وحدت نیوز(بیروت) حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکہ اور اور سعودی عرب کو داعش کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔ جنوبی بیروت میں اربعین حسینی کے موقع پر عزاداروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے داعش کو بنایا تھا، تاہم اسلامی انسانی اقدار کے خلاف اتنی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کی مکمل نابودی نزدیک ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو ریاض بلا کر یرغمال بنا رکھا ہے اور انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری سے زبردستی استعفٰی دلوا کر نہ صرف لبنانی وزیراعظم بلکہ پوری لبنانی قومی کی توہین کی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب نے لبنان پر حملے کے عوض اسرائیل کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ سن دو ہزار چھے میں بھی سعودی عرب کے کہنے پر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان کی موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اسی طرح اربعین مارچ کو بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال بھی کروڑوں افراد چہلم کے موقع پر کربلا آئے، جن میں ہر ملک اور ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعودی عرب پر لبنانی وزیرِاعظم سعد حریری کی گرفتاری اور اسرائیل کو حملہ کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے سعد حریری کے حوالے سے ان کے وزارت عظمٰی سے استعفٰی دینے کے فیصلے پر دوسرا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے وزیرِاعظم کو سعودی عرب نے قید کر رکھا ہے اور انہیں اب تک لبنان واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعد حریری کی صورتحال اب تک واضح نہیں، لیکن ان کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز جن میں ان کے سیاسی مخالفین کی کالز بھی شامل ہیں، سے واضح ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سبکدوش لبنانی وزیرِاعظم کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی ہے۔ لبنان کے 47 سالہ سعد حریری نے اچانک 4 نومبر کو لبنانی وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اتفاق سے اسی دوران سعودی عرب میں اعلٰی شخصیات کی گرفتاریوں کی مہم کا آغاز ہوگیا تھا، تاہم اب تک سعد حریری نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب سعودی عرب واپس لبنان پہنچیں گے، جہاں صدر میشال نعیم عون ان کا رسمی طور پر استعفٰی قبول کریں گے۔

گذشتہ روز (10 نومبر کو) لبنان میں موجود سعودی سفیر ولید بخاری سے ملاقات کے بعد لبنانی صدر میشال نعیم عون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سعد حریری کو لبنان واپس آنا چاہیے، لیکن انہوں نے لبنان کے وزیراعظم کی ریاض میں موجودہ حالت کا ذکر نہیں کیا۔ صدر میشال نعیم عون نے سعودی سفارت کار ولید بخاری سے ملاقات کے دوران ان حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا کہ جن کی وجہ سے سعد حریری کا استعفٰی قابلِ قبول نہیں۔ لبنانی صدر جن کی سیاسی حمایتی جماعت حزب اللہ جو سعودی عرب کی شدید مخالت ہے، سعد حریری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی حکومت سے ان کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلر سن نے سعد حریری کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہوئے لبنان کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کو لبنان کی سرزمین کو پراکسی وار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے لئے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، لبنان کی خود مختاری، آزادی اور سیاسی اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ لبنانی کی خود مختادی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔

لبنان اور سعودی عرب سے گہرے تعلقات رکھنے والے فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے 9 نومبر کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اچانک دورہ کیا۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی ریڈیو پر بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ سعد حریری کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں، تاہم اس حوالے سے لبنانی سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ انہیں نظر سعودی عرب میں نظر بند کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعد حریری فرانسییسی صدر کے دورہ یو اے ای سے قبل ابوظہبی میں موجود تھے، جس سے ہمیں لگتا ہے کو وہ آزاد ہیں۔ سعودی عرب سے موصول ہونے والی مبینہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسانا انتہائی خطر ناک عمل ہے۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے لبنان میں دوسری عالمی علماء کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزاحمتی تحریک کی عالمی علماء یونین کے سربراہ شیخ ماہر حمود کے نام اپنے پیغام میں اسرائیل کے خلاف جدوجہد اور جہاد پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی اور نجات کے مقدس جہاد کے سلسلے میں اللہ تعالٰی کا وعدہ قطعی اور یقینی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی اور نجات کے سلسلے میں اسلامی ممالک کے علماء، دانشوروں اور سیاستدانوں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس مقدس جہاد میں اسلام اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہے اور آج علماء اور دانشوروں کی کانفرنس اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ لبنان میں دوسری عالمی علماء کانفرنس بیروت میں فلسطین کے عنوان سے آج شروع ہوئی، جو کل تک جاری رہے گی۔ شیخ ماہر حمود نے کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک کی عالمی علماء یونین کی کانفرنس بالفور اعلامیے کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے اور اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ فلسطین علاقے کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ واضح رہے کہ بالفور اعلامیہ یا ڈکلیریشن  1917ء میں اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ آرٹر جیمز بالفور نے صیہونی سیاستدان اور برطانوی رکن پارلیمنٹ والٹرروٹشیلڈ کو خطاب کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ جس میں سرزمین فلسطین میں اسرائیلیوں کو بسانے کی بات کی گئی تھی اور یہ اعلامیہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی تشکیل کا نقطہ آغاز شمار ہوتا ہے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ امریکہ اور مغرب کمزور ہوچکے ہیں۔ امریکہ و اسکے اتحادی اب متحد نہیں رہے اور آپس میں اختلافات کا شکار ہوچکے ہیں، جسکے باعث شام، عراق، افغانستان، یمن سمیت عالم اسلام میں وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ عالمی طاقت اب ایشیا منتقل ہوچکی ہے۔ مستقبل ایشیا اور اسلام کا ہے۔ شام و عراق میں امریکی ایماء پر ہونے والی خانہ جنگی کا آغاز دراصل اسلامی و ایشیائی ممالک کو توڑنا تھا۔ امریکی اسرائیلی بلاک ناصرف پاکستان اور ایران بلکہ چین و روس کو بھی تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ امریکی بلاک خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہمارے وطن عزیز پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے شام و عراق میں شکست فاش سے دوچار ہونے والی عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے نجس وجود کو پاکستان میں پروان چڑھا کر یہاں تکفیریت و فرقہ واریت کی سازش کے ذریعے مسلمانان پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ انتالیس ممالک کا فوجی اتحاد امریکہ و اسرائیل نے دراصل اسلام و ایشیا کیخلاف بنایا ہے، تاکہ ایشیا و اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اندر سے ہی کمزور کرکے ختم کیا جا سکے۔ امریکی سربراہی میں بننے والے انتالیس ملکی فوجی اتحاد کا مقصد ایشیائی بالخصوص مسلم ممالک کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا ہے، تاکہ ایشیا کی طاقت کو توڑ کر مغرب کی بالادستی کو برقرار رکھا جاسکے۔ پاکستان ایشیا کا اہم اسٹراٹیجک مرکز ہے۔ یہ 5 ارب لوگوں کو آپس میں ملاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے تین روزہ دورہ کوئٹہ کے دوران ریڈ روز کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس  موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا، امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علامہ ولایت حسین جعفری سمیت دیگر علماء وعلاقہ معتبرین نے بڑی تعداد میں خصوصی طور پر شرکت کی۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جائے تو پورا ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ چین کی اقتصادی ترقی سی پیک منصوبے یعنی ون بیلٹ ون روڈ سے منسلک ہے۔ امریکہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندوں، طالبان، داعش، لشکر جھنگوی و دیگر تکفیری گروہوں کے ذریعے کمزور کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پاکستان کو تقسیم کرکے ایران، ترکی اور چین کی تقسیم کی راہ ہموار کی جاسکے۔ پاکستان سمیت عالم اسلام کے تحفظ اور دشمن کی نابودی کیلئے امام مہدی کے ظہور کے منتظرین کو متحرک ہونا ہوگا۔ پاکستان کے سنی شیعہ مسلمانوں نے اپنے شعوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان میں تکفیریوں کے ذریعے خانہ جنگی کی امریکی اسرائیلی و بھارتی سازش کو ناکام بنایا۔ لیکن ہمارے اداروں کی غلط حکمت عملی و امریکی نوازی کے سبب دشمن جنگ ہمارے وطن عزیز میں لے آنے میں کامیاب ہوا۔  ان  کا مزید کہنا تھا کہ ضیاء الحق کی سوچ اور اسکی اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کے تمام محب وطنوں کو قتل کیا۔ ضیا سوچ کے پروردہ تکفیری دہشتگردوں کا اہم ترین ہدف پاکستان میں فکر کربلا کی حامل ملت تشیع کو کمزور کرنا ہے، تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے۔ کیونکہ دشمن سمجھتا ہے کہ ملت تشیع کے ہوتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اسی لئے کئی دہائیوں سے ملک میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عالمی استکبار نے تکفیری دہشتگرد عناصر کے ذریعے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کروایا، لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران خاموش رہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ملت تشیع وطن کو بچانے کیلئے منظم ہو کر جدوجہد کرتی رہے گی۔ اسی قائد و اقبال کے پاکستان کا حصول بھی اسی جدوجہد کا ہی ایک اہم ترین حصہ ہے۔ دشمن پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے یہاں فرقہ واریت پھیلانا چاہتا ہے۔ جسے محب وطن ملت تشیع کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیگی۔ ضروری ہے کہ فرقہ واریت و تکفیریت کی سازش کے خلاف تمام محب وطن عوام اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید فروغ دیں۔ ہمیں شیعہ سنی اتحاد کے فروغ کیلئے مزید تیزی کیساتھ کام کرنا ہوگا اور دیگر مذاہب کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اپنے وطن کا دفاع و حفاظت ہمارا دینی و قومی فریضہ ہے۔ اسلام دشمن اور ایشیا دشمن سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ الحمداللہ ملت تشیع کے اپنے اہلسنت بھائیوں کے ساتھ بھرپور روابط و ہم آہنگی ہے۔ پاکستان کے شیعہ و سنی، سکھ و عیسائی سب ملکر امریکی و عالمی استکبار کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ پاکستان کو منحوس امریکی و سعودی اتحاد سے نکلنا ہوگا۔ پاکستان کو راحیل شریف کی فوجی اتحاد کیلئے جاری کی گئی این او سی کو منسوخ کرنا ہوگا، کیونکہ راحیل شریف کی انتالیس ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی پاکستان و ایشیا کیخلاف امریکی و اسرائیلی سازش ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ مودی کے اسرائیل کے دورہ میں اسرائیلی مبصرین کا یہ اعتراف کہ فوجی ممالک کا اتحاد ہمارے بلاک کا حصہ ہے۔ لہٰذا ہمیں امریکی، اسرائیلی و بھارتی ایجنڈے سے باہر نکلنا ہوگا۔ پاکستان کو روس، چین اور ایشیا کے بلاک کا حصہ بننا چاہیئے، تاکہ ہمارے ملک میں خوشحالی اور امن و امان کا قیام ممکن ہوسکے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب ہماری بات سنی و سمجھی جا رہی ہے۔ آرمی چیف کا پاراچنار جانا اور شہداء پاک وطن سے یکجہتی قابل تحسین ہے۔ مقتدر قوتوں کو محب وطن ملت تشیع کی باتوں کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان بہت نازک وقت سے گزر رہا ہے۔ ہمیں باخبر رہنا ہوگا کہ آج مغرب نواز حکمرانوں نے کرپشن کیخلاف تحقیق کرنے والے قومی اداروں اور عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو داخلی مشکلات کا شکار کیا جائے اور قومی اداروں کو کمزرو کیا جائے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ غیرت کا مظاہرہ کیا جاتا، نہ کہ اپنی خیانتوں کو چھپانے کیلئے قومی اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی۔چھ اگست کو انشاء اللہ ہم قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کی مناسبت سے اسلام آباد میں عظیم الشان "مہدی برحق کانفرنس" کا انعقاد کر رہے ہیں۔ جو محب وطن ملت تشیع کی جدوجہد کے حوالے سے اہم سنگ میل ثاب ہوگی۔ تمام محب وطن اکائیاں ملکی حساس حالات و صورتحال میں اس اجتماع کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھارتی وزیر اعطم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ عالمی امن کو تباہ کرنے کی کڑی ہے،انہوں نے کہا کہ مودی کوتلیا چانکیاکا پیروکار ہے،بھارت اسلام اور انسانیت دشمنوں کیساتھ مل کر عالمی امن کو تباہ کرنے کے درپے ہے،بھارت کشمیر میں اور اسرائیل فلسطین میں مسلمانوں کے نسل کشی کے مجرم ہیں، خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی یہ بھارتی کوشش بھارت کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دے گی۔پاکستان کو غیر مستحکم یا تنہا کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔پاکستان کو کمزور سمجھنے والے ذہنی عارضے کا شکار ہیں۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی بھی دشمن کے دانت کٹھے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔کشمیر ی عوام پر بھارتی مظالم اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر عالم اسلام کو سخت تشویش ہے،اسرائیل اور انڈیا کو مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے خون ناحق کا حساب دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف اسرائیل کی طرف سے بھارت کی غیر مشروط مدد اور حمایت کا اعلان اسلام دشمنی کی بنیاد پر ہے۔بھارت،اسرائیل اور امریکہ وہ شیطانی قوتیں ہیں جو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں،ان سے کسی نفع کی امید لگانا خام خیالی اور خود فریبی ہے،اسلام کے نام پر بننے والا فوجی اتحاد اسرائیل کی بقا و سلامتی کے لیے کام کر رہا ہے۔مودی کا حالیہ دورہ اور اسرائیل کے ساتھ آل سعود کا ہمدردانہ رویہ ایک ہی ایجنڈے کی کڑیاں ہیں،انہوں نے کہا دنیا کی باطل قوتیں تیزی سے مجتمع ہو رہی ہیں،امت مسلمہ کو اپنے دوست اور دشمنوں کی شناخت کرنا ہو گی،مودی کے قدامات پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اضطراب کا باعث ہیں،پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ بھارت کے منافقانہ طرز عمل پر دوٹوک موقف اختیار کرے اور امت مسلمہ بھارت اور اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر کے غیرت ایمانی کا ثبوت دے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے پاس جاؤ گے تو ان جیسے ہوجاؤ گے، امام خمینی نے خطے میں ان چار ستونوں میں سے ایک ستون کو گرا دیا جو استعماری مقاصد کے آلہ کار تھے، انہوں نے تہران میں اسرائیل کا سفارت خانہ ختم کرکے اسکی عمارت فلسطین کے حوالے کر دی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام قومی سیمیناربعنوان یوم آزادی پاکستان ویوم القدس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخری جمعے کو قدس کی آزادی کےلیے باہر نکلیں، عالم اسلام کا یہ حال ہے کہ مختلف عرب ملکوں کی جنگیں اسرائیل کے ساتھ ہوئی ہیں، کسی نے آج تک اسرائیل کو نشانہ نہیں بنایا۔ حماس اور فلسطین کے عوام کے سوا کسی نے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا، جو امریکیوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں گے اور رقص کریں گے وہ کبھی فلسطین کو آزاد نہیں کروا سکتے۔ آج امریکہ شکست کھا رہا ہے۔ 41ممالک کا اتحاد امریکہ و اسرائیل کو بچا رہا ہے، ہم کسی ایسے الائنس کا حصہ نہیں بنیں گے جو امریکی مقاصد کو پورا کرے۔ ملی یکجہتی کونسل مبارک باد کی مستحق ہے، جس کے تحت قبلہ اول کی آزادی کے لیے پاکستان کے تمام مسلمان اکٹھے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام القدس کانفرنس میں جمعہ کے روز یوم القدس منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس نے جنرل (ر) راحیل شریف کو واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا۔ اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام القدس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے خطاب میں کہا کہ اس وقت دنیا پر یہود و نصاریٰ کا تسلط ہے اسرائیل کو محفوظ بنانے کے لئے امریکہ ورلڈ آرڈر دیتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ 5 سو ارب ڈالر کے معاہدوں سے سعودی عرب کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ قطر کو چھوٹا ملک سمجھنے والے احمق ہیں۔ ہمیں عرب اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور جنرل راحیل شریف کو واپس بلانا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے اس پر آشوب اور پر فتن دور میں ہمیں قرآنی دستورات پر عمل کرنا چاہئے اگر ہم نے قرآن فرامیں سے دوری اختیار کی تو ہمارا شمار ظالمین میں ہو گا اور ظالمین کے راہ ہدایت ممکن نہیں قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہے : یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بنائو اگر ایسا کرو گے تو تم ان جیسے ہو جائو گے یعنی اگر وہ ظالم ہیں تو تم بھی ظالم ہو جائو گے اور ظالم لوگ ہدایت نہیں پاسکتے ۔ ہمارا سوال ملت اسلامیہ کے حکمرانوں سے یہ ہے کہ ہم کیوں قرآن کی مخالفت میں چل رہے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں !؟کیا ہمیں امت اسلامی کے مسائل دیکھائی نہیں دیتے ۔ کیا مسئلہ فلسطین کے لئے آواز اٹھانا صرف ہماری ذمہ داری ہے اور باقی سب بری الذمہ ہیں ۔ ایسا نہیں ہے۔ ہم تو جہاں تک ہو سکا اپنی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ اور اللہ کا وعدہ بھی ہے ۔ اگر تم تعداد میں کم بھی ہو تو تم ہی کامیاب ہو گے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے مسائل سے فرصت نہیں ۔وہ ذاتی مشکلات میں پڑے ہیں اور سرگرداں ہیں ۔ انہیں اس سے کیا کہ عوامی مسائل کیا ہیں ملت اسلامی کے متعلق ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے ۔ انہیں تو اتنا ہوش بھی نہیں ہم کیا کررہے ہیں ہم کیوں کسی کی جنگ کا حصہ بن رہے ہیں کیا اس پہلے ہم یہ عذاب بھگت نہیں رہے کیوں حکومت نے این او سی جاری کیا اور راحیل شریف کو اس اتحاد کا سربراہ بنایا جس کے بارے ابھی نہیں معلوم کہ اس اتحاد کے اہداف اور مقاصد کیا ہیں ۔ جس اتحاد کا ہم حصہ بنے ہیں کیا اس اتحاد میں بیت المقدس کی آزادی  ، مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کچھ ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو میں آرمی چیف سے کہتا ہوں کہ فوراً راحیل شریف صاحب کو واپس بلائیں ۔

انہو ں نے مذید کہا کہ آج کے اس سیمینار کا مقصد ملت مظلوم فلسطین سے اظہار یکجہتی اور یوم القدس کو بھرپور انداز میں منانا ہے ۔ تمام امت مسلمہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے متحد ہے ۔ حکمران اس مسئلے سے امریکہ کی خوشنودی اور آل سعود و آل یہود سے وابستگی کی بنا پر لاتعلق ہیں ۔ حضرت امام خمینی ؒ نے اس مسئلے کو اسلام کا اساسی مسئلہ قرار دیا تھا ۔ اور فرمایا تھا کہ فلسطین کے اندر اسرائیل کا وجود مسلمانوں کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے ۔ بس ہمیں وحدت واتحاد کے ساتھ اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہے ۔ میں تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس سال یوم القدس کو ایک ساتھ منانے کی حامی بھر لی ہے ۔ انشاءاللہ ہم کشمیر ڈے پر ایک ساتھ اور ایک ہی موقف اپنائیں گے ۔ان شاءاللہ۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ آئندہ جمعہ کو تمام مسالک یوم القدس کے طور پر منائیں گے، القدس کانفرنس سےپاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر بخاری، پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما سینٹر ظفر علی شاہ، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما میاں محمد اسلم، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما  فواد چوہدری ، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما ناصر شیرازی،  سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا ، ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کی مرکزی رہنما محترمہ نرگس سجاد جعفری سمیت دیگر سیاسی ومذہبی شخصیات نے خطاب کیا۔

Page 1 of 13

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree