وحدت نیوز (آرٹیکل) طول تاریخ میں ہمیں امریکہ کی سیاست اور حکومت کی ایک ایسی بد ترین مثال نظر آتی ہے کہ جو زبان سے تو انسانیت اور انسانی حقوق کا واویلا کرتی نظرآتی ہے لکن عملی طور پر امریکی سیاست و حکومت دنیا کی اقوام کے لئے نہ صرف ایک بدی اور برائی کے طور پر ثابت ہوئی ہے بلکہ اقوام عالم کی بد ترین دشمن کے طور پر سامنے آئی ہے۔امریکی سیاست کا ہمیشہ سے وتیرہ ہی رہا ہے کہ امریکی مفادات یعنی امریکہ کے چند ایک سیاستدان جو کہ بذات خود اب صیہونیوں کے زیر اثر ہیں، ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے دنیا کے کسی بھی گوش وکنار میں کتنا ہی قتل عام کیوں نہ کرنا ہو کرتے رہو، چاہے نت نئے دہشت گرد گروہ ہی کیوں نہ بنانے پڑیں ، چاہے اسرائیل جیسی خونخوار جعلی ریاست کو اربوں ڈالر کا اسلحہ دے کر نہتے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے، چاہے یمن میں امریکی اسلحہ کی کھیپ کی کھیپ سعودی حکمران خاندان کو پہنچا کر یمن کے عوام کا قتل عام اور ان پر زندگی تنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑے ، چاہے کشمیر میں بھارتکی جارحیت کی حمایت اور مظلوم کشمیریوں کے قتل عام پر خاموشی ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے، اسی طرح چاہے عراق و افغانستان میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام، ویت نام میں انسانیت کی دھجیاں اڑانا، ہیرو شیما ناگا سا پر ایٹم بم گرانا اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بالخصوص پاکستان میں ڈروں حملوں کے ذریعہ اور کبھی دہشت گرد گروہوں کا قیام عمل میں لا کر ان کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسی ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانا پڑے، چاہے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینا پڑے، چاہے لسانیت کو پھیلانا پڑے، شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنا اور اسلحہ پہنچانا ،چاہے کسی ملک پر معاشی شکنجہ لگانا پڑے تولگاؤ، ایران و ترکی جیسے ممالک جو حالیہ دنوں امریکہ کی معاشی دہشت گردی کا شکارہیں، اس طرح کے متعدد دیگر مسائل کو پیدا کرنا پڑے امریکہ یہ سب کرتا آیا ہے اس اس عنوان سے امریکہ ایک ایک سو سالہ تاریخ دہشت گردی کے سیاہ ترین ابواب سے تاریک تر ہو چکی ہے۔حالیہ دور میں ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ امریکی سیاست کا دارومدار صرف اور صرف غاصب صیہونیوں کے تحفظ کی خاطر دنیا کے امن کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے، وہ غاصب صیہونی کہ جنہوں نے پہلے امریکہ وبرطانیہ کی مدد سے فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے ایک جعلی ریاست اسرائیل کو وجود میں لائے اور پھر فلسطینیوں کا ستر برس سے قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے ہیں، اسی طرح پوری دنیا میں ان صیہونیوں کے مفادات کی خاطر انسانیت کے ساتھ عجب مذاق کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں فلسطین سے کشمیر تک مظلوم انسان اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کئے جا رہے ہیں اور نہ جانے کب تک مزید قتل عام جاری رہے گا۔

رواں ماہ امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس منعقد ہو اہے ، در اصل اقوام متحدہ کے کردار پر بھی ایک تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا آج تک اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام کیوں رہاہے ہے؟ مزید یہ کہ اس ناکامی کے ساتھ ساتھ عالمی دہشت گرد قوتوں اور قاتلوں کو بھی اس ادارے کی سرپرستی کہہ لیجئے یا پھر خاموش حمایت کیوں حاصل رہی ہے۔خیر یہ ایک طویل بحث ہے جس پر کسی اور مقالہ میں تفصیلی گفتگو پیش کیجائے گی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان اور رہنماؤں سمیت وزرائے خارجہ نے خطاب کیا ہے اور اگر ان سب کے خطابات کا خلاصہ نکال لیا جائے تو افریقہ و یورپ سمیت ایشیاء و آسٹریلیا تک اور لاطینی امریکائی ممالک تک، تمام کے تمام اقوام امریکی ظلم اور ستم ظریفی کو براہ راست اور بالواسطہ بیان کرتے رہے ہیں، چین کی بات کریں تو چین نے بھی امریکی شیطانی سیاست پر سخت اعتراض کیا، افغانستان ، عراق، شام تو پہلے ہی امریکی ناپاک سازشوں کو بھگت ہی رہے ہیں، فرانس و جرمنی نے بھی امریکی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، ایران نے بھی امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں اس کی شیطانی سیاست پر آئینہ دکھایاہے، ترکی نے بھی کھری کھری سنا دی ہیں، اسی طرح لاطینی امریکا کا ایک چھوٹا سا ملک بولیویا نے بھی امریکی سازشوں اور دہشت گردانہ سیاست کو مسترد کیا ہے، ونیزویلا، شمالی کوریا، روس، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے امریکا کی غلط اور دہشت گردانہ پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یعنی اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں امریکی سیاست و حکومت کے کارناموں پر جس طرح سے دنیا بھر کی اقوام کے نمائندوں سے اظہار خیال کیا ہے یہ اس بات کی کھلی دلیل اور ثبوت ہے کہ امریکہ اور اس کی سیاست دنیا کے اقوام کی بد ترین دشمن ہے جیسا کہ ایک سو سالہ تاریخ میں امریکہ کے ہاتھوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہوں کا خون ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کی حکومت دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی کے باعث نہ صرف امریکی عوام کی نظروں میں اپنا معیار کھو چکی ہے بلکہ دنیا کی دیگر مہذب قومیں بھی امریکی حکومت کی ایسی پالیسیوں کو کہ جس کے تحت امریکا ہر دہشت گردی کے اقدام کی حمایت کرتا ہے ، سخت مخالف کر رہے ہیں، مثال کے طور پر ، فلسطین، یمن، لبنان، شام، عراق، افغانستان، لیبیا، پاکستان، کشمیر، برما و دیگر ممالک میں جہا ں جہاں دہشتگردی ہے سب امریکی حمایت یافتہ دہشت گردگروہوں کے مرہون منت ہے۔حد تو یہ ہے کہ اب امریکی حکومت کی حالت اس قدر نا گفتہ بہ ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی صدر کی انتھک کوششوں کے باوجود ایران کے خلاف کسی بھی ایک ملک نے ووٹ نہیں دیا اور امریکی صدر کو تنہا ئی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ خود امریکی سیاست اور حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔دنیا بھر میں امریکی مداخلت کے باعث آج ہر ذی شعور یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد حکومت ہے کہ جو دنیا بھر کی اقوام کی بدترین دشمن ہے۔


 تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

وحدت نیوز(آرٹیکل) سیاسی و مذہبی رہنما اپنے نظریات کی بنا پر مخصوص طبقات کو اپنا گرویدہ کرتے آئے ہیں۔دنیا کے قدیم مذاہب اور ان کے پیشوا ؤں کی تعلیمات کے اثرات میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی رہی۔ عرب کی سرزمین پر جب کفر و شرک اور جہالت عروج پر تھی۔اللہ تعالی نے ان لوگوں کی رہنمائی کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا۔نبی کریم ﷺ نے بعثت کے بعد تیئس سالہ زندگی میں کفار کی جانب سے دی جانے والے تکالیف اور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی عزت و تکریم اور مرتبہ سے بھی امت کو آگاہ کیا۔تمام مسلک کی مستند کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے کہ ’’حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں‘‘ اسی طرح نماز کے دوران نبی کریم ﷺ کے کاندھوں پر امام عالی مقام کا سوار ہونا اور حسنین کریمن علیہم السلام سے ہر موقع پر بے پناہ محبت کا اظہار کرناسبط پیغمبر ﷺکے مقام کو واضح کرتا ہے۔رسول ﷺ کی رحلت کے بعد اہل بیت علیہم السلام کو کہیں آزمائشوں سے گزرنا پڑا ۔

سانحہ کربلا ان کٹھن امتحانات میں سے ایک تھا۔جب نواسہ رسولﷺ اور ان کے جانثاروں پر باطل کی بیعت نہ کرنے پر پانی بند کردیا گیا۔میدان کربلا میں امام ؑ نے جب حل من ناصر ینصرنا کی صدا بلند کی تب امام ؑ کوتلواروں کی نہیں بلکہ مقصد کی مدد مانگ رہے تھے امامؑ کی نصرت ان کے مقصد کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے۔ حسینیت ظالم کے خلاف ڈٹنے کا نام ہے۔امام حسینؑ کے گرویدہ محض اہل اسلام ہی نہیں بلکہ ہراہل ضمیر ہے۔امام عالی مقامؑ کے محبان دنیا کے ہر کونے اور ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ غیر مسلم رہنماؤں نے بھی امام حسینؑ کے حوالے سے اپنے نظریات بیان کیے ہیں۔

نیلسن مندیلا کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی زندگی کے بیس سال قید میں گزارے ،پھر ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ حکومت کی تمام شرائط کو تسلیم کرلوں لیکن اچانک میرے خیال میں امام حسینؑ اور تحریک کربلا آئی جس نے مجھے آزادی اور آزاد ی کے لیے ڈٹ جانے کی طاقت مہیا دی‘‘مہاتماگاندھی اپنی قوم کو کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر انڈیا کامیاب ملک بننا چاہتا ہے تو ،اسے امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے آپؑ کے نقش قدم پہ چلنا ہوگااور اگر میرے پاس امام حسینؑ کے بہادر سپا ئیوں کی طرح کے بہترسپاہی ہوتے تو میں چوبیس گھنٹوں میں انڈیا کے لیے آزادی کی جنگ جیت جاتا‘‘ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ’’میں نے امامؑ سے سیکھا کہ ایک مظلوم کس طرح فتح یاب ہوتا ہے‘‘۔

امام حسینؑ کی قربانی کا ذکرکرتے ہوئے مہاتما گاندھی کہتے ہیں’’یہ میرا یقین ہے کہ اسلام کی ترقی کا انحصار اس پر ایمان رکھنے والوں کی شمشیر کے استعمال پر نہیں بلکہ یہ حسینؑ کی بہترین قربان کا نتیجہ ہے‘‘۔

ڈاکٹر راجندرا پراساد (انڈیا کے پہلے صدر) کہتے ہیں کہ’’امام حسینؑ کی قربانی محض ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے اخوان المسلمین کی وراثت ہیں‘‘ ہندو مذہب کے روحانی پیشوا سوامی شنکراچاریا کا کہنا ہے کہ’’ یہ امام حسینؑ کی قربانی تھی جس نے اب تک ،سلام کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ دنیا میں کوئی شخص بھی اسلام کا نام لینے کے لیے باقی نہ رہتا‘‘

شام کے معروف مصنف اینٹائن بارہ نے اپنی تصنیف145145Imam Hussain (a.s) in the Indelogy of Christan146146 میں امام عالی مقام حضرت حسینؑ کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی جرات و استقامت اور حق گوئی کی تاریخ مین مثال نہیں ملتی۔

برطانیہ کے ممتاز مصنف و نقاد ’’چارلیس ڈکنز‘‘کے الفاظ حسینؑ کی جنگ اگر دنیاوی خواہشات کے حصول کے لیے ہوتی تو آپؑ کے اہل خانہ قطعاََ آپؑ کے ہمراہ نہ جاتے ۔یہ ہم رکابی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام حسینؑ کی قربانی خالصتاَ اسلام کے لیے تھی۔اپنے والد کے متعلق کہتے ہیں کہ’’کسی شخص نے بھی میرے والد کو ماہ محرم میں مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا اور دسویں محرم(روز عاشور) تک ان کی اداسی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا اور روز عاشورہ ان کے لیے دکھ اور گریہ کا دن ہوتا۔‘‘

یونانی مورخ اور مضمون نگار تھومس کارلائل نے کہا کہ’’ سانحہ کربلا سے جو بہترین سبق میں نے حاصل کیا وہ یہ ہے کہ امام حسینؑ اور ان کے پیروکار اللہ تعالی پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے ، ان کے نزدیک حق اور باطل کے معرکے میں عددی برتری کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی یہی وجہ ہے کہ کم تعداد کے باوجود حسینؑ کو فتح حاصل ہوئی۔‘‘

گورو نانک (سکھوں کے عظیم رہنما)نے امام حسینؑ کے متعلق کہا ہے کہ’’امام حسینؑ کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ،بلکہ ہر اس شخص سے ہے جو ضمیر رکھتا ہوا‘‘۔دیگرمذاہب کے لوگوں نے امام حسینؑ کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان کے مقصدکو سمجھتے ہوئے اپنی زندگیا ں باوقار انداز میں گزاریں ۔دنیا میں آج بھی حق و باطل نظریے کے لوگ موجود ہیں۔امام حسینؑ کی اور یزید کی جنگ محض دو شخصیات کی نہیں بلکہ دو افکار کی جنگ تھی ۔

آج مقصد حسینؑ کو بھلا کر کچھ لوگ اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ محرم میں شادی کرنا ،خوشیاں منانایا وغیرہ جائز ہیں یا نہیں ۔امامؑ کا در س حیات کسی ایک مخصوص طبقے یا مکتبہ فکرکے لیے نہیں ہے بلکہ تمام اہل انسانیت کے لیے ہے۔امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’میں ہوس اور اقتدار طلبی کے لیے خروج نہیں کر رہا اور نہ ہی میں فساد اور ظلم کرنے کے لیے نکل رہا ہوں بلکہ میرا مقصد اپنے جد امجدکی اصلاح ہے۔میں امرباالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ آپؑ ہمارے لیے تاحیات مشعل راہ ہیں۔

رسول خدا(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں’’جب میری امت ظالم کے سامنے بولنے سے عاجز ہوجائے،تواس کی موت پہنچ چکی ہوگی‘‘۔دراصل مقصد حسینؑ سیرت حسینؑ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ے اپنی امت کی اصلاح کے لیے جن دو ہم وزن چیزوں کا ذکر کیا ہے ان میں ایک قران اور دوسرے اہلبیت اطہار علیہم السلام ہیں۔

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؑ
 چرغ نوع بشر کے تارے ہیں حسین
ؑ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ، ہمارے ہیں حسینؑ


تحریر:کساء زہراکاظمی

وحدت نیوز(آرٹیکل)  پاکستان کے دشمن متحد ہیں، ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں، ہندوستان اور افغانستان نے بھی اپنا منہ کھول رکھا ہے، اسرائیل پر تول رہا ہے لیکن اس وقت  اصلی جنگ معاشی جنگ ہے۔  معاشی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے  امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  امریکا کا احترام نہ کرنے والے ممالک کو امداد نہیں ملے گی ،قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی بے انتہا قربانیوں کے باوجود امریکہ پاکستان کو اپنا تابعدار ملک نہیں سمجھتا۔ انہوں نے تقریر میں یہ بھی کہا کہ چین سے تجارت میں عدم توازن برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے  کھلے لفظوں میں اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی عالمی عدالت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یاد رکھیئے کہ امریکا کسی بھی عالمی عدالت کی حیثیت کا قائل نہیں ۔ امریکی تاریخ شاہد ہے کہ  دنیا میں صرف دو مرتبہ ایٹم بم داغا گیا ہے اور وہ بھی امریکہ نے ہی داغا ہے ، ایک مرتبہ ہیرو شیما پر اور دوسری دفعہ ناگا ساکی پر۔

ہولوکاسٹ پر واویلا مچانے والے ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں لاکھوں انسانوں کے بھسم ہوجانے پر خاموش ہیں چونکہ ان کی رگِ اقتصاد امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔  اس کے علاوہ ۱۹۵۵ سے ۱۹۷۵ تک امریکہ نے ویتنام میں قتلِ عام کیا، اس قتلِ عام میں تیس لاکھ سے زیادہ سول لوگ مارےگئے اور ان سول لوگوں کومارنے کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا جس کی کسی عدالت میں باز پرس نہیں ہوئی۔ امریکہ نے سالانہ پچاس ہزار بمب ویتنام میں گرائے لیکن کسی  عالمی ادارے نے امریکہ کا راستہ نہیں روکا۔

امریکہ نے ستمبر ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۴ تک افغانستان پر جنگ مسلط کئے رکھی، اس جنگ میں  لاکھوں افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا اور ان کی خواتین کی عصمت دری کی گئی۔نہتے افغانیوں کے خلاف امریکہ نے جدید ترین ہتھیار استعمال کئے لیکن عالمی برادری نے  امریکی جارحیت کو رکوانے کے لئےکوئی کردار ادا نہیں کیا۔وجہ پھر یہ تھی کہ دنیا کا اقتصاد ڈالر کے گرد گھوم رہا تھا۔

۲۰ مارچ ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۰ تک امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، ان سات سالوں میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد اس جنگ میں متاثر ہوئی اور عراق کی سڑکیں اور پل کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے لیکن ایک مرتبہ پھر عالمی برادری امریکی ڈالر کی بھیک ملنے کی وجہ سے چپ سادھے رہی۔

امریکی مزاج کو سمجھنے کے لئے یہ چند تاریخی نمونے ہم نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔امریکی مزاج کو سمجھئے، امریکہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی قانون یا عدالت کا پابند نہیں۔

امریکہ نے پاکستان پر جو معاشی جنگ مسلط کر رکھی ہے ،اس کی وجہ سے سی پیک امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بہاتا اور پاکستان کو عسکری دباو میں رکھنے کے لئے جہاں ایک طرف سے بھارت اور افغانستان سے دھمکیاں دلوائی جارہی ہیں وہیں دوسری طرف  سےافغانستان میں داعش کو بھی لاکر آباد کیا جا رہا ہے۔نیز اب معاشی طور پر پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی بھی دی جارہی ہے۔

 اس سلسلے میں  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) کا اعلیٰ سطح کا وفد اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گا، عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی ، مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوگا  نیز  ملکی معیشت پر شدیدمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اب جبکہ پاکستان شدید معاشی جنگ سے گزر رہا ہے تو پاکستان کی تاجر برادری کو چاہیے کہ وہ میدان میں آئے اور اس معاشی جنگ کا جواب دے۔ ہر محاز پر اس محاز کے مجاہد ہی لڑا کرتے ہیں۔ معاشی محاز پر ہمارے ماہرین معاشیات، تاجروں، ٹریڈ یونینز ، تجارت سے مربوط انجمنوں اور تنظیموں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقتصادی میدان میں امریکی جنگ  اور جارحیت کا دندان شکن جواب دیں۔

 ہمارے  وزیرِ خزانہ، تاجروں  اور عوام کو مشترکہ اور انفرادی طور پر امریکی مصنوعات اور ڈالر کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔  تاجر برادری کو  یقین کرنا چاہیے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے اور ہر غیرت مند پاکستانی اس میدان میں اپنی تاجر برادری کے ہم قدم ہے۔

اگر ہم تجارت کے میدان میں امریکہ کا بائیکاٹ کردیں تو بھارت ، افغانستان اور داعش سمیت تمام خطرات خود بخود ٹل جائیں گے چونکہ یہ سب امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔

تجارت کا محاز ایک اہم محاز ہے، ہمیں اسے خالی نہیں چھوڑنا چاہیے، ہماری میڈیا،  خطبا، علمائے کرام ، کالم نگار وں اور دیگر دانشمند طبقات سے گزارش ہے کہ وہ تاجر برادری سے رابطے کریں  اور اپنی زبان و قلم کے ذریعے تاجر برادری کو امریکہ کے خلاف صف آرا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہم سب امریکہ کے مقابلے میں ایک ہو جائیں تو جہاں امریکی ڈالر کی کمر ٹوٹے گی وہیں اقتصاد  اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

ہم اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، پاکستان کے دشمن متحد ہیں، ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں، ہندوستان اور افغانستان نے بھی اپنا منہ کھول رکھا ہے، اسرائیل بھی  پر تول رہا ہے لیکن  اس وقت اصلی جنگ معاشی جنگ ہے۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(آرٹیکل) ایام محرم الحرام ہے اور ہمیں دنیا کے ہر کونے میں یا حسین کی صدائیں سنائی دیتی ہے، ساری کائینات ہمیں حسین کا دیوانہ لگتا ہے، لاکھوں جانیں حسین پر قربان ہونے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا عاشق حسین ہے؟ مسلمان ہو یا غیر مسلم جب اسم حسین کو زبان پر ورد کرتے ہیں تو سب احترام کرتے ہیں اور امام حسین کے یثار و قربانی کی تعریف کرتے ہیں اور ان کی سچائی، خلوص، جزبہ شہادت، جذبہ ایمانی اور بہادری کو داد دیتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ۱۳۷۹ سال گزرنے کے باوجود کربلا ابھی تک زندہ ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے ایسا کیا کیا تھا کہ جس کی وجہ سے ساری دنیا امام حسین کو فراموش نہیں کرسکے؟ کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا، مسلمان، مسیحی، ہندو، کافر سب امام حسین کو اور ان کے اہداف و قربانی کو یاد کرتے ہیں؟ کیا دنیا میں واقعہ کربلا کے بعد کوئی ظلم و ستم نہیں ہوا؟ کسی کو بھوکا پیسا قتل نہیں کیا گیا؟ آخر کیوں دوسرے واقعات وقت کے ساتھ ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے مگر واقعہ کربلا ہر زمانے اور ہر دور میں نیا لگتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہدف و درس کربلا اسی زمانے کے لئے ہے۔

اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے شخصیت حسین کو دیکھنا ہوگا کہ آخر خود امام حسین کون ہے ان کی شخصیت کیا ہے، امام حسین کو پہچانے کے بعد ہم ان کے اہداف اور مقصد کو سمجھ سکتے ہیں۔ امام جسین کی شخصیت کے بارے میں رسول اکرم ص کی بے شمار احادیث موجود ہیں، ان میں سے ایک حدیث میں یہاں نقل کرنا چہتا ہوں کہ رسول اکرم ص فرماتے ہیں: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں"۔ یعنی کردار، گفتار و رفتار میں حسین رسول اکرم ص کی طرح ہے، جس طرح رسول اللہ ص ساری انسانوں کے لئے رحمت بن کر آئے اسی طرح امام حسین بھی انسانوں کے لئے ہادی و امام امت ہیں اور ظلم و بربریت کے اندھیری میں ڈوبی ہوئی قوموں اور انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ حسین اور رسول اللہ ص میں فرق صرف یہ ہے کہ حضرت محمد خدا کے آخری نبی ہیں اور حسین امام ہے جنہوں نے اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لئے اپنی جان، مال، ناموس سب کو قربان کیا اور دین محمدی کو بچایا۔

واقعہ کربلا اور دنیا میں رونما ہونے والے دوسرے حادثوں میں بہت بڑا فرق ہے، ہم اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتاہے کہ تاریخ انسانی ظلم و بربریت، جنگ و جدال کے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کے پیچھے خودغرضی، مفاد پرستی، شخصیت پرستی، ہوس پرستی، قوم پرستی، طاقت پرستی نظر آتا ہے لیکن حق و باطل اور خداپرستی کا معیار کہی نظر نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ جس حادثہ کی اہداف و مقصد محدود ہوتا ہے وہ اسی محدودیت میں دفن ہو جاتا ہے۔

لیکن واقعہ کربلا اور شخصیت حسینی ان سب سے ہٹ کر ہے یہ حماسئہ کربلا و حماسئہ حسینی ہے، یہ ایک حادثہ اور ایک شخصیت نہیں ہے بلک یہ ایک ایسا جامع واقعہ ہے جو زمان، مکان، رنگ نسل،  مفادات، ریاکاری و دنیاوی خواہشات سے بالاتر ہے، یہ حق و باطل کا میزان ہے، یہ مظلومیت و بہادری کا درس گاہ ہے، یہ ایمان و سچائی کا مرکز ہے، یہ وفا و بہادری کا ناختم ہونے والا سلسلہ ہے، یہ ایک ایسا درس گاہ ہے جو ہر زمانے کے انسانوں کے لئے درس فرق مابین حق و باطل سیکھاتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا مادہ پرستی و ظلم و ستم کی جانب رواں ہے درس کربلا و اہداف حسینی انسانوں کے سامنے واضح ہو رہی ہے۔ اسی لئے واقعہ کربلا اور شخصیت امام حسین ہر ایک کے دلوں میں زندہ ہے، ہر باشعور انسان کردار و گفتار امام حسین کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتا ہے۔

۔ روس کے معروف مفکر اور ادیب ٹالسٹائی نے کہا ہے: "امام حسین ان تمام انقلابیوں میں ممتاز ہیں جو گمراہ حاکموں سے گڈگوورنینس کا تقاضا کرتے تھے، اسی راہ میں انہیں شہادت حاصل ہوئی۔"

۔ عصری جاپان کے مصنف کوئیانہ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ: "امام حسین کا انقلاب پسے ہوئے طبقے کے لیے جدوجہد کا راستہ روشن کرتا ہے، سوچ کو توانائی دیتا ہے، گمراہی سے نکالتا ہے اور حصول انصاف کے سیدھے راستے پر ڈال دیتا ہے۔"

۔ تھامس کارلائل نے کہا کہ: "واقعہ کربلا نے حق و باطل کے معاملے میں عددی برتری کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے۔ معرکہ کربلا کا اہم ترین درس یہ ہے کہ امام حسین اور ان کے رفقا خدا کے سچے پیروکار تھے، قلیل ہونے کے باوجود حسین کی فتح مجھے متاثر کرتی ہے۔"

۔ تاریخی محقق اور ممبر برطانوی پارلیمنٹ ایڈورڈ گیبن نے “دی فال آف رومن ایمپائر” میں واقعہ کربلا کو انتہائی دلسوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ: "امام حسین کی مظلومانہ شہادت اور کربلا کے دلخراش واقعات ایک سرد دل انسان کی آنکھوں میں بھی آنسو اور دلوں میں ہمدردی پیدا کردیتے ہیں۔"

۔ روسی مفکر اوگیرا کا کہنا ہے کہ: "حسین ہر اس طبقے کے لیے مثال ہیں جو طبقاتی جبر کا شکار ہے، وہ حکمران جو اپنا تخت مفلوک الحالوں کے سروں سے تعمیر کرتے ہیں پھر ان کے جانشین بھی یہی کچھ کرتے ہیں جب تک کہ ان کا احتساب نہ کر دیا جائے وہ دوسروں کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔"
۔ انگلش رائٹر تھامس لیل نے اپنی کتاب "انسائیڈس عراق" میں لکھا ہے کہ: "امام حسین کے عقیدتمند ایسے دیوانے ہیں کہ اگر انہیں صحیح رخ میں گائیڈ کیا جائے تو یہ دنیا کو ہلا کے رکھ سکتے ہیں۔ تھامس ۱۹۱۸-۱۹۲۱ میں سرکاری طور پر عراق میں تعینات تھا اور یہ بات اس نے شہدا کربلا کے گرد عزاداری دیکھ کر کہی تھی۔"

۔ وولف انسٹی ٹیوٹ کیمبرج کے بانی ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایڈورڈ کیسلر نے اپنے ایک لیکچر میں کہا کہ: "موجودہ دنیا کی ملٹی فیس سوسائیٹیز میں سب سے بڑا مسئلہ سوشل جسٹس کا ہے اور سوشل جسٹس حاصل کرنے کے لیے امام حسین بہترین رول ماڈل ہیں۔"

۔ انٹرفیتھ گروپ کی ایکٹیوسٹ و ریسرچر ڈائنا ملز نے کہا ہے کہ: "امام حسین نوع انسان کے لیے رول ماڈل ہیں، میرے لیے امام حسین کئی جہتوں سے مسیح  کے متوازی نظر آتے ہیں، خدا کے حکم پر پورا اترنے کی خاطر انہوں نے بھی ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دیا تھا، امام حسین کی یہ بات مجھے بیحد پسند ہے کہ تم میری جان تو لے سکتے ہو لیکن میرا ایمان نہیں لے سکتے۔"

۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ "میرا یہ ماننا ہے کہ اسلام کا پھلنا پھولنا تلوار سے نہیں بلکہ ولی خدا امام حسین ابن علی کی قربانی کا نتیجہ ہے، دوسری جگہ کہا، اگر میرے پاس امام حسین کے ساتھیوں جیسے بہتر لوگ موجود ہوں تو میں چوبیس گھنٹے میں ہندوستان آزاد کرالوں، ایک اور جگہ کہا اگر ہندوستان کو آگے بڑھنا ہے تو امام حسین کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔

. جواہر لعل نہرو پنڈت نے کہا تھا، امام حسین کی قربانی کسی ایک قوم کی نہیں بلکہ سب کے لئے صراط مستقیم کی اعلی ترین مثال ہے۔اسی لئے جوش ملیح آبادی نے کیا خوب کہا ہے:

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین
چرخ نوع بشرکے تارے ہیں حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
 ہر قوم پکارے گی ہمارے ہے حسین


تحریر۔۔۔ناصررینگچن

وحدت نیوز(آرٹیکل) نبوت ختم ہوگئی، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ عالمین کے آخری نبی اور اسلام تمام زمانوں کے لئے آخری دین ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے بعد دینِ اسلام کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے مسلمانوں کے ہاں بارہ اماموں کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں ایسی احادیث موجود ہیں  جو نبوت کے بعد خلافت و امامت کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلے میں  یوں آیا ہے کہ ”جابر بن سمرة“کہتے ہیں  کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:

”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔“ (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)

”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے والدنے مجھے کہا کہ پیغمبر نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “

نبوت کے بعد امامت کا تصور ختمِ نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔

نظریہ امامت پر سارا جہانِ اسلام متفق ہے اور یہ امامت کی تفصیل  ہے کہ امام کو کیسا ہونا چاہیے؟ امام کا انتخاب کیسے ہوگا؟  امام معصوم ہوگا یا غیر معصوم وغیرہ وغیرہ۔۔۔

جہانِ اسلام کے معروف ترین اور مقبول ترین آئمہؑ میں سے ایک حسین ابن علیؑ ہیں۔ آپ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی آپ سے عشق و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ سے عشق و عقیدت رکھنے والے جانتے ہیں کہ    ۶۱؁ ھ میں دینِ اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر عائد ہوئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام ، دینِ ملوکیت بن چکا تھا، دینِ بادشاہت بن چکا تھا، ملوکیت و بادشاہت کسے کہتے ہیں عصرِ حاضر میں اس کا نپا تلا جواب آپ کو خصوصی طور پر  مولانا مودودی ؒ اور یاپھر شیخ الحدیث  ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملے گا۔

حسین ابن علیؑ نے اکسٹھ ھجری میں دینِ اسلام کی اصلی تعلیمات کی حفاظت کے لئے  اپنی ذمہ داری کو اداکیا، اگر اس وقت حضرت امام حسینؑ کی جگہ خود پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ بھی  ہوتے تو وہ وہی کچھ کرتے جو حسینؑ ابن علی نے کیا ہے اور یزید ابن معاویہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بھی وہی کچھ کرتا جو اس نے  حسین ابن علیؑ کے ساتھ کیا ہے۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ بھی اگر چہ تنِ تنہا رہ جاتے لیکن وہ  ہر گز کسی کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ دینِ اسلام کو ملوکیت و بادشاہت میں تبدیل کرےاور یزید کبھی  دینِ اسلام کو ملوکیت میں تبدیل کئے بغیر چین سے نہ  بیٹھتا۔

حضرت امام حسینؑ نے  ملوکیت سے ہیبت زدہ  ایک ایسی فضا میں قیام کیا کہ جہاں لوگ  ملوکیت کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔

دوسری طرف امام حسینؑ یہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت دینِ اسلام کی حقیقی شکل اور تعلیمات کی حفاظت نہ کی گئی تو عالمِ بشریت ظہورِ اسلام سے پہلے والے زمانے یعنی زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گا، اسلامی قوانین لغو ہوجائیں گے اور اولاد آدم بھٹکتی پھرے گی ۔ چنانچہ آپ نے ہر قیمت پر دینِ اسلام کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے اعوان و انصار کو تہہ تیغ ہونا پڑا لیکن اسلام کی تعلیمات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ جب آپ کی شہادت اور  قربانی کی خبر جہانِ اسلام میں پھیلی تو  لوگ نفسیاتی طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ۔ آپ کے قیام کی سب سے پہلی تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں کے اندر سے موت کا خوف ختم ہوگیا اور لوگ باطل کو باطل اور غلط کو غلط کہنا شروع ہوگئے جس کی وجہ سے جہانِ اسلام کے اطراف و کنار میں مختلف قیام سامنے آئے۔

اس قیام ، قربانی اور شہادت کی دوسری تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں نے اہلبیت ؑ سے عشق و محبت کا اظہار دوبارہ سے شروع کردیا اور یوں جگہ جگہ جہاں پر  امام حسینؑ کی قربانی کا ذکر ہوتا وہیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تبلیغ بھی ہوتی اور   یزید  نے دینِ اسلام میں جوانحرافات ایجاد کئے تھے ان کا بھی ذکر ہوتا۔

ہم ناصبیوں کی بات نہیں کرتے ، ناصبیوں کے علاوہ مجموعی طور پرمسلمانوں  نے دو طرح سے اس قربانی کو دیکھا ، کچھ  نے اس قربانی سے ہمدردی ، عشق اور درد کا رشتہ قائم کیا اور کچھ نے اس سے ہمدردی ، عشق اور درد کے ساتھ ساتھ تعلیم اور درس کا ناطہ بھی جوڑا۔

بالکل ایسے ہی جیسے اگر پانچ بچوں کا باپ فوت ہوجائے تو ان میں سے ہر ایک کا رد عمل مختلف ہوتا ہے، کوئی مہمانوں اور تعزیت کے لئے آنے والوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، فاتحہ پڑھتا ہے، اپنے باپ کی باتیں دہراتا اور مہمانوں کو سناتا ہے، دوسرا صرف روتا اور پیٹتا ہے، تیسرا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، چوتھے کی نیند ختم ہوجاتی ہے اور پانچواں قبرستان میں جا کر قرآن خوانی کرتا رہتا ہے۔ یہ پانچوں اپنی اپنی طرز پر اور اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلا ں مرحوم کا زیادہ سگا بیٹا ہے اور فلاں کو زیادہ غم ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سبھی کو غم ہے اور سبھی مرحوم کے حقیقی بیٹے ہیں۔

اسی طرح امام حسینؑ بھی تمام علام اسلام کے رہبر و رہنما اور محسن  ہیں اور سارے مسلمان ، آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی شہادت کے موقع پر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، جذبات کا یہ اظہار مختلف نوعیت کا ہوتا ہے ، کسی کی مظلومانہ شہادت پر جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے۔

فطری امر ہونے کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور یوں پوری دنیا مل کر حسین ابن علی ؑ کو سلام پیش کرتی ہے۔دنیا کا ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ آج اگر دنیا میں اسلام کی تعلیمات اور نام و نشان باقی ہے تو یہ امام حسینؑ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔

 بقول شاعر

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

(یگانہ)


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

وحدت نیوز (آرٹیکل)  شام اورعراق میں جیسے جیسے داعش اور ان جیسے دیگر دہشت گرد گروہوں کو شکست ہو رہی  ہےان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس وقت عالمی میڈیا پر شام کے شہر ادلب کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی خبر سامنے آرہی ہے اور سب سے زیادہ واویلا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سامنے آرہا ہے۔

شامی شہر ادلب کو دہشت گردوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے جو ۲۰۱۱ سے ہی دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہ کے طور پر سامنے رہا ہے۔ یہاں پر مختلف دہشتگرد تنظیموں کا کنٹرول رہا ہے اور اس وقت الحرار الشام نامی القاعدہ سے مربوط دہشتگرد تنظیم کا گھڑ ہے۔ ادلب وہ شہر ہے جہاں سے شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا اور آج بھی شام میں ادلب کو دہشتگردوں کی آخری پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔

شامی حکومت اپنے اتحادیوں روس، ایران، حزب اللہ کے ساتھ مل کر ادلب سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا چاہتا ہے جس کے لئے حکومتی تیاریاں جاری ہے۔ جب سےاسد حکومت نے ادلب آپریشن کا اعلان کیا ہے امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، امریکہ صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بشاراسد کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہیے، روسی اور ایرانیوں کو انسانی اورتاریخی غلطی کا سامنا کرنا ہوگا، سینکڑوں، ہزاروں لوگ مارے جائینگے اور ایسا ہونے نہیں دینگے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شامی حکومت چاہتی ہے وہاں محصور شہریوں کو دہشتگردوں کی چنگل سے آزاد کیا جائے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کیا جائے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ وہ بچے، خواتین، جوانوں سب کو اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کسی پر کسی بھی قسم کا کوئی رحم نہیں کھاتے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں دہشتگرد ہے تو امریکہ کو کیوں مشکل ہو رہی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ امریکی مشکلات کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے کچھ یہ ہے کہ:

۱۔ امریکہ نہیں چاہتا شام سے دہشتگردوں کا خآتمہ ہوں کیونکہ دہشتگرد خود امریکہ کی پیداوار ہے اور جس جس ملک میں امریکہ نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کی ہے اُن ملکوں میں امن کے بجائے تشدد اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے اور دیشتگرد پہلے سے زیادہ طاقت ور اور بھیانک ہو کر اُبھرے ہیں، افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہے جہاں پر امریکیوں کے آنے کے بعد داعش جیسے تکفیری وجود میں آئے۔

۲۔ امریکہ کا دوسرے ملکوں پرحملہ کرنے اور ان کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنے کا بہترین بہانہ دہشتگردی کے خلاف جھوٹا جنگ ہے۔

۳۔ دہشتگردی کا اگر خاتمہ ہوجائے تو غاصب امریکیوں کو دوسرے ملکوں میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملے گا، یعنی دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ دوسرے ملکوں میں ناجائز قبضے جمائے رکھنے کا زریعہ ہے۔

۴۔ امریکی اقتصاد کا ایک ستون اسلحوں کی فروخت پر قائم ہے، امریکہ، کینڈا اور دوسرے مغربی ممالک جو اپنے آپ کو انسانی حقوق اور عالمی تحفظ کا علمبردار مانتے ہیں دنیا میں جنگ، نامنیت اور غربت کے پیچھے انہی قوتوں کا ہاتھ ہے، یہی ممالک ہیں جو میڈیا پر جمہوریت اور انسانی حقوق کی بتاتیں کرتے ہیں اور پس پشت کمزور ممالک میں خانہ جنگی اور دہشتگردوں کی پرورش، منشیات اور اسلحوں کی خرید و فروخت کے دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ جس دن دنیا میں امن ہوگا ان کے بنائے ہوئے اسلحے کسی کام کے نہیں رہنگے۔

۵۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی ملک سر اٹھآ کر جیئے وہ چاہتا ہے کہ ہر ملک اس کا محتاج بنے رہے۔۶۔ مشرق وسطی کے قددرتی ذخائر پر قبضہ۔ ۷۔ مشرق وسطی میں امریکیوں کے رہنے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کی دفاع کر سکیں۔۔۔۔

لہذٰاا امریکیوں کا شور مچانا بے جا نہیں، وہ اقوام متحدہ کے زریعے بھی شامی حکومت پر دباو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں فوجی کاروائی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادلب میں وسیع فوجی آپریشن بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضایع اور خون خرابے کا موجب بن سکتا ہے۔ دوسری طرف روس کی طرف سے بھی امریکہ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو مالی و سلاحی  کمک روک دیں اور خطے کو مزید خون خرابے کی طرف نہ لے جائیں۔

امریکہ شام میں موجود فلاحی تنظیم وائٹ ہیلمیٹ اور دیگر این جی اوز کے زریعے دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے۔ بلکہ کچھ میڈا رپورٹز میں امریکی تیار کردہ ڈرامہ "اسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال" کا بھانڈا پھوٹ دیا گیا۔ ادلب میں دہشت گردوں نے ابھی سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شوٹنگ شروع کی ہے جس کی صداقت صرف کیمرہ کی حد تک ہے اس مقصد کے لئے انہوں نے شام کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں بچوں کو بھی اغواء کیا۔ اس سے پہلے بھی شام میں کیمائی اسلحلوں کی استعمال کا ڈرامہ رچایا جا چکا ہے جس میں پہلے سے تیار کردہ فیک اور جعلی تصاویریں اور ویڈیوز کو پبلک کیا گیا تھا اور اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی تھی۔

ہمیں ان حالات میں امریکہ اور نیٹو کا منافقانہ اور مکارانہ چہرہ بھی نظر آرہا  ہے، دیکھیں ۹/۱۱ کے واقعہ کے بعد جس القاعدہ کو دنیا بھر میں دہشت گرد بناکر افغانستان پر حملہ کیا گیا آج اسی القاعدہ کے دہشت گردوں کو بچانے کے لئے شام میں سر توڑ کوششیں کی جارہی ہے۔ امریکی خود اعتراف کرتے ہیں کی شام کے شہر ادلب القاعدہ کی پناہ گاہ ہے۔ ٹرمپ کے خصوصی صدارتی سفیر برٹ میک گروک کا کہنا تھا کہ" ۹/۱۱ کے بعد القاعدہ کا سب سے بڑا پناہ گاہ شامی شہر ادلب ہے"۔ اسی طرح وہاں موجود دشگردوں نے بھی کئی دفعہ اس بات کا اقرار کیا ہے کہ امریکہ و نیٹو ہماری طرف ہے اور ہمیں تیسری پارٹی کے زریعے اسلحلے و دیگر ضروریات کی چیزیں مہیا کرتا ہے۔

لہذا امریکی جانب سے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شور شرابہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے عراق پر حملے کے وقت کیا گیا تھا اور ہوسکتا ہے  یہ واویلا بھی کسی بڑے سانحے کے لئے زمینہ سازی ہو۔

لہذٰا ہمیں بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ دشمنوں کے حربوں اور سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد و نوجوان عالمی حالات اور ولڈ پولیٹکس سے بے خبر ہیں، اور ساری چیزوں کو ظاہری اور جذباتی طور پر لیتے ہیں خصوصا سوشل میڈا استعمال کرنے والے اس طرح کی خبروں کا فوری شکار بن جاتا ہے اور وہ اصل اور جعلی خبروں کی تمیز نہیں کر پاتے ہیں ایسے حالات میں ہمیں صرف سوشل میڈا پر ہی نہیں بلکہ جب بھی جہاں بھی کوئی حادثہ رونما ہو تو پہلے اس کے حقیقت کی تصدیق کریں پھر اقدام کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں دشمنوں کی سازشوں کا حصہ بن جائے۔

تحریر: ناصر رینگچن

Page 1 of 63

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree