The Latest

ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ ملوث ہے انکشاف

انٹیلیجنس حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں موجود مختلف مراکز میں تربیت حاصل کی تھی۔

ہفتہ کو کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے پانچ انسپیکٹرز نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمان کے سامنے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔

اپنے بیانات میں انہوں نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کی تربیت اور صلاحتیوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ پانچوں انسپیکٹرز اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین اور شیخوپورہ میں سی آئی ڈی اسٹیشنز کے انچارج ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث افراد کو لشکر طیبہ کے کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ، مانسہرہ کے علاقے بٹل، ٹھٹہ کے علاقے میر پور ساکرو اور مظفر آباد میں تربیت فراہم کی گئی۔

اوکاڑہ میں تعینات سی آئی ڈی افسر کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کا ‘ آپریشنل کمانڈر’ تھا اور اس نے دوسرے عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔

انہوں نے بتایا کہ لکھوی کنڑ بھی جا چکا ہے، جہاں اس نے سویت فورسز کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا تھا۔

بیان کے مطابق، اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد کا رہائشی لکھوی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز آلات میں مہارت رکھتے ہیں۔

‘لکھوی آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ کا ‘ کمانڈر’ بھی رہ چکے ہیں’۔

دوسرے انسپیکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ حملوں میں ملوث ملزمان عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق اور شاہد جمیل ریاض کو بھی کالعدم جماعت کے مراکز پر تربیت فراہم کی گئی۔

بیان کے مطابق، ان سب ملزمان کو کراچی کے گڈاپ ٹاؤن میں یوسف گوٹھ کے قریب سمندر میں بھی ٹریننگ دی گئی تھی۔

فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پروسیکیوٹر چوہدری ذوالفقارعلی نے جج کو بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے والے انسپیکٹرز انتہائی ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے بیان جمع کرائے ہیں۔

علی نے مزید بتایا کہ ان انسپیکٹرز کی ملزمان کے خلاف کوئی ذاتی عناد نہیں اور کالعدم تنظیموں کے شدت پسندوں پر نظر رکھنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے۔

لکھوی کے وکیل خواجہ محمد حارث نے گواہوں سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے ملزمان کو لشکر طیبہ کے مراکز میں تربیت لیتے دیکھا تھا؟

گواہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نہ تو کبھی ان مراکز کا دورہ کیا اور نہ ہی کسی کو تربیت لیتے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کا ذریعہ مخبر تھے۔

اس موقع پر حارث نے کہا کہ گواہوں کو ان کے موکل کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی کوئی براہ راست معلومات نہیں اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی متعلقہ پولیس افسران کو اپنی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کیا۔

ڈان سے گفتگو میں حارث کا کہنا تھا کہ اگر جمع کرائے گئے بیانات میں سچائی ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افسران کوتائی کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ اگر اس طرح کے تربیتی مراکز کام کر رہے تھے تو یہ ان افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں بند کرانے کے اقدامات کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان افسران کو معلوم تھا کہ لکھوی اور ان کے ساتھی مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو انہوں نے ملزمان کو روکنے کے لیے ان کے نام ‘فورتھ شیڈول’ میں شامل کیوں نہیں کیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف فرضی کہانی گھڑی ہے اور پانچوں افسران کے بیانات اسی کہانی کا حصہ ہیں

h.zafar.naqvi.mwmدفاع عزاداری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی نے

کہا کہ کراچی میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں حکومتی ایجنسیاں ملوث ہیں جسکا مقصد ایام عزاء سے قبل خوف و ہراس پھیلانا ہے لیکن پاکستان کے باشعور سنی شیعہ مسلمان اتحاد و وحدت سے اس سازش کو ناکام بنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کی راہ میں آنے والی ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور عزاداری کے خلاف اٹھنے والی ہر انگلی کو کاٹ دیا جائے گا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے شیعہ اسکاﺅٹس سے اپیل کی کہ وہ پولیس و رینجرز پر بھروسہ کرنے کے بجائے مجلس و جلوس کی سیکیورٹی کے انتظامات خود کریں

mwm.sindhمجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ کراچی کو عملاً دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا ہے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 5شیعہ افراد کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ شہر کراچی میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی اور دیگر جماعتوں کی حکومت نہیں بلکہ کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کی حکومت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا محمد حسین کریمی سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مختار امامی نے کہا کہ شہر کراچی میں علامہ آفتاب حیدر جعفری، سید سعید حیدر زیدی کی شہادت کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اورنگی ٹاؤن اور ایف سی ایریا کے علاقے میں 6 شیعہ افراد کی شہادت سندھ پر حاکم تمام اتحادی جماعتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف تو امریکی پے رول پر پلنے والے دہشت گرد بانیان پاکستان کی اولادوں کا قتل عام کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کالعدم جماعت کے دہشت گردوں کو فون کرکے بانیان پاکستان کی اولادوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں ایمبولینسوں میں شیعہ آبادیوں پر حملے کررہے ہیں، ہم حکومت وقت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ان جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے تو پھر کس قانون کی بناء پر یہ اتنے آزاد ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ہمارے ملک کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا ان کی سرپرستی کرنے کے مترادف ہے۔

علامہ مختار احمد امامی نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے جرم میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو فی الفور برطرف کیا جائے اور کالعدم جماعتوں کی تمام تر سرگرمیوں کو روکا جائے ورنہ محرم الحرام میں ان جماعتوں کی شرانگیزی شیعہ قوم میں مزید اشتعال کا باعث بنے گی اور پھر بات علماء کے بس سے باہر ہوگی۔

mwmyouth01مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے زیر اہتمام محرم الحرام کے استقبال کے حوالے سے یوتھ کنونشن بعنوان لبیک یا حسین (ع) کنونشن وحدت ہاؤس گلگت میں منعقد کیا گیا۔ کنونشن سے خطاب ایم ڈبلیو ایم گلگت کے رہنما علامہ شیخ بلال سمائری اور گلگت کے سیکریٹری جنرل سعید الحسنین نے کیا جبکہ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم شعبہ جوان کے مرکزی سیکریٹری علامہ اعجاز بہشتی نے شرکائے کانفرنس سے خصوصی طور پر ٹیلیفونک خطاب کیا۔ علامہ اعجاز بہشتی نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کربلا والے ہیں اور حضرت امام حسین ؑ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتے ہیں، حکومت کراچی، کوئٹہ، پارہ چنار اور گلگت بلتستان میں ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرے ورنہ یوم عاشور کے جلوسوں کو روکا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

amin shahidiوفاقی دارالحکومت میں منعقدہ عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج کا اجتماع ان طاقتوں کی شکست ہے جو امت مسلمہ کو عالمگیر قوت بننے سے روکنا چاہتے ہی
عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل
علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ آج امت اپنے تمام امتیازات کے باوجود اس عظیم الشان اجتماع میں جمع ہے۔ یہ اجتماع ان قوتوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو امت مسلمہ کو عالمگیر قوت بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔

mwm.press.rajaمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے محرم الحرام سے قبل کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات محرم الحرام سے قبل ملک میں امن امان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی ایک گھناونی سازش ہے۔ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر سے جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات نے عوام میں موجود خوف وہراس میں مزید اضافہ کردیا ہے ،ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو ان دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہے ہیں

mwm.quetta01مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے زیر اہتمام بعد از نماز جمعہ مسجد و امام بارگاہ کلاں میکانگی روڈ پر اتحاد بین المسلمین کے داعی اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء شہید آفتاب حیدر جعفری سمیت کوئٹہ اور کراچی میں ملت جعفریہ کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی و پر امن مظاہر ہ کیا گیا۔ جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جلسے کے شرکاء نے پلے کارڈز اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ جس پر دہشت گردوں اور حکومتی نااہلی کے خلاف نعرے درج تھا۔ مظاہرین نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردوں اور وفاقی، صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اتحادبین المسلمین کے شعار بھی بلند کئے۔ مظاہرین سے امام جمعہ کوئٹہ اور رکن شوریٰ عالی مجلس وحدت مسلمین علامہ سید ہاشم موسوی اور علامہ ولایت حسین جعفری نے خطاب کیا۔

علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ علامہ سید آفتاب حیدر جعفری اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور مجلس وحدت مسلمین کے بے لوث رہنماء تھا۔ علامہ آفتاب حیدر جعفری کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائینگی۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کا قتل کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی دہشت گرد ایجنٹ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور نفرتیں ڈالنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ ان کہنا تھا کہ اس گھناؤنی سازش کی تمام زی شعور مسلمان، محب وطن پاکستانی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت کی وجہ سے پاکستان تباہی کی طرف جا رہاہے، ہمار ے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے امریکہ سے اپنے تعلقات کو فوری طور پر ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس ملک یا خطہ میں امریکہ کا اثر و رسوخ ہوتا ہے وہاں امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہم اتحاد بین المسلمین کے داعی اور علم بردار ہے۔ کوئٹہ سمیت پورے پاکستان میں کوئی سنی، شیعہ اختلاف نہیں، جس کا بین ثبوت ہمار ا اہل سنت کے علماء کے ساتھ اتحاد اور میل جول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام دشمن امریکی، اسرائیلی شیطانی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے اور مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی سازشوں کو انشاء اللہ ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کوئٹہ اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ اہل تشیع کی بے دردی کے ساتھ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو حکومتی پشت پناہی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ صوبائی حکومتی فوری طور مستعفی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نہتے بے گناہ کوئٹہ کے اہل تشیع کا خون کسی بھی صورت رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہداء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

mwm.amin.muzafargharمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا لیکن شروع دن سے ہی پاکستان مخالف قوتیں اس کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں، ملک دشمن عناصر کبھی ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں تو کبھی لسانیت کو ہوا دیتے ہیں، آج پاکستان کا ہر شہر کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ملت جعفریہ کے لوگوں کو چُن چُن کو شہید کیا جارہا ہے، ان خیالات کا ظہار اُنہوں نے مظفر گڑھ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی سیکرٹری تعلیم مجلس وحدت مسلمین یافث نوید ہاشمی ایڈووکیٹ، ضلعی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین علی رضا طوری اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔

qmommwmپاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج قوم پرستی ہے۔ پاکستان کی سیاست، پاکستان کا میڈیا اور تمام پاکستانی ادارے لا الہ الا اللہ کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز مذہبی شخصیت، بزرگ عالم دین اور قائد شہید کے باوفا ساتھی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مجلس نظارت کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ حیدر علی جوادی نے قم المقدسہ میں منعقدہ "پاکستان کو درپیش چیلنجز اور مبغلین کا کردار" سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ سیمینار مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم ، جامع روحانیت سندھ، ادارہ امید، سخن ولایت، جامع روحانیت بلوچستان، بصیرت آرگنائزیشن، ادارہ تنزیل، اسلامک تھاٹ قم، رحمت للعالمین فاونڈیشن، المجتبٰی فاونڈیشن سندھ، المصطفٰی فائونڈیشن، موسسہ علمی پژوھشی ابو طالب، تعلیمات و تبلیغات اسلامی بلوچستان اور المجتبٰی فائونڈیشن پنجاب کی جانب سے منعقد کیا گیا۔ علامہ حیدر علی جوادی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ان بحرانوں سے نکالنے کے لئے مبلغین، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے ذریعے اپنا بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں، جس کے لئے بنیادی شرط مبلغین کا اخلاص اور ان کا تقویٰ ہے۔ انہوں نے پاکستان کو درپش مختلف مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مبلغین کی دنیا داری کو پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا۔

کراچی میں معروف شیعہ اسکالر اور امامیہ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن کراچی ڈویژن کی ذیلی نظارت کے رکن سید سعید حیدر زیدی ٹارگٹ کلنگ کی پرُزور مذمت کرتے ہیں۔ شہر قائد میں جاری شیعہ نسل کشی میں کالعدم گروہوں کے ساتھ حکومت اور اُس میں شامل اتحادی جماعتیں ملوث ہیں۔ شہید سعید حیدر زیدی کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ شیعیان حیدر کرار (ع) کی نسل کشی اور ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر ہم گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے وحدت ہاؤس سے جاری اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی شہ نہیں ہے اور دہشت گردوں کی عملی حکمرانی ہے، سعید حیدر زیدی کی پوری زندگی اتحاد بین المسلمین اور امریکہ مخالفت کیلئے وقف تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سعید حیدر زیدی کی شہادت کے بعد ملت جعفریہ بالخصوص ملت اسلامیہ بالعموم عظیم مفکر اور دانشور سے محروم ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے امریکہ مخالف علماء کرام و اکابرین کے قتل عام میں کالعدم گروہوں کے ساتھ حکومت وقت اور اُس کی اتحادی جماعتیں اور ریاستی ادارے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ گذشتہ 72 گھنٹے میں کراچی سمیت پورے پاکستان میں 30 سے زائد شیعہ علماء، جوانوں اور دانشوروں کا قتل عام حکومتی وجود پر سوالیہ نشان ہے۔ شہر کراچی میں تسلسل کے ساتھ شیعیان حیدر کرار (ع) کی نسل کشی اور ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر ہم گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا مسند حکومت پر مزید بیٹھنا ملت جعفریہ کے تحمل کی بات نہیں ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree