The Latest

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء و سابق صوبائی وزیر قانون سید محمد رضا نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی۔ رات کی تاریکی میں 2500 ووٹوں کو 7685 میں تبدیل کیا گیا۔ پولنگ اسٹیشنوں سے ہماری جماعت کے پولنگ ایجنٹوں کو نکالا گیا اور مخالف پارٹی کے پولنگ ایجنٹس رات گئے تک پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود رہے، جو کہ انتخابی عملہ کی غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے‌ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء سید محمد رضا کا کہنا تھا کہ 25 جولائی 2018ء کو ہونے والے انتخابات میں کوئٹہ کے حلقہ پی بی 27 اور حلقہ پی بی 26 میں دھاندلی کی شکایتیں موصول ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ انتخابات کے نتائج میں تاخیر اس امر کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت رد شدہ عناصر کو کامیاب کرایا گیا۔ عوامی اکثریتی رائے کو جان بوجھ کر کم دکھایا گیا ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کونسلر بوستان کشمند کا پولنگ اسٹیشنوں کے اندر رات تین بجے تک موجود رہنے کا کیا جواز بنتا ہے۔؟

انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈالے گئے ووٹ کو جان بوجھ کر غائب کر دیا گیا، جس پر ہم قانونی راستہ اپناتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرینگے۔ ہمارے ساتھ 2013ء میں بھی دھاندلی ہوئی، اس کے باوجود ہم نے 8200 ووٹ لئے، جبکہ ہمارے ہزاروں ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکے رکھا، پھر بھی ایچ ڈی پی نے 2013ء کے الیکشن میں تقریباً ساڑھے تین ہزار جعلی ووٹ کاسٹ کئے۔ اس مرتبہ 2018ء کے الیکشن میں تو حد ہوگئی اور بعض پولنگ اسٹیشنوں‌ کے عملے اور پولیس کا بھرپور تعاون ایچ ڈی پی کو حاصل رہا۔ 6 بجے تک ٹھپے لگتے رہے اور ایچ ڈی پی کے 2500 ووٹس 7685 ووٹس میں تبدیل ہوگئے، کیونکہ ہمارے ہزاروں ووٹس غائب ہیں، اس لئے ہم بائیو میٹرک سسٹم اور فنگر پرنٹس کی تصدیق کی اپیل کرتے ہیں، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

جیل میں گرم ہوا نہ لگ جائے

وحدت نیوز (آرٹیکل) انسان اداس ہے دوستو! انسانوں کو مختلف زاویوں سے تقسیم کیا جا سکتا ہے بلکہ کیا جاتا ہے۔رنگ ، مذہب، نسل، فرقے، زبان اور علاقے کے علاوہ سہولیات کے اعتبار سے بھی انسان تقسیم ہیں۔ یہ خبر آپ تک پہنچ چکی ہوگی کہ  ایون فیلڈ ریفرنس میں جیل جانے والےمیاں نواز شریف کو خرابی طبیعت کے باعث اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا  گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے ڈاکٹرمشہود،ڈاکٹرذوالفقارغوری ،ڈاکٹرملک نعیم اورڈاکٹراعجازاختراور ایک سٹاف نرس پرمشتمل ٹیم نے ہفتہ کو سینٹرل جیل اڈیالہ میں میاں نوازشریف کاطبی معائنہ کیا تھا اورتقریباً سواگھنٹے تک جاری رہنے والے چیک اپ کے دوران ڈاکٹروں نے سابق وزیراعظم کی ای سی جی کی ان کی شوگرچیک کی اوربعض ٹیسٹ کیے۔

کسی بھی قومی سطح کے مجرم کے ساتھ اس سے زیادہ محبت و شفقت کا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں جیلوں میں موجود قید انسانوں کی تعداد اصل گنجائش سے 57 فیصد زائد ہے،اس زائد تعداد کی وجہ سے قیدی مختلف بیماریوں کے شکار ہیں اور انہیں بدن کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مناسب مقدار میں پانی تک نہیں ملتا۔  ڈاکٹر اور دوائی کی سہولت تو چھوڑیں انہیں سونے کے لئے جگہ تک میسر نہیں ، اس کے علاوہ قیدیوں پر تشدد،کم عمر قیدیوں کو پیشہ ور مجرموں نیز بچوں کو منشیات کے عادی لوگوں کے ساتھ  رکھنا، اسی طرح  خواتین کے ساتھ ناروا سلوک، لوڈشیڈنگ اور خوراک کی ناگفتہ بہ صورتحال اپنی جگہ  ایک مستقل مسئلہ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 98 جیلیں ہیں۔ جیلوں میں 56 ہزار سے زائد قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ 78 ہزار 1 سو 60 قیدی جیلوں میں موجود ہیں۔

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے کوئی انسانی یا جمہوری حقو ق نہیں ہیں، ان پر لکھنے یا بولنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں، کوئی انسانی حقوق کی تنظیم نہیں جو انہیں پینے کے پانی کی سہولت کے لئےہی آواز اٹھا دے ، جو  رکے ہوئے مقدمات اور منجمد فائلوں کو کھلوا دے جو سالوں سے محبوس انسانوں کے مقدمات کی پیروی کرے ۔ ان جیلوں میں بہت سارے جھوٹے مقدمات میں پھنے ہوئے ہیں اور بہت سے اتفاقی حادثات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔

یہ اس صدی کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے اس جمہوری دور میں بھی باہر کی آزاد فضا کی شکایتیں اپنی جگہ لیکن جیلوں میں بھی انسانوں کے ساتھ عادلانہ اور منصفانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔جیلوں کی سہولیات پر بھی ایک خاص مافیا قابض ہے ،جوان سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے کارندوں کو جیلوں میں بھی گرم ہوا  تک نہیں لگنے دیتا۔

سنا ہے کہ نیا پاکستان جنم لے چکا ہے، تبدیلی آنہیں رہی بلکہ آچکی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جیلوں کے اندر اور باہر بسنے والے انسانوں کے معیارِ زندگی پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔ کسی جہاندیدہ دوست کا تجزیہ ہے کہ عمران خان جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر اس کے پچاس فیصد پر بھی عمل ہو جائے تو اس سے بہت بڑی تبدیلی آجائے گی اور ہماری خواہش ہے کہ اس پچاس فی صد میں جیلوں کی اصلاحات بھی اگر شامل ہوجائیں تو یہ آج کے دور کے انسان کا بنی نوعِ انسان پر بہت بڑا احسان ہوگا۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(گلگت) پرامن الیکشن کا انعقاد پاکستانی عوام کی فتح ہے ،عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے۔سٹیٹسکو جماعتوں کی تاریخی شکست سے ملک میں بڑی تبدیلی آئی ہے،امید ہے آنیوالی حکومت محروم طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرے گی۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری سیاسیات غلام عباس نے پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو کرپٹ مافیا کے خلاف ان کی پانچ سالہ جدوجہد کا صلہ ملا ہے، نئی حکومت عوام کے امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عدل وانصاف کے قیام کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں عوام نے باریاں لینے والی جماعتوں کو دھتکار دیا ہے جو جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کرتے رہے ہیں اور ملکی وسائل کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لایا جائے اور قوم کا سرمایہ ہڑپ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں کس دیا جائے بصورت دیگر صرف چہرے بدلنے سے ملک ترقی نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے آنیوالی حکومت کیلئے ایک بڑا پیغام بھی دیا ہے اور اگر تحریک انصاف کی قیادت کرپشن کے خلاف اپنے بیانیے پر قائم نہیں رہتی تو آئندہ ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو دوسروں کا ہوا ہے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت  بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے سکردو قمراہ میں اسدکی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام حسین ؑ اور شہدائے کربلا سے عقیدت و محبت ہی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور یہی سرمایہ انسان کو باعزت زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کی یاد انسان کو ظلم کے مقابلے میں قیام کا درس دیتا ہے اور اسلامی اقدار پر سب کچھ قربان کرنے کا سبق ملتا ہے۔ آج دنیا بھر میں اگر مظلوموں کو اپنے وقت کے یزید و شمر کے خلاف بولنے کی ہمت پیدا ہوگئی ہے اور تحریک چلا رہے ہیں تو یہ سب معرکہ کربلا کی مرہون منت ہے جو مردہ قوموں کو زندگی بخشتا ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ امام حسین ؑ کا حقیقی پیروکار کبھی بھی ظلم کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا، وہ سر تن سے جدا کر سکتا ہے لیکن ظالم کے آگے سر خم نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں واقعہ کربلا سے درس حریت لیتے ہوئے ظلم کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے تاکہ عدل و انصاف کا بول بالا ہو اور ظالم کی سرکشی ختم ہو جائے۔ ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھیں گے اتنی زیادہ قربانی دینی پڑے گی۔ کربلا سے درس لینے والے نہ کسی سے خوف کھاتے ہیں اور نہ کسی قسم کی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ سچ اور حق کی بالا دستی کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ جس قوم کے پاس کربلا کا درس ہو انہیں نہ کوئی شکست دے سکتا ہے اور کوئی اس پر ظلم ڈھا سکتا ہے۔ عزاداری مردہ یزید پر لعن کرنے کا نام نہیں بلکہ وقت کے یزیدوں کو للکارنا اور ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے۔

وحدت نیوز (گلگت) سیکرٹری منرلز کا رویہ مقامی لوگوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز ہے مقامی کمیونٹی سے لیزز چھین کر ایک غیر مقامی کمپنی کو دینے کی سازش افسوسناک ہے۔مہمند دادا نامی کمپنی کے مالک کے پاس کئی اہم لیزز ہیں جن پر کوئی کام نہیں ہورہا اور کمپنی مالک اپنے اثر رسوخ اور سیکرٹری منرلز کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے مقامی کمیونٹی کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہے،چیف سیکرٹری نوٹس لیکر سیکرٹری منرلز کی پوسٹنگ کرائے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے منرلز سیکٹر سے وابستہ کاروبای حضرات کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پرائیویٹ سیکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ بے روزگار  کے طوفان  تلے زندگی گزاررہے ہیںاور اگر مقامی وسائل بھی ان کو فراہم نہ ہوں تو علاقے کے غریب عوام کے چولہے بجھ جائینگے۔انہوں نے کہا کہ ناصر آباد میں واقع ماربل پر وہاں کے مقامی لوگوں کا حق ہے اور اثررسوخ کی بنیاد پر مقامی لوگوں سے یہ حق چھیننے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ مقامی لوگوں کی اپنی کمپنی الناصر ملٹی پرپز سوسائیٹی کے نام سے جو لیز ہوا اس کو بائی پاس کرکے ک بااثر غیر مقامی کمپنی کو دینا مقامی لوگوں کا معاشی قتل کے مترادف ہے۔سیکرٹری منرلز کا پارٹی بننا افسوسناک عمل ہے اور ان کی یہ روش کسی بھی صورت علاقے کے مفاد میں نہیںاور اس طرز کی روش نفرتوں کا باعث بنیں گے۔

انہوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی آبادی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس لے۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ مجلس وحدت مسلمین ہرسطح پر علاقے کے عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم پر ہرگز خاموش نہیں رہے گی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما ڈاکٹرشیریں مزاری کی وحدت ہاوس مرکزی سیکرٹریٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور مرکزی رہنما سیداسد عباس نقوی سے ملاقات چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے خصوصی پیغام پہنچایا اور شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ الیکشن 2018میں تعاون پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اس حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انشااللہ مستقبل میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ساتھ مل کر ملک سے انتہا پسندی ،کرپشن اقربا ء پروری اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گئے اور باہمی تعلقات کو مذید مضبوط بنائیں گئے ۔

اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ڈاکڑشیریں مزاری کو سنٹرل سکریٹریٹ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی دراصل مظلوم اور محروم طبقے کی کامیابی ہے پوری قوم کی نظریں عمران خان پر مرکوز ہیں کہ وہ مستقبل میں پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی اور معاشی اصلاحات میں کیا تبدیلی لاتے ہیں پاکستان پانچ ارب انسانوں کو ملانے والا دنیا کا اہم ترین ایٹمی ملک ہے ہماری مظبوط خارجہ پالیسی ہی وطن عزیز کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے ،خود مختاراور بیرونی مداخلت سے پاک پاکستان ہی اصل میں قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے لہذاہمیں دنیا کے تمام ممالک سے برابر اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات بنانے ہونگے ۔دشمن داخلی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں ۔ہمیں شدت پسندوں اور مذہب کے نام پر پاکستان کو یرغمال بنانے والوں کیخلاف متحد ہو کر جدوجہد کرناہوگا ۔اسلام امن سلامتی اور بھائی چارے کا دین ہے ہماری اقلیتی برادری ہندو،عیسائی ،سکھ اور دیگر کو کبھی یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اقلیت میں ہیں یہ ہمارے پاکستانی بھائی ہیں اور ان کے حقوق کی مکمل پاسداری ہی اصل مسلم طرز حکمرانی ہے لہذا پاکستان دشمنوں کے خلاف متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا ۔اس موقع پر ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید احمد اقبال ،علامہ اعجاز بہشتی ،سید محسن شہریار ،نثار علی فیضی اور مظاہر شگری بھی موجود تھے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی جدوجہد پر یقین رکھنے والی ، محب وطن شخصیت آغا علی رضوی، شیخ کریمی اور شبیر انجینئر سمیت ایکشن کمیٹی کے دیگر ممبران کو شیڈول فور میں شامل کر کے دہشتگرد مخالف قوتوں اور محب وطن پاکستانیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ آغا علی رضوی گلگت بلتستا ن کے عوام کی توانا آواز ہے جو حقوق سے محروم استحصال کے شکار گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور خطہ دشمن پالیسیوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔

 انہوں نے روز اول سے ہی اتحاد و وحدت کی آواز بلند کی اور دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز کی ہمیشہ اخلاقی پشت پناہی کی ہے۔ وہ بلاتفریق مسلک و مذہب مظلوموں کے حقوق کی جنگ لڑنے والی شخصیت ہے انہیں مجوزہ طور پر شیڈول فور میں شامل کرنے والے اداروں نے ظلم کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظت پر انکی خدمات کو سراہاجاتا لیکن افسوس کی بات ہے انہیں وطن دشمنوں کی صفوں کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شیڈول فور کا استعمال سراسر سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں پر شروع دن سے ہی شیڈول فور نافذ کر کے سیاسی جدوجہد کا حق چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم مقتدر حلقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حساس ترین علاقہ اور اثاثہ ہے یہاں کے عوام کو حقوق دینے اور قومی دھاریں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ اس خطے کے عوام کو مایوسی کی طرف نہ دھکیلیں۔ یہ عوام پاکستان کے محب وطن اور مدافع ہیں۔ یہاں پر عوامی حقوق کے لیے عوامی جدوجہد کرنے والی شخصیات کا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش نہ کرے۔جی بی کی صوبائی حکومت آغا علی رضوی، خطے کی سالمیت اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے سکیورٹی تھریٹ بن چکی ہے۔ سکیورٹی ادارے خطے کی سیاسی اور عوامی شخصیات کی سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔

وحدت نیوز(کچورا) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما و علماء کونسل کچورا کے سئنیر رہنما علامہ اعجاز حسین بہشتی کا کچورا یوتھ آرگنائزیشن و علماء کونسل کچورا کے زیر اہتمام سہ روزہ مجلس عزا بمناسبت اسد عاشورا کی پہلی مجلس سے جامع مسجد کچورا میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سلام ہو ان جوانوں اور بزرگوں پر جنہوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر عزاداری اور اسد عاشورا کو زندہ رکھنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں اور مجلس عزاء کا اہتمام کیا ہے، جان لیں عزاداری کو برپا کرنے اور فرش عزا پر بیٹھنے کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی سوائے اس خوش نصیب کے جن کو حضرت فاطمہ زھرا سلام علیہا دعوت دیتی ہے، آج آپ خود ملاحظہ کریں کی ساری دنیا سے لوگ گلگت بلتستان میں سیر و تفریح کی غرض سے آئے ہوئے ہیں لیکن ہم نے دنیا سے منہ موڑ کر فرش عزاء بچھایا ہوا ہے تاکہ ہم دین شناسی، امام شناسی اور عقائد کے شکوک و شبہات کو دور کر سکیں اور علوم اسلام و اہلبیت سے سیراب ہو سکیں اور دنیا کو بتا سکیں کی علوم اہلیبیت و عشق اہلیبیت کیا ہے. عزاداری سید شہداء کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے، عزاداری ہماری حیات ہے اس کے بنا ہماری مثال اس مچھلی جیسی ہے جسے پانی سے نکال دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں اپنے آباواجداد پر فخر ہے جنہوں نے ھر مشکل سے گزر کر اس عزاداری کو ہم تک پہنچایا ہے خصوصاً ایام اسد عاشورا کو جس کی مثال دنیا میں اور کہی نہیں ملتی اس وقت ہم سب پر فرض ہے خصوصاً جوانوں پر کہ وہ ایام اسد عاشورا اور محرم کو زندہ رکھیں اور ہر سال مجلس عزا کے دائرے کو بڑھائیں تاکہ ہم درس کربلا سے اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کی تربیت کر سکیں.علامہ اعجاز حسین بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ دین کی تبلیغ کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے، اس کار خیر میں آج کچورا کے جوانوں کو آگے دیکھ کر ہمیں خوشی ہوتی ہے کیونکہ یہی جوان ہمارے مستقبل کی امید ہے اور جس معاشرے میں جوان بیدار اور متحرک ہوں وہ معاشرہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے، جوان اگر مستقل مزاجی سے کام کریں تو معاشرے سے تمام برائیاں بھی ختم ہوسکتی ہیں اور اتفاق و اتحاد کی فضاء کو بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) خوجہ شیعہ مسجد کھارادرکراچی میںنماز جمعہ کے خطبے میںمجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے الیکشن میں موروثی سیاست کے خاتمے ,دہشتگردوں کا راستہ روکنے اور دیگر اہداف کے حصول کو اصل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ ملا .عوام کے سیاسی شعورمیں اضافہ ہوا ہے . انہوں نے کہا کہ اگر عوام ، سیاستدان  اور علماءاپنے مسائل حل کرنے کے لئے خود کوشش نہ کریں تو پھر بیرونی مداخلت ہوتی ہے اور امریکہ اپنے انداز میں مسئلے حل کرتا ہے۔امریکہ نے عوام کے اعتماد کو ختم کردیا ہے اور ایک مائنڈ سیٹ بنادیا گیا ہے کہ ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں. اور ہم چاہیں بھی تو کچھ نہیں کر سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سب موجود ہیں . مگر شیعہ نمائندگی نہیں ہےبلکہ شیعہ عوام ایک طویل عرصہ تک سیاست کو برا سمجھتے رہے .انہوں نے بتایا کہ طریقہ کار کے برخلاف کوئی بھی کام کیا جائے کامیاب نہیں ہوتا. اگر ہم سیاست میں شرکت نہ کرنے کی بات پر ڈٹے رہے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا . انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جامع پالیسی پیش کی ہے . خارجہ پالیسی برابری کی سطح پر انجام دینے کی بات کی ہے .انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر 50 فیصد بھی ان پالیسیوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ملک میں کافی بہتری آجائے گی.

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری سیدہ زہراء نقوی نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کی خواتین نے ملک بھر میں اپنے تنظیمی برادران کے شانہ بشانہ انتخابی مہم میں حصہ لیکر اپنا فرض منصبی نبھایا ہے جو کہ لائق تحسین ہے ۔ ان خواہران کی فعالیت سے ملک بھر میں ایک مثبت پیغام پہنچا ہے کہ خواتین نہ صرف انتخابی عمل حصہ بن سکتی ہیں بلکہ اس کی کمپین میں بھی اپنا مثبت رول ادا کرسکتی ہیں ۔ اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی خواہران نے الیکش ۲۰۰۱۸ میں اپنے عملی اقدام یہ ثابت کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان تمام خواتین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے جنہوں انتخابات کے حوالے سے اپنی ، منصبی، اخلاقی ، قانونی اور شرعی ذمہ داری کواحسن طریقے سے نبھایا ہے ۔ ہمارے اس معاشرے میںکچھ ایسےلوگ بھی ہیںجو خواتین کو معاشرے میں ذمہ داری نبھانے سے منع کرتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خواتین کے حق رائے دہی کے خلاف ہیں۔اس ماحول میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ خواتین کی خواہران کا انتخابات کی مہم میں حصہ لینا کسی جہاد سے کم نہیں تھا ۔ الحمدللہ ہمیں ایک مدبر اور بہترین ویژن کے مالک قیادت کی سرپرستی حاصل ہے جس کے افکار کو قومی سطح پرپذیرائی حاصل ہے اور ساری سیاسی اور مذہبی پارٹیاں اس کا اعتراف بھی کرچکی ہیں ۔ ہماری جماعت کے منشور کو سیاسی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی ہے ۔

Page 6 of 872

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree