The Latest

وحدت نیوز (آرٹیکل) پاکستان جسے بعض لوگ بانجھ زمین کہتے ہیں کہ یہاں کوئی عالمی سطح کی شخصیت سامنے نہیں آئی ،ایسی شخصیت جس نے سیاسی،سماجی،اور عالمی سطح پر معاشروں کو اپنے وجود سے متاثر کیا ہو اور اپنی ذات کیساتھ اس پاک سر زمین کا نام روشن کیا ہو،ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہے اس پاک سر زمین پر بہت سی شخصیات نے جنم لیا مگر عالمی مہروں اور سامراجی نیٹ ورک نے انہیں راستے کی دیوار سمجھا اور پھر کسی کے سینے میں لیاقت باغ کے جلسے میں گولی اتار دی گئی ،کسی کو لیاقت باغ کے باہر ہجوم کے درمیان نشانہ بنا یا گیا اور کسی کو کال کوٹھڑی میں پھانسی دیکر راستہ صاف کیا گیا،انہی میں ایک ایسی شخصیت بھی تھے جنہیں پشاور کے مدرسہ جامعہ معارف الاسلامیہ میں دم فجر اجرتی قاتلوں کے گروہ سے قتل کروایا گیا،میری مراد ایک ملکوتی و کرشماتی شخصیت علامہ سید عارف حسین الحسینی رح کی ہے جو کسی بھی طور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر کے اسے حقیقی معنوں میں ایک آزاد مملکت بنانا چاہتے تھے جن کی قائدانہ خصوصیات اور مخلصانہ جدوجہد اور بلند افکار امت مسلمہ کو نئی جہت دے رہے تھی اور دنیا انہیں پاکستان میں انقلاب اسلامی کا نقیب سمجھ رہی تھی کہ 5 اگست کی فجر کی نماز کے وقت انہیں اجرتی قاتلوں کے ایک گروہ نے اس وقت شہید کر دیا جب وہ نماز کی تیاری کیلئے وضو گاہ سے نیچے اتر رہے تھے،یہ ایک قیامت خیز دن تھا ،جب ملت ایسی قیادت سے محروم کر دی گئی جو امید تھی،جو خوشبو تھی،جو روشنی تھی،جو پھولوں میں مہک کی مانند تھی،جن کا وجود سراپا نور تھا،انہیں راستے سے ہٹادیا گیا،انہیں ہم سے چھین لیا گیا۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی رح نے تقریبا ساڑھے چار سال( 10فروری 1984 سے 5 اگست 1988 )کا مختصر عرصہ ملت جعفریہ کی قیادت و سیادت میں گذارا ہے، مگر آج 30 برس ہونے کو آئے ہیں کہ ان کی نورانی و معنوی شخصیت کے سحر میں پوری قوم ایسے ہی گرفتار دکھائی دیتی ہے کہ جیسے آج ہی وہ ہم سے جدا ہوئے ہوں، اور کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ہم میں موجود ہوں اور راہنمائی فرما رہے ہوں۔شہدا ء از روئے قرآن زندہ ہیں اور خدا کے ہاں سے رزق پاتے ہیں ہم اس کا شعور نہیں رکھتے،پھر کیسے ممکن ہے کہ امت کا درد لیکر میدان عمل میں اپنے خون سے اپنی پیشانی رنگین کرنے والی ہستی امت کے یہ حالات،تفرقہ و تقسیم،دہشت گردی،استعماری سازشیں،اور ارض پاک پر عالمی سازش گروں کی اس ملک کو نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کے منصوبے دیکھ کے انہیں آرام آ گیا ہو وہ یقیناًحق پرستوں اور مخلصان خدا و دین خدا کی نصرت و رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے ہونگے اس کا احساس اس تحریک اور تحرک میں کئی ایک مقامات پر محسوس ہوتا ہے جب کچھ دکھائی نہیں دیتا،عقلیں فیصلے کرنے سے عاری آ جاتی ہیں تو غائبانہ امداد سے ناممکنات ممکن ہو جاتے ہیں،یہی شہدا ء ہوتے ہیں جو ایسے اوقات و مصائب کے دوران مدد فرماتے ہیں!

 علامہ سید عارف حسین الحسینی کا آنائی تعلق کرم ایجنسی کے گاؤں پیواڑ سے تھا جو افغانستان کے بارڈر کے نزدیک ہے انہوں نے 25 نومبر 1946 کی ایک سہانی فجر کوایک نجیب اور بلند مقام سادات حسینی کے فرد سید فضل حسین شاہ کے گھر میں آنکھ کھولی تھی، پیواڑ کے پرائمری اسکول سے تعلیمی سلسلہ کا آغاز کرنے والے سید عارف حسین نے بعد ازاں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے نجف و قم کی فضاؤں میں پرواز کی اور علم و عرفان کی منازل طے کیں۔ آپ بچپن سے ہی بے حد دیندار، متقی اور پرہیزگار بلکہ شب زندہ دار تھے اور یہ سب تو جیسے آپ کو وراثت میں ملا تھا۔ آپ نے پہلی بار 1967 میں نجف کا سفر کیا، تاکہ اعلی علمی مدارج کو طے کر سکیں۔ یہ وہ دور تھا جب عراق میں آقائے محسن الحکیم مجتھد اعلی تھے، سید عارف الحسینی شروع سے ہی ملکوتی صفات کے مالک تھے، جن کی کرنیں صاحبان نظر کو محسوس ہو جاتی تھیں۔

 آپ کے اساتذہ بھی آپ میں عرفانی و معنوی صفات دیکھ لیتے تھے۔ جب حضرت امام خمینی رح ایران سے جلا وطن ہو کر نجف پہنچے تو آپ ان کی محفل کے شریک بن گئے اور ہمیشہ نماز ان کی اقتدا میں ادا کرنے کی سعی کرتے۔ یہ تعلق اتنا گہرا ہوا کہ عشق خمینی رہ میں تبدیل ہو گیا، اسی عشق نے آپ کو بعد میں قومی حقوق کے نگہبان اور استعمار دشمن قائدین کی صف میں لا کھڑا کیا۔عراق کے بعد آپ ایران میں قم میں بھی زیر تعلیم رہے ان دنوں انقلاب کی تحریک عروج پر تھی،آپ چونکہ بڑھ چڑھ کے انقلابی پروگراموں میں شریک ہوتے تھے لہذا شاہ کی حکومت اور ایجنسیوں کی نظر میں آ گئے اور ایران میں گرفتار ہوئے بعد ازاں انہیں ایران سے نکلنا پڑا۔پاکستان میں آ کے آپ نے جامعہ جعفریہ پاراچنار میں بطور مدرس خدمات سرانجام دینا شروع کیں،1980ء میں مفتی جعفر حسین قبلہ کی معروف و مشہور اسلام آباد تحریک میں آپ نے بھرپور کردار ادا کیااور ایک بڑے وفد کیساتھ شریک ہوئے۔10 جولائی 1984 کے دن آپ کو بھکر میں قائد ملت جعفریہ منتخب کیا گیا۔

 ساڑھے چار سال کے بعد 5 اگست 1988 کی دم فجر جمعہ کے دن پشاور میں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی رہ کو ہم سے چھین لیا گیا۔یہ مختصر عرصہ قیادت کو دیکھیں اور ان کے کاموں کی تفصیل ،ان کے ملک گیر دورہ جات،گاؤں گاؤں،سکردو گلگت سے لیکر اندرون بلوچستان کے بہت ہی چھوٹے چھوٹے دیہات اور سندھ کے گوٹھ بھی آپ کی پہنچ سے دور نا رہے،آپ ملک کے شہروں اور دیہاتوں میں جاتے تاکہ علم کی خیرات بانٹیں،شعور کی زکوٰۃ دیں،اسلام کے حقیقی پیغام جو خاتم الانبیا ء کی شکل میں امت تک پہنچا تھااور جسے وقت کیساتھ ساتھ بھلا دیا گیا تھا اسے یاد کروانے کیلئے آپ نے اپنے اوپر آرام اور چین کو حرام کر لیا تھا۔پاکستان بلا شبہ تمام اقوام اور مکاتیب فکر کی محنتوں اور قربانیوں کا ثمر ہے جس میں حکمرانوں نے اپنے اقتدار اور کرسی کی خاطر یا غیر ملکی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے فرقہ واریت اور شر پسندی کا بیج بویا جس کی وجہ سے ملکی فضا مکدر ہو چلی تو شہید قائد علامہ عار ف الحسینی نے اتحاد بین المسلمین کا علم بلند کیا اور اس پرچم کو تھام کے ملک کے گوش و کنار میں وحدت امت اور باہمی احترام و اخوت کی جدوجہد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا،اس حوالے سے انہیں بانی اتحاد بین المسلمین اور داعی وحدت کا لقب دیا گیا،ان کی روش تھی کہ وہ جہاں بھی دورے پہ جاتے اہلسنت علما ء و عمائدین ان کیساتھ ہوتے،جو امت کو اتحاد و وحدت کی دعوت دیتے۔علامہ عارف الحسینی کی جہاں دیگر خوبیاں اور خصوصیات ان کی شخصیت کو روشن کیئے ہوئے ہیں وہاں ان کا سیاسی میدان میں وارد ہونا اور اس دور کے آمر کے سامنے سینہ سپر ہو کے جمہوری قوتوں کیساتھ رابطے بڑھانا نیز پہلی بار اہل تشیع کی طرف سے سیاسی اجتماعات کا انعقاد جن میں مینار پاکستان لاہور،دھوبی گھاٹ گراؤنڈ فیصل آباد،قلعہ قاسم باغ ملتان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قرآن و سنت کانفرنسز کا انعقاد جن میں سیاسی پروگرام اور منشور کا اعلان کیا گیا،اور پھر ضیا ء کے جھوٹے وعدوں پر سخت تنقید اور ریفرنڈم کی کھل کے مخالفت سے ان کا قد سیاسی حلقوں میں بلند ہوا،آمریت کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت کے قائدین کیساتھ ان کے روابط بہت گہرے تھے اور سیاسی قائدین ان کے خلوص اور بے باک موقف ،جس کا اظہار برملا کرتے تھے نے سب کے حوصلوں کو تقویت بخشی،وہ ضیا ء کی مارشل لا ء حکومت کو غیر آئینی سمجھتے تھے اور اس کے ہر کام پر تنقید کرتے تھے ،ضیا ء الحق نے ریفرنڈم کروایا تو آپ نے اس کی شدید مخالفت کی اور اسے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا بہانہ گردانتے ہوئے مسترد کر دیا۔

وہ فکر امام خمینی کے خالص اور سچے پیرو تھے اسی لیئے شہید عارف حسین الحسینی پاکستان کو عالمی استعمار کے چنگل سے آزادی دلوانا چاہتے تھے انہوں نے اپنے ہر خطاب اور گفتگو میں اس حوالے سے عوام اور نوجوانوں کو معلومات سے نوازا اور ان کے افکار و شعور میں یہ بات بٹھا دی کہ جب تک ہم اس ملک کو استعمار اور مغرب سے آزاد نہیں کروا لیتے اور اپنے مقدر کے فیصلے اپنے ایوانوں مین نہیں کرتے ہم ترقی نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔انہوں نے ایک جگہ فرمایا کہ،،تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشور ملک میں نظام اسلام کے قیام کیلئے اکٹھے ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ بے شمار قربانیوں کی بدولت حاصل ہونے والی آزادی 40برس گزر جانے پر بھی کہیں محسوس نہیں ہوتی ،سامراجی آقاؤں سے حاصل ہونیوالی آزادی کے باوجود ان کے چھوڑے ہوئے نظام کی بدولت آزادی کے احساس سے ہم آج بھی محروم ہیں،،ایک اور جگہ گفتگو کرتے ہوئے علامہ عارف الحسینی کا فرمانا تھا کہدنیا میں اسلام دو طرح کے ہیں۔ ایک اسلام حضرت محمدؐ کا اسلام ہے اور دوسرا امریکہ اور روس کے مفادات کا تحفظ کرنے والا ہے شریعت آرڈیننس دینے والوں نے اسلام اور قرآن کی بالا دستی کی بجائے امریکی نظریات سے قریب خود ساختہ اسلام کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کی سازش کی ہے کیونکہ انہیں وہ اسلام قبول نہیں ہے جس میں جذبہءجہاد ہو۔ ایک اور مقام پہ یوں رہنمائی فرماتے ہیںسیاست ہمارا راستہ:۔ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے حتیٰ کہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس جد و جہد میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے لیکن اپنے مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

*ہم کاسہ لیسی کی سیاست کو نہ اپنائیں گے بلکہ اپنے دینی تشخص کے ساتھ حصول مقصد کیلئے سیاست میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ ایسی سیاست جس میں مطالبات دین غالب ہوں۔ ہم کسی سیاسی جماعت کے تابع نہیں ہیں۔ *    

ہم وقار اور عزت کی زندگی کو غلامی پر ہر قیمت میں ترجیح دیں گے۔یہ علامہ عارف الحسینی ہی تھے جنہوں نے ملک کی ایک بڑی آبادی جو بکھری ہوئی تھی اور کوئی موقف نہیں رکھتی تھی ،حکمران چند گنے چنے لوگوں کیساتھ ساز باز کر کے ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے تھے ان کی جدوجہد کے بعد ملکی مسائل کے بڑے فیصلوں میں اہل تشیع کی شرکت اور انہیں نظر انداز کرنے کا سلسلہ ترک کرنا پڑا،انہوں نے اپنے خلوص،جدوجہد،تحرک،للہیت،اور مسلسل عمل سے پاکستان کے چاروں صوبوں،آزاد کشمیر کی ریاست اور گلگت بلتستان تک کے اہل تشیع کو ایک لڑی میں پرو دیا اور ایک ایسی تنظیم و تحریک کی بنیادیں مضبوط کیں جس نے بعد ازاں ان کی محنتوں کا پھل ایک عرصہ تک کھایا ۔کسی بھی قوم کی قوت اور طاقت اس کے نوجوان اور طلبا ء ہوتے ہیں،علامہ عارف الحسینی کی شخصیت کی کشش ایسی تھی کہ اس دور میں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں ان کے نام پر وقف کر دیں،نوجوانوں کا ہجوم ان کیساتھ ہر جگہ ان کی گفتگو ،ان کی تقاریر،اور ان کے افکار تازہ سے معطرہونے کیلئے بیتابی سے شریک ہوتا،اجتماعات جس بھی سطح کے ہوتے نوجوان ،بلکہ علما کی کی بھی بڑی تعداد اس پر خلوص قیادت کا ساتھ دینے کیلئے موجود ہوتے۔

علامہ عارف الحسینی نے اس پاک وطن کو استعمار کے شکنجوں سے نکال باہر کرنے کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا ۔وہ پاکستان کو استعمار اور تکفیریت کی سازشوں سے آزاد کروانے کیلئے دن رات ایک کیئے ہوئے تھے،وہ حق کے پیرو تھے،سچائی و صداقت کی علامت تھے،خلوص کے پیکر تھے،ان کی عبادت و دعاؤں کی محافل اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ ایک برگزیدہ ہستی تھے،وہ اللہ کے نیک اور صالح بندوں میں شمار ہوتے تھے،اللہ جنہیں اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو فرقان عطا کرتا ہے علامہ عارف الحسینی ایسی ہی ہستی کا نام ہے،ان کے کردار،عمل،روحانیت،خلوص،تقوٰی ،معرفت،فکر و شعور کوایک روشن اور واضح شکل میں ہم نے دیکھا ہے،ہم اس کے گواہ ہیں کہ وہ مستضعف اور کمزور بنا دیئے گئے انسانوں کی امید تھے،ہم اس کے گواہ ہیں کہ وہ اس دھرتی کا ایک ایسا فرزند تھا جس نے اسے اسلام ناب محمدی سے متعارف کروایا اور اس کے نفاذ کی عمل جدوجہد میں ان کی شہادت ہوئی،ہم اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ وہ ہماری محافل میں ،دعا و مناجات میں گڑ گڑا کے آرزوئے شہادت کرتے تھے،وہ متمنئی شہادت تھا،اس نے اپنے پاک خون سے اپنی پیشانی کو سرخ کرنے کی تڑپ میں زندگی گذاری اور بالآخر استعمار اور اس کے آلہ کاروں نے ایک عالمی ساز کے تحت انہیں راستے سے ہٹایا،5اگست 1988ء کی فجر دم جب وہ اپنے مدرسہ میں باوضو نماز کی تیاری کر رہے تھے انہیں اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا،یوں پاکستان میں اسلامی انقلاب کی امید دم توڑ گئی اور ہم اپنے عزیز و عظیم قائد سے محروم کر دئیے گئے۔آپ کا خون آلود چہرہ دیکھا توآپ کی اخروی زیارت اور پر سکون ابدی نیند ہم سب کو ایک پیغام دے رہی تھی۔

 ؂ ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے
زندگی اتنی تو غنیمت نہیں جس کیلئے
عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں


تحریر: حجت الاسلام علامہ راجہ ناصرعباس جعفری دام ظلہ

وحدت نیوز(گلگت) پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔امید ہے عوامی امنگوں کے مطابق ملک کو کرپٹ مافیا سے نجات دلواکر ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے۔پیپلز پارٹی ،نواز لیگ اور دیگر جماعتوں کا اتحاد ملکی استحکام کو کمزور کرنے کیلئے تشکیل پایا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما شیخ نیئر عباس مصطفوی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت سے امید کی کرن نمودار ہوئی ہے۔چاروں صوبوں کے عوام نے بطور نجات دہندہ تحریک انصاف کا انتخاب کیا ہے اور عوامی مینڈیٹ حاصل ہونے کے بعد ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے وعدوں پر کس حد تک قائم رہتی ہے۔مرکز میں نواز ،زرداری اتحاد سے ثابت ہورہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں تو لوٹ مار کرتے ہیں اور اپوزیشن میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔چونکہ ان کے مفادات ایک ہیں لہٰذا جب عوام نے ان کے اقتدار کے خواب چکناچور کردیے تو یہ دونوں جماعتیں ساتھ مل گئیں ہیں۔

انہوں نے چھلمس داس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نومل کے عوام کے ساتھ دشمنی پر اتر آئی ہے چھلمس داس پر حکومت بدنیتی کا مظاہرہ کرکے نومل کے عوام کو چھلمس داس سے دور رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ماضی میں حکومت کی خواہش پر عمائدین نومل اور سرکار کے مابین ایک معاہدے کے تحت سولہ سو کنال اراضی قراقرم یونیورسٹی کیلئے مختص کیا گیا لیکن تاحال اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کا کام رکا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھلمس داس نومل کے عوام کی ملکیت ہے  اور حکومت کو چھلمس داس کی بندربانٹ کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔



وحدت نیوز(جیکب آباد)  قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی ؒ کی 30 ویں برسی اور حمایت مظلومین کانفرنس کے سلسلے میں دعوت کے سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع جیکب آباد کے زیراہتمام مختلف یونٹس کا دورہ کیا گیا۔ایم ڈبلیوایم سندہ کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے ، ضلعی سیکریٹری جنرل مولانا آغا سیف علی ڈومکی، برادر سید شبیر علی شاہ، تحصیل سیکریٹری جنرل سیداشرف علی شاہ و دیگر کے ہمراہ مختلف یونٹس میں مومنین سے ملاقات کی، عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔

اس موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ شہید قائد علامہ سید عارف الحسینی ؒ فکر امام خمینیؓ کے ترجمان اور اسلام ناب کے علمبردار تھے آپ ؒ نے باطل کے مقابلے میں ہمیشہ کلمہ حق کو بلند کیا اور بہ یک وقت کئی محاذوں پر ڈٹ کر باطل طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کیا۔ آپ ؒ نے پاکستان میں ضیائی آمریت کو للکارا اور ملت کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔آپ ؒ نے عالمی سامراجی قوتوں خصوصا امریکہ اور غاصب اسرائیل کے انسان دشمن عزائم کو بے نقاب کیا اور دنیا بھر کی انقلابی اور الٰہی تحریکوں کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین فکر حسینی کی محافظ ہے قائد شہید کے مشن کو آگے لے کر چلیں گے اور جو خواب قائد شہید نے دیکھا تھا اسے شرمندہ تعبیر کریں گے۔ دشمن کی یہ بھول تھی کہ عارف الحسینی ؒ کے قتل سے اس کا مشن ختم ہوجائے گا مگر قائد شہید کا مشن ایک زندہ حقیقت بن کر زندہ اور تابندہ رہے گا۔

وحدت نیوز (گلگت)  عوام نے باریاں لینے والی جماعتوں کے مک مکا کی سیاست کو دفن کردیا جبکہ عام انتخابات میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو میثاق جمہوریت کی یاد ستانے لگی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ ملنے پر دیرینہ دشمنی دوستی میں بدل چکی ہے۔مرکزی سطح پر زرداری نواز مک مکا کے صوبائی سطح پر بھی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کےڈپٹی سیکریٹری جنرل عارف قنبری نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ کرنے والے مفاد پرست سیاسی مداریوں کا ایک ہونے سے ثابت ہوگیا کہ یہ دونوں جماعتیں میثاق کرپشن پر گامزن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میثاق کرپشن کے ذریعے دونوں جماعتوںنے طے کرلیا تھا کہ جس جماعت کو باری ملے وہ کرپشن کے مزے لوٹے اور اپوزیشن کی جماعت صرف لفظی وار کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکے گی لیکن بد قسمتی سے اس مرتبہ عوام نے ان جماعتوں کی سیاست کو دفن کردیا تو یہ سارے شکست خوردہ آپس میں بہن بھائی بن گئے۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کو جب بھی مشکل وقت آن پڑا تو پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے تسلسل کا بہانہ بناکر ان کی حکومت بچائی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا کیا موقف ہوگا جو مسلم لیگ نواز کو ملک دشمن اور کالعدم جماعتوں کے سرپرست سمجھتے تھے۔وہی آصف زرداری جو شہباز شریف کو ناسور سمجھتے تھے اور پنجاب میں ان کی سیاست کو دفن کرنا کا ارادہ رکھتے تھے ان کی جماعت شہباز شریف کو وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ دینے کا کیا جواز رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ان جماعتوں کے مابین گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی مک مکا کا فیصلہ ہوچکا ہے ،پیپلزپارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں محض لفظی وار کرے گی۔پاکستانی عو ام نے ان جماعتوں کے اصلی چہرے کو دیکھ کر انہیں مسترد کیا ہے اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں بھی باریاں لینے والی جماعتوں کا صفایاہوجائیگا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) عمران کو تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں، امید کرتے ہیں پی ٹی آئی قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے باوقار خارجہ پالیسی بنائے گی۔ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وفد کے ہمرا ہ چیئر مین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات میں کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسند ی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کو اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا،معاشرے کو کرپشن کے ناسور سے پاک کرنے کے لئے بلاتفریق احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا، میرٹ اور انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانا ملکی ترقی اور امن کے لئے ناگزیر ہے ، امید کرتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی بنائے گی ،پاکستان ایشیا کا دل اور بیس کروڑ عوام کا ایٹمی ملک ہے ہمیں دنیا میں پاکستان کی باوقار حیثیت کو واپس دلانا ہو گی۔اس موقع پر چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے الیکشن میںپی ٹی آئی کی حمایت اور کامیابی میں بھرپورکرداراداکرنے پر سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شکریہ ادا کیا۔اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ سیاسی اتحاد آئندہ بھی جاری رہے گا ،ہماری جدوجہد پر امن مستحکم اور شدت پسند ی سے پاک قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانے کے لئے جاری رہے گی،ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین کےمرکزی سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیو ایم سیداسد عباس نقوی ،سید شہریار محسن اور نثار علی فیضی جبکہ پاکستا ن تحریک انصاف کے سینئررہنماجہانگیرترین،عارف علوی اور ندیم افضل چن ودیگربھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا پے کہ حلقہ پی ایس 89میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ آئینی اور اصولی ہے۔اگرہمارے اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا گیا تو ہمیں مجبورا احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔مذکورہ حلقے میں ہمارے امیدوار علی حسین نقوی بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے۔مختلف پولنگ سٹیشنز میں پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار کو ہارتے دیکھ کر روایتی حربے استعمال کرنا شروع کر دیے۔ہم اس انتخابی دھاندلی کو تسلیم نہیں کرتے۔حلقہ پی ایس 89 ریٹرنگ آفیسر کی جانب سے ہماری درخواست کو مسترد کرنا بددیانتی ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حلقہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے چیف الیکشن کمیشن کو درخواست دی جائے گی۔ہم یہ الیکشن جیتے ہوئے ہیں اور آر او کی جانب سے اس غیر منصفانہ اعلان کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ جیتے ہوئے امیدوار کے نتائج میں ہیر پھیر کے ذریعے تبدیلی عوامی منڈیٹ کی توہین ہے۔مجلس وحدت مسلمین اس زیادتی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔چیف الیکشن کمیشنر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کھل کر سامنے آ جائے گا۔

وحدت نیوز(راولپنڈی) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع راولپنڈی کی جانب سے مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مجلس کا اہتمام پروفیسر انجم نقوی کے گھر پر ہوا۔ قرآن خوانی کے بعد محترمہ مہویش نے حدیثِ کساء پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ اور دعائے توسل پڑھنے کی سعادت پروفیسر انجم نقوی کو حاصل ہوئی۔ بعد از دعا محترمہ تسمیہ نے ہدیہ منقبت پیش کیا۔ننھی زاکرہ فاکھہ بتول نے بی بی سیدہ سلام اللہ علیہ کے فضائل و مصائب پیش کیے۔اس کے بعد ایم ڈبلیو ایم کی ضلعی سیکریٹری جنرل قندیل زہرا کاظمی نے خواہران سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے شہید علی نقوی کی دختر خواہر زہرا نقوی کی بطور "ایم پی اے" کامیابی سے متعلق آگاہی دی اور الیکشن کمپین میں بھرپور کردار ادا کرنے پر اپنی ٹیم کو سراہا۔اس کے بعد آپ نے 5 اگست کو شہید قائد عارف حسین الحسینی کی برسی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی " حمایتِ مظلومین کانفرنس" میں بھرپور شرکت کی دعوت دی اور میزبانی کے فرائض بھرپور انداز میں سر انجام دینے کے لیے لائحہ عمل بھی دیا ۔ آپ نے مزید کہا کہ ہماری آج کی ضرورت صرف اور صرف اتحاد ہے۔ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے تمام اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور اپنے حجتِ آخر الزمان ع ج کی آمد کی تیاری کریں۔بعد ازں خواہر نگین زہرا نے امامِ زمانہ ع ج کے فضائل بیان کرتے ہوئے خواتین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ ہر ہر مومن کو یہ سوچنا چاہئیے کہ کیا ہم امام علیہ سلام کے ظہور کے لیے خود کو تیار کر چکے ہیں یہ کر رہے ہیں۔ اصل میں ہم کس جگہ stand کرتے ہیں اور اُم المصائب بی بی سلام اللہ علیہ پر ہونے والے مضالم بیان کیے ۔ نوحہ خوانی اور ماتم داری کے بعد شہداء و مرحومین کے اصالِ ثواب کے لیےفاتحہ خوانی ہوئی۔دعائے امامِ زمانہ ع ج اور زیارت پر اختتام ہوا۔بعد از مجلس مومنات کے لیے لنگر کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواربرائے صوبائی اسمبلی فیصل حیات جبوآنہ سیال پی پی 125 جھنگ سے کامیاب ہوئے،کامیابی کے بعد سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا شکریہ ادا کرنے ان کے گھر تشریف لائے۔اس موقع پر مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی بھی موجود تھے۔فیصل حیات جبوآنہ نے کہا کے میں مجلس وحدت مسلمین ہی کی وجہ سے اس نشست پر کامیاب ہوا ہوں اور مجلس وحدت مسلمین کی ہم آہنگی سے ہی میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے قومی اور ملی معاملات میں میں مجلس وحدت مسلمین کی گائیڈ لائن پر عمل پیرا رہونگا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان کے عظیم سیاسی ومذہبی رہنماعلامہ شہید عارف حسین کی برسی شایان شان طریقے سے منائی جائے گی ،اس سلسلے میں 5اگست کو پریڈ گراونڈ اسلام آباد میں عظیم الشان حمایت مظلومین کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یوں تو بڑے بڑے سیاسی و مذہبی رہنما گذرے جن میں سر فہرست پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو جو ایک سیکولر سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول عوامی لیڈر تھے اسی طرح اس وقت میں پاکستان کی سب سے بڑی دینی جماعت جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی ایک دانشور ،عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم سیاسی لیڈر بھی تھے لیکن عارف حسینی کا شمار ان سب میں ایک منفرد حیثیت سے ہوتا ہے وہ نہ صرف ایک مذہبی و سیاسی رہنما تھے بلکہ وہ ایک عالم با عمل ، ایک عارف باللہ، اور ایک ایسے ولی خدا تھے جو خاکی ہونے کے باوجود افلاک سے رابطہ رکھتے تھے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ وہ ایک ایسے مرد قلندر تھے جس کی آنکھ بینا تھی یہی وجہ ہے کہ وہ ملت کے فرد فرد کے دلوں پر بسے ہوئے تھے ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جب ہر زبان پر تالے لگ گئے تھے جراتیں تھک چکیں تھیں تو سید عارف بانگ درا کی مانند نمایاں ہوئے اور تمام سکیولر اور مذہبی جماعتوں کے درمیان ایک امید بن کر ابھرے یہاں تک کہ اس وقت سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے کئی بار برملا طور پر اس بات کا اظہار کیا کہ اگر سید عارف حسینی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کریں تو آمریت کے خلاف ایک متحدہ جدو جہد کی جاسکتی ہے لیکن وہ اس جدوجہد کو جس تناظر میں دیکھ رہے تھے عارف حسینی کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی کیونکہ اقتدار کا حصول اور کرسیوں کی بندر بانٹ عارف حسینی جیسے عظیم قائدین کے نزدیک سوائے معاشرہ سازی اور عدالت کے قیام کے وسیلے کے علاوہ کسی قسم کی کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی ۔وطن عزیزکی پالیسوں میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کی سخت مخالف تھے،پاکستان کے امن اور استحکام کی خاطر مسلسل جدوجہدکرتے رہے اور اسی راہ پر انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔لہذا مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہرسال کی طرح اس سال بھی عظیم قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کا پروگرام بھر پور انداز میں عظیم الشان طریقے سے منائے گی اور ر شہید قائد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ملک بھر سے ہزاروں عاشقان قائد 5اگست کو پریڈگراونڈ کا رخ کریں گئے۔

وحدت نیوز (گلگت) بارگو پائین کا ہر گھر سیلاب سے متاثر ہوا ہے، روڈ کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں ۔بارگو کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت روڈ پر کام کررہے ہیںاور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔حکومت نقصانات کا معاوضہ دیکر غریب عوام کی دلجوئی کرے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے گزشتہ روز بارگوپائین کا دورہ کرکے سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے بارگو پائین کے عوام کو مالی طور پر سخت نقصانات پہنچ چکے ہیں اور غریب عوام کا سال بھر کا روزگار کا واحد ذریعہ کھیتی باڑی ہے جو کہ بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ گزرچکا ہے اور تاحال نہ تو رابطہ سڑک کو بحال کیا گیا ہے اور نہ ہی واٹر سپلائی کو۔پانی انسانی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے حصول کیلئے سیلاب زدہ علاقے کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے کئی خاندان بے گھر ہوچکے ہیں اور محکمہ ڈیزاسٹر کا صرف جائزہ لینے کی حد تک دورہ ناکافی ہے جبکہ سال 2015 مین بارگو بالا کے سیلاب متاثرین بھی ابھی تک امداد کے منتظر ہیں اور فنڈ ز کا رونا روکر معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی زد میں آنے والوں کیلئے اب تک حکومت جامع منصوبہ نہیں دے سکی ہے صرف زبانی طفل تسلیوں سے زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش ہے۔انہوں نے چیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ وہ ان متاثرین کے نقصانات کے ازالے کو یقینی بنانے کیلئے نوٹس لیں۔

Page 5 of 872

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree