وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک) رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے صوبہ اصفہان کے شہر نجف آباد سے ملاقات کے لئے آنے والے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب میں انتہا پسندی اور میانہ روی کی تشریح کی اور پوری قوم اور خاص طور پر حکام اور سیاسی رہنماؤں کو موجودہ انتخابی ماحول میں دشمن کی اس چال کی طرح سے بہت ہوشیار رہنے کی دعوت دی جس کے تحت وہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم معاشرہ دکھانا چاہتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے انتخابات کو قوم کے پورے قد سے کھڑے ہونے کا میدان، قومی استقامت و وفاداری اور ملکی خود مختاری و وقار کی حمایت کی جلوہ گاہ قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ جو لوگ اسلامی مملکت ایران کے وقار سے لگاؤ رکھتے ہیں انھیں چاہئے کہ جمعے کو ہونے والے انتخابات میں شرکت کریں اور دنیا چھبیس فروری کو دیکھے گی کہ ایران کے عوام کس طرح والہانہ انداز میں پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہوتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام کا حوالہ دیا اور جمعے کو پارلیمنٹ اور ماہرین کی کونسل کے دو انتہائی اہم انتخابات کے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کے اندر انتخابات کی اہمیت صرف ووٹ دے دینے تک نہیں ہے بلکہ انتخابات کا مطلب ہے گوناگوں دباؤ، ظالمانہ پابندیوں اور خباثت آمیز پروپیگنڈوں کے بعد دشمن کے سامنے ملت ایران کا سینہ سپر ہوکر اپنی توانائیوں کا اظہارکرنا۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں عوام کی وسیع شرکت سے دنیا میں ایک بار پھر اسلامی انقلاب کی عظمت و ہیبت ظاہر ہوگی۔ آپ نے فرمایا کہ انتخابات سے ملی قوت و عزم و استقامت کا مظاہرہ ہونے کے ساتھ ہی خبیثانہ عزائم کے مقابلے میں ایک باعظمت قوم کی دلیری و شجاعت و وفاداری کی بھی نمائش ہوگی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے انتخابات میں رائے دہندگان کی شرکت کی اہمیت کا ذکر کرنے کے بعد انتخابات کے مختلف مواقع پر گزشتہ 37 سال سے جاری دشمن کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہونے والے انتخابات کو نمائشی قرار دینا، انتخابات میں عوام کی شرکت کو محدود کرنا اور پہلے سے ہی نتیجہ طے ہونے کا تاثر دیکر انتخابات میں عوام کی شرکت کو بے معنی ظاہر کرنا وہ چالیں رہی ہیں جو بدخواہوں نے عوام کو انتخابات سے دور رکھنے کے لئے اپنائی ہیں اور بعض مواقع پر تو امریکی حکام نے صریحی بیان بھی دئے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ امریکیوں کو تجربے سے یہ بات سمجھ میں آ چکی ہے کہ وہ آشکارا طور پر کوئی موقف اختیار کریں گے تو نتیجہ اس کے بالکل الٹ نکلے گا۔ آپ نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ انتخابات کے سلسلے میں امریکیوں نے سکوت اختیار کر رکھا ہے، مگر ان کے آلہ کار اور ان کی کاسہ لیسی کرنے والے مختلف طریقوں سے نئی سازش پر عمل پیرا ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس نئی سازش کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ملت ایران کے بدخواہوں نے اس دفعہ انتخابات میں فرضی طور پر دو قطب بنا دئے ہیں تاکہ یہ تاثر عام کریں کہ عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ دوسرے تمام مقابلوں کی طرح انتخابات کے مزاج میں بھی جوش و خروش، برتری اور عدم برتری شامل ہے، مگر انتخابات میں برتری اور عدم برتری کا مطلب قوم کا دو دھڑوں میں تقسیم ہو جانا نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مطلب سماج کو تقسیم کرنا اور عوام میں ایک دوسرے کے خلاف عناد اور دشمنی ہے، ایران میں اس طرح کے دو دھڑے موجود ہونے کی بات سراسر جھوٹ ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران میں محاذ بندی اگر ہوئی تو وہ اسلامی انقلاب اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے اصولوں کے وفاداروں اور استکباری محاذ اور اس کے ہم نواؤں کے مابین ہوئی، تاہم اس محاذ بندی میں پوری ملت ایران انقلابی، انقلاب سے محبت کرنے والی اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے اصول و نظریات کی وفادار ہے۔ ‏رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ جھوٹی محاذ بندی کی جڑ ملک کے باہر ہے، مگر افسوس کا مقام ہے کہ بعض اوقات ملک کے اندر بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخابی ماحول میں حکومت مخالف اور حکومت نواز پارلیمنٹ جیسی تقسیم کی بات بھی ایک جھوٹی محاذ بندی ہے، آپ نے فرمایا کہ اس قسم کی دو قطبی فضا کا تاثر دینے والے یہ ذہنیت پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ملت ایران کا ایک حصہ حکومت نواز پارلیمنٹ کا حامی ہے اور دوسرا حصہ حکومت مخالف پارلیمنٹ چاہتا ہے، جبکہ حقیقت میں ملت ایران کو نہ تو حکومت نواز پارلیمنٹ چاہئے اور نہ حکومت کی مخالف پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران ایسی پارلیمنٹ چاہتی ہے جو متدین، فرض شناس، شجاع، فریب میں نہ آنے والی، استکبار کی توسیع پسندی اور حرص و طمع کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے والی، قومی وقار اور خود مختاری کی محافظ، ملک کی پیشرفت و ترقی کی پابند، نوجوانوں کی علمی استعداد کو متحرک کرنے پر یقین رکھنے والی، داخلی وسائل پر استوار معیشت کی حامی، عوام کے درد کو سمجھنے والی اور عوام الناس کی مشکلات حل کرنے کا عزم رکھنے والی ہو، امریکا سے مرعوب نہ ہو اور اپنے آئینی فرائض پر عمل کرے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کے عوام ایسی پارلیمنٹ چاہتے ہیں، کسی شخص کی طرفدار پارلیمنٹ نہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ایٹمی مسئلے میں جامع ایکشن پلان نافذ ہو جانے کے بعد کے دور کے لئے امریکا کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جے سی پی او اے کے بعد امریکیوں نے ایران اور علاقے کے لئے دو الگ الگ منصوبے بنائے اور آج بھی انھیں منصوبوں پر کاربند ہیں، کیونکہ انھیں بخوبی علم ہے کہ علاقے میں ان کے مذموم مقاصد کے سامنے کون سا ملک ہے جو مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران کے سلسلے میں امریکیوں نے اپنی سازش کے تحت درانداز عناصر کے استعمال کی روش اختیار کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب دراندازی اور اس مسئلے کی طرف سے ہوشیاری برتے جانے کا موضوع زیر بحث آیا ہے، ملک کے اندر کچھ لوگ برافروختہ ہو گئے کہ بار بار دراندازی کی بات کیوں کہی جاتی ہے، لیکن یہ برافروختگی بے جا اور غیر ضروری ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ درانداز اور دراندازی کا معاملہ ایک حقیقی معاملہ ہے، البتہ بعض اوقات دراندازی میں ملوث شخص کو خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس راستے پر چل نکلا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے دور اندیش اور طویل تجربات رکھنے والے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ان بیانوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق بعض اوقات دشمن کی بات کئی واسطوں سے گزرتے ہوئے اچھے بھلے افراد کی زبان سے سنائی دیتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس محترم انسان نے نہ تو کسی سے پیسہ لیا ہوتا ہے، نہ کسی سے کچھ وعدہ کیا ہوتا ہے، مگر لاعلمی میں ہی دشمن کی بات دہراتا ہے اور ایک طرح سے دراندازی کی زمین ہموار کرنے لگتا ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایسے دراندازوں کی کچھ مثالیں پیش کیں جن کو خود بھی امر واقعہ کا اندازہ نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایک رکن پارلیمنٹ نے ایوان کی کھلی کارروائی کے دوران دشمن کی بات دہراتے ہوئے اسلامی نظام پر دروغ گوئی کا الزام لگا دیا۔ ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ جس زمانے میں ہمارے ملک کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم سخت مذاکرات میں مصروف اور فی الواقع فریق مقابل سے محو پیکار تھی اور موجودہ صدر محترم اس وقت مذاکراتی ٹیم کے سربراہ تھے، کچھ لوگوں نے پارلیمنٹ میں ایسی ہنگامی قرارداد پیش کی جس سے فریق مقابل کی بات کی تائید ہوتی تھی اور موجودہ صدر محترم نے اس وقت اس قرارداد کا شکوی کیا اور کہا تھا کہ یہ قرارداد دشمن کے فائدے میں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے پوری قوم اور خاص طور پر حکام اور سیاسی رہنماؤں کو دشمن کی دراندازی کی کوششوں سے بہت ہوشیار رہنے کی سفارش کی اور فرمایا کہ توجہ اور ہوشیاری کا تقاضا یہ ہے کہ اگر دشمن، عوام کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے مقصد سے کسی ایک گروہ یا شخص کی تعریف کر رہا ہے تو فورا اظہار بیزاری کیا جائے اور اس کے بالکل الٹ موقف اختیار کیا جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ نقل کیا کہ "اگر دشمن آپ کی تعریف کرے تو آپ اپنے روئے اور عمل کو شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیجئے۔" رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ قول انقلاب کا دستور العمل ہے، بنابریں اغیار کی تعریف کے خلاف فورا موقف اختیار کرنا چاہئے اور ہرگز غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ آپ نے زور دیکر فرمایا کہ ایران جیسے وسیع ملک کا انتظام سنبھالنا اور اپنے عظیم و شجاع عوام کے امور کو آگے بڑھانا، دشمن کے مقابلے میں ہوشیاری، کھلی آنکھوں سے کام کرنے اور عزم راسخ کا متقاضی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حکام اور سیاسی رہنماؤں کو دشمن کی سیاسی اصطلاحات کو دہرانے اور انتہا پسند اور 'میانہ رو' جیسے الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کئے جانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت سے ہی بدخواہ عناصر یہ اصطلاحیں استعمال کر رہے تھے اور انتہا پسند سے ان کی مراد وہ افراد ہوتے ہیں جو اسلامی انقلاب کی نسبت اور امام خمینی کے اصولوں اور نظریات کی نسبت زیادہ پابند اور باعزم ہیں، جبکہ اعتدال پسند سے ان کی مراد وہ افراد ہیں جو اغیار کے سامنے جھک جائیں اور ان سے ساز باز پر تیار ہوں۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ جو لوگ ملک کے اندر یہ الفاظ استعمال کر رہے ہیں انھیں چاہئے کہ اسلامی تعلیمات کا دقت نظری سے مطالعہ کریں، کیونکہ اسلام میں اس طرح کی تقسیم بندی کا کوئي وجود نہیں ہے، اسلام میں 'وسط یا میانہ کا لفظ راہ مستقیم کے لئے استعمال کیا گيا ہے۔ لہذا میانہ روی کے مقابل جو لوگ ہیں وہ انتہا پسند نہیں بلکہ صراط مستقیم سے منحرف افراد ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ راہ مستقیم پر آگے بڑھتے ہوئے ممکن ہے کہ کچھ لوگ زیادہ تیزی سے آگے بڑھیں اور کچھ کی رفتار کم ہو، اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اغیار کی سیاسی اصطلاح میں داعش کو بھی انتہا پسند کہا جاتا ہے جبکہ داعش اسلام، قرآن اور صراط مستقیم سے منحرف تنظیم ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ جو لوگ غیر ممالک میں انتہا پسند کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں ان کے نشانے پر انقلاب کے وفادار حلقے ہیں، لہذا ملک کے اندر بہت احتیاط برتنا چاہئے کہ یہی الفاظ دہرا کر دشمن کے ہدف کی تکمیل نہ کی جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکیوں کے اس تبصرے کا حوالہ دیا کہ ایران میں کوئی اعتدال پسند نہیں ہے، آپ نے فرمایا کہ پوری ملت ایران، انقلاب کی ہمنوا ہے اور سب انقلاب سے وابستہ ہیں، البتہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی یا لغزش ہو جائے، مگر ایران کے عوام میں کوئی بھی اغیار پر انحصار کا حامی ہرگز نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتخاب کی روش کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عوام سے کہا کہ اس الیکشن میں آپ کا جو بھی انتخاب ہوگا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا، اس کے نتیجے کا سامنا آپ ہی کو کرنا ہے، لہذا یہ کوشش کی جانی چاہئے کہ انتخاب بالکل درست ہو۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخاب کی نوعیت کا ایک نتیجہ اللہ تعالی کی رضامندی یا ناراضگی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ انتخاب دقت نظری، بصیرت اور صحیح شناخت کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلام کے ممبران اور ماہرین کی کونسل کے ارکان کے انتخاب کے سلسلے میں پہلے امیدواروں کی شجاعت، عزم، دشمن سے مرعوب نہ ہونا، راہ انقلاب میں استقامت، انقلاب سے وفاداری، فرض شناسی اور دینداری جیسے اوصاف کی بابت اطمینان حاصل کر لیجئے، اس کے بعد ووٹ دیجئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر آپ بعض امیدواروں کی شناخت نہیں رکھتے تو یہ نہ کہئے کہ میں ووٹ ہی نہیں ڈالوں گا، بلکہ ان لوگوں سے مشاورت کیجئے جن کے تدین، بصیرت اور دیانت داری کی بابت آپ اطمینان رکھتے ہیں۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ اس مسئلے میں، راستہ، ہدف اور فریضہ بالکل واضح ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ اہم کام بحسن و خوبی انجام پاتا ہے تو یقینا اس صورت میں اللہ تعالی بھی ہماری مدد کرے گا اور انتخابات کا نتیجہ جو بھی ہو ملک کے مفاد میں ہوگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مجھے یقین ہے کہ بدخواہوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اللہ تعالی ملت ایران کو حتمی فتح عنایت کرے گا اور فضل پروردگار سے دشمن اس انقلاب اور اسلامی نظام پر کوئی ضرب نہیں لگا سکے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں اسی طرح اسلامی انقلاب کی راہ میں نجف آباد کے عوام کی اسقامت و پائيداری، انقلاب سے وفاداری، ان کی صداقت اور جذبہ ایمانی کی قدردانی کی۔ آپ نے فرمایا کہ نجف آباد کے عوام نے اسلامی تحریک کے زمانے میں اپنے جوش و خروش، فہم و شعور کا مظاہرہ کیا اور اسلامی انقلاب کی فتحیابی کے بعد مختلف مواقع اور خاص طور پر مقدس دفاع کے دوران اپنی شجاعت، حمیت، استقامت اور افادیت ثابت کی۔

رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل نجف آباد کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین حسناتی نے اسلامی انقلاب کے دوران اور اس کے بعد مقدس دفاع کے برسوں میں اس شہر کے شہید پرور عوام کی شجاعت و ہمت کا ذکر کیا اور ڈھائی ہزار شہیدوں کا نذرانہ پیش کرنے جیسی ان کی عظیم قربانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نجف آباد کے وفادار عوام، اسلام، قرآن، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور رہبر انقلاب سے اپنے عہد و پیمان پر قائم ہیں اور اپ نے خون کے آخری قطرے تک اس میثاق کے وفادار بنے رہیں گے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) کمال تک پہنچنے میں مختلف امور موثر ہیں۔ انسان کو خداوند عالم نے کمال کے لئے خلق کیا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اس وصف سے کس طرح متصف ہوسکتا ہے۔ان میں معرفت الٰہی میں اضافہ،تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنا پیشہ کرنا، اپنی زندگی میں نظم و نسق قائم  رکھنا،علمی میدا ن میں ارتقاء کے مراحل کو طے کرنا، خصوصی طور پردینی علم کےحصول میں سرگرم رکھنا اور اس پر عمل کے ذریعے وارث انبیاء کا عنوان پانا "اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَتُ الاَنْبِیَاءُ،عرفان کے ذریعے کشف و شہود کے مرحلے تک رسائی پیدا کرنااورکائنات کی ہر چیز کو قدرت الٰہی کے مظاہر سمجھنا، اپنی شناخت کے ذریعے رب کی شناخت حاصل کرنا "مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"۔اپنی زندگی میں ہر کام کوخداکی خوشنودی کے لئے بجا لانا "مَنْ کَاْنَ لِله کَانَ الله لَهُ"اپنی جان، مال اور اولاد  کو خدا کی راہ میں قربان  کرنے کے لیے تیار رہناشامل ہیں۔
    
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا آج کے اس خطرناک دور میں بھی ایسے اوصاف کے حامل افراد کا پایا جانا  ممکن ہے؟

جواب اثبات میں ہے ۔ایسا ہونا ناصرف ممکن ہے بلکہ موجودہ صدی میں ہی ہم اس کے مصداق اتم کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔میرا مقصود ہے؛ بت شکن زمان، عارف بے مثل،مجتہد کل عالَم جہان تشیع، وارث علم انبیاء،فیلسوف بے نظیر،سیاستدانِ یکتائے زمان،شجاعت کا پیکر، اخوت کا داعی، انقلاب شبیری کے پیغمبر اور صبر حسینی کے مصداقِ بارز،شجاعت حیدری کا عملی مظہر،حلم امام حسن مجتبیٰؑ کا زندہ مصداق، امام سجادؑ کی عبادت کا احیاءگر،باقرالعلومؑ کے منبع علمی کو دنیائے جہان تک منتقل کرنے والا اور صادق آل محمدؑ کی پیروی میں ہزاروں شاگردوں کے مربِّی اور دوسرے ائمہ معصومین علیھم السلام کے اوصاف حمیدہ کو زمانٖ حاضر میں عملی جامہ پہناکے دنیا کو دکھانے والی عظیم شخصیت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے۔
    
آپ نے ہر میدان میں دنیا کے سامنے ایسا کردار متعارف کرایا جس کا آج کے مادی دور میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ہم یہاں صرف مسلمانوں کے اتحادکے  حوالے سے آپ کے کردار کے چند گوشوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفاء کریں گے۔آپ نے صرف ایران کےمسلمانوں کو استعمار کے پلیدہاتھوں سے نجات نہیں دلایا بلکہ پوری عالم انسانیت کو بالعموم اور ساری دنیا کے مسلمانوں  کو بالخصوص خواب غفلت سے جگایا ۔آپ نے ہر مرحلے پر مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اور سامراجی عناصر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین فرمائی۔یوں آپ نے اپنی اس تحریک کو منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے ایک پیش خیمہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا:ہمارے اس انقلاب کے آنے سے؛ جو حقیقی انقلاب ہے اوراس میں احکام محمدی کابیان ہے۔اس کے ذریعے ہم دنیا پرستوں کے مظالم کا خاتمہ کریں گے اور خدا کی مدد سے منجی و مصلح کل، امام برحق ؛ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کےظہور کے لئے راہ ہموار کریں گے۔

1 وہ سپر طاقتیں جن کے سامنےساری دنیا سرتسلیم خم ہے امام خمینی ؒ نے دوٹوک الفاظ میں ان کے داغدار چہرے کے بدنما داغ کو پوری دنیا کے سامنے واضح کردیا اور مسلمانوں کے دلوں میں امید کی ایک کرن روشن کردی۔آپ نے فرمایا :"ہمارا انقلاب ایران کی حد تک محدود نہیں بلکہ ایرانی قوم کا انقلاب عالم اسلام میں انقلاب کا نقطہ آغاز ہےجو امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔خدا وند منان ان کے ظہور کو اسی عصر میں قرار دے کر ساری دنیا والوں اور مسلمانوں کو اپنے لطف و کرم میں شامل حال کرئے۔

 2 یقیناً آپ نے اسلامی اصولوں کو ایران کی سرزمین پر آزما کر دنیا کو دکھا دیا کہ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جس میں ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اصول و ضوابط موجود ہیں۔آپ نے پورے عالم اسلام کو درس دیا کہ اسلام صرف چند اعمال و اذکار کے مجموعےکا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع نظام حیات ہے ۔جس پر عمل کرکے مسلمان دونوں جہاں میں سروخرو ہوسکتے ہیں۔ جسے آپ نے عملی طور پر ثابت بھی کردکھایا۔ساری دنیا کے آزادی طلب انسانوں کو خمینی بت شکن کی اس تحریک سے سبق سیکھنا چاہئےاورسارے مسلمانوں کو اس نظام سے درس لے کر اسلامی اصولوں کو اپنے  معاشرے میں عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئے۔
    
امام خمینی نے امریکہ اور اسرائیلی مشینری اور ان کے آلہ کاروں کو مخاطب کرکے فرمایا:"امریکہ برطانیہ سے بدتر اور برطانیہ  امریکہ سے بدتر ہے اور سوویت یونین  تو ان دونوں سے بھی بدتر ہے ۔ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں بدتر ہے اور ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں پلید تر بھی ہےلیکن اس کے باوجود ہمارا سارا سروکار ان خبیثوں اورامریکہ کےساتھ ہے ۔امریکہ کا صدر جان لے؛ اس مفہوم کو جان لےکہ وہ خود دنیا  کا منفورترین شخص ہےاور ہمارےنزدیک بھی ایسا ہی ہے۔ہماری ساری مشکلات اسی امریکہ کی ایجاد کردہ ہیں ۔ہماری تمام تر مشکلات کا سبب یہی اسرائیل ہے اور اسرائیل خود امریکہ  کی دین ہے۔

3اسی خطاب میں آپ نے مسلمانوں کی  تمام مشکلات کا سبب امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے یوں فرمایا:"دنیا جان لے کہ ایرانی قوم اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو جن جن مشکلات کا سامنا ہے وہ سب غیروں کی جانب سے ہے یعنی؛ یہ سب کچھ امریکہ،اسرائیل اور ان کے حواریوں کے  ہاتھوں ہورہا ہے۔یہی وجہ ہے  کہ امت مسلمہ ان غیروں سے با لعموم اور امریکہ سے بالخصوص متنفر ہے۔امریکہ ہی اسرائیل اور ان کے ہمراہیوں کا  معاون  ہے ۔امریکہ ہی ہے جو اسرائیل کو طاقت فراہم کرتا ہے تاکہ اس طاقت کے بل بوتے پر وہ عرب کے مسلمانوں کوبے گھر کرئے ۔

4آپ نے مسلمانوں کو اپنی تہذیب یاد دلاکر مغربی تہذیب پر خط بطلان کھینچا:"اسلام جدید ترین تہذیبوں کا حامل ہے اور اسلامی حکومت کسی حوالے سے بھی جدید تہذیب و تمدن کا مخالف نہیں۔اسلام خود پوری دنیا میں سب سے عظیم تمدن کا سنگ بنیاد رکھنے والا ہے۔پس جو بھی ملک اسلامی قوانین پر مکمل عمل پیرا ہوگا تب وہ  پوری دنیا کا پیشرفتہ ترین ملک ہوگا۔

5اسلام ہر قسم کے جدید ترین تہذیب و تمدن کی اجازت دیتاہے مگر یه کہ اس سے اخلاقی مفاسد پیدا هوتے ہوں اور عفت کے منافی ہو۔اسلام نےصرف ان چیزیوں کی مخالفت کی ہے جو ملت کے لئے نقصان دہ ہوں اور ان چیزوں کی حمایت کی ہے جو ملت کے مصالح پرمشتمل ہوں

6وہ چیزیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ تهذیب و تمدن ہے ۔درواقع وہ  تهذیب وتمدن نہیں بلکہ یہ صرف ایک وهم و گمان ہے ۔اگر اس پر غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تهذیب و تمدن نہیں بلکہ درندگی سےزیادہ نزدیک تر ہے کیونکہ وہ جتنے بھی جدیداسلحےبناتےہیں، وہ سب اپنے جیسے هی انسانوں انسانوں کے قتل عام کی خاطر ہیں۔حقیقی تہذیب و تمدن اورحقیقی آزادی دونوں اسلام کے ہاں ہیں۔

7ان کی (مغربیوں ) کی مادی ترقی کےہم مخالف نہیں اور نا هی ہمارا اس پرکوئی اعتراض ہے۔انھوں نے مادی دنیا میں تو بہت ترقی کی ہےلیکن ہمارا اعتراض صرف اس مورد میں ہے کہ ہم اپنے آداب وقوانین  اور روش زندگی کو بھی ان سے ہی لینا چاہتے ہیں۔جبکہ تهذیب  کے اعتبار سے وه هم سے بہت پیچھے ہیں۔ انسانوں کے خون بہانے والے آلات بنانے کے میدان میں وہ آگے ہیں۔ انھوں نے ایسے آلات بنائے ہیں جس سے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں آگ لگائی جاتی ہے۔اگر اسی کا نام حقیقی تمدن ہے تو ساری دنیا والوں کو اس سے بیزار ہونا چاہئے۔وہ مکتب جو هرملک کی اصلاح اور اس کے تمدن اور حقیقی آزادی و استقلال کا ضامن ہے؛ وہ مکتب انسانیت ہے۔

 8آپ نے تمام مسلمانوں کو اسلام کے پرچم تلے جمع ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ موجودہ صدی کےسارے مسلمان،اپنی مشکلات اور ان کے اسباب کا خوب ادراک کریں گے اور ہر حوالے سے اپنے درمیان اتفاق و اتحاد قائم کریں گے اور اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے عظیم پرچم کے سائے تلے جمع ہوکر استعمار کے ہر قید و بند سے نجات حاصل کریں گے ۔اس صدی کے مسلمانوں نے اپنی جان فرسا مشکلات کا ادراک کیا ہے اور شیطان بزرگ (بڑے شیطان یعنی امریکہ)سے مختلف قسم کی مشکلات اور چاپلوسی اور قتل و غارت گری کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آپس میں قلبی لگاؤ، خدائے باعظمت اور اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے لئے کوئی راہ حل تلاش کیا جائے ۔

اس کے لیے لائحہ عمل یہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے دردمند حکمران اور عوام مل کر اپنی ثقافت اور حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مغربی ممالک پر انحصار ختم کریں اور وحی الٰہی سے منسلک اسلامی تہذیب کو فروغ دیں۔ حقیقی اسلامی ثقافت کا خود ادراک کرنے کے بعد دوسروں تک بھی منتقل کریں۔

 9 آپ نے انقلاب اسلامی کی سالگرہ کی مناسبت سے فرمایا:ہم پوری دنیا کےغیروں کے  تحت تسلط تمام مسلمانوں کی آزادی اور استقلال کی خاطر مکمل  ان کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتے ہیں اور  صراحت کے ساتھ انھیں یہ بھی تلقین کرتے ہیں کہ یہ حق لینا تمہارا فریضہ ہے۔انھیں چاہیے کہ ان طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالیں۔میں نے کئی باریقین دہانی کرائی  ہے اور اب پھر آگاہ کرتا ہوں کہ اگر مشرق کے مظلومین اور افریقی اپنے قدموں پر کھڑے نہ  ہوئے تو وه  ہمیشہ مشکلات میں پھنسے رہیں گے۔

 10آج اگر مختلف طبقوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے؛ دینی علماء، اہل قلم،روشن فکر اور سرکردہ  افراد ہرجگہ سے اٹھ نہ کھڑے ہوں اورمسلمانوں کو بیدار کرکے ستم زده قوموں کی فریاد کو نہ پہنچیں تو ان کا ملک ہر لحاظ سے تباہی کے داہنے کی طرف بڑھتا چلا جائے گا اور مشرق سے تعلق رکھنے والےغارت گر ملحدین اور ان سے بھی بدتر مغربی ملحدین ان کی شہ رگ حیات کو هی کاٹ کر ان کی عزت نفس اور کرامت انسانی کو بھی پامال کر دیں گے۔

11 خدا ہم سب کو امام خمینی  کی سیرت کو اپناتے ہوئے مہدی برحق ،عزیز زہرااور ظلم و جو ر کو عدل و انصاف میں بدلے والی عظیم ہستی؛ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین۔

فهرست منابع:
1.    عصر امام خمینی۔میر احمد رضا حاجتی،ص:242۔ناقل۔دو ماہہ آفتاب۔سال ہشتم۔شمارہ چہل و چہار۔اردبہشت،خرداد
2.    ایضاً۔ص:243۔ناقل ایضاً۔(ترجمہ:خود محقق )
3.    زندگی نامہ امام خمینی{از تولد تا رحلت۔دکتر حمید انصاری} ص:54۔
4.    ناشر:معاونت فرہنگی ستاد بزرگداشت حضرت امام خمینی ۔تاریخ نشر:1389۔(ترجمہ: ایضا)
5.    ایضاً۔
6.    صحیفہ نور۔جلد چہارم۔ص:221۔ناقل:دو ماہہ آفاق:ص:98۔سال ہشتم۔شمارہ چہل و چہار۔اردوبہشت،خرداد، (ترجمہ:ایضا )
7.    صحیفہ نور ۔جلد پنجم۔ص:263۔ناقل :ایضاً  ۔(ترجمہ: ایضا )
8.    صحیفہ نور۔جلدہشتم۔ص:309۔ناقل:ایضاً۔(ترجمہ: ایضا )
9.    صحیفہ نور۔جلد:نہم۔ص:82۔ناقل ایضاً ۔(ترجمہ: ایضا )
10.    دوماہہ آفاق۔ص:3۔سال ہشتم۔شمارہ چہل و چہار۔اردوبہشت،خرداد۔(ترجمہ:ایضا )11.    صحیفہ امام۔جلد 19۔ص:344ناقل:مجلہ آفاق۔ص:44۔سال ہشتم۔شمارہ چہل و چہار۔اردوبہشت،خرداد۔(ترجمہ:ایضا)

 

تحریر۔۔۔۔سید محمد علی شاہ الحسینی

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے انقلاب اسلامی ایران کی 37ویں سالگرہ کے موقع پرمرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ صدی کے عظیم الشان انقلاب کی کامیابی کے سینتیس برس مکمل ہونے پرملت اسلامیہ کو ہدیہ تبریک پیش کرتاہوں،امام خمینی ؒکی قیادت میں رونماہونے والااسلامی انقلاب آج سرحدوں کی رکاوٹوں کو توڑتا ہوانیل تا کاشغرتک پھیل چکا ہے،اس انقلاب نے راستے میں حائل تمام تر مصائب ومشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے، استعماری قوتوں کی سنگین سازشیں ، صدام ملعون کی مسلط کردہ جنگ،داخلی منافقین کے حملوں کے باوجود یہ انقلاب روز بروز توانا صورت میں پروان چڑھ رہا ہے،امام خمینی ؒکے بوئے ہوئے بیج کی آبیاری لاکھوں شہداءنے اپنے پاکیزہ لہو سے کی،اس انقلاب کو ولی امرمسلمین جہاں امام خامنہ ای نے اسی طرح محفوظ رکھا جیسا امام خمینی ؒ چھوڑ کر گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان نہ صرف سرحدی حد تک ملحق ہے بلکہ نظریاتی طور پر مربوط اور ملحق ہے۔ پاکستان ایران کا نظریاتی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ہے جو امریکہ اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کے لیے قابل برداشت نہیں،پاکستان کو ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ایران پاکستان کو بجلی اور گیس کے بحران سے باہر نکلنے میں باآسانی اورسستی مدد فراہم کرسکتا ہے، پاکستان کی سابقہ خارجہ پالیسی ناکام رہی ہے اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ امریکہ کا ہے۔ پاکستان کو خارجہ پالیسی میں تبدیلی کر کے واضح پالیسی بنانی چاہیئے اور سات سمندر پار ممالک کو گلے سے لگانے کی بجائے ان اسلامی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا چاہیئے جو پاکستان کے حقیقی دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے دنیا کے سامنے واضح کر دیا کہ امریکہ سے مدمقابل رہ کر ہی ملت اسلامی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے پاوں پر کھڑا ہو کر جامع پالیسی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیئے اور پاکستان کے حقیقی دوست جیسے ایران، چین، افغانستان اور دیگر اسلامی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیئے۔

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید سبطین الحسینی نے انقلاب اسلامی ایران کی 36ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ انقلاب اسلامی آج بھی مظلومین جہاں کیلئے امید کی کرن کی مانند ہے، استعماری طاقتوں کی لاکھ کوششوں اور سازشوں کے باوجود یہ انقلاب اپنی پوری طاقت سے قائم و دائم ہے۔ وحدت ہاوس پشاور سے جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام میں آج پائی جانے والی بیداری انقلاب اسلامی ایران کا ہی اثر ہے، رہبر کبیر امام خمینی کی یہ تحریک صرف اور صرف خدا کی رضا اور مظلومین کو انکا حق دلانے کیلئے تھی، اس خلوص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انقلاب اسلامی کی صورت میں وہ کامیابی عطا فرمائی جو آج بھی مظلومین جہاں کیلئے نجات کا راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی انقلابی فکر کی بدولت برادر اسلامی ملک ایران عالمی پابندیوں کے باوجود ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کے حکمران بھی برادر اسلامی ملک کے حکمرانوں کی طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور اپنی ملت کو وقار بخشیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے بجلی اور گیس منصوبوں کے حوالے سے کی جانے والی پیش کش پر مثبت جواب دینا چاہئے، اور ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اس موقع سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔تحریک انصاف حکومت کو بھی تجارتی روابط مزید بہتر بنا نا چاہئے۔

وحدت نیوز (مظفرآباد) انقلاب اسلامی ایران کی 36ویں سالگرہ کے موقع پر وحدت ہاوس مظفرآباد سے جاری اپنے بیان میں مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں کشمیر کے سیکریٹری جنرل علامہ تصور حسین نقوی الجوادی نے کہاہےکہ عظیم انقلاب اسلامی جس کا سرچشمہ انقلاب کربلا ہے اور خود بانی انقلاب حضرت آیۃ اللہ خمینی بزرگوار نے فرمایا کہ ہمارا انقلاب انقلاب کربلا کا صدقہ ہے،یقیناانقلاب اسلامی کے بانی نے مقاومت ،ہمت وجوانمردی امام حسین واصحاب حسین علیھم السلام سے درس لے کر (250)ڈھائی سوسالہ شہنشاہیت کا غرور خاک میں ملا کر دنیا کے نقشہ پر ایک الہی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جو دنیا بھر کے مظلومین ،محرومین اور مستضعفین کے کے کرن امید ہے،رہبر معظم فرماتے ہیں'انقلاب اسلامی عالم اسلام کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے،حضرت جمال الدین افغانی مرحوم جب تبلیغ دین کے لئے نکلتے تو لوگوں کو کہتے کہ 'اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے'تولوگ پوچھتے تھے کہ اگر یہ ضابطہ حیات ہے تو کہیں بطور رول ماڈل کیوں نہیں یقینا آج سید مرحوم کی روح پکار پکار کر دنیا کو متوجہ کر رہی ہوگی کہ جمہوری اسلامی ایران میں اسلام بطور رول ماڈل موجود ہے۔
حکیم الامت فلسوف مشرق حضرت علامہ محمد اقبال (رح)نے بہت پہلے اس انقلاب کی پیشنگوئی ان الفاظ میں کی تھی۔


 می رسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما


ان کا مزید کہنا تھا کہ  جہاں اس انقلاب کے ذریعے مملکت ایران کو ایک آمر ،جابر اور طالم شہنشاہی نظام سے آزادی ملی اس کے ساتھ ہی برطانیہ اور امریکا سی بھی آزادی نصیب ہوئی اور اسلام وقرآن کے قوانین کا بول بالا ہواخدا وند منان اس انقلاب کو انقلاب حضرت حجت (ع)کا ضمیمہ کر دے اور اس عظیم انقلاب سے مربوط فرمائے۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree