The Latest

وحدت نیوز(فیصل آباد) آئی ایس او طالبات فیصل آباد کی جانب سے منعقدہ سمر کیمپ کے دوسرے روز مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی محترمہ معصومہ نقوی نے مھدویت کے موضوع پر اپنا دوسرا لیکچر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم جس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں اگر اپنے وقت کے امام ع کی معرفت حاصل نہ کی اور انتظار و ظھور کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو جہالت و پستی میں غرق رہینگے۔

 انھوں نے قائد شھید علامہ عارف حسینیؒ کی اکتیسویں برسی کی مناسبت سے ناصران ولایت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوۓ کہا شھید قائد عارف حسینیؒ امام زمانہ کے سچے پیرو تھے جنھوں نے اپنے عمل اور قوم و ملت کے لیے انتھک محنت اور خلوص سے اپنے فرائض سر انجام دیے اور منزل شہادت پر فائز ہوے آپؒ نے میدان عمل میں ثابت کر دکھایا کہ منتظرِ حقیقی کو کن اصولوں کے تحت زندگی گزارنی چاہیئے۔

لے سانس بھی آہستہ

وحدت نیوز(آرٹیکل)کل ہی کی تازہ خبر ہے کہ سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب ساٸٹ فیس بک کمپنی پر 5 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ اور حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا۔

امریکی حکومتی ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن(FTC) نے امریکی صدارتی الیکشن 2016 کے دوران کیمبرج انالیٹیکا سکینڈل کی بنیاد پر طویل گفت و شنید اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے امریکی قانون سازوں کے کٸی دنوں تک جرح کے ایک سال بعد بالآخر فیس پر پانچ ارب ڈالرز کا بھاری اور تاریخی جرمانہ عاٸد کرنے کے ساتھ ساتھ آٸندہ کیلٸے سخت پابندیوں کا پابند کردیا۔ یاد رہے اس اسکینڈل میں فیس بک کیجانب سے 50 ملین افراد کا ڈیٹا پراٸیویٹ فرم کیمبرج انالیٹیکا کو فراہم کرکے امریکی صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کا الزام ہے۔ جس کی وجہ سے نسبتا غیر مقبول ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر منتخب ہوا تھا۔
اس تناظر میں عام افراد کی جانب سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ فیس بک نے آخر کیا کیا تھا جو اتنا بھاری جرمانہ عاید ہوگیا؟

اس زمانے کو ڈیٹا ساٸنس کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ آج کی دنیا چھے ارب سے زیادہ انسانوں کی آبادی پر مشتمل ہے۔ جہاں روزانہ لاکھوں افراد پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔ روزانہ کڑوڑوں افراد مختلف ملکوں اور شہروں میں سفر کرتے ہیں۔ اربوں نہیں تو کڑوڑوں افراد تعلیم ،کاروبار اور دیگر ضروریات کیلٸے ٹیکنالوجی کا استعمال یقینا کررہے ہوتے ہیں۔ اربوں کی تعداد میں لوگوں کا کاروباری معاملات سے روزانہ کی بنیاد پر واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اور تقریبا سبھی افراد مختلف حوالوں سے دوسروں سے روابط کیلٸے ٹیکنالوجی کے استعمال پر مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں روابط کیلٸے بنے ان ٹیکنالوجیز کی ہیٸت تقریبا ملتی جلتی ہے۔ اور مختلف سروے رپورٹس کے مطابق سماجی رابطے کی ویب ساٸٹ فیس بک کو استعمال کرنیوالے افراد کی تعداد بھی اربوں میں ہے۔

اب جو شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں اور جیسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہو، ساٸنس سے شد بد رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ ہر شخص ڈیٹا استعمال کرتا اور پیدا بھی کر رہا ہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ”ڈیٹا“ ہوتا کیا ہے ؟ نیٹ پر تصویریں، ویڈیوز، آڈیو ریکارڈز، اور مختلف زبانوں میں لکھی گٸی تحریریں؟ جی یہ بھی ڈیٹا کی مختلف صورتیں ہیں جنہیں عام افراد دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں۔ مگر ڈیٹا کا صرف ان چار حالتوں میں ہونا بالکل بھی ضروری نہیں۔ فیس بک پر لگی پابندیوں کے تذکرے کے بعد اگلی لاٸنوں میں ہم اس جانب نظر کریں گے۔

بزنس انساٸیڈر کیمطابق فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے فیس بک پر عاٸد کردہ پابندیوں میں درج ذیل اہم اور چیدہ چیدہ پواٸنٹس شامل ہیں۔

١ ۔ فیس بک ان تمام تھرڈ پارٹی اپلکیشنز کو ٹرمنیٹ کرنے کا پابند ہوگا جو ڈیٹا حاصل کرنے کیلٸے فیس بک کی پالیسیوں کی پابندی کرنے کے ساتھ مخصوص ڈیٹا کے استعمال کو واضح بیان نہیں کرتے۔

٢۔ فیس بک کسی بھی صارف کے فون نمبر کو، جو سکیورٹی کیلٸے حاصل کیاجاتا ہے، اسے کسی تشہیری مقصد کیلٸے استعمال نہیں کرسکتا۔

٣۔ فیس بک پابند ہوگا کہ وہ کسی بھی صارف کی فیشل ریکوگنیشن ڈیٹا کو حاصل کرنے کے مقصد کو بیان کرے۔ اور اسکو کسی بھی ایسے مقصد کیلٸے استعمال نہ کرے جس سے صارف کو پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہو۔ (یعنی صارفین کی تصاویر کو فیشل ریکوگنیشن ٹیکنالوجی میں استعمال کرنے کیلٸے بھی صارف کی اجازت درکار ہوگی۔)

٤۔ فیس بک ڈیٹا سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لٸے پروگرام بنانے ، اس پر عملدرآمد کرنے اور اسکی باقاعدگی کا بھی پابند ہوگا۔

٥۔ فیس بک صارفین کے پاسورڈز کو انکرپٹ کرنے کا پابند ہوگا۔ اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ کسی بھی صارف کا پاسپورڈ عام ٹیکسٹ کی شکل میں نا رہے۔

٦۔ صارف کیجانب سے کسی بھی تیسری سروس (تھرڈ پارٹی اپلکیشن) کے استعمال کرنے پر فیس بک کی جانب سے صارف سے ای میل اور پاسورڈ پوچھنے پر پابندی ہوگی۔

تلخ ٹیکنیکل حقاٸق سے صرف نظر کرتے ہوٸے سرسری طور پر دیکھاجاٸے تو یہ امریکی حکومت اور اداروں کیجانب سے سماجی رابطے کی کمپنی کے کھرب پتی مالک سے اربوں روپے بٹورنے کا بہانہ لگتا ہے۔ مگر حقیقت میں معاملہ اتنا آسان بھی نہیں۔ دراصل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ٹرینڈ سیٹ ہونے جارہا ہے کہ کس طرح ایک عام انفرادی رابطے کی ویب ساٸٹ نظر آنیوالی کمپنی کے زیر اثر ٹیکنالوجی نے سیاسیات، اخلاقیات، پراٸیویسی اور دیگر سماجی اقدار کو کس قدر سختی کیساتھ چکرانا شروع کر رکھا ہے۔

یہ نیا زمانہ ہے۔ لوگ آج تک شناختی کارڈ کیلٸے انگوٹھے کا نشان لگانے سے واقف تھے۔ مگر کمپیوٹر ساٸنس میں ترقیوں کی مرہون منت اب آہستہ آہستہ ڈیٹا، پراٸیویسی، تھرڈ پارٹی اپلکیشنز، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلجینس) اور اسکے اپلکیشنز فیشل ریکوگنیشن، ڈیٹا ساٸنسز، انٹرنیٹ آف تھنگس، مشین لرنگ، بگ ڈیٹا، وغیرہ وغیرہ سے آگاہ ہوتے جارہے ہیں۔ روزانہ اپنے سمارٹ فونز میں ہم بیشمار اپلکیشنز کو استعمال کرتے ہیں۔ ترقی پزیر ممالک میں بھی اب ایک سمارٹ فون سے ہی لوگ بجلی، گیس وغیرہ کا بل دیتے، ٹرین، جہاز، بس اور ٹیکسی تک کا کیرایہ ادا کرتے ہیں۔ یوں جیب میں بٹوا اور کاغذی رقم لیکر رکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ چند روپوں سے لیکر کڑوڑوں روپوں تک کی اداٸیگی اور منتقلی موباٸل فون اپلکیشن کے ذریعے کرتے ہوتے ہیں۔ موسم کا صورتحال کٸی مہینوں بعد تک کا معلوم کرتے اور نامعلوم شہروں میں بھی ایک اپلکیشن کے ذریعے گلی گلی چپہ چپہ کا صرف ایڈریس ہی نہیں معلوم کرتے بلکہ وہاں اردگرد مطلوبہ ریسٹورنٹ، دفاتر، اسٹور، اور دیگر ضرورت کی سروسز تک اسطرح سے رساٸی حاصل کرلیتے ہیں جیسے آپ اسی علاقے میں ہی برسوں سے رہ رہے ہوں۔ یہ محض چند مثالیں ہیں جن سے سمجھ سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے کتنا بڑا معجزہ برپا کر کے ہماری زندگیوں کو آسان بنایا ہے۔ اور یہ سبھی سہولیات آپ بظاہر چند اپلیکیشن کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں جنکو بنانیوالی کمپنیوں کے پاس ان امور سے متعلق ”ڈیٹا“ موجود ہوتا ہے جنہیں ٹیکنالوجی کی مدد سے پراسس کرکے آٸندہ نسلوں تک کیلٸے بھی آسانیاں فراہم کی جا رہی ہوتی ہیں۔

آج ہم جن جن اپلکیشنز کو استعمال کرکے اپنے امور میں آسانیاں پیدا کر تے ہیں وہ دراصل صرف آپکو گزشتہ صارفین سے اکٹھے کٸے گٸے ڈیٹا سے سہولیت نہیں دے رہے بلکہ ان اپلکیشنز کے ہمارے استعمال سے بھی ان کمپنیوں کے پاس ”ڈیٹا“ جمع ہورہا ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ اپنے سسٹم کو مزید موثر بنارہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل پر کس ملک میں سب سے زیادہ کس شخص یا چیز وغیرہ کی بابت گزشتہ ایک گھنٹے، ہفتے، ایک مہینے، سال اور دس سال کے دوران کتنے لوگوں نے سرچ کیا۔ یہ جاننا گوگل کمپنی کیلٸے سیکنڈز کا کام ہے۔ اسی طرح واٹس ایپ، ٹویٹر، اور دیگر اپلکیشنز اس طرح کے کام بہ آسانی کرسکتے ہیں اور کر رہے ہوتے ہیں جنکی بنیاد پر انکا نہ صرف کاروبار پھیلتا ہے بلکہ انہیں مختلف ممالک میں لوگوں کے رجحانات، ضروریات، اور انکے معاملات سے بھی واقفیت ہوتی رہتی ہے۔ یہ معاملہ صرف فیس بک اور دیگر  متذکرہ اپلکیشنز تک محدود نہیں بلکہ تمام دیگر ٹیکنالوجیز میں بھی ایسے سارے کام ہورہے ہوتے ہیں مثلا اس حالیہ ایشو جس میں فیس بک ڈیٹا کے استعمال کے ذریعے سے امریکی صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہوا  اور نتیجتا بھاری جرمانے عاٸد کرنے کیساتھ پابندیاں عاٸد کی گٸیں۔ یہی کام ٹویٹر، واٹس ایپ کے ذریعے بھی ہوسکتا تھا اور ہو سکتا ہے۔

ڈیٹا ساٸنسز سے مربوط فیلڈ کا ادنیٰ سا طالبعلم ہونے کے ناطے یہ بات وثوق کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی لینے والی ہر سانس، اٹھنے والا ہر قدم بات کرنے، ہنسنے، رونے یا کسی اور وجہ سے ماتھے اور چہرے پر پڑنے والا ہر بل اور جھپکنے والی پلکیں بھی ڈیٹا میں شمار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں دن کے اٹھارہ گھنٹے لٸے سمارٹ فون، ہاتھ میں پہنی سمارٹ واچ، گاڑی میں لگی جی پی ایس، اور ہر وہ سمارٹ ڈیواٸس جو ہم اپنی آسانی کیلٸے استعمال کرتے ہیں ان میں موجود ٹیکنالوجی آپ سے لمحہ بہ لمحہ جمع ہونیوالے ڈیٹا سے معلومات اور انکے استعمال سے پوشیدہ راز طشت از بام کرسکتی ہے۔ اور بطور مسلمان جوں جوں ساٸنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرتی جارہی ہے ہمارا ایمان غیر متزلزل ہوتا جارہا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ دوفرشتے ہمارے اعمال کا حساب کتاب رکھنے کیلٸے مامور ہیں۔ اور روز حشر  ہمارا ہر عضو اعمال کی گواہی دے رہے ہونگے۔ اب جبکہ ہماری ہر سانس اور قدم قدم کا حساب معمولی ٹیکنیکل اپلکیشن کے ذریعے رکھا جارہا اور ہم اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہے ہیں تو اس خداٸے قادر مطلق کیلٸے ہمارے اعمال کا حساب رکھنے کا انتظام رکھنا کوٸی بڑی بات نہیں۔ البتہ کمزور ایمان والوں کیلٸے اب اس بات پر شک و شبہے کی کوٸی گنجاٸش نہیں بچتی۔
جہاں تک ڈیٹا اور اسکے استعمال کی بات ہے تو میر صاحب تو زمانہ قبل اس حقیقت کو بھانپ گٸے تھے۔ فرمایا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا


شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ
جولاٸی 25، 2019 .

وحدت نیوز(گلگت) عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماء و مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سکریٹری جنرل سید علی رضوی نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس کو ذاتی عناد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے، اگر انہیں فوری رہا نہ کیا گیا تو پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا سلطان رئیس جی بی کے حقوق کی ایک توانا آواز ہیں، ان کی گرفتاری حقوق کی آواز کو دبانے کی سازش ہے، ہم کسی بھی صورت میں ان کی گرفتاری کے عمل کو برداشت نہیں کریں گے، پورے خطے کے عوام میں اضطراب پایا جا رہا ہے، ہم چاہتے ہیں حالات سنگین ہونے سے قبل سلطان رئیس کو رہا کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم عدالت سے انصاف پر مبنی فیصلے کی توقع رکھتے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو عوام مشتعل ہو سکتے ہیں، جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا، ہم امن پسند ہیں، ہماری جدوجہد بھی پرامن ہے، ہمیں حالات خراب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

وحدت نیوز(لیہ) مجلس وحدت مسلمین لیہ کی ضلعی شوریٰ کا اجلاس صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں خصوصی طور پر ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب شعبہ خواتین کے سیکرٹری جنرل علامہ قاضی نادر حسین علوی نے شرکت کی، اجلاس میں ضلع لیہ کے تمام یونٹس کے سیکرٹری جنرل اور عہدیداران نے شرکت کی۔

 اجلاس میں گذشتہ تین سالوں کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، بعدازاں ووٹنگ کے ذریعے نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب کیا گیا اور اکثریت رائے سے آئندہ تین سالوں کیلئے صفدر عباس مورانی کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا، نومنتخب سیکرٹری جنرل سے علامہ اقتدار حسین نقوی نے حلف لیا۔

 نومنتخب سیکرٹری جنرل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جنوبی پنجاب میں تشیع کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن سیاسی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے مسائل اور حقوق کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے، ہم ضلع میں عوام کو طاقتور اور وحدت کی لڑی میں پرونے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

وحدت نیوز (کراچی) سندھ حکومت شہر قائد میں آوارہ کتوں کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کرے۔شہر کے مختلف علاقوں میںلاکھوں معصوم بچے اور دیگر شہری ان کتوں کی ذرپر ہیں ۔آواہ اور پاگل کتوں کے کاٹنے سے متاثرہ شہریوں کو ویکسینیشن کے حصول میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے پولیٹیکل سیکریٹری میر تقی ظفرنے وحدت ہاؤس کراچی سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہاکہ فیڈرل بی ایریا، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی،، ناظم آباد، پاپوش،، اورنگی ٹاؤن، سولجر بازار، ملیر، جعفرطیار، سعود آباد، محمود آباد، لانڈھی ،کورنگی ، گلستان جوہر ، کھارادراور شہر کے دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں نے شہریوں کی آمد رفت کو مشکل بنا دیا ہے ۔ ان آوارہ اور پاگل کتوں کے خوف نے معصوم بچوں اورخواتین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ اسکولوں کے اطراف میں یہ آوارہ کتے طلباء کیلئے بھی خوف کی علامت بننے ہوئے ہیں ۔ شہر قائد میں طویل عرصہ سے ان کتوں کے خلاف کوئی آپریشن عمل میں نہیں آیاجس کےسبب شہر میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے بعد لگایا جانے والا ٹیکہ بھی نایاب بناہواہے ۔ چھوٹے بڑے اسپتالوں میںverorabانجیکشن ناپید ہوچکے ہیں ۔ کتوں کے کاٹنے سے متاثرہ شہری15سے 20ہزار روپے کے انجیکشن پرائیوٹ اسپتالوں سے لگوانے پر مجبورہیں ۔ صوبائی حکومت اور شہری حکومت آوارہ کتوں کے خاتمے کے لئے فوری اورٹھوس اقدامات بروئے کار لائے اور شہر کے تمام جھوٹے بڑے سرکاری اسپتالوں میں verorabانجیکشن کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ دنیا نائیجیریا میں جاری انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لے کیونکہ بہاری حکومت نے جس طرح معصوم انسانوں کا قتل عام کیا ہے اورپرامن شہریوں پر گولیاں چلائی ہیں اس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ نائیجریا کے مرد آھن علامہ محمد ابراہیم زکزاکی اور ان کے ساتھیوں کے بے مثال صبر اور حوصلے نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، علامہ زکزاکی اپنے چھ جوان بیٹوں کی المناک شہادت اور اپنی اھلیہ سمیت طویل اسیری کے باوجود پہاڑ کی طرح مستحکم میدان میں کھڑا ہے۔                 

انہوں نے کہا کہ ابراہیم زکزاکی کی حمایت عالم انسانیت پر فرض اور قرض ہے۔ یہی سبب ہے کہ عالم انسانیت اس فرض اور قرض کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر میں سراپا احتجاج بن چکی ہے۔ لندن،نیویارک انڈونیشیا سے لے کر پاکستان تک کروڑوں انسان حضرت بلال حبشی ؓ کے اس حقیقی پیرو کی حمایت میں صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ زکزاکی کسی ایک سرزمین کے ہی نہیں اب ایک عالمی لیڈر کا درجہ رکھتے ہیں۔ دنیا کے با ضمیر انسان زکزاکی خاندان اور ان کے ساتھیوں کے لہو کے ہر قطرے کا ظالموں سے جواب لیں گے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ چند روز قبل ایک بار پھر نائیجریا میں نائیجیرین پارلیمنٹ کے سامنے اور ملک کی شاہراہوں پر جس طرح پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اس نے عصر حاضر کے یزید و حرملا کا چہرا دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ 29جولائی کو اسیر بے خطا زکزاکی کی پیشی سے قبل 28 جولائی کو زکزاکی کے حق میں عالمی یوم احتجاج منایا جا رہا ہے دنیا بھر کے اہل حق کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے مظلوم زکزاکی کے حق میں آواز بلند کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام 4اگست کو اسلام آباد میں شہید قائد عارف حسین الحسینی کی برسی کے انعقاد کو حتمی شکل دینے کے لیے تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔برسی میں پورے ملک سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔ناصران ولایت کانفرنس کے چیرمین نثار علی فیضی کے مطابق سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی و صوبائی رہنماؤں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ شہید قائد کی برسی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے بھرپور اور موثر رابطہ مہم کا آغاز کریں۔

 چیئرمین کانفرنس کا مزید کہنا تھا شہید عارف حسین الحسینی کی آواز عالمی استکبار اور طاغوت کے خلاف جرات مندانہ للکار تھی۔ہم اپنے اس عظیم قائد کے مشن پر پوری ذمہ داری سے گامزن ہیں۔شہید علامہ عارف حسینی وحدت و اخوت کے حقیقی داعی تھے۔ان کی ساری زندگی اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز کے استحکام کی جدوجہد میں گزری۔

برسی کے حوالے سے مرکزی سیکرٹریٹ سمیت تمام صوبائی دفاتر میں میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے۔راولپنڈی اسلام آباد کے اہم مقامات پر بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں۔ملک کے ممتاز علما سمیت مختلف شخصیات کو دعوت نامے جاری کیے جا رہے ہیں۔انشاللہ 4 اگست پریڈ گراونڈ پر عظیم شان کانفرنس کا انعقاد کر کے عظیم رہنما شہید علامہ عارف حسین الحسینی سمیت وطن عزیز کی سر بلندی اور خصوصا دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونے والے فرزندان وطن کو خراج عقیدت پیش کریں گے ۔

وحدت نیوز(کراچی) صوبائی سیکریٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ و دعا کمیٹی کے زیر اہتمام ہفتہ وار دعائے توسل برائے صحت و سلامتی آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی،انکی اہلیہ و شیعیان علیؑ نائجیریاکی رہائی کیلئے محفل شاہ خراسان روڈ پر دعا اور احتجاج کا انعقاد کیا گیا۔احتجاجی جلسہ اور دعامیں مختلف شخصیات، شعراء، رہنماو?ں اور مومنین و مومنات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مولانا نعیم الحسن نے دعائے توسل کی تلاوت کا شرف حاصل کیا۔ دوران دعا شاعر اہلبیتؑ انوار رضوی، ولی حسن نیشیخ ز کز اکی کے لئے خصوصی کلام پیش کیا۔

بعدازاں مولانا نعیم الحسن، صوبائی رہنما ناصر الحسینی نے شرکائے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہلبیتؑ اطہار علیہ السلام پر بھی ظلم و ستم ہواآج انکے ماننے والوں پر پوری دنیا میں ظلم کیا جارہا ہے۔ آج امام حسین علیہ السلام کی سیرت و کردار کے پیرو آیت اللہ ابراہیم ز کزا کی انکی اہلیہ اور مومنین کو یزیدِعصر نائیجیریا حکومت نے قیدِ و بند کی صعوبتیں تکلیف میں رکھا ہواہے۔ عدالتی حکم کے با وجود نائیجیریا کی فوج تحریک اسلامی کے سربراہ ابراھیم ز کز کی کو رہا کرنے سے گریزاںہے اور انہیں زہر د ے کر قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہیں۔ نائیجیریا کی حکومت کا یہ اقدام انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس پر ایکشن لیں اس موقع پر شرکاء نے شیخ ابراھیم ز کز کی کی تصاویر اٹھائی ہوئی تھیں اور ابراھیم ز کز کی و اہلیہ اور مومنین نائیجریاکو رہا کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) گذشتہ ماہ بحرین کے دارلحکومت منامہ میں امریکی و اسرائیلی تیار کردہ پلان یعنی صدی کی ڈیل کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس اور ورکشاپ کے بعد عرب دنیا سمیت مسلم دنیا اور بالخصوص فلسطین میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہاہے کہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے عرب حکمرانوں کے تعلقات کس کروٹ بیٹھیں گے؟ ان تعلقات کے پس پردہ اور عیاں مقاصد پر بھی عرب دنیا کے سیاست مدار سوالات اٹھا رہے ہیں اور شدید مضطرب ہیں۔

امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مغربی ایشیائی ممالک کو کنٹرول کرنے اور خاص طور پر فلسطین کا سودا کرنے کے عنوان سے جس کانفرنس کو ترتیب دیا گیا تھا اس کے انعقاد کے لئے امریکہ نے نہ تو مغربی ممالک اور نہ ہی یورپی ممالک میں سے کسی کا انتخاب کیا بلکہ اس کانفرنس یعنی صدی کی ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کانفرنس کو عرب دنیا کے ایک ایسی ریاست میں منعقد کیا گیا جس کا خود اسرائیل کے ساتھ رسمی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے تاہم اس پلان کے تحت ایک طرف جہاں فلسطین کا سودا بحرین میں بیٹھ کر کرنے کی کوشش کی گئی وہاں ساتھ ساتھ بحرین اور اس جیسی اور چھوٹی چھوٹی عرب خلیجی ریاستوں کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قریب لانا بھی اہم ترین مقاصد میں سے ایک تھا۔

بہر حال منامہ کانفرنس اور اس میں پیش کی جانے والی صدی کی ڈیل دونوں ہی بری طرح اس لئے بھی ناکام ہو گئیں کیونکہ مغربی ایشیاء کے متعدد عرب ممالک نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا اور اسے مسترد کیا تاہم بحرین کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات نہ صرف غرب ایشیاء کی ریاستوں کے لئے تشویش کا باعث ہیں بلکہ مسلم دنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو بھی ایسے معاملات پر شدید تشویش لاحق ہے۔فلسطین بھر میں منامہ کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہی بحرین اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سمیت امریکہ کے شیطانی منصوبوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے البتہ ان مظاہروں میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی تھی جب بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن حمد بن عیسی آل خلیفہ نے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کے فروغ پر مبنی انتہائی حیرت انگیز بیانات دئیے۔ وہ اسرائیل کے ٹی وی چینل نمبر 10 سے بات چیت کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا: ''ہمارا عقیدہ ہے کہ اسرائیل باقی رہے گا اور ہم اس سے بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسرائیل سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔'' بحرین کے وزیر خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ ایک عرب حکمران کا اسرائیلی ٹی وی چینل سے انٹرویو کوئی معمولی بات نہیں، کہا: ''یہ کام بہت عرصہ پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ خود سے اختلاف رکھنے والوں سے بات چیت ہمیشہ تناؤ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔'' خالد بن حمد بن عیسی آل خلیفہ کے اس انٹرویو کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور فلسطین کی تما م اکائیوں نے بحرینی وزیر خارجہ اور حکومت کے اسرائیل کے ساتھ روابط اور اسرائیل کی حمایت میں بیانات کو فلسطین کش اقدامات قرار یتے ہوئے فلسطینیوں اور پوری مسلم امہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بحرینی وزیر خارجہ کے اس بیان کو فلسطین کاز کے خلاف منحوس ارادے سے تعبیر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حماس اپنی طاقت اور مضبوط ارادے کے ذریعے فلسطین کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنا دے گی۔

آئیں ہم بحرین اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور قربت کے پس پردہ اور عیاں مقاصد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک طویل عرصہ سے صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل نے عرب دنیا کے ساتھ عادی سازی یعنی نارملائزیشن کا نعرہ بلند کر رکھا ہے اور اسی عادی سازی کے عنوان سے اسرائیل کے وفود جہاں عرب دنیا کے مختلف ممالک میں آتے جاتے رہے ہیں وہاں ساتھ ساتھ عرب خلیجی ممالک کے وفود بھی فلسطین و قبلہ اول پر قابض صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے دورے کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا مسقط کا دورہ اور صہیونی ریاست کی خاتون وزیر کا عرب امارات کا مفصل دورہ اور پھر اسرائیلی اولمپئین ٹیم کا دبئی میں شاندار استقبال سمیت عرب امارات کے گراؤنڈ میں اسرائیلی دھن پر قومی ترانہ چلایا جانا چیدہ چیدہ واقعات ہیں اور پھر حال ہی میں بحرین میں فلسطین کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرنس جس کا مقصد فلسطین کا سودا کرنا تھا منعقد کی گئی یہ سب وہ اشارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ عرب خلیجی دنیا کے حکمران رفتہ رفتہ صہیونیوں کی دوستی قبول کر چکے ہیں۔

ماہرین سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ عرب دنیا خاص طور سے سعودی عرب، عرب امارات اور بحرین سمیت چند دیگر خلیجی ریاستیں اسرائیل کے ساتھ دوستی کے ظاہری مقاصد کے حصول میں ایران دشمنی کا عنصر زیادہ نظر آتا ہے جبکہ پس پردہ مقاصد میں ان عرب دنیا کے حکمرانوں کو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ان کی بادشاہتیں قائم و دائم رہیں گی اور جمہوریت کے نعروں سے ان کو دور رکھا جائے گا۔جیسا کہ منامہ کانفرنس میں پیش ہونے والی صدی کی ڈیل میں امریکہ نے عرب بادشاہوں کو پیش کش کی ہے کہ وہ فلسطین کے سودے پر راضی ہونے والے خلیجی ممالک کے بادشاہوں کو آئندہ پچاس سال تک بادشاہت پر براجمان رہنے کی ضمانت دے گا۔

سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات عامہ پر نظر رکھنے والے ماہرین کی جانب سے پیش کردی آرا ء کو باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں کسی قسم کا مغالطہ نظر نہیں آتا ہے اور بحرین اور اسرائیل کے تعلقات کے مابین پس پردہ اور عیاں مقاصد میں درج بالا بیان کردہ دو ہی باتیں نظر آتی ہیں، ایران سے دشمنی جو کہ عرب خلیجی ممالک کے بارے میں پوری دنیا واقف ہے اور دوسری اہم بات عرب حکمرانوں کے تخت وتاج اور بادشاہتوں کا قائم رکھنا یا یوں کہا جائے کہ ذاتی مفادات۔خلاصہ یہ ہے کہ عرب خلیجی دنیا امریکہ اوراسرائیل جیسے شکست خوردہ کھلاڑیوں پر تکیہ کر کے کہیں صدی کی ڈیل کی آڑ می صدی کا سب سے بڑا دھوکہ تو نہیں کھا رہے کیونکہ امریکہ پوری دنیا میں ہر محاز پر ناکامی کا شکار ہے خود امریکی معیشت تیزی سے ڈوب رہی ہے۔

دوسری طرف اسرائیل ہے جو کھی عظیم تر اسرائیل کے خواب دیکھا کرتا تھا آج ان خوابوں کے چکنا چور ہونے کی صدائیں فلسطین سے نکل کر پوری دنیا تک سنی جا رہی ہیں۔آخر ایسے شکست خوردہ مہروں کا سہارا لے کر عرب دنیا کے حکمران کس طرح اپنی بقاء کو یقینی رکھ پائیں گے؟ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ عرب دنیا امریکہ اور اسرائیل کا سہارا لینے کے بجائے آپس میں اتحاد اور یکجہتی کے عنوان سے کوئی کارنامہ سر انجام دے۔کاش بحرین میں ہونے والی کانفرنس اور صدی کی ڈیل اگر مسلم امہ کے اتحاد کے بارے میں ہوتی تو یقینا اس ڈیل اور معاہدے کو صدی کی سب سے بڑی ڈیل اور صدی کی سب سے بڑی حقیقت قرار دیا جاتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی و صہیونی شیطانی چالوں میں پھنسی عرب خلیجی دنیا صدی کا سب سے بڑا دھوکہ اپنے مقدر میں لکھنے پر فخر محسوس کر رہی ہے۔


تحریر:صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(فیصل آباد) امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن شعبہ طالبات فیصل آباد ڈویژن کی جانب سے منعقدہ دس روزہ تربیتی ورکشاپ میں محترمہ معصومہ نقوی مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین نے شرکت کی اور شرکاء سے ظھور امام زمانہ عج کے موضوع پر خطاب کیا۔

 انھوں نے کہا کہ عام طور پر یہ تصور رائج ہے کہ ظھور ِ امام ع کے بعد مومنین آرام و آسائش کا دور دیکھین گے جبکہ امام مھدی عج فرماتے ہیں کہ میرا امر مشکل ہے اور اس زمانے کو وہ ہی درک کر سکتا ہے جسکا کردار مقرب فرشتے جیسا ہو یا نبیِ مرسل جیسا یا وہ مومن کے جسکے دل کو الله نے غیبت کے زمانے میں آزمائشوں کے ذریعی آزمایا ہو۔

قرآن کریم کی آیہ مبارکہ کا ترجمہ بیان کرتے ہوے انھوں نے کہا خدا سورہ انبیاء میں فرماتا ہے بے شک ھم نے زبور میں تورات کے بعد لکھ دیا ھے کہ زمین پر ھمارے صالح بندے وارث بن جاییں گیں , جب امام محمد باقر ع سے تفسیر پوچھی گیی تو فرمایا اپ نے ان صالح بندوں سے مراد اصحاب مھدی اخر الزمان ھیں جو اس کرہ ارض کے حقیقی وارث قرار پائیں گے۔

Page 11 of 965

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree