میں وایریس کنفرم ہیں اور گیارہ سو سے زیادہ اموات ہوچکیں، فرانس میں ستر ہزار کے قریب پازیٹیو کیسز اور  ساڑھے سات ہزار اموات، برطانیہ کے اندر 42 ہزار کے قریب پازیٹیو کیسز اور چار ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ بیلجیئم ، سوئٹزرلینڈ ، نیدرلینڈز، پرتگال، آسٹریا، سوئیڈن، ناروے وغیرہ کے نمبر انکے بعد آتے ہیں۔

ایشین ممالک میں سب سے زیادہ وایریس کے مثبت کیسز ابتک چائینہ میں سامنے آئے ، جہان آفیشل فیگر تقریبا 83 ہزار کی ہے ابتک چائنہ میں 33 سو سے کچھ زیادہ اموات رپورٹ ہوچکیں۔ دوسرے نمبر پر ایران آتا ہے، جہاں 56 ہزار کے قریب افراد کے وایریس کے ٹیسٹ مثبت آئے اور ساڑھے 34 سو افراد کی اموات ہوئیں۔ ترکی تقریبا 24 ہزار مثبت کیسز  اور پانچ سو اموات کیساتھ تیسرے ، کوریا سوا دس ہزار مثبت کیسز اور پونے دو سو اموات کیساتھ چوتھے، جبکہ اسرائیل تقریبا 8 ہزار مثبت کیسز اور 43 اموات کیساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ایشیائی ممالک میں ملائشیا، جاپان، فلپائن اور انڈیا کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے جہاں ابتک 28 سو کے قریب افراد کے مثبت ٹیسٹ رپورٹ آچکے اور 40 اموات ہوچکیں۔

براعظم جنوبی امریکہ کے ممالک میں مجموعی طور  پر اکیس ہزار افراد کے وایریس ٹیسٹ مثبت آئے اور سات سو افراد کی اموات ہوچکیں، اس میں سب سے زیادہ برازیل سے  نو سو مثبت کیسز اور ساڑھے تین سو اموات شامل ہیں۔ شمالی امریکی ممالک میں امریکا کے بعد کینیڈا 14 ہزار مثبت کیسز اور اڑھائی سو اموات کیساتھ دوسرے نمبر ہے۔ اوشین ممالک میں سے سب سے زیادہ آسٹریلیا کے اندر چھے ہزار مثبت کیسز رپورٹ ہوئے جہاں 34 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک ہزار مثبت کیسز کیساتھ نیوزی لینڈ دوسرے نمبر ہے۔ براعظم افریقہ کے مماک اس دوران دیگر ممالک کی نسبت محفوظ ہیں۔ مجموعی طور پر افریقی ممالک میں نو ہزار افراد کے وایریس ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ چار سو کے قریب افراد ہی کیلئے یہ وبا جان لیوا ثابت ہوا۔

 مجموعی طور پر پوری دنیا میں 212929 افراد کرونا وایریس کا کنفرم شکار ہوچکنے کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

ان حقائق سے واضح ہے اس وقت تمام ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک اس وائرل وبا کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ تمام ٹیکنالوجی، سائنسی و اقتصادی ترقی، دوسرے غریب ممالک پر جمانے والے رعب و دبدبے کے باوجود جدید دنیا اس وایریس کے علاج میں ابتک ناکام، اور بڑے بڑے تحقیقی ادارے ویکسین کی تیاری میں شب و روز کوشاں ہیں۔ اقتصادی دنیا کے سب سے بڑے نام چائنہ کو تین ماہ لگے، تمام سماجی و اقتصادی اور تعلیمی دیگر سرگرمیوں سے ڈیڑھ ارب کی آبادی کو روک کر وائرل وبا کو پھیلنے سے روکنے میں بظاہر کامیابی مل سکی، جبکہ امریکا اور یورپ سمیت دیگر ممالک بھی چائینیز کے طریقہ کار کو اپنا کر اس وبا کی روک تھام کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ اربوں ڈالر تحقیقی و طبی اداروں، سیکیورٹی اور خوراک وغیرہ پر خرچ کرنے پر دنیا مجبور ہے تاکہ مزید لوگوں کو اسکا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ اسلحہ فیکٹریوں، جنگی الات، فوجی مشقوں اور دیگر ممالک پر سبقت لیجانے کیلئے سالہا سال سے کئے جانیوالے اخراجات اسوقت کسی بھی ملک کے کام آنے سے قاصر ہے۔ بڑے ممالک تک کے طاقتور ترین شخصیات اور بزنس ٹائیکون اپنے تمام تر اختیارات اور مال و متاع کے باوجود اپنی صحت کیلیے فکر مند ہیں، انکے دولت و طاقت کی انبار کی بجائے احتیاطی تدابیر ہی انہیں اس جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنے کا آسرا ثابت ہوچکا ہے۔ ایسے میں غریب ممالک کے عوام احتیاط نہ کرے تو اور کیا کرے! سو خدارا احتیاط کیجئے۔ اپنے ساتھ اپنے عزیزوں کیلئے احتیاط، ملک و قوم کیلئے اور عالم انسانیت کیلئے احتیاط۔۔۔۔


تحریر: شریف ولی کھرمنگی

وحدت نیوز (کوئٹہ) بسلسلہ ولادت با سعادت حضرت امام علی رضا علیہ السلام و بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا عنوان تھا انسانی فضائل و کمالات میں اہل بیت کا کردارکانفرنس سے پاکستان کے جید علماء کرام اور دانشور حضرات نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے آغاز میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ قرآن کریم نے جن اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاق کا ذکر کیا ہے۔ اس کا عملی نمونہ اہل بیت رسول اللہ ص کا کردار ہے۔ آل محمد نے اپنے کریمانہ اخلاق اور کردار کے ذریعے لوگوں کو اعلی انسانی فضائل اور کمالات سے روشناس کرایا۔ آل محمد کے کردار میں علم و حلم سخاوت و شجاعت عفو و درگذر اور ایثار جیسی اعلی قدریں موجود ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی سیکرٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زھراء نقوی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام اعلی کردار اور کریمانہ اخلاق کے مالک تھے۔ حضرت فاطمہ معصومہ ع کے کردار میں سیدہ کائنات خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے کردار کی خوشبو آتی ہے۔  

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے ممتاز عالم دین علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ اہل بیت اور قرآن کریم امت مسلمہ کے درمیان دوگرانقدر نعمتیں ہیں۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطاب میں فرمایا تھا کہ میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت اور یہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پہ آ کے مجھ سے ملیں۔ قرآن کریم نے جن  اعلی انسانی فضائل کا ذکر کیا ہے ان کا عملی نمونہ حضرت محمد مصطفی ص اور حضور کے اہل بیت کے کردار میں نظر آتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلسنت کے جید عالم دین مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام اپنے دور کے بہت بڑے عالم دین اور عظیم مفسر قرآن اور محدث تھے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر نے کہا کہ امام عالی مقام سے نیشابور کے مقام پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے جو حدیث مبارکہ نقل کی ہے اسے سلسلہ الذھب کا نام دیا گیا۔

 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرھنگ کوئٹہ جناب سید حسین تقی زادہ واقفی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام کے ایام ولادت کو عشرہ کرامت کے طور پر منایا جاتا ہے جب کہ سیدہ فاطمہ معصومہ یوم ولادت پر پوری دنیا میں ڈاٹرز ڈے یعنی یوم دختر بیٹی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کانفرنس میں ممتاز عالم دین علامہ غلام حسنین وجدانی، پیر سید حبیب اللہ شاہ چشتی، کونسل جنرل آقائے درویش وند نے خصوصی شرکت کی۔ جبکہ معروف شاعر جناب ظفر عباس ظفر نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکریٹری جنرل علامہ سید وحید عباس کاظمی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ درحقیقت دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، وہاں کی معاشی سرگرمیوں کے مرکز کو نشانہ بنانے کا مقصد دہشتگردوں کی جانب سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ انہوں نے کوئی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ حکومتی وزراء کے مطابق اس کارروائی میں ہندوستانی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے اور درحقیقت اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری فورسز نے دہشتگردوں کے اس حملہ کو ناکام بنایا، جانی نقصان پر ہمیں بہت افسوس ہے، لیکن حکومت کو اس حوالے سے چوکنا رہنا ہوگا۔ ابھی ملک کورونا کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں دہشتگردوں کا دوبارہ سر اٹھانا خطرناک ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض نادیدہ قوتوں کی کوشش ہے کہ ملک میں کسی نہ کسی طرح افراتفری پھیلائی جائے، ملک میں دہشتگرد اور فرقہ پرست ایک مرتبہ پھر منظم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کو ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیئے کہ کونسے ایسے عناصر ہیں، جو ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام مختلف فورمز پر ایک ساتھ ہیں اور ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری حکومت کی ہے، اگر حکومت نے ڈھیل دی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بالشخیل مسئلے کا واحد حل کاغذات مال کی روح کے مطابق زمینوں کی تقسیم ہے، ہمارے لوگ تو عرصہ دراز سے کہہ رہے کہ کاغذات مال کے مطابق اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کسی اور کی زمین ہمارے لوگوں کو دی جائے، نہ ہی ہمارے لوگ ایسا چاہتے ہیں، بلکہ جو جس کا حق ہے، اسے دیا جائے۔ قبائل کے مزاج سے آپ واقف ہیں، وہ اپنا حق کسی کو نہیں چھیننے دیتے۔ طوری قبائل کی زمینیں کاغذات مال کے مطابق ان کے حوالے کی جائیں اور یہی اس کا پرامن حل ہے۔ مقامی سول اور عسکری انتظامیہ اس حوالے سے اپنا رول ادا کرے اور جتنا جلدی ممکن ہو، حقداروں کو ان کا حق دیا جائے۔ اس حوالے سے ہمارے مقامی قائدین بھی گاہے بگاہے حکومت کو متوجہ کرتے رہے ہیں، گذشتہ دنوں پاراچنار میں دھماکہ ہوا اور زمین کا مسئلہ۔ پاراچنار کے لوگوں کو شدید تشویش ہے، وہ پریشان ہیں کہ کیونکہ ان پر دوبارہ زمین تنگ کی جا رہی ہے۔

وحدت نیوز(کراچی)شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے سیکریٹری مالیات، تنظیم عزاداری پاکستان کے جوائنٹ سیکریٹری اور انجمن امامیہ ملیر کے جنرل سیکریٹری حکیم سیدمسلم رضا عابدی انتقال کرگئے۔ مرحوم شیعہ قومیات میں انتہائی فعال شخصیت تھے، ان کی دینی وملی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس المناک واقعے پرمجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے کہا ہے کہ حکیم سید مسلم رضا عابدی کی رحلت پر اہل خانہ اور لواحقین کو تعزیت پیش کرتے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علی حسین نقوی اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کے الیکٹرک" کراچی میں اجارہ داری اور غنڈہ گردی کی علامت بن چکا ہے۔عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے آئے روز ایک نئی مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔کے الیکٹرک نے شہر 550 میگا واٹ کا شاٹ فالٹ بتا کر عوام کو بے وقوف بنایا ہے اور شہر کی عوام سے کھربوں روپے کمائے ہیں قومی احتساب بیورو اس کی تحقیقات کرے ۔دوسری جانب وزارت توانائی، بجلی کے اس بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو ٹہراتی ہے جبکہ کے الیکٹرک اپنے ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے فرنس آئل کی کمی کو بنیاد بتا کرپوری صفائی سے خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ اپنے مدعا کس کے سامنے پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کے الیکٹرک ایک خود سر ادارہ ہے جو حکومت سمیت کسی کا بھی حکم ماننے کو تیار نہیں۔عوام کو ایک ایسے منہ زور مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو جب دل چاہے بجلی بند کر دے اور جتنی رقم چاہے عوام کے بلوں میں ڈال دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کے الیکٹرک کو لگام نہ دی تو پھر عوام گھروں سے باہر نکل کر احتجاجی مظاہروں سمیت تمام قانونی و آئینی آپشنز کواستعمال کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کے الیکٹرک اپنے نظام کو اپ گریڈ کرے تاکہ بجلی کی طلب و رسد میں توازن پیدا کیا جا سکے۔اس ادارے کو چاہیے کہ وہ اپنی ملازمین کی اخلاقی تربیت پر زور دیتے ہوئے انہیں یہ باور کرائیں کہ ان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ۔اپنے کردار و عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش ہر گز نہ کی جائے کہ کے الیکٹرک عوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔

انہوں نے کہا صوبائی حکومت کی غیر ضروری لچک نے کے الیکٹرک کے من مانی کرنے والے افسران کے حوصلے بلند کر رکھے ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی حکومت کی کون سی دکھتی رگ کے الیکٹرک کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے حکومت نے کے الیکٹرک کی زیادتیوں کے باوجود خود پرخاموشی طاری کر رکھی ہے۔وفاقی اور صوبائی اگر عوامی مسائل کو اسی طرح نظر انداز کرتی رہیں تو پھر ملک بھر کے عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکٹرک کی نا انصافیوں کے خلاف سختی سے نوٹس لیتے ہوئے عوامی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔وفاقی حکومت میں موجود کالی بھیڑیں چینی بحران سمیت پیٹرول بحران میں ملوث ہیں حالیہ پیڑول کی قیمتوں میں رات و رات اضافہ کر کے عوام پر پیڑول بم گرایا دوسری جانب کے الیکٹرک کو فرنس آئل کی فراہمی کی مد میں کھربوں روپے منافع پہچایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کے اس مافیا کے پیچھے وفاقی و صوبائی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ان کالی بھڑوں کو آشکار کیا جائے ۔کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف نیب انکائری کا مطالبہ کرتے ہیں ۔گزشتہ سالوں میں کے الیکٹرک کی لاپر واہی سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ کو عدالتی فیصلے کے باوجود انصاف نہ نہیں ملا کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ نا اہل انتظامیہ کے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

آخر میں ہم آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی ملکی معیشت حملہ ہےپاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی میں بھارتی نمک خوار دہشتگرد ملوث ہیں حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف سابقہ کامیاب کاروائیوں کی طرح سخت آپریشن کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔حملے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ کے درد میں شریک غم ہیں۔سیکورٹی اہلکاروں کی موثر کاروائی کے نتیجے میں پاکستان دشمن عناصر کو ناکامی ہوئی دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ہےواقعے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کی جلد از جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔کانفرنس میں کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، میر تقی ظفر، زین رضوی، سبط اصغر، احسن عباس، حسن رضا سمیت دیگر موجود تھے۔

وحدت نیوز(جیکب آباد) ایس ایس پی ہٹاؤ ۔۔۔جیکب آباد بچاؤ تحریک آٹھویں روز میں داخل ہوگئی، مسلسل آٹھویں روز بھی پریس کلب پر مجلس وحدت مسلمین اور آل شیعہ تنظیموں کے رہنماوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ پریس کلب جیکب آباد کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ 21 رمضان شہادت امیر المومنین امام عــــلی علیہ السلام کے پور امن جلوس پر پولیس کی طرف سے کی گئی کروائی کی شدید الفاظ میـــں مذمت کرتے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ یہ کہا کا قانون ہے کہ ایس او پی صرف ذکر اہلبیت ع کے پور امن جلوسوں پر نافذ ھوتی ہے، عزاداری سید الشہدا امام حســـین ع ہمارا بنیادی اور قانونی حق ہے ہم مسلسل سراپا احتجاج ہیں، ایس ایس پی بشیر بروھی کے خلاف ہم مطالبہ کرتے آئی جی سندھ، وزیر اعلی سندھ اور چیف چسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب سے کے فوری طور پر ایس پی بشیر بروھی کو معطل کیا جائے اور عدالتی انکوائری کی جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ پاکستان بھرپور احتجاج کرنے کا حق رکہتی ہے ۔یہ کہا کا قانون ہے کہ آزاد میڈیا کو دہمکایا جار رہا ہے ہم اس بات کی بھی شدید الفاظ میـــں مذمت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل)2011 سے اب تک شام کی سر زمین پر ایک ملین کے قریب انسانوں کے قتل، اور پانچ ملین کے قریب انسانوں کو ملک کے اندر اور باہر ہجرت پر مجبور کرنے کے بعد کوئی بھی عقل مند شخص یہ بات قبول نہیں کر سکتا کہ "قانون قیصر " امریکی کانگریس  نے شامی عوام کی محبت اور انکے دفاع کی خاطر بنایا ہے. سیرین عوام کیسے قبول کر سکتے ہیں، کہ امریکہ انکا ہمدرد ہے، جبکہ اس نے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کو فلسطین کی سرزمین پر مسلط کیا، اور ہمیشہ فلسطین کے علاوہ اردن ، مصر ، لبنان اور شام کی سرزمینوں پر ناجائز اسرائیلی قبضے کی مکمل پشت پناہی کی. اور حال ہی میں ٹرامپ نے اعلان کیا کہ مقبوضہ جولان بھی اسرائیل کی قانونی ملکیت ہے. تاریخ میں ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر امریکہ نے شامی عوام کے حق کی کبھی بھی حمایت نہیں کی. لاکھوں دھشتگردوں کو دنیا بھر سے لا کر تباہی وبربادی پھیلانے اور بے گناہ عوام کے قتل عام کے لئے جدید ترین اسلحہ فراہم کرنے اور ان درندوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کے بعد امریکہ آخر میں پوری دنیا کے سامنے یہ جھوٹ بولے کہ اسے شامی عوام کی فکر وہمدردی ہے یہ ہر گز قابل قبول نہیں.  

بلکہ حقیقت یہ کہ اس قانون کا مقصد جنگ زدہ شامی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کرنے کے اقوام متحدہ کے فیصلے کے سامنے رکاوٹیں حائل کرنا ہے. تاکہ شامی عوام کا مزید اقتصادی استحصال ہو. اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم اور کسم پرسی و شدید غربت وفقر وافلاس میں مبتلا بیگناہ عوام کو زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کیا جا سکے. وہ امریکہ کہ جس نے چند سالوں سے ملک شام کی  سرزمین کے ایک حصے پر ناجائز غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں. اور اس ملک کے معدنیات اور تیل کے ذخائر کو لوٹ رہا ہے امریکی صدر ٹرامپ پوری وقاحت سے دنیا کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ شام کے تیل کے ذخائر میرے اختیار میں ہیں. اتنے بڑے جنایتکار اور کھلے دشمن کو شامی عوام سے ہرگز ہمدردی ہو نہیں سکتی.  اور نہ ان تکفیری پراکسیز اور امریکی اتحادی ممالک کو ہمدردی ہو سکتی ہے، جو اس ملک کی تباہی اور عوام کے قتل عام میں شریک ہیں.  اور انکے میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا چلتا رہتا ہے.

داعش کی شکست اور امریکی وترکی واسرائیلی خوابوں پر پانی پھر جانے اور مقاومت کے بلاک کی مسلسل کامیابیوں کے بعد بہت سے ممالک نے شام کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات بڑھانا شروع کئے. کئی سالوں سے مختلف ممالک کے بند سفارتخانے اور قنصل خانے فعال ہوئے. شام کے بارے میں امریکی سیاست کو تنہائی کا احساس ہوا. اقوام متحدہ کی تائید اور روس ، ایران ، ترکی وشام حکومت واپوزیشن کے مابین آستانہ اور سوچی شہروں میں شامی بحران  کے سیاسی حل کے لئے مذاکرات کا سلسہ شروع ہوا، اور شام میں جنگ کے خاتمے کے مرحلے کا آغاز ہوا تو امریکی تنہائی اور بڑھ گئی. امریکہ نے دیکھا کہ اربوں اور کھربوں ڈالرز خرچ کرنے بعد نہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی شام کی تعمیر نو اور مستقبل کی سیاست میں اسکا کو کردار ہو گا. اس لئے شام کے مستقبل کے مذاکرات میں شرکت کرنے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے اور اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے قانون قیصر کا سہارا لیا. اور شام پر مزید اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی. اس اندھے قانون کی شقوں کے مطابق "قانون قیصر " کی زد میں فقط شام حکومت ہی نہیں آتی، بلکہ اسکی زد میں ہر وہ ملک بھی آتا ہے جو شام کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات بڑھائے گا. اور جو کسی قسم کی امپورٹ وایکسپورٹ کرے گا، یا شام کو ضروریات زندگی فراہم کرنے اور تعمیر نو میں اسکی مدد کرے گا. بلکہ اس کی زد میں وہ کمپنیاں ، بنک اور دیگر ادارے وافراد بھی آتے ہیں جو کسی قسم کے علمی تجربات ومعلومات ، مینجنگ اینڈ پلاننگ خدمات وغیرہ فراہم کریں گے.

لیکن جیسے ملک شام اس طولانی جنگ میں تنہا نہیں تھا.  اب بھی تنہا نہیں رہے گا. شام کے اتحادی اور دوست ممالک کل بھی شام کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی شام کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے. اور امریکہ کا یہ حربہ بھی سابقہ حربوں کی مانند بری طرح ناکام ہوگا. اور امید تو یہی ہے کہ روس ، چین ، ایران اور دیگر دوست واتحادی ممالک اس اقتصادی جنگ میں بھی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو شکست دیں گے. جیسے وینزویلا پر امریکی پابندیوں کو چیرتے ہوئے ایرانی تیل سے بھرے بحری جہاز کاراکاس پہنچے تھے اور اقتصادی حصار کو توڑا تھا ایسا ہی کل 13/06/2020 کو ملک شام کے وفادار و اتحادی اور بردار ملک ایران کا امدادی  سامان سے بھرا بحری بیڑہ (شہر کرد ) تمام تر امریکی پابندیوں کو روندتے ہوئے شام کے لاذقیہ شہر کے ساحل پر لنگر انداز ہوا ہے، اور اس سفر کے دوران ایرانی جنگی آبدوزیں پورا راستہ اسکی حفاظت کے لئے تیار اس کے ہمراہ رہیں.

تحریر: علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں،پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی ملکی معیشت پر حملہ ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف سابقہ کامیاب کاروائیوں کی طرح سخت آپریشن کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔حملے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ کے درد میں شریک غم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی موثر کاروائی کے نتیجے میں پاکستان دشمن عناصر کو ناکامی ہوئی۔ دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ہے۔واقعے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کی جلد از جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔

 

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع بازارِ حصص، پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کو شدت پسندوں نے حملے کی کوشش میں چار حملہ آوروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے اور انھوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔

نامہ نگار کے مطابق کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور سٹاک ایکسچینج کے دو محافظ ہلاک ہوئے۔

ترجمان کے مطابق پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار، دو سکیورٹی گارڈ اور سٹاک ایکسچینج کے ملازم سمیت دو شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کی جانب سے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی گئی تھی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی کے مطابق ان کے پاس اب تک سات لاشیں آئی ہیں جن میں چار حملہ آور، دو سکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار کی لاش شامل ہیں۔

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس موجود جدید اسلحہ، دستی بم اور دیگر اشیا کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اس واقعے کے بعد عمارت کے باہر موجود رہی اور کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت اور اطراف کی بھی تلاشی لی گئی ہے۔

سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور ایک سِلور رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے اور انھیں پولیس کی جانب سے باہر گیٹ پر روکا گیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو حملہ آور گیٹ کے باہر مارے گئے جبکہ دو اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم انھیں بھی مار دیا گیا ہے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حملہ آور مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے اور ان سے دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔

سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی فرخ خان نے بھی جیو ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کا دفتر کراچی کے 'وال سٹریٹ' آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے اور اس کے ساتھ سٹیٹ بینک پاکستان، پولیس ہیڈ کوارٹر اور کئی دیگر بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں۔

سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس عمارت میں روزانہ کئی سو افراد کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں آتے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے جس مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اسے مجید بلوچ نامی شدت پسند کے نام پر تشکیل دیا گیا جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔

یہ وہی بریگیڈ ہے جس نے گذشتہ برس گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے گذشتہ ماہ کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں پر تین حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی۔

اس کالعدم شدت پسند تنظیم کی جانب سے ماضی میں جن حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

    مئی 2020: فوجی اہلکاروں پر خودکش حملہ، چھ اہلکار ہلاک، ایک زخمی (کیچ، بلوچستان)
    مئی 2020: فرنٹیئر کور کی گاڑی پر حملہ، چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی (مچھ، ضلع کیچ، بلوچستان)
    مئی 2020: سیکیورٹی فورسز پر حملے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک (مند، ضلع کیچ، بلوچستان)
    مئی 2019: پرل کانٹیننٹل ہوٹل پر حملہ، تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک (گوادر، بلوچستان)
    نومبر 2018: چینی قونصل خانے پر حملہ، سات افراد ہلاک (کراچی، سندھ)
    اگست 2018: سیندک منصوبے کے کارکنان کی بس پر حملہ، تین چینی انجینیئرز سمیت پانچ زخمی (دالبندین، بلوچستان)

Page 3 of 1049

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree