The Latest

مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب || صابرابو مریم

وحدت نیوز (آرٹیکل) جب بھی فلسطین کی بات ہوتی ہے تو اذہان میں حق اور باطل کا پیمانہ سامنے آجاتا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جب جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو حسینی کردار یزیدی کردار کو شکست خوردہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اذہان حق اور باطل کے معرکہ کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ فارمولہ رہتی دنیاتک قائم و دائم رہے گا ۔ حق کی قوتیں باطل قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہیں گی اور ممکن ہے کبھی ظاہری طور پر حق کی قوت کو دو قدم پیچھے ہونا پڑتا ہو لیکن آخر کار حق ہی ہے جو غالب آتا ہے اور غالب ہی آنے والاہے ۔

بالآخر باطل کو نابود ہونا ہی ہے ۔
فلسطین کی جب جب بات ہوتی ہے تو ہمارے سامنے ایک ایسا خاکہ کھنچا چلا جاتا ہے کہ جس میں صہیونی جرائم کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔

صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی تاریخ ایک سو سال پر محیط ہو چکی ہے ۔ جیسا کہ مقالہ کے عنوان میں ہی بیان کیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی جرائم میں عالم مغرب کی آشیرباد یا شراکت داری ۔

جی ہاں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست بنانے کے لئے برٹش آرتھر بالفور ،امریکی ٹریو مین اور اسی طرح دیگر مغربی ممالک کے مختلف سیاست مداروں نے صہیونیوں کا ساتھ دیا ۔ صہیونیوں کے ان مغربی آقاءوں نے نہ صرف فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دیا بلکہ فلسطین پر صہیونیوں کے ناجائش تسلط کے لئے صہیونیوں کو ہر قسم کی آزادی فراہم کی تا کہ وہ فلسطینی عوام کا قتل کریں اور ان کو انہی کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کریں ۔

پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی حالات میں اگر صرف فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں پائی جاتی ہے کہ عالم مغرب نے صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی پشت پناہی اور ان کی مدد کی ہے ۔ اس لئے اگر آج کہ جدید دنیا میں یہ بات کہی جائے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے ایک سو سالہ جرائم اور ظلم میں امریکہ، برطانیہ او ر دیگر مغربی ممالک برابر کے شریک ہیں تو یہ بات بالکل بے جا نہ ہو گی ۔


آج بین الاقوامی فورم پر امریکی اور مغربی سامراج فلسطین پر قائم غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کا حامی نظر آتا ہے ۔ مغربی ذراءع ابلاغ کی حالت تو اس طرح کی ہے جیسے صہیونیوں کے غلام ہوں ۔ امریکی اور یورپی سامراج فلسطین میں جاری قتل و غارت گری اور ہر قسم کی انسانی حقوق کی پامالی سمیت نا انصافیوں میں برابر کا شریک جرم ہے ۔
آج جو کچھ جدید دنیا میں فلسطین کے ساتھ کیا جا رہاہے یہ خود جدید دنیا کے چہرے پر ایک بد نما داغ کی مانند ہے ۔

عالمی اداروں کی کھلی بے حسی ان کی کمزوری اور حیثیت کو واضح کر رہی ہے ۔ آج فلسطینی عوام دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم عوام ہے ۔ جہاں اس معاملہ میں غرب برابر کا شریک ہے وہاں آج عرب بھی اس معاملہ میں صہیونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک کار ہے ۔ آج مغربی دنیا کی ایماء پر عرب دنیا کے چند ممالک فلسطینی عوام کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں ۔ انہیں فلسطین کی مذہبی اور ثقافتی حمیت سے بھی کوئی غرض نہیں ۔

ان کے لئے فلسطینی عوام کا بہنے والا خون شاید نالیوں میں بہنے والے گندے پانی سے بھی کم قیمت رکھتا ہے ۔ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ مسلم دنیا کی سب سے مقدس زمین حجاز و یثرب پر قائم آل سعود کی حکومت اسرائیل کے ساتھ یارانہ بنا چکی ہے ۔ یمن میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے ۔

بحرین ، عرب امارات اور ان کی دیکھا دیکھی کچھ افریقی ممالک بھی اسی راستہ پر چل نکلے ہیں ۔ انہوں نے قدس شریف کا سودا کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین سے کوئی لگاءو باقی نہیں رہا ۔ اب ایسے حالات میں یہ عرب حکمران ہوں یا مغربی حکمران ہوں ، ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ تاریخی اعتبار سے شاید فلسطینی عوام کے لئے بدترین دور تشبیہ کیا جائے ۔

یہاں ان عرب حکمرانوں کے اس گھناءونے کردار سے نہ صرف فلسطین کی تاریخ کے لئے سیاہ باب ہے بلکہ دنیا کی دیگر مظلوم اقوام کہ جن میں سرفہرست فلسطین کے بعد کشمیری ہیں ، ان کو بھی دھچکا اور گہری چوٹ پہنچ رہی ہے ۔ یہ سوال مقبوضہ کشمیر کی وادی میں جنم لے چکا ہے کہ جن مسلمان اور عرب ممالک نے مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کی پردہ داری شروع کر دی ہے تو اب ان سے کشمیر کے معاملہ پر کیا توقع کی جا سکتی ہے;238; ۔

یقینا مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی یہ تشویش بر حق ہے ۔
حیرت انگیز اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ابتداء ایک ایسے زمانہ میں شروع کی ہے کہ جب خود صہیونی جعلی ریاست اسرائیل سیاسی طور پر غیر مستحکم نظر آ رہی ہے اور اسی طرح عسکری عنوان سے بھی اب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ آخری معرکہ انہوں نے اڑھتالیس گھنٹوں سے زیادہ میدان میں باقی نہیں رہ پائے ۔

اسی طرح حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے سیاسی و عسکری میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل کی ہے ۔ جہاں اسرائیل میں ایک سال میں تین مرتبہ انتخابات ہوئے ہیں وہاں فلسطین کی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حماس اور مزاحمتی گروہوں کی کامیابی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔
ایک طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل ہے کہ جس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی اپنے ظالمانہ اقدامات سے رکنے والا نہیں ہے ۔

اس کی بنیادی وجہ شاید امریکہ اور یورپی ممالک سمیت اب عرب دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی کمر تھپ تھپانا ہو ۔ بہر حال مسلم دنیا کے عرب ممالک کو چاہئیے کہ وہ فلسطینی عوام کی امنگوں کا خیال رکھیں ۔ اگر فلسطین کی مدد نہیں کر سکتے اور کرنا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن ان کی پیٹھ پر خنجر بھی نہ گھونپے ۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتکاری کے فیصلے واپس لیں ۔

اس عنوان سے لاطینی امریکہ کے ممالک اگرچہ وہ کئی ممالک سے نسبتا چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کئے ہیں جو قابلِ تحسین ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا تا کہ مغربی ایشیائی ممالک میں مسلمان حکومتوں کو کمزور کر کے اس خطے کے وسائل پر اسرائیل قابض ہو جائے اور گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنا سکے ۔

عالم مغرب نےاس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اسرائیل کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھی تا کہ اسرائیل محفوظ رہے ۔ بہر حال گذشتہ ستر سالوں میں اب اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ وہ مسلسل سازشوں اور قتل و غارت گری سمیت قبضوں کے بعد آخر کار اپنے ہی گرد دیواریں قائم کر رہا ہے ۔ یعنی اسرائیل پھیلنے کی بجائے سکڑ رہا ہے ۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر آج امریکہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی موجود ہے جو اسرائیل کے وجود کو جعلی تصور کرتی ہے اور فلسطین کو فلسطینیوں کا مانتی ہے ۔

مسئلہ فلسطین اور اس کی حمایت ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کی مددسے مسلم امہ متحد ہو سکتی ہے بلکہ عالم مغرب کی تمام سازشوں اور جرائم کا منہ توڑ جواب بھی دے سکتی ہے ۔ آج دنیا بھر میں عوام کے جذبات اسرائیل مخالف ہیں ، دنیا کے عوام مظلوم اقوام کے ساتھ ہیں ۔ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں ہماری نوجوان نسل فلسطینیوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کر رہی ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے روز اول سے ہی فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت پاکستان کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی اصولی و نظریاتی سیاست کے اجزاء سے حاصل ہوئی ہے ۔

وحدت نیوز(نصیر آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے ڈیرہ مراد جمالی میں ضلع نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر جناب اظہر شہزاد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے جناب اظہر شہزاد کو سیر ت امام حسین علیہ السلام اور تحریک کربلا پر مبنی کتاب کا تحفہ پیش کیا۔

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ماہ مبارک رمضان میں ہمیں معاشرے کے غریب اور نادار طبقات کو مدنظر رکھنا چاہیے اللہ تعالی نے ہمیں یہ توفیق عطا کی ہے کہ ہم اہل خیر حضرات کے تعاون سے مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب اور قلم علم اور ترقی کی علامت ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ لائبریریوں کے فروغ پر توجہ دے۔

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جناب اظہر شہزاد نے کہا کہ ماہ رمضان میں مستحق لوگوں کے درمیان راشن کی تقسیم قابل تحسین عمل ہے حکومت اور انتظامیہ اس کار خیر میں ضرور تعاون کرے گی۔  اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے صوبائی رہنما سید عبدالقادر شاہ، سید شبیر علی شاہ کاظمی، مدرسہ امام صادق علیہ السلام کے پرنسپل علامہ مشتاق حسین عمرانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین حلقہ 2 گلگت ،آئی ایس او گلگت ڈویژن شعبہ طالبات اور شہید رضوی قرآن سینٹرکے اہتمام گلگت ڈویژن میں جشن بلوغت کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ تربیت کے مرکزی معاون محترم آغا محمدجان حیدری نے خطاب کرتے ہوئے ماہ رمضان کے بابرکت مہینے کی مبارک باد پیش کی اور کہا کے مائیں اپنی بچیوں کی خصوصی تربیت پر توجہ دیں گلگت کے تقافتی ماحول کو تباہ کرنے کے لئے دشمن بر سر پیکار ہے اور ہمیں اپنی آنے والی نسل کو بچانا ہے۔

 پروگرام میں مجلس وحدت مسلمین حلقہ 2 کے سیکریٹری جنرل محترم شعیب کمال نے کہا کے ماہ رمضان پورے سال کی تربیت دیتا ہے اور ہمیں گناہوں سے روکنے کا بہترین زریعہ ہے پروگرام میں خانم نور جہاں نے تقلید اور رمضان کے احکام بیان کئے۔

 پروگرام میں مرکزی سیکریٹری امور جوانان مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین محترمہ سائرہ ابراہیم نے اپنے مدرسے زینب کبری اکیڈمی کی بچیوں کے ہمراہ شرکت کی تلاوت قرآن پاک اور نعت کا شرف زینب کبری کی بچیوں نے حاصل کیا ۔

جشن بلوغت پروگرام میں گلگت ڈویژن کے تمام مدارس کی بچیوں نے اپنی ٹیچرز کے ساتھ بھرپور شرکت کی بچیوں میں حوصلہ افزائی کے لئے مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے تحائف تقسیم کئے گے۔

وحدت نیوز(اٹک) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین اٹک اور آی ایس او طالبات اٹک کے زہر اہتمام ولادت امام زمانہ عج کی مناسبت سے  مکتب قرآن و اہلبیت میں بچوں میں اپنے امام وقت سے آشنای اور قلبی لگاو پیدا کرنے کے لیے  " آج کا جوان ناصر امام عج " کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں دی نالج سٹی سکول ' آی ایس او محبین اور مکتب قرآن و اہلبیت کے بچوں نے مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا پروگرام میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی اراکین محترمہ فرح دینا ، محترمہ قراۃ العین اور محترمہ زینب بنت الھدی  اور ضلع اٹک کی مسئولین محترمہ نزہت نقوی اور محترمہ عاصمہ نوید بھی شریک ہوئیں ۔

اس موقع پر مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات محترمہ زینب بنت الھدی نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ ظہور امام زمان عج  کے لیے وہ ہی افراد آمادہ ہونگے جو آج کے امتحان میں سرخرو ہونگے امام عج کے ساتھی ایسے افراد ہونگے جو مظلوم کے مددگار اور ظالم سے بیزار ہونگے کلمہ حق اور جہاد مسلسل کرتے رہینگے ان کا کہنا تھا آج جب ہم امام مھدی علیہ سلام کا انتظار کر رہے ہیں تو ہمین دیکھنا ہوگا کہ عملی طور پر ہم کیا کر رہے ہیں ہمارے بے گناہ شیعہ بھای جو عرصہ دراز سے لاپتہ ہیں جن کی مائیں بہنیں بیوی بچے کرب و اذیت میں سراپا احتجاج ہیں ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے ہم نے کیا کردار ادا کیا۔

 انھوں نےمزید کہا یہ وقت باتوں کا نہیں عمل کا ہے جو آج میدان عمل میں موجود ہوگا وہ ہی کل امام زمان عج کی نصرت کے لیے آمادہ ہوگا پروگرام کے اختتام پر مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بچوں میں انعامات تقسیم کیے گۓ۔

وحدت نیوز(لاہور)مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے ماہ مبارک رمضان کی آمد پر تمام عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوۓ کہا کہ یہ وہ با برکت مہینہ ہے کہ جسکے بارے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ شعبانیہ میں فرماتے ہیں" اے لوگو برکت رحمت اور مغفرت کا مہینہ تمہاری طرف آرہا ہے یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو تمام مہینوں سے افضل ہے " اس ماہ میں انجام دیے جانے والا ہر عمل خیر اور چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی خداوند عالم کے ہاں بے حساب اجر و ثواب کی حامل ہے۔

 انہوں نے کہا اللہ تعالی کا احسان ہے کہ ایک بار پھر ہم ماہ صیام کی رحمتوں اور برکتوں سے استفادہ کرنے والے ہیں اس ماہ میں اپنے دن اور رات کا بیشتر حصہ تلاوت قرآن ،عبادات دعا و مناجات میں وقت صرف کیا جاۓ تاکہ خداوند کریم کے اس دسترخوان فیض و کرم سے اپنی بخشش و نجات کا ذیادہ سے ذیادہ سامان اکھٹا کر سکیں۔

 انہوں نے کہا رمضان کریم تقوی الہی اور پرہیزگاری کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے یہ ایام تزکیہ نفس اور خود کو خدا کے لیے خالص کردینے کے ایام ہیں  اس ماہ میں ایک خاص لطف یہ بھی ہے کہ انسان گناہوں سے بچنے اور خدا کا تقرب حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے یہ ایک ایسی مشق ہے جو ہمیں باقی مہینوں میں بھی اعمال صالح بجا لانے کی ترغیب دلاتی ہے۔

 انہوں نے مزید کہا وطن عزیز اس وقت کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے جسکی وجہ سے  غریب ونادار طبقہ بے شمار مالی مسائل کا شکار ہے ماہ عظیم میں رضاۓ پروردگار کیلیے مستحق خانوادوں کی دل کھول کر امداد کریں اپنی دعاؤں میں مسنگ پرسنز اور ان کے خانوادوں کو یاد رکھیں خداوند عالم اس ماہ مقدس کے وسیلے سے تمام انسانیت کو کرونا وائرس جیسی جان لیوا وبا سے نجات عطا فرماۓ ملک پاکستان کو اندرونی و بیرونی دشمن اور شر پسند عناصر سے محفوظ رکھے ۔آمین

وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےمزارقائد کراچی پر جاری  جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے دھرنے سے لائیو خطاب کرتے ہوئے مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے دھرنے کے ہر اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ملت تشیع پر ناز ہے جو حق کے راستے پر ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے۔شرکاء دھرنا نے اپنے حوصلوں کو بلند رکھنا ہے۔ہم وہ ہیں جو ہمت نہیں ہارتے اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔جبری گمشدہ افراد مظلومین ہیں اور مظلوم کی حمایت خدا کا حکم اور انبیاء کا شعار ہے۔کوئی کتنا بھی بڑا مجرم یا ملزم کیوں نہ ہو ایک آزاد ریاست میں اسے غائب نہیں کیا جا سکتا۔کسی کو جبری لاپتا کرنا جنگل کا قانون تو ہو سکتا ہے لیکن ایک آئینی ریاست ایسی لاقانونیت کی اجازت نہیں دے سکتی۔جو یہ ظلم کرتا ہے وہ اللہ کے احکام، ملک کے آئین اور اخلاقی قدروں کی پامالی کا مرتکب ہوتا ہے۔ہمیں اس غیر آئینی عمل کے خلاف ہر جگہ آواز بلند کرناہو گی۔پاکستان اور دنیا بھر کے باضمیر و باشعور افراد اس تحریک کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہفتے میں ایک دن ملک کے ہر بڑے شہر میں لاپتا افراد کی حمایت میں دھرنے دیے جائیں تاکہ بے حس حکمرانوں کو جھنجھوڑ ا جا سکے۔ہمیں نتیجے کی فکر نہیں ہوتی۔ہم فریضے کو مقدم سمجھتے ہیں۔جبری گمشدہ افراد کے لیے آواز بلند کرنا ہمارا شرعی فریضہ ہے۔ہم ثانی زہرا سلام اللہ علیہا کے ماننے والے ہیں، ہم کربلا کے پیروکار ہیں جنہیں حالات کبھی تھکا نہیں سکتے،جو حق کے راستے میں کبھی سرنگوں نہیں ہوتے۔کورونا سے صحت یابی کے بعد قائد وحدت کا یہ پہلا خطاب تھا۔گردوں کے عارضے کے باعث وہ ابھی تک علیل ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسن کی بازیابی کی کوششیں مجھے میری صحت سے زیادہ عزیز ہیں۔

وحدت نیوز(نصیر آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے ڈی پی او نصیر آباد عبدالحئی عامر بلوچ سے ملاقات کی۔ اور انہیں بلوچ تاریخ کے حوالے سے اپنی تحقیقی کتاب اور کلینڈر کا تحفہ پیش کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں کتاب کی اہمیت اور افادیت برقرار ہے۔کتاب اور قلم ترقی اور سربلندی کی علامت ہیں نوجوان نسل کو فیس بک اور واٹس اپ سے نکل کر کتاب کے مطالعے کو اپنی معمولات زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچوں کی تاریخ میں حلب سے ان کی ہجرت انتہائی اہمیت کی حامل ہے جسے دفتر شعر میں بڑے اہتمام سے بیان کیا گیا ہے یہ ہجرت ان کے حسینی کردار اور سوچ کی عکاس ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی عبدالحئی عامر بلوچ نے قیمتی کتب کا تحفہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کتاب انسانی شعور اور علم میں اضافے کا باعث ہے۔ اس موقع پر ضلع نصیرآباد میں سیکورٹی کے بعض امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم بلوچستان  کے رہنما سید عبدالقادر شاہ اور سید شبیر علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وحدت نیوز(کراچی) مزار قائد جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا احتجاجی دھرنا بارہویں روز بھی جاری۔شرکائے دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کے وفد کے ہمراہ دورے جاری۔شرکاء دھرنا سے اظہار یکجہتی کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اور ہزارہ برادری کے نامور عالم دین علامہ سید ہاشم علی موسوی کوئٹہ سے کراچی تشریف لائے اور شرکاء دھرنا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے مومنین آپ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئٹہ کے ہزارہ کمیونٹی پر کوئی مشکل وقت آیا تو کراچی کے عوام ان کی حمایت اور مددمیں صف اول میں نظر آئے آج لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی کے لیے دیے جانے والے اس دھرنے کی مومنین کوئٹہ بھرپور حمایت کرتے ہیں۔حکومت سے مسنگ پرسن کی جلد از جلدبازیاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین نے اگر مستقل دھرنوں کی کال دی تو کوئٹہ سمیت بلوچستان کی اہم شاہراؤں پر منظم احتجاج کریں گے۔

شرکاء دھرنا سے خطاب میں علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ماہ مبارک رمضان المبارک میں بھی احتجاج جاری رہے گا، ماہ صیام کے بابرکت ماہ میں عبادات دعا و مناجات اور درس قرآن کے روزانہ پروگرامات منعقد کئے جائیں گے۔اس حوالے سے بعد از نماز مغربین مختلف علمائے کرام درس قرآن دیں گے۔16 اپریل کو جبری لاپتہ افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے محفل مشاعرہ کرایا جائے گا جس میں عالمی شہرت یافتہ شعرائے کرام جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے کلام پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے سامنے جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ سخت گرمی کے عالم میں دن و رات اپنے پیاروں کے انتظار میں اس احتجاجی دھرنے موجود ہیں۔ دھرنے میں شامل کئی سالوں سے جبری لاپتہ افراد کے چند اہل خانہ اپنے پیاروں کے انتظار میں مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شرکائے دھرنے میں سے اگر کسی مریض کی طبیعت خراب ہوئی یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ہمارے دھرنے مظلومین کی داد رسی ہیں پرامن احتجاجی دھرنے میں ہزاروں شہری وقتاً فوقتاً روزانہ اظہار یکجہتی کیلئے شریک ہوتے ہیں گزشتہ بارہ روز میں شرکاء کی جانب سے درخت کے ایک پتے کو نقصان تک نہیں پہنچا۔ ہم شکر گزار ہیں ان تمام ملی جماعتوں کے جو روزانہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے یہاں آتے ہیں اور نوجوانوں کی غیر آئینی و غیر قانونی گمشدگی کے خلاف ہم آواز ہوکر بازیابی کا مطالبہ کیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے رمضان المبارک کے بابرکت موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رمضان المبارک صبر و رضا اور ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔خالق کائنات نے امت محمدی پر روزے اس لیے فرض کیے کہ وہ متقی بن جائیں۔ہم نے ایک دن اللہ کے حضور اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہونا ہے۔لہذا اپنی زندگیوں کو اسلام کے حقیقی اصولوں کے مطابق ڈھالا جانا چاہئے.اسلام ہمیں دوسروں کی جان و مال کے تحفظ,ظالمین سے دوری،ذخیرہ اندوزی کی مذمت اور مظلومین کی حمایت کا درس دیتا ہے۔روزہ خود کو محض بھوکا یا پیاسا رکھنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کے محاسبے اور دوسروں کے احساس کا نام ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسے بھی کئی خاندان ہیں جن کے بچے مدتوں سے لاپتا ہیں۔ان کے اہل خانہ ہر سال سحری و افطاری کے اوقات میں ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔حکومت ان جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کرائے۔رمضان میں کی گئی اس نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے مہنگائی پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اشیائے خوردونوش کو سستا کر کے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کورونا وبا کے پیش نظر رمضان المبارک کے دوران عبادات اور اجتماعات میں ایس او پیز پر عمل کرنا اخلاقی و قانونی تقاضا ہے۔اپنی اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھنا شرعی لحاظ سے بھی ضروری ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رمضان المبارک میں ایک دوسرے کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جائے اور اپنی عبادات میں وطن کی ترقی و خوشحالی اور استحکام کے لیے زیادہ سے زیادہ دعا کی جائے۔

وحدت نیوز(گلگت) رہنما مجلس وحدت مسلمین اور وزیر زراعت گلگت بلتستان کاظم میثم اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے ۔ وزیراعلیٰ خالد خورشید نے وزیر زراعت کاظم میثم کے توجہ دلانے پرحالیہ پولیس بھرتیوں میں سکردو کی پوسٹیں کم کرنے پر نوٹس لے لیا۔

وزیر اعلیٰ جی بی نے سکردو میں پولیس کی تمام خالی پوسٹوں پر میرٹ پر بھرتیوں کے لیے آئی جی پی کو احکامات جاری کردیئے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سکردو میں میڈیکل کالج کا اعلان ہماری حکومت نے کی ہے اور ہماری حکومت ہی قائم کرے گی۔سکردو میں میڈیکل کالج کا قیام پرائم منسٹر پیکج کا حصہ ہے۔سکردو میں میڈیکل کالج پی پی موڈ پر ہوگا اور رواں سال سے ہی اس پر کام شروع ہوگا۔

انہوںنے مزید کہاکہ ماضی کی طرح کسی بھی ریجن یا علاقے کےساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔تمام علاقوں میں وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی۔تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور انفراسٹریکچر ہماری ترجیحات ہیں۔گمبہ سکردو سب ڈویژن سمیت دیگر انتظامی یونٹس کی اصلاحات پر عملدرآمد ہوگا۔

Page 1 of 1111

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree