وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک)   آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی ایران نے آج صبح عید بعثت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مناسبت اسلامی ممالک کے سفراء اور جمہوری اسلامی ایران کے مرکزی مسئولین کے ساتھ منعقدہ ایک نشست میں کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ توحید ظلم کے خلاف جدوجہد اور ظالموں کا مقابلہ کرنے کامل اصولوں پر مبنی ہے۔ اسی بنا پر حق کا محاذ ہمیشہ باطل محاذ کے مقابلے میں مزاحمت کرتا رہتا ہے اور اس کا حتمی سرانجام باطل کی پسپائی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امت اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ بعثت کے پیام یعنی توحید کی طرف واپس پلٹے۔ ظلم کے مقابلے جدوجہد کا حتمی نتیجہ کامیابی ہے۔ اس جدوجہد کا واضح نمونہ فلسطینی قوم ہے۔ فلسطینی قوم شروع میں ایک کمزور ملت تھی لیکن اپنی مزاحمت کی بنا پر یہ کمزور قوم آج قدرتمند فلسطین میں تبدیل ہو چکی ہے اور اسرائیل کو دھمکی دیتی ہے، یہ غاصب حکومت فلسطینی قوم کے مقابلے میں اپنی ناتوانی کو محسوس کر رہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ کا شام میں موجود ہونا مغربی ایشیا اور شام میں موجود مزاحمتی گروہوں کی مدد کرنے کی غرض ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے ایران کے خطے میں بڑھوتری (Expansion) کے عزائم ہیں، جھوٹی بات ہے۔ عظیم، آباد اور متحد ایران خطے میں کسی بھی قسم کی وسعت طلبی یا دنیا کے کسی بھی علاقے پر (قبضہ) کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ رہبر انقلاب نے کہا کہ مغربی ایشیا میں ہماری موجودگی کا سبب مزاحمتی اور مقاومتی گروہوں کی مدد کرنا ہے کہ جو ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ مقاومتی محاذ نے اسی مدد  اور شام کی بہادر فورسز کی برکت سے دہشت گردوں کو شکست فاش دی اور یہ دہشت گرد جو امریکہ اور مغربی ممالک کے ہاتھوں وجود میں آئے مغلوب ہوئے۔

آیت اللہ خامنہ ای آج علی الصبح شام پر ہونے والے میزائل حملوں کی شدید مذمت اور امریکی صدر کے داعش کے خاتمے کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح جھوٹ اور مضحکہ خیز ہے۔ چونکہ امریکیوں نے سعودیہ اور اس کی مانند دیگر ممالک کے پیسوں سے ایسی خبیث موجودات کو عراق اور شام میں تیار کیا اور جہاں بھی ضرورت محسوس کی ان دہشت گردوں کی مدد بھی کی۔ جب داعش کے اصلی افراد محاصرے میں تھے تو انہوں نے ان کو نجات دی۔ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی بھرپور مدد کے باوجود مقاومتی محاذ نے شام اور عراق کو آزاد کروایا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آج امریکہ کی طرف سے شام پر کئے جانے والے میزائل حملے کو جرم قرار دیا اور مزید کہا کہ میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ امریکی صدر، فرانس کا صدر اور برطانیہ کا وزیراعظم مجرم ہیں۔

وحدت نیوز (قم) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل  علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جمعے و ہفتے کی درمیانی شب بعد از نماز مغربین مسجد مدرسہ حجتیہ قم میں انقلاب اسلامی کی 40 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔ اس پروگرام میں علماء کرام، طلاب عزیز اور زائرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ عصر غیبت میں تشیع تین مرحلوں سے گزری ہے۔ محدیثین سے رابطہ، مرجعیت سے رابطہ اور حکومت اسلامی یعنی ولایت فقیہ سے رابطہ۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرا مرحلہ تشیع کی جوانی کا مرحلہ ہے۔ عصر غیبت میں سب سے زیادہ تشیع آج مضبوط ہے، کیونکہ ایک عالم، فقیہ، شجاع، حکیم اور بابصیرت شخصیت کے پاس تشیع کی حکومت ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ولایت فقیہ کی محوریت میں دو بنیادی ذمہ داریوں کو انجام دینا ہے، نمبر ایک ظلم اور ظالموں کے خاتمے کیلئے کوشش، نمبر دو عدل و قسط کے قیام کی کوشش، تاکہ لیظھرہ علی الدین کل اور یملا اللہ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا کے قرآنی و روائی اصولوں کو عملی جامہ پہنا سکیں اور پوری دنیا میں قسط و عدل کا عملی قیام ہو۔ اس عظیم عالمگیر حکومت کے قیام کے لئے ہمیں پاکستان کے محاذ میں تعلیمی، تربیتی، ثقافتی، اجتماعی و سیاسی سپشلسٹ افراد کی ضرورت ہے، تاکہ مدمقابل ظالم نظام کا تمام تر شعبوں میں راستہ روکے اور صبغۃ اللہ، یعنی الٰہی سوسائٹی کے قیام کی راہ میں ممد ثابت ہو۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) رہبر انقلاب نے اسلامی تبلیغات کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایرانی قوم اور اسلامی نظام سے امریکہ کو ہر میدان میں مایوسی نصیب ہوگی۔ امام خامنہ ای نے اسلامی تبلیغات کونسل کے اراکین سے خطاب میں امریکہ کی ایران اور اسلام دشمن پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ بعض افراد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دشمن کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 40 برسوں میں ایرانی قوم اور اسلامی نظام کے خلاف امریکہ کی عداوتوں اور اور سازشوں کی شکست اور ناکامی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ایرانی قوم مستقبل میں بھی امریکہ کی ناک کو زمین پر رگڑ دے گی ، ایرانی قوم استقامت اور پائداری کے ساتھ ترقی اورپیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی۔

رہبر معظم نے امریکی حکومت کو دنیا کی بدترین اور فاسد ترین حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ داعش جیسے خوانخوار تکفیری درندوں کی حمایت کے علاوہ اسرائیل اور آل سعود جیسے دنیا کے جابر، ظالم ڈیکیٹر حکمرانوں کی حمایت کررہا ہے جو یمن کے مظلوم عوام کو خاک وخوں میں غلطاں کررہے ہیں۔ امام خامنہ ای نے مزید کہا کہ اسلامی تبلیغات کا سلسلہ مغربی ممالک کے پروپیگنڈے سے بالکل الگ اور جداگانہ ہے مغربی ممالک کے پروپیگنڈے میں جھوٹ اور مکر و فریب کے عناصر بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات اور تبلیغات میں سچائی اور صداقت پر زور دیا جاتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تبلیغ کے میدان کو بھی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں کی طرح میدان جنگ توصیف کرتے ہوئے فرمایا: "دشمن نے سیاسی، اقتصادی، فوجی، ثقافتی اور نشر و اشاعت کے میدانوں میں ہمارے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ہمیں ان میدانوں میں دشمن کی سازشوں اور کوششوں کے حوالے سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ دشمن نے جنگ کے طریقہ کار کو بدل دیا ہے آج استعمار سرد جنگ کے ذریعے شکست دینا چاہتا ہے، ایرانی قوم نے گذشتہ 40 برسوں میں ثابت کردیا ہے کہ نہ وہ کسی پر دھونس جمانا چاہتی ہے اور نہ کسی کی دھونس میں آنا چاہتی ہے، ایرانی قوم نے اپنی استقامت اور پائداری کے ذریعے اسلامی نظام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنادیا ہے۔ ہمیں ہر دور میں دشمن کی گھناؤنی سازشوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پہلے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "ایرانی قوم نے دشمن کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کے باوجود ہر شعبہ میں خاطر خواہ ترقی اور پیشرفت کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مزاحمتی اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرکے اقتصادی میدان میں بھی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ امام خامنہ ای نےکہا کہ دشمن نے جنگ کا طریقہ کار بدل دیا ہے، دشمن قومی، قبائلی اور لسانی سطح پر اختلافات پیدا کرکے فتنہ برپا کرنے کی کوشش کررہا ہے لہذا ہمیں باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دشمن کی اس ناپاک کوشش کو بھی ناکام بنانا چاہیے۔

وحدت نیوز(تہران) رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سامراج اور صیہونی محاذ کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان جنگ اور تنازعات پیدا کرنے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور حکم الٰہی سے وہ اس جنگ میں کامیاب بھی رہے گا۔ جمعرات کی صبح محبان اہلبیت اور تکفیریوں کے مسئلہ کے زیر عنواں تہران میں منعقدہ عالمی کانفرنس کے شرکاء اور مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اگرچہ عراق اور شام میں داعش کا کام تمام ہوگیا ہے، لیکن دشمن کی چالوں سے پوری طرح ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ، صیہونیزم اور ان کے دم چھلے، اسلام دشمنی سے باز نہیں آئیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ خطے میں داعش اور اسی طرح کی دوسری سازشیں تیار اور ان پر عملدرآمد کی کوشش کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ عالم اسلام، عالم کفر و استکبار کا مقابلہ کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے اور اسلامی شریعت کے مکمل نفاذ کا خواہاں ایران، دشمنان اسلام کے خلاف کامیابی کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے پچھلے چالیس برس کے دوران ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونیزم کی سازشوں، دباؤ اور پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کفر و استکبار کے مقابلے میں مدد کی ضرورت ہوگی، اسلامی جمہوریہ ایران مدد کرے گا اور اس معاملے میں کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اولین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین ہی دشمن پر غلبہ پانے کی کنجی ہے، کیونکہ کفر، سامراج اور صیہونیزم کے محاذ نے فلسطین جیسے اسلامی ملک پر غاصبانہ قبضہ کرکے، اسے خطے کے ملکوں کی سلامتی میں رخنہ اندازی کا اڈہ بنا رکھا ہے، لہذا اس سرطانی پھوڑے اسرائیل کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو ہوا دینے کا اصل مقصد اسرائیل کے گرد سکیورٹی حصار قائم کرنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ جس دن فلسطین، فلسطینی عوام کی آغوش میں واپس آجائے گا، اس دن عالمی سامراج کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ہم اس مقصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) ولی امر مسلمین جہان اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ کے نام اپنے پیغام میں فلسطین کا دفاع اور گذشتہ ستر برس سے اپنے غصب شدہ وطن کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ملت فلسطین کی مکمل حمایت اور مدد کو تمام مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری قرار دیا ہے۔
 
 فارس نیوز ایجنسی کے مطابق  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے خصوصی پیغام میں عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور دشمنی پیدا کرنے پر مبنی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے قیام، مسلمان اقوام کو آگاہ کرنے اور اسلامی ممالک میں جاری شدت پسندی کی فوری روک تھام کیلئے موثر اقدامات انجام دیں۔ ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کا حجاج کرام کے نام پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمان الرحیم
و الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین و آلہ الطاھرین و صحبہ المنتجبین۔
خداوند عظیم کا شکرگزار ہوں کہ اس سال بھی دنیا بھر سے مومنین کی بڑی تعداد کو حج ادا کرنے کی توفیق اور سعادت عطا فرمائی تاکہ وہ اس لذیذ اور جاری سرچشمے سے بہرہ مند ہو سکیں اور ایسے روز و شب خدا کے عظیم گھر میں بسر کر سکیں اور عبادت اور خشوع اور ذکر الہی میں گزار سکیں جن کی ہر مبارک گھڑی معجزہ گر اکسیر کی مانند قلوب کو منقلب اور جانوں کو پاکیزہ اور مزین کرنے صلاحیت رکھتی ہے۔

حج ایک رمز و راز سے بھرپور عبادت ہے اور بیت اللہ شریف، الہی برکات اور آیات الہی سے سرشار مقام ہے۔ حج ایک مومن، اہل خشوع اور غور و فکر کرنے والے بندے کو اعلی روحانی مقامات تک پہنچا سکتا ہے اور اسے ایک اعلی اور نورانی انسان بنا سکتا ہے۔ اسی طرح حج اسے ایک بابصیرت، شجاع، اہل عمل اور مجاہد شخص بنا سکتا ہے۔ اس بے مثال فریضے میں دونوں پہلو، روحانی اور سیاسی، انفرادی اور اجتماعی بہت زیادہ نمایاں اور واضح ہیں اور آج اسلامی معاشرہ ان دونوں پہلووں کا شدید محتاج ہے۔

ایک طرف مادہ پرستی کا جادو جدید آلات کی مدد سے انسانوں کو اغوا اور تباہ کرنے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف عالمی استکباری نظام کی پالیسیاں مسلمانوں میں فتنہ انگیزی اور دشمنی کی آگ لگانے اور اس طرح اسلامی معاشروں کو بدامنی اور اختلاف کی دوزخ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حج، امت مسلمہ کو درپیش ان دونوں بڑی بلاوں کیلئے شفا بخش نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حج، قلوب کو بھی تمام آلودگیوں سے پاک کر کے تقوی اور معرفت کے نور سے منور کرتا ہے اور آنکھوں کو بھی عالم اسلام کے تلخ حقائق پر کھولے جانے کا باعث بنتا ہے اور ان سے مقابلے کیلئے ارادوں کو مزید راسخ اور قدم کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ہاتھوں اور اذہان کو بھی فعالیت کیلئے تیار کر دیتا ہے۔

آج اسلامی دنیا بدامنی کا شکار ہے۔ اخلاقی اور روحانی بدامنی اور سیاسی بدامنی۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری غفلت اور دشمنوں کا بے رحمانہ حملہ ہے۔ ہم نے مکار دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں اپنی دینی اور عقلی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔ ہم "اشدّآء علی الکفّار" کو بھی فراموش کر چکے ہیں اور "رحّمآءُ بینَھُم" کو بھی بھول چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صیہونی دشمن عالم اسلام کے مرکز میں فتنہ گری میں مشغول ہے اور ہم فلسطین کی نجات پر مبنی اپنی یقینی ذمہ داری سے غافل ہو کر شام، عراق، یمن، لیبیا اور بحرین کی خانہ جنگی میں مصروف ہیں اور افغانستان، پاکستان وغیرہ میں دہشت گردی سے روبرو ہیں۔

عالم اسلام میں اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت اور سیاسی و مذہبی شخصیات کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وحدت پیدا کرنے اور سب کو قومی و مذہبی ٹکراو اور دشمنی سے روکنے کی ذمہ داری، اقوام کو صیہونزم اور استکبار کی دشمنی اور غداری کے طور طریقوں سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری، اسلامی ممالک میں جاری شدت پسندانہ اقدامات کی فوری روک تھام کی ذمہ داری جن کی تلخ مثالیں یمن میں جاری حادثات کی طرح آج پوری دنیا میں غم اور اعتراض کا باعث بن چکی ہیں، میانمار کے مظلوم مسلمانوں کی طرح ظلم و ستم کا شکار مسلمان اقلیتوں کا بھرپور دفاع کرنے کی ذمہ داری، اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ فلسطین کے دفاع کی ذمہ داری اور ایسی ملت کی غیرمشروط حمایت اور مدد کرنے کی ذمہ داری جو گذشتہ ستر برس سے اپنے غصب شدہ وطن کی آزادی کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔

یہ ہم سب کے کاندھوں پر اہم ذمہ داریاں ہیں۔ اقوام کو چاہئے کہ وہ اپنی حکومتوں سے ان ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہونے کا مطالبہ کریں۔ اسی طرح سیاسی و مذہبی شخصیات پختہ عزم اور خلوص نیت سے انہیں انجام دینے کیلئے عملی کوشش کریں۔ یہ اقدامات دین خدا کی نصرت کا یقینی مصداق ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے وعدے کی روشنی میں ان اقدامات میں مصروف افراد نصرت الہی سے بہرہ مند ہوں گے۔ یہ حج سے حاصل ہونے والے بعض درس ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم انہیں سمجھیں گے اور ان پر عمل پیرا ہوں گے۔

آپ سب کیلئے مقبول حج کی دعا کرتا ہوں، منی اور مسجد الحرام کے شہیدوں کی قدردانی کرتا ہوں اور خداوند متعال سے ان کے درجات میں بلندی کیلئے دعاگو ہوں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
سید علی خامنہ ای
7 ذی الحجہ 1438۔ (29 اگست 2017)

وحدت نیوز(سکردو)  مجلس وحدت مسلمین ضلع سکردو کے سکریٹری جنرل شیخ فدا علی ذیشان نے دولت اسلامیہ (داعش)کی طرف اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان اور روضہ امام خمینی پر فائرنگ کے نتیجے میں درجن بھر افراد کی شہادتوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای جیسی بابصیرت اور شجاع قیادت کی موجودگی میں داعشی پٹاخہ بازی ایرانی عوام کو خوف زدہ نہیں کرسکتی، اسوقت دنیابھر کے مستضعفین چاہے وہ یمن میں ہو، فلسطین میں، شام، عراق یا لبنان میں ، کیلئے آواز اٹھانے والے اور انکے حق میں مستکبرین سے ٹکر لینے والا ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہی ہے، جوایک طرف سامراجی طاقتوں سے دبایا نہیں جا رہا، تو دوسری طرف منافقین جہان کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دو طاقتیں کسی نہ کسی طرح سے اسلامی جمہوریہ کو سرنگوں کرنے کیلئے کوئی کسر رہنے نہیں دے رہا۔ اسی سلسلے کی کڑی حالیہ دنوں دولت اسلامیہ نامی درندوں کی جماعت کے ذریعے ایرانی پارلیمان اور روضہ امام خمینی کے باہر فائرنگ کے ذریعے خوف ہراس پھیلانا اور اسلامی جمہوریہ کو دنیا میں بدنام کرنا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کی زمام اس وقت بابصیرت ترین قیادت کے ہاتھوں میں ہیں جو کہ عراقی آمر کے ذریعے آٹھ سال تک جنگ کے باوجود بھی ثابت قدم رہے حالانکہ تب انقلاب ابتدائی دور میں اور بے شمار مسائل کا شکار تھا۔ اب چونکہ عالمی سامراج کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے، ایسے میں اسطرح کے حرکات انقلاب اسلامی کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ ضرور ثابت کریگی ، کہ مسلمانوں کی ہمدردی سمیٹ کر پس پردہ ان درندہ صفت گروہو ں کو پالنے والے، ان کو چلانے والے اور انکو سپورٹ کرنیوالے کون ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس حد تک گر سکتے ہیں۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree