ایم ڈبلیوایم رہنماعلامہ نقی حیدری کی بلاجواز گرفتاری سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، علامہ نشان حیدر

19 مارچ 2017

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ نشان حیدر نے وحدت ہاو س کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر منظور وسان اور خیرپور انتظامیہ کی ایما پر ایس ایس پی خیرپور کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی رہنما اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ محمد نقی حیدری کی بلاجواز گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وڈیروں نے سندھ بھر میں ایم ڈبلیو ایم کے عہدیداران اور کارکنان کے خلاف انتقامی سیاسی کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کی تازہ مثال پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر منظور وسان کی اور خیرپور انتظامیہ کی ایماءپر ایس ایس پی خیرپورنے اتحاد بین المسلمین کے داعی، مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری امور تربیت اور مدرسہ امام علی کنب کے پرنسپل علامہ محمد نقی حیدری کو ان کی رہائشگاہ سے بلاجواز گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جانا ہے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر علامہ علی انور، علامہ مبشر حسن، علامہ اظہر نقوی، آصف صفوی و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

 رہنماو ں نے کہا کہ خیرپور انتظامیہ اور پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت منظور وسان کی جانب سے ملک دشمن تکفیری دہشتگرد گروہوں اور کالعدم تنظیموں کی سرپرستی اور محب وطن اہل تشیع مسلمانوں اور ان کی قیادت کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ گذشتہ ماہ خیرپور کے علاقے کنب میں ایم ڈبلیوایم کے زیر اہتمام عظمت سیدہ فاطمہ زہرا ؑ کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا، جسے صوبائی وزیر منظور وسان کی ایما پر خیر پور انتظامیہ نے بزورطاقت روک دیا تھا، روکے گئے جلسے کو بنیاد بنا کرایم ڈبلیوایم کی سیاسی ومذہبی فعالیت سے خوفزدہ پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمااور صوبائی وزیر منظور وسان کی ایماءپر علامہ نقی حیدری اور دیگر کارکنان پر بھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروا لی گئی تھی ،لیکن پیپلز پارٹی اور اس کے صوبائی وزیر کی ایما پر سندھ پولیس نے علامہ نقی حیدری کو MPO-16کے تحت بلاجواز گرفتار کر لیا۔

 رہنماو ں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت، وزراءاور اراکین اسمبلیوں کے کالعدم تنظیموں، تکفیری دہشتگرد عناصر سے تعلقات اور سہولت کاری اب ڈھکے چھپے نہیں ہیں، تکفیری دہشتگردوں کے ساتھ ملاقاتیں، انہیں پناہ دینا، ان کی سرپرستی کرنا، ان کے نام نہاد مدارس میں جانا، اب عوام کے سامنے آ چکا ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور نمائندے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کو سندھ بھر میں کامیاب بنانے کیلئے کالعدم تنظیموں، تکفیری دہشتگرد عناصر، دہشتگردی میں ملوث نام نہاد مدارس کے خلاف کارروائی کرتے، مجلس وحدت مسلمین و دیگر محب وطن امن پسند قوتوں کو اعتماد میں لیتے، تاکہ سانحہ سیہون سمیت حالیہ سالوں میں سندھ بھر میں ہونے والے درجنوں دہشتگردی کے جو سانحات رونما ہو چکے ہیں، ان کی روک تھام کرتے، کراچی سمیت سندھ میں دہشتگردی کا خاتمے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے محض بلند و بانگ دعوے، سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے، سندھ بھر میں کالعدم تنظیموں اور تکفیری دہشتگردوں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت، سندھ حکومت کی ناکارہ پالیسیوں اور مجرمامہ غفلت کا نتیجہ ہے، یہی وجہ ہے کہ کالعدم تنظیموں اور تکفیری دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے مجلس وحدت مسلمین کی سندھ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی فلاحی فعالیت سے خوفزدہ پیپلز پارٹی  کےصوبائی وزیر منظور وسان، ایم این اے نواب وسان، خیرپور انتظامیہ و دیگر قیادت کی جانب سے انتقامی سیاسی کارروائیوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ سندھ بھر کی عوام کو کالعدم تنظیموں اور تکفیری دہشتگرد عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کے رہنماو ں اور وزراءاور اراکین اسمبلی کی شیعہ دشمنی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اسی سلسلے میں بانیان مجالس پر دباو ¿ ڈال کر مجالس عزا رکوانے کا سلسلہ بھی جاری ہے، پیپلز پارٹی کے شیعہ دشمن رویئے کے باعث ملک بھر میں ملت تشیع کے اندر شدید تشویش پائی جاتی ہے، پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نے اگر انتقامی کاروائیوں کا سدباب نہ کیا، تو معاملات سنگین صورت اختیار کریں گے اور ہم انتقامی کارروائیوں اور چند سیاسی فوائد کی خاطر تکفیری دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرنے پر پیپلز پارٹی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ نقی حیدری کی بلاجواز گرفتاری اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف سندھ کے مختلف اضلاع میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ ایم ڈبلیوایم کے کارکنان اور علاقہ عوام کی بڑی تعداد مدرسہ امام علی کنب میں جمع ہو نا شروع ہو چکے ہیں اور ایم ڈبلیوایم صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودڈومکی اور دیگر قائدین بھی خیرپور پہنچ رہے ہیں جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔

رہنماو ں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں اور تکفیری دہشتگرد عناصر کی کاروائیاں ملکی سلامتی و استحکام کے لیے خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں، ملک دشمن طاقتیں مذہبی ہم آہنگی و رواداری کا پرچار کرنے والی شخصیات کو نشانہ بنا ملک کو تفرقہ بازی کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں،ان تکفیری گروہوں کا خاتمہ ملکی سلامتی و امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور نمائندے دہشتگرد عناصر کے کے خاتمے کے بجائے ان کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، جو پیپلز پارٹی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے، دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرنے والے شیعہ سنی وحدت کی علامت سمجھے جانے ولے ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی رہنما علامہ محمد نقی حیدری کی بلاجواز گرفتاری اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنماو ں اور کارکنان کے خلاف جھوٹے مقدمات اس بات کا واضح ثبوت ہے، جو کہ ناصرف سندھ بلکہ پورے ملک کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے، پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت فی الفور ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی رہنما علامہ نقی حیدری کی بلاجواز گرفتاری کا نوٹس لیکر صوبائی وزیر منظور وسان، خیرپور انتظامیہ، ایس ایس پی خیرپور کے خلاف کارروائی کریں اور علامہ نقی حیدری کی رہائی عمل میں لائیں۔



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree