The Latest
وحدت نیوز(اسلام آباد)چیئرمین قائمہ کمیٹی گلگت بلتستان کونسل محمد ایوب شاہ کی زیر صدارت ممبران کونسل شیخ احمد علی نوری(پولیٹیکل سیکریٹری ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان) ، سید شبیہ الحسنین اور عبد الرحمن کاایک ہنگامی اجلاس کونسل سیکریٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے احتجاج کرنے والے جی بی کے غیور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دیامر کے عوام کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے گلگت بلتستان جیسے حساس خطے کو ڈیم کی ریالٹی،بنیادی حقوق اور جائز مطالبات کو نظر انداز کرنا بدنیتی پر مبنی ہے لہذا وفاق کو چاہئے کہ وہ فلفور متاثرین دیامر ڈیم کے مطالبات کو منظور کرائے تاکہ علاقے میں امن اور وطن عزیز کے ساتھ رشتہ مزید مظبوط و مستحکم ہو جائے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم ممبران کونسل دیامر ڈیم متاثرین کے شابہ بشانہ کھڑے ہے اور ہر فورم پر جائز مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں گے۔
وحدت نیوز(اسلام آباد) وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ہم ضلع کرم، خصوصاً پاراچنار میں جاری بدامنی، راستوں کی بندش اور عوامی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے علاقے کے عوام محصور ہیں، اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اور قیمتی جانوں کا ضیاع معمول بن گیا ہے۔
آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے اشیائے خوردونوش اور ادویات لے جانے والی گاڑیوں پر حملہ کرکے ریاست کی رٹ کو کھلم کھلا چیلنج کیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور سیکورٹی ادارے مٹھی بھر دہشتگردوں کو لگام دینے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ریاستی عملداری پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1.فوری طور پر راستے کھولے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات میسر آ سکیں۔
2.دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ امن و امان بحال ہو۔
3.متاثرہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
4.ریاستی رٹ کو بحال کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
5.ضلع کرم میں امن کے لیے سرگرم عوامی نوجوان لیڈر، تحصیل چیئرمین مزمل فصیح کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے، جو صوبائی حکومت کی جانب سے جھوٹے مقدمات میں پابندِ سلاسل ہیں۔
صوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی خاموشی اور بے بسی ملک کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ ہم اربابِ اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اس بربریت کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔
ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہیں، اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی اقدام اٹھائیں گے!
وحدت نیوز(سکردو) اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی و پارلیمانی لیڈر ایم ڈبلیو ایم جی بی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے لینڈ ریفامز ایکٹ اسمبلی میں ٹیبل کرنے کے لیے کابینہ سے منظوری کرائی ہے۔ حکومت میں موجود کچھ غیرسیاسی لوگوں کا دعوی'ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیا گیا ہے جبکہ نئی ڈرافٹ کے متعلق اسمبلی میں موجود دس اپوزیشن ممبران لاعلم ہیں اور ابھی تک یہ مسودہ سامنے نہیں آیا۔ لینڈ ریفامز میں سب سے زیادہ بلتستان ریجن نے متاثر ہونا ہے جبکہ بلتستان کے کسی سٹیک ہولڈر سے نئی ڈرافٹ کے حوالے سے نہ بات ہوئی ہے اور نہ کسی کوعلم ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ انجمن امامیہ کے مجوزہ ڈرافٹ کو پھر نظر انداز کرکے مرضی کی ڈرافٹ بنائی گئی ہے۔ جب تک نئی ڈرافٹ ہمارے پاس نہ آئے اور اس کے تمام پہلوں کا قانونی و تکنیکی جائزہ نہ لیں اس پہ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم جس پراسرار انداز میں کابینہ میں مفصل گفتگو کیے بغیر اور ڈرافٹ مکمل ہونے کے بعد اس کے سٹیک ہولڈرز سے شیئر کیے بغیر کابینہ سے پاس کرایا ہے اس سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہم اب حکومت کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لینڈر ریفامز کے نام پر یہاں کی زمینوں کو ہڑپنے کی کوشش ہوئی تو احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوگا۔ ہم نہ کسی دباؤ میں آئیں گے اور نہ کسی ڈیل کا حصہ بنیں گے۔ عوام کو یہاں کی زمینوں کا مالکانہ حقوق دینے کا مسودہ ہو تو کھل کر ساتھ دیں گے اگر پھر واردات کی کوشش ہوئی تو عوامی طاقت سے دنگل سجائیں گے۔
وحدت نیوز (لاہور) بمناسبت ایام ولادت باسعادت حضرت امام مھدی علیہ السلام اور وحدت یوتھ پاکستان کے زیر اہتمام ہنر مند جوان کے عنوان سے ڈیجیٹل انسٹیٹیوٹ کا افتتاح ہوگیا ۔ جس کی باقاعدہ تقریب لاہور نیلم بلاک مسجد وامام بارگاہ شاہ خراسان ریزہ نجف میں منعقد ہوئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید احمد اقبال رضوی وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان تھے ۔ ڈیجیٹل انسٹیٹیوٹ کی افتتاحی تقریب میں وحدت یوتھ کے جوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی ۔
لاہور کی مذہبی ،سیاسی اور سماجی شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی ۔علامہ سید احمد اقبال رضوی وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور معروف سماجی شخصیت جناب سہیل رضوی صاحب نے جوانوں سے خطاب کیا ۔جبکہ مرکزی کوارڈینیٹر خطباء وذاکرین ونگ علامہ سید حسن رضا ہمدانی نے اختتامی دعا خیر کرائی ۔
مرکزی سیکرٹری سیاسیات جناب سید اسد عباس نقوی،صوبائی سیکرٹری سیاسیات جناب حسین زیدی ، علامہ سید امتیاز حسین کاظمی ، معروف کاروباری شخصیت جناب توقیر صاحب ، ذاکر اھلبیت ذوہیب علی ہمدانی، علامہ ناصر عباس جوئیہ ، علامہ غلام عباس شیرازی ، علامہ بشیر رضوی ، مولانا ظہیر کربلائی ، نجم عباس خان ضلعی صدر مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور ، نقی حیدر صدر وحدت یوتھ ونگ لاہور ڈویژن، جناب اخلاق حسین جعفری ، آفتاب علی ہاشمی کے علاوہ وحدت یوتھ کے جوانوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی ۔
آخر میں اس پروگرام کے میزبان جناب را نا کاظم نے تمام مہمانوں اور جوانوں کا اس تقریب میں شرکت کرنے پر تہہ دل شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے آخر میں تمام مہمانوں کے لئے کھانے کا وسیع اہتمام کیا گیا تھا ۔واضح رہے کہ اس ڈیجیٹل انسٹیٹیوٹ میں جوانوں کو گرافکس ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے کورسزکروائے جائیں گے اگلے مرحلے میں خواتین کیلئے بھی علیحدہ کلاسزکا آغاز جلد متوقع ہے ۔
وحدت نیوز(شکارپور) سندھ بحالی امن ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جماعت اسلامی کی میزبانی میں کندن بائی پاس شکارپور پر سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی لاقانونیت اور ڈاکو راج کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں جماعت اسلامی سندھ کے صوبائی امیر کاشف سعید شیخ ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی ،ایم ڈبلیو ایم شکارپور کے ضلعی صدر اصغر علی سیٹھار مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔
اس موقع پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سندھ اس وقت بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ کشمور شکار پور جیکب آباد گھوٹکی کی عوام کو ڈاکوؤں کے حوالے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت روزانہ درجنوں کے حساب سے چوری ڈاکہ قتل اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہو رہی ہیں جبکہ آج تک حکومت رینجرز پولیس اور ریاستی اداروں نے ڈاکو انڈسٹری کے خاتمے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ پولیس وڈیرے اور ڈاکوؤں کی ملی بھگت سے اغواء انڈسٹری ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ جس کا مقصد معصوم شہریوں کو اغواء کرنا اور ان سے لاکھوں روپے تاوان کی رقم وصول کرنا ہے۔ پولیس مغویوں کی بازیابی کے لئے جعلی مقابلہ کرتی ہے جس میں مغوی تو واپس اتا ہے لیکن ڈاکو پکڑا نہیں جاتا اور ناہی کوئی ڈاکو زخمی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام حکومت سے مایوس ہو کر حزب اختلاف کی جماعتوں اور قائدین کی طرف دیکھ رہی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما اس ظلم و بدامنی کے خلاف اور مظلوم عوام کے حق میں کیوں نہیں بولتے۔؟انہوں نے کہا کہ ایک سردار کے ٹریکٹر پہ اگر گولی چلائی جائے تو اس کا جرمانہ اور تاوان 50 لاکھ روپے لیا جاتا ہے لیکن اگر عام غریب شہری مارے جائیں تو اسے کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔ اس کے نا حق قتلِ کی قیمت گائے بھینس سمجھ کر مقرر کی جاتی ہے۔
وحدت نیوز(سکردو) اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی و پارلیمانی لیڈر مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان محمد کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دیامر کے عوام کے مطالبات فوری حل کیے جائیں اور مزید خطے میں بے چینی پھیلنے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے متاثرین ڈیم کے مطالبات حل کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن حکومت انتہائی غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ دیامر کے ہزاروں عوام کئی روز سے سڑکوں پہ ہے اور صوبائی حکومت کو اپنی کرسی کی فکر ہے۔ دیامر کے عوام حکم کریں ہم بھی انکے احتجاج میں شریک ہو جائیں گے۔
اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے کہا کہ عوام پر ظلم ختم کیا جائے۔ ذمہ داروں کو ناعاقبت اندیشی اور غلط فیصلوں سے خطہ نہ ختم ہونے والے بحران میں داخل ہوچکا ہے۔ احساس محرومی اور غلط فیصلوں کے نتیجے میں ایک جنریشن مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ ان غلط فیصلوں اور ظالمانہ عوام دشمن فیصلوں کے نتائج سب کو بھگتنا ہوگا۔ دیامر ڈیم گلگت بلتستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس پروجیکٹ کے لیے دیامر کے عوام نے اپنے اجداد کی قبرستانوں، اپنے آثار اور نوادرات تک کی قربانی دیں لیکن اس کا صلہ دینے کی بجائے ان کو حقوق سے روکے جا رہیں ہے۔ عوام کو ہر صورت میں مطئمن کرنا ہوگا تاکہ یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ پنجاب یا دیگر علاقوں کی طرح طاقت کے بلبوتے پر عوام کو دبانے کا خیال اگر کسی کا ہے تو وہ بھول جائیں۔ مطالبات سے عوام کو پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر ڈیم مذاکراتی کمیٹی بناکر وفاقی حکومت کو انگیج کریں اور معاملات کا حل نکالیں ورنہ دیامر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی میں احتجاج پورے گلگت بلتستان میں پھیلے گا۔
وحدت نیوز(سکردو)جامشورو حادثے نے گلگت بلتستان کی فضا کو سوگوار کر دیا اور اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس افسوسناک سانحے کو دو دن سے زیادہ گزرنے کے باوجود سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداوں کی سرد مہری سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سندھ کی سرزمین اہلبیت کے پیروکاروں کے لیے عرصہ دراز سے مقتل گاہ بنی ہوئی ہے۔
شہید حسن ترابی ہو یا شہید خادم حسین الغروی، کشمراہ کے فرزند شہید عارف حسین، شہید نبی گیول رنگاہ ہو یا سانحہ عباس ٹاون کے شہید عامر و دیگر، کراچی ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے کواردو کے دو بھائی شہید نذیر ہو یا بشیر ،اسی طرح ملت جعفریہ کے قابل فخر عالم دین علامہ جلبانی ہو یاخرم زکی، علی رضا عابدی ہو یاعلی رضا تقوی، سبط جعفر رضوی یا شہیدآفتاب جعفری ان سمیت دیگر ہزاروں شہدا کے قاتلوں کو گرفتار کرنے اور سزا دینے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ کراچی وادی حسین شہدا سے بھرے پڑے ہیں۔ ان سب کے ذمہ دار یہاں کی حکومتیں ہیں۔ سانحہ جامشورو میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجرمانہ خاموشی انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے۔ سندھ حکومت بھی اس المناک سانحے پر چپ سادھ بیٹھی ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ مجرموں کو حکومتی پشت پناہی حاصل ہے اور ایف آئی آر بھی فرمایشی دفعات کے ساتھ بنائی جا رہی ہے۔ تھانہ اور پولیس کی قاتلوں کے ساتھ گھٹ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ لہذا جیوڈیشل انکوائری کے ذریعے سے سانحے کے حقائق تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اس سانحے میں داعی اجل کو لبیک کہنے والے تمام افراد نہ صرف قیمتی تھی بلکہ زین ترابی، آغا جان رضوی اور علی کاظم کو جانی خطرہ بھی لاحق تھا۔
وزیراعلی' سندھ اور سندھ حکومت نے اس سانحے پر جس طرح چشم پوشی کی وہ افسوسناک ہیں۔ایک طرف اس سانحے میں چار جانوں کا چلے جانا اور دوسری طرف خراش تک نہ آنا بہت سارے سوالوں کے جوابات کے لیے کافی ہے۔
شہدا کی میتوں کی کراچی سے روانگی ہو یا لواحقین کی حوصلہ افزائی ہر دو عمل سندھ کی حکومت کہیں نظر نہیں آئی۔ ہم بحیثت گلگت بلتستان کے باسی بھی اور بحیثیت مکتب اہلبیت کے پیروکار کے مقتدر حلقوں اور ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے قاتلوں کو سزا دیں۔ سندھ کی سرزمین ہو یا کرم کی سرزمین، کوئٹہ ہو یا گلگت بلتستان ہمیں جینے کا حق دیں۔
وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی کی والدہ محترمہ کے انتقال پر ملال پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی، جنرل سیکریٹری سید ناصرشیرازی، صدر مجلس علمائے مکتب اہل بیتؑ علامہ سید حسنین عباس گردیزی ودیگر قائدین نے دلی افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔
قائدین نے اپنے مشترکہ تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ حجت الاسلام والمسلمین علامہ محمد امین شہیدی کی والدہ ماجدہ کے انتقال پرملال پر آپ سمیت تمام سوگوار خانوادہ گرامی کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں، غم کی اس عظیم گھڑی میں ہم آغا صاحب کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور والدہ مرحومہ کی مغفرت و بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں کہ خدا وند متعال مرحومہ کو جوار حضرت سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا میں جگہ عنایت فرمائے اور سب لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین یااللہ
وحدت نیوز (جیکب آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ عالم بشریت کے نجات دہندہ، حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی اسلامی انقلاب اور صالحین کی عالمی حکومت کا تذکرہ تمام الہامی کتب تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید میں موجود ہے۔ جہاں زمین پر صالحین کی حکومت کے وعدے کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پندرہ شعبان المعظم کو جشن میلاد حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی مناسبت پر گوٹھ رسول بخش ویسر میں منعقدہ محفل جشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ تمام انبیاء کرام نے انسانیت کو اس خوشخبری سے آگاہ کیا ہے کہ ظلم اور جبر کا خاتمہ ہوگا اور زمین پر نیک اور صالح بندوں کی حکومت قائم ہوگی۔ مستضعفین اور محرومین کو روئے زمین کی خلافت عطا کی جائے گی، اور یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا میں مستضعفین بیدار اور متحد ہو رہے ہیں، جبکہ مستکبرین ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ ایران، یمن میں مستضعفین کی حکومتیں قائم ہو چکی ہیں، جو اس تبدیلی کی واضح نشانیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے کو "عصرِ ظہور" کہا گیا ہے، اور ہمیں منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے زمینہ سازی کرنی ہوگی۔ مزید برآں، علامہ مقصود علی ڈومکی نے وطن عزیز پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لئے متعارف کرائے گئے "پیکا آرڈیننس" کو ایک سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ درحقیقت یہ آرڈیننس فارم 47 پر قائم جعلی حکومت کی جانب سے عوامی شعور اور بیداری کو کچلنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ فیک نیوز کی مبہم تعریف کا سہارا لے کر اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کیا گیا ہے۔ اظہار رائے کرنے والوں کی گرفتاریاں، سخت سزائیں اور انہیں خوف زدہ کرنے کے ہتھکنڈے قابل مذمت ہیں۔ اس کالے قانون کو نافذ کرنے والوں نے نہ تو پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی صحافتی تنظیموں کو، جو جمہوری اقدار کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔
وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام پیکا ایکٹ کیخلاف منعقدہ سیمینار Media Crises In Pakistan سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجریہ، مقننہ ، عدلیہ اور میڈیا ریاست کے چار بنیادی ستون ہیں، آئین کے اندر ان تینوں کی خودمختاری اور استقلال لکھا گیا ہےاگر یہ تین یا چار ستون مستقل نہیں ہوں گےتو ریاست کا سسٹم نہیں چلے گا،اس وقت آپ دیکھ لیں کہ جو مقننہ کا ستون ہے وہ ڈھےچکا ہوا ہے،یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے،ایک مقبوضہ پارلیمنٹ ہےجس میں سے لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے،رات کو اغوا کیا جاتا ہےاور آج تک پتہ نہیں کہ انہیں کس نے اٹھایا ہے، اس مقبوضہ پارلیمنٹ میں لوگوں کو خوف ذدہ کرکے ووٹ لیئے جاتے ہیں انہیں خریدا جاتا ہے اور لوگ بکتے بھی ہیں۔
انہوںنےکہا کہ ریاست کا دوسرا اہم ستون عدلیہ اس وقت مقبوضہ فلسطین اور کشمیر بن چکی ہے، اپنا استقلال کھو بیٹھی ہے،ایڈمنسٹریشن ہو یا دوسرے ادارے جن کا اصل نفوس بڑھ چکا ہےان کی وجہ سے عدلیہ کا استقلال اور خود مختاری ختم ہوچکی ہے،تیسرا ستون مجریہ یعنیٰ حکومت جوکہا آج ایک پیرالائزد حکومت ہے،اصل میں فالج شدہ ہے نہیں چل رہی ہےیہ ستون بھی ڈھے چکا ہوا ہےاور آخری ستون جو ڈھایا گیاوہ پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا کا ستون ڈھایا گیا ہے ،یہ لوگ چاہتے ہیںکہ پاکستانی معاشرہ گونگوں ، بہروں اور اندہوں کا معاشرہ بن جائے ،جدھر مرضی ہانکیں لے جائیں، یہ عوام کے شعور سے ڈرتے ہیں،عوام کی بصیرت سے ڈرتے ہیں،عوام کی آگہی سے ڈرتے ہیںاور عوام کی عزم اور حوصلے سے ڈرتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ عوام گمراہ ہو جائیں،عوام بے شعور ہو جائیں۔
علامہ راجہ ناصرعباس نے مزید کہا کہ اس وقت ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے نفاق اور منافقت کو ہمیں ایک طرف پھینکنا ہوگا، ہمیں سچے دل کے ساتھ، سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، اگر ہم قاتل سے بھی ملیں اور مقتول سے بھی پھر یہ تحریک کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی سب سے بڑا علمیہ یہ ہے کہ ہم قاتلوں کے ساتھ بھی بیٹھتے ہیں اور مقتولوں کا بھی ماتم کرتے ہیں ان کا نوحہ اور مرثیہ بھی پڑھتے ہیں، اس نفاق کو ختم کرنا ہوگا، جتنی بھی ترامیم منظور ہوئیں اس میں منافقت نہ ہوتی تو کبھی یہ ترامیم منظور نہ ہوتیں یہ بل کبھی بھی پاس نہیں ہوسکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم یہاں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں انشاءاللہ ،خدا نے انسانوں کو بولنے کی طاقت دے کے خلق کیا ہےانسان کی فطرت میں رکھا ہے کہ وہ بولےاور یہ بولنا دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ،ہم بولیں گےکل بھی بولے تھےآج بھی اور آئندہ بھی بولیں گےاور کہیں گے یہ بادشاہ ننگا ہےسب کہیں کہ بادشاہ ننگا ہے، حامد میر صاحب نے کہا کہ یہاں مارشل لاء ہے۔مارشل لاء کا سرپرست کون ہے یہاں پرکون چلا رہا ہے یہ مارشل لاء؟؟یہ ننگے ہیں سارے کے سارےبرہنہ ہیں سارےانہیں رسوا کرنا ہوگاعوام کے سامنےجرائت اور حوصلے کے ساتھ پھر جاکر ہم منزل کو پہنچیں گے، انشاءاللہ جیت ان کی ہوتی ہےجو میدان میں اترتے ہیںسچائی کے ساتھ اخلاق کے ساتھ ،ثابت قدم رہتے ہیںاور کسی ظالم کے آگے سب نہیں جھکاتے،مجھے امید ہے یہ تحریک اسی طرح آگےبڑھے گی اور عوام کے حقوق اور اپنے حق کی جنگ لڑے گی اور کامیاب ہوگی۔