The Latest

وحدت نیوز(کراچی) گستاخ مکتب اہلبیت عامر لیاقت کو فی الفور گرفتار کیا جائے ،نام نہاد اسکالرعامر لیاقت نے توھین آمیز اور غلیظ زبان استعمال کرکے کروڑوں پیروان ِ مکتب تشیع کا دل دکھایا ہے جسکی پر بھر پور مزمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور ریاستی ادارے اوراعلیٰ عدلیہ اس نفسیاتی مریض کو لگام دیں، مزہبی منافرت پھیلانے والوں کےقومی اسمبلی کا ممبر رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، شیعہ مسلمانوں میں اسوقت بہت غم وغصے کی کیفیت ہے، گستاخ عامر لیاقت کے خلاف بہت شیعیان حیدر کرارؑکے مذہبی جذبات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کیساتھ نظام ولایت کے مقابلے میں چلنجز کا باقاعدہ آغاز ہوا، زر ،زور،تبذیر کے پیروکاروں نے معنویت،میرٹ اور عدل کے مقابلے میں اپنے شیطانی ہتھکنڈوں کے ذریعے سازشوں کا آغاز کیا اور طرح طرح کے پروپیگنڈوں کے ذریعے نظام ولایت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ان سازشوں کے مقابلے میں راھیان ولایت نے مقاومت کے ذریعے نظام ولایت کی حفاظت کی۔

مدافعان ولایت یا دوسرے لفظوں میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا پہلا سچا اور عملی شیعہ مخدومہ کونین حضرت زہرا اطہر سلام اللہ علیھا ہے جس نے تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود حق کا ساتھ دیا، حق کہا،حق پر عمل کیا، امام حق کا ہمیشہ دامن تھاما،اور راہ امامت و ولایت میں مقاومت ہی کے نتیجے میں شہادت کی موت نصیب ہوئی۔

ہم ذیل میں فہرست وار مکتب فاطمی کی 14 بنیادی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔


مکتب فاطمی کی 14بنیادی خصوصیات:
1: حق کی شناخت کے بعد شہادت تک ساتھ دینا۔
2: اپنی جان،مال اور عزت کے ذریعے ولی خدا کی حمایت کرنا۔
3:ظالموں کے مقابلے میں احتجاج۔
4: درباروں میں جاکر ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
5: دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہونا۔
6: حق کی شناخت کے بعد عددی قلت کو بہانہ نہ بنانا۔
بی بی دوعالم نے حسنین کریمیں کو لیکر ایک ایک صحابی کے گھر جاکر ولایت کا پیغام پہنچایا۔
7:دشمن شناسی۔
دشمنوں سے کھل کر دشمنی کرنا۔
8: سوء استفادہ کا موقع نہ دینے۔
9: جنازہ اور قبر مطہر کے ذریعے مظلومیت کا دائمی پیغام۔
10: پروپیگنڈوں کے مقابلے میں روشنگری اور بصیرت کےلئے خطبے دینا۔
11: عزاداری اور بکاء کے ذریعے احتجاج
12:قبور انبیاء اور شھداء کی زیارت۔
13:زخمی حالت میں بھی ولی خدا کا دفاع۔
14: کربلا کی عملی تیاری


از قلم :
شیخ محمدجان حیدری

وحدت نیوز (لاہور) پنجتن پاک (حضرت محمد صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت امام علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام) کے شہادت اور ولادت کے دنوں میں عام تعطیل کئے جانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع،قرارداد رکن پنجاب اسمبلی و مرکزی سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین سیدہ زہرا نقوی نے جمع کروائی ۔

قرارداد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے تاکہ اس خطے میں رہنے والے شعائر اسلامی کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں ۔حکومت ملکِ خداداد پاکستان میں رہنے والوں کو اسلامی طرز عمل اپنانے اور غیر اسلامی طریقہ زندگی کو رد کرنے کے لئے آمادہ کرے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں پنجتن پاک (علیھم السلام)کی زندگی کو اپنا نصب العین اور کردار و افکار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا۔پنجتن پاک (علیھم السلام)کی طرزِ زندگی کو اپنے اندر راسخ کرنا ہو گا ۔پوری امت مسلمہ اس بات پر یکجا ہے کہ پنجتن پاک (علیھم السلام)کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور اُن کے نقشِ قدم پر چل کر ہی ہم دنیا و آخرت میں فلاح پا سکتے ہیں ۔

زہرا نقوی نے کہا کہ پنجتن پاک (علیھم السلام)کے کردار و افکار کو معاشرے میں عام کرنے کے لئے اُن کے ایام شہادت اور ولادت کو حکومتی سطح پر منایا جائے۔پنجتن پاک (علیھم السلام)کی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے۔پنجتن پاک (علیھم السلام)کے شہادت اور ولادت کے دنوں میں عام تعطیل کی جائے ۔پنجتن پاک (علیھم السلام)کی زندگیاں نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ ہے ۔جن قوموں نے ان کی زندگیوں کو پڑھا ہے وہ ان کی طرف مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں ۔

وحدت نیوز(ڈیرہ اسماعیل خان) ضلعی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین علامہ غضنفر علی نقوی کی زیر صدارت مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی شوری کا اجلاس کوٹلی امام حسین ع میں منعقد ہوا جسمیں صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ وحید عباس کاظمی اور مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی برادر جناب آصف عباس ایڈوکیٹ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسد عباس زیدی نے خصوصی شرکت کی ۔

اجلاس میں ضلع بھر سے یونٹس کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ضلعی سیکرٹری جنرل نے کارکردگی رپورٹ پیش کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے علاقہ میں آپ ہمارے نمائندے ہیں۔

 آصف رضاایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کا منشور بیان کرتے ہوئے توسیع تنظیم پر زور دیا اور کہا کہ وحدت محبت اور امن ہمارا ہدف ہے مسلکی پاکستان نہیں بلکہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہمارا ہدف ہے ۔

ضلعی شوری کے اجلاس میں شرکاء سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ وحید کاظمی نے کوٹلی امام حسین ع کے حوالے سے فرمایا کہ کوٹلی امام حسین ع وقف امام عالی مقام ہے انکا مزید کہنا تھا کہ 2013 سے قبل جو انتقال تھا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اس کو بحال کرے موجودہ جعلی انتقال سے وقف کوٹلی امام حسین ع کسی حکومت کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہیں یہ خالصتا شیعہ وقف ہے لہذا حکومت اس وقف کی سنگینی کو سمجھے ۔

علامہ سید وحید عباس کاظمی کا مزید کہنا تھا کہ کوٹلی امام حسین ع میں یادگار شہداء جسکی تعمیر سالوں پرانی ہے،ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جسے گرا دیا گیا تھا ڈیرہ ایڈمنسٹریشن اسے از خود تعمیر کرے ،ضلعی شوری کے اجلاس کے آخر میں صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ وحید عباس کاظمی نے ملک میں امن اور ترقی کے لئے دعا کرائی۔

وحدت نیوز(کراچی)مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے زیر اہتمام سیکریٹری جنرل عالمی ادارہ تقریب مذاہب اسلامی ایران آیت اللہ ڈاکٹر حمید شہریاری دام ظلہ اور رفقاء ،آقای محسن مسچی معاون دبیر کل مجمع جھانی تقریب مذاھب اسلامی ،آقای مرتضی بیات مدیر عامل خبر گزاری تقریب ،آقای اسماعیل نوری مدیر کل بین الملل،دکتر کامران پزشکی سرپرست خانہ فرھنگ جمھوری اسلامی ایران کراچی کے اعزاز میں استقبالیہ اور اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد مسجد وامام بارگاہ مدینتہ العلم گلشن اقبال کراچی میں کیا گیا۔

تقریب میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمداقبال رضوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، بعد ازاں آیت اللہ ڈاکٹر حمید شہریاری دام ظلہ نے خصوصی خطاب فرمایاجبکہ ہیئت آئمہ مساجد وعلمائے امامیہ کراچی کے جنرل سیکریٹری علامہ سید صادق رضا تقوی نے مترجم اور مبشر حسن نے نظامت کے فرائض انجام دیئے،جبکہ اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو،نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عقیل انجم قادری ،بزرگ عالم دین علامہ مرزایوسف حسین، بزرگ عالم دین استاد العلماءعلامہ شیخ محمد سلیم ، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما شیخ اعجاز حسین بہشتی،ڈویژنل سیکریٹری  جنرل علامہ صادق جعفری ، رکن مرکزی روئیت ہلال کمیٹی علامہ علی کرارنقوی، آئمہ جمعہ والجماعت ، علمائے کرام، جعفریہ الائنس کے جنرل سیکریٹری شبر رضا، رضی حیدر رضوی، مرکزی تنظیم عزا کے صدر آصف اعجاز ودیگر معزز شخصیات بڑی تعداد میں شریک تھیں۔ آخر میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے روح رواں ڈاکٹر صابر ابومریم نے معزز مہمانان گرامی کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجمع تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ ڈاکٹر حمید شہریاری نے کہا ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مسلمانوں کے اتحاد کی طرف بڑھ رہا ہے اور سنی اور شیعہ سب ہی نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا ہے، شیعوں اور سنیوں کے اتحاد میں دنیائے تشیع کے عظیم انسانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام کو آگے بڑھانے کے لئے تمام مسلمانوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کی جانب سے کراچی کی مسجد و امام بارگاہ مدینتہ العلم میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو،نے بھی خطاب کیا،جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عقیل انجم قادری ،جماعت اسلامی کے رہنما مسلم پرویز،بزرگ عالم دین علامہ مرزایوسف حسین، بزرگ عالم دین استاد العلماءعلامہ شیخ محمد سلیم ، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما شیخ اعجاز حسین بہشتی،ڈویژنل سیکریٹری  جنرل علامہ صادق جعفری ، رکن مرکزی روئیت ہلال کمیٹی علامہ علی کرارنقوی، آئمہ جمعہ والجماعت ، علمائے کرام، جعفریہ الائنس کے جنرل سیکریٹری شبر رضا، رضی حیدر رضوی، مرکزی تنظیم عزا کے صدر آصف اعجاز ودیگر معزز شخصیات بڑی تعداد میں شریک تھیں۔کانفرنس میں مترجم کے فرائض علامہ صادق رضا تقوی اور نظامت کے فرائض مبشر حسن نے انجام دیئے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر حمید شہریاری کا کہنا تھا کہ شیعوں اور سنیوں کا اتحاد اسٹریٹجک ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد قرآن اور پیغمبر اکرم (ص) کا حکم ہے۔اسلامی مذاہب کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر قتل و غارت، تکفیر، سڑکوں پر احتجاج، جھگڑا اور توہین نہ ہو تو ہم پرامن زندگی گزار سکتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید شہریاری نے اشارہ کیا کہ جہالت سے بچنا اور علم میں اضافہ سلامتی، دولت، سیاسی طاقت کے ساتھ اتحاد کا باعث بنتا ہے اور ہمارے مشترکہ مفادات حاصل ہوتے ہیں، انسانوں کو نقصان نہ پہنچانا اور ان کے ساتھ تعاون کرنا عقلیت کی علامت ہے۔ امام علی علیہ السلام کو مسلمانوں میں سب سے زیادہ عقلمند شخص بتاتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد آپ کی عقلیت کا تقاضا تھا کہ وہ اسلام کی وحدت اور پیشرفت کے لئے خاموش رہیں۔

 انہوں نے تاریخ اسلام کے نکات اور جنگ جمل میں امیر المومنین (ع) کے طرز عمل اور جنگ کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ محترمہ کی تعظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نکتہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاہب کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ ڈاکٹر شہریاری نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شیعہ فکر میں کوئی توہین نہیں ہے اور سنی بھائیوں کی حرمت کو محفوظ رکھا جانا چاہیئے، شیعوں کو امام علی علیہ السلام کی سیرت کا نمونہ ہونا چاہیئے۔

علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اسلامی انقلاب نے ہمیں اور اسلام کو زندہ کیا اور شہید سلیمانی اور دیگر شہداء کی یاد کو عزت بخشی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی اور مذہبی جماعت ہے جو پاکستان میں عدم تحفظ کے دور میں قائم ہوئی تھی، پاکستان کے شیعہ اور سنی متحد ہیں، لیکن دشمن ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے وہ تفرقہ انگیز ہیں۔

 علامہ احمد اقبال رضوی نے پاکستان کی ملی یکجہتی کونسل اور جماعت اسلامی کے نائب صدر اسد اللہ بھٹو کی موجودگی کی تعریف کی اور پاکستان میں اتحاد کی تشکیل پر اس کے اثرات کی وضاحت کی۔ انہوں نے شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد کے لئے مسلم اتحاد اسمبلی کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ ہر وہ شخص جو علی (ع) کی ولایت کو قبول کرتا ہے وہ ہم میں سے ہے اور ہم نے شیعوں کے اتحاد کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔

وحدت نیوز (علی پور) مجلس وحدت مسلمین ضلع علی پور کی پولیٹیکل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خصوصی طور پر ایم ڈبلیوایم جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹری سیاسیات انجینیئر سخاوت علی سیال نے شرکت کی۔ جبکہ اس موقع پر ضلعی سیکرٹری جنرل سید رضوان حیدر کاظمی، ضلعی سیکرٹری سیاسیات سید شاکر کاظمی اراکین پولیٹیکل کونسل سید اعجاز زیدی، اظہر نقوی اور تصور عباس موجود تھے۔ اجلاس میں ضلع کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلدیاتی الیکشن میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔

 اجلاس میں ضلع کی مختلف نیبرہڈ کونسل اور ویلج کونسل میں یونٹ سازی پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں سیاسی حوالے سے مختلف کمیٹیاں اور ان کے کوارڈینیٹر کا تعین کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سیاسیات انجینیئر سخاوت علی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے ہمیشہ مظلوموں اور محروموں کی آواز بلند کی ہے، اور وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے امین ہیں۔

وحدت نیوز(نواب شاہ )نوابشاھ کے گوٹھ اللہ رکھیو کانھیو کی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صالحین سے روئے زمین کی حاکمیت کا جو وعدہ کیا ہے وہ یقینی ہے اور ہمیں خدا کے وعدوں پر یقین ہے۔ دنیا بھر میں مستکبرین کی ذلت ورسوائی کے ساتھ شکست کے بعد مستضعفین عالم کی رہبری کے دور کا آغاز ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام عراق افغانستان کے بعد دنیا بھر میں شیطان بزرگ امریکہ کی شکست کے بعد اب کوئی اسے سپر پاور ماننے کے لئے تیار نہیں۔ مشرق وسطی کے ہر محاذ پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یکے بعد دیگرے شکست کے بعد اب انقلابی افکار کی حامل اسلامی تحریکیں اور مقاومتی بلاک ایک قوت بن کر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حق و باطل کا معرکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہو رہا ہے اور صف بندی جاری ہے ہم حق و باطل کے اس معرکے میں بے طرف اور تماشائی نہیں بلکہ ہم حق اور اھل حق کے ساتھ ہیں۔ ہم باطل اور اھل باطل کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ منتظرین امام مہدی علیہ السلام کو با بصیرت ہونا چاہیے اور وہ حق و باطل کے معرکے پر گہری نگاہ رکھیں۔ زمانے کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والا دھوکہ نہیں کھاتا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ تعلیم کی جانب سے اسلام آباد میں ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادکیا گیا ۔ورکشاپ میں ملک بھر سے ایم ڈبلیوایم کے صوبائی سیکریٹری تعلیم صاحبان سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ نے شرکت کی، ورکشاپ میں ملک کے نامور لیکچراراور پروفیسرز نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ آخر میں شرکاء میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیم اور سینئرٹرینر وایجوکیشنل اسپیشلسٹ برادر نثار علی فیضی نے ورکشاپ کے شرکاء سے ٹیم بلڈنگ سکلزاور ہائی لیول تھنکنگ ٹیکنیکس کے موضوع پر سےسیشن سے خطاب کیا۔ڈاکٹر ساجد سبحانی نے آئیڈیل ایجوکیشن سسٹم کے لوازمات اور اس کی خصوصیات پر ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ ، مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری اسدعباس نقوی ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری ایمپلائز ونگ ملک اقرار نے اساتذہ کو بطورایمپلائی درپیش مسائل اور نیٹ ورکنگ کے موضوع پرجبکہ مرکزی رہنما و رکن شوریٰ عالی علامہ اقبال حسین بہشتی نے تحصیل علم اور انسان کے کمال کا سفر کے موضوع پرشرکاءسے خطاب کیا۔

ورکشاپ میں معروف ایجوکیشنسٹ ڈاکٹر سید امتیاز رضوی نے دینی و دنیاوی تعلیم میں فرق اور معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں سےمتعلق سیر حاصل گفتگو کی ،اے لیو ل ٹیچر و سینئرٹرینر سر خضر عباس نے ’’ایک بہترین استادکی خصوصیات ‘‘ پرشرکاء ورکشاپ کو انٹریکٹو سیشن دیا۔

راولپنڈی /اسلام آباد کے ایجوکیشنل اسپیشلسٹ سر مزمل بزدار نے Lessonپلاننگ کے موضوع پر ورکشاپ کے شرکاء کو بریف کیا۔موٹیویشنل اسپیکر سر زین حسن نے ورکشاپ کے شرکاء سے بچوں کے کلاس روم میں برتائو کے مسائل پرٹریننگ دی۔الف ب پ کے سربراہ برادر ثقلین نے یکساںنصاب تعلیم کو درپیش چیلنجز پر شرکاء کو بریفنگ دی۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) لفظ جارحیت کی تعریف کرتے ہوئے مفکرین اور ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا عمل جو کسی کے خلاف اس طرح انجام دیا جائے کہ تشدد، ظلم، جبر اور اس سے ملتی جلتی اصطلاحات مطابقت رکھتی ہوں جارحیت کہلاتا ہے۔علم سیاسیات میں جارحیت جنگوں کے زمانہ میں نظر آتی ہے، اسی طرح علاقائی مسائل میں بھی جارحیت کا عنصر ایک ریاست کا دوسری ریاست کے خلاف نظرا ٓتا ہے، جنگی جرائم کی اصطلاح بھی جارحیت کے نتیجہ میں جنم لیتی ہے، انسانیت سوز مظالم اور جبر بھی جارحیت کے نتیجہ میں جنم لیتا ہے۔غرض اس طرح کی درجنوں مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں جو جارحیت کے واضح مطالب کو آشکار کرتی ہیں اور کسی ذی شعور کو یہ سمجھنے میں دقت پیش نہیں رہتی کہ آخر جارحیت کیا ہے۔

پاکستان ایک ایسی مملکت خداداد ہے کہ جس کے بانیان نے قیام پاکستان سے قبل ہی اس ریاست کے لئے کچھ اصول اور نظریات سمیت فکری بنیادوں کو استور کیا تھا جس کی بنیاد پر قیام پاکستان سے قبل خارجہ امور میں اور قیام پاکستان کے بعد باقاعدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے عنوان سے بنیادی اصول مرتب کئے گئے جس میں دیگر ریاستوں کی طرح بنیاد ترین اصول قومی سلامتی کو رکھا گیا۔لیکن ساتھ ساتھ دیگر اصولوں میں ایک اہم ترین اور بنیادی اصول جارحیت کی مذمت اور جارحیت کے خلاف بھی رکھا گیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے کہ جو کسی بھی قسم کی جارحیت کی حمایت نہیں کرتا ہے۔

ایک ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ بانیان پاکستان خصوصا قائد اعظم محمد علی جناح نے اس زمانے میں فلسطین اور کشمیر کے ساتھ ہونے والی جارحیت کے تناظر میں ہی اس اہم ترین اصول کو ریاست کی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر قرار دیا ہوگا۔ یقینا ایسا ہی ہوگا کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی پوری زندگی میں ہمیں مظلوموں کی حمایت کا ہی درس ملتا ہے۔کئی ایک مواقع پر آپ نے فلسطین کے حق میں عملی جدوجہد کرتے ہوئے بر صغیر کے مسلمانوں کو واضح راہ کی طرف گامزن کیا۔

قیام پاکستان کے بعد سے ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی انہی بنیادی اصولوں پر قائم رہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ بابائے قوم کی سیرت پر عمل پیرا رہتے ہوئے دنیا میں ہونے والی ہر قسم کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے اور بین الاقوامی فورمز پر بھی ایسی تمام جارحیتوں کی سخت سرکوبی کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان کا فلسطین کے ساتھ اسلامی و انسانی رشتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فکری رشتہ یہ اصول ہے جسے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے مرتب کیا ہے۔لہذا پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت اس لئے کی ہے کیونکہ اسرائیل فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست ہے یعنی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اسی اصول کے تحت یہ بات واضح ہوئی ہے کہ پاکستان اسرائیل کے فلسطین پر قیام کو غاصبانہ تسلط تصور کرتا ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔کیونکہ اسرائیل جارحیت کے زمرے میں آتا ہے اور گذشتہ ستر سال سے زائد عرصے سے فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کر رہا ہے یعنی جارحیت کا مرتکب ہے۔

اسی طرح ایک او ر اہم ترین مسئلہ کشمیر کا ہے کہ جہاں بھارت کی جارحیت جاری ہے۔ بھارت کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے۔کسی علاقہ پر قبضہ جمانا اور اپنی فوجی قوت اتار کر وہاں کی مقامی آبادی کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانا بھی جارحیت ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ک بنیادی اصول کے تحت پاکستان کشمیر کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کشمیر کی آزادی کو کشمیری عوام کا بنیادی حق تصور کرتے ہوئے کشمیر میں بھار ت کی افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کو جارحیت اور ناجائز قبضہ تصور کرتے ہوئے اس فعل کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتا ہے۔جی ہاں جس طرح اسرائیل کا فلسطین پر قائم کیا جانے والا وجود ناجائز اور غاصبانہ تسلط ہے اسی طرح کشمیر پر بھارت کا قبضہ بھی ناجائز اور جارحانہ ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انہی بنیادی اصولوں کے تحت پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے معاملہ پر کشمیر ی عوام کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور کر رہاہے۔تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستا ن نے کشمیری عوام کی مظلومیت کو اجاگر کرتے ہوئے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی فکر کی ترجمانی کی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے کہ جس نے دنیا میں جہاں کہیں بھی جارحیت ہو اس کی سخت مذمت کی ہے۔افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے،عراق کے معاملہ میں بھی پاکستا ن نے امریکی جارحیت کی مذمت کی تھی، اسی طرح روہنگیا کے مسلمانوں کے معاملہ میں بھی پاکستان نے مضبوط موقف اختیار کیاتھا۔جب یمن پر سعودی عرب اور امریکی اتحادیوں کی جانب سے جنگ مسلط کی جا رہی تھی اور اس جنگ میں پاکستانی فوجیوں کی شمولیت کا مطالبہ کیا گیا تو اس وقت بھی پاکستان اس جنگ کا حصہ نہیں بنا تھا جس کی بنیاد وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہی بنیادی اصول تھا جو پاکستان کو سیاسی و اخلاقی طور پر پابند کرتا ہے اور دنیا کی جارح حکومتوں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیتا۔

اب جب کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنے ان بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ممتاز ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ دفتر خارجہ اکثر وبیشتر یمن کی دفاعی فورسز کے خلاف بیان جاری کرتا ہے؟ اس عنوان سے اگر ماہرین خارجہ امو ر سے با ت کریں تو وہ کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کبھی مستقل نہیں ہوتی اور شاید ایسی ہی ملتی جلتی بات ہمارے موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کسی موقع پر کہہ چکے ہیں۔ علم سیاسیات کا ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے یہ بات تسلیم ہے کہ قومی سلامتی کی خاطر خارجہ پالسیی میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن یہ بات تسلیم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہی چھوڑ دے۔ایسا کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ بانیان پاکستان بالخصوص بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریہ پاکستان سے رو گردانی کر لی گئی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصہ میں جب سے یمن پر سعودی عرب اور مغربی ممالک کے مشترکہ اتحاد کی جانب سے جنگ مسلط کی گئی ہے دفتر خارجہ نے کبھی بھی یمن میں قتل کئے جانے والے بے گناہ ہزاروں انسانوں کے قاتلوں کی مذمت نہیں کی، مذمت تو دور کی بات ہے کبھی بے گناہ قتل ہونے والوں کے لئے ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کیا۔گذشتہ پانچ برس سے یمن پر ایک طرف جنگ مسلط ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ افراد لقمہ اجل بنا دئیے گئے۔ اس ظلم اور جبر کے مقابلہ میں اگر یمن کے پا برہنہ عوام اپنی ناموس اور جان کی حفاظت کے لئے دفاعی کاروائیوں کو انجام دیتے ہیں تو مغربی ممالک کی جانب سے ایسی کوئی مذمت سامنے نہیں آتی بلکہ بد قسمتی سے پاکستان سب سے پہلے یمن کے نہتے عوام کو ایک طرف باغی قرار دیتا ہے اور دوسری طرف ان کی دفاعی کاروائیوں کی مذمت بھی کرتا ہے۔حالانکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول جارحیت کے خلاف مبنی ہے لیکن دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات ہزاروں یمنی عوام کے قتل جو کہ جارحیت کے نتیجہ میں انجام پائے ہیں اس پر خاموش ہے اور اگر یمن کے لوگ اپنا دفاع کریں تو ان کے خلاف بیانات جاری کیا جاتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو پاکستان کو مسلم امہ میں ممتازبنے رہنے میں رکاوٹ کا باعث ہو گا۔یہ ایسا فعل ہے جو خود پاکستان کے کشمیر پر مضبوط اور مثبت موقف کو کمزور اور منفی کر دے گا۔

بہر حال پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی میں جارحیت اور قبضوں کے خلاف بنیادی اصول مرتب ہے اور اسی بنیاد پر ہر پاکستانی کو اپنے پاکستانی ہونے پر بھی فخر حاصل ہے کہ دنیا کی مظلوم اور کمزور اقوام کے لئے پاکستان ایک آواز اٹھا سکتا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے دفتر خارجہ کی مجبوریوں یا کسی اور وجہ سے جو کچھ یمن کے معاملہ پر خارجہ پالیسی میں سامنے آیا ہے وہ یقینا ہر پاکستانی کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ اس عنوان سے حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مرتب اصولوں اور فکر کا از سر نو پرچار کرے اور ظالم کوبرملا ظالم اور مظلوم کو مظلوم اعلان کرتے ہوئے اپنی نظریاتی بنیادوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

Page 3 of 1185

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree