وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کی فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے، ملک بھر میں عزاداری کے اجتماعات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، ملک بھر میں کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کا الیکشن لڑنا نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے، بزرگ علماء کرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنا، علامہ مرزا یوسف کی گرفتاری، ریاستی جبر کیخلاف آواز حق بلند کرنے والے علماء و ذاکرین کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر کاٹنا ریاستی اداروں کی کالعدم جماعتوں کی سرپرستی کا ثبوت ہے، ریاستی ادارے شیعہ آبادیو ں میں مسلسل چھاپے مار رہے ہیں، ہمیں وجہ بتائی جائے اور گرفتار شدگان کوورثاء کو ملنے کی اجازت دی جائے۔ ان خیالات کا اظہارایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں علامہ مبشر حسن، علامہ علی انور جعفری، علامہ صادق جعفری، میر تقی ظفر، ناصر حسینی نے وحدت ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک ایسی جماعت ہے جو ہمیشہ دہشت گردی اور تکفیریت کے خلاف رہی ہے، جو ادارے اور شخصیات دہشت گردی کے خلاف ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت نے بیلنس پالیسی کے نام پر ایک عجیب منطق اپنائی ہے جس کے بناء پر دہشت گردوں کو پکڑ کر رہا کیا جاتا ہے اور ہمارے پر امن علماء اور اہم شخصیت کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر انہیں حراست میں لیا جاتا ہے، علامہ مرزا یوسف حسین سمیت مختلف اہم شخصیات کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں ہتھکڑیاں پہنا کر ایک مجرم کی طرح عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گرد جو ملک میں انتشار پھیلاتے ہیں، دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہوتے ہیں، سرے عام تکفیریت کو فروغ دیتے ہیں اور وارداتوں کے بعد اخبارات میں بیانات دے کر ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور قاتل کو مقتول کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کر کے دونوں کے ساتھ ایک سا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی خواہشات پر ملت جعفریہ کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، آغاز ایام عزاء سے اب تک 13 اہل تشیع مرد، خواتین اور معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، لیکن کالعدم دہشت گرد تنظیموں اوران کے سیاسی و مذہبی سرپرست سہولت کا سندھ حکومت کے تحفظ میں آزاد گھوم رہے ہیں اور آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن اب تک اہل تشیع مسلمانوں کے قاتل کسی دہشت گرد کی گرفتاری نہ ہونا وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے مختلف شہروں میں دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپس اور اڈے موجود ہیں، کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیاں جاری ہیں، کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم تنظیمیں ناصرف آزادانہ فعالیت جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ آئے روز محب وطن اہل تشیع مسلمانوں کو دہشتگردی و بربریت کا نشانہ بنائے ہوئے ہے، سندھ سمیت ملک بھر میں افراتفری و بدامنی پھیلانے کی سازشوں میں مصروف کالعدم دہشتگرد تنظیمیں ہی ملکی سالمیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، محب وطن ملت تشیع کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، صورتحال جاری رہی تو ملت جعفریہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف صوبے بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی، لہٰذا پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت حکومتی صفوں میں موجود کالعدم تنظیموں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرکے ملت جعفریہ کے تحفظات دور کرے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی ادارے کالعدم جماعتوں کیخلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں، کالعدم جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کے اثاثوں اور ریاستی اداروں پر دہشت گردی کی کاروائیاں کی ہیں، حکومت نیشنل ایکشن پلان کی روح کے مطابق ان کیخلاف کاروائی کرے، حکومت پاکستان ملک میں دہشت گردی ختم کرنا چاہتی ہے تو کفر کے فتوے بلند کرنے والے افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائے، وہ علماء جنہوں نے میشہ پاکستان کی سلامتی کی بات کی، جو وطن دوستی کا سبق پڑھاتے ہیں، علامہ مرزا یوسف جنہوں نے ہمیشہ امن دوستی کا پیغام دیا، اتحاد بین المسلمین کا پرچار کرتے رہے، تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل کر دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کی، محض بیلنس پالیسی کے تحت انہیں پابند سلاسل کیا گیا اور جن لوگوں نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی ان پر بھی بے بنیاد ایف آئی آر بنادی گئی، یہ کونسا قانون ہے کہ آپ قاتل اور مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑا کررہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان دہشت گردوں کیخلاف بنا تھا لیکن اس کا رخ پرامن عوام کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہونا تو یہ چاہیئے کہ شہر کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ حکومت بیلنس پالیسی کی بنیاد پر شیعہ آبادیوں میں چھاپے ماررہی ہے، جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چہلم امام حسین (ع) پر کراچی سمیت سندھ بھر میں سیکورٹی کو فول پروف بنایا جائے، اربعین امام حسین کے موقع پر سندھ بھر میں ماتمی جلوس برآمد ہونگے جن کی سیکورٹی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، شیعہ آبادیوں میں بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے، علامہ مرزا یوسف حسین سمیت دیگر شیعہ اکابرین پر بے بنیاد مقدمات کو فوری واپس لیا جائے، کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے الیکشن لڑنے والے افراد کو ناہل قرار دیا جائے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے پاراچنار میں ایف سی کی فائرنگ سے چار افراد کی شہادت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا پارا چنار میں پولٹیکل انتظامیہ کے حکم سے فرنٹیر کانسٹیبلری اور لیویز کے اہلکاروں کی جانب سے پُرامن احتجاج کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ ریاستی دہشت گردی ہے۔ کچھ نادیدہ طاقتیں کرم ایجنسی کے محب وطن باسیوں کو ملک دشمنی پر اکسانے کے لئے مشتعل کر رہی ہیں۔ ان مذموم ہتکھنڈوں کے مرتکب ملک دشمن ایجنٹوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ولادت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں سے علماء، نعت خوان اور شعراء حضرات کرم ایجنسی میں مدعو تھے۔ جنہیں محض اس لئے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، تاکہ حالات کو دانستہ طور پر کشیدہ کیا جا سکے۔ اس ناانصافی پر صدائے احتجاج بلند کرنے والوں پر فائرنک کرکے متعصب پولٹیکل انتظامیہ نے چار افراد کو شہید جبکہ دس سے زائد افراد کو شدید زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے شہریوں کو احتجاج کا قانونی و آئینی حق حاصل ہے، لیکن پولٹیکل انتظامیہ پاکستانی آئین سے کھلم کھلا انحراف برت رہی ہے۔ پارا چنار کے عوام کے ساتھ اس ظالمانہ سلوک کا مذکورہ انتظامیہ کو جواب دینا ہوگا۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ پولٹیکل ایجنٹوں کی شرپسندی کے باعث پیش آیا۔ کرم ایجنسی میں ہر سال اس اہم موقع پر پولٹیکل انتظامیہ کی طرف سے جان بوجھ کر فساد برپا کیا جاتا ہے۔ ملک دشمن عناصر اپنے ان آلہ کاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ کرم ایجنسی کے مکینوں نے ہمیشہ حب الوطنی کو مقدم رکھتے ہوئے اعلی مثالیں رقم کی ہیں، انہیں محب وطن ہونے کی سزا گولیوں سے چھلنی کرکے دی جا رہی ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔ ملت تشیع ایک طرف دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور دوسری طرف ریاستی جبر سے انہیں دبایا جا رہا ہے، جو سراسر ظلم اور غیر منصفانہ طرز عمل ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ نے فرنٹیر میں اپنی بادشاہت قائم کر رکھی ہے، وہاں میڈیا کے لوگوں کو بھی ان مظالم کے خلاف کھل کر بولنے نہیں دیا جاتا۔ حکومت کی مصلحت پسندی کے باعث ملت تشیع کے لئے پورے ملک میں حیات تنگ کی جا رہی ہے۔ چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہی دن میں چار شیعہ ماہرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کراچی میں سول سوسائٹی کے ممتاز رہنما خرم ذکی کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین دہائیوں میں ستر ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ہم کب تک لاشوں کو کندھے دیتے رہیں گے۔ ہمارا چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، کور کمانڈر پشاور اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ ہے کہ پارا چنار میں نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے والے اہلکاروں اور ذمہ داران کے خلاف فوری ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے اور کرم ایجنیسی کے رہائشیوں کے ساتھ امتیاز سلوک بند کیا جائے۔ آئین کی رو سے ہر شخص مذہبی آزادی حاصل ہے، اس آزادی کو سلب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملک بھر میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگز اور امتیازی سلوک کے خلاف جمعہ کے روز مجلس وحدت مسلمین نے "یوم احتجاج" منانے کا بھی اعلان کیا۔ اس روز بعد از نماز جمعہ احتجاجی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری، سید اسد نقوی، نثار فیضی اور علامہ علی انصاری بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) زندہ قومیں اپنے محسنوں کی یاد منایا کرتی ہیں اور اگر کوئی  محسن  ایسا ہو جس کا احسان صرف مسلمانوں پر نہیں، بلکہ پوری انسانیت پر ہو تو ان کی یاد میں مجالس کا اہتمام اور انعقاد  عقلِ سلیم اور فطرت ِ انسانی  کا تقاضا ہے اور  اگر یہ مجالس ہمیں حسین (ع) کی اس آفاقی تحریک کے ساتھ منسلک اور متمسک رہنے کا ذریعہ بنیں تو انکی ارزش اور قیمت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عزاداری کا مقصد صرف غم حسین (ع) میں  گریہ اور آنسو بہانا نہیں ہے   بلکہ جب ایک عزادار صفِ عزا میں شریک ہو جاتا ہے  تو وہ اپنے آپ کو اس مقصد سے ہماہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس مقصد کے لیے سید الشھداء(ع) نے اتنی عظیم قربانی دی ہے۔

شہید مطہری (رہ) فرماتے ہیں:  شہید کے لئے رونے کے معنی' اس کی شجاعت میں شرکت' اس کی روح سے ہم آہنگی اور اس کے جذبہ شہادت سے موافقت کے ہیں۔ (فلسفہ شہادت۔ ص ٥٤)

لہذا عزاداری اور  ان مجالس کے انعقاد کا مقصدصرف گریہ اور آہ  و زاری  نہیں ہے،  بلکہ عزاداری کا مقصد یہ ہے کہ ان مجالس کے ذریعہ مکتب ِ اہل بیت (ع)کو زندہ رکھا جائے۔

 روایت ہے کہ ایک دن امام صادق(ع) نے اپنے صحابی فضیل سے پوچھا: اے فضیل! کیا تم لوگ ہمارے جد بزرگوار حسین ابن علی(ع)کے لئے مجالس عزا کا انعقاد اور پھر ان مجالس میں ان کی مصیبت کا ذکر کرتے ہو؟ فضیل نے کہا: جی ہاں مولا! ہماری جانیں آپ پر فدا ہوں'ہم ایسی مجالس منعقد کرتے رہتے ہیں۔ امام (ع) نے فرمایا: ہم ان مجالس کو پسند کرتے ہیں۔  رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَحْیَا أَمْرَنَا، اللہ تعالیٰ  اس شخص پر رحم کرےجو ہمارے امر (مکتب) کو زندہ کرے۔ (وسایل الشیعہ، حدیث نمبر ۱۵۵۳۲)

امام خمینی (رہ) اکثر فرمایا کرتے تھے کہ سید الشھداء اباعبداللہ الحسین (ع) کے غم میں بہنے والے اشکوں کی ارزش اور قیمت کم نہیں ہے بلکہ یہ ظلم و بربریت کے خلاف ایک تحریک ہے "ہمارا (یوں) جمع ہونا اور گریہ کرنا ایک سطحی عمل نہیں ہے، بلکہ  ہم سیاسی گریہ کرنے والی قوم ہیں' ہم وہ قوم ہیں جو ان اشکوں سے سیلاب بنا کر اسلام کے خلاف کھڑی ہونے والی رکاوٹوں کو پاش پاش کرتی ہے۔'' (صحیفہ نور۔ ج ٨۔ ص ٢٩)

کربلا کی یہ تحریک ایک عالمی اور آفاقی تحریک ہے، کیوں کہ امام حسین (ع) نے پوری انسانیت کو بیداری اور باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا درس دیا تھا اور فرمایا تھا کہ "لعین نے مجھے شہادت اور بیعت میں سے کسی ایک چیز کے انتخاب میں مخیر کر رکھا ہے، لیکن " هَيْهَاتَ مِنِّا الذِّلَّةُ " زلت ہم (اہل بیت (ع)) سے بہت دور ہے" (موسوعہ کلمات الامام الحسین، ص ۴۲۳) اور فرمایا:  " إِنِّيْ لا أَرَيَ الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً وَالحَياةَ مَعَ الظّالِمِينَ إِلّا بَرَما " میں راہ خدا میں شہادت کو اپنے لیے سعادت اور زندہ رہ کر ظالموں کے ساتھ جینے کو اپنے لیے ننگ و عار سمجھتا ہوں۔ (مناقب، ابن شهر آشوب،ج۴، ص۶۸)

اور جب لعین نے بیعت کا مطالبہ کیا تو امام (ع) نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا تھا کہ میں تو حسین بن علی ہوں، میری رگوں میں تو علی(ع) کا خون دوڑ رہا ہے، میرا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن یاد رکھ " مِثْلِی لَا یُبَایِعُ مِثْلَه "  مجھ جیسا بھی اس ( یزیدلعنہ)جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا اور واضح کیا کہ اے ظالم! تو  میری بیعت پر اصرار مت کر، کیونکہ  یہ سر کٹ تو سکتا ہے لیکن جھک نہیں سکتا۔

سجدے میں سر جھکا ہوا، نیزے پہ سر بلند

اقرار بھی کمال ہے، انکار بھی کمال

امام حسین (ع) نے رہتی دنیا تک انسانوں کو حریت اور آزادی کا درس دیا  اور انہیں خبردار کرایا کہ اگر کہیں عزت و حمیت کا مسئلہ ہو، اگر کہیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی بات ہو تو ڈرو مت، اگے بڑھو، باطل کے مقابلے میں سیسہ پلائی فولاد کی مانند ڈٹ جاؤ اور  ظلم و ستم کی زنجیریں توڑ ڈالو چاہے اس راہ میں تمھیں اپنی جان، مال اور سب کچھ کیوں قربان نہ کرنا پڑے اور آج  دنیا بھر میں آزادی کی جو تحریکیں نمودار ہو رہی ہیں  انہوں نے یہ درس کربلا اور عاشورا سےلیا ہے۔

ظالم کے سامنے نہ جھکائے جو اپنا سر

سمجھو کہ اس کے ذہن کا مالک حسین (ع) ہے

یہی تو وجہ ہے کہ آج نہ صرف مسلمان بلکہ دنیا کا ہر آزاد فکر انسان حسین (ع) کا عاشق، گرویدہ اور مداح ہے۔

این حسین (ع) کیست کہ عالم ھمہ دیوانہ اوست

این چہ شمعی است کہ عالم ھمہ پروانہ اوست

وقت کے یزید (لعنہ) نے تو حسین (ع) والوں کی آواز دبانے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ خود تو صفحہ ہستی سے مٹ گئے لیکن چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود حسین (ع) کی یاد آج بھی زندہ ہے اور  قیامت تک زندہ  رہے گی۔

میری نظر میں کربلا والوں کی یاد کی بقاء کا راز یہ ہے کہ دربارِ شام میں علی(ع) کی بہادر اور شیردل بیٹی اور حسین (ع) کی تحریک کی محافظ و پاسبان بی بی زینب (س) نے شام میں یزید (لعنہ) کو چیلنج دی  تھی، جب اہل حرم کے سامنے  یزید (لعنہ) اقتدار کے نشے میں مست تخت پر بیٹھا تھا، تو سیدہ (س) نے اپنے تاریخی خطبہ دیا اور فرمانے لگی: كِدْ كَيْدَكَ وَ اجْهَدْ جُهْدَكَ فَوَ اللہ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا،اے لعین! تو جتنا مکر و فریب کر سکتے ہو کر لو، جتنی کوشش کر سکتے ہو کرلو، پس  اللہ  کی قسم!  تو ہمارا ذکر نہیں مٹا سکتا (لہوف، ص ۱۸۱ تا ۱۸۶، نفس المہموم، ص ۲۵۳ تا ۲۵۶، بحارالانوار جلد۴۵، ص ۱۳۳- ۱۳۵)

یہ زینب کبریٰ (س) کی دعاؤں کا اثر ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی کربلا والوں کی یاد ابھی زندہ ہے اور انکی یہ تحریک بڑی تیزی سے پوری دنیا میں پھیلتی جا رہی ہے، یہ کوئی معجزہ سے کم نہیں کہ آج افریقا کے جنگلوں میں بھی حسین (ع) حسین (ع) کی صدائیں گونج رہی ہیں۔


ذرا بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع)


تحریر۔۔۔۔ ساجد مطہری

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے عاشورا 1436ھجری کے موقع پر امت مسلمہ کے نام مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عاشورا وہ عظیم واقعہ جس نے اسلام کو نئی زندگی دی،سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اپنے جد رسول خدا (ص)اور پدر امیر المومنین (ع) کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے خدا کا دین بچایا، اسلام رسول پاکؐ لائے تھے اور لوگوں تک پہنچایا جبکہ اسلام کو امام حسینؑ نے بچایا تھا۔ جب امام حسینؑ سے کہا گیا کہ آپ یزید کی بیعت کر لیں تو آپؑ نے فرمایا اناللہ وانا الیہ راجعون۔ جب یزیدجیسے حکمران ہو جائیں تو اسلام کو الوداع کہنا چاہیے۔ یعنی اسلام ختم ہو جائے گا۔ عبادات، معاملات، اسلام کا نظام سیاست، اسلام کا نظام حقوق، نظام عدل، نظام معیشت، نظام اخلاق، اسلام کا نظام تعلیم وتربیت عرضیکہ اسلام کی ثقافت و تہذیب مر جائے گی،اس لئے ہم کہتے ہیں کی امام حسینؑ نے اسلام کو بچایا۔ اسلام کی تعلیمات کو بچایا، اصول دین بچائے فروع دین بچائے، اسلام کے اقدار کو بچایا ۔ لہذٰا واقعہ کربلا ہمیں اس بات کی طرف دعوت دیتا ھے کہ ہم اسلام کی حفاظت اور اسلام کو بچائیں اور اس راستے میں اگر جان بھی دینا پڑے تو جان دیں، یعنی تمام اسلام کو اور اسکی تعلیمات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ امام حسینؑ نے زمین کربلا پر تمام دینی تعلیمات کو نئی زندگی دی۔ امام حسینؑ نے نماز کو حیات بخشی ، وہ نماز کہ جو انسان کو خدا کے قریب کرتی ھے، بلندیو ں کی طرف لے جاتی ھے۔ اگرچہ یزیدی لشکر بھی نماز پرھتا تھا لیکن انکی نماز بے روح تھی مردہ تھی۔ اگر انکی نماز درست ہوتی تو وہ باطل کیساتھ نہ ہوتے بلکہ حق کیساتھ ہوتے ۔ امام حسینؑ نے ہمیں کربلا کے میدان میں سبق دیا کی انسانوں کی خاطر ، مظلوموں کی خاطر، دین کی خاطر گھر سے باہر نکلنا پڑے تو نکل آؤ ، ہجرت کرنا پڑے تو ہجرت کرو، قربانی دینا پڑے تو قربانی دو۔ ایثار اور وفا کے اعلیٰ ترین نمونے ہمیں کربلا میں ملتے ہیں ۔ تما م انسانی ارزشیں، اخلاص، برادری اخوت اور ہمدردی کے بہترین نمونے بھی ہمیں کربلا سے ملتے ہیں۔ انسانوں کے حق حیات کی پاسداری ہمیں کربلا میں ملتی ہے۔ لہٰذا ہم نے کربلا سے سیکھنا ھے۔ وفا کو ، حیا کو ، پاکدامنی کو ، غیرت کو ، انسانی شرف و شرافت کو سیکھنا ھے۔ اللہ کی بندگی اور عبادت کے طریقوں کو سیکھنا ھے۔ کربلا مکتب اور عظیم درسگاہ ہے۔ کربلا عظیم مرکز و محورہے تمام آزادی پسندوں کا ۔ کربلا دعوت دیتی ہے کہ ہمیں حریت پسند رہنا ہے۔ آزادی کا پرچم اٹھائے رکھنا ھے۔ عدل و انصاف کا پرچم اٹھا ئے رکھنا ھے۔ انسانوں کے حقوق کی جنگ لرتے رہنا ہے۔ کربلا ہمیں حوصلہ دیتی ہے، ہمیں ہمت دیتی ہے۔ کربلا ہماری ہدایت و رہنمائی کرتی ہے۔

 

انہوں نے مذید کہا کہ  پاکستان اس وقت جن حالات کا شکار ہے، بد امنی ہے، دہشتگردی ہے، تفرقہ ہے، نفرتیں ہیں، ہمارے وطن کا استقلال ختم ہو چکا ہے۔ حکو مت کمزور ہے، استعماری طاقتیں پاکستان میں بے جا مداخلت کرتی ہیں۔ ہمارے وطن کو انھوں نے کھلونا بنایا ہوا ہے ۔ ہم کربلا سے عزم وحوصلہ لیتے ہوئے ، آزادی اور حریت کا درس لیتے ہوئے اپنے وطن کو ان سازشوں سے بچا سکتے ہیں۔ اپنے وطن کو محبتوں کی جنت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ نفرتوں کی جہنم سے نکال سکتے ہیں۔ ہم اپنے وطن میں بسنے والوں کو وحدت کی بہشت میں لا سکتے ہیں۔ اس ملک کو اسکا استقلال لو ٹا سکتے ہیں۔ کربلا میں سب کچھ ہے ہمارے لئے۔ اگر ہم کربلا سے سبق لیں گے تو اس ملک کو باوقار ملک بنا سکتے ہیں۔ اہل وطن عظیم قوم بن جائیں گے۔ کربلا وحدت کی لڑی میں پروتی ہے۔ کربلا آزادی کے متوالوں کا قبلہ ہے۔ کربلا عدل کی جدوجہد کرنے والوں کا مرکز ومحور ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان ایام میں اس عظیم درسگاہ سے سبق سیکھیں۔ خودسازی کریں، اپنے آپ کو سنواریں۔ اپنے عقائد کو کربلا سے لیں،اپنی سیرت و کردار کو کربلا کے آئینے میں تشکیل دیں۔ تا کہ ہم دنیا و آخرت کی سعادت کو پا سکیں اور ہم عزت سے جئیں اور عزت سے مریں۔ کربلا میں مولا حسینؑ نے بتلایا ہے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ ظالموں کے آ گے جھکنا نہیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک قیام کرنا ہے۔ کربلا حوصلوں کا رزق بانٹتی ہے۔ کربلا شجاعت کی خیرات دیتی ھے۔ اور ہم کربلا کے محتاج ہیں، ہمیں کربلا کی ضرورت ہے۔ کربلا کی جنگ جو ظلم کے خلاف تھی 61ہجری سے لیکر پوری زندگی کیلئے ہے اور پوری کائنات کی ہر زمین کربلا ہے۔ سارے زمانے کربلا کے محاصرے میں ہیں۔ کربلا سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا۔ کربلا پیشوا ہے، کربلا امامت کرتی ہے۔ ہم نے مولا حسینؑ کی پیروی کرنی ہے اور دنیا وآ خرت کی سعادت کو پانا ہے۔ امید ہے کہ ہم کربلا سے سیکھیں گے اور پاکستان میں رہتے ہوئے دنیا کے تمام مظلوموں کیساتھ اظہار یکجہتی کریں گے اور انکی مدد کریں گے۔ پاکستان کی سرزمیں پر ظلم کے نظام کی بساط کو لپیٹ کر عدل کے پرچم کو بلند کرتے ہوئے عدل کو نا فذ کریں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree