وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلائو کا سبب کوئی ایک بھی زائرنہیں بلکہ حکومت کی ناقص حکمت عملی  کے باعث یہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلاہے ۔ زائرین کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے کی گئی کردار کشی متعصبانہ عمل ہے ۔ اس ناانصافی و بددیانتی کے خلاف اگر کوئی زائر عدالتی چارہ جوئی کرے گا تو مجلس وحدت مسلمین اس کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا کے آغاز سے ہمارے فقہا اور مجتہدین عظام نے حکومتی اور طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنے کو واجب قرار دیا تھا۔اگر کوئی شخص اس وبا کاشکار ہے اور دانستہ طور پر کسی کو اس مرض کا شکار کرتا ہے تو وہ نہ صرف ملک  وقوم کا مجرم ہے بلکہ سخت ترین گنہ گار بھی ہے۔ایران سے براستہ سڑک آنے والے زائرین  ایران میں اپنی قیام کی مدت پورے کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے جنہیںتفتان میں موجود قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا۔ بد قسمتی سے تفتان کے قرنطینہ سینٹر کا ماحول اور انتظامات کورونا وبا سے بچائو کی ضروری  احتیاطی تدابیر سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔وہاںاکیس روز تک تمام افراد کو ایک جگہ رکھا گیا اور اس حقیقت کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا کہ یہ وبا ایک دوسرے سے فوراََ پھیل سکتی ہے۔ متعلقہ حکام کی اس سنگین  مجرمانہ غفلت کی اصل ذمہ داری وزیر مملکت ظفر مرزا پر عائد ہوتی ہے جن کی ناقص حکمت عملی کے باعث یہ وبا بے قابوہوتی چلی گئی۔قرنطینہ سینٹر سے ان زائرین کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیا گیا ۔وہاں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد انہیں ضلعی قرنطینہ سینٹرز میں بھیج دیا گیا۔ایران سے آنے والے ہر زائر نے چھ چھ ہفتے سے زائر عرصہ مختلف قرنطینہ سینٹر میں گزارا اور متعلقہ  ادارے سے اجازت کے بعد اپنے گھرروانہ ہوئے۔ حکومت کے کچھ ذمہ داران اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کو چھپانے کے لیے زائرین کو نشانہ بنا کر مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کا تعلق کسی بھی مذہبی طبقے سے جوڑ کرقوم کے درمیان فاصلے بڑھانا پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے ۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں حکومت کے وسائل کی کمی کو قومی یکجہتی سے دور کیا جا سکتا ہے تاہم آج اس یکجہتی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے یک جاں ہونے کی بجائے سیاسی بیان بازی  اور مخالفتیں عروج پر نظر آ رہی ہیں جن کے نتائج کس بھی اعتبار سے حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور قوم کومشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

وحدت نیوز(کشمور) مہلک وباء کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر مجلس وحدت مسلمین ضلع کشمور ایٹ کندھ کوٹ کے ضلعی سیکریٹری جنرل میر فائق علی جاکھرانی کی سربراہی میں المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کندھ کوٹ کی جانب سے وحدت یوتھ اور پیام ولایت اسکاؤٹس نے کشمور شہرمیں بھر اسپرے مہم کا آغاز کردیا ۔مہلک وباء کورونا وائرس کی خطرے کے پیش نظر کشمور شہر بھر میں مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ایک روزہ اسپرے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے ' اسپرے شہر کے مختلف مساجد امام بارگاہوں گلیوں کوچوں دکانوں اور سڑکوں پر کی گئی اور اس اسپرے مہم میں مجلس وحدت مسلمین کے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا ۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی سیکریٹری جنرل میر فائق علی جاکھرانی نے کہا ہے کے اس موذی وباء کورونا وائرس سے پوری انسانیت پریشان ہے اس کورونا وائرس کے پھیلائوکو روکنے کیلیے سندھ حکومت کی جانب سے صوبے کو لاک ڈائون کیا گیا ہے جسے آج انیس روز گذرنے کو ہیں ہم بھی اس لاک ڈائون والے عمل کو سراہتے ہیں یقیناً یہ ایک اچھا قدم تھا سندھ حکومت کی جانب سے اسی موذی وباء کے خطرے کے پیش نظر آج ہم نے قائد وحدت کے ہدایت پر کشمور شہر میں ایک روزہ اسپرے مہم کا آغاز کیا ہے جس میں ہمارے جماعت کے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا ہے اور یہ اسپرے مہم صرف کشمور شہر تک محدود نہیں ہے بلکے کشمور  ضلعے کے دیگر شہروں گڈو بڈانی ،بخشاپور، کندھ کوٹ، کرم پور ،تنگوانی، غوث پور میں بھی کی جائے گی۔

اینٹی وائرس اسپرے مہم میں ضلعی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ سید زاہد حسین شاہ، صابر حسین کربلائی، وحدت یوتھ کے سیکریٹری جنرل راجہ پرویز کربلائی، ساگر علی شیخ، فیاض علی چنہ، امتیاز علی شیخ، وحید علی کربلائی، امداد علی چنہ، سفیر حسین سومرو اور مختیار علی چنہ بھی ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) گذشتہ تین ماہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے جس کے باعث کئی ہزار اموا ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جس جس ملک میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں وہاں پر باقاعدہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لاک ڈاؤن ہونے والے ممالک میں چین، اٹلی، فرانس،لبنان،عراق،غزہ، فلسطینی مقبوضہ علاقہ،اردن،غاصب صہیونی ریاست اسرائیل، اسپین،پاکستان اور برطانیہ سمیت امریکہ کی اتحاد ی ریاستیں بھی شامل ہیں۔اسی طرح کئی ایک اور ممالک ایسے ہیں جو اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔صورتحال یہاں تک آ ن پہنچی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ایک عام رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہو چکا ہے۔سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

دنیا بھر میں اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سماجی دوری کو حل قرار دیا جا رہاہے۔ غرض یہ ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ احتیاط اور طریقہ کار کو خاطر میں لایا جا رہاہے۔اس طرح کے حالات میں کہ جب پوری انسانیت خطر ناک دور سے گزر رہی ہے اور ایک تجزیہ کے مطابق شاید گذشتہ کئی صدیوں میں اس طرح کا بحران دنیا کو سامنا نہیں ہوا ہے۔حالانکہ دو بڑی جنگیں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورتحال تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کر چکی ہے۔

ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہاہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟یقینا یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔ان تمام تر سنگین حالات میں کہ جہاں ایک طرف کورونا وائرس ک باعث نظام زندگی متاثر ہے وہاں ساتھ ساتھ دنیا میں ان ممالک اور علاقوں کی بات بھی سامنے آنا بہت ضروری ہے کہ جو نہ صرفاس وباء سے نبرد آزماہیں بلکہ ساتھ ساتھ عالمی صہیونزم اور ظلم کا شکار ہیں۔

اس عنوان سے ہمارے سامنے آج کی موجودہ صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ سب سے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی بھارت کی ریاستی دہشت گرد ی کا سلسلہ جار ی ہے، شام کے سرحدی علاقوں پر ترک افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے بھی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، یمن پر جاری سعودی جارحیت بھی انسانیت کے چہرہ پر سیاہ کلنک کی مانند واضح نظر آ رہی ہے۔ایران پر امریکی معاشی دہشت گرد ی بھی جاری ہے، حالان کہ ایران بھی چین، اٹلی، اسپین، فرانس کے بعد پانچواں ایسا ملک ہے کہ جہاں اموات کی شرح زیادہ ہوئی ہے۔

لیکن اس صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کو سخت کیا جا رہاہے اور میڈیکل امداد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔کورونا وائرس کی اس دنیامیں عالمی سامراج اور صہیونزم کی دنیا اپنے ظالمانہ عزائم سے باز نہیں آ رہی ہے اور دنیا کے مظلوم خطوں پر مظالم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ایسے حالات میں یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کےبعد کی دنیا کیسی ہو گی؟

اسی سوال کے عنوان سے حال ہی میں لبنان کی ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت اور اسلامی مزاحمت کے قائد اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں اس سوال کو اٹھاتے ہوئے اس کا جواب دیا ہے۔سید حسن نصر اللہ نے اپنی گفتگو میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ کورونا وائر س کے بع دکی دنیا کیسی ہو گی؟ کہا ہے کہ آج ہم دنیا میں ایسی صورتحا ل کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کی طول تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔کم سے کم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ صورتحال کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطر ناک ہے۔انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد مشرقی و مغربی یورپ کے خاتمہ کے بعد ان سب کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ وہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہو چکاہے۔آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہاہے اسکی بنیاد ثقافتی، اعتقادی، دینی،فکری،فلسفی اور جو کچھ بھی ان سے مربوط ہے کو ایک چیلنج درپیش ہے اور یہ ایک زلزلہ ہے جو آ رہا ہے۔

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں اہم مرحلہ دنیا کی حکومتوں کو درپیش چیلنج ہے۔ جس میں ایک بڑا چیلنج اقوام متحدہ کے اپنے موثر ہونے کا چیلنج ہے اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اتحادیوں کو اپنے موثر ہونے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔نہیں معلوم امریکہ کی متحدہ ریاستیں متحد رہ پائیں گی یا نہیں؟یا پھر موجودہ یورپی اتحاد باقی رہ پائے گا؟اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی موجودہ نسل چاہے وہ کسی بھی خطہ میں ہو دنیا میں کہیں بھی ہم ایک جدید دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔اس تجربہ کی گذشتہ ایک سو یا دو سو سالوں میں مثال نہیں ملتی ہے۔ممکن ہے کہ دنیا اور بشریت ایک نئے حالات اور نئے نتائج کی طرف منتقل ہو جائے۔اس احتمال کی بنیادیں علمی او ر واقعی ہیں۔فکری، ثقافتی اور سیاسی سطح پر اور اسی طرح اتحادی گروپس کی سطح پر، اقتصاد، پیسہ، ریزرو، اور اجتماعی و معاشرتی بنیادوں پر۔ہر سطح پر ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ کیا آج وقت نہیں آ گیا ہے کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ ختم کرو اب بس بہت ہو گیا۔اب اگر دنیا اس فکر میں ہے کہ کیسے جنگوں، لڑائیوں اور مشکلات کو ختم کیا جائے؟اور کورونا سے مقابلہ کو اولویت دی جائے۔یہاں ایک سوال ضرور یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے خلاف سعودی جنگ کوختم کیا جائے؟ کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور انسان اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے خلاف صہیونی جرائم کا خاتمہ کیا جائے؟آج دنیا کے با ضمیر انسانوں کو یہ آواز پہلے سے زیاد ہ بلند آواز میں اٹھانی چاہئیے کہ ذاتی اختلافات نظر کو اور سیاسی حساب کتاب اور ان باتوں کی جگہ نہیں ہونی چاہئیے۔

آج انسانیت کی خاطر صرف اور صرف انسانیت کی خاطر پوری دنیا کو چاہئیے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے اور ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، صہیونیوں کے ظلم و ستم کو روکا جائے،سعودیہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ وہ یمن کے مظلوم عوام پر جنگ بند کر دیں۔ اگر واقعی یہ عالمی اتحاد اور قوتیں انسان دوست ہیں توآج وقت ہے کہ اپنے ان دعووں کو سچا کر دکھائیں اور دنیا بھر میں جاری ظلم و ستم کو انسانیت کی بقاء کی خاطر رو ک دیں اور آئندہ ایسے جارحیت پسندانہ اقدامات سے بھی گریز کریں۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا یقینا تبدیل ہو جائے گی اور یہ وہ امتحان ہے جس کا ہمیں مشاہدہ کرنا ہے۔


تحریر:صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی مرکزی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی سربراہی میں ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے وفاقی وزیر سیفران اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن شہریار آفریدی سے ملاقات کی اور انہیں زائرین کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ وفد کے اراکین نے کہا کہ ملتان قرنطینہ سنٹر کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے جس سے لوگوں کا کورونا وائرس سے متعلق تشخیصی عمل پر سے اعتماد ختم ہوتا جاریا ہے۔مختلف قرنطینہ سینٹرز میں موجود مشتبہ افراد کے دوبارہ فوری طور پر ٹیسٹ کرائے جائیں اور انہیں ان کی رپورٹس فراہم کی جائیں۔ جن لوگوں میں کورونا ٹیسٹ منفی ائے ہیں انہیں گھروں میں جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہاکہ زائرین کا استحصال کسی طور قابل قبول نہیں۔ جو لوگ کورونا سے متاثر ہوکر رپورٹ منفی ائے ہیں ان کے گھروں کے باہر غیر ضروری ہدایات آویزاں کرکے انہیں اذیت دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔کسی مذہبی طبقے کو محض تعصب کی بنیاد پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہراناملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی مذموم کوشش ہے ۔کورونا وائرس کے شکار کسی بھی پاکستانی کی مسلکی بنیاد پر نشاندہی نا قابل قبول ہے۔

ناصرشیرازی نے مزید کہاکہ میڈیا کو ایسے کسی بھی ٹرائل کی قطعاََ اجازت نہیں ہونی چاہیے جس سے کسی مخصوص مکتبہ فکر کی دل آزاری یا کردار کشی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ بیرونی ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو بلاتفریق پاکستان لانے کے لیے اقدامات کئے جائے۔تفتان باڈر سے آنے والے تمام زائرین متعلقہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ان کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔ ملک میںمذہبی منافرت پھیلاکر قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہ دی جائے۔اس سلسلے میں حکومتی عہدیداروں کو بھی محتاط انداز اپنانا ہو گا۔یہ وقت پوری قوم کا متحد ہو کر کرونا کے خلاف جنگ لڑنے کا ہے۔وفد میں علامہ ضیغم عباس اور ایم ڈبلیو ایم مرکزی سیکرٹریٹ کے مسؤل ارشاد حسین بنگش بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(جیکب آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ حضرت امام مہدی ع سے عشق و محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اصلاح معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے حضرت کے ظہور کی زمینہ سازی کریں۔ اصلاح معاشرہ کے لئے علم و تقوی دو بنیادی ارکان ہیں کیونکہ تعلیم کتاب و حکمت اور تہذیب نفس بعثت انبیاء کا ھدف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی استکبار اور استعمار نے انسانیت پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان سے نجات حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ عالم انسانیت مل کر بشریت کے نجات دھندہ مسیحا کا انتظار کرے جو دنیا سے ظلم اور فساد کا خاتمہ کر دے گا جس کا وعدہ تورات زبور اور قرآن کریم میں کیا گیا وارث انبیاء حضرت امام مہدی ع کے عشاق آج پوری دنیا میں وقت کے ظالموں اور فرعونوں کے لئے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ قتل و غارت اور قید و بند کی صعوبتیں عاشقان خدا کو راہ حق سے منحرف کرنے میں ناکام رہی ہیں عراق اور یمن کی سرزمین آج امریکہ اسرائیل اور ان کے غلاموں کی ذلت آمیز شکست کے مناظر پیش کر رہی ہے عراق کے عظیم مجاہد آیت اللہ سید محمد باقر الصدر اور ان کی  ہمشیرہ سیدہ آمنہ بنت الھدی اور  ہزاروں عراقی مجاہدین  کا پاکیزہ خون عراق کی ظالموں سے مکمل آزادی کا باعث ہوگا۔

انہوں نے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں سے اپیل کی کہ وہ نائیجیریا کے مظلوم رہبر علامہ محمد ابراہیم زکزاکی کی جیل سے رہائی کے لیے آواز بلند کرے۔ ابراہیم زکزاکی حق گوئی کے جرم میں پابند سلاسل ہے ان کی رہائی کے لئے عالمی سطح پر آواز اٹھنی چاہیے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی کی زیر صدارت وحدت سیکرٹریٹ مظفرآباد میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل آغا سید طالب حسین ہمدانی، سیکرٹری تنظیم سازی سید فدا حسین نقوی، چیئرمین المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل سید رضی عباس سبزواری اور سیکرٹری روابط سید عامر علی نقوی شریک ہوئے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے کابینہ ارکان سے تجاویز و آراء لی گئیں، جس میں آغا طالب حسین ہمدانی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو لسٹیں تیار کی جا رہی ہیں، اس میں سیاسی تعصب پایا گیا ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ سیاسی تعصب کو بالا طاق رکھتے ہوئے ہر مستحق کو حکومتی امداد پہنچائی جائے، علاوہ ازیں ریاستی سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ارکان مجلس اپنی سطح پر کردار ادا کریں، حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس مشکل وقت میں سیاسی تعصب اور اقرباء پروری کو بالائے طاق رکھ کر مستحق اور سفید پوش افراد کی امداد کی جائے۔

علاوہ ازیں علامہ تصور جوادی نے کہا کہ حکومت کے لیے بھی سخت امتحان ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کے اعتماد کو کس طرح قائم رکھتی ہے، یہ وقت زلزلے سے بھی مشکل ترین وقت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح باقی صوبوں نے وفاق کے امدادی پیکج میں اپنا حصہ ڈالا، اس طرح ریاستی حکومت کی طرف سے اس طرح کوئی پالیسی دی جائے۔ نیز تاجر برادری جو اس لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ہوئی ہے، اس کو بھی واضح پیکج دیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مساجد اور مدارس دینیہ کی بندش، اجتماعات، محافل، مجالس کا انعقاد نہ ہونے کہ وجہ سے معاشرے کے ایک انتہائی اہم طبقہ علماء کرام جو معاشرے کے انتہائی اہم جزو شمار کیے جاتے ہیں اور ہر مشکل میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں، ان کے لیے بھی حکومت خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔

Page 24 of 1508

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree