وحدت نیوز(کوئٹہ)  ریاستی اداروں نے دہشتگردوں کو کھلی آزادی دی ہوئی ہے تاکہ مظلوم شہریوں کی سر عام قتل و غارت کرسکے،اتنے ریاستی ادارے بلوچستان بھر میں کیا کررہے ہیں۔اسپنی روڈ پرپولیس اور ایف سی کی چوکیاں قائم ہے اس کے باوجود دہشتگرد با آسانی واردات کررہے ہیں اور فرا ر ہونے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں سانحہ اسپینی روڈ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحد ت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹیری جنرل علامہ برکت بلوچ ،ڈپٹی سیکرٹیری علامہ برکت شمسی ،معاون سیکرٹیری اطلاعات مومن علی علوی اور دیگر رہنماؤں نے گزشتہ دنوںا سپینی روڈ پر شیعہ ہزارہ قوم سے تعلق بہن بھائی کی شہادت پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔

علامہ برکت بلوچ نے کہا کہ واقعہ اسپینی روڈ بہت افسوسناک ہے جتنی مذمت کی جاے کم ہے بہن بھائی کی مظلومانہ شہادت پر امام زمانہ علیہ اسلام اور انکے اہل خانہ کو تسلیت پیش کرتے ہیں۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستی اداروں نے دہشتگردوں کو کھلی آزادی دی ہوئی ہے تاکہ مظلوم شہریوں کو سر عام قتل کر سکے،اتنے ریاستی ادارے بلوچستان بھر میں کیا کررہی ہیں؟انہوں نے کہا کہ اسپنی روڈ پرپولیس اور ایف سی کی چوکیاں قائم ہے اس کے باوجود دہشتگرد با آسانی واردات کررہے ہیں یہ پہلا واقعہ اسپنی روڈ پرنہیں بلکہ کئی واقعات اس روڑ پر رونما ہو چکے ہیں۔ہم وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پورے بلوچستان میں واقعی طور پر آپریشن ردالفساد کا آغا کیاجائے ملک بھر میں غافل حکمرانوں نے کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو پولیس گارڈ اور محافظ فراہم کئے ہوئے ہیں۔

علامہ ظفر شمسی نے کہاکہ آپریشن ردالفساد کی بسم اللہ بلوچستان سے کریں توپورے پاکستان میں امن ہو سکتا ہے کیونکہ سارے دہشتگرد بلوچستان میں اپنا سرچھپا ئے ہوئے ہیں لہذا بلوچستان حکومت اگر چاہے تو پورے شہریوں اور بالخصوص شیعہ ہزارہ قوم کو تحفظ دیں سکتی ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ شیعہ ہزارہ قوم ہمارے بازو ہیں ہماری عزت اور جان ہیں،بلوچستان حکومت ہوش کے ناخن لے،اسپنی روڈ واقعہ کاجلدنوٹس لے اورملزمان کے پورے نیٹورک کومنظرعام پر لائے تاکہ آیندہ ایسا افسوس ناک واقعہ پیش نہ آئے اوران کے سہولت کاروں کوبھی کڑی سزا دی جائیں ،اگر حکومت نے فوراً دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروںکے کیخلاف اقدامات نہیں کئے گئے تو پورے پاکستان میں احتجاج کرینگے ،انہوں نے مزید کہا کہ اسپینی روڈ پر اکثر واقعات پولیس چوکی کے صرف 10میٹر کے فاصلے پر رونما ہوتے ہیں ،حالیہ دہشتگردی کا واقعہ بھی پولیس اور ایف سے چوکی کے صرف چند میٹر کے قریب ہی ہوا ہے لیکن چوکی پر تعینات پولیس ملازمین اور ایف سی نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ چوکی پر تعینات پولیس ملازمین ،علاقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو فور ی طور پر معطل کر کے انہیں بھی شامل تفتیش کی جائے۔انہیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی ،شریک جرم نہ ہوتے تو مخبر ی کرتے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کا مارچ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کی قیادت میں ریڈ زون میں داخل ہو گیا ہے۔ ہزاروں کارکنان راستے میں آنے والے کنٹینرز کو ہٹا رہے ہیں اور خاردار تاروں کو کاٹ کر دور پھینکا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں ریڈ زون ایریا کی جانب بڑھ رہی ہے اور فضا لبیک یا رسول اللہ (ص) اور لبیک یاحسین (ع) کے نعروں سے گونج رہی ہے جبکہ ان کے ہمراہ کنٹینر ہٹانے والی کرینیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے مارچ میں دو حصار بنائے گئے ہیں جن میں خواتین کو آگے رکھا گیا ہے جبکہ ان کے بعد مرد کارکن موجود ہیں۔ عوامی تحریک کے کارکنوں نے کرین کے ذریعے ریڈ زون جانے والے راستے پر رکھے گئے کنٹینر ہٹانا شروع کر دیئے ہیں۔ ریڈ زون روانگی سے قبل دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ پرامن انقلاب مارچ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منتقل ہوگا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا بدلہ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے۔

 

ڈاکٹر طاہرالقادری نے الزام عائد کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 شہدا کے ذمہ دار شریف برادران اور ان کی حکومت ہے جبکہ کارکنان پر گولیاں چلانے کا حکم شہباز شریف نے دیا جبکہ اسے وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا مارچ عمران خان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے جس میں کارکنان کی بڑی تعداد ریڈ زون کی طرف بڑھنا شروع ہو گئی ہے، تحریک انصاف کے مارچ میں بھی شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت خواتین کو آگے اور مرد کارکنان ان کے پیچھے چلتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوں گے۔ عمران خان کے کنٹینر نے ریڈ زون کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے اور اس موقع پر عمران خان کارکنان کو پرجوش کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا دھرنے سے خطاب میں کہنا تھاکہ ریڈ زون پاکستان کا حصہ ہے بھارت کا نہیں ہمیں وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر حکومت نے کارکنان پر تشدد کیا تو ہم نوازشریف کو نہیں چھوڑیں گے اور نوازشریف سن لیں کہ عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ انہیں جانا ہی ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے کردی گئی ہے جبکہ فوجی حصار سے قبل پولیس، ایف سی، رینجرز کی نفری بھی تعینات ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کا مارچ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کی قیادت میں ریڈ زون میں داخل ہو گیا ہے۔ ہزاروں کارکنان راستے میں آنے والے کنٹینرز کو ہٹا رہے ہیں اور خاردار تاروں کو کاٹ کر دور پھینکا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں ریڈ زون ایریا کی جانب بڑھ رہی ہے اور فضا لبیک یا رسول اللہ (ص) اور لبیک یاحسین (ع) کے نعروں سے گونج رہی ہے جبکہ ان کے ہمراہ کنٹینر ہٹانے والی کرینیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے مارچ میں دو حصار بنائے گئے ہیں جن میں خواتین کو آگے رکھا گیا ہے جبکہ ان کے بعد مرد کارکن موجود ہیں۔ عوامی تحریک کے کارکنوں نے کرین کے ذریعے ریڈ زون جانے والے راستے پر رکھے گئے کنٹینر ہٹانا شروع کر دیئے ہیں۔ ریڈ زون روانگی سے قبل دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ پرامن انقلاب مارچ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منتقل ہوگا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا بدلہ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے۔

 

ڈاکٹر طاہرالقادری نے الزام عائد کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 شہدا کے ذمہ دار شریف برادران اور ان کی حکومت ہے جبکہ کارکنان پر گولیاں چلانے کا حکم شہباز شریف نے دیا جبکہ اسے وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا مارچ عمران خان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے جس میں کارکنان کی بڑی تعداد ریڈ زون کی طرف بڑھنا شروع ہو گئی ہے، تحریک انصاف کے مارچ میں بھی شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت خواتین کو آگے اور مرد کارکنان ان کے پیچھے چلتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوں گے۔ عمران خان کے کنٹینر نے ریڈ زون کی جانب بڑھنا شروع کردیا ہے اور اس موقع پر عمران خان کارکنان کو پرجوش کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا دھرنے سے خطاب میں کہنا تھاکہ ریڈ زون پاکستان کا حصہ ہے بھارت کا نہیں ہمیں وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر حکومت نے کارکنان پر تشدد کیا تو ہم نوازشریف کو نہیں چھوڑیں گے اور نوازشریف سن لیں کہ عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ انہیں جانا ہی ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے کردی گئی ہے جبکہ فوجی حصار سے قبل پولیس، ایف سی، رینجرز کی نفری بھی تعینات ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree