وحدت نیوز(خیرپور) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں حضرت موسی کی سیاسی جدوجہد قرآن و تورات کی روشنی میں ایک تقابلی جائزہ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ تاریخ انسانی ایسے عظیم انسانوں کے ذکر کےبغیر ادھوری ہے جنہوں نے انسانوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں ظلم و ستم کےخلاف قیام کا حوصلہ دیا ان میں انبیائے کرام اور آئمہ اہل بیت کا نام سر فہرست ہے۔ بے عیب کردار ، مضبوط شخصیت اور آہنی ارادے کے حامل حضرت موسی کلیم اللہ کی سیاسی جدوجہد ، ہر دور کے انسان کے لئے رہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے۔

انہوں نےکہا کہ حضرت موسیٰ نے ایک مدبر، شفیق اور شجاع رہبر و قائد کی حیثیت سے قوم بنی اسرائیل اور اہل ایمان کی رہبری کی۔ فرعون اور ہامان کے بعد قارون اور سامری جیسے گمراہ لوگوں کو نصیحت کی اور قوم کی انحرافات کے مقابلے میں درست رہنمائی کی۔آپ ایک عادل، شفیق، حکیم و دانا اور بردبار رہبر کے طور پر تاریخ انسانی میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔انہوں نےکہا کہ عصر حاضر کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے انبیاء کرام کی پاکیزہ زندگی مشعل راہ ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے آزادکشمیر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں برفانی بارشوں کے نتیجے میں سو سے زائد افراد کی ناگہانی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وادی نیلم میں گلیشئر کی تباہی بلاشبہ ایک المناک سانحہ ہے۔قیمتی جانوں کا ضیاع ایسا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی طور ممکن نہیں۔اس حادثے میں زخمی اور زندہ رہ جانے والے افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے حکام بالا کی ذاتی توجہ درکار ہے جس پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان اپنے اپنے علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کی بھرپور مدد کریں اور درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے مرکز سے بھی رابطے میں رہیں۔انہوں نے کہا کہ مومن کے لیے ناگہانی آفات قدرت کی آزمائش ہے جن کا صبر و رضا سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) جس دن امریکی وزیر دفاع نے ہمارے سپہ سالار کو ٹیلی فون کیا اُسی دن وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں ایک یوٹیلٹی سٹور کا دورہ کر رہے تھے۔ اُسی دن ایرانی سفیر بھی فوج کے سربراہ سے ملے۔ یہ رہا ہمارے حکومتی بندوبست کا اصل چہرہ، کہ کون کس کام پہ لگا ہوا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان فون کیا۔ انہوں نے فون ملایا تو آرمی چیف کو۔ وزیر اعظم کو فون کرنے کا تکلّف کیوں نہ برتا‘ وہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ موجودہ حکومتی بندوبست میں کام بڑے خوبصورتی سے بٹے ہوئے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹوروں اور یہ جو تماشا غریبوں کیلئے پناہ گاہوں کی شکل میں کھیلا جا رہا ہے‘ اِن کے دورے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ذمے ہیں۔ کبھی وزیر اعظم کسی پناہ گاہ میں مسکینوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے ہوتے ہیں کبھی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار۔ دیگر معاملات یا یوں کہیے تھوڑے سے بڑے معاملات سپہ سالار نمٹا لیتے ہیں۔ بس انہی خطوط پہ حکومتی بندوبست استوار ہے۔ اور یہ ہیں وہ عوام کے چیمپئن جن سے اُمیدیں وابستہ تھیں کہ وہ قوم کی تقدیر بدلنے والے ہیں اور طیب اردوان نہیں تو مہاتیر محمد بننے جا رہے ہیں۔

یوٹیلٹی سٹور کا دورہ تو ایک واقعہ ہوا۔ آئے روز اسلام آباد میں کوئی بے معنی سی تقریب منعقد ہوتی ہے جس کا نہ کوئی مقصد نہ فعالیت اور وزیر اعظم صاحب پہنچے ہوتے ہیں اور حسبِ عادت ایک فی البدیہہ تقریر چنگھاڑ دیتے ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال تو کرپشن اور ممکنہ این آر او سے گزارہ ہو گیا۔ ملک میں ہیں یا کسی غیر ملکی دورے پہ وہی ایک تقریر، وہی گھسے پٹے جملے، اور کام چل جاتا تھا۔ اب یہ ایران اور امریکا والا مسئلہ آ گیا ہے۔ کل ایک اور تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، مبینہ طور پہ ہنر مند پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کی خاطر۔ نون لیگ والوں نے تو پھبتی کَسی کہ یہ نواز شریف کا ایک پرانا پروگرام تھا جسے کچھ رنگ روغن کر کے نئے پروگرام کے طور پہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کو جانے دیجیے۔ جو تقریر وزیر اعظم صاحب نے فرمائی‘ اُس میں انہوں نے کہا کہ ہم ایران، سعودی عرب اور امریکا میں دوستی کے خواہاں ہیں اور اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اِسے کہتے ہیں‘ پدّی کا شوربہ۔

تقریباً کل ہی کی بات ہے کہ ہم سعودی عرب سے جھاڑ پی چکے ہیں۔ اِسی کی وجہ سے بہتر یہی سمجھا گیا کہ کوالالمپور میں مہاتیر محمد کی بلائی گئی کانفرنس میں شریک نہ ہوں۔ حالانکہ جیسا ہم سب جانتے ہیں اِس کانفرنس کے تجویر کنندہ ہم بھی تھے۔ بہرحال جھاڑ پڑی تو ہوش ٹھکانے آ گئے اور کمال دانش مندی سے ایک اور یُو ٹرن لے لیا گیا۔ اِس سارے ماجرے میں پاکستان کی رسوائی کیا ہوئی‘ وہ الگ کہانی ہے۔ اب بوساطتِ وزیر اعظم ایک اور شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ ہم ان تین ممالک میں دوستی کراتے ہیں۔ یہ تین ممالک ایسے ہیں کہ امریکا اور سعودیہ ایران کو نہیں دیکھ سکتے اور ایران اِن دونوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اور ہم ان میں دوستی کرانے چلے ہیں۔ پدّی کی دوبارہ بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ان تینوں ممالک کی استطاعت ہم سے کچھ زیادہ ہے۔ ہم ہیں اور ہمارا ناقابل تسخیر کشکول۔ اِس کشکول کے سہارے اِس نئے اَمن مشن پہ چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صرف اِتنی احتیاط کر لی جائے کہ اپنے سے بڑے جھگڑے میں قدم رکھنے سے ملک کی مزید رسوائی نہ ہو جائے۔ سوال تو یہ ہے کہ ایسے عقل کے جھٹکے وزیر اعظم صاحب کو آتے کہاں سے ہیں؟ بیٹھے بٹھائے بغیر سوچے اور مزید برآں بغیر کسی سے پوچھے ایسے بیان داغ دیتے ہیں۔ جھاڑ سہہ کے اور کوالالمپور کانفرنس میں نہ جا کے پاکستان پہلے ہی کافی بے نقاب ہو چکا ہے۔ مزید اپنے ملک کی جگ ہنسائی پہ ہم کیوں تُلے ہوئے ہیں۔ کچھ تو خیال کر لیں۔

کئی ای میل جو مجھے کبھی کبھار آتے تھے انہیں اَب پڑھ کے حیران ہوتا ہوں۔ کوئی تنقیدی الفاظ عمران خان کے بارے میں ہمارے منہ سے نکلے نہیں اور پی ٹی آئی والے ایسی ایسی سُنانے لگ پڑتے تھے۔ گالیاں تو اُن کا عام معمول تھا اور ساتھ ہی یہ کہتے کہ تمہیں پتہ نہیں خان صاحب ملک کی تقدیر بدلنے جارہے ہیں۔ ہم تو کچھ نہ کچھ خان صاحب کی صلاحیتوں کے بارے میں جانتے تھے۔ جو زیادہ واقفانِ حال تھے سمجھاتے کہ تم یہ کیا نیا مسیحا سمجھ کے خان سے اُمیدیں لگائے بیٹھے ہو۔ پھر بھی ہم کہتے تھے کہ جن کو ہم بھگت چکے ہیں‘ اُن دونوں سے تو یہ بہتر ہوں گے۔ پھر وہی تعریف و توصیف کی کہانی آتی کہ ذاتی طور پہ بے داغ ہیں، کرپٹ نہیں اور سخت گیر آدمی ہوتے ہوئے سب کو درست کر دیں گے۔ واقفانِ حال سمجھانے کی کوشش کرتے کہ اِس فضول کے رومانس میں کیوں پڑے ہوئے ہو۔ پلے شے ہے کوئی نہیں تو کس چیز کا انتظار ہے؟ لیکن ہماری بھی عادت بن چکی تھی کہ نواز شریف کرپٹ اور زرداری ملک کو کھا گیا‘ ہمیں ایک بے داغ قیادت کی ضرورت ہے۔

ہمارے دوسرے بھائی‘ کیا کہیں کہ کون سے بھائی اور کس ادارے سے‘ کا اپنا ایجنڈا تھا۔ مقصد تھا نوازشریف سے حساب برابرکرنا۔ پانامہ سکینڈل ایک ایسی چیز تھی جو واقعی آسمانوں سے گری۔ اگلوں کے ہاتھ لگی تو پھر بات سے بات نکلتی گئی اور آخری نتیجہ نواز شریف کی اقتدار سے سبکدوشی تک پہنچا۔ ایک طرف خان صاحب کرپشن کا راگ الاپ رہے تھے اور دوسری طرف دوسرے‘ کیا کہیں کون‘ وہ بھی اپنے مقصد سے لگے ہوئے تھے۔ الیکشن جیسے ہوئے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ ہمارا ملک زرعی ملک ہے‘ اس لئے کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ زراعت اور اُس سے جڑے ہوئے محکموں کا الیکشن میں خاصا کردار رہا۔ کچھ ریاضی کا بھی کمال تھا۔ ایسی جمع تفریق کی گئی کہ خان صاحب کا دیرینہ خواب پورا ہوا اور وہ وزیر اعظم بن گئے۔

پانامہ سے لے کر انتخابات تک یہ ایک بڑی مشق تھی۔ جو اِس مشق کے اہداف تھے وہ بڑی خوبصورتی سے حاصل کیے گئے۔ لیکن اُس کے بعد جو حشر ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہماری تاریخ میں بڑے بڑے موڑ اور بڑے بڑے فیصلے ایسے آئے جن میں عقل یا سمجھداری کا عمل دخل کچھ زیادہ نہ تھا۔ لیکن ناسمجھی کی حدیں جو اب پار کی جا رہی ہیں اُس کی نظیر ہماری ہوش رُبا تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ اور نتیجہ اِس صورتحال کا وہی نکل رہا ہے جو منطق کے عین مطابق ہے۔ جب خود ڈرائیونگ کی اہلیت زیادہ نہ ہو تو اوروں کا کنٹرول سنبھالنا قدرتی امر ہے۔ اُن کا ہاتھ پہلے بھی سٹیرنگ پہ تھا۔ راستے کا تعین وہی کرتے تھے لیکن پھر بھی کچھ دکھاوے کا لحاظ کیا جاتا تھا۔ خان صاحب کی صلاحیتوں اور کارناموں کی وجہ سے وہ دکھاوا بھی اب ختم ہو چکا ہے۔ اَب تو کام کی تفریق سامنے نظر آتی ہے۔ یوٹیلٹی سٹور اور جو چند ایک مفت کھانے کی پناہ گاہیں ہیں وہ آپ سنبھالیں، دیگر معمولات ہم دیکھ لیں گے۔ باقی دنیا بہری یا اندھی نہیں۔ وہ شاید ہم سے زیادہ پاکستان کے حالات سے باخبر ہے۔ اسی لیے امریکی وزیر خارجہ فون کرتا ہے تو آرمی چیف کو۔ امریکی وزیر دفاع نے کچھ کہنا ہو تو آرمی چیف سے کہتا ہے۔ سفیروں نے با مقصد گفتگو کرنی ہو تو جی ایچ کیو کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اِس دوران وزیر اعظم صاحب ایک نئی تقریر فرما دیتے ہیں۔ جس کا نہ سر نہ پاؤں۔

پارلیمنٹ بھی ہم نے دیکھ لی ہے۔ پہلے بھی اُس کے بارے میں کچھ زیادہ غلط فہمی نہ تھی‘ لیکن رہی سہی کسر توسیع کے معاملے میں پوری ہو گئی ہے۔ ہماری تاریخ تابعداری کے مظاہروں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن اِس بار جو حب الوطنی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تابعداری کا مظاہرہ ہوا اُس کی مثال پرانے اوراق میں نہیں ملتی۔ سوائے چھوٹی پارٹیوں کے جنہوں نے پارلیمانی عزت کا کچھ خیال رکھا تینوں بڑی پارٹیوں نے کمال ہی کر دیا۔ جمہوریت کے حسن بہت ہوں گے لیکن پاکستانی جمہوریت کا حسن نرالا ہے۔

تحریر: ایاز امیر

وحدت نیوز(کوہاٹ) مجلس وحدت مسلمین ضلع کوہاٹ کے زیر اہتمام شہید قاسم سلیمانی مہدی مہندس اور انکے با وفا ساتھوں کی  یاد میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیکرٹری جنرل علامہ وحید کاظمی نے مجلس ترحیم سے خطاب کیا۔ انہوں نے امریکہ کے بزدلانہ حملے اور اسلام دشمن پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ صوبائی سیکرٹری جنرل نے شہید قاسیم سلیمانی اورمہدی مہندس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

 انہوں نے کہا اس عظیم شہید کے بدولت وہ کام جو سالوں میں نہیں ہوسکیں صدر ٹرمپ کی بےوقوفیوں کی وجہ سے چند دونوں میں رونما ہوگئے۔ ایران اورعراق میں عوامی اتفاق اتحاد نے امریکہ کی نیندیں حرام کردی ہیں جو وہ کھبی نہیں چاہتےتھے۔ اس موقع پر امریکہ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا، صدر ٹرمپ کی تصویر اور امریکی پرچم نزر آتش کیا گیا۔

 اجتماع میں مختلف تنظیموں کے نمائندگان، ایم ڈبلیوایم کے صوبائی سیکریٹری جنرل وحیدعباس کاظمی، شیعہ علماء کونسل کےصوبائی صدر حمید حسین امامی، امامیہ علماء کونسل علامہ قیصر عباس الحسینی ، قومی وحدت کونسل کے چیئرمین آغا سید عبدالحسین الحسینی ،علامہ محمد باقر منتظری ،علامہ سید ثاقب حسین شیرازی ،علامہ اشرف علی قرائتی نے اپنے خطابات سے شہداء کوخراج  عقیدت پیش کیا۔ ان خطباء کے علاوہ دسیوں علماء مشران قوم اور سینکڑوں مومنین اور میڈیا کے نمائندے موجودتھے۔

وحدت نیوز(ملتان) ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام امام مہدی کی شان میں گستاخی اور امریکہ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، احتجاجی ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ غلام مصطفی انصاری اور سید امیر حسین گیلانی نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے امام مہدی علیہ السلام کی شان میں ہونے والی گستاخی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ گستاخ امام مہدی کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ ریلی کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے خلاف پاکستانی حکومت فی الفور اپنا بیانیہ جاری کرے۔

ریلی کے شرکا نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ علامہ اقتدار نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، آج امت اسلام میں جو انتشار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ ہی ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ عالم اسلام متحد ہوجائے، آج پہلے سے کہیں زیادہ عالم اسلام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔


علامہ اقتدار نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس وقت اپنا کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن پاکستان کے بیان سے افسوس ہوا، ہمارے اندر اتنی بھی جرات نہیں ہے کہ ہم ایک اسلامی ملک کے جنرل کی شہادت کی مذمت کر سکیں، ہم سے تو افغانستان ہی بہتر ہے جس نے کم از کم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی مذمت تو کی ہے۔ علامہ غلام مصطفی انصاری نے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ دادو میں عبدالستار جمالی کے خلاف اگر بروقت کاروائی کی جاتی تو کبیروالا میں اسامہ موچی یہ حرکت نہ کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں اس ملک کی سالمیت عزیز ہے، پاکستان ہمارے آباو اجداد نے بنایا تھا اور ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرکے اپنی نابودی کا پیش خیمہ خود بنادیا ہے، امریکہ شاید بھول رہا تھا کہ میں نے قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا مجھے کوئی جواب نہیں دے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ثقافتی مقامات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے بھی ہمارے مقدس مقامات کی جانب بری نگاہ سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال لیں گے، خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ جس طرح سے ہمارے مقدس مقامات ہیں اسی طرح ائمہ اہل بیت کے مزارات بھی ہمارے لئے مقدس مقامات اور ہماری ریڈلائن ہیں۔ مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے شیعہ سنی متحد ہیں اگر کسی نے کوئی میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان میں امریکیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ ریلی سے سلیم عباس صدیقی، سید امیر حسین گیلانی، مولانا غلام جعفر انصاری، مولانا مظہر عباس اور دیگر نے خطاب کیا۔ جبکہ مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل مرزا وجاہت علی، آئی ایس او ملتان کے صدر شہریار حیدر، عاطف حسین اور دیگر شریک تھے۔

وحدت نیوز(کراچی) خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے زیر اہتمام سردار رشید اسلام، شہیدحاج قاسم سلیمانی ؒ ، شہید ابومہدی المہندس اور دیگر مجاہدین اسلام کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا ۔

تعزیتی ریفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی ، صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی ، معروف عالم دین علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی ،علامہ شبیر میثمی ،سربرا ہ جعفریہ الائنس پاکستان علامہ رضی جعفرنقوی، قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوری ایران کراچی آقائی احمد محمدی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

جبکہ بزرگ علمائے کرام علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ حیدرعلی جوادی، علامہ مرزایوسف حسین، سمیت ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کےرہنما علامہ صادق جعفری ، علامہ مبشر حسن، جعفریہ الائنس کےرہنما شبر رضا،شیعہ علماءکونسل کے رہنما علامہ جعفرسبحانی، فلسطین فاؤنڈیشن کے صابرابو مریم اور دیگر سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں ۔

مقررین نے شہدائے راہ اسلام شہید قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی مہندس اور ان کے رفقائے کار کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نےکہاکہ شہید قاسم سلیمانی نے امریکی استعمار کے مقابل عظیم استقامت کا مظاہرہ کیا ، شہید نے عراق وشام کو داعش جیسے ناپاک وجود سے پاک کیا۔ انشاءاللہ ان پاک باز شہداءکے پاکیزہ لہو کی بدولت جلد دنیا امریکا اور اسرائیل کے منحوس وجود سے آزاد ہوگی ۔

Page 11 of 209

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree