وحدت نیوز (انٹرویو) اپنے خصوصی انٹرویو میں بلوچستان کے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آپ چار ماہ کی بات چھوڑیں، صرف چار دن دیکھ لیں، آپکو پتہ لگ جائیگا کہ ان چار دنوں میں وہ کام ہوئے ہیں، جو چار سال میں نہیں ہوسکے۔ وزیر صبح سے لیکر رات گئے تک اپنے آفسز میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر چھاپے پڑ رہے ہیں، میرے اپنے ڈیپارٹمنٹ جہاں بےضابطگیاں ہوئی ہیں، انکے خلاف ایکشن لیا ہے، چار ماہ میں وہ کام کرکے دکھائیں گے، جو یاد رکھا جائیگا۔
 
بلوچستان کے وزیر قانون آغا محمد رضا کا تعلق  کوئٹہ شہر سے ہے وہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اور شوریٰ عالی کے رکن بھی ہیں، آغا رضا نے 2013ء کے عام انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، حال ہی میں وزیراعلٰی ثناء اللہ زہری کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے میں فرنٹ لائن پر تھے، انکو پیچھے ہٹنے کیلئے کروڑوں روپے کی آفر بھی کرائی گئی، لیکن آغا رضا اپنے اسٹینڈ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اور یوں وزیراعلٰی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی، ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے  نےمجلس وحدت مسلمین سے تعلق رکھنے والے  صوبائی وزیر قانون سے تمام تر سیاسی صورتحال پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

02سوال: آپ پر ایک الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ آپ نے غیرجمہوری قوتوں کیساتھ ملکر ثناء اللہ زہری کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے، کیا کہتے ہیں۔؟
آغا محمد رضا: اگر کوئی جمہوریت پسند شخص یہ الزام لگاتا تو تب یہ سوچا جا سکتا تھا، مزے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص (نواز شریف) جو خود ضیاء الحق جیسے ملعون ترین ڈکٹیٹر کے کندھوں پر بیٹھ کر اس منصب پر پہنچا، وہ دوسروں پر الزام تراشی کر رہا ہے، میں ان الزامات کو بےسروپا باتوں سے تشبیہ دوں گا، کیونکہ ہم یہ تبدیلی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے لائے ہیں، ہم نے ایک آئین کی شق کا استعمال کیا ہے اور نیا وزیراعلٰی لائے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی غیر قانونی و غیر آئینی اقدام ہے، آپ کسی بھی سیاسی ورکر یا آئینی ماہر سے پوچھ لیں، وہ بتا دیں گے، اگر اسی آئین کے تحت الیکشن کرائے جا سکتے ہیں، حلف اٹھایا جا سکتا ہے تو وزیراعلٰی بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں غیر قانونی یا اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم قرار دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر تو آئین کی کسی شق کا استعمال کسی کو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بنانا ہے تو  پھر میں الیکشن میں حصہ لینے کو بھی اسٹیبلمشنٹ کی بی ٹیم سمجھتا ہوں۔ یہ غیر منتطقی باتیں ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ اسٹیبلمشنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر کون وزارت عظمٰی کے منصب تک پہنچا ہے۔

سوال: پھر اہم سوال یہ بنتا ہے کہ وہ کیا وجہ تھی جس نے آپ لوگوں کو مجبور کیا کہ نیا قائد ایوان لائیں۔؟
آغا محمد رضا: جی اصل وجہ یہ تھی کہ حکومت چند ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی تھی، ترقیاتی کام نہیں ہو پا رہے تھے، کرپشن اپنے عروج پر پہنچی ہوئی تھی، ظاہر ہے کہ ہم نے بھی عوام میں جانا ہے، ہم نے اپنی یونین کونسل میں جانا ہے، لوگ آکر ہمارا گریبان پکڑتے ہیں، پوچھتے ہیں کہ آپ نے ان پانچ برسوں میں کیا کیا ہے، ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، کیونکہ انہوں نے ترقیاتی فنڈز روک رکھے ہیں، اتنی آسامیاں خالی پڑی ہیں، ان کو پر نہیں کیا گیا، لوگوں کی نگاہ میں ہمیں 25 کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں، لیکن گراونڈ پر صورتحال تو کچھ اور ہے۔ صرف یہ میری پریشانی نہیں بلکہ سب کی پریشانی تھی، اسی لئے 41 ارکان نے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیا، اسی وجہ سے ہمیں کامیابی ملی ہے۔ اکتالیس ارکان کا مطلب یہ ہے کہ واضح اکثریت ہمارے ساتھ ہے اور سب کا غم ایک ہے۔ یہ تحریک حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف تھی، جو کامیاب ہوئی۔ سادہ الفاظ میں یہی کہوں گا کہ حکومت مخالف تحریک دراصل فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم، بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور لاقانونیت کے خلاف تھی۔ الحمداللہ ہم نے اس مسئلے کو اٹھایا اور ہم نے دیگر ارکان کو بھی راستہ دکھایا، جو تبدیلی کا راستہ تھا اور ہم کامیاب ہوئے ہیں، ہم نے ظلم اور ناانصافی کیخلاف اپنی آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ہر محاذ پر مظلوموں کی جنگ جاری رکھیں گے۔

سوال: کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلٰی کی تبدیلی کا مقصد سینیٹ الیکشن پر اثرانداز ہونا تھا، آپ کیا کہتے ہیں۔؟
آغا محمد رضا: میں اس تاثر کو رد کرتا ہوں، پتہ نہیں لوگ کہاں سے رائے گھڑ لیتے ہیں، یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم سینیٹ الیکشن پر اثرانداز ہوں گے اور نئی حکومت توڑ دیں گے۔ میں ایک سوال کرتا ہوں کہ یہ جو حکومت تبدیل کرنے کی ایک خواری کاٹی گئی ہے، کیا فقط دس پندرہ دن کیلئے تھی؟، باکل بھی نہیں۔ یہ ساری باتیں ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں۔ الیکشن وقت پر ہونگے اور یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ سینیٹ پر بھی کوئی اثرانداز نہیں ہوگا۔

سوال: یہ کیا ہوا جیسے ہی آپ لوگوں نے حلف اٹھایا ساتھ ہی کچھ دیر بعد دہشتگردی کا بڑا واقعہ ہوگیا، کیا یہ کوئی پیغام تو نہیں تھا۔؟
آغا محمد رضا: جی باکل یہ ایک مسیج تھا کہ جو جرات آپ لوگوں نے دکھائی ہے اور یہ کام کیا ہے، اس کا انجام بہت بھیانک نکلے گا، میں سمجھتا ہوں کہ اصل میں یہ پارلیمنٹ کے اوپر حملہ تھا، میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں فورسز کے جوانوں کو جہنوں نے بروقت کارروائی کرکے دہشتگردوں کو روکا، ورنہ آپ اس جگہ کو جا کر دیکھیں، یہ تو چند میٹر پر دہشتگردی کا واقعہ ہوا۔ یہ مین گیٹ سے جہاں سے ہم نکلتے ہیں، اسی راستے پر ہوا ہے۔ اسمبلی سے واپس آتے ہوئے ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا تھا، ورنہ ہمیں بھی مار دیا جاتا۔

سوال: یہ کس کیطرف سے مسیج تھا۔؟04
آغا محمد رضا: (ہنستے ہوئے)، ظاہر ہے اسکا جواب تو اتنا مشکل نہیں ہے، آپ خود پہنچ سکتے ہیں، کون تھے جنہوں نے اسمبلی کے ارکان کو دھمکانے کی کوشش کی۔

سوال: کیا اسکا اندازہ تھا کہ اگر تحریک عدم لائے تو آپ لوگوں پر اسطرح کے واقعات بھی ہوسکتے ہیں۔؟
آغا محمد رضا: خطرہ نہیں بلکہ سب کو یقین ہو چلا تھا، مطلب جب تحریک عدم اعتماد کی بات ہوئی، اسی دن سے صاف نظر آرہا تھا، پچھلے چار سال کی کارکردگی آپ کے سامنے تھی اور سب کو پتہ تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

سوال: اہم سوال یہ ہے کہ ان چار ماہ میں کیا ہوسکتا ہے، کوئی الہ دین کا چراغ تو ہے نہیں کہ فوری طور پر بڑی تبدیلی لے لائیں۔؟
آغا محمد رضا: آپ چار ماہ کی بات چھوڑیں، صرف چار دن دیکھ لیں، آپ کو پتہ لگ جائیگا کہ ان چار دنوں میں وہ کام ہوئے ہیں، جو چار سال میں نہیں ہوسکے۔ وزیر صبح سے لیکر رات گئے تک اپنے آفسز میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر چھاپے پڑ رہے ہیں، میرے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جہاں بےضابطگیاں ہوئی ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا ہے، چار ماہ میں وہ کام کرکے دکھائیں گے، جو یاد رکھا جائیگا۔

سوال: آپ نے کیا ذہن بنایا ہوا ہے کہ اہم ایشوز کون سے ہیں، جنہیں فوری حل کرنا ضروری ہے۔؟
آغا محمد رضا: سب سے پہلے بے روزگاری کا خاتمہ ہے، جو فنڈز روکے گئے ہیں، ان کی بحالی ہے، اسی طرح کرپشن کا خاتمہ ہے، نئی بھرتیوں کو میرٹ پر پُر کرنا ہے۔ تقرریاں اور تبادلے میرے پاس ہیں، انہیں آن میرٹ کروں گا۔

سوال: ایک پریس کانفرنس میں آپ نے 35000 پوسٹوں پر بھرتیاں کرنیکا اعلان کیا ہے، کیا یہ ممکن ہے۔؟
آغا محمد رضا: دیکھیں میں نے یہ کہا ہے کہ پینتیس ہزار پوسٹوں کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن تاحال ان پر فقط پانچ ہزار بھرتیاں ہوئی ہیں، باقی تیس ہزار خالی پڑی ہیں، اس حوالے سے جلد انٹرویوز اور ٹیسٹ ہوں گے، یہ پوسٹیں فقط کوئٹہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان کیلئے ہیں۔ ہم یہ آسامیاں میرٹ پر پُر کریں گے۔

سوال: دہشتگردی جو وہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اسکے سدباب کیلئے کیا اقدامات اٹھائیں گے۔ نئی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی ہے۔؟
آغا محمد رضا: اصل میں جو نئی ٹیم بنی ہے، یہ سب ایک پیج پر ہیں، دہشتگردی، کرپشن اور بےروزگاری سمیت تمام ایشوز پر نئی ٹیم ایک پیج پر ہے، ایک بات واضح ہے کہ مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، اس کے حل کیلئے اپنی تمام تر کوششوں کو بروکار لائیں گے، باقی دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس میں کئی ممالک ملوث ہیں، اس کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں ہے، البتہ بہترین حکمت عملی سے دہشتگردوں سے نمٹا جاسکتا ہے اور واقعات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

03سوال: مخالفین کا کہنا ہے کہ آپ نے جتنے بھی منصوبے شروع کئے تھے، وہ آج بھی مکمل نہیں ہوسکے، اسکی کیا وجہ ہے۔؟
آغا محمد رضا: آپ کو ایک وجہ تو بتا دی ہے کہ وزیراعلٰی کی تبدیلی لائی ہی اس لئے گئی ہے، کئی سالوں سے ہمارے ترقیاتی فنڈز رکے ہوئے تھے، البتہ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور پرامید ہوں کہ جتنے بھی منصوبے شروع کئے تھے، وہ مکمل ہوں گے، وہ عوام کو نظر آئیں گے۔ اگر ثناء اللہ زہری کی حکومت ہمارے فنڈز نہ روکتی تو آج ہمارے یہ منصوبے مکل ہوچکے ہوتے اور ہمیں یہ اقدام کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی، یہ اقدام کیا ہی اسی لئے ہے کہ ہمیں اگنور کیا جا رہا تھا۔ ہم نے یہ قدم اٹھایا ہی اسی لئے ہے کہ اربوں روپے کے پروجیکٹس ادھورے پڑے ہیں۔

سوال: تو کیا یہ منصوبے ان ان چار ماہ میں مکمل ہو جائیں گے۔؟
آغا محمد رضا: اگر ان چار ماہ میں مکمل نہیں ہو پاتے تو کم از کم ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں کہ یہ ادھورے منصوبے مزید آگے تکمیل کی طرف بڑھیں۔ نامکمل کام بھی مکمل ہوتے ہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنمااور صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور بلوچستان سید محمد رضا رضوی (آغارضا) کی ہمشیرہ بی بی زہراکے انتقال پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبد القدوس بزنجو کی دیگر صوبائی وزراءکے ہمراہ آغا رضا سے ملاقات ہمشیرہ کی رحلت پر تعزیت کا اظہاراور فاتحہ خوانی، تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان  میر عبد القدوس بزنجو نے نچاری امام بارگاہ علمدارروڈ کوئٹہ میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور  صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور بلوچستان آغا سید محمد رضا سے ملاقات کی اور ان کی ہمشیرہ محترمہ کے اچانک انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، عاصم کرد گیلو، منظور کاکڑودیگر صوبائی وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے، وزیر اعلیٰ ودیگر شخصیات  نے آغا رضا کی ہمشیرہ کی مغفرت کی دعا اور فاتحہ خوانی بھی کی، آغا رضا نے معزز مہمانان گرامی کا تعزیت کیلئے تشریف آوری پر شکریہ کا اظہار کیا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ عالی و صوبائی وزیر قانون جناب سید محمد رضا کے ترقیاتی فنڈز سےحلقہ پی بی ٹو میں مختلف ترقیاتی منصوبہ جات پر کام تیزی سے جاری ہے، آغا رضا کے فنڈ سے  رحمت اللہ روڈ لنک گلی میں سیوریج لائن اور پی سی سی کا کام جاری ہے جس کی نگرانی کونسلر حلقہ نمبر 13 سید نثار شاہ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی حسرت اللہ ،کونسلر کربلائی رجب علی اور یونس علی کر رہے ہیں جبکہ  یار محمد گلی نچاری روڈ میں ٹف ٹائل اور سیوریج لائن کا بھی جلد پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے، جس کی نگرانی کونسلر کربلائی رجب علی کر رہے ہیں ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کا استحصال اگر نہ رکاا تو وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔جی بی کے وزیر اعلی اپنی آئینی اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں ۔ علاقے کے عوام کو بنیادی ضروریا ت زندگی کی حاصل نہیں۔جب کہ وزیر اعلی کی طرف سے عوام کو را کا ایجنٹ قرار دے کر ا ن کی حب الوطنی پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے،اس موقع پر  مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے ممبر صوبائی اسمبلی و وزیر قانون آغا رضا، جی بی اسمبلی کی رکن بی بی سلیمہ ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی،سید ناصر شیرازی،علامہ ہاشم موسوی، اسدعباس نقوی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

ان مزید کہنا تھاکہ گلگت بلتستان میں حالات کو دانستہ خراب کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔گلگت بلتستان میں ناانصافیوں کا سلسلہ عوام کے اضطراب کا باعث ہے۔ سی پیک گلگت بلتستان سے گزر رہا ہے اور انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے. جی بی کے وزیر اعلی نے عوام کو را کا ایجنٹ کہہ کر عوام کی توہین کی ہے ۔گلگت بلتستان سے بھی کرپٹ وزیر اعلی کو ہٹانے کے لئے مہم شروع ہوچکی ہے۔جو نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نواز حکومت کا خاتمہ دراصل اس رعونت کا خاتمہ ثابت ہواجس نے عوام کو سوائے احساس محرومی کے اور کچھ نہیں دیا۔بلوچستان حکومت کے خاتمے میں ہمارا کلیدی کردار رہا ہے۔ہم نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو عوامی مشکلات کے ازالے کی بجائے ذاتی مفادات کو مقدم سمجھتی رہیں۔ دہشت گرد طاقتیں اور تکفیری گروہ وطن عزیز کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔یہ ملک و قوم کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ڈی آئی خان کو ان مذموم عناصر نے تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ خیبرپختونخواہ کی ’’ماڈرن پولیس‘‘کے بلند و بانگ دعوے محض طفل تسیلیاں ثابت ہو رہی ہیں۔ڈیر اسماعیل خان میں پولیس کی نااہلی حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی شناخت کو مجروح کیا جا رہا ہے۔نا اہل سیاست دانوں نے ملک کے ترقی و استحکام کو اپنی انانیت اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔نون لیگ اداروں کو تصادم پر اکسانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اداروں کو للکار کر حسینہ واجد کا کردار پاکستان میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کر کے انہیں کمزور کرنا مسلم لیگ نون کا ماضی بھی شیوہ رہا ہے۔اب عوام مسلم لیگ کے کھوکھلے نعروں کی حقیقت جان چکے ہیں اور ان مسترد شدہ سیاست دانوں کے جذباتی نعروں میں نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی کوشش استعماری طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا حربہ تھا جسے پاکستان کی عوام نے ناکام بنا دیا ۔ اس حوالے سے راجہ ظفر الحق رپورٹ کو وعدے کے مطابق شائع نہ کرکے حکومت نے بددیانتی کا مظاہرہ اور اپنی بدنیتی کو آشکار کیا ہے۔ماڈل ٹاؤن شہدا کے ورثاء تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔جسٹس باقر نجفی رپورٹ میں ظالموں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر غم زدہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔یہ ظالم حکومت ہے جو احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے والوں پر لاٹھی گولی کے استعمال کو اپنا حق سمجھتی ہے۔عوام کی جان و مال اور ناموس کئی بھی محفوظ نہیں ۔ ملک میں جرائم کی شرح میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہوا ہے۔ قصور میں معصوم بچی پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ذمہ دار ابھی تک پولیس کے قابو میں کیوں نہیں آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب بھی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں ملک کے سرحدی حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں ۔نواز شریف بھارت کے خلاف لب کشائی کی ہمت کیوں نہیں کرتے۔انہیں ملک سالمیت سے زیادہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات عزیز ہیں۔ نواز شریف کے بیٹے عوام کی لوٹی ہوئی دولت سے بیرونی ملک میں بزنس کر رہے ہیں اور پاکستان شہریت سے انکاری ہیں جب کہ باپ پاکستان میں اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔ جو ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔پاکستان میں کسی مجیب الرحمن کی اب قطعی گنجائش نہیں ہے۔پاکستان کی محب وطن سیاسی و مذہبی قوتیں ملکی سالمیت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گی،مجلس وحدت مسلمین کرپشن فری اور جمہوری پاکستان پر یقین رکھتی ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے رکن اسمبلی آغاسید محمد رضا کے بلوچستان حکومت میں صوبائی وزیر شامل ہونے پر سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، آغا رضا ، ایم ڈبلیوایم بلوچستان اور کوئٹہ ڈویژن کے ساتھیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، آغا رضا ایک محنتی ، قابل ، فرض شناس او رتعلیم یافتہ رکن اسمبلی ہونے کی حیثیت سے وزارت قانون سمیت دیگر چار اہم وزارتوں کے قلمدان سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے حلقے کی عوام کی گذشتہ چار سالوں میں جو مثالی خدمت کی ہے وہ پورے صوبے کیلئے قابل تقلید ہے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ محمد صادق جعفری، ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن، پولیٹیکل سیکریٹری میر تقی ظفر، سیکریٹری اطلاعات احسن عباس رضوی، سیکریٹری وحدت یوتھ کاظم عباس، سیکریٹری خیر العمل ٹرسٹ زین رضوی، سیکریٹری تنظیم سازی زیشان حیدر، سیکریٹری مالیات فاران رضوی ،سیکریٹری شماریات سبط اصغر، سیکریٹری روابط عباس اشرف ودیگر نے کراچی ڈویژن کی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رہنمائوں نے مزید کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ایک ممبر اسمبلی کی طاقت سے ہم نے بلوچستان میں اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے ، ہمارے ممبر اسمبلی آغا رضا کی قابلیت ، صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے کی بدولت نومنتخب وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو نے انہیں وزارت قانون سمیت چار اہم قلمدان سپرد کیئے ہیں،انشاءاللہ بلوچستان میں ن لیگ کے کرپٹ وزیر اعلیٰ کی چھٹی کے بعد پنجاب کے ظالم اعلیٰ کی چھٹی قریب ہے،میٹروبس ، اورنج لائن ٹرین اور دیگر منصوبوں میں شہباز شریف حکومت نے بھی قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگایا ہے، صوبے میں کرپشن اور سانحہ ماڈل ٹائون کے مقتولوں کے قتل کے جرم میں شہباز شریف اور ان کے حواریوں کو جلد سلاخوں کے پیچھے جانا ہوگا۔

وحدت نیوز (مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا رضوی (آغا رضا) کی بلوچستان کی نئی اتحادی حکومت میں بحیثیت صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور تقرری پر مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی وریاستی کابینہ کے علاوہ ضلعی سیکرٹری جنرلز اور ان کی کابینہ کے اراکین نے دلی مسرت اورتہنیت کا اظہار کیا ہے۔وحدت سیکریٹریٹ مظفرآبادسے جاری اپنے مشترکہ تہنیتی پیغام میں ایم ڈبلیوایم کے تمام ریاستی قائدین نے کہا کہ رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا کے صوبائی وزیر قانون اور پارلیمانی اموربلوچستان منتخب ہونے پر قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری،شعبہ سیاسیات کے مسئول سید اسد عباس نقوی اور انکی ٹیم،رکن شوری عالی علامہ ہاشم موسوی،صوبائی نومنتخب وزیر آغارضا،خانوادگان شہدائے ملت جعفریہ اور کوئٹہ سمیت ملک بھر کے مخلص کارکنان ایم ڈبلیوایم کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔

Page 1 of 22

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree