The Latest

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) چونکہ عالم اسلام دو حصوں شیعہ اور سنی میں تقسیم تھا، اس لئے بوڑھے استعمار نے بڑی چالاکی کے ساتھ چار جعلی مذاہب کی بنیاد رکھنے کی پلاننگ کی، دو کے لئے عرب اور دو کے لئے عجم کو چنا گیا اور پھر ان علاقوں سے اہم شخصیات کا انتخاب کیا گیا،مجلس وحدت مسلمین صوبہ کے خیبرپختونخواہ کے سیکرٹری جنرل علامہ اقبال بہشتی نے بہائیت اور دیگر انحرافی مذاہب اور تحریکوں کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے  کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عالمی استکباری طاقتیں اسلام سے خوفزدہ ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ استعماری طاقتیں انسانیت کا استحصال کرتی ہیں، اور ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے۔ لہذا ان طاقتوں نے اسلام کے خلاف سازش کی اور اٹھارویں صدی میں اسلام مخالف تحریکوں اور نئے انحرافی جعلی مذاہب کی بنیاد رکھی گئی۔ چونکہ عالم اسلام دو حصوں شیعہ اور سنی میں تقسیم تھا، اس لئے بوڑھے استعمار نے بڑی چالاکی کے ساتھ چار جعلی مذاہب کی بنیاد رکھنے کی پلاننگ کی، دو کے لئے عرب اور دو کے لئے عجم کو چنا گیا اور پھر ان علاقوں سے اہم شخصیات کا انتخاب کیا گیا۔

ان چار انحرافی مذاہب میں سے وہابیت اسلام کے نام پر بڑی تیزی سے پروان چڑھا، قادیانیت نے بھی پذیرانی حاصل کی، تاہم شیعہ دنیا میں بننے والی انحرافی مذاہب تیزی سے پروان چڑھنے میں ناکام رہے، جس کی بڑی وجہ شیعیت میں اجتہاد کی ہے۔

اسی طرح ان کے عقائدی ٹارگٹ بھی مختلف تھے،وہابیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روحانی پہلو کو کم کرنے اور قادیانیت ختم نبوت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے میدان عمل میں اترے، شیخیت نے غلو کو پروان چڑھایا اور بہایئت کے ذریعے عقیدتی کے ساتھ ساتھ اخلاقی انحراف پیدا کیا گیا جیسا کہ محارم کے ساتھ شادی وغیرہ۔

پاکستان میں قادیانیت کے خلاف شعور موجود ہے لیکن بہائیت کے خطرات سے پاکستانی عوام آگاہ نہیں ہیں۔ ایران میں ناکامی کے بعد بہائیت نے برصغیر اور یورپ کا رخ کیا ہے، بہائیت کا نظریاتی مرکز غاصب صہیونی ریاست  کے شہر حیفہ میں ہے، بہائیت باقی تینوں سے زیادہ خطرناک ہے، ان کا مرکز اسرائیل ہے، شمالی علاقہ جات سے لیکر کراچی تک بہائیت کے چھوٹے بڑے مراکز موجود ہیں، عوام، خواص، اداروں اور وزارت داخلہ اور مذہبی امور کو اس حوالے سے حساسیت دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔

قانون اور مذہب کے ساتھ کھلواڑ

وحدت نیوز(آرٹیکل) قانون اور شعور کا گہرا تعلق ہے، انسان جتنا باشعور ہوتا ہے اتنا ہی قانون پسند بھی۔ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ طالبا ن  اور داعش سے نفرت کرو، اس لئے کہ وہ قانون شکن ہیں، وہ ملک اور دین کی بدنامی کا باعث ہیں، وہ خواتین کو کوڑے مارتے ہیں ، وہ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور وہ۔۔۔

ظاہر ہے ہر محب وطن پاکستانی ، اپنے ملک اور آئین کی بالادستی کے لئے طالبان  اور داعش کے خلاف کمر بستہ ہے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ قانون شکنی اگر جرم ہے تو پھر سرکاری لوگوں کے ذاتی عقوبت خانوں کو کیا نام دیا جائے!

 قانون سے کھلواڑ اگر بے شعوری کی دلیل ہے تو لوگوں کا ماورای قانون اغوا اور لاپتہ ہونا کس بات پر دلالت کر رہا ہے!

 ملک اور دین کی بدنامی اگر قبیح ہے تو پھر ائیر پورٹ پر خواتین کی پٹائی کر کے کونسی نیک نامی کمائی گئی ہے!

خواتین کو کوڑے مارنا اگر قابلِ مذمت ہے تو پھر کسی مستور کو برہنہ کر کے گلی کوچوں میں پھرانے کو کیا کہا جائے!!!

گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں  تھانہ چودہوان کی حدود میں گرہ مٹ کے کچھ مسلح افراد نے ذاتی دشمنی کے باعث مخالف خاندان کی 16 سالہ بچی شریفاں کو اس وقت ننگا کر کے گائوں میں گھومنے پر مجبور کر دیا جب وہ جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس آ رہی تھی۔

غنڈوں نے مدد کے لئے چیختی ہوئی اس  برہنہ بچی کو کسی سے چادر تک نہ لینے دی،  شیطانیت ایک گھنٹے تک رقص کرتی رہی لیکن پولیس یا ہمارے انتہائی حساس اداروں کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔

یہ سب ُاس صوبے میں ہوا جس میں غیرت اور مذہب کے نام پر قتل کرنے کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔  اور جہاں کچھ عرصہ پہلے مشال خان کو توہین مذہب کا الزام لگا کر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

اسی صوبے میں   ایک گھنٹے تک  مسلمان بچی کو برہنہ کرکے  اس پر  تشدد کیا جاتا رہا لیکن   کسی کے مذہب کی توہین نہیں ہوئی، کسی جہادی کی رگِ جہاد نہیں پھڑکی، کسی مُلّا نے ایک مسلمان بچی کی آبرو بچانے کے لئے کوئی فتوی نہیں دیا، کسی مسجد کے سپیکر سے کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، کسی تنظیم کے جیالے اپنے دیس کی بیٹی کی ناموس بچانے کے لئے میدان میں نہیں اترے، جی ہاں اور اس ایک گھنٹے میں کسی قانونی ادارے کے نزدیک ملک میں کسی قسم کی کوئی قانو ن شکنی نہیں ہوئی۔

جب بچی کے ورثاء تھانے رپوٹ درج کرانے گئے تو  وہاں پر کوئی طالبان یا داعش کے کارندے  ڈیوٹی پر نہیں تھے بلکہ ہمارے قانون کے محافظ براجمان تھے، جنہوں نے باثر ملزمان کے ساتھ مل کر لڑکی کے خاندان کو دباو میں لانے کے لئے اس کے  بھائی پر بھی ایک مقدمہ درج  کر لیا ۔

چونکہ یہ سب کچھ کرنے والے طالبان، القاعدہ یا داعش نہیں ہیں لہذا یہ سب کچھ برا بھی نہیں ہے۔ دوسری طرف صحافیوں پر حملوں اور تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے تو چونکہ یہ سب کچھ طالبان ، القائدہ یا داعش کی ریاست میں نہیں ہو رہا لہذا ہمارے ہاں  اس کے ہونے میں کوئی قباحت بھی نہیں سمجھی جاتی۔

قباحت تو تب ہے کہ جب طالبان کے اذیت کدوں میں کسی پر ٹارچر کیا جائے لیکن اگر  کسی سرکاری ٹارچر سیل میں جمشید دستی جیسے کسی شخص پر بچھو چھوڑے جائیں تو یہ قانون، مذہب  اور آئین کے عین مطابق ہے۔

اسی طرح اسی طرح  معروف سیاستدان ، ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو لاپتہ ہوئے آج کئی دن گزر چکے ہیں،  چونکہ انہیں لاپتہ کروانے میں وزیر قانون  کا ہاتھ ہے لہذا یہ گمشدگی بھی قانونی ہے اور اس میں دینی، شرعی اور قانونی اعتبار سے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ویسے بھی تو اِ س مُلک میں  ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔

آپ خود دیکھ لیجئے ! برما اور کشمیر کی بیٹیوں کی ناموس کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر رونے والے مولوی حضرات کے اپنے دیس میں ایک نوعمر مسلمان بچی کے ساتھ جو سلوک ہوا، اس پر کسی مولانا کے اشک نہیں گرے، کسی مولوی نے جہاد کی بات نہیں کی کسی مفتی نے کفر کا فتوی نہیں دیا۔۔۔

اور عجب اتفاق ہے کہ سیاسی عناصر جس طرح مشال خان کے قتل میں ملوث تھے اُسی طرح ڈی آئی خان کے واقعے میں بھی غنڈوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

اب یہ بھی خبریں ہیں کہ ایم ایم اے بحال ہو رہی ہے یعنی  مولویت و جمہوریت رسمی طور پر پھر سے ایک ہو رہے ہیں۔ اچھا ہے  ایسا ہی ہونا چاہیے چونکہ ہمارے ہاں رائج مولویت اور جمہوریت کی لوح محفوظ پر  عوام کی تقدیر میں یہی کچھ لکھا ہے۔  

عوام کے ساتھ جو مرضی ہے ہوتا رہے، حوا کی بیٹی گھنٹوں برہنہ پھرائی جاتی رہے یا سالوں، ٹارچر سیلوں میں بچھو چھوڑے جائیں یا سانپ، کسی وکیل پر تشدد ہو یا صحافی پر ، اس پر کبھی بھی ہمارا  مقامی مذہبی ٹھیکیدار  یا  سیاستدان  نہیں بولے گا۔

ہمارے ہاں دین اور قانون کے ساتھ یہ کھلواڑ چلتا رہے گا چونکہ یہی ہمارے ہاں کی مولویت اور جمہوریت ہے۔

 

 

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(بیروت) حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکہ اور اور سعودی عرب کو داعش کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔ جنوبی بیروت میں اربعین حسینی کے موقع پر عزاداروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے داعش کو بنایا تھا، تاہم اسلامی انسانی اقدار کے خلاف اتنی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کی مکمل نابودی نزدیک ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو ریاض بلا کر یرغمال بنا رکھا ہے اور انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری سے زبردستی استعفٰی دلوا کر نہ صرف لبنانی وزیراعظم بلکہ پوری لبنانی قومی کی توہین کی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب نے لبنان پر حملے کے عوض اسرائیل کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ سن دو ہزار چھے میں بھی سعودی عرب کے کہنے پر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان کی موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اسی طرح اربعین مارچ کو بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال بھی کروڑوں افراد چہلم کے موقع پر کربلا آئے، جن میں ہر ملک اور ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعودی عرب پر لبنانی وزیرِاعظم سعد حریری کی گرفتاری اور اسرائیل کو حملہ کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے سعد حریری کے حوالے سے ان کے وزارت عظمٰی سے استعفٰی دینے کے فیصلے پر دوسرا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے وزیرِاعظم کو سعودی عرب نے قید کر رکھا ہے اور انہیں اب تک لبنان واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعد حریری کی صورتحال اب تک واضح نہیں، لیکن ان کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز جن میں ان کے سیاسی مخالفین کی کالز بھی شامل ہیں، سے واضح ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سبکدوش لبنانی وزیرِاعظم کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی ہے۔ لبنان کے 47 سالہ سعد حریری نے اچانک 4 نومبر کو لبنانی وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اتفاق سے اسی دوران سعودی عرب میں اعلٰی شخصیات کی گرفتاریوں کی مہم کا آغاز ہوگیا تھا، تاہم اب تک سعد حریری نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب سعودی عرب واپس لبنان پہنچیں گے، جہاں صدر میشال نعیم عون ان کا رسمی طور پر استعفٰی قبول کریں گے۔

گذشتہ روز (10 نومبر کو) لبنان میں موجود سعودی سفیر ولید بخاری سے ملاقات کے بعد لبنانی صدر میشال نعیم عون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سعد حریری کو لبنان واپس آنا چاہیے، لیکن انہوں نے لبنان کے وزیراعظم کی ریاض میں موجودہ حالت کا ذکر نہیں کیا۔ صدر میشال نعیم عون نے سعودی سفارت کار ولید بخاری سے ملاقات کے دوران ان حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا کہ جن کی وجہ سے سعد حریری کا استعفٰی قابلِ قبول نہیں۔ لبنانی صدر جن کی سیاسی حمایتی جماعت حزب اللہ جو سعودی عرب کی شدید مخالت ہے، سعد حریری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی حکومت سے ان کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلر سن نے سعد حریری کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہوئے لبنان کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کو لبنان کی سرزمین کو پراکسی وار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے لئے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، لبنان کی خود مختاری، آزادی اور سیاسی اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ لبنانی کی خود مختادی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔

لبنان اور سعودی عرب سے گہرے تعلقات رکھنے والے فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے 9 نومبر کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اچانک دورہ کیا۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی ریڈیو پر بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ سعد حریری کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں، تاہم اس حوالے سے لبنانی سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ انہیں نظر سعودی عرب میں نظر بند کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعد حریری فرانسییسی صدر کے دورہ یو اے ای سے قبل ابوظہبی میں موجود تھے، جس سے ہمیں لگتا ہے کو وہ آزاد ہیں۔ سعودی عرب سے موصول ہونے والی مبینہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسانا انتہائی خطر ناک عمل ہے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ، نیلم، میرپور، کوٹلی) ریاست آزاد کشمیر میں چہلم امام حسین علیہ السلام مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا۔ تمام جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر، ہزاروں کی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کرتے ہوئے امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی طرح آزاد کشمیر میں بھی چہلم امام حسینؑ بھرپور انداز میں منایا گیا۔ اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے۔ مقررین نے امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ تا ہم مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کی جانب سے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی سمیت لاپتہ افراد کی گمشدگیوں اور علامہ سید تصور نقوی پر حملہ کرنے والے مجرمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔ تمام مرکزی جلوسوں میں قرارداوں کے ذریعے پنجاب حکومت سمیت ارباب اقتدار پر شدید تنقید کی گئی۔خطباء و مقررین نے سید ناصر عباس شیرازی کے اغوا کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پنجاب حکومت کا سیاہ کارنامہ قرار دیا۔ رانا ثناء اللہ کے کردار کو گھناؤنا قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب سے انتقامی کاروایاں و ملت تشیع کے ساتھ ناروا سلوک بند کیے جانے مطالبات سامنے آئے۔

مقررین نے ملک بھر سے لاپتہ شیعہ افراد کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے ماورائے عدالت اقدامات کو ملکی استحکام کے خلاف گہری سازش سے تعبیر کیا۔ میرپور میں علامہ سید تنویر حسین شیرازی، کوٹلی میں مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل سید طاہر حسین بخاری، باغ میں ضلعی رہنماء ڈاکٹر مزمل رضوی، ہٹیاں بالا میں مجلس وحدت کے ریاستی رہنماء سید عاطف ہمدانی، نیلم میں ضلعی رہنما سید فضائل نقوی اور مظفرآباد مجہوئی کے مرکزی جلوس سے ریاستی رہنماء مولانا سید حمید حسین نقوی نے جلوسوں کے شرکاء سے خطاب میں ملت تشیع کیساتھ کیئے جانے والے بہیمانہ سلوک پر چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے آزاد کشمیر حکومت کی علامہ تصور جوادی کیس پر آزاد کشمیر حکومت کی عدم توجہی کی بھرپور مذمت کی اور مجرمان کے نہ پکڑے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب چہلم کے بعد مرکزی رہنماء کی عدم بازیابی اور علامہ تصور جوادی کیس پر عدم توجہی کے خلاف کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار ہیں صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے میدان میں اتریں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے انتخابی الائنس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، مجلس وحدت مسلمین نے کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی الائنس بنانے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سمیت دیگر مرکزی رہنما چہلم امام عالی مقام کے سلسلے میں مراسم عزاء میں مصروف ہیں، مجلس وحدت مسلمین کے کسی بھی ذمہ دار نے نہ ہی کسی انتخابی الائنس کے اجلاس میں شرکت کی ہے اور نہ ہی ہمارے ساتھ کسی نے اس حوالے سے مشاورت کی ہے، ایم ڈبلیوایم کے تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ روابط ہیں، تاہم کسی بھی الائنس یا اتحاد کا فیصلہ مجلس وحدت کا اعلیٰ اختیاراتی ادارہ شوری عالی کرتا ہے۔ انہوں نے ان تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف ہمارے ساتھ آواز بلند کی، انشاء اللہ ملک سے لاقانونیت، کرپشن اور انتہا پسندی کیخلاف ہم خیال جماعتوں سے مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وحدت نیوز(روہڑی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری امور سیاسیات علی حسین نقوی نے روہڑی میں رینجرز کی جانب  شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر دہشت گردی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گرد ہلاک کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے،انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کے بہترین سکیورٹی انتظامات کی بدولت کراچی اور اندرون سندھ سمیت ملک بھر میں چہلم امام حسین ؑ کے جلوس ہائے عزا بخیروعافیت اختتام پزیر ہو گئے ہیں، روہڑی میں رینجرز کے جوانوں کے بروقت اقدام سے عزاداران حسینی ؑ بڑے سانحےسے بچ گئے، مجلس وحدت مسلمین رینجرز  کودہشت گردوں کے خلاف اس کامیاب آپریشن پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

واضح  رہے کہ  ترجمان رینجرز کے مطابق روہڑی میں رینجرز کے ناکے پر تعینات اہلکاروں نے ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر اہلکاروں نے فائرنگ کردی،ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی جس کے بعد رینجرز کی جوابی کارروائی میں تینوں ملزمان ہلاک ہوگئے،ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان امام بارگاہ باب کربلا جانا چاہتے تھے اور یہ امام بارگاہ ان کا ہدف تھی، دو  ملزمان نے خودکش جیکٹس کے ذریعے دھماکا کرنے کی بھی کوشش کی تاہم رینجرز کی بروقت کارروائی سے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی،ترجمان کا کہنا تھا کہ مقابلے میں ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے تاہم ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنخاب کے ترجمان راجہ امجد علی نے کہا ہے کہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کے ذمہ دار پنجاب حکومت ہے اور یہ ایم ڈبلیوایم کا اصولی موقف ہے اور مجلس کےسربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اپنی پریس کانفرنس اور بیانات میں اس بات کا باقاعدہ اظہار کرچکے ہیں کہ سید ناصر شیرازی کی اغواء میں رانا ثناء اللہ اور پنجاب حکومت ملوث ہے -

ہمارے موقف اور بیانات انتہائی ذمہ دار افراد مرکزی رہنماوں سے مشاورت کے بعد قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو جاری کرتے ہیں،سوشل میڈیا پر ہمارے پیجز موجود ہیں جبکہ دیگر کسی بھی ویب سائٹ اور پیجز پر تجزیے تبصرے اور رائے کا ایم ڈبلیوایم کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ویب سائٹ کا ایڈریس درج ذیل ہے۔
www.mwmpak.org

اس کے علاوہ کسی بھی ویب سائیڈ کا ایم ڈبلیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم ہر قسم کے سنسنی خیز خبروں کی مذمت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) راولپنڈی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے مرکزی جلوس میں نماز ظہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ یزیدیت کا تعاقب اسوہ زینبی (س) ہے۔ مخدومہ کونین حضرت زینب سلام اللہ علیہ نے اپنے خطبات کے ذریعے جس جرات و استقامت کے ساتھ یزیدیت کے سیاہ چہرے سے نقاب اتارا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔جناب سیدہ سلام اللہ علیہ نے بصیرت و شعور دیا۔لوگوں کے ضمیر بیدار کیے۔ان کے کردار نے ہمیں استقامت، مقاومت اور حق پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا ۔ہم اس خاندان عصمت و طہارت کے پیروکار ہیں جو حوصلوں اور عزم و استقامت کی معراج پر تھے۔عصر حاضر کی یزیدیت ہمارے حوصلوں کو پسپا نہیں کر سکتی۔پاکستان دشمن قوتیں اور ڈکٹیٹر ضیا ءکی باقیات نے پاکستان بنانے والوں کی اولاد پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی۔ہمارے علما ،ڈاکٹر،انجینئر ، نامور شخصیات اور نوجوانوں کو شناخت کر کے شہید کیا گیا۔مساجد و امام بارگاہوں کودہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔تکفیر کے ذریعے ہماری طاقت کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ہم کربلا کے ماننے والے ہیں،دشمنوں کے تمام منصوبوں کو ہم نے بصیرت و دانش سے ناکام بنایا،ہمیں انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے،ملت تشیع کے نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا جا رہا ہے۔یہ نوجوان کئی سالوں سے لاپتا ہیں،جو پاکستان کے آئین و قانون کی صریحاََ خلاف ورزی ہے،پنجاب حکومت اگرسمجھتی ہے کہ ہمیں دبالے گی واللہ ہم سارے بھی زندانوں میں چلیں جائیں تمہارےسامنےسر نہیں جھکائیں گے۔

 پنجاب حکومت نے مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو ریاستی اداروں کے ذریعے اغوا کرایا،ایم ڈبلیو ایم نے حکومت کی ملک دشمن پالیسیوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ اس سیاسی مخالفت پر حکومت پنجاب ہمیں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔پنجاب حکومت یہ بات ذہن نشین کر لے کہ ملت تشیع سر کٹا تو سکتی ہے مگر باطل کے سامنے کبھی سر جھکا نہیں سکتی،یہ ہتھکڑیاں اور سلاخیں ہمیں حق بات کہنے سے خاموش نہیں کرا سکتیں۔ہم نے شجاعت کا درس کربلا کے مظلوموں سے لیا ہے،انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی عدلیہ،افواج اور بااختیار اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سید ناصر شیرازی کو رانا ثنا اللہ کی قید سے آزاد کرایا جائے۔پنجاب حکومت کے اس ظلم پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ان ظالموں کا بھرپور تعاقب جاری رکھا جائے گا۔اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کرایا گیا تو ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ایک بار پھر پوری قوم کوسڑکوں پر آنے کے لیے پکارا جائے گا۔

وحدت نیوز(لاہور) سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی میں پنجاب حکومت ملوث ہے،ملت جعفریہ کو پنجاب میں دہشتگردوں کیساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی بربریت کا بھی سامنا ہے،جنازے بھی ہم اٹھائیں اور اسیر بھی ہم ہوں یہ کہاں کا انصاف ہے،چہلم کے بعد بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے اور قوم کو ملک بھر میں سڑکوں پر نکالیں گے،ان خیالات کا اظہار امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر انصر مہدی  مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او کے زیر اہتمام دوران مرکزی جلوس چہلم امام حسین ؑ میں ناصر شیرازی اور دیگر لاپتہ شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج سے  خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم اس وطن کے باوفا بیٹے ہیں ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اتحاد امت اور ملکی سلامتی کو مقدم رکھا،آج حکومت ہمیں اسی حب الوطنی کی سزا دے رہی ہے،جب ملک پر کرپٹ اور قاتل حکمران مسلط ہو تو مظلوم کس سے انصاف مانگیں،ہم ان ظالموں کے ظلم و بربریت کے آگے مرعوب نہیں ہونگے،انشااللہ اپنے بے گناہ گمشدہ رہنما سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئے  آئینی و قانونی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،جلوس میں موجود عزاداران نے سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف لبیک یاحسینؑ کے نعروں کیساتھ صدائے احتجاج بلند کئے،اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما خرم نقوی،رانا ماجدمو دیگر بھی شریک تھے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رکن مرکزی نظارت سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کے رانا ثناء اللہ کے ہاتھوں اغوا اور ایک سو سے زائد محب وطن شیعہ شہریوں کی اداروں کی غیر اعلانیہ اور غیر قانونی طور پر قید کیخلاف چہلم امام حسین (ع) کے مرکزی جلوس میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کا اہتمام آئی ایس او کراچی ڈویژن اور ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداران امام حسین (ع) نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء سے علامہ احمد اقبال رضوی اور علامہ صادق رضا تقوی نے خطاب کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت قانون و انصاف کی برملا تضحیک کر رہی ہے، عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود ناصر شیرازی کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور مزید ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی گئی، ناصر شیرازی کی صحت و سلامتی کے حوالے سے ہمیں بیشتر خدشات ہیں، پنجاب حکومت ظالموں کی حکومت ہے، جن پر قطعاََ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی ایک سیاسی جماعت کا مرکزی رہنما، ہائی کورٹ کا سینیئر وکیل ہے، اتحاد بین المسلمین کے لئے ناصر شیرازی کی کوششوں کی تمام سیاسی جماعتیں معترف ہیں، وہ ملک میں بڑھتی ہوئی تکفیریت کے خلاف للکار سمجھے جاتے ہیں، انہیں اسی جرم کی سزا دی جا رہی ہے، ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ بے جرم و خطا قید کئے جانے والے پاکستان کے غیرت مند فرزند ناصر شیرازی اور وطن کے دیگر باوفا بیٹوں پر غیر انسانی تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ اور نواز لیگ کی پنجاب حکومت سن لے اگر ناصر شیرازی کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ پر عائد ہوگی، ناصر شیرازی سمیت دیگر مسنگ پرسنز کو حبس بے جا میں رکھا جانا، ان زیر کفالت مظلوم بوڑھے والدین، بیویوں، بہنوں، بھائیوں اور کمسن بچوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے، یہ غیر قانونی تحویل ان شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان کے آئین و قانون کے تحت کسی شہری کو اس طرح قیدی نہیں بنایا جاسکتا۔علامہ صادق رضا تقوی کا کہنا تھا کہ اگر ناصر شیرازی سمیت دیگر افراد پر کوئی الزام ہوتا تو عدالت میں پیش کئے جاتے، ان کے عزیز و اقارب حکمرانوں اور عدلیہ کے سامنے درخواستیں پیش کرچکے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے یہ نام نہاد ادارے خدا کے قہر سے ڈریں کہ مظلوموں کی آہ سے عرش الٰہی بھی کانپتا ہے، ہم ہزاروں کی تعداد میں احتجاج کرتے عزادارن امام حسین (ع) چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، صوبائی عدلیہ کے سربراہان سمیت سارے ذمہ داران سے اپیل کرتے ہیں کہ ان مظلوم و بے قصور محب وطن شہریوں کے ساتھ یہ ظلم و تشدد، قید و بند کا سلسلہ ختم کرائیں اور ان کی فوری آزادی کو یقینی بنائیں، یہ شہری پاکستان کا سرمایہ ہیں، یہ شہری پاکستان کا فخر ہیں، ان کی قدر کریں اور پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو جنگل کے قانون سے نجات دلائیں۔

Page 5 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree