The Latest

وحدت نیوز(کوئٹہ)مجلس وحدت مسلمین پاکستان مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کوئٹہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید ساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے آپ نے واقعہ کربلا کے بعد یزیدی سلطنت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا اور کوفہ اور شام کے بازار میں اور دربار میں ظالم اور جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا آپ نے یزید کے دربار میں اس ظالم حکمران کو رسوا کیا اور کربلا اور امام حسین عالی مقام علیہ السلام کا پیغام پوری دنیا تک پہنچایا

علامہ ڈومکی نے کہاکہ امام علی ابن الحسین زین العابدین ع نے دعا اور مناجات کے ذریعے اللہ رب العزت سے عشق اور محبت کا درس دیا اور بلند و بالا اسلامی معارف کو دعا کی صورت میں پیش کیا بنو امیہ کے دور آمریت میں سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام نے اسلام کی تبلیغ اور ترویج کے لئے لیے کیے گٸے اقدامات ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ صحیفہ سجادیہ معارف الہی اور مناجات کا بے مثل خزانہ ہے اسی لہذا اس کو زبور ال محمد کہا جاتا ہے ہمیں چاہیے کہ سید سجاد کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی میں امام سجاد علیہ السلام کے نقش سیرت کو عملی کریں اس موقع پر کانفرنس سے شیعہ سنی علماء کرام اور شخصیات نے خطاب کیا۔

وحدت نیوز(ماتلی)ملک دشمن کالعدم دہشت گرد تنظیم کے دباؤاور بلیک میلنگ کے بعد بدین پولیس نے وطن دوست رہنما ، اتحاد بین المسلمین کے داعی او ر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل یعقوب حسینی کے خلاف توہین صحابہ کے الزام کا جھوٹا مقدمہ درج کردیا ہے ۔

ایم ڈبلیوایم کے رہنما محمد یعقوب حسینی کے خلاف کالعدم دہشت گرد جماعت کے مقامی کارندے مولوی محمد ہاشم ولد عبد المجید خان کی مدعت میں دفعہ 295-Aاور298-Aکے تحت تھانہ ماتلی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کالعدم جماعت اور مقامی پولیس ڈی ایس پی خالد رستمانی کی بھر پور رکاوٹوں کے باوجود نیو دمبالو میں مرکزی جلوس عاشورا کی قیادت کرنے پر کالعدم جماعت اورپولیس یعقوب حسینی کے خلاف سرگرم عمل تھیں،پہلے جلوس عاشورا کو بنیاد بنا کر بے بنیاد ایف آئی آر کاٹی گئی اب توہین صحابہ کا جھوٹا الزام لگا کر ایک اور بےبنیاد مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔

یعقوب حسینی پر کالعدم جماعت اور مقامی پولیس کے گٹھ جوڑ کے سبب قائم جھوٹے مقدمات پر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی اور صوبائی پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ ، آئی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ کے مطالبہ کیا کہ ماتلی کے امن وتباہ ہونے سے بچایا جائےاور ایم ڈبلیوایم کے رہنما یعقوب حسینی کے خلاف قائم جھوٹے مقدمات فوری ختم کرکے کالعدم جماعتوں کے خلاف فوری ٹھوس کاروائی عمل میں لائی جائے۔

وحدت نیوز(سرگودھا) شیعہ وحدت کونسل کے زیر انتظام سرگودھا کی قدیمی درسگاہ دارالعلوم محمدیہ میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ منافرت، شیعہ مومنین کے خلاف مقدمات کے بے جا اندراج اور موجودہ ملکی و عالمی صورتحال کے پیش نظر ضلع سرگودھا وخوشاب کے علمائے امامیہ، آئمہ جمعہ والجماعت، ذاکرین،  بانیانِ مجالس و بانیانِ جلوس ہائے عزا،  انجمن ہائے عزاداری ، شیعہ قومی و ملی تنظیموں اور جماعتوں کا نمائندہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے درج ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا۔

1.    یہ اجلاس فرانسوی جریدے چارلی ہیبڈو کی طرف سے رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا اور مذکورہ جریدے کے اس نفرت پر مبنی اقدام کو بین الاقوامی قوانین و ضوابط اور آزادی اظہار رائے کے مسلمہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔

2.    یہ اجلاس فرانسوی جریدے کے پیغمبر اسلام کے بارے توہین آمیز رویے پر مغربی حکمرانوں کی طرف سے خاموشی کی نیز شدید الفاظ میں مذمت کرتا اور اسے ان کی اسلام کی نسبت دوغلی اور منافقانہ روش پر حمل کرتا ہے۔

3.    یہ اجلاس پاکستان میں پیدا کی جانے والی فرقہ وارانہ فضا کی بھرپور مذمت کرتا اور اسے اسلام و پاکستان دشمنوں کی پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری اور استحکام کے خلاف سازش قرار دیتا ہے۔ اور ذمہ دار طبقات سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شدت پسند عناصر پر گرفت کریں اور ملک پاکستان میں امن بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے ماحول کی حفاظت کے لیے اپنا بنیادی کردار ادا کریں۔

4.    یہ اجلاس پاکستان میں بسنے والے ہر دین و مذہب خصوصا مذہب شیعہ کے تمام فکری و مادی حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کرتا اور یہ قرار دیتا ہے کہ مذہب شیعہ اپنے بنیادی عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور مسلمہ شیعہ عقائد کا ہر فورم پر بھرپور دفاع کیا جائے اور اپنے عقائد کی تبلیغ و ترویج کا آئینی و قانونی حق نیز استعمال کیا جائے گا اور اس راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ کو شرپسندی تصور کیا جائے گا۔

5.    یہ اجلاس یہ اعلان کرتا ہے کہ شیعہ مراجع تقلید کے فتاوی کی روشنی میں مذہب شیعہ دیگر تمام ادیان مذاہب اور مسالک کے مسلمہ مقدسات کی توہین کر گناہ سمجھتا اور ایسے اقدامات روکنے میں اپنا ہرممکن کردار ادا کرے گا۔

6.    یہ اجلاس دیگر مسالک کی جانب سے کسی خاص مسلک پر اپنے عقائد مسلط کرنے کی ہر کوشش کی شدید مذمت کرتا اور اسے فکری دہشت گردی سے تشبیہ دیتا ہے۔

7.    یہ اجلاس ملک بھر میں مومنین کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی مذمت کرتا اور انہیں فی الفور ختم کرنے اور گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتا ہےکیونکہ یہ اجلاس مذہبی عبادات کی انجام دہی کے دوران مقدمات کو فرقہ وارانہ آگ کو مزید بڑھوایا دینے کے مترادف سمجھتا ہے اور یہ قرار دیتا ہے کہ چونکہ آئین پاکستان اور قوانین پاکستان ہر دین و مذہب و مسلک کے پیروکاروں کو عقیدے اور عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے لہذا اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی عبادات کی انجام دہی پر مقدمات کی اندراج عقیدے و عمل کی آئینی آزادی پر غیر قانونی قدغن ہے۔

8.    یہ اجلاس ان چند ایام میں مذہب شیعہ کے خلاف ہونے والی نفرت آمیز تقاریراور مذہب شیعہ کی سرعام تکفیرکی شدید مذمت کرتا اور حکومت سے ان شرپسندوں پر گرفت کا مطالبہ کرتا ہے۔

9.    یہ اجلاس حالیہ ایام میں عصمت و طہارت کے مصداق  اہل بیتِ رسول (اللہ کا درود و سلام ہو ان پر) اور عدل و انصاف کے پیکر  اصحابِ رسول (اللہ راضی ہو ان سے) کی توہین اور دشمنانِ اہل بیت کی تعریف و تمجید کی شدید مذمت کرتا اور ایک اسلامی ملک میں پیغمبر گرامی اسلام کے خاندانِ عصمت و طہارت اور نبی مکرم اسلام  کے یارانِ عادل و باوفا  کے خلاف ہرزہ سرائی اور دشمنانِ خاندان رسول کی قصیدہ گوئی پر حکومت کے فوری نوٹس کا مطالبہ کرتا ہے۔

10.    یہ اجلاس پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو متنازعہ اور غیر ضروری قانون سازی قرار دیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ملک پاکستان میں مقدسات اسلام کے تقدس کی حفاظت کے لیے ازقبل قانون سازی موجود ہے لہذا ایسے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں ہے نیز یہ سمجھتا ہے کہ تحفظ اسلام متنازعہ بل ملک میں کتب کی اشاعت کے کاروبار کو شدید متاثر کرے گا جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوسکتے اور آزادی رائے اور کتب بینی کی ثقافت شدید متاثر ہوگی۔ نیز یہ سمجھتا ہے کہ یہ بل اسلامی نظریاتی کونسل جیسے آئینی اداروں اور رائج قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر پاس کروایا گیا ہے جو اس بل پاس کروانے والوں کی بدنیتی پر دلیل ہے لہذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ تح

11.    یہ اجلاس کراچی اور اسلام آباد میں منعقدہ علمائے امامیہ کے اجلاسوں میں پیش کردہ اعلامیہ جات کی مکمل تائید کا اعلان کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ اجلاس ملک بھر سے بزرگ علمائے شیعہ  کے اس بابت بیانات اور اقدامات کی نیز تائید کرتا ہے۔

شیعہ وحدت کونسل کے زیر انتظام ضلع سرگودھا اور ضلع خوشاب کی سطح پر منعقد کئے جانے والے اس اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل جناب علامہ عبدالخالق اسدی نے خصوصی شرکت کی۔ ان کے علاوہ دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے مہتمم اور مجلس علمائے امامیہ کے وائس چیئرمین جناب مولانا ملک نصیر حسین اعوان،  مجلس علمائے امامیہ کے وائس چیئرمین جناب مولانا سرفراز حسینی، مجلس علمائے امامیہ کے جنرل سیکرٹری جناب مولانا ضیغم عباس، ذاکر حسینی، مجلس علمائے امامیہ کے آفس سیکرٹری اور فاضلِ قم جناب حجت الاسلام عیسی امینی،  جامعہ ابو طالب خوشاب کے مہتمم جناب مولانا آغا حسین شاہ، جامعہ زینبیہ سرگودھا کے مہتمم جناب مولانا ملازم حسین شاہ، جامعہ مرتضی جوہر آباد کے مہتمم جناب مولانا سبطین حسین علوی، جامعہ معصومہ جوہر آبادکے مہتمم جناب مولانا ملک نذر عباس، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ڈویژنل صدر جناب ذوالقرنین حیدر شیرازی،مجلس وحدت مسلمین ضلع سرگودھا  شرقی کے سیکرٹری جنرل جناب سید مقصود بخاری، ماتمی انجمنوں کی طرف سے جناب سید وقار بخاری المعروف کاکے شاہ، جناب سید صفدر حسین شاہ، جناب سید طاہر حسین شاہ، جناب سید باو شاہ، متحدہ آرگنائزیشن سرگودھا کے جناب سید عباس رضا بخاری، القائم آرگنائزیشن سرگودھا کے  جناب شمشاد حیدر بخاری، جناب حسن رضا کرمانی، اسکاوٹ تنظیم کے جناب سید مجاہد حسین ،  ذاکر اہل بیت جناب ملک مرید حسین پدھراڑ، ذاکر اہل بیت جناب ملک اسد عباس  و ضلع سے تعلق رکھنے والے دیگر معزز مہمانان اور شخصیات اور ضلع بھر کی تحصیلوں سے آئمہ جمعہ والجماعت  نے شرکت کی۔

وحدت نیوز(ملتان) شیعہ وحدت کونسل پاکستان کے زیراہتمام علماء، ذاکرین،بانیان مجالس جلوس،ملی جماعتوں،بانیا ن امام بارگاہ، ماتمی انجمنوں اور عمائدین کا مشاورتی کاجلاس امام بارگاہ ابوالفضل العباس ملتان میں منعقد ہوا۔مشاورتی اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ ناصر سبطین ہاشمی، علامہ طاہر عباس نقوی، علامہ عون محمد نقوی، علامہ سبطین نجفی، علامہ امیر حسین ساقی، مولانا وسیم عباس معصومی، مولانا اعجاز حسین بہشتی، مولانا تقی گردیزی، دربار شاہ شمس کے سجادہ نشین مخدوم زاہد حسین شمسی، مخدوم طارق عباس شمسی،مخدوم اسد عباس بخاری، سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت علی، آئی ایس او کے ڈویڑنل صدر شہریار حیدر، ضلعی آرگنائزر ایم ڈبلیو ایم ملتان فخر نسیم صدیقی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما امداد حسین ،شاعر اہلیبیت زوار حسین بسمل، قاضی غضنفر حسین اعوان ایڈووکیٹ، مخدوم عون شمسی، لیاقت ہاشمی، سید ظل حسن جعفری، جلالپور پیروالا سے اصغر سومرو، شجاع آباد سے عمران نقوی نے شرکت کی۔

 اجلاس سے خطاب میں علامہ سید احمد اقبال رضوی کاکہنا تھا کہ ایک عرب ملک کا سفیر روزانہ کی بنیاد پر مختلف مدارس، مختلف اداروں اور علما کرام سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔اگر کسی بھی ملک نے ارض وطن پر حملہ کیا تو دوسرے لوگ چاہے کسی کا بھی ساتھ دیں ہم مملکت پاکستان کی خاطر جان تک دے دیں گے۔ہم نے وحدت امت کی خاطر پہلے ہی غیر ذمہ دار افراد سے خود کو الگ کیا۔سب سے پہلے لعن طعن اور سب و شتم کا آغاز کس نے کیا۔اس ملک میں صرف ایک مکتبہ فکر کے وڈیو کلپس نہیں ہیں۔بعض دیوبندی علما نے سرکار ابو طالب کی تقصیر کی گئی لیکن ہم کبھی ایف آئی آر کی طرف نہیں گئے۔اچھا ہوا ہماری توجہ بھی اس طرف دلا دی۔اس ملک میں کس کس نے کیا کیا کہا ہے ہمارے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے۔ملک کے تمام شعبوں کی ممتاز شخصیات، دانشوروں اور ذمہ داروں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے معاملات پر غور کریں ہم نے طویل عرصہ لاشیں اور جنازے اٹھائیں کس نے سب سے پہلے تکفیریت کا نعرہ بلند کیا۔یہ اختیار کس نے دیا کہ آپ جس کو چاہیں کافر کہہ دیں۔یہ ملک متحمل نہیں کسی کھنچاؤ، تناؤ یا فرقہ واریت کا، ملک میں مقدمات کے حوالے سے انارکی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کراچی میں کٹنے والی دو شخصیات کے خلاف ایف آئی آرز کو چیلنج کرتے ہیں۔ہمیں اس ملک میں قرآن و اسلام کی بہترین تصویر پیش کرنی ہے۔جو شیعوں کو کافر کہتے ہیں ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ کئی صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین شیعہ تھے۔ہم کثرت سے مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ ہم نے بے شمار مواقع پر علما اہلسنت کے ساتھ نماز ادا کی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں چند بزرگوں پر اعتراض ہے کہ ستر برسوں میں پہلی بار کتابوں میں شامل چیزوں پر آپ نے اعتراض کیا۔خلفائے ثلاثہ امہات المومنین اور اہلیبیت کی تعظیم ہم پر جائز اور واجب ہے۔لیکن بنی امیہ کی تعظیم بھی کریں گے یہ کس نے کہہ دیا۔جن پر آپ زیادہ غصہ ہیں کیا ان کی تعظیم آپ کے یہاں مسلمہ ہیں۔مفتی اعظم دیکھیں کہ ماضی میں بھی کچھ نادانوں نے اس طرح کی سرگرمیوں سے اپنا بھی نقصان کیا ہے وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں۔ہمارے دشمنوں میں ہمارا ایک پڑوسی ملک بھارت بھی ہے جو ہمارا کھلا دشمن ہے جس نے ہمارے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔وہ بزرگ شیطان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

 اجلاس کے آخر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سولہ نکاتی قراردادپیش کی گئی جس میں فرانس میں چارلی ہیبڈو نامی رسالہ میں پیغمبر ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی ? کی شان میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں اور سوئیڈن میں قرآن مجید کی توہین آمیز واقعہ کی شدید مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ نبی کریم ?کی شان میں اور مقدسات کے خلاف گستاخی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیرسے کرفیو اور بھارتی ناکہ بندی کے خاتمہ کو یقینی بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صہیونیوں کی ایک ناجائز اورجعلی ریاست ہے۔ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فلسطین کاز سے سنگین غداری سمجھتے ہیں اور عرب امارات کا یہ عمل عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل ہندوستان اور ان کے عرب و دیگر حواری پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور سی پیک جیسے ترقی کے منصوبوں کے دشمن ہیں لہذا پاکستان میں فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کی تمام سازشیں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہیں۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔پاکستان ایک آزاد مملکت ہے اور پاکستان کا آئین یہاں بسنے والے تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے تاہم تمام مسالک کو مذہبی و سماجی آزادی کا حق حاصل ہے اور یہ حق کوئی بھی کسی سے نہیں چھین سکتا۔حکومت پاکستان بشمول وزیر اعظم پاکستان، آرمی چیف اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں تکفیری عناصر کے خلاف بے رحمانہ کاروائی کی جائے۔ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں ملت جعفریہ کے عمائدین کی بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا کیا جائے اور جھوٹے مقدمات فی الفور واپس لے کر گرفتار شدہ افراد کو رہا کیا جائے۔تمام مکاتب فکر اور ملت جعفریہ کو متوجہ کیا جاتا ہے تمام مسلمہ اسلامی مسالک کے مسلمہ مقدسات کی توہین سے اجتناب و پرہیز کیا جائے۔ملت جعفریہ کے کسی خاص فرد کے خلاف مقدمہ اور گرفتاری کا مطالبہ کسی بھی عنصر کی طرف سے کیا گیا تو ملت جعفریہ بھی ایسے کئی نام اور شواہد رکھتی ہے کہ جن کے خلاف مقدمات قائم کرنے اور ان کی گرفتاریوں کے لئے باقاعدہ تحریک چلائی جائے گی۔

 قرارداد میں حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیاگیاکہ کھلم کھلا شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے اور قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائے جائے بصورت دیگر صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کی صورت میں حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہو گی۔ملت جعفریہ پاکستان پر کسی کے عقیدہ کو گھونپنے کی مذموم کوششوں سے باز رہا جائے۔کسی مسلک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلک پر اپنے عقائد کو تھونپنے کی ناپاک کوشش کرے۔اگر ریاستی اداروں نے ملت جعفریہ کے خلاف سرگرم عمل ایسے عناصر کو جو مسلسل ملت جعفریہ کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی راست اقدام نہ کیا تو پھر علما و ذاکرین کے لئے ملت کو مزید صبر کی تلقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ہم شہیدقائد علامہ عارف حسین الحسینی رح کے فرمان کی تجدید کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ عزاداری سید الشہدا ہماری شہ رگ حیات ہے اور ہمارا سر تن سے جدا تو ہو سکتا ہے لیکن ہم اپنے عقیدہ سے انحراف نہیں کر سکتے۔عزاداری سید الشہدا کے خلاف کسی قسم کی سازش کو قبول نہیں کریں گے، یہ اجلاس ریاست پاکستان سے ملک بھر سے جبری طور پر لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے، زیارت مقامات مقدسہ ہماری عبادت کا مرکز ہیں ، پاکستان سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے جاتے ہیں ، ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس میں آسانیاں پیدا کرے۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما سید ندیم عباس کاظمی، ممتاز حسین ساجدی، تصور شاہ،لیاقت حسین ہاشمی، ناصر عباس سمیت دیگر رہنما بھی اجلاس میں شریک تھے۔

وحدت نیوز(پشاور)مجلس وحدت مسلمین خیبرپختونخوا کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ ارشاد علی نے کوہاٹ (کے ڈی اے )جنرل سٹور میں ہنگو کے شیعہ نوجوان قیصر عباس کی ٹارگٹ کلنگ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تکفیریت کا فتنہ ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ سر اٹھا رہا ہے۔اگر ان عناصر کی بیخ کنی نہ کی گئی تو ماضی کی طرح ایک بارپھر دہشت گردی کا عفریت پورے ملک کو اپنے چنگل میں لے لے گا۔انہوں نے کہا ملک وقوم کی سلامتی کے لیے دی گئی ستر ہزار قربانیوں سے کھلواڑ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف فوری شکنجہ کسنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملت تشیع قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور قانون شکنوں سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتنے کا مطالبہ کرتی ہے۔جو لوگ مذہب کی آڑ میں تکفیریت کا پرچار کر رہے ہیں وہ قومی سلامتی کے دشمن اور عالم استکبار کے ایجنٹ ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی لچک مادر وطن کے ساتھ دشمنی ہو گی۔انہوں نے حکومت اور سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں سے فرقہ واریت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

وحدت نیوز(سکردو) کواردو کاظم آباد کے سرکردگان کی خصوصی دعوت پر جب مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل مجاہد ملت آغا علی رضوی اپنے رفقائے کار کے ساتھ کواردو پہنچے تو علاقے کے سرکردگان , سماجی شخصیات , نوجوانان اور عوام کی بڑی اجتماع نے ان کا شاندار استقبال کیا,  پھولوں کا ہار پہنایا اور اور ریلی کی صورت میں معروف سماجی شخصیت اور سرکردہ جناب صوبیدار رضا کے گھر تک لے گئے- جہاں ممتاز عالم دین حجت الاسلام ولمسلمین جناب شیخ اکبر علی , سرکردہ حاجی شکور , سرکردہ حاجی مہدی , سرکردہ صبیدار رضا اور علاقے کے معززین نے مجلس وحدت المسلمین کی وفد کا بھر پور استقبال کیا- بعد از آں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقے کے عوام اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی-

 استقبالیہ خطبہ دیتے ہوئے جناب صبیدار فرمان علی نے کہا کہ علاقہ کواردو پہلے بھی علماء پرور اور  مذہب پرور تھا اور آج بھی ہم ایک قابل فخر غریب پرور شخصیت آغا علی رضوی کے ساتھ ہے- کواردو سمیت پورا بلتستان آغا علی رضوی کے مرہون منت ہے لہٰذا  ہمارا ووٹ , ہمارا سپورٹ اور ہماری تعاون کا اصل حق دار آغا رضوی اور آپ کے دست راست کاظم میثم ہے- ہم اپنے مسائل پہ الیکشن کے بعد بات کرینگے- الیکشن سے پہلے مجاہد ملت کی دست و پا بن کر آپ کے منتخب نمائندے کو کامیاب کرائنگے-

مجلس وحدت مسلمین کے وفد میں مجاہد ملت آغا علی رضوی , آپ کے دست راست جناب میثم کاظم , صوبائی ڈپٹی سیکٹری جنرل علامہ شیخ احمد علی نوری , سیکٹری جنرل ضلع سکردو جناب شیخ فداعلی زیشان اور دیگر رہنما شامل تھے- جناب شیخ فدا زیشان صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وحدت کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے جیتی ہوئی سیٹ اور اقتدار کو اقدار پہ قربان کرکے تمام سیاسی جماعتوں کے لئے ایک عملی نمونہ پیش کیا- اسی میرٹ اور اقدار کی وجہ سے کواردو سمیت پورے جی بی  کے غیور عوام مجلس وحدت مسلمین اور آغا علی رضوی کی قیادت پہ اعتماد کرتے ہیں-

بے داغ ماضی اور بے لوث قیادت امیدوار حلقہ دو سکردو جناب کاظم میثم صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کواردو کے غیور عوام اور باشعور نوجوانان نے ہمیشہ صف اول میں رہ کر تمام تحریکوں میں آغا علی رضوی کی بھر پور حمایت کیا ہے- اب یہ میرا احسان نہیں بلکہ  اخلاقی زمہ داری اور قرض ہے کہ میں کواردو کے غیور عوام کی خدمت کروں- مجاہد ملت آغا علی رضوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ سید علی طوسی , شیخ محمد کبیر , شیخ غلام حسین , اخوند غلام حسین اور  اخوند خدایار سے لیکر آج کے جید علماء کرام تک علاقہ کواردو کو علم و عمل اور تابناک ماضی کے حوالے سے عظیم مرتبہ حاصل ہے-

کواردو کے غیور عوام نے ہمیشہ حق , علماء اور معیار کے ساتھ دیا ہے- کواردو کے عوام اور سرکردہ گان نے علاقائی کارڈ کو مسترد کرکے باشعور ہونے کا ثبوت دیا انشاء اللہ ہم غریب عوام کے ساتھ ہیں- پسماندہ علاقوں کو آگے لانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے- ہم عوام کی خدمت کو احسان نہیں بلکہ شرعی وظیفہ سجھتے ہیں- آخر میں عالم باعمل حجت الاسلام ولمسلمین شیخ اکبر علی مخلصی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور  عوام کو ہدایت کی کہ ووٹ ایک امانت ہے جسے اہلیت , کار کردگی اور میرٹ کے بنیاد پہ دیں اسلام میں علاقہ پرستی اور  مذہب پرستی کی کوئی گنجائش نہیں اسلام معیار کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے-


وحدت نیوز(اسلام آباد)قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری حفظہ اللہ کی زیر صدارت مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹریٹ میں راولپنڈی اسلام آباد کی انجمنوں ، ماتمی تنظیموں ، ٹرسٹیزاور دیگر تنظیمات کے سرکردہ افراد کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

 اجلاس میں موجودہ ملکی صورت حال اور تشیع کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔قائد وحدت نے تمام تنظیمات کا مل کر اتحاد ویکجہتی کے ساتھ فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام تنظیمات پر مشتمل ’’ شیعہ وحدت کونسل ‘‘ بنانے کا اعلان کیا۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) جب جنگ صفین میں قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کیا گیا اور لاحُکْمَ إِلاَّ للهِِ کا نعرہ بلند کیا گیا تو امیر المؤمنين علی ابن ابی طالب علیہم السلام نے فتنے کی حقیقت کو عیاں کرتے ہوئے اور سادہ لوح مسلمانوں کو اس فتنے کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو بعد میں ضرب المثل بن گیا اور وہ تھا " کَلِمَةُ حَقٍّ یُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ" یعنی یہ قرآن اور اللہ کے حکم کی بات ظاہری طور پر تو حق ہے لیکن ناصبی اور خارجی اسے اپنے باطل مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں. آج بھی پاکستان میں یہ اقلیت و اکثریت کا بیانیہ ظاہری طور پر ایک بڑے طبقے کے لئے جاذبیت رکھتا ہے لیکن اس کی حقیقت سے اگر پردہ اٹھایا جائے تو یہ ایک بڑے فتنے اور ملک میں نہ رکنے والی خانہ جنگی کی بنیاد بن سکتا ہے. اس لئے شیعہ سے زیادہ برادران اہل سنت اور ملک کے مقتدر اداروں سیاستدانوں اور حکمرانوں کو غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے.

جب ہم سب شیعہ اور سنی اکٹھے ہوئے تو پاکستان بنا اور پاکستان کی بقاء و استحکام اور خوشحالی بھی اسلام کے انہیں دونوں بازوں (شیعہ و سنی) کی وحدت سے جڑی ہوئی ہے. اس لئے جو لوگ اکثریت واقلیت کے بیانیے کے ذریعے شیعہ کو دبانا اور کمزور کرنا چاہتے چاہتے ہیں وہ ملک میں نا ختم ہونے والے فتنے اور خانہ جنگی کا میدان سجانے پر تلے ہوئے ہیں.

جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی اس وقت بھی سلفی و دیوبندی ماسوائے ایک محدود تعداد کے سب کے سب کانگرس کے ساتھی اور ایک آزاد و خود مختار ملک پاکستان بننے کے مخالف تھے. ماضی کی طرح آج بھی اگر اس سوچ کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی اور اس فتنے کو جڑ سے نہ اکھاڑ پھینکا گیا اور مسلمانوں کے مابین باہمی وحدت کی بنیادیں مضبوط نہ کی گئیں تو نتائج بہت بھیانک نکلیں گے. اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ  ارباب اقتدار، امن وامان کے محافظین، مقتدر ادارے اور وطن کے بااثر طبقات (مذہبی ہوں یا سیاسی) سب کے سب اپنی اپنی ذمہ داری نبھا کر ملک کو مزید بحرانوں کا شکار ہونے سے بچائیں. سب کو جان لینا چاہیئے کہ 24 کروڑ آبادی کے پاکستان میں کم از کم شیعہ آبادی 25% ہے جو تقریبا 6 کروڑ افراد بنتے ہیں . امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) بھی سنہ 2000 سے پہلے تک اپنی سائٹ پر شیعہ آبادی 27% لکھتا رہا ہے اور دنیا میں ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ مذہب کے لوگ پاکستان میں بستے ہیں.

یہ بات بھی درست ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت اہل سنت برادران پر مشتمل ہے اور پاکستان کی بھی آبادی کا 71% اہل سنت برادران اور 4% غیر مسلم برادران ہیں. لیکن ہندوستان کی سرزمین پر جنم لینے والے مکتب دیو بند کی تعداد شیعہ مذہب کے پیروکاروں سے ہرگز زیادہ نہیں. گو گذشتہ چار دہائیوں کے معروضی حالات میں انکی غیر فطری افزائش اور تقویت کی گئی. اور ان میں بھی فقط ایک تکفیری طبقہ ہے جو اقلیت و اکثریت کے بیانیے کی ترویج کر رہا ہے. جو سب مسلمانوں کو ایک صف میں نہیں دیکھ سکتا اور پاکستانی عوام کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے. یہ تکفیری طبقہ انہیں شعوری و لاشعوری طور پر ریاست کی سرپرستی حاصل رہتی ہے. پاکستان کسی خاص مسلک یا مذہب کے لئے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ اسلام اور قرآن کے نام پر بنا تھا. پاکستان کی بقاء بھی مسلکی پاکستان یا کسی ایک فرقے کے پاکستان سے نہیں بلکہ سب مسلمانوں کے مشترکہ پاکستان سے جڑی ہوئی ہے. آئین پاکستان بھی اسی امر کا عکاس ہے.

اب آخر میں سب پاکستانی عوام کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے 6 کروڑ شیعہ کی تعداد ایک بہت بڑی اور مؤثر تعداد ہے. پاکستان میں بسنے والے شیعہ ماسوائے دنیا کے چند ایک بڑے ممالک کی آبادی کے باقی سب ممالک کی آبادی سے زیادہ ہیں اور اتنی بڑی آبادی کو نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمزور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے. اگر دنیا بھر کے ممالک کی آبادیوں کا ملاحظہ کیا جائے تو :

1- براعظم ایشیا میں 51 ممالک ہیں۔ ان میں سے ۱۲ ممالک کےعلاوہ باقی سب ممالک کی الگ الگ آبادی سے شیعیان  پاکستان کی تعداد ان سے زیادہ ہے.

2- یورپی ممالک کی تعداد 48 ہے ان میں سے 4 ممالک کی آبادی کے علاوہ باقی سب ممالک کی الگ الگ آبادی سے پاکستانی شیعوں کی تعداد زیادہ ہے.

3- افریقی ممالک کی کل تعداد 56 ہے ان میں فقط 4 ایسے ممالک ہیں کہ جن کی آبادی پاکستان کے شیعوں کی تعداد سے زیادہ ہے.

4- براعظم امریکا کے ممالک کی تعداد 35 ہے. جن میں سے فقط 3 ممالک کی آبادی پاکستانی شیعوں کی تعداد سے زیادہ ہے.

5- عرب ممالک کی کل تعداد 21 ہے. ان میں سے ماسوائے ایک ملک مصر کے پاکستان میں شیعوں کی تعداد ہر ملک کی آبادی سے زیادہ ہے.

6- خلیجی تعاون کونسل ممالک 6 پر مشتمل ہے.  پاکستان میں شیعوں کی تعداد اگر ان سب ممالک کی کل تعداد کو جمع بھی کر لیا جائے تو ان سے زیادہ ہے.

یہ اعداد و شمار یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے جنہیں فزیکلی ختم کرنا ناممکن ہے اسی طرح اتنی بڑی تعداد کو سیاسی معاشی اور فکری طور پر دیوار کے ساتھ لگانا نیز جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کے خلاف ہے وہیں عملا ناممکن بھی ہے۔ ملک کی پچیس فیصد آبادی پرکسی خاص مکتب فکر کےعقائد بھی مسلط نہیں کئے جاسکتے لہذا پاکستان کے مقتدر حلقوں اور مخلص لوگوں کو یہ ملک میں مکتبی اختلافات کے باوجود مشترکہ زندگی کا راستہ تلاش کرنا اور  معاشرے کو اسی پر چلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر مقتدر ادارے یا فرد یا گروہ کے ذہن میں یہ ہو کہ شیعوں کو فکری معاشی یا فزیکلی دیوار کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے یا کوئی اندرونی گروہ دشمنان وطن کی طرف سے اس پر مامور ہو تو اسے شیعہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور اس ناپاک منصوبے سے باز رہنا چاہئے کیونکہ یہ منصوبہ ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

تحریر: علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زہرا نقوی نے پنجاب اسمبلی میںامن وامان کی صورتحال پر جنرل ڈسکشن سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ایوان کی توجہ عزاداران سید الشہداءکے خلاف جاری اقدامات کی جانب مبذول کروائی۔

 انہوں نے کہاکہ محرم الحرام میں عزاداروں،بانیان مجالس اور جلوس اور ذاکرین پر جھوٹے مقدمات کے اندراج باعث تشویش ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے ایک تین سالہ معصوم بچے پر بھی گھرمیں مجلس منعقد کرنے پر ایف آئی آر درج کردی گئی جوکہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔

زہر انقوی نے کہاکہ حکومت کو اس جانب خصوصی توجہ دینا ہوگی کہ جب آئین تمام مذاہب کو اپنی رسومات کی ادائیگی کی مکمل اجازت فراہم کرتا ہے تو مجالس وجلوس پر مقدمات کا اندراج کس قانون کے تحت کیا جارہاہے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ملک کے نامور ذاکرین نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قومی سلامتی اور ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کے کسی حربے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔وطن عزیز کی سالمیت کا تحفظ اور بنیادی عقائد کا دفاع ہمیں ہر شے پر مقدم ہے جس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جا سکتا۔ملک بھر میں محب وطن ذاکرین خطباء اور عزاداروں کیخلاف جھوٹے مقدمات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا جو عناصر مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کر کے ملک و قوم کو کمزور کرنا چاہتے ان کا مقابلہ پورے تدبر و حکمت کے ساتھ کیا جائے۔ اہل تشیع کی داخلی وحدت اور صدیوں سے قائم شیعہ سنی اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی ہر کوشش کو یکجہتی، رواداری، اخوت اور باہمی احترام سے ناکام بنائیں گے۔اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں ہمارے علمی و تاریخی اختلافات کو تصادم میں بدلنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے تاکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے من پسند نتائج حاصل کر سکیں۔شیعہ سنی وحدت ان کی ناکامی ثابت ہو گا۔جو قوتیں ذاتی مفادات کے حصول کے لیے قومی سلامتی کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں انہیں جذبات کی بجائے بابصیرت اور دانشمندانہ کردار سے شکست دی جا سکتی ہے۔

اس موقعہ پر ذاکرین نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مجالس حسینی وعزاداری کے فروغ اور قومی یکجہتی کے لیے علما کے ساتھ مل کر جدوجہد کی جائے گی اور ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں پر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ملاقات کے اختتام پر ملک کی حفاظت، قومی وحدت کے فروغ اور اسلام دشمن عناصر کی نابودی کے لیے دعا بھی کی گئی۔

Page 5 of 1054

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree