The Latest

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے نا اہل وزیر اعلیٰ کا غیر دانشمندانہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کوکمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلیٰ جی بی سید مہدی شاہ کی طرف سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی صوبہ بدری کے حکم نامہ پر اپنے رد عمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ کی حب الوطنی اور وطن عزیز کے قیام سے لے کر آج تک ، قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہم ہی وہ ملت ہیں جنھوں نے جب بھی مادر وطن پر کڑا وقت آیا اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور آئندہ بھی اپنے خون کا آخری قطرہ اس ملک کی سالمیت، بقاء اور وقار کے لئے قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کے حکنمامے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین ضلع راولپنڈی اسلام آباد کے زیر اہتمام آج شام ساڑھے پانچ بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے جاری کیے جانے والے حکمنامہ جس میں علامہ ناصر عباس جعفری کو گلگت بلتستان چھوڑنے کا کہا گیا ہے ،کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیا جائے گا۔ پریس کلب کے سامنے کیے جانے والے اس مظاہرے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ، صوبائی اور ضلعی قائدین مظاہرین سے خطاب کریں گے۔

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار نقوی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلی کی طرف سے جاری ہونے والا بیان آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیا کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ بوکھلاہٹ کا شکا رہے۔ اسد عاشورہ کے موقع پر لاکھوں کے اجتماع نے یہ ثابت کر دیا کہ علامہ ناصر عباس جعفری ملت جعفریہ کے عظیم رہنما ہیں۔علامہ اقتدار حسین نقوی نے مزید کہا کہ اگر گلگت بلتستان کی حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو پر امن احتجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے ملکی شاہراؤں کو بلاک کر دیں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے لیے سکردو بدر ی کا حکمنامے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

Breakin thumb158ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا ہے کہ ہم صدر پاکستان اور وزیراعلی گلگت بلتستان کو متنبہ کرتے ہیں اگر انتظامیہ اپنی ان بزدلانہ کاروائیوں سے باز نہ آئی تو ملت جعفریہ اسلام آباد کی طرف رخ کرے گی اور ملت جعفریہ کا یہ سیلاب گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو بھی بہا کرلے جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ ناصر عباس جعفری کے جی بی حکومت کی طرف سے صوبہ بدری کے احکامات پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا تھا کہ ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کی مقبولیت سے گھبرا کر گلگت بلتستان کی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی مذموم حرکت کو ملت جعفریہ ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔عبدالخالق اسدی نے کہا کہ ہم حکومت گلگت بلتستان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اپنے اس مذموم منصوبہ سے فورا باز آئے اور میر جعفر، میر صادق جیسا کردار ادا نہ کرے ۔عبدالخالق اسدی نے کہا کہ اس وقت اسکردو میں عوام اس کارروائی کے خلاف سٹرکوں پر ہیں اور اپنے محبوب قائد کو اپنے حفاظتی حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ پورے اسکردو میں جگہ جگہ مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ پورے ملک کے اندر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور ہم ابھی تک عوام کو صبر و تحمل کی اپیل کر رہے ہیں اس وقت گلگت بلتستان میں وزیراعلی ہاؤس کو شیعہ عوام نے گھیر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح پنجاب کشمیر میں عوام کا ردعمل روکنا بھی کسی کے بس میں نہ ہو گا، لہذا حکومت پاکستان اور پیپلز پارٹی ہوش کے ناخن لے اور فوری طور پر حالات کو کنڑول کرے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی مہدی شاہ کو شائد معاملے کی نزاکت کا احساس نہیں، راجہ ناصر عباس پوری ملت جعفریہ کو لیڈ کر رہے ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ہتھکنڈا حکومت کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی کے متراف ہو گا۔

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے مکروہ عزائم جس میں انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی صوبہ بدری کے احکامات جاری کیے ہیں، کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سید مہدی شاہ کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈے نہ تو پہلے مجلس وحدت مسلمین کی راہ رکاوٹ بن سکے اور نہ ہی انہیں آئندہ خاطر میں لایا جائے گا۔ صوبہ بدری کے احکامات میں بیان کی گئی نقص امن کی وجہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بتائیں کہ سکردو میں نقص امن کا کیا مسئلہ ہے؟۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان امن ، اخوت اور رواداری کی علمبردار ہے جو اپنے قائد شہید کی فکر امن کو لے کر چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین میں درج اپنے بنیادی حقوق سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہو گے۔ انہوں نے گلگت بلتستان حکومت سے اس حکم نامے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ علامہ ناصر عباس جعفری کے لئے جاری کیے جانے والا صوبہ بدری کا حکم نامہ فوری منسوخ کیا جائے۔

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی طرف سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی صوبہ بدری کے احکامات پر شدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ بدری کے احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے اوچھے ہتھکنڈے ملی وحدت کو کمزور نہیں کر سکتے بلکہ آج انہوں نے دیکھ لیا کہ ایسے اقدامات نے ملت جعفریہ کی پہلے سے زیادہ متحد و متحرک کیا ہے۔ اگر جی بی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا اور کسی قسم کی زبردستی کی کوشش کی تو پھر حالات کی ذمہ داری نااہل وزیر اعلیٰ پر ہو گی۔

Breakin thumb158تشنگان کربلا کی یاد میں شمالی علاقہ جات کے مومنین ہر سال عشرہ اسد عاشورہ مناتے ہیں۔ جس میں سکردو سمیت گلگت بلتستان سے دسیوں ہزار عزادارن امام حسین علیہ السلام ماتمی دستوں کی شکل میں شریک ہوتے ہیں۔ سال رواں عشرہ اسد عاشورہ کی اہمیت پہلے سے کچھ یوںبھی زیادہ تھی کہ چند ماہ قبل محبان اہل بیت علیھم السلام کو محبت اہل بیت علیھم السلام کے جرم میں گاڑیوں سے اتار کر قومی شناختی کارڈ جس پر حسین، علی ، محمد، فاطمہ، یا دیگر آئمہ معصومین علیھم السلام کے نام یا پشت پر سے قیض ہٹا کر زنجیر زنی کے نشانات دیکھ کر یا تو زندہ جلا دیا گیا یا پھر انہیں گولیوں سے چھلنی کر کے میتوں کو تیزاب سے جلا دیا گیا۔تاریخ اسلام کے صفحہ پر یہ سیاہی بھی واقعہ کربلا کی طرح افکار یزید کے حاملین کے حصے میں آئی ہے۔اسد عاشورہ کے صوبے بھر سے آنے والے تمام جلوس حسینی چوک سکردو میں آ کر جمع ہوتے ہیں جہاں پر علماء و ذاکرین کا خطاب ہوتا ہے۔ اس بار منتظمین کی طرف سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کو حسینی چوک میں خصوصی خطاب کی دعوت دی گئی۔ علامہ ناصر عباس جعفری اور دیگر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی قائدین سکردو کے لئے جمعہ، ہفتہ اور اتوار تین دن لگاتا ائیر پورٹ جاتے رہے لیکن کچھ موسم کی خرابی اور کچھ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی بدنیتی کی وجہ سے سکردو کے لئے پرواز روانہ نہ ہو سکی۔ جس پر ناصر ملت علامہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد سے سکردو کا سفر بائی روڈ کرنے کا ارادہ کیا۔ان کے اس دورے کو سکیورٹی کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خفیہ رکھا گیا۔ جب علامہ ناصر عباس جعفری سکردوپہنچے تو ایم ڈبلیو ایم کی مقامی قیادت، زعماء ملت اور مومنین کی کثیر تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ منگل کے روز علامہ ناصر عباس جعفری نے سکردو میں دسیوں ہزار فرزندان ملت جعفریہ سے خطاب کیا۔ ہمیشہ کی طرح ان کے خطاب میں پاکستانیت، حب الوطنی، بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کا عنصر نمایاں تھا۔ پاکستانیت کا فروغ اور حب الوطنی کا علم مجلس وحدت مسلمین ہی لے کر چل رہی ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی کسی کے اجتماع اور کارنر میٹنگز میں پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے کے نعرے نہیں لگتے اور نہ ہی کوئی لیڈر یہ کہتا ہوا سنائی دے گا کہ مادر وطن گواہ رہنا تیرے ان فرزندوں نے تیرے ساتھ کبھی خیانت نہیں کی۔ رہ گئی بات مذہبی روا داری اور بین المسالک ہم آہنگی کی تو مجلس وحدت مسلمین پاکستان اپنے نام کیطرح ملک بھر میں امن، رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے اور حال ہی میں ملی یکجہتی کونسل کا احیاء علامہ امین شہیدی جو کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہی تو جہاں تمام مسالک اورخانقاہوں کے نمائندے ایک ہی میز پر بیٹھ کے عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے مسائل اور مذہبی رواداری کے ایجنڈے کو زیر بحث لائے، ورکنگ کا لائحہ عمل تیار کیا اور اب پر عملی اقدام کیے جا رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی قیادت کا طرہ امتیاز ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی ہر سطح پر منطقی مخالفت کرتی ہے ۔ یہ مخالفت محض ڈالرز، یا ریٹ بڑھانے کے لئے نہیں اور نہ ہی کسی خود ساختہ یا مستعارخرد ساختہ عناصر کے ایجنڈے کو عملی شکل دینے کے لئے ہے۔ بلکہ اس مخالفت کا محور پاکستانیت اور وطن عزیز کی سالمیت، خودمختاری اور اس کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہے جس کو مذکورہ بالا اسلام و پاکستان کے دشمن ممالک پامال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ قومی سلامتی کے معاملات ہوں یا ملکی داخلہ و خارجہ پالیسیاں اور ان میں امریکہ سمیت دیگر ممالک کی بے جا مداخلت مجلس وحدت مسلمین نے ہر سطح پر نہ صرف ارباب اقتدار کو متنبع کیا بلکہ عوامی سطح پر اس کے خلاف بھرپور اور موثر آواز بھی بلند کی ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے مزاج نازک پر جو چیز بہت زیادہ ناگوار گزری وہ یہ تھی کہ جب علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ملت جعفریہ کا ووٹ آئمہ معصومین علیھم السلام کی امانت ہے یہ کسی بھی ایسے شخص کو نہیں جانا چاہیے جو ملت جعفریہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے نسل کشی جیسے ظلم پر یا تو خاموش ہو یا پھر ان کی درپردہ مصلحتاًحمایت کرتا ہو۔ شیعیان علی علیہ السلام کو شناخت کے بعد چن چن کر زندہ جلایا جا رہا ہواور( اس کی احساس ملت کی حس جن کے ووٹوں نے اسے اس منصب تک پہنچایا) ہو مر چکی ہوملت جعفریہ ایسوں کو ووٹ نہیں دے گی۔ توکیا یہ حقیقت نہیں کہ سانحہ کوہستان اور چلاس میں جس بے دردی سے شیعہ مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا، تیزاب سے لاشوں کی بے حرمتی اور پتھروں سے سر کچلے گئے اس پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو ضابطہ اخلاق کی بجائے اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ گلگت بلتستان کی حکومت بیلنس کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی اور اس نے مجرموں کو تو گرفتار نہیں کیا لیکن مہدی شاہ کی حکومت نے ملت جعفریہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت سمیت مومنین کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مارے جاتے رہے۔ اب جب کہ حسینی چوک پر دسیوں ہزار فرزندان ملت جعفریہ جمع ہوئے اور سانحہ کوہستان و چلاس کے شہداء کا دکھ درد بھی ان کے سینوں میں تھا انہوں نے صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ تو موصوف وزیر اعلیٰ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے اور ان سے ملت جعفریہ کا اتحاد اور اپنے بنیادی حقوق آئینی کے لئے آواز بلند کرنا اچھا نہیں لگا۔ انہوں نے ناصر ملت علامہ ناصر عباس جعفری کا راستہ روکنے کی کوشش کی جو اپنے شہید قائد کی فکر امن لے کر یہاں پہنچے تھے۔ آج یعنی بدھ کے روز وزیر اعلیٰ کے حکم کو لئے ہوئے مجسٹریٹ پولیس کی ہمراہی میں سکردو کے مضافاتی علاقہ کچورہ جہاں علامہ ناصر عباس جعفری ٹھہرے ہوئے تھے ، سکردو بدری کا نوٹس لے کے آئے جس میں نقص امن کا خطرہ جواز بنایا گیا تھا۔جبکہ وزیر اعلیٰ بخوبی آگاہ ہیں کہ سکردو میں نقص امن کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ملت جعفریہ جتنا پرامن اور آئین پر عمل درآمد کرنے والا اور ہے ہی کون؟۔ وہاں پر موجود مومنین اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخی ہوئی۔ احتجاج ہوا ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مجسٹریٹ پولیس نفری کو لے کر واپس چلے گئے ۔
وزیر اعلیٰ کے حکم نامے کی خبر تو جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور گلگت بلتستان کے غیور عوام نے ناصر ملت کے ساتھ ہمدردی کا فقید المثال مظاہرہ کیا ۔ جیسے انہوں نے کہا تھا کہ میدان میں حاضر رہنے والے ہی کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں۔ جی بی کے عوام سڑکوں پر آ گئے ۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ علامہ ناصر عباس جعفری کو تو شہر بدر نہ کیا جا سکا لیکن ایسے اقدام کا تاریخ گواہ ہے کہ جو نتیجہ نکلتا ہے وہی نکلا کہ یہ اقدام ملی وحدت کو مزید تقویت دینے کا باعث بنا ہے۔۔ ملک بھر میں مذمتی بیانات اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔مومنین جوق در جوق سکردو کے مضافاتی علاقہ کچورہ کی طرف آنا شروع ہو گیاجس کا سلسلہ رات گئے تک جاری ہے۔ جمعرات کی رات احتجاج کے لئے سٹرکوں پر آنے والے فرزندان ملت سے علامہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت گیا جب حکمران انتظامی طاقت کے بل بوتے پر عزاداری کو روک دیا کرتے تھے۔ میں سکردو میں عزاداری کے لئے آیا ہوں ۔ مجلس وحدت مسلمین کی صوبائی قیادت نے جمعرات کے روز صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں اور ہڑتا ل کی کال دی ہے۔ کل شاہراہ ریشم بلاک ہو گی۔ جمعرات کے روز کراچی اور لاہور میں جی بی وزیراعلیٰ کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف احتجاجی پریس کانفرنسز کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بات بہرحال سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومتیں ہمیشہ محب وطن، پر امن اور آئین سے وفاداری کرنے والے عوام کی آواز ہی کیوں دبانے کے درپے ہو جاتی ہیں؟۔ کیا حب الوطنی جرم ہے؟ کیا آئین پاکستان کی دستاویز کو مقدس گردانتے ہوئے اس کا احترام اس پر عمل کر کے کرنا جرم ہے؟۔ ملت جعفریہ کا ہر فرد بس یہی سوال وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے کر رہا ہے؟؟؟؟؟
نجانے کون نا اہل اور عقل سے بے بہرہ مشیر ہے ان کا جو انہیں اس طرح کے مشورے دے رہا ہے۔ جس کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس کا نقصان کس کو ہو گا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی آئے روز اپنی عوامی پالیسیوں کی وجہ سے مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ مقبولیت میں نہیں بلکہ ملت جعفریہ کی وحدت اور بیداری میں ہے۔ ملت جعفریہ وحدت اور مخلص قیادت کی پیاسی تھی جو اسے ایم ڈبلیو ایم کی صورت میں ملی ہے۔ جس کا منشور امن اور اتحاد کا وہ پیغام ہے جو قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دیا تھا۔ شہید کا پیغام اور شہید کی فکر ہر اس کے لئے مشعل راہ ہے جو داعی امن اور ملک و ملت کے ساتھ مخلص ہے اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا منشور شہید حسینی سے شروع ہو کر شہید حسینی پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔

Breakin thumb158وہ زمانہ گذر گیا کہ حکمران اپنی انتظامی طاقت سے ہماری عزاداری روکتے تھے میں یہاں عزداری کے لئے آیا ہوں ۔ ہم پر امن لوگ ہیں ہم عادل امام کے پیرو کار ہیں ہماری کسء دشمنی نہیں مخالفت ہوگی وزیر اعلی نصحیت کرتے ہیں مخالفت کو دشمنی میں نہ بدلو اس کا نقصان تمہیں ہوگا۔ ہم لا ایندر کی صورتحال کو خراب نہیں کرنا چاہتے انتظانیہ چاہتی ہے خراب ہو ہمارانعرہ پاکستان بنایا تھا پاکستان بچاینگے ہے ناصرملت ہے دسیوں ہزار مظاہرین سے خطاب ۔۔۔۔خطاب جاری

Breakin thumb158مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری سکردو میں وزیر اعلیٰ کے حکم شہر بدری کے بعد احتجاج کرنے والے مظاہرین سے خطاب کر رہے ہیں۔اس وقت سکردو کے تمام روڈز بلاک کر دیے گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کا مومنین نے گھراؤ کیا ہوا ہے۔ قومی میڈیا پر چلنے والی خبریں غلط ہیں۔ تفصیل کچھ دیر بعد!


Breakinسانحہ کوہستان و چلاس کے بعد پہلا اسد عاشور ہ کا عشرہ، لاکھوںفرزندان ملت جعفریہ حسینی چوک میں جمع ، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کا تاریخی خطاب۔وزیر اعلیٰ کی نااہلی کے خلاف مومنین کی شدید نعرے بازی ،گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔جس کا اظہارانہوں نے آج ابھی سے کچھ ہی دیر قبل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کو پیغام کی صورت میںکیا کہ وہ اپنا دورہ گلگت بلتستان مختصر کرتے ہوئے واپس اسلام آبا د چلے جائیں۔ حکومتی پیغام صوبے بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور گلگت بلتستان کے عوام بلاتاخیر سڑکوں پر نکل آئے جنھوں نے سید مہدی شاہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کے مکروہ عزائم کے بعد جی بی کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ علامہ ناصر عباس جعفری سوموار کے روز اسد عاشورہ کے سالانہ پروگرام میں شرکت کے لئے بائی روڈ اسلام آباد سے سکردو پہنچے تھے۔ جہاں سکردو میں ایم ڈبلیو ایم کی مقامی قیادت ،علمائ، زعماء سمیت دسیوں ہزار مومنین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔منگل کے روز انہوں نے سکردو کے حسینی چوک میںملت جعفریہ کے لاکھوں کے تعداد میںجمع جی بی کے عوام سے خطاب کیا۔ سانحہ کوہستان اور چلاس کے بعد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا اظہار انہوں نے کل حسینی چوک میں جی بی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی صورت میں کیا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کے ترجمان نے وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا دورہ گلگت بلتستان مختصر نہیںکریں گے اور شیڈول کے مطابق واپس آئیں گے۔ اگر وزیر اعلیٰ نے کسی غیر ذمہ دارانہ اقدام کی کوشش کی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ کیونکہ پاکستان کے کسی بھی پاکستانی شہری کو کسی حکومتی اہلکار سے اپنی نقل و حرکت کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ علامہ صاحب اس وقت سکردو کے علاقہ کچورہ میں ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree