وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماؤں سید ناصر عباس شیرازی، کنوئنیر نصاب کمیٹی علامہ مقصود علی ڈومکی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، علامہ اعجاز بہشتی،ابن حسن،علامہ ضیغم عباس نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور انہیں یکساں نصاب تعلیم کے متنازعہ نکات سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا کہ قوم پرامید تھی کہ یکساں نصاب کے ذریعے معیار تعلیم کو بلند کیا جائے گا لیکن معیار پر توجہ دینے کی بجائے ان اختلافی امور کو اچھالے جانے کی کوشش کی گئی جو مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوں گے۔
سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ نصاب کی تشکیل میں پاکستان میں بسنے والے کروڑوں اھل تشیع کے حقوق و عقائد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ جس پر ملت تشیع کو شدید ترین تحفظات ہیں۔ہمیں ایسے متفق علیہ نصاب کی ضرورت ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے بنیادی عقائد کا احترام ہو۔
مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کو بنیاد بنا کر عجلت میں مسنون درود شریف کو بدل کر ایک ایسی عبارت کا اضافہ کیا ہے جس کا کسی بھی مستند شیعہ سنی کتاب میں ذکر نہیں۔انہوں نے وزیر مذہبی امور سے مطالبہ کیا کہ یکساں نصاب کی آڑ میں ہمارے بنیادی انسانی حقوق کو غصب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر آپ اپنا کردار کریں۔
وفد نے وفاقی وزیر کو یکساں نصاب کے حوالے سے تحریری شکل میں اپنے مطالبات بھی پیش کیے۔ وہ اس مسئلے کی حساسیت سے آگاہ ہیں اور اس کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ اور وزیر تعلیم اور وزیر اعظم سے اس موضوع پر بات کریں گی۔