وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکر ٹری سیاسیات علی حسین نقوی نے ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے چلائی جانے والی بلدیاتی انتخابات کی مہم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے و حدت ہاؤس کراچی میں جاری بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کیا اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکرٹری جنرل حسن ہاشمی ،مولانا صادق جعفری،علامہ علی انور ،علامہ مبشر حسن ،علامہ احسان دانش ، رضا امام نقوی ،ڈاکٹر مدثر حسین،اصغر عباس زیدی،سمیت ضلعی عہدیدار موجود تھے علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی عظیم و لا زوال ہے دنیا بھر میں کڑوروں عزادارن نواسہ وسول کی عظیم قربانی کی یاد بلا رنگ و نسل عقیدت و احترام سے مناتے ہیں استعماری قوتوں کی تمام سازشوں کے باوجود پوری دنیا میں عزاداری سید الشہداء علیہ السلام میں اضافہ ہوا ہے اسلام دشمن دہشتگرد داعش ،القائدہ،طالبان سمیت کالعدم مذہبی انتہا پسند گرہوں کی آج بھی امت مسلمہ کو تقسیم کرنے فرقہ واریت پھیلانے کی کو ششیں جاری ہیں جس میں انشا اللہ انہیں ناکامی ہو گی انہوں نے شہر قائد میں ملٹری پولیس کے جوانوں پر دہشتگردی کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ شہر میں جاری دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے باوجود آرمی جوانوں کی شہادت ریاستی ا داروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور مطالبہ کیا کہ اس وقت شہر قائد سمیت سندھ بھر میں کالعدم جماعتوں کے فعال نیٹ ورک کو توڑنے کی ضرورت ہے اوراس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے لہذادہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن کا دائرہ وسیع کیا جائے ۔اجلاس میں علی حسین نقوی نے احترام چہلم امام حسین علیہ السلام میں وحدت مسلمین کی جانب سے بلدیاتی انتخابی مہم کے حوالے سے تمام سر گر میاں معطل اور انتخابی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ اجلاس میں گزشتہ روز ملٹری پولیس کی گاڑی پر دہشتگردوں کی جانب سے حملے کے نتیجہ میں آرمی کے شہید جوانوں اورشہدائے پاکستان کے بلندی درجات کیلئے خصوصی دعا کرائی گئی ۔

وحدت نیوز (جھنگ) ماڑی شاہ صغیرہ جھنگ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پلٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینےوالے چیئرمین ضیاءحسین کاظمی،وائس چیئرمین سردار حسن مہدی خان بلوچ اور کونسلرز کے انتخابی جلسے میں صوبائی سیکرٹری علامہ عبدالخالق اسدی نے شرکت کی اس کے علاوہ مرکزی سیکرٹری سیاسیات برادر ناصر عباس شیرازی اور سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے شرکت کی اور بعد ازاں جلسے سے خطاب کیا۔اس کے علاوہ جلسے میں مجلس وحدت مسلمین ضلع جھنگ کی کابینہ اور علاقے کی شیعہ سنی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری سیاسیات سید ناصر شیرازی ، صوبائی سیکریٹری سیاسیات گلگت بلتستان غلام عباس ، سیکریٹری سیاسیات بلتستان ڈویژن محمد علی اور ہنزہ نگر حلقہ 5 میں مرحوم کو شکست دینے والے ایم ڈبلیوایم کے نومنتخب رکن گلگت بلتستان اسمبلی ڈاکٹر رضوان علی نے پاکستان تحریک انصاف گلگت کے سنیئر رہنما، سابق ممبر جی بی اسمبلی  و نامور سیاستدان مرزا حسین کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم کا شمار علاقے کی ہر دلعزیز شخصیات میں ہوتا تھا ۔وہ اپنے ملنساری کے سبب عوامی حلقوں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کا انتقال ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔انہوں نے مرحوم کے لواحقین اور پاکستان تحریک انصاف سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) قیام پاکستان سے لے آج تک اس ملک کی سیاست میں مختلف گروہوں نے حصہ لیا ہے، ہر ایک اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور تاحال کر رہا ہے۔ لیکن یہاں پر ایک چیز کا تذکرہ کرنا ضروری ہے اور وہ ملت تشیع کا پاکستانی سیاست میں کردار ہے۔ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے مارشل لاء کے دور میں باقاعدہ طور سیاست میں وارد ہونے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہم بطور سیاسی طاقت الیکشن میں حصہ لیں گے، تاکہ پارلیمنٹ کے اندر ہماری برابر نمائندگی ہوسکے۔ لیکن دشمن نے زیادہ عرصہ تک عظیم قائد کو ملت کے درمیان رہنے کی مہلت نہ دی اور انہیں شہید کر دیا گیا۔ شہید قائد کے بعد کچھ عرصہ تک اس سیاسی سفر کو جاری رکھا گیا، لیکن بعد میں یہ سیاسی سفر ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا، جس کی وجہ سے شیعہ ووٹ کبھی پی پی پی کی جیب میں چلا جاتا تو کبھی نون لیگ اپنے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قائدین کو اپنے ساتھ ملا کر انہیں لمبی لمبی امیدیں دلا کر شیعہ ووٹ کو تقسیم کر لیتی ہے۔

گلگت بلتستان الیکشن
جی بی قانون ساز اسمبلی کے حالیہ الیکشن بھی کچھ ایسے ہی منفی پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ علاقہ کہ جس کی آبادی کا 70 فیصد اہل تشیع پر مشتمل ہے، جس میں سے صرف 40 فیصد شیعہ امامیہ اثناء عشری ہیں، باقی 30 فیصد میں اسماعیلی اور نور بخشی ہیں، وہ لوگ مسلسل کئی سال سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں نہ تو آئینی حقوق دیئے جا رہے ہیں اور نہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سہولیات میسر ہیں۔ آئے روز ان کے اوپر نئی نئی مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، کبھی سانحہ چلاس تو کبھی سانحہ بابوسر، تو کبھی حکومت گندم سبسڈی کو ختم کرکے رہی سہی کسر پوری کر دیتی ہے۔ لیکن شیعہ اکثریتی علاقے میں دنیائے سیاست میں ایک نئی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت نے وہاں کی عوام کو جائز حقوق کے حصول کے لئے قیام کرنے کا حوصلہ دیا۔ وہ سیاسی پارٹی جو مشکل کی ہر گھڑی میں وہاں کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ سانحہ چلاس ہو یا گندم سبسڈی کا مسئلہ۔ گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم کی عوامی پذیرائی اور طاقت کو دیکھ کر دوسری سیاسی جماعتیں و بالخصوص موجودہ حکمران طبقہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اور انہیں اپنے اقتدار کے لالے پڑ گئے، کیونکہ وہ تشیع کو بطور سیاسی طاقت دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں ملت تشیع ہمیشہ کی طرح چند مفادات کے عوض اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دے۔

حالیہ الیکشن میں ملت تشیع کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت کو دبانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے گئے، جن میں سے چند ایک عرض خدمت ہیں۔
1۔ شیعہ ووٹ کو تقسیم کرنا
نون لیگ نے شیعہ اکثریتی علاقے میں شیعہ نظریاتی ووٹ کو تقسیم کرنے لئے ایک کالعدم سیاسی جماعت سے پابندی اٹھا کر میدان میں اتارا۔ وہ جماعت جو ہمیشہ سے موجودہ حکومت کے حق میں کلی طور پر دستبردار ہوتی آئی ہے۔ جس جماعت کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں ملتا کہ انہوں نے خود الیکشن لڑے ہوں۔ 1994ء میں الیکشن لڑا اور صرف 8 سیٹیں حاصل کیں، جبکہ پی پی پی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے سے صرف 2 وزارتیں ملیں۔ 1999ء میں الیکشن میں حصہ لیا تو صرف 4 سیٹیں حاصل کیں اور بعد میں مشرف دور میں ہونے والے الیکشن میں کلی طور پر قاف لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ 2009ء میں ہونے والے الیکشن میں ایک بار پھر پی پی پی کے ساتھ الحاق کرکے ان کی الیکشن کمپین کا حصہ بن گئے۔ حالیہ الیکشن میں نون لیگ نے اسلامی تحریک پاکستان سے پابندی ہٹا کر اپنے مقاصد کے حصول کے شیعہ ووٹ کو تقسیم کیا۔

2۔ تکفیری ووٹ کو جمع کرنا
نون لیگ نے شیعہ ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں 30 سے زائد تکفیری سوچ رکھنے والے عناصر کو امپورٹ کیا، جن کی سربراہی کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما اورنگزیب فاروقی کر رہے تھے۔ اس بات کا انکشاف پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما نے کیپیٹل ٹاک شو میں کیا ہے۔ اس طرح نون لیگ نے وہابی ووٹ کو اکٹھا کیا اور اسے تشیع کے مقابلے میں استعمال کیا۔

موجودہ الیکشن میں کامیاب شیعہ امیدواروں کا تناسب
عام طور پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک پاکستان کے الیکشن میں آنے سے تکفیری عناصر کامیاب ہوئے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے، وہ علاقہ جس کی آبادی کا 70 فیصد حصہ اہل تشیع پر مشتمل ہو، وہاں تکفیری امیدوار کس طرح اکثریت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے نتائج کے مطابق شیعہ امیدواروں کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔
مجلس وحدت مسلمین: 2
اسلامی تحریک پاکستان: 2
پاکستان مسلم لیگ نون: 4
پاکستان پیپلزپارٹی: 1
اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں موجود اسماعیلی شیعوں نے بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، جن میں سے 2 اسماعیلی نون لیگ کے امیدوار تھے، ایک امیدوار کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا اور ایک امیدوار آزاد حیثیت میں کھڑا ہوا۔
اب ذرا الیکشن میں کامیاب ہونے والی اہلسنت امیدواروں کی تعداد بھی ملاحظہ فرمائیں۔
پاکستان مسلم لیگ نون: 6
جمیعت علمائے اسلام (ف): 1
آزاد امیدوار: 1
مجموعی طور پر کامیاب ہونے والے امیدواروں میں زیادہ تناسب شیعہ امیدواروں کا ہے، جو کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔

الیکشن کے نتائج سے نقصان کیا ہوا۔؟
الیکشن میں ایک شیعہ مذہبی جماعت نے بعض حلقوں میں مسلم لیگ نون کو سپورٹ کیا، اپنے امیدوار نون لیگی امیدواروں کے حق میں دستبردار کروائے اور باقاعدہ الیکشن کمپین میں نون لیگی امیدواروں کے ساتھ ملکر شیعہ ووٹ کو تقسیم کیا، اس کا جہاں پر ایک نقصان یہ ہوا کہ شیعہ ابھرتی ہوئی سیاسی پارٹی کو ہرایا گیا اور عوام میں مایوسی پھیلائی گئی، دوسرا نقصان یہ ہوا کہ چاہے نون لیگ میں شیعہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، لیکن جی بی میں گورنمنٹ نون لیگ کی بنے گی۔ جن کی شیعہ دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جہاں پر ایک حلقہ میں شیعہ ووٹ کے تقسیم ہونے سے نون لیگی امیدوار اور مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کا صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن کامیاب ہوا ہے۔ اس کے بیانات اور مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کا اگلا وزیراعلٰی حفیظ الرحمن ہوگا، جو کہ تکفیری سوچ رکھنے والا اور کالعدم سپاہ صحابہ کا حمایت یافتہ امیدوار تھا۔ یہ وہ سب سے بڑا نقصان ہے جو وہاں کہ عوام کو ہوگا۔ جس کی بنیادی وجہ شیعہ ووٹ کو تقسیم کرکے نون لیگی امیدواروں کو کامیاب کرانا ہے۔

بطور شیعہ ایک سوال؟؟؟
گلگت بلتستان الیکشن میں کالعدم سپاہ صحابہ نے نون لیگی امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے نواز شریف سے ساز باز کی، الیکشن کمپین کا حصہ بنی اور اس خطے میں موجودہ تکفیری و اہلسنت ووٹ کو نون لیگ کی جھولی میں ڈال دیا۔ لیکن اسلامی تحریک پاکستان بھی نون لیگی الیکشن کمپین کا حصہ بنی ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی شیعہ دشمنی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن اسلامی تحریک پاکستان کا نون لیگ کے ساتھ کھڑا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔؟؟ اگر اتنے عرصہ بعد الیکشن لڑنا ہی چاہتے تھے تو اپنے تشخص کے ساتھ لڑتے یا شیعہ جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کر لیتے۔؟؟ کیا نون لیگ کے ساتھ کالعدم سپاہ صحابہ کھڑی ہوئی نظر نہیں آئی؟ کیا اب اہل تشیع بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے ساتھ کھڑے ہو کر نون لیگ جیسی سیاسی جماعتوں کو اور مضبوط کریں گے؟؟ یہ چند بنیادی سوالات ہیں جو آج تشیع کا درد رکھنے والے ہر نوجوان کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔
 
تحریر: ڈاکٹر علامہ شفقت شیرازی

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حلقہ چار اسکردو کی ریکونٹنگ کے سلسلے میں الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر کا رویہ انتہائی مضحکہ خیز ہے اور دونوں ذمہ داران بلیمنگ گیم کے ذریعے وقت گزار نا چاہتے ہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر ری کونٹگ کی ذمہ داری آر او پر عائد کر رہا ہے اور آر او نے صاف طور پر الیکشن کمشنر کو مورد الزام ٹہرایا ہے دونوں کا یہ عمل غیر قانونی غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہے۔ حلقہ ایک اسکردو میں چار بار گنتی ہوسکتی ہے اور حلقہ چار میں گنتی کی اجازت نہ دینا دونوں ذمہ دارکی بدنیتی ہے اس ظلم پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے اور یہ عمل ملی الیکشن کی شفافیت سمیت سکیورٹی اداروں اور حساس اداروں پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ سکردو حلقہ تین اور چار دنوں کے نتائج من مانی ہے اسکا بین ثبوت دونوں حلقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر ہے۔ہم نے انتخابات سے قبل میڈیا کے سامنے یہ مطالبہ کیا تھا کہ انتخابی نتائج میں تاخیر نہ کی جائے لیکن نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے وہی کچھ کیا جس کا خدشہ تھا۔ اس دھاندلی زدہ انتخابات کو نہ صرف ہم تسلیم نہیں کریں گے بلکہ عوامی سطح پر مسلم لیگ کی غیرجمہوری روایات کو واضح کر تے رہیں گے اور انکا چہرہ بے نقاب کرتے رہیں گے۔ حساس اداروں نے جس طرح نواز لیگ کے لیے گلگت بلتستان میں جو جگہ دی ہے اسکے بدترین اثرات خطے پر مرتب ہونگے اور عوامی مینڈیٹ کو جس طرح یرغمال کرایا گیا ہے اس کے خطے میں بے چینی پھیلے گی ۔

وحدت نیوز(قم) مجلس وحدت مسلمین قم کے سیکرٹری سیاسیات عاشق حسین آئی آر نے ایم ڈبلیوایم قم کی کابینہ کے اجلاس کو گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گلگت بلتستان کی دیندار اور باشعور عوام نے انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم کو ہی ووٹ دئیے ہیں جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔لیکن نون لیگ نے دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دھاندلی سے حاصل کی گئی فتح در اصل خود بدترین شکست ہے۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ کی طرف سے کی جانے والی دھاندلی نے  نون لیگ اور اس کے اتحادیوں کو عوام میں مزید متنفر بنادیاہے  جبکہ دیانت داری  اور اصول پرستی نے عوام کو ایم ڈبلیو ایم کے اور زیادہ قریب کردیاہے۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree