وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری امور سیاسیات اسد عباس نقوی نے وفاقی دارالحکومت میں داعش کے پرچم آویزاں ہونے پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ ماہ محرم الحرام کے آغاز پر اسلام آباد کی مصروف شاہراہ پر عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے پرچم آویزاں ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، ایک جانب پورےملک میں اہل بیت ؑ سے عشق کرنے والے شیعہ سنی عوام نواسہ رسول ﷺ کی یاد منانے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب داعش جیساسفاک گروہ پاکستان میں اپنے وجود کا اظہار کررہاہےجوکہ خدا نا خواستہ کسی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، اسد عباس نقوی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے اسلام آباد اور اس کے گرد ونواح میں داعش اور اس جیسی دیگر کالعدم تنظیموں کے سلیپرسیلز کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے ، شام و عراق سمیت دیگر عرب ممالک میں داعش کی جانب سے نہتے مسلمانوں کے خلاف بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، لہذٰا وزیر داخلہ اسلام آباد میں داعشی کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیں اور مجالس اور جلوس کی بھر پور سکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےمجلس عزاسے خطاب کرتے ہوئےکہاہے کہ محرم الحرام ہمیں حسینیت کا درس دیتا ہے۔ حسینت باطل قوتوں کے سامنے دلیری سے ڈٹ جانے کا نام ہے۔چودہ سو سال بعد آج پھر یزیدیت تکفیریت کی شکل میں سر اٹھا رہی ہے۔شیعہ سنی وحدت کے ہتھیار سے دور عصر کے یزیدی ارادوں کو پسپا کیا جا سکتا ہے۔یزید محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے۔اس باطل فکر کی راہ میں وہ افراد رکاوٹ ہیں جو حق شناس ہیں۔اسلام دشمن طاقتوں کی پیروی سے انکار ہی حقیقی حسینیت ہے ۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت رکھنے والا ہر شخص نواسہ رسول ﷺ کے ایام عزا میں سوگوار ہے۔عزاداری سید الشہدا امام عالی مقام سے تجدید عہد اور مودت کے اظہار کی عملی شکل ہے۔اسلامی تعلیمات کی حقیقی معنوں میں پیروی اور رضا ئےربی پر بلا چوں چراں لبیک کہنے کا نام حسینیت ہے۔دنیاوی منفعت کو اسلامی قدروں سے مقدم رکھنا یزیدیت ہے۔ حسینی کردار دین حق کی سربلندی کے لیے ہمیشہ میدان عمل میں موجود نظر آئیں گے۔باطل قوتوں کے لیے میدان کو کبھی خالی نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ کربلا محض ایک درد ناک سانحہ نہیں بلکہ باوقار زندگی کے لیے ایک بہترین درس ہے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے گذشتہ شب 60بسوں پر مشتمل زائرین امام حسین ؑکے قافلے کے کوئٹہ واپس پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ علامہ سید ہاشم موسوی ، ڈویژنل سیکریٹری جنرل سید عباس موسوی اور دیگرکارکنان کی جانب سے زائرین پر گل پاشی کی گئی ، اس موقع پر زائرین انتہائی مسرور دکھائی دیئے اورشانداراستقبال پر ایم ڈبلیوایم رہنمائوں کا شکریہ ادا کیا۔

وحدت نیوز (نجف اشرف) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے اربعین حسینی ؑمیں شرکت کیلئے نجف تا کربلا پاپیادہ 80کلومیٹر طویل سفرکاآغاز کردیا ہے، اس سفر عشق حسین ؑمیں علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی ،مرکزی سکریٹری امور تنظیم سازی سید مہدی عابدی سمیت ایم ڈبلیوایم کے کارکنان کی بڑی تعداد اور دیگر پاکستانی زائرین شامل ہیں،دوران سفرعلامہ راجہ ناصرعباس جعفری پول نمبر گیارہ سو بیس پر قائم مجلس وحدت مسلمین شوبہ امور خارجہ کے موکب شہدائے پاکستان میں زائرین سید الشہداءؑ سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری ودیگر زائرین تین روز میں نجف تا کربلاکے درمیان کا پیدل سفر طے کرکے اٹھارہ صفر المظفر کو کربلائے معلیٰ میں داخل ہونگے اور علامہ راجہ ناصرعباس جعفری روز اربعین ہزاروں پاکستانی زائرین کے ہمراہ حرم مطہرامام حسین ؑ میں حاضری دیں گے اورپرسہ داری کریں گے۔
            

وحدت نیوز(کراچی) پیام کربلا وبیداری امت مہم کے سلسلے میں سالانہ مجلس عزا بسلسلہ شہادت حضرت سکینہ بنت الحسین ؑ  مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر اور خانوادہ عارف رضا زیدی کے زیر اہتمام مسجد وامام بارگاہ امامیہ ایف سائوتھ جعفرطیارسوسائٹی میں منعقد ہوئی جس میں حرم مطہرامام حسین ؑ،امام رضا ؑ اور بی بی معصومہ قمؑ کے گنبد کے پرچموں کی زیارت کروائی گئی،مجلس عزا میں نظامت کے فرائض سید احسن عباس رضوی نے انجام دیئے جبکہ تلاوت حدیث کساءقاری ساجدنے کی ، سوزخوانی نسیم زیدی وبرادران نے کی ، سلام احسن مہدی، محمد عارف نے پیش کیاجبکہ مجلس عزا سے خطاب ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ترجمان علامہ مختاراحمد امامی نے کیااور سکیورٹی کے فرائض وحدت اسکائوٹس نے انجام دیئے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) دانش مند کہلانا کسے پسند نہیں!؟البتہ دانش مندوں کی بھی اقسام ہیں، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن  کا کہنا ہے کہ  اگر لکھنے لکھانے  اور میڈیا سے کوئی اثر اور فائدہ ہوتا تو سارے انبیائے کرام ؑ  آکر پہلے لوگوں کوانٹر نیٹ سکھاتے،فیس بک سمجھاتے اورکمپیوٹر کی تجارت کو رواج دیتے۔

ان کے نزدیک لکھنے لکھانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں ،نفرتیں پیدا ہوتی ہیں،دوریاں جنم لیتی ہیں اور غیبت وحسد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔لہذا وہ ہمیں اکثر مسائل کا حل خاموشی اختیار کرنے ،منّت سماجت سے کام نکالنے اور حسبِ استطاعت کچھ لے دے کرمعاملہ نمٹانے میں بتاتے ہیں۔

ہمارے خیال میں ایسے دانشمندوں کے افکار و نظریات انسانوں کو بے حس کرنے والی دوائیوں کے بہترین متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہمارے ہاں کے دانشمندوں کی ایک اور قسم بھی ہے ،یہ ایسے دانشمند ہیں جو اصلاً دو جملے بھی نہیں لکھ سکتے،یا پھر خیر سے ایک جملہ بھی ٹھیک سے نہیں لکھ پاتے،البتہ اپنی  باتوں سے یہ عالمِ امکان کو زیروزبر کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔یہ اپنے آپ کو ہرفن مولا ثابت کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔آپ دنیا کا کوئی مسئلہ ان کے سامنے پیش کریں یہ اس میں اپناسنہری  تجربہ آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔

اپنے اندر کے احساسِ کمتری کو چھپانے کے لئے ان کے پاس چند رٹے رٹائے جملے بھی  ہوتے ہیں،مثلاً ہم تو تنظیمی ہیں،ہم تو انقلابی ہیں،ہم تو اتنا تجربہ رکھتے ہیں،ہم تو۔۔۔وغیرہ وغیرہ

سونے پر سہاگہ یہ کہ ایسے دانشمند فیڈبیک کے بنیادی اصولوں سے بھی آگاہ نہیں ہوتے اورانہیں کہیں پر کمنٹس دینے کا بھی پتہ نہیں ہوتا ،یہ اگر کہیں اپنے کمنٹس کے ذریعے تیر مارنا  بھی چاہیں تو  سیدھا وہاں مارتے ہیں جہاں نہیں مارنا ہوتا۔

مثلاً اگر کوئی آدمی فوری طور پر کہیں سے رپورٹنگ کرے  یا کوئی خبر نقل کرےکہ فلاں جگہ فلاں حادثے میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں تو ایسے دانشمند فوراً کمنٹس میں لکھیں گے کہ” ہلاک نہیں شہید ہوئے “اس کے بعد یہ بحث کو کھینچ کر ہلاک اور شہید میں الجھا دیں گے اور اصل مسئلہ  ان کی قیل و قال میں ہی دفن ہوجائے گا۔ایسے دانشمند ہماری ملّی توانائیوں کو خواہ مخواہ ضائع کروانے میں یہ یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہمارے ہاں اس طرح کے دانشمند بھی  بکثرت پائے جاتے ہیں جو سارے مسائل کو لغت اور اصطلاح کی روشنی میں  کُلی طور پرحل کرنا چاہتے ہیں۔مثلاًاگر کہیں پر شراب کی خرید و فروخت کا دھندہ ہورہاہو اور آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں یا کوئی میدانی تحقیق کریں  تو فوراً یہ دانشمند ناراض ہوجاتے ہیں۔ان کے نزدیک شراب فروشی اور شراب خوری کا علاج یہ ہے کہ آپ زمینی تحقیق کرنے کے بجائے  شراب پر ایک علمی مقالہ  اس طرح سے لکھیں :۔

شراب در لغت۔۔۔۔ شراب در اصطلاح۔۔۔۔شراب کا تاریخچہ۔۔۔۔ شراب کے طبّی فوائد و نقصانات ۔۔۔دینِ اسلام میں شراب کی حرمت۔۔۔۔شرابی کے لئے دنیا و آخرت کی سزائیں۔۔۔اور آخر میں حوالہ جات

آپ انہیں لاکھ سمجھائیں کہ قبلہ میڈیا میں میڈیم کے بغیر لکھا ہوا ایسے ہی ہے جیسے آپ نےکچھ لکھا ہی نہیں لیکن وہ اپنی ہی بات پر ڈٹے رہیں گے۔

معاشرے کے زمینی حقائق سے اربابِ علم و دانش کو دور رکھنا ایسے دانشمندوں کا اصلی فن ہے۔

اس کے علاوہ بھی ہمارے ہاں دانشمندوں کی ایک  بہت ہی نایاب قسم  بھی پائی جاتی ہے۔یہ تعداد میں جتنے کم ہیں معاملات کو بگاڑنے میں اتنے ہی ماہر ہیں۔یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو پہلے بڑھا چڑھا کر بہت بڑا بناتے ہیں اور پھر آخر میں اس کا حل ایک چھوٹی سی مذمت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

مثلاً اگر اسلام آباد میں کہیں  پر خود کش دھماکہ ہوجائے اور آپ علاقے کو فوکس کرکے وہاں کے سیاستدانوں،بیوروکریسی,مقامی مشکوک افراد اور دیگر متعلقہ لوگوں اور اداروں کے بارے میں زبان کھولیں  اور عوام کو شعور دینے کی بات کریں تو ہمارے ہاں کے یہ  نایاب دانشمند فوراً ناراض ہوکر میدان میں کود پڑتے ہیں۔

اس وقت ان کا بیان کچھ اس طرح سے ہوتا ہے:

خود کش دھماکے کہاں نہیں ہورہے،پاکستان ،عراق،شام ،افغانستان وغیرہ وغیرہ  ۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور ان دھماکوں میں مارے جانے والے لوگوں  کی اپنی غفلت کا بھی بہت عمل دخل ہے۔لوگ خود بھی اپنے ارد گرد کھڑی گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں اور مشکوک افراد پر نگاہ نہیں رکھتے،ہم عوام کی غفلت کی مذمّت کرتے ہیں۔

یہ پہلے چھوٹی سی بات کو گھمبیربناتے ہیں،ایک سادہ سے مسئلے کو پیچیدہ کرتے ہیں،کسی بھی مقامی ایشو کے ڈانڈے  بین الاقوامی  مسائل سے جوڑتے ہیں اور آخر میں ایک سطر کا مذمتی بیان دے کر یا لکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔

ایسے دانشمندوں کا ہنر یہ ہے کہ یہ خود بھی  کسی مسئلے کو اٹھانے کے فنّی تقاضوں سے آگاہ نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی بولنے کا موقع نہیں  دیتے۔

میں ان کی ایک مثال اور دینا چاہوں گا کہ مثلاً آپ انہیں کہیں کہ پاکستان کے فلاں علاقے میں ایک مافیا رشوت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔یعنی فلاں جگہ پر   مافیا انسانوں کا خون پی رہاہے۔

اس کے بعد ہمارے ہاں کے ” نایاب دانشمند “کچھ اس طرح سے قلمطراز ہونگے کہ دنیا میں جب تک پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوتا اس وقت تک لوگ ایک دوسرے کا خون پینے پر مجبور ہیں۔یہی صورتحال پاکستان سمیت  متعدد ترقی پذیر ممالک میں ہے ۔ دنیا میں جہاں جہاں پینے کا صاف پانی میسّر نہیں ہم وہاں کے محکمہ واٹر سپلائی کی مذمت کرتے ہیں۔

قارئینِ کرام ! اپنے ہاں پائے جانے والے دانشمندوں کے بیانات،تقاریر،کمنٹس  ،نگارشات اور تحقیقات  کا جائزہ لیں اور فیصلہ آپ خود کریں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ  ہماری سوئیاں بھی اپنی اپنی جگہ  اٹکی رہیں اور ہمارے  ملّی و قومی مسائل بھی حل ہوجائیں۔

 

 

تحریر۔۔۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree