The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام اسلام آبادمیں فلسطین ،کشمیر اور دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں منعقدہ القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےپاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اسرائیل خلیج کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے۔کسی بھی عالمی جنگ کے ذمہ دار مسلمان نہیں تھے مگر بدلہ مسلمانوں سے چکایا جا رہا ہے۔کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کا دہرا معیار افسوسناک ہے۔اقوام متحدہ مسلمانوں کے لئے غیر موثر ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان آج بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کے پاس لیڈر شپ کی کمی ہے۔اسلامی طاقتیں مختلف بلاکس میں تقسیم ہوکر رہ اپنی طاقت کھو رہی ہیں جب کہ یہودی لابی مزید مضبوطی پکڑنے میں مصروف ہے۔امریکہ سمیت عالمی طاقتوں پر یہودیوں کا گہرا اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ریجنل قوتوں کو قریب لانا ہو گا۔یورپی پارلیمنٹ اگر ہو سکتی ہے تو ایشین پارلیمنٹ کیوں نہیں بن سکتی۔ایشائی طاقتوں کو اس پہلو پر بھی سوچنا چاہئے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام فلسطین ،کشمیر اور دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں القدس کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد پریس کلب میں ہوا جس میں وفاقی وزراء سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر اقوام عالم کے آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔مسئلہ فلسطین ایک نازک ایشو ہے جسے نظر انداز کرنا کسی ہولناک عالمی تصادم کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔القدس اور کشمیر مسلم امہ کے لئے ٹیسٹ کیسز ہیں ان دو مسائل پر اگر عالم اسلام متحد نہ ہوا تو ان کی اپنی بقا و سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مظلوم نہتے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کر کے بھارت اور اسرائیل عالمی جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں اسرائیل صدی کی بڑی ڈیل کے تحت غزہ کومستقل ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اتحاد فلسطین کے عوام کو مستقل غلام بنانے کے لیے ہے۔اسرائیلی اقدام سے خلیج میں جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔مسلم ممالک کی قیادت کو آگے بڑھ کر اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنانا ہوگا۔مسلم امہ اتحاد سے بھارتی و اسرائیلی عزائم ناکام بنائے ورنہ اپنی خیر منائے۔اگر آج  فلسطین پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کشمیر پر بھی خاموش ہونا پڑے گا۔مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام فلسطین ،کشمیر اور دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں القدس کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد پریس کلب میں ہوا جس میں وفاقی وزراء سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی۔ایم ڈبلیوایم  کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امت مسلمہ فلسطین کی وارث ہے فلسطین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مسلم دنیا کے خیانت کار حکمرانوں کا فلسطین سے کوئی تعلق نہیں۔

فلسطین امت مسلمہ کے لیے معیار بن چکا ہے کہ کون ظالم قوتوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کون مظلوموں کا پشت پناہ ہے۔ اسرائیل اسٹریٹجیک اعتبار سے ایک کمزور ترین ریاست ہے۔جس کی فتوحات کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ڈیل آف سینچری کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔شہید قاسم سیلمانی نے فلسطین کی مزاحمت کو نئی زندگی دی ہے۔فلسطینیوں اور کشمیری مظلومین کی حمایت ہمارا اخلاقی و مذہبی فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کا توازن بڑی تیزی سے ایشیا کی طرف منتقل ہو رہاہے۔جو استکباری قوتوں کے لیے خطرے کی علامت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا جمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر میں ایس او پیز کے تحت یوم القدس کی ریلیاں نکالی جائیں گی جن کا مقصد مظلومان عالم سے یکجہتی کا اظہار ہے۔

وحدت نیوز (ملتان ) تحریک آزادی القدس کے زیراہتمام یوم القدس اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہی کے حوالے سے چوک گھنٹہ گھر ملتان میں کیمپ لگایا گیا، کیمپ میں امامیہ اسکائوٹس کے ساتھ ساتھ ڈویژنل صدر آئی ایس او پاکستان ملتان شہریار اور مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی موجود تھے۔ کیمپ میں فلسطینی مظلوم بچوں کے پورٹریٹ رکھے گئے تھے۔

 اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے علامہ اقتدار نقوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل صدی کی بڑی ڈیل کے تحت غزہ کو مستقل ہڑپ کرنا چاہتا ہے، مسلم ممالک کی قیادت کو آگے بڑھ کر اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنانا ہوگااگر آج ہم فلسطین پر خاموش ہوگئے تو کل کشمیر پر بھی خاموش ہونا پڑے گامسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر آپس میں جڑے ہوئے ہیں اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل کے قبضے کو غلط قرار دیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ اور نِتن یاہو حکومت اتحاد فلسطین کے عوام کو مستقل غلام بنانا چاہتے ہیں۔اسرائیلی اقدام سے خلیج میں جنگ بھی چھڑ سکتی ہے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں جنگ چھڑ سکتی ہے کشمیر اور فلسطین اب جلد ہی طے کردیں گے کہ مسلم امہ نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں۔بھارت اور اسرائیل عالمی جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیںمسلم امہ اتحاد سے بھارتی و اسرائیلی عزائم ناکام بنائے ورنہ اپنی خیر منائے۔

آئی ایس او کے صدر شہریار حیدر نے کہا کہ کسی بھی عالمی جنگ کے ذمہ دار مسلمان نہیں تھے مگر سزا مسلمانوں کو دی جارہی ہے ، اسرائیل خلیج کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے اقوام متحدہ مسلمانوں کے لئے غیر موثر ادارہ بن کر رہ گیا ہے، پاکستان عرب اسرائیل جنگ میں کردار ادا کرسکتا ہے تو آج بھی کرسکتا ہے، مسلم امہ کے پاس لیڈر شپ کی کمی ہے، مسلم امہ مختلف بلاکس میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے، یہودی لابی مسلسل طاقتور ہورہی ہے ،امریکہ سمیت عالمی طاقتوں پر یہودی لابی خاصا اثر رکھتی ہے، اگر یورپی پارلیمنٹ ہوسکتی ہے تو ایشین پارلیمنٹ کیوں نہیں بن سکتی۔

وحدت نیوز(انٹرویو) سوال :  خطے میں فلسطینی یہود و مسلم زمینی تنازعہ پرفریقین میں سے کون حق پر ہے؟ اگر مسلمانوں کاحق ہے تو اپنا کیس اقوام متحدہ میں کیوں پیش نہیں کرتے؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی : تقریبا ستر سال سے اقوام متحدہ میں یہ کیس مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ بار پیش کیا جا چکا ہے، سینکڑوں قراردادیں اسرائیلی یہودیوں کے خلاف منظور ہوچکی ہیں لیکن دوغلی امریکی و مغربی پالیسیوں کی وجہ سے آج تک ان پرعمل درآمدنہیں ہوپایا۔

سوال :  شنید ہے عالمی عدالت سے مسلمان بھاگ جاتےہیں ، اپناکیس لڑنے کی بجائے  طاقت و بدمعاشی پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ کیس لڑا تو ہار جائیں گے، اسرائیل یہودیوں کا ہی ہے کیا یہ سچ ہے؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی :  جس سر زمین پر آج صہیونی ریاست اسرائیل کا نا پاک وجود ہے.  یہی سرزمین تقریبا 72 سال پہلے سے لیکر صدیوں دور تک فلسطین کہلاتی تھی.  ابھی جو علاقہ صہیونیوں کے قبضے میں نہیں وہ فلسطین ہی ہے. پچھلی صدی کے چالیس کے عشرے سے پہلے تک  یہ سارا قطعہ سرزمین فلسطین ہی کہلاتا تھا اور یہاں پر اکثریت  مسلمانوں کی تھی ہاں  یہودی وعیسائی اقلیتیں بھی آباد تھیں ،ابتداء میں فلسطین کا ایک مختصر حصہ صہیونیوں نے قبضہ میں لیا . 1967 کی جنگ میں اکثریتی علاقے صہیونیوں کے قبضے میں آئے اور اس کے بعد صہیونی قبضہ بڑھاتے بڑھاتے اب تقریبا 80% فلسطین کی سرزمین پر قبضہ جما کر وہ اسے اسرائیل کا نام دے چکے ہیں۔

سوال :  رسول اللہ کے دور میں وہاں (فلسطین) پر اسرائیلی ریاست تھی پھر سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس پر اپنا قبضہ جمایا۔ اسطرح یہودی دنیا بھر میں بکھر کر رہ گئے پھر ہٹلر نے انکو جمع کیا سعودی عرب سے زمین خرید انکو دوبارہ فلسطین میں آباد کیا گیا مسلم مفاد پرست عربوں نے انکو اپنی زمینیں مہنگے داموں فروخت کی جس کی وجہ یہ فلسطین کے بہت بڑے حصے کے مالک ہوگئے۔ 1980 میں زمین بیچنے پر پابندی لگا دی گئی جس کے بعد اسرائیل نے جبری قبضے شروع کیے۔ اس بات کی حقیقت کیا ہے؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی :  جب تاریخ کا مطالعہ کریں اور اس خطے کی جغرافیائی معلومات پڑھیں تو سب واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ کے دور میں اسرائیل نامی ریاست کا وجود نہیں ملتا. قبل از اسلام یہ پورا خطہ بلاد شام یا شامات کے نام سے معروف تھا جس میں موجودہ مختلف ممالک سوریہ ، لبنان ، اردن اور فلسطین شامل ہیں لیکن اسرائیل نامی ریاست کا تاریخی طور پر کوئی وجود نہیں ملتا۔

سوال : رومی حکمرانوں کے دور حکومت میں یہ علاقے سلطنت روم کے زیر قبضہ تھے. یعنی مسلمانوں کے نہیں تھے، تو  پھر مسلمان اس خطہ  کے مالک کیسے ٹھہرے؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی : مسئلہ دین و مذہب کا نہیں مقامی باشندوں کے حق کا ہے. فلسطین کی سر زمین پر گذشتہ صدی میں دنیا بھر سے یہودی لا کر یہاں آباد کرائے گئے ہیں.  یہ سرزمین فلسطین کے مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کی سرزمین ہے.  مقامی لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرنا اور دنیا جہاں کے صہیونیوں کو جنت کے باغات دکھا کریہاں لانے اور قبضہ جمانے پر اعتراض ہے ۔ شام کے لوگوں نے یہودیوں کو زبردستی نہیں نکالا.  دمشق میں آج بھی حارۃ الیہود ہے۔ لہذا  کسی کی حکمرانی سے زمین کی ملکیت نہیں بدل سکتی۔حکومتیں اور بادشاہیاں  بدلتی رہتی ہیں  ناجایز قبضہ جمانے سے مالک نہیں بنا جا سکتا  لوگوں کی اپنی جائیداد کی ملکیت  اور وراثت تو باقی رہتی ہے۔

سوال :  شیرازی صاحب  پہلے مسلمانوں نے بھی تو ناجائز قبضہ کیا تھا ۔ جب کہ اسرائیل تو یہود کاگھر اور انکا حق ہے۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی :  برادر عزیر نوٹ فرما لیں کہ تاریخی طور پر اسرائیل تو کبھی تھا ہی نہیں. تو  پھرگھر اور حق کیسا؟

سوال : ہم نے قبیلہ کی بات نہیں ریاست کی بات کی رومن ایمپائر کی بات کی ہے ۔ وہ یہاں کے حکمران تھے

ڈاکٹرشفقت شیرازی:  رومن ایمپائر حکمران تھے مگر کیسے؟ وہ  تو مغرب سے سمندر پار آکر اس خطے پر طاقت کے بلبوتے پر  قابض ہو ئے تھے۔ مقامی حکمران نہیں تھے  بلکہ باہر سے آ کر مسلط ہو گئے تھے۔

سوال :  شیرازی صاحب  رومن ایمپائر اسلامک ہسٹری سے پہلے کا ہے سمندر پار والی بات سچ نہیں ہے۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی :  میں نے تھوڑی دیر پہلے ابھی یہی آپ والی بات کی ہے ۔ کہ یہ سرزمین اس خطے کے مقامی لوگوں کی ہے جو بھی انکا دین ہو  . سمندر پار سے صلیبی جنگیں مسلط کی گئیں ۔ ملک کے عوام  تو شروع سے آ رہے ہیں ۔ اور ہمیشہ اس خطے پر بیرونی طاقتیں حملے کرتی رہی ہیں اور روم والے بھی  اس خطے کے باسی نہیں تھے بلکہ وہ  یہاں فوجی طاقت سے قابض ہوئے تھے ۔ اورخطے  پر مسلط ہو گئے۔

سوال : مسئلہ فلسطین کیسے حل ہو سکتا ہے ؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی : جو لوگ اس سرزمین پر ساٹھ ستر سال سے آ کر آباد ہوئے ہیں اب بھی وہ واپس افریقہ ، یورپ اور ایشیا یا دیگر جن ممالک سے آئے ہیں وہاں چلے جائیں اور وہ مقامی لوگ جو زبردستی ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں اور لاکھوں اصلی فلسطینی باشندےدر بدرٹھوکریں کھا رہے ہیں انہیں اپنے وطن واپس آ نے دیا جائے.  پھر وہاں کے باسی کسی بھی مسلمان ، عیسائی یا یہودی کو  اپنی منشا و مرضی سے اس ملک کا حکمران بنا لیں تو ا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہےاور اس کے بعد جو بھی فلسطین آنا چاہے وہ فلسطین کا ویزہ حاصل کرے اور اس ملک میں داخل ہو ۔

سوال : مشکل سے اپنے گھر لوٹے ہیں وہ واپس کیوں جائیں؟

ڈاکٹرشفقت شیرازی : مصر پر ایک فرعون نہیں بلکہ فراعنہ کا دور گزرا ہے. تاریخی طور پر حکام آتے جاتے رہے ہیں.  لیکن عوام وہی  نسل در نسل وہاں آباد رہی.  ممکن ہے کل کوئی ہندو اور سکھ مذہب کا پیروکار ہو اور آج دن اسلام اپنا کر مسلمان ہو جائے مگرشہری ہونے کے لحاظ سے وہ  اپنی اسی سرزمین کا مالک ہوتا ہے اور اسی طرح لوگ کل یہودی اور عیسائی تھے اب وہی مسلمان ہو چکے ہیں. لیکن زمین پر انکا حق مذہب کے لحاظ سے تونہیں بلکہ آباواجداد کی ملکیت کے لحاظ سے ہے ۔

سوال : شفقت شیرازی صاحب آباو اجداد کی ملکیت ہی مسلمانوں کے بھاگنے کی وجہ ہے کیونکہ یہودی تو ہر دور میں ترقی یافتہ تھے اور سارے دستاویزی ثبوت بھی انکے پاس ہیں۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی : یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ فلسطین کی سرزمین کبھی بھی سعودی عرب کی ملکیت میں نہ تھی اور نہ ان سے زمینیں خریدی گئیں. یہ سر زمین پہلے سلطنت عثمانیہ کے زیر سایہ تھی ، پھر برطانیہ نے قبضہ کیا جب برطانیہ نکلا تو یہودیوں کو مضبوط کر چکا تھا.  برطانیہ کے نکلنے کے چند ہی منٹوں بعد صہیونیوں نے ریاست کا اعلان کیا اور چند منٹ بعد ہی امریکہ نے اسے بطور اسٹیٹ قبول کر لیا. سعودیوں کو بھی حکومت دیتے وقت شرط لگائی گئی کہ تم نے اس صہیونی ریاست کی حفاظت کرنا ہے اورابتک  وہ امریکہ وبرطانیہ کے حکم پر یہ نوکری کر رہے ہیں ۔

سوال :  شیرازی صاحب زمین تو اسی کی ہوتی ہے جو ملک پر قابض ہو۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی : قبضہ زائل ہونے والی چیز کا نام ہے ۔ زمین فقط مقامی باشندوں کی ہی ہوتی ہے. جب مقامی باشندے کمزور ہو جاتے ہیں تو تجاوز پسند آکر قابض ہو جاتے ہیں، جب اصل  مقامی لوگ طاقتور ہو جاتے ہیں تو اپنی زمین آزاد کروا لیتے ہیں اور قابض بھاگ جاتا ہے ۔

سوال :  آپ ماضی کو بھول گئے کہ جب مسلمانوں نے اس سرزمین سے یہودیوں کو مار بھگایا۔۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی: جب مسلمانوں نے سیاسی غلبہ حاصل کیا تھا۔ اس وقت بھی دنیا کے مختلف ممالک سے لوگوں کو لا کر آباد کاری نہیں کی تھی . جس سرزمین پر آج پاکستان قائم ہے یہاں کے مقامی لوگوں کا قدیمی مذہب بدھ مت ،ہندو ، سکھ پارسی وغیرہ تھا جب انہی کی اولاد نے اسلام قبول کر لیا تو آج مسلمانوں کا ملک پاکستان بن چکا ہے.  عرب دنیا کے قدیمی لوگ مذاہب کے لحاظ سے  یہودی اور نصرانی اور بت پرست تھے.  جب انکی نسلیں مسلمان ہو گئیں تو وہ ممالک بھی اب  مسلمان ملک کہلاتے ہیں. اور ملک انہیں کا ہوتا ہے جو وہاں کے اصلی باشندے ہوتے ہیں یا جنہوں نے قانونی طریقہ کار کے مطابق شہریت حاصل کی ہوتی ہے۔   

یہ ملک فلسطینی عوام کا ہے نہ کہ سارے مسلمانوں کا اور نہ مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ کسی کے حوالے کریں اور نہ قابض یہودی زمین کی ملکیت کے اوراق لیکر آئے ہیں  . اگر اوراق تھے تو فلسطینی عدالتوں میں جاتے  نہ کہ طاقت کے بل بوتے پر قابض ہو کر اپنا ملک بناتے  . فلسطینی عوام کے پاس املاک کے ثبوت اور اوراق ہیں لیکن انکی کوئی سنتا نہیں۔

اس ملک کا مالک فلسطینی ہی ہو گا جو اس ملک کارہنے والا ہو گا۔ نہ کہ روس ، امریکا ، جرمنی ، ایتھوپیا اور دیگر ممالک کی شہریت والا غاصب اور ڈاکو اس کا مالک ٹھہرے گا  . کاش ہماری نسلیں تیس ، چالیس اور پچاس کے گذشتہ صدی کے صہیونی جتھوں کے حملوں کا مطالعہ کریں . اس کے بعد سینا ، جولان اور اردن کی زمینوں اور پھر لبنان کی زمینوں پر اسرائیل کے حملوں اور ناجائز قبضہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں  .فلسطینی عوام پر پے در پے حملے اور محاصرہ. اب تو بڑی تعداد میں صہیونی بھی کہہ رہے ہیں کہ ہیکل سلیمانی جھوٹ ، ہولو کاسٹ جھوٹ اور ارض میعاد جھوٹ ہے۔ جو ان سے بولا گیا وہ سب جھوٹ تھا۔

سوال :  اسرائیل ساری دنیا کےلئے ناقابل شکست طاقت بن چکا ہے۔ آپ لوگ 40 سال سے صرف مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں ۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی : اسرائیل اس وقت تک طاقتور تھا جب خطے میں مقاومت نہیں تھی. نیل سے فرات تک کی بات کرنے والا اب مقاومت کے حملوں سے بچنے کے لئے مقبوضہ فلسطین میں ہی اپنے گرد دیواریں کھڑی کر رہا ہے. فلسطینی عوام کے پتھروں اور غباروں سے خوفزدہ ہے. اب فلسطینی مقاومت کے دفاعی میزائل  تل ابیب پر گرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بمباری اور آگ برسانے والا اسرائیل بیچارا نظر آ رہا ہے۔ لبنان میں اسے دوبار بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا.  25 مئی 2000 کو راتوں رات جنوبی لبنان میں اپنے مورچے خالی کر کے، ایجنٹوں کو تنہا اور یتیم کر کے دم دبا کر بھاگ نکلاتھا.  پھر دو فوجیوں کی خاطر جولائی 2006 میں بڑی بڑھکیں مار کر جنگ مسلط کرتا ہے. اسرائیل اور اس کی پشت پر کھڑی دنیا بھر کی سپر پاورز اور خطے کے خائن پارٹنرز سب ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں لیکن 33 روزہ جنگ میں ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے جن کا وہ اعلان کر چکے ہوتے ہیں.   جس کا دعویٰ کیا تھا نہ تو  وہ فوجی چھڑوا  سکے اور نہ جنوبی لبنان کی زمین پر قبضہ کر کے اپنے لئے امن کی پٹی بنا سکے۔ نہ حزب اللہ کی قیادت کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس تنظیم کو ختم کر سکے کہ جس کے خاتمہ کا اعلان کر چکے تھے. ذلیل ہو کر جنگ بندی کی طرف آتے ہیں.  اور عرب ومسلمان نہیں بلکہ صہیونی ریاست اپنی شکست تسلیم کر لیتی ہے. پتہ نہیں آپ کس بہادر فوج کی بات کر رہے ہیں.  اب انکا یہ دعوی کہ  ہماری فوج نہ شکست کھانے والی فوج ہے مقاومت کی وجہ سے غلط ثابت ہوچکا ہے. فلسطینی عوام کی آواز تو سنیں وہ کسی اور کی خاطر نہیں اپنی عزت وشرف وناموس اور زمین کی خاطر مقاومت کر ر ہے ہیں۔ بھیا   یہودی اس وقت نفسیاتی طور پر بہت بری پوزیشن میں ہیں آپ خواہ مخواہ خوش فہمی میں نہ رہیں.

صحافی:  اچھی بات ہے ہر کسی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی : آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ عرب ومسلمان سائنسدان اسی صہیونی ریاست نے قتل کئے ہیں اور ان صہیونی انٹیلی جینس کے ہاتھوں مرنے والے مصری ، سیرین ، عراقی وایرانی اور دیگر اقوام کی سائنسدانوں کی تفصیلات گوگل پر مل سکتی ہیں.  بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی اور اپنی پشت پناہ سپرپاورز کی بدولت بدمعاشی کرنے والی ریاست کا نام اسرائیل ہے جس نے عراق وشام کےسائنسی تحقیقات کے مراکز  اور ایٹمی پروگرام تباہ کئے اور بین الاقوامی سرحدوں کو روندا. سوڈان پر حملہ کیا.  پاکستانی ایٹمی پروگرام کے خلاف دسیوں بار دھمکی دے چکا ہے لیکن پاک فوج کی طاقت اور پاکستانی عوام کے جذبے سے خوفزدہ ہے. اگر ہماری بہادر فوج کا ڈر نہ ہوتا اور انھوں نے 1967 و1973 میں پاکستان کے شیروں کی شجاعت نہ دیکھی ہوتی کہ جب پاکستان کے پائلٹس نے ایک منٹ میں دو صہیونی طیارے مار گرائے تھے. تو وہ یہ حماقت کب کی کر چکے ہوتے۔

ڈاکٹرشفقت شیرازی صاحب بہت اچھی اور مفید بات چیت ہوئی آپ نے تاریخی حقائق اور موجودہ صورتحال پر مفصل روشنی ڈالی۔ اور بہت سے شبھات کے مدلل جواب دیکر حقیقت حال کو واضح کیا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

وحدت نیوز(ڈی جی خان) مجلس وحدت مسلمین ضلع ڈی جی خان کی ضلعی کابینہ کا اجلاس مسجد جوہرشاہ میں منعقد ہوا ہے جس میں چیئرمین ADMC و مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل برادر ناصر عباس شیرازی و صوبائی سیکرٹری جنرل جنوبی پنجاب علامہ اقتدار حسین نقوی نے شرکت کی اجلاس میں ڈاکٹر رحمت کھوسہ زوار جہانزیب برادر کاظم رضا تیمور و ISO ضلع ڈی جی خان کے جوان بھی شریک تھے۔

اجلاس میں تنظیمی کی کارکردگی اور فلاحی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، بعد ازاں ناصر شیرازی نے وفد کے ہمراہ شہدائے امام بارگاہ جوہر علی شاہ کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ 130 خاندانوں میں راشن بیگز کی تقسیم کے سلسلے کا بھی جائزہ لیا۔

وحدت نیوز(کراچی)مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے فلاحی شعبے المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کی جانب سے رمضان راشن پروجیکٹ 2020 کے سلسلے میں 500 ضرورت مند خاندانوں کیلئے راشن بیگز کی تیاری کا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہےجبکہ ضلع ملیر کے مختلف دہی وشہری علاقوں میں بلاتفریق رنگ ونسل مذہب ومسلک راشن تقسیم کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔

اس موقع پر ضلعی سیکریٹری جنرل سید احسن عباس رضوی اور ضلعی سیکریٹری فلاح وبہبود ممتاز مہدی نے کہا کہ گزشتہ دوماہ میں 1000 ہزار خاندانوں میں راشن، 2000ہزار سے زائد افراد میں کھانے ، 100 سے زائد پرسنل پروٹیکشن کٹس ،سینکڑوں گھرانوں میں سبزی بیگز اور 1000سے زائد افراد میں افطار پیکس تقسیم کیئے جاچکے ہیں ۔

ایم ڈبلیوایم ضلع ملیر کے رہنماؤں نے گزشتہ دو ماہ سے لاک ڈاؤ ن سےمتاثرہ شہریوں کی خدمات میں مصروف رضاکاروں اور مخیر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات کی توفیقات میں خدا اضافہ فرمائے اور انہیں آئندہ بھی ایسے ہی خدمت انسانیت کے سفر میں ہمارا ساتھ دینے کی توفیق عنایت فرمائے ۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے فلاحی شعبے المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل نے کورونا وائرس کی عالمی وباسے بچاؤ کیلئے امدادی سرگرمیوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیاہے۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل جناب احسن عباس رضوی صاحب اور ضلع ملیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید شعیب رضوی نے وفد کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ جعفرطیار میں غازی عباس ٹرسٹ انتظامیہ مرکزی مسجد مرکزی امام بارگاہ جعفر طیار کے مینیجنگ ٹرسٹی سید مرتضی عابدی اور ٹرسٹ کے دیگر اراکین جناب ظفر احسن نقوی، جناب اختیار امام رضوی صاحب، جناب ثمر عباس رضوی صاحب، جناب کاشف رضا رضوی صاحب اور جناب صادق حسین نقوی صاحب سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم جعفرطیار یونٹ کے سیکریٹری جنرل محمد علی زیدی اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید کاظم نقوی بھی موجود تھے۔

مجلس وحدت مسلمین کے فلاحی شعبے المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل ضلع ملیر کی جانب سے کرونا کی وبا کی وجہ سے میت کو نہلانے کے لئےغسال کی حفاظت کے لیے بہترین قسم کے پانچ حفاظتی سوٹ غازی عباس ٹرسٹ کے حوالے کیے اراکینِ غازی عباس ٹرسٹ نےمجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کاتہہ دل سے شکر یہ ادا کیا اور ادارے کی توفیقات خیر میں اضافے کی دعا بھی کی۔واضح رہے کہ اس سے قبل پہلے مرحلے میں بھی اے ڈی ایم سی ضلع ملیر نے درجنوں طبی مراکز اور اداروں میں یہ حفاظتی لباس تقسیم کیا تھا ۔

وحدت نیوز(چنیوٹ) مجلس وحدت مسلمین ضلع چنیوٹ کے فلاحی شعبے المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کی طرف سے کرونا وائرس سے بچاو ٔکے لئے جگہ جگہ سپرےکا آغازکر دیا گیا۔چنیوٹ شہر کی مختلف جگہوں سبزی منڈی ،رجوعہ چوک، جھنگ روڈ سرگودھا روڈ اور فیصل آباد روڈ پر کرونا سے بچاؤ کے لئے سپرا کیا گیا۔ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان نے مختلف دوکانوں کے سامنے سپرے کرنے کے ساتھ لوگوں کو کرونا سے بچاو ٔکے لئے آگاہی بھی د ی۔

بھوانہ اور تحصیل لالیاں کے علاقوں میں بھی کرونا وائرس دے متعلق جلد سپرا اور آگاہی مہم شروع کی جائے کی ایم ڈبلو ایم کے کارکنان کی طرف سے ضلع چنیوٹ کے مختلف علاقوں میں اس سے پہلے 900 افراد میں راشن بھی تقسیم کیا جا چکا ہئےچنیوٹ میں کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے جہاں حکومت متحرک نظر آ رہی ہے وہاں ایم ڈیلو ایم کے کارکنان بھی اس خدمت میں پیش نظر آ رہے ہیںکارکنان کا کہنا تھا کہ جب تک ضلع چنیوٹ سے کرونا کو شکست نہ دے لیں تب تک عوام میں آگاہی کرتے رہیں گے۔

وحدت نیوز (فیصل آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل علامہ سید ذاکر حسین نقوی نے کہا ہے کہ فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالم اسلام کی خاموشی امت مسلمہ کی بے حسی پر دلالت کرتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت ہمارے منشور کا حصہ ہی نہیں بلکہ شرعی فریضہ بھی ہے۔ اگر مسلمان حکمران اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے تو آج دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں غیر مسلم حکومتوں کے مظالم کا شکار نہ ہوتے۔

کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالم اسلام کی خاموشی امت مسلمہ کی بے حسی پر دلالت کرتی ہے۔ ہر باشعور مسلمان یوم القدس کے موقع پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرے۔ صدر ٹرمپ اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ڈیل آف سنچری کے نام پر مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں کے حوالے کرنے کا مصمم ارادہ کرچکے ہیں۔ صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کو علاقہ بدر جبکہ ہزاروں افراد کو قیدی بنا کر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہی سارے مظالم کشمیر میں بھی اسی انداز سے دوہرائے جا رہے ہیں۔ عالمی استکباری قوتیں طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں سے ان کے وطن کو چھیننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں آواز بلند کرنا ایک مذہبی، قانونی اور اخلاقی تقاضہ ہے، جو ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔

کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کی تجدید ہے۔ یوم القدس پر ہمارا احتجاج ان استعماری قوتوں سے بیزاری کا دو ٹوک اعلان ہے، جو مسلمانوں کی سرزمین اور وہاں کے باسیوں کے مستقبل کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ فلسطین میں بسنے والے مقامی افراد چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے، دنیا بھر کے مسلمان حکمران اگر اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو اسرائیلی کا اپنی بقا کی جنگ میں شکست سے دوچار ہونا یقینی ہے۔ اسرائیل کا ناپاک وجود پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی امن کے لیے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا نہایت ضروری ہے، ملت اسلامیہ مظلومین کشمیر و فلسطین کو کبھی فراموش نہیں کرے۔

Page 3 of 1040

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree