The Latest

امریکہ، اقوام عالم کا بد ترین دشمن

وحدت نیوز (آرٹیکل) طول تاریخ میں ہمیں امریکہ کی سیاست اور حکومت کی ایک ایسی بد ترین مثال نظر آتی ہے کہ جو زبان سے تو انسانیت اور انسانی حقوق کا واویلا کرتی نظرآتی ہے لکن عملی طور پر امریکی سیاست و حکومت دنیا کی اقوام کے لئے نہ صرف ایک بدی اور برائی کے طور پر ثابت ہوئی ہے بلکہ اقوام عالم کی بد ترین دشمن کے طور پر سامنے آئی ہے۔امریکی سیاست کا ہمیشہ سے وتیرہ ہی رہا ہے کہ امریکی مفادات یعنی امریکہ کے چند ایک سیاستدان جو کہ بذات خود اب صیہونیوں کے زیر اثر ہیں، ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے دنیا کے کسی بھی گوش وکنار میں کتنا ہی قتل عام کیوں نہ کرنا ہو کرتے رہو، چاہے نت نئے دہشت گرد گروہ ہی کیوں نہ بنانے پڑیں ، چاہے اسرائیل جیسی خونخوار جعلی ریاست کو اربوں ڈالر کا اسلحہ دے کر نہتے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے، چاہے یمن میں امریکی اسلحہ کی کھیپ کی کھیپ سعودی حکمران خاندان کو پہنچا کر یمن کے عوام کا قتل عام اور ان پر زندگی تنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑے ، چاہے کشمیر میں بھارتکی جارحیت کی حمایت اور مظلوم کشمیریوں کے قتل عام پر خاموشی ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے، اسی طرح چاہے عراق و افغانستان میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام، ویت نام میں انسانیت کی دھجیاں اڑانا، ہیرو شیما ناگا سا پر ایٹم بم گرانا اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بالخصوص پاکستان میں ڈروں حملوں کے ذریعہ اور کبھی دہشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں لا کر ان کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسی ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانا پڑے، چاہے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینا پڑے، چاہے لسانیت کو پھیلانا پڑے، شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنا اور اسلحہ پہنچانا ،چاہے کسی ملک پر معاشی شکنجہ لگانا پڑے تولگاؤ، ایران و ترکی جیسے ممالک جو حالیہ دنوں امریکہ کی معاشی دہشت گردی کا شکارہیں، اس طرح کے متعدد دیگر مسائل کو پیدا کرنا پڑے امریکہ یہ سب کرتا آیا ہے اس اس عنوان سے امریکہ ایک ایک سو سالہ تاریخ دہشت گردی کے سیاہ ترین ابواب سے تاریک تر ہو چکی ہے۔حالیہ دور میں ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ امریکی سیاست کا دارومدار صرف اور صرف غاصب صیہونیوں کے تحفظ کی خاطر دنیا کے امن کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے، وہ غاصب صیہونی کہ جنہوں نے پہلے امریکہ وبرطانیہ کی مدد سے فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے ایک جعلی ریاست اسرائیل کو وجود میں لائے اور پھر فلسطینیوں کا ستر برس سے قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے ہیں، اسی طرح پوری دنیا میں ان صیہونیوں کے مفادات کی خاطر انسانیت کے ساتھ عجب مذاق کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں فلسطین سے کشمیر تک مظلوم انسان اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کئے جا رہے ہیں اور نہ جانے کب تک مزید قتل عام جاری رہے گا۔

رواں ماہ امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس منعقد ہو اہے ، در اصل اقوام متحدہ کے کردار پر بھی ایک تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا آج تک اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام کیوں رہاہے ہے؟ مزید یہ کہ اس ناکامی کے ساتھ ساتھ عالمی دہشت گرد قوتوں اور قاتلوں کو بھی اس ادارے کی سرپرستی کہہ لیجئے یا پھر خاموش حمایت کیوں حاصل رہی ہے۔خیر یہ ایک طویل بحث ہے جس پر کسی اور مقالہ میں تفصیلی گفتگو پیش کیجائے گی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان اور رہنماؤں سمیت وزرائے خارجہ نے خطاب کیا ہے اور اگر ان سب کے خطابات کا خلاصہ نکال لیا جائے تو افریقہ و یورپ سمیت ایشیاء و آسٹریلیا تک اور لاطینی امریکائی ممالک تک، تمام کے تمام اقوام امریکی ظلم اور ستم ظریفی کو براہ راست اور بالواسطہ بیان کرتے رہے ہیں، چین کی بات کریں تو چین نے بھی امریکی شیطانی سیاست پر سخت اعتراض کیا، افغانستان ، عراق، شام تو پہلے ہی امریکی ناپاک سازشوں کو بھگت ہی رہے ہیں، فرانس و جرمنی نے بھی امریکی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، ایران نے بھی امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں اس کی شیطانی سیاست پر آئینہ دکھایاہے، ترکی نے بھی کھری کھری سنا دی ہیں، اسی طرح لاطینی امریکا کا ایک چھوٹا سا ملک بولیویا نے بھی امریکی سازشوں اور دہشت گردانہ سیاست کو مسترد کیا ہے، ونیزویلا، شمالی کوریا، روس، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے امریکا کی غلط اور دہشت گردانہ پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یعنی اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں امریکی سیاست و حکومت کے کارناموں پر جس طرح سے دنیا بھر کی اقوام کے نمائندوں سے اظہار خیال کیا ہے یہ اس بات کی کھلی دلیل اور ثبوت ہے کہ امریکہ اور اس کی سیاست دنیا کے اقوام کی بد ترین دشمن ہے جیسا کہ ایک سو سالہ تاریخ میں امریکہ کے ہاتھوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہوں کا خون ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کی حکومت دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی کے باعث نہ صرف امریکی عوام کی نظروں میں اپنا معیار کھو چکی ہے بلکہ دنیا کی دیگر مہذب قومیں بھی امریکی حکومت کی ایسی پالیسیوں کو کہ جس کے تحت امریکا ہر دہشت گردی کے اقدام کی حمایت کرتا ہے ، سخت مخالف کر رہے ہیں، مثال کے طور پر ، فلسطین، یمن، لبنان، شام، عراق، افغانستان، لیبیا، پاکستان، کشمیر، برما و دیگر ممالک میں جہا ں جہاں دہشتگردی ہے سب امریکی حمایت یافتہ دہشت گردگروہوں کے مرہون منت ہے۔حد تو یہ ہے کہ اب امریکی حکومت کی حالت اس قدر نا گفتہ بہ ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی صدر کی انتھک کوششوں کے باوجود ایران کے خلاف کسی بھی ایک ملک نے ووٹ نہیں دیا اور امریکی صدر کو تنہا ئی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ خود امریکی سیاست اور حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔دنیا بھر میں امریکی مداخلت کے باعث آج ہر ذی شعور یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد حکومت ہے کہ جو دنیا بھر کی اقوام کی بدترین دشمن ہے۔


 تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

وحدت نیوز (اسلام آباد) سربرا ہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدار ت مرکز ی کابینہ کا اجلاس،اجلاس میں بھارت کے جارحانہ عزائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملکی سلامتی و دفاع کے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعادہ بھی کیا گیا ،سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وطن عزیز کی حفاظت اور دفاع ہمارے ایمان کا حصہ ہے،بھارت سمیت کسی بھی استعماری طاقت کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دینگے،ہم بانیاں پاکستان کی اولاد ہیں پاک دھرتی کے تحفظ کے لئے ہم کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،اجلاس میں ایم ڈ بلیو ایم کا ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کرنے کا فیصلہ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس تقوی نے کہا کہ ملک بھر کے مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا مجلس وحدت مسلمین پاکستان بطور سیاسی مذہبی جماعت ملک کے چاروں صوبوں آزاد کشمیر سمیت گلگت بلتستان میں عوامی قوت رکھتی ہے ہم وطن میں عزیز ترقی و خوشحالی کے خواہا ں ہیں ،ہم خدمت اور عوامی جدوجہد کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اور آئیند ہ بھی مثبت اور تعمیر ی سیاسی جد وجہد کو جاری رکھیں گے،سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ ملکی مفادات قومی وقار اور کو مقدم رکھتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیاسی سیل نے ماہ اکتوبر میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں کلیدی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو تمام حلقوں کاجائز لینے کیساتھ ساتھ مقامی سیاسی کونسل کے اراکین سے مل کر ملکی و قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کریں گے۔

وحدت نیوز (گلگت)  راجہ جلال حسین مقپون کے گورنر گلگت بلتستان مقرر ہونے پر نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے محروم عوام کی محرومیوں اور مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دینگے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے اپنے ایک بیان میں راجہ جلال حسین مقپون کو گورنر گلگت بلتستان مقرر ہونے پرنیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ایک عرصے سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور گورنر موصوف عوامی مسائل کے حل کیلئے اپنی توانائیوں سے بھرپور استفادہ کرینگے۔امید ہے گلگت بلتستان میں میرٹ کی بحالی اور غریب عوام کے بنیادی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی شاہ خرچیوں اور پروٹوکول پر اٹھنے والے اخراجات کو کنٹرول کرکے عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنانا وقت کی ضروریات میں سے ہے لیکن بد قسمتی سے گلگت بلتستان حکومت نے تمام اخلاقی حدود کو پائمال کیا ہے اور میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی  ہیں جس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے خزانے کو چند گھرانوں تک محدود کردیا ہے جس طرح سے پنجاب میں نواز لیگی حکومت نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے خزانے کے منہ کھول دیئے تھے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر موصوف غریب عوام کو انصاف فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

وحدت نیوز (گلگت) محرم الحرام میں قیام امن کیلئے محنت کرنے پرچیف سیکرٹری اور آئی جی پی گلگت بلتستان اور ضلعی ایڈمنسٹریشن سمیت سیکورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔تمام چھوٹے بڑے پروگراموں میں ڈی سی اور ایس ایس پی گلگت کی شرکت اور فوری احکامات قابل تعریف ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہاہے کہ فول پروف سیکورٹی اور صفائی کو بہتر کرنے پر ایڈمنسٹریشن کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔اگر حکومتی ذمہ داران کاعوام کے ساتھ روابط مضبوط ہوں تو مسائل جنم لینے کی بجائے ختم ہوجاتے ہیں،امسال ماہ محرم الحرام میں ایڈمنسٹریشن اور فورسز کا تعاون مثالی رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی عہدیدار ،وزراء،مشیروں کی فوج ظفرموج کہیں نظر نہیں آئی جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام کو گلگت بلتستان حکومت نے فرقہ وارانہ بنیاد پر جی بی کو تقسیم کرکے تین اضلاع میں چھٹی کا اعلان کرتے ہوئے سوائے منافرت پھیلانے کے کوئی اور کام نہیں کیا جو کہ قابل مذمت ہے اور اس اقدام کی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ہر ذی شعور شخص نے مذمت کی ہے اور آنے والے وقتوں میں ایسے اقدامات علاقے کیلئے نیک شگون نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ 8 محرم الحرام کو نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کرکے جہاں علاقے کے امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی وہاں محرم الحرام کے تقدس کو پائمال کرکے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے اور خاص کر پارلیمانی سیکرٹری برکت جمیل کا غیر ذمہ دارانہ فعل قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے تقدس کے پائمالی کے پیش نظر فائرنگ کرنے والے عناصر کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے خاص کر ممبر اسمبلی برکت جمیل کو نااہل قرار دیا جائے۔

حضرت امام حسینؑ غیر مسلموں کی نظر میں

وحدت نیوز(آرٹیکل) سیاسی و مذہبی رہنما اپنے نظریات کی بنا پر مخصوص طبقات کو اپنا گرویدہ کرتے آئے ہیں۔دنیا کے قدیم مذاہب اور ان کے پیشوا ؤں کی تعلیمات کے اثرات میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی رہی۔ عرب کی سرزمین پر جب کفر و شرک اور جہالت عروج پر تھی۔اللہ تعالی نے ان لوگوں کی رہنمائی کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا۔نبی کریم ﷺ نے بعثت کے بعد تیئس سالہ زندگی میں کفار کی جانب سے دی جانے والے تکالیف اور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی عزت و تکریم اور مرتبہ سے بھی امت کو آگاہ کیا۔تمام مسلک کی مستند کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے کہ ’’حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں‘‘ اسی طرح نماز کے دوران نبی کریم ﷺ کے کاندھوں پر امام عالی مقام کا سوار ہونا اور حسنین کریمن علیہم السلام سے ہر موقع پر بے پناہ محبت کا اظہار کرناسبط پیغمبر ﷺکے مقام کو واضح کرتا ہے۔رسول ﷺ کی رحلت کے بعد اہل بیت علیہم السلام کو کہیں آزمائشوں سے گزرنا پڑا ۔

سانحہ کربلا ان کٹھن امتحانات میں سے ایک تھا۔جب نواسہ رسولﷺ اور ان کے جانثاروں پر باطل کی بیعت نہ کرنے پر پانی بند کردیا گیا۔میدان کربلا میں امام ؑ نے جب حل من ناصر ینصرنا کی صدا بلند کی تب امام ؑ کوتلواروں کی نہیں بلکہ مقصد کی مدد مانگ رہے تھے امامؑ کی نصرت ان کے مقصد کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے۔ حسینیت ظالم کے خلاف ڈٹنے کا نام ہے۔امام حسینؑ کے گرویدہ محض اہل اسلام ہی نہیں بلکہ ہراہل ضمیر ہے۔امام عالی مقامؑ کے محبان دنیا کے ہر کونے اور ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ غیر مسلم رہنماؤں نے بھی امام حسینؑ کے حوالے سے اپنے نظریات بیان کیے ہیں۔

نیلسن مندیلا کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی زندگی کے بیس سال قید میں گزارے ،پھر ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ حکومت کی تمام شرائط کو تسلیم کرلوں لیکن اچانک میرے خیال میں امام حسینؑ اور تحریک کربلا آئی جس نے مجھے آزادی اور آزاد ی کے لیے ڈٹ جانے کی طاقت مہیا دی‘‘مہاتماگاندھی اپنی قوم کو کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر انڈیا کامیاب ملک بننا چاہتا ہے تو ،اسے امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے آپؑ کے نقش قدم پہ چلنا ہوگااور اگر میرے پاس امام حسینؑ کے بہادر سپا ئیوں کی طرح کے بہترسپاہی ہوتے تو میں چوبیس گھنٹوں میں انڈیا کے لیے آزادی کی جنگ جیت جاتا‘‘ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ’’میں نے امامؑ سے سیکھا کہ ایک مظلوم کس طرح فتح یاب ہوتا ہے‘‘۔

امام حسینؑ کی قربانی کا ذکرکرتے ہوئے مہاتما گاندھی کہتے ہیں’’یہ میرا یقین ہے کہ اسلام کی ترقی کا انحصار اس پر ایمان رکھنے والوں کی شمشیر کے استعمال پر نہیں بلکہ یہ حسینؑ کی بہترین قربان کا نتیجہ ہے‘‘۔

ڈاکٹر راجندرا پراساد (انڈیا کے پہلے صدر) کہتے ہیں کہ’’امام حسینؑ کی قربانی محض ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے اخوان المسلمین کی وراثت ہیں‘‘ ہندو مذہب کے روحانی پیشوا سوامی شنکراچاریا کا کہنا ہے کہ’’ یہ امام حسینؑ کی قربانی تھی جس نے اب تک ،سلام کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ دنیا میں کوئی شخص بھی اسلام کا نام لینے کے لیے باقی نہ رہتا‘‘

شام کے معروف مصنف اینٹائن بارہ نے اپنی تصنیف145145Imam Hussain (a.s) in the Indelogy of Christan146146 میں امام عالی مقام حضرت حسینؑ کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی جرات و استقامت اور حق گوئی کی تاریخ مین مثال نہیں ملتی۔

برطانیہ کے ممتاز مصنف و نقاد ’’چارلیس ڈکنز‘‘کے الفاظ حسینؑ کی جنگ اگر دنیاوی خواہشات کے حصول کے لیے ہوتی تو آپؑ کے اہل خانہ قطعاََ آپؑ کے ہمراہ نہ جاتے ۔یہ ہم رکابی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام حسینؑ کی قربانی خالصتاَ اسلام کے لیے تھی۔اپنے والد کے متعلق کہتے ہیں کہ’’کسی شخص نے بھی میرے والد کو ماہ محرم میں مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا اور دسویں محرم(روز عاشور) تک ان کی اداسی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا اور روز عاشورہ ان کے لیے دکھ اور گریہ کا دن ہوتا۔‘‘

یونانی مورخ اور مضمون نگار تھومس کارلائل نے کہا کہ’’ سانحہ کربلا سے جو بہترین سبق میں نے حاصل کیا وہ یہ ہے کہ امام حسینؑ اور ان کے پیروکار اللہ تعالی پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے ، ان کے نزدیک حق اور باطل کے معرکے میں عددی برتری کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی یہی وجہ ہے کہ کم تعداد کے باوجود حسینؑ کو فتح حاصل ہوئی۔‘‘

گورو نانک (سکھوں کے عظیم رہنما)نے امام حسینؑ کے متعلق کہا ہے کہ’’امام حسینؑ کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ،بلکہ ہر اس شخص سے ہے جو ضمیر رکھتا ہوا‘‘۔دیگرمذاہب کے لوگوں نے امام حسینؑ کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان کے مقصدکو سمجھتے ہوئے اپنی زندگیا ں باوقار انداز میں گزاریں ۔دنیا میں آج بھی حق و باطل نظریے کے لوگ موجود ہیں۔امام حسینؑ کی اور یزید کی جنگ محض دو شخصیات کی نہیں بلکہ دو افکار کی جنگ تھی ۔

آج مقصد حسینؑ کو بھلا کر کچھ لوگ اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ محرم میں شادی کرنا ،خوشیاں منانایا وغیرہ جائز ہیں یا نہیں ۔امامؑ کا در س حیات کسی ایک مخصوص طبقے یا مکتبہ فکرکے لیے نہیں ہے بلکہ تمام اہل انسانیت کے لیے ہے۔امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’میں ہوس اور اقتدار طلبی کے لیے خروج نہیں کر رہا اور نہ ہی میں فساد اور ظلم کرنے کے لیے نکل رہا ہوں بلکہ میرا مقصد اپنے جد امجدکی اصلاح ہے۔میں امرباالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ آپؑ ہمارے لیے تاحیات مشعل راہ ہیں۔

رسول خدا(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں’’جب میری امت ظالم کے سامنے بولنے سے عاجز ہوجائے،تواس کی موت پہنچ چکی ہوگی‘‘۔دراصل مقصد حسینؑ سیرت حسینؑ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ے اپنی امت کی اصلاح کے لیے جن دو ہم وزن چیزوں کا ذکر کیا ہے ان میں ایک قران اور دوسرے اہلبیت اطہار علیہم السلام ہیں۔

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؑ
 چرغ نوع بشر کے تارے ہیں حسین
ؑ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ، ہمارے ہیں حسینؑ


تحریر:کساء زہراکاظمی

وحدت نیوز(آرٹیکل)  پاکستان کے دشمن متحد ہیں، ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں، ہندوستان اور افغانستان نے بھی اپنا منہ کھول رکھا ہے، اسرائیل پر تول رہا ہے لیکن اس وقت  اصلی جنگ معاشی جنگ ہے۔  معاشی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے  امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  امریکا کا احترام نہ کرنے والے ممالک کو امداد نہیں ملے گی ،قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی بے انتہا قربانیوں کے باوجود امریکہ پاکستان کو اپنا تابعدار ملک نہیں سمجھتا۔ انہوں نے تقریر میں یہ بھی کہا کہ چین سے تجارت میں عدم توازن برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے  کھلے لفظوں میں اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی عالمی عدالت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یاد رکھیئے کہ امریکا کسی بھی عالمی عدالت کی حیثیت کا قائل نہیں ۔ امریکی تاریخ شاہد ہے کہ  دنیا میں صرف دو مرتبہ ایٹم بم داغا گیا ہے اور وہ بھی امریکہ نے ہی داغا ہے ، ایک مرتبہ ہیرو شیما پر اور دوسری دفعہ ناگا ساکی پر۔

ہولوکاسٹ پر واویلا مچانے والے ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں لاکھوں انسانوں کے بھسم ہوجانے پر خاموش ہیں چونکہ ان کی رگِ اقتصاد امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔  اس کے علاوہ ۱۹۵۵ سے ۱۹۷۵ تک امریکہ نے ویتنام میں قتلِ عام کیا، اس قتلِ عام میں تیس لاکھ سے زیادہ سول لوگ مارےگئے اور ان سول لوگوں کومارنے کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا جس کی کسی عدالت میں باز پرس نہیں ہوئی۔ امریکہ نے سالانہ پچاس ہزار بمب ویتنام میں گرائے لیکن کسی  عالمی ادارے نے امریکہ کا راستہ نہیں روکا۔

امریکہ نے ستمبر ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۴ تک افغانستان پر جنگ مسلط کئے رکھی، اس جنگ میں  لاکھوں افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا اور ان کی خواتین کی عصمت دری کی گئی۔نہتے افغانیوں کے خلاف امریکہ نے جدید ترین ہتھیار استعمال کئے لیکن عالمی برادری نے  امریکی جارحیت کو رکوانے کے لئےکوئی کردار ادا نہیں کیا۔وجہ پھر یہ تھی کہ دنیا کا اقتصاد ڈالر کے گرد گھوم رہا تھا۔

۲۰ مارچ ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۰ تک امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، ان سات سالوں میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد اس جنگ میں متاثر ہوئی اور عراق کی سڑکیں اور پل کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے لیکن ایک مرتبہ پھر عالمی برادری امریکی ڈالر کی بھیک ملنے کی وجہ سے چپ سادھے رہی۔

امریکی مزاج کو سمجھنے کے لئے یہ چند تاریخی نمونے ہم نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔امریکی مزاج کو سمجھئے، امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی قانون یا عدالت کا پابند نہیں۔

امریکہ نے پاکستان پر جو معاشی جنگ مسلط کر رکھی ہے ،اس کی وجہ سے سی پیک امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بہاتا اور پاکستان کو عسکری دباو میں رکھنے کے لئے جہاں ایک طرف سے بھارت اور افغانستان سے دھمکیاں دلوائی جارہی ہیں وہیں دوسری طرف  سےافغانستان میں داعش کو بھی لاکر آباد کیا جا رہا ہے۔نیز اب معاشی طور پر پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی بھی دی جارہی ہے۔

 اس سلسلے میں  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) کا اعلیٰ سطح کا وفد اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گا، عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی ، مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوگا  نیز  ملکی معیشت پر شدیدمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اب جبکہ پاکستان شدید معاشی جنگ سے گزر رہا ہے تو پاکستان کی تاجر برادری کو چاہیے کہ وہ میدان میں آئے اور اس معاشی جنگ کا جواب دے۔ ہر محاز پر اس محاز کے مجاہد ہی لڑا کرتے ہیں۔ معاشی محاز پر ہمارے ماہرین معاشیات، تاجروں، ٹریڈ یونینز ، تجارت سے مربوط انجمنوں اور تنظیموں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقتصادی میدان میں امریکی جنگ  اور جارحیت کا دندان شکن جواب دیں۔

 ہمارے  وزیرِ خزانہ، تاجروں  اور عوام کو مشترکہ اور انفرادی طور پر امریکی مصنوعات اور ڈالر کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔  تاجر برادری کو  یقین کرنا چاہیے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے اور ہر غیرت مند پاکستانی اس میدان میں اپنی تاجر برادری کے ہم قدم ہے۔

اگر ہم تجارت کے میدان میں امریکہ کا بائیکاٹ کردیں تو بھارت ، افغانستان اور داعش سمیت تمام خطرات خود بخود ٹل جائیں گے چونکہ یہ سب امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔

تجارت کا محاز ایک اہم محاز ہے، ہمیں اسے خالی نہیں چھوڑنا چاہیے، ہماری میڈیا،  خطبا، علمائے کرام ، کالم نگار وں اور دیگر دانشمند طبقات سے گزارش ہے کہ وہ تاجر برادری سے رابطے کریں  اور اپنی زبان و قلم کے ذریعے تاجر برادری کو امریکہ کے خلاف صف آرا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہم سب امریکہ کے مقابلے میں ایک ہو جائیں تو جہاں امریکی ڈالر کی کمر ٹوٹے گی وہیں اقتصاد  اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

ہم اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، پاکستان کے دشمن متحد ہیں، ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں، ہندوستان اور افغانستان نے بھی اپنا منہ کھول رکھا ہے، اسرائیل بھی  پر تول رہا ہے لیکن  اس وقت اصلی جنگ معاشی جنگ ہے۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(کراچی)  مجلس وحدت مسلمین کراچی ، ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل سید عارف رضا زیدی اپنے بیان میں کہاہے کہ میمن گوٹھ ملیر میں نو محرم الحرام کے جلوس عزاپر حملہ مذہبی آزادی پر حملہ ہے، پاکستان کا آئین ہر شہری کو آزادانہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق دیتاہے جس پر کسی صورت قدغن برداشت نہیں کی جاسکتی،انہوںکہاکہ جلوس عزاپر حملے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی عہدیداران اور بلدیاتی نمائندگان کا ملوث ہونا باعث شرم اقدام ہے، پیپلز پارٹی ایک جانب بین المذاہب ومسالک ہم آہنگی کی دعویدار بنتی ہے دوسری جانب اس کے اراکین کا ایسا فرقہ وارانہ طرزعمل قول وفعل کا تضادہے، انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے اس شرمناک اور فرقہ وارانہ اقدام میں ملوث پی پی پی کے عہدیداران اور بلدیاتی نمائندگان  ڈیھ ملھ مرادمیمن گوٹھ کے یوسی ناظم عبدالحمید بروہی، سابق یوسی ناظم سلیم میمن کےبیٹےزاہد، بھتیجےنویداور ایک مذہبی شدت پسند رہنمانذیر نعیمی کے خلاف فوری تنظیمی تادیبی اور قانونی کاروائی عمل میں لائے جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کسی کو بھی مذہبی شدت پسندی کا حوصلہ حاصل نا ہوسکے ۔

وحدت نیوز(ٹنڈومحمد خان ) یکم محرم تا دس محرم الحرام تمام اداروں کے بہترین انتظامات پہ اظھار تشکر کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین ٹنڈو محمد خان کے  سیکریٹری جنرل مولانا محمد بخش اورانچارج عزاداری سیل فیاض علی نے کہا کہ ہم انتھائی مشکور و ممنون ہیں پولیس انتظامیہ باالخصوص ڈی۔سی محمد یاسر بھٹی۔ایس ایس پی توقیر محمد نعیم۔ڈی آئی بی انچارج سید فضل شاہ۔ میونسپل چیئرمین سید شاھنواز شاہ حیسکو سے عبدالستار لغاری ،رینجرز اور ڈی ایچ او ڈاکٹر مقبول ملاح عزاداری کے مسائل پہ ہر وقت رابطہ میں رہے اور ہر ممکنہ سھولیات فراہم کیں اور پولیس اھلکاران کے جنہوں نے دن رات ایک کرکے امن و امان کی بحالی کے لئے بھتر اور منظم انتظامات کئے انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دھشتگردی کے نشانے پر ہے محرم الحرام کے سلسلے میں سندھ بھر کو حساس قرار دیا گیا تھا جس میں ٹنڈو محمد خان بھی سرفھرست ہے۔پولیس کیجانب سے بھترین سیکیورٹی انتظامات یعنی دھشتگردی کیخلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے کے مترادف ہے اور انسانیت کے دشمن اس جنگ میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔دؤران محرم پولیس انتظامیہ کا بھترین تعاون رہا پولیس انتظامیہ کی انتھک محنتیں لائق تحسین ہیں۔ہم دھشتگردی کیخلاف اس جنگ میں پاک فوج اور پولیس انتظامیہ کے شانہ بشانہ ساتھ ہیں جہاں بھی ضرورت پڑی ہم پولیس انتظامیہ  سے بھرپور تعاون کرینگے امید ہے ایسے ہی پولیس انتظامیہ بھی اسی طرح عوام کے تحفظ کے لئے بھتر انتظامات کرتی رہیگی۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زہرانقوی نےاپنے بیان میں کہاہےکہ ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین ملک بھر میں ماہ صفر المظفرکے پہلے عشرے کو مولاعلی ؑ کی شیر دل بیٹی فاتح کوفہ وشام حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی یاد میں عشرہ زینبیہؑ کے عنوان سےمذھبی جوش و جذبے اور راہ زینب س کو اپنانے کے عہدکےساتھ منائےگا، اس مناسبت سے ملک بھرمیں مجالس عزااور سیمینارز کا انعقادکیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ سیرت زینب ؑ نے کربلا کی تحریک کو وہ طاقت دی کہ ظالم کو ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا اس پر آشوب دور میں بھی جس طرح سے اسلامی اقدار کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں ہماری خواتین کو میدان میں آکر کردار جناب زینب ؑ پر عمل کر تے ہوئے اسلامی اقدار اور اصولوں کا محافظ بننا ہو گا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین اسلام آباد کی جانب سے 9 محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزامیں میں مومنات کے لیے دختر امام حسین ؑ جنابِ سکینہ (س) کی یاد میں سبیلِ جنابِ سکینہ (س) لگائی گئی، فرسٹ ایڈ کیمپ اور نماز و آرام کا اہتمام کیا گیاجس میں خواہر صدیقہ کائنات، خواہر حنا، خواہر اجلا زہرا،ڈاکڑ نسیم زہرا اور اسلام آباد کی تمام سکاؤٹس نے بہت ذمہ داری سے اس بہترین عملِ خیر کو بخوبی سر انجام دیا ، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کی آرگنائزر خواہر صدیقہ نے کہاکہ پروردگار عالم سب کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائےاور  بی بی (س)اس عظیم عبادت کا اجرِ عظیم عطا فرمائیں اور ہم سب خواہران کو کردارِ زینبی (س) پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں ۔

Page 5 of 884

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree