The Latest

وحدت نیوز(سوشل میڈیا ڈیسک)13رجب المرجب کو امیر المومنین ، ولی خدا وصی رسول خدا، مولائے متقیان، فاتح خیبر،پدر حسنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے روز ولادت اور عالمی یوم پدر کے پر مسرت موقع پر وحدت سوشل میڈیا ٹیم اور دیگر ملی سوشل میڈیا ٹیموں کے اشتراک سے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹوئٹر پر آغاز کردہ  #جشن _آمد_شیرخدا کا ٹرینڈپاکستان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرگیا، پاکستان کے ہزاروں سوشل میڈیا صارفین نے اپنے آقاومولا ؑ مشکل کشاءحضرت علی ابن ابی طالب ؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر ان کے اقوال زریں،سیرت مبارکہ اور معجزات پر مشتمل 18800سے زائد ٹوئٹس کرکے دنیا بھر میں موجود سوشل میڈیا صارفین کو سیرت امیر المومنین ؑ سے آشنائی فراہم کی ۔

عورت آزادی مارچ یا ننگ مارچ ؟

وحدت نیوز(آرٹیکل) اس کالم کو لکھنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں خواتین کی عزت و عظمت اور آبرو سمیت ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہوں بلکہ یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں تا کہ پاکستان میں عورت آزادی مارچ کے نام پر یا خواتین کے حقوق کے نام پر جو کچھ ننگ مارچ یا بے حیائی کا کلچر عام کرنے کی مغربی کوشش کی جا رہی ہے ا سکا کسی نہ کسی طرح راستہ روکا جائے اور ایوان حکومت تک کم سے کم کمزور ہی سہی آواز تو پہنچے۔آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ ’’عالمی یوم خواتین‘‘ منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا جو مقصد اقوام متحدہ نے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس دن کو قرار دلوانے والی استعماری حکومتوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ خواتین کو آزادی دینے سمیت خواتین کو مردوں کے برابر لانے کی بات کرتے ہیں یعنی ایک عورت اور مرد برابر ہوں ۔بظاہر تو یہ نعرے دل کو لبھانے والے ہیں ۔اور ان نعروں کو زیادہ اثر خود مغربی ممالک کے بجائے ہمارے مشرقی اور ایشیائی ممالک میں زیادہ نظر آیا ہے کیونکہ یہاں کی عورتوں نے اگر کسی کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا ہے تو وہ مغرب کی عورت کو کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی خواتین نے اپنی ثقافت اور مذہبی روایات و رسوم کو فراموش کر دیا ہے اور مغرب کے دل لبھانے والے نعروں کی زد میں آ کر یہاں بھی آزادی آزادی کے نعرے لگانے شروع کر دئیے ہیں۔

آٹھ مارچ سنہ2019ء کو مغربی استعماری قوتوں کی پیروی کرتے ہوئے خواتین کا عالمی دن بھی منایا گیا اور اس میں سب سے نمایاں کام ’’عورت آزادی مارچ‘‘ تھا جو ملک کے مختلف بڑے شہروں میں دیکھنے میں آیا ۔اس عورت آزادی مارچ کو ننگ مارچ کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہو گاکیونکہ یہاں شریک خواتین کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈز اور بینر ز آویزاں تھے ان پر بے شمری و بے حیائی پر مبنی ایسے نعرے درج کئے گئے تھے کہ جنہیں زباں بیان کرنے سے قاصر ہے۔عورت آزادی مارچ کے نعروں سے مقاصد واضح ہو چکے ہیں کہ در اصل ان کا ایجنڈا پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کا کلچر عام کرنا ہے۔گذشتہ برس بھی اس طرح کے بے ہودہ اور فرسودہ نعروں کا استعمال کیا گیا تھا تاہم اس برس بات حد سے آگے نکل چکی ہے اور صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ خواتین نے ہی اس خواتین مارچ کو مسترد کر دیا ہے اور اس وقت سوشل میڈیا پر خواتین کی بہت بڑی تعداد اس عورت آزادی مارچ یا ننگ مارچ پر شدید تنقید کر رہی ہیں کیونکہ کوئی بھی باعزت اور غیرت مند عورت اس طرح کی توہین کو برداشت نہیں کر سکتی ۔

آخر مغرب کو کیا ضرورت پیش آئی ہے کہ انہوں نے عورت کی آزادی کا نعرہ بلند کیا اور دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک کی عورتوں کو اس کے جھانسہ میں لے کر انہیں اس قدر ورغلایا ہے کہ اب یہ خواتین اپنی آزادی کے نام پر بے حیائی کے کلچر کو عام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔مغرب اور استعمار گر قوتیں ہمیشہ سے تیسری دنیا کے ممالک کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں رہی ہیں اور اس کام کے لئے انہوں نے جنگوں سمیت نت نئے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا ہے جس سے تاریخ بھری پڑی ہے۔اب جدید دنیا میں انہوں نے سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کو اس کام کے لئے ایک مشن کے طور پر استعمال کیا ہے ۔بہر حال مغرب کا آزادئ نسواں کا یہ نعرہ جہاں مشرق کے دیگر ممالک میں پھیلا ہے وہاں اس نے مسلمان آبادی والے ممالک میں براہ راست اسلام کی خواتین سے متعلق حقوق اور فکر کو بھی حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ دراصل مغربی استعماری ممالک کا بنیادی ہدف بھی تھا۔آخر یہ مغرب کی بتائی ہوئی آزادی کس طرح کی آزادی ہے ؟ کیا مغرب کی طرح جس طرح عورت کا استحصال کیا جاتا ہے کیا اسی طرح کی آزادی پاکستان میں بھی مانگی جا رہی ہے ؟ کیا پاکستانی معاشرے کی عورت یہی چاہتی ہے کہ جس طرح مغرب میں عورت کو جنسی ہوس اور بھوک کے لئے استعمال کیا جا رہاہے اسی طرح کی آزادی یہاں بھی ہونا چاہئیے ؟ کیا پاکستانی معاشرے کی عورت واقعی یہی چاہتی ہے کہ مغرب و یورپ کی طرح پیدا ہونے والی اولادیں جن کو اپنے حسب نسب کی شناخت نہیں ہوتی اسی طرح کی اولادیں یہاں بھی آزادی کے نام پر پیدا ہوں ؟ یا یہ کہ جس طرح مغربی او ر یورپی ممالک نے عورت کو سرمایہ دارانہ نظام کی تقویت اور ترقی کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس کام کے لئے وہاں کی عورت کو جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کو ننگ و عار نہیں سمجھتی تو کیاپاکستان مین بسنے والی خواتین بھی اسی طرح ایک آلہ کار بن کر استعمال ہونے کو ترجیح دیں گی؟۔میرا اپنا ذاتی خیال یہی ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے کی عورت اس طرح کی آزادی لینے سے بہت خود کو اس سے دور رکھنا ہی بہت عافیت جانے گی ۔لیکن کیا کریں کہ کچھ مغرب زدہ پاکستانی خواتین نے مغرب اور یورہپ کے ناپاک عزائم کو بڑھاوا دینے کے لئے آزادی نسواں کا نعرہ لگا کر فحاشی اور بے حیائی کو عام کرنے کا بیڑہ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور اس طرح کی بے حیاء خواتین کو ان کی اپنی کلاس میں ماڈرن یا پھر آزاد خیال تصور کیا جاتا ہے ۔

حالانکہ اگر یہی پاکستانی معاشرے کی مسلمان عورت اسلام کی بنیادی تعلیمات کو مطالعہ کرے اور اس کے بارے میں ادراک و فہم حاصل کرے تو اس کو اندازہ ہو گا کہ دنیا میں اسلام کے علاوہ کوئی ایسی فکر یا سوچ موجود ہی نہیں ہے کہ جس نے سب سے زیادہ حقوق خواتین کے لئے دئیے ہیں، شاید آج کی مغرب زدہ پاکستانی عورت یہ بھول چکی ہے کہ یہ اسلام ہی تھاکہ جب آیا تو بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ورنہ زمانہ جاہلیت میں اور مغرب کے افکار آزادئ نسواں میں کوئی فرق نہ تھا۔اسلام نے خواتین کے حقوق اور عظمت کو اجاگر کیا ہے لیکن آج کی مغرب زدہ عورتیں اپنی عزت کو خود چند نعروں کے عوض کھلے بازاروں میں تاراج کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔اسلامی تعلیمات نے عورت کو معاشرے کا عظیم فرد قرار دیا ہے جبکہ مغرب عورت کو پست ترین کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ چند مغرب زدہ خواتین مغرب کے اس بہلاوے میں اپنی عظمت کو تاراج کر رہی ہیں۔اسلامی تعلیمات میں معاشروں کی پرورش کی ذمہ داری عورت کے کاندھوں پر ہے اور کہا جاتا ہے کہ عورت کی آغوش میں ہی اصل معاشرہ ترویج پاتا ہے اب اگر یہی عورت مغرب کے آزادی نسواں کے نعرے کا شکار ہو کر ننگ و بے حیائی کو پروان چڑھائے گی تو پھر پاکستانی معاشرہ میں پروان چڑھنے والی نئی نسلوں کا کیا ہو گا؟دنیا میں کئی ایک انقلاب آئے جن میں سے اسلامی دنیا میں آنے والا انقلاب ایران میں آیا جس کے بارے میں اس انقلاب کے بانی امام خمینی نے کسی صحافی کو سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میری فوج ماؤں کی گو دمیں ہے ۔کیونکہ آپ جانتے تھے کہ عورت کی آغوش ہی ایک اچھے اور یا پھر برے انسان کو پروان چڑھا سکتی ہے۔اسلامی تعلیمات کہتی ہیں کہ عورت کی ذمہ داری مرد پر ہے اور مرد کا کام ہے کہ وہ محنت ومشقت کرے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے رزق کی تلاش میں محنت کرے جبکہ ایک عورت بھی گھر کی چار دیواری اور چادر کا تقدس رکھتے ہوئے گھر میں مشقت کرتی ہے یعنی وہ گھر کے کام کاج سمیت معاشروں کو اچھے انسان دینے کے لئے تربیت کرتی ہے۔اب اسلام کی تعلیمات کی رو سے دیکھا جائے تو مرد گھر سے باہر مشقت کرتا ہے تو عورت گھر کے اندر رہ کر مشقت کرتی ہے دونوں کی برابر مشقت ہے اور دونوں کے مشترکہ جدوجہد سے ایک خوبصورت معاشرہ پروان چڑھتا ہے اور عورت کو اپنے تحفظ کا احساس بھی رہتا ہے جبکہ پاکستان میں موجود چند ایک مغرب زدہ عورتیں شاید یہ سمجھ رہی ہیں کہ ننگ مارچ کر کے اور بے حیائی کے نعروں کو پلے کارڈز پر نشر کرکے شاید پاکستان کی یا اپنے گھرانے کی کوئی خدمت کر رہی ہیں تو انہیں جان لینا چاہئیے کہ مستقبل قریب میں ان کو اس بے حیائی اور فحاشی کے پروان چڑھانے کے بھیانک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔


تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی اسکالر شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(آرٹیکل) شیعہ کے اصطلاحی معانی میں سے ایک خاندان نبوت و رسالت کے ساتھ محبت و دوستی ہے اور آیات و روایات میں اس بات کی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بےشمار احادیث ایسی ہیں جن میں  حضرت علی علیہ السلام کی محبت کو واجب و لازم قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام سے محبت و دوستی کو ایمان اور ان سے دشمنی و عداوت کو نفاق کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ سیوطی آیت کریمہ "وَلَتَعْرِفَنَّ هُمْ فىِ لَحْن ِالْقَوْل" اور آپ انداز کلام سے ہی انہیں ضرور پہچان لیں گے، کی تفسیر میں ابن مردودیہ اور ابن عساکر سے نقل کرتے ہیں کہ آیت کریمہ میں لحن القول سے مراد علی ابن ابی طالب کی نسبت دشمنی اور کینہ رکھنا ہے۔(1) اسی طرح ایک اور روایت جسے ابن مردودیہ نے نقل کیا ہے، "ما کنا نعرف المنافقین علی عهد رسول الله(ص) الا ببغضهم علی ابن ابی طالب(ع)" ۔(2) پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں منافقین کو ہم علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے دشمنی اور عداوت کرنے کے ذریعے پہچانتے تھے۔

نسائی (متوفی 303ھ) نے خصائص امیرالمومنین میں ایک باب کا عنوان مومن اور منافق کے درمیان فرق کو قرار دیا ہے اور پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے تین  حدیثیں نقل کرتے ہیں، جن میں آپ ؐفرماتے ہیں، امیر المومنین سے مومن کے علاوہ کوئی اور محبت نہیں کرتا (اسی طرح) منافق کے علاوہ کوئی اور ان سے دشمنی نہیں کرتا ہے۔(3) خطیب خوارزمی نے اپنی کتاب المناقب کی چھٹی فصل میں وہ حدیثیں پیش کی ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام اور اہلبیت علیہم السلام کے ساتھ محبت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تقریبا تیس حدیثیں نقل کی ہیں۔(4) جن کے مضامین اس طرح  کے ہیں:
1۔ انی افترضت محبة علی ابن ابی طالب علی خلقی عامة۔ حضرت علی علیہ السلام کی محبت سب پر واجب ہے۔
2۔ لو اجتمع الناس علی حب علی ابن ابی طالب لما خلق الله النار۔ اگر تمام انسان علی ابن ابی طالب علیہ السلامکی محبت پر متفق ہو جاتے، تو خداوند جہنم کو خلق نہ کرتا۔
3۔ اگر کوئی حضرت نوح علیہ السلام کی اس عمر کے برابر (جو انہوں نے اپنی قوم کے درمیان گزاری) عبادت کرے اور کوہ احد کے برابر سونا خدا کی راہ میں خرچ کرے اور ہزار مرتبہ حج بیت اللہ کرے اور صفا و مروہ  کے درمیان خدا کی راہ میں قتل ہو جائے لیکن (حضرت) علی علیہ السلام سے محبت نہ رکھتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

4۔ (من احب علیا فقد احبنی و من ابغض علیا فقد ابغضنی) جس نے علی علیہ السلام سے محبت کی گویا اس نے رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی ہے اور جس نے علی علیہ السلام سے دشمنی کی گویا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کی ہے۔
5۔ (ان ملک الموت یترحم علی محبی علی ابن ابی طالب کما یترحم الانبیاء) ملک الموت جس طرح انبیاء پر رحم کرتا ہے اس طرح علی علیہ السلام کے چاہنے والوں پر بھی رحم کرتا ہے۔
6۔ (من زعم انه امن بی و بما جئت به و هو یبغض علیا فهو کاذب لیس بمومن) جو شخص پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہو مگر علی ابن ابی طالبعلیہ السلام سے دشمنی رکھتا ہو تو وہ شخص جھوٹا ہے اور مومن نہیں ہے۔
 اسی طرح شبلنجی شافعی  نے نور الابصار میں ان حدیثوں کو نقل کیا ہے:
1۔ مسلم نے حضرت علی علیہ اسلام سے نقل کیا ہے، (والذی فلق الحبة و برا النسمة انه لعهد النبی الامی بانه لا یحبنی الا مومن و لا یبغضنی الا منافق) خدا کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعدہ ہے کہ مومن کے سوا مجھ سے کوئی محبت نہیں کرتا اور منافق کے سوا کوئی مجھ سے بغض نہیں کرتا۔
2۔ ترمذی ابوسعید خدری سے نقل کرتے ہیں، (کنا نعرف المنافقین ببغضهم علیا)۔ (5) ہم منافقین کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے دشمنی اور عدوات کرنے کے ذریعے پہچانتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام کی محبت کے واجب ہونے پر بےشمار حدیثیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں۔(6) کہ ان سب کو یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا مذکورہ احادیث کی روشنی میں حقیقی مسلمان وہ ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی محبت کو واجب و لازم سمجھے گرچہ خواہشات نفسانی میں گرفتار افراد حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی و عداوت  رکھتے تھے اور کبھی اسے آشکار کرتے تھے اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام سے محبت، ایمان اور ان سے عداوت اور دشمنی کو نفاق کا معیار سمجھا گیا۔ اس صورتحال میں پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اصحاب امیر المومنین علیہ السلام سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ محبت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرامین پر توجہ کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کے گفتار و کردار کو اپنے لئے اسوہ و نمونہ قرار دیتے تھے۔ گذشتہ احادیث سے حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت بھی واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے نزدیک آپ  سب سے زیادہ عزیز تھے، کیونکہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خواہشات نفسانی کی بنا پر کسی سے محبت نہیں کرتے بلکہ عقل و حکمت اس چیز کا تقاضا کرتی تھی۔

ان کے علاوہ آپ ؑکی افضلیت کے بارے میں بہت زیادہ احادیث موجود ہیں۔ آیت مباہلہ سے بھی یہ مطلب واضح ہو جاتا ہے۔ (7) کیونکہ اس آیت میں حضرت علی علیہ السلام کو نفس پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا گیا ہے، حالانکہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   انسانوں میں سب سے زیادہ افضل تھے لہٰذا نفس پیغمبر کو بھی ان شرائط و خصوصیات کا حامل ہونا چاہیئے۔ محمد بن عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سب سے افضل کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر۔ ان سے دوبارہ سوال ہوا پھر علی ابن ابی طالب کس درجہ پر فائز ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، تم لوگوں نے اصحاب کے بارے میں سوال کیا تھا نہ اس شخص کے بارے میں جو نفس پیغمبر تھے۔ اس کے بعد آیت مباہلہ  کی تلاوت کی اس کے بعد کہا، پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کس طرح اس شخص کے مانند ہو سکتے ہیں جو نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔(8) اسی طرح احمد ابن حنبل کے بیٹے عبداللہ نے اپنے باپ سے پوچھا خلفاء کی افضلیت کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ اس نے جواب دیا، ابو بکر، عمر اور عثمان اسی ترتیب کے ساتھ افضلیت رکھتے ہیں۔ عبداللہ نے دوبارہ پوچھا پھر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کس درجے پر فائز ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے بیٹے، علی ابن ابی طالب کا تعلق ایسے خاندان سے ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ مقایسہ نہیں کیا جا  سکتا ۔(9)

پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے حضرت زہراء سلام اللہ علیہاسے فرمایا تھا؟ تمھارا شوہر میری امت میں سب سے بہتر ہے، اس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور علم و حلم کے اعتبار سے وہ دوسروں پر برتری رکھتا ہے۔ "ان زوجک خیر امتی اقدمه اسلاما و اکثرهم علما و افضلهم حلما"(10) اسی طرح جب ایک پرندے کا بھنا گوشت آپ ؐکو پیش کیاگیا تو آپ ؐنے خدا وند متعال سے درخواست کی کہ اپنی مخلوقات میں سے سب سے زیادہ عزیز فرد کو میرے ساتھ کھانے میں شریک قرار دے اسی وقت حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ (11) جابر بن عبداللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، "انه اولکم ایمانا معی، واوفاکم بعهد الله تعالی و اقومکم بامر الله و اعدکم فی الرعیة و اقسمکم بالسویة و اعظمکم عند الله فریة" حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے ایمان لانے میں اور خداوند متعال کے عہد کو پورا کرنے میں سب سے زیادہ وفادار اور احکام الٰہی کے اجراء میں سب سے زیادہ پایدار اور لوگوں کی نسبت سب سے زیادہ عادل ہے اور وہ بیت المال کی تقسیم میں سب سے زیادہ مساوات سےکام لیتا ہے اور خداوند متعال کی نظر میں ان کا مقام سب سے زیادہ برتر ہے۔

جابر اس کے بعد کہتے ہیں کہ آیت شریفہ "إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَئكَ هُمْ خَيرْ الْبرَيَّة" حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جب بھی حضرت علی علیہ السلام وارد ہوتے تو سبھی کہتے تھے "قد جاءخیر البریة" (12) اس سلسلے میں اور بھی حدیثیں موجود ہیں لیکن یہاں سب کو بیان نہیں کر سکتے۔
خلاصہ یہ کہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں توحید اور نبوت کے مسائل پیش کرتے تھے وہی امامت کے مسئلے کو بھی بیان کرتے تھے اور اپنے عمل و بیان سے حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو سب پر ظاہر کر دیتے تھے، اسی بنا پر اس زمانے میں ایک گروہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و کمالات کا شیفتہ ہوا تھا اور مسلمانوں کے درمیان وہ شیعہ علی علیہ السلام کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمیشہ اس گروہ کی ستایش کرتے رہتے تھے اور انہیں قیامت کے دن کامیاب و کامران ہونے کی بشارت دیتے تھے۔


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الدر المنثور، ج7 ،ص 443۔
2۔ الدر المنثور، ج7 ،ص 443۔
3۔ خصائص امیر المومنین علی ابن ابی طالبعلیہ السلام،ص 155 – 157 ۔
4۔ المناقب ،خوارزمی، ص 64 – 79۔
5۔ نور الابصار ،ص 160،منشورات الرضی قم۔
6۔ الریاض النضرۃ  ،محب الدین طبری ،و قادتناکیف نعرفھم ،ج1 ،آیۃ اللہ میلانی ۔
7۔ آل عمران 61۔
8۔ البیہقی ،المحاسن ج1 ص 39،الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ ،ج1 ،ص 574۔
9۔ طبقات الحنابلۃ ،ج2 ،ص 120 الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ ،ج1،ص 575۔
10۔ خطیب خوارزمی ،المناقب ،فصل نہم ،حدیث  111 ،ص 106۔
11۔ خطیب خوارزمی ،المناقب ،فصل نہم ،حدیث  111 ،ص 106۔
12۔ خطیب خوارزمی ،المناقب حدیث 120 ،ص 111 – 112۔

وحدت نیوز(سکردو ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستا ن کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی کی محکمہ برقیات کے ایکسئین اور آری سے ملاقات ہوئی اور شہر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا احتجاج نوٹ کرایا۔ آغا علی رضوی نے سکردو شہر میں اعصاب شکن لوڈشیڈنگ جاری ہے تجارتی پیشہ افراد کے کاروبار ٹھپ ہے جبکہ طالب علموں کے امتحانات کے دن شروع ہوچکے ہیں۔ ایسے میں بجلی کا بحران انتہائی افسوسناک ہے۔ محکمہ برقیات کے سربراہان سے آغا علی رضوی نے بجلی کی تقسیم و ترسیل منصفانہ بنیادوں پر کی جائے اور شہر کو بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ایکسئین واٹر اینڈ پاورنے کہا کہ سکردو شہر میں بجلی کی کمی دور کرنا ہماری اولین ترحیح ہے او ر اس سلسلے میں بھرپور اقدامات کر رہے ہیں ۔

 انہوں نے کہا لوڈشیڈنگ کے باعث عوام سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہنگامی طور پر اقدامات کر کے بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کریں گے بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دن کے وقت تمام کاروباری مراکز کو جبکہ رات کے وقت گھروں کو بجلی کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں وی آئی کلچر ختم جائے تاکہ عوام میں احساس محرومی نہ بڑھیں۔ صوبائی حکومت محکمہ برقیات فوری طور شہر کو درپیش مسائل حل کرے اگر بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہامرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون آغا رضا نے کہاہے کہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے سلسلے میں شجرکاری مہم کے سلسلے میں پودے لگاناصدقہ جاریہ ہے کئی عرصوں سے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے شدید خطرات کے پیش نظر جگہ جگہ پودے لگانا ائولین ذمہ داری سمجھتے ہیں پاکستان ہمارا گھر ہے اس کو سرسبزوشاداب بنانے کے لئے تمام مکتبہ فکر کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ گھر گھر درخت اور پودے لگانے کی ضرورت ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لئے ہمیں ذیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگیں صاف سبز پاکستان کے تحت ہر گھر میں شجر کاری پاکستان کے لئے ہریالی اور عوام کے لئے خوشحالی ثابت ہوگی۔

گرین پاکستان کے تحت شجر کاری مہم کے دوران ہزاروں پودے تقسیم اور لگانے کا منصوبہ اور جنگلات کے تحفظ کے لئے موثر قانون سازی کی گئی ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر بھر پور پزرائی ہوئی ہے کمیونٹی سطح پر جدید نرسریوں کے قیام کا مقصد زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت اور شجر کاری کی طرف ترغیب ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو سرسبزوشاداب بنانے کے خواب کو سچ کردکھانے اور آنے والی نسل کو آلودگی سے پاک مستقبل دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگاکر پلانٹ فار پاکستان ڈے مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے، ہز شخص کم سے کم ایک پودا ضرور لگا کر ماحول کو سرسبزوشاداب بنانے میں کردار ادا کریں۔

 انھوں نے مزید کہا کہ آنے والی نسلوں کو صاف و شفاف ماحول فراہم کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے۔ ہر سال شجر کاری مہم کے دوران درخت لگاتے ہیں مگر ان کی آبیاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے درخت خوشک ہوجاتے ہیںیا جانور نقصان پہنچاتے ہیںاس کے لئے ضروری ہے کہ درختوں کی دیکھ بھال بھی ضرور کریں۔ انھوں نے شہریوں ، طلباء ، تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں سے اپیل کی کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔  بیان کے آخر میں سنجاوی میں لیویز چیک پوسٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسو س کا اظہار کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)  مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن سے جاری بیان میں مرکزی رہنما اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہاہے کہ مساجد میں بےگناہ نمازیوں کو شہید کرنے والے دہشتگرد کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، دہشتگردی کی آڑ میں پوری دنیا میں مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں، ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، یورپ اور مغرب میں مسلم کمیونٹی کے خلاف ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں، مساجد کو نشانہ بنانے، مسلم خواتین کے نقاب اتارنے، سکولوں میں مسلمان بچوں کی تضحیک کرنے جیسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ اگر عرصہ سے جاری ان واقعات کا سدباب کیا جاتا تو آج نیوزی لینڈ کا یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ مغرب اور یورپ میں انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلام میں دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں، نیوزی لینڈ میں مساجد میں قیامت صغرا بپا کرنا کیا دہشتگردی نہیں؟ دنیا اس شیطانی اور سفاکانہ عمل پر کیوں خاموش ہے۔ دہشتگردی کا ناسور پوری دنیا کے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے، نیوزی لینڈ کی مساجد میں بےگناہ مسلمانوں کا قتل عام سفاکیت کی بدترین مثال ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی ہمدردی واقعہ کے شہداء کے لواحقین کیساتھ ہے اور پاکستانی عوام ا ن کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

وحدت نیوز(انٹرویو) ملک اقرار حسین کا بنیادی تعلق پنجاب کے علاقہ دینہ ضلع جہلم سے ہے، وہ اسوقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری روابط کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، ملک صاحب کا شمار ایم ڈبلیو ایم کے تاسیسی رہنماوں میں ہوتا ہے، اسکے علاوہ وہ سماجی اور فلاحی امور میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ رواں ماہ کے آخر میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سالانہ تین روزہ مرکزی کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے، ملک اقرار حسین صاحب کو اس کنونشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، اسلام ٹائمز نے اس کنونشن کی مناسبت اور ڈی آئی خان ٹارگٹ کلنگ و نیوزی لینڈ سانحہ سے متعلق ملک اقرار حسین کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
سوال: ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں صورتحال روز بروز ابتر ہو رہی ہے، یہاں قتل و غارت گری کیوں رک نہیں پا رہی اور ایم ڈبلیو ایم اس حوالے سے کیا کوششیں کر رہی ہے۔؟
ملک اقرار حسین: سب سے پہلے تو آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں موقع دیا، جہاں تک ڈی آئی خان کا مسئلہ ہے تو اس حوالے سے ہمارے کچھ بنیادی اہداف ہیں، پاکستان میں جب ہم نے ملی اعتبار سے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) نے ہمیں بڑا بنیادی اصول دیا تھا، انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم ہر ظالم کے مخالف ہیں، چاہے وہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو اور ہر مظلوم کے حامی ہیں چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اسی اصول کو سامنے رکھ کر آج تک جدوجہد کرتے رہے ہیں، گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم ہوا ہے، مجلس وحدت مسلمین نے کراچی سے خیبر تک ہر موقع پر اپنا رول پلے کیا ہے، ڈی آئی خان کی بات کی جائے تو گذشتہ دس بارہ سال سے وہاں حالات خراب ہیں، ہم اس حوالے سے اداروں کیساتھ بیٹھے ہیں، صوبائی حکومت سے بات ہوئی ہے، حکومتی کمیٹی کیساتھ مسئلہ کو اٹھایا ہے۔

ایک چیز انہیں بھی کلئیر ہے اور ہمیں بھی واضح ہے کہ چند سالوں کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور بعض اداروں میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی بھرتیاں کی گئیں، ٹارگٹ کلنگ کی یہ کارروائیاں اسی مائنڈ سیٹ کا ہی نتیجہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب جبکہ ایک نئی حکومت آئی ہے، عمران خان صاحب ایک نئے ویژن اور نئے پاکستان کا نعرہ لگا کر آئے ہیں تو ہم ان کے وزراء اور دیگر حکومتی مسئولین کو یہ باور کروا رہے ہیں کہ ڈی آئی خان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ الحمد اللہ وہاں سے بھی رسپانس مثبت ہے، لیکن چیزیں کہیں نہ کہیں خراب ہو رہی ہیں، کچھ کالی بھیڑیں ایسی ہیں کہ جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور بالخصوص ان علاقوں میں جہاں اہل تشیع قدرت مند ہیں، امن قائم ہوسکے۔ آنے والے دنوں میں سیکرٹری داخلہ سے ہماری ملاقات ہے اور مزید اس مسئلہ پر ہم کوششیں جاری رکھیں گے۔
 
سوال: گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، ابھی تک تو امریکہ اور مغرب مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیتے رہے ہیں، اس مخصوص واقعہ کے پس پردہ کیا محرکات ہوسکتے ہیں۔؟
ملک اقرار حسین: سب سے پہلے تو میں ان شہداء کے لواحقین کو تعزیت پیش کرتا ہوں، ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کیساتھ ہیں، ان شہداء کے لئے ہم دعاگو ہیں۔ نیوزی لینڈ انتہائی پرامن ملک ہے، بظاہر یہ اسی انٹرنیشنل ٹرائیکا کی کارستانی ہے، امام خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی شیطانیت ہوتی ہے، اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ نیوزی لینڈ کا واقعہ بھی اسی استکباری ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے کرایا گیا ہے، استکبار بعض اوقات اپنے ہی لوگوں کا نقصان کراکر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، جسطرح کہ نائین الیون کا واقعہ کہ انہوں نے خود کیا اور پھر اس کے ردعمل میں مسلم ممالک پر چڑھ دوڑے، جبکہ بعض اوقات وہ براہ راست اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آسٹریلوی نژاد باشندہ انہی قوتوں کا آلہ کار ہے، چاہے القاعدہ ہو، چاہے طالبان کی شکل میں ہوں، چاہے داعش کی شکل میں ہو، یہ سب امریکہ اور اسرائیلی ایجنسیوں سے منسلک ہیں، دہشتگردی کی جتنی بھی شکلیں ہیں، وہ قابل مذمت ہیں۔
 
سوال: 29 مارچ سے مجلس وحدت مسلمین کا سالانہ کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے، ہمارے قارئین کو ذرا اس تنظیمی کنونشن کے پس منظر سے آگاہ کیجیئے گا۔؟
ملک اقرار حسین: اس کنونشن کو جانثاران امام عصر (عج) کنونشن کا نام دیا گیا ہے، ویسے تو سالانہ طور پر ہمارا پروگرام ہوتا ہے، جسے ہم شوریٰ عمومی کے اجلاس کے عنوان سے منعقد کرتے ہیںو تاہم تین سال بعد مجلس وحدت مسلمین کے اہم ترین عہدہ مرکزی سیکرٹری جنرل کا انتخاب ہوتا ہے، اس اجلاس کو ہم کنونشن کا نام دیتے ہیں۔ لہذا اس عنوان سے یہ کنونشن بہت اہم ہے، اس کنونشن کے ذریعے ہم ان جمہوری قوتوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ جو ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں کہ درحقیقت جمہوری اقدار کو فروغ دینے کیلئے کردار ہم ادا کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ پارٹی چیئرمین، صدر یا سربراہ تاحیات نہیں ہونا چاہهئے، یہ ہمارے دستور میں بھی شامل ہے، یہی جمہوریت کا بھی حسن ہے کہ پورے ملک سے شوریٰ عمومی کے اراکین ہر تین سال بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے میر کاررواں کا انتخاب کرتے ہیں۔

اس کے ذریعے ہم یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ہم موروثیت کے قائل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کنونشن کی دوسری اہم چیز کہ پاکستان میں اتحاد و وحدت کے فروغ کیلئے ہم ہر سطح پر کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس کنونشن کا آخری سیشن انتہائی شایان شان ہوگا، جس میں ملک بھر کی سیاسی و مذہبی قیادت کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے، تمام ملی و قومی تنظیموں کو بلایا جا رہا ہے، اس میں علمائے کرام شامل ہیں، دانشور حضرات، صحافی، سیاسی و مذہبی رہنماوں کو دعوت دی جا رہی ہے، کنونشن کے آخر میں وحدت اسلامی کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شریک ہونگی، اس کنونشن سے ملک بھر میں وحدت و اخوت کا پیغام جائیگا۔
 
سوال: اس کنونشن کے سلسلے میں اب تک تیاریوں اور رابطہ مہم کی کیا صورتحال ہے۔؟
ملک اقرار حسین: اسلام آباد میں 29 مارچ سے 31 مارچ تک یہ تین روزہ کنونشن منعقد ہوگا، اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں، بنیادی انتظامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے، جہاں تک رابطہ مہم کا تعلق ہے تو ہمارے مرکزی ذمہ داران، صوبائی ذمہ دران، دفاتر کے احباب اور اضلاع کے دوست کراچی سے خیبر تک دعوت کا عمل بھرپور طریقہ سے جاری ہے۔ امید ہے کہ آنے والے ایک دو دنوں تک ملک بھر سے وہ افراد جن کو اس کنونشن میں شریک ہونا ہے، سب تک ہمارا دعوت نامہ اور پیغام پہنچ جائے گا۔
 
سوال: یہ کنونشن گذشتہ کنونشنز جیسا ہوگا یا پھر اس بار کوئی نیا پہلو سامنے لایا جا رہا ہے۔؟
ملک اقرار حسین: ظاہر سی بات ہے کہ ہر جماعت اور سسٹم کے ابتدائی مراحل ہوتے ہیں، مجلس وحدت مسلمین بھی اپنا ابتدائی سفر طے کرچکی ہے اور اب تک لگ بھگ ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس میں ہمارے بہت تجربہ کار اور نظریاتی لوگ شامل ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سیاسی طور پر ایک اہم رول ادا کرے گی، اس کے علاوہ مذہبی طور پر جو کہ ایک خواب تھا کہ ہم ملی اخوت اور اتحاد و وحدت کی طرف بڑھ سکیں، اس عنوان سے بھی ان شاء اللہ کامیابیاں سمیٹیں گے۔ امید ہے کہ نئے سیکرٹری جنرل کا جو انتخاب ہوگا اور نئی کابینہ آئے گی، وہ پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکے گی۔ لوگوں میں بہت محبتیں اور دلچسپیاں ہیں، جہاں بھی ہم جاتے ہیں، وہاں لوگ بہت محبتوں کا اظہار کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کنونشن کب اور کیسے منعقد ہونے جا رہا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کی عوام کیساتھ وابستگی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔
 
سوال: ملت تشیع کے بعض طبقات اکثر یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ شیعہ جماعتیں آپس میں متحد نہیں ہوتیں، اس کنونشن میں کیا شیعہ جماعتوں اور اکابرین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔؟
ملک اقرار حسین: جی بالکل، اس حوالے سے ہم تمام ملی جماعتوں، اکابرین، مدارس کو دعوتیں دے رہے ہیں، ماتمی سنگتوں، مقامی تنظیموں کو بھی دعوتیں دے رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ یہ کنونشن ملی اعتبار سے اتحاد و اخوت کا گلدستہ ثابت ہوگا۔
 
سوال: اس کنونشن کے حوالے سے اپنے تنظیمی مسؤلین، کارکنان اور دیگر کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
ملک اقرار حسین: اس حوالے سے میں تمام مسئولین کو یہ کہنا چاہوں گا کہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں ہماری سنگین ذمہ داریاں ہیں، ہمیں چاہیئے کہ شرح صدر کیساتھ ملت کے تمام طبقات کو اپنے قریب کریں، کہیں پر بھی ایسا پیغام نہیں جانا چاہیئے، جس سے کسی کی دل آزاری ہو، ملت کو متحد کرنے کیلئے آگے بڑھیں، ملت اور پاکستان کی بھی اسی میں بقاء ہے کہ ہم ملکر آگے بڑھیں، اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو ہم ٹف ٹائم دے سکیں۔

وحدت نیوز(کراچی) سانحہ النور مسجد کریسٹ چرچ نیوزی لینڈ کے شہداءکی یاد میں مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام محفل شاہ خراسان روڈ پر دعائیہ تقریب کا انعقاد اور شہداءکی یاد میں شمع روشن کی گئیں، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ سید باقرعباس زیدی،علی حسین نقوی،علامہ صادق جعفری، ناصرالحسینی،علامہ مبشر حسن،علامہ ملک عباس، میر تقی ظفر،زین رضوی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق رکن سندھ اسمبلی میجر (ر) قمرعباس رضوی،پاکستان عوامی تحریک سندھ کے صدرظفراقبال قادری،آل پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین مطلوب اعوان قادری،فلسطین فائونڈیشن کےسیکریٹری جنرل صابرابومریم،معروف اہل سنت روحانی شخصیت ڈاکٹر مبشرعالم، علامہ عبد اللہ جونا گڑھی ،،علامہ نعیم الحسن الحسینی،علامہ سجاد شبیر رضوی، لالہ رحیم ، عظیم جاوا ، ظفر تقی ، زین رضا ، فرحت عباس، مزمل حسین ، کامران زیدی ، نقی لاھوتی سمیت شیعہ ایکشن کمیٹی، سیاسی وسماجی شخصیات اور صحافیوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ، شرکاءنے شہدائے کریسٹ چرچ کی بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

وحدت نیوز (فیصل آباد) پاکستان شعبہ خواتین ضلع فیصل آباد کی جانب سے تحصیل جھمرہ میں یونٹ تشکیل دیا گیا،ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین  کی مرکزی مسئول فلاح و بہبود محترمہ فرحانہ گلزیب نے تحصیل جھمرہ میں خواتین سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کا تعارف اور اس الہی تنظیم کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم مکتب تشیع کی ابھرتی ہوئی سیاسی اور مذہبی جماعت ہے جو ملک میں تشیع کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ، اس موقع پر مرکزی مسئول مدارس محترمہ بشری شریف نے بھی خواتین سے خطاب کیا۔ محترمہ ساجدہ بتول کو جھمرہ یونٹ کی سیکرٹری جنرل کے طور پر منتخب کیا گیا۔

وحدت نیوز(سکھر) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی کی ضلعی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ احسان اللہ شر و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس انہوں نےکہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سالانہ جانثاران امام عصر ع کنونشن اور وحدت اسلامی کانفرنس سے حب الوطنی ؛ اتحاد بین المسلمین اور اسلامی بیداری کا پیغام عام ہوگا۔ ایم ڈبلیو ایم نے ہمیشہ دھشت گردی فرقہ واریت اور کرپشن کے خاتمے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کریں گے۔

انہوں نےکہا کہ وحدت اسلامی کانفرنس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنما اور اہل سنت علماء کرام شریک ہوں گے۔انہوں نےکہا کہ دھشت گردوں اور کالعدم جماعتوں کے سیاسی دھارا میں شمولیت سے نفرت فرقہ واریت اور دھشت گردی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے میروخان میں چاردیواری کے اندر جشن مولود کعبہ کے انعقاد روکنے کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نےکہا کہ چاردیواری میں پروگرام کو روک کر ہمارے بنیادی آئینی حق کو پامال کیا گیا۔

Page 1 of 918

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree