وحدت نیوز(آرٹیکل)  ابھی ذیشان اشرف بٹ کا خون تازہ ہے، مقتول صحافی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا کہ شیخوپورہ میں سیوریج کے منصوبے میں مبینہ طور پر غیر معیاری مواد استعمال ہونے کی کوریج کرنے والے ڈان نیوز کے رپورٹر پر تشدد کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر مقامی جنرل کونسلر کے دفتر میں بند بھی کردیا گیا۔ ڈان نیوز کے مطابق  شیخوپورہ پریس کلب کو شکایتی خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گَھنگ روڈ کا سیوریج نظام تباہ ہوچکا ہے، جبکہ جنرل کونسلر کی ہدایات پر شہر کے چند علاقوں میں ہونے والے ترقیاتی کام میں استعمال ہونے والا مواد غیر معیاری ہے۔ جب رپورٹر اور ان کی ٹیم گھنگ روڈ پہنچی اور فوٹیج ریکارڈ کرنا شروع کی تو کونسلر رائے محمد خان اپنے عملے کے ہمراہ وہاں پہنچے اورصحافیوں پر تشدد شروع کر دیا کیمرہ مین اپنی جان بچاتے ہوئے جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا جبکہ کونسلر ،بلال شیخ کا موبائل فون چھین کر انہیں گاڑی میں اپنے ڈیرے (دفتر) لے گئے۔ڈیرے پر بھی ڈان نیوز کے رپورٹر پر گنے سے تشدد کیا گیا اور بلدیاتی چیئرمین امجد لطیف شیخ کے دفتر میں محصور کر دیا گیا۔

یہ اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ بولنے کی قیمت ہے ، یہ بے لاگ صحافت کا اجر ہے، یہ حق اور حقیقت کی خاطر قلم اٹھانے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جب صحافی حضرات کے ساتھ یہ برتاو ہو رہا ہے تو آپ خود اندازہ کیجئے کہ  عام عوام کے ساتھ مختلف اداروں میں  کیسا  سلوک کیا جا رہا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر تشدد اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں صحافیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سال ۲۰۱۷ سے لے کر اب تک ان گنت صحافیوں کو ملک کے اطراف و کنار میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس تشدد کے جواب میں  بعض اوقات چند روز احتجاجی جلسےجلوس ہوتے ہیں اور پھر معاملہ ٹھپ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ اب رکنے میں نہیں آتا۔

صحافیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اب ایک منظم احتجاج کی ضرورت ہے۔دوسری طرف یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ایک انسان کی زندگی کے لئے جس طرح ہوا اور پانی  کی ضرورت ہے اسی طرح ایک معاشرے کی زندگی کے لئےآزادی رائے، آزادی صحافت ،جمہوریت اور انسانی حقوق  کی ضرورت ہے۔اگر معاشرے میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا، صحافیوں کو گولیاں ماری جائیں گی، انہیں اغوا کیا جائے گا اور ان پر تشدد کیا جائے گا تو ایسے معاشرے سے زندگی کی رمق بھی ختم ہو جائے گی۔ پاکستان میں آزادی رائے کوایک منظم لابی مسلسل کچل رہی ہے۔ عصرِ حاضر کے فرعون معاشرے کو غلام رکھنے کے لئے معاشرے کی اجتماعی سوچ کو مسل رہے ہیں، معاشرتی ڈکٹیٹر  ایک طرف تو معاشرے میں کرپشن اور دیگر  برائیوں کو خود رواج دیتے ہیں اور  دوسری طرف اگر کوئی صحافی ان کی نقاب کشائی کرتا ہے تو جواب میں کہتے ہیں کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے۔

 سارے معاشرے کو برا کہنا درا اصل برے لوگوں کو بچانے کی  ایک عمدہ چال ہے۔ ہمارے ہاں کچھ چالاک لوگوں نے عوام  کو سیاسی  بصیرت ، معاشرتی  رواداری ا ور اخلاقی اقدار کے بجائے  نعروں، ووٹوں اور سیٹوں کے پیچھے لگا رکھا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو عوامی رائے اور اپنے حقوق کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکشن ہوجانے کا نام ہی  جمہوریت اور ووٹ ڈالنے کا نام  ہی آزادی رائے ہے۔  لوگوں کو ذہنی طور پر اتنا محدود اور چھوٹا کر دیا گیا ہے کہ وہ حق اور سچ  کہنے کے بجائے، پارٹیوں ، برادریوں ، مسالک اور شخصیات کی پرستش کرتے ہیں۔لوگ الیکشن میں بھی ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو انسانوں سے زیادہ اپنے کتوں سے پیار کرتے ہیں اور جو انسانیت اور شرافت کے بجائے بدمعاشی اور دھونس پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کے پڑھے لکھے اور دانشمند طبقے کو اس حقیقت کو سمجھنے اور آگے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کبھی بھی ایک منظم لشکر اور مرتب سوچ یعنی ایک مستقل لابی کا مقابلہ ایک پراگندہ لشکر اور منتشر سوچ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ الیکشن میں زیادہ سیٹیں لینے اور زیادہ

ووٹ لینے سے کسی کی انسانیت ، آدمیت اور شرافت میں اضافہ نہیں ہو جاتا، بلکہ  معاشرے میں انسانیت، آدمیت اور شرافت کی حاکمیت کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام مسائل  میں فاسق و فاجر لوگوں کی مخالفت کریں ۔ جولوگ اپنے ،ماں باپ ، اپنے ہمسایوں اور اپنے عزیزو اقارب سے زیادہ اپنے کتوں اور پالتو  بدمعاشوں سے محبت کرتے ہیں وہ ہمیں کیا جمہوری اقدار سکھائیں گے اور ہمارے ساتھ کیا بھلائی کریں گے اور وہ ہمیں کیا آزادی رائے دیں گے! عوام کی بھلائی اسی میں ہے کہ عوام خود اپنے ساتھ بھلائی کرے، بھلے اور نیک  لوگوں کا ساتھ دے اور بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھنے سے قطعاً نہ کترائے۔ ہاں اس راستے میں ذیشان اشرف بٹ کی طرح ہماری جان بھی جا سکتی ہے اور  بلال شیخ کی طرح  کسی کو اغوا کر کے اس  پر تشدد بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے راستے میں جولوگ ڈٹ جاتے ہیں وہی تاریک راتوں میں روشنی کے ستارے بن کر چمکتے ہیں اور جو بِک یا ڈر جاتے ہیں وہ اپنے پیچھے سیاہ رات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

آج بحیثیت قوم ہمارے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو قوم کو مغرب کی طرز پر معاشرتی آزادی، آزادی رائے اور آزادی صحافت دینے کے دعوے کرتے ہیں جبکہ عملا ً عوام کو مصر کے فرعونوں  کی نگاہ سے دیکھتے ہیں  اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو عوام کی دینی رہبری اور قیادت کے دعویدار ہیں لیکن  معاشرے میں آزادی رائے اور آزادی صحافت کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ لوگوں کے خون سے لا تعلق رہتے ہیں۔ اب ملک ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے کہ جہاں ہم نے خود ہی اپنے معاشرے کی زندگی یا موت کا فیصلہ کرنا ہے،ہمارے دانشمند حضرات خواہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوں یا دینی مدارس سے ، انہیں اپنے ملک میں معاشرتی آزادی، سماجی عدالت، عوامی حقوق اور رائے عامہ کی آزادی کے حوالے سے سکوت اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

خصوصاً اگر دینی اداروں کے دانشمند معاشرے کی تعریف، معاشرتی آزادی، اظہارِ رائے ، رائے عامہ اور صحافت کے خدوخال کو علمی و عملی قالب میں عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے اور ملی آزادی اور اظہار رائے کا تحفظ نہیں کریں گے تو رائے عامہ خود بخود غیروں کے آگے مسخر ہوتی چلی جائے گی۔ دینی اداروں کو چاہیے کہ آزادی صحافت کو وہ بھی اپنا مسئلہ سمجھیں اور صحافیوں کے بہنے والے خونِ ناحق  کا نوٹس لیں، جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر لڑنے والے اس قوم کے مجاہد ہیں اسی طرح اس ملک میں کرپشن، بدعنوانی ، فراڈ اور دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے والے صحافی بھی عظیم مجاہد ہیں۔لہذا دینی حلقوں کی طرف سے صحافیوں پر ہونے والے تشدد پر خاموشی بلاجواز ہے۔

آئیے وطن عزیز سے کرپشن اور بدعنوانی کی سیاہ رات کے خاتمے اور آزادی رائے کی خاطر قربانیاں دینے والے صحافیوں کے حق میں ہر پلیٹ فارم سے  آواز بلند کریں اور  متحد ہوکر حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ وہ  صحافیوں پر تشدد اور حملے کرنے والے مجرمین کو قرار واقعی سزا ئیں دے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرہ تو زندہ ہو لیکن صحافت مردہ ہو، ہمیں اس معاشرے میں صحافت کو زندہ رکھنے کے لئے  عوام و خواص کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی ہوگی اور تمام پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کو معاشرتی دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔یاد رکھئے !صحافت معاشرے کا دل اور دماغ ہے، صحافت زندہ رہے گی تو معاشرہ بھی زندہ رہے گا۔


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یہ وقت بیداری ہے

وحدت نیوز (آرٹیکل)  اس وقت مشرق وسطی کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ہزاروں ٹھوکریں کھانے کے باوجود ابھی تک کوئی سبق حاصل نہیں کیے ہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے شام میں امریکی نئے پروپگینڈے اپنے عروج پر ہیں جو اس سے پہلے بھی کئی بار آزما چکے ہیں۔جب سے مغربی پشت پناہی میں شامی حکومت کے ساتھ لڑنے والی دہشت گردوں کو شکست ہوئی ہے امریکہ و اسرائیل سخت پریشان ہیں اور شامی حکومت پر بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں۔ اوپر سے اسرائیل بھی امریکہ کے اشارے پر شام اور فلسطین میں اپنی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہیں اور حال ہی میں ایک شامی ائربیس پر بھی میزائل داغے گئے ہیں۔مشرق وسطی میں جاری سیاسی کشمکش ایک طرف،لیکن مجھے تعجب اُن مسلمان حکمرانوں پر ہے جنہوں نے ظاہری طور پر اسلام کا بیڑا اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوئے ہیں جن میں سعودی عرب سر فہرست ہیں۔ در حال کی جزیر ۃالعرب مسلمانوں کا مقدس ترین سرزمین ہے جہاں سے اسلام کی ابتداء ہوئی، کعبہ ، مسجد نبوی، مسجد الحرام غرض ہمارے سارے مقدس مقامات اسی سرزمین میں ہی موجود ہیں جس کی وجہ سے تمام مسلمان اس سرزمین سے خاص لگاو رکھتے ہیں ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ سعودی بادشاہت جو اپنے آپ کو خادم الحرمین شریفین کہتے ہیں ان کے ذاتی اور سیاسی اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑرہے ہیں۔مغربی طاقتیں خصوصا امریکہ و برطانیہ نے مسلمانوں کو جو نقصانات پہنچائے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، امریکہ کی تاریخ بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین اور سیاہ ہے امریکہ نے دنیا کے مختلف ممالک میں جو مستقیم اور غیر مستقیم طریقے سے مداخلت یا حملے کئے ہیں ان میں اب تک ایک اندازہ کے مطابق چودہ ملین افراد موت کے منہ جا چکے ہیں لیکن نہ کوئی ان کے خلاف بولتا ہے اور نہ کوئی ان کو دہشت گرد کہتا ہے کیونکہ ہمارے ذہنوں میں مغربی حوالے سے ایک افسانوی خاکہ غالب آچکا ہے کہ امریکہ سپر پاور ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے کرسکتا ہے، اور وہ جو کرتا ہے صحیح کرتا ہے، پھر کچھ اندرونی طور پر ڈالروں کی چمک دھمک اور مفادات بھی خاطر نظر ہوتی ہے۔ بعض مسلمان سعودی عرب کے خلاف مقدس مقامات کی وجہ سے کچھ سننے کو تیار نہیں ، لیکن مسلمانوں کے اس اعتقاد کا احترام اپنی جگہ لیکن دوسری جانب ہم زمینی حقائق سے چشم پوشی بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

مسلمانوں نے جس طرح آل سعود حکمرانوں کو قابل اعتماد سمجھے ہوئے تھے جس کا جواب انہوں نے حالیہ کچھ دنوں میں کچھ اس طرح دیا ہے کہ جس نے تمام دنیا میں موجود مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جن میں سے تین اہم واقعہ یہ ہیں، پہلا غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا گویاعالم اسلام کے قلب میں خنجر مارنے کی مانند ہے، دوسرا بھارتی مسافر بردار جہاز نے پہلی بار اسرائیل جانے کے لئے سعودی فضائی حدود کا استعمال کیا اور یوں آل سعود نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ روابط کا سلسلہ بھی شروع کردیا ، پہلے تو سعودی اسرائیلی تعلقات کی کہانی پشت پردہ ہوا کرتی تھی لیکن اب محمد بن سلمان نے کھل کر اسرائیل سے تعلقات کو آشکار کیا ہے جس نے عالم اسلام میں مخصوصا فلسطین کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی نئی لہر ایجاد کی ہے۔تیسرا:سعودی عرب کا امریکہ ،برطانیہ اور فرانس سے اسلحہ کی خریداری۔آج دنیا کے مسلمانوں کایہ ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والی اندورونی تبدیلیاں ، آل سعود کا روشن ہوتااصل چہرہ اور امریکہ، برطانیہ ، فرانس سے بلینز ڈالرز کی اسلحہ کی خریداری!آخر یہ سب کیوں اور کس لئے؟، کیونکہ مسلمان جانتے ہیں کہ اسلام کا اصل دشمن امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ ہے دوسری طرف خادم الحرمین اسلام کے دشمنوں سے دوستی اور ان سے جنگی وسائل خرید رہے ہیں اوریہ امر باعث تعجب ہے کہ آخر سعودی عرب نے ان اسلحوں کو کہاں استعمال کرنا ہے؟ آیا یمن کے نہتے غریب عوام پر استعمال کرنا ہے یا شام ، عراق، لیبیا، افغانستان میں موجود تکفیریوں کو سپلائی کرنا ہے؟ یا کسی اور اسلامی ملک کے خلاف؟ ہرصورت میں نقصان مسلمان ممالک اور دین اسلام کاہے اور فائدہ صرف اور صرف اسلام دشمن عالمی استعماری طاقتوں کو ہیں۔اسلام کے مقابلے میں اسلام دشمن عناصر سے جو دوستی کرتے ہیں جیسے آل سعود انہی کے بارے میں قرآن کریم میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہیں: "آپ ان میں سے بیشتر لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ (مسلمانوں کے مقابلے میں) کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے لئے آگے بھیجا ہے وہ نہایت برا ہے جس سے اللہ ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے"۔ سورہ مائدہ آیت 80

بعض لوگ اس کو سیاست کا بھی نام دیتے ہیں لیکن سیاست ٹھیک ہے ہمیں ہر وقت اپنی دشمنوں سے جنگ نہیں کرنی چاہئے کبھی سیاسی اور دوسرے طریقوں سے بھی مسائل کا حل نکالنا چاہئے لیکن اس سیاسی ڈیلنگ کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں، کیونکہ ہم جو بھی کام انجام دیں یہ کبھی بھی ہم سے خوش نہیں ہونگے جب تک کہ ہم اپنے دین اور ایمان سے ہاتھ نہ اٹھالیں، سورہ بقرہ میں خداوند متعال فرماتا ہیں: "اور آپ سے یہود و نصاری اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ بن جائیں۔ کہہ دیجٗے یقیناًاللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور اگر اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کے لٗے اللہ کی طرف سے نہ کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مددگار"۔ بقرہ: ۱۲۰کبھی ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ شاید عالمی طاقتوں سے دوستی میں ہی ہماری بقاء ہے اور اس دوستی میں ہم اپنی حدین پار کر دیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب دوستی نبھانے کی باری اُن کی ہے تو "ڈو مور" کا مطالبہ سنے میں آتا ہے۔ اب پچھتائے کیا جب چڑیا چک گئی کھیت،خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دودھ دینے والی گائے ہیں جب تک دودھ ہے اس کوکامل دھولو یعنی جب دودھ ختم ہوجائے تو صدام ، قذافی کی طرح ان کا کام تمام کردو ۔ ابھی اگر امریکہ و مغربی طاقتیں آل سعود کی پذیرائی کر رہے ہیں تو یہ ان کی شخصیت کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ان کے مال و ثروت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے ہیں اسی طرح گر کسی دوسرے اسلامی ملک کو ااہمیت دے رہا ہے تو وہ بھی صرف اپنی مفادات کی خاطر ہیں،لیکن افسوس کہ ہم ابھی تک خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے ہیں۔اسلام کے دشمن کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتا یہ لوگ فقط ہمیں اپنی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں، جس طرح روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں مسلمانوں کو استعمال کیاگیا اور اس سے پاکستان سمیت عالم اسلام کو جو نقصان پہنچا اس سے ہم سب باخبر ہیں ۔

 مگر ہم نے بھی قسم کھائی ہوئی ہے کہ کبھی تجربہ اور تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرنا ہے۔آج شام میں عالمی طاقتیں مسلمانوں کے ساتھ وہ کھیل کھیل رہی ہیں کہ اگر اب بھی مسلمان بیدار نہ ہوئے اوراس ناپاک عزائم کو نہ سمجھیں تو اس کا خمیازہ ہماری اگلی نسلوں کو اٹھانا پڑے گا۔ اس کو سمجھنے کے لئے زیادہ دقت کی بھی ضرورت نہیں بس صرف امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ کی تاریخ کو سامنے رکھ کر حالات حاضرہ پر رنگ و نسل، جذبات اور مفادات کی عینک اتار کر انسانیت اور مسلمانیت کی عینک سے دیکھیں تو حقیقت کو جانے میں مشکل نہیں ہوگی ۔ شام کے حالات سے عالم اسلام اور عالمی حالات پر گہرا اثر پڑے گا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بصیرت کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کی ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہئے اور کس کے ساتھ دینا چاہئے۔ قرآن کریم سورہ النساء میں خداوند متعال ارشار فرماتا ہیں:"جو ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں کیا یہ لوگ ان سے عزت کی توقع رکھتے ہیں؟ بے شک ساری عزت تو خدا کی ہے"۔ النساء: 139


تحریر: ناصر رینگچن

جس کی لاٹھی اس کی بھینس

وحدت نیوز(آرٹیکل)  کہنے کو تو ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جس میں آزادی، جمہوریت اور مساوات جیسےخوبصورت اور دل فریب نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ سب دکھاوا ہے۔ عملی میدان میں صرف طاقت کی زبان چلتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہو وہ اپنے آپ کو حق، اپنے آپ کو سچ اورmاپنے آپ کو غالب اور باقی سب کو محکوم، مغلوب اور کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتے ہیں۔اس کی تازہ مثال امریکہ، برطانیہ اور فرانس ٹرائیکا کا شام پر حملہ ہے۔ اس حملے میں 100سے زیادہ میزائل شام کے مختلف فوجی اور غیر فوجی مقامات پر فائر کئے گئے۔ روس کی طرف سے فراہم دفاعی سسٹم کے ذریعے شامی فضائیہ اکثر میزائل روکنےمیں کامیاب رہی۔ دمشق کے باسیوں پر کل رات بہت باری گزری۔ بچے، بوڑھے ، خواتین میزائلوں کے بھاری آوازوں میں سہمے رہے۔

 لیکن صبح ہوتے ہی شامی عوام، حکومت اور فوج کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے اور ان کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ شامی فضائیہ کی کارکردگی کو سراہتے رہے۔اقوام متحدہ ، سیکیورٹی کونسل اور  عالمی رائے عامہ  یہ سب مغربی ممالک کے نزدیک محض ڈرامہ ہیں۔امریکہ اور اس کے حواریوں نے سیکیورٹی کونسل سے شام پر حملے کی قرارداد پاس کرنے میں ناکامی کے باوجود تمام تر بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے ایک خود مختار اور آزاد اسلامی ملک پر حملہ کیا ہے۔ اور پھر بہانہ کیا ہے؟ شام کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں۔امریکہ میں موجود روسی سفیر نے نہایت اچھی بات کی ہے: جس امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ کیمیائی اسلحہ ہے اس کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ کسی اور ملک کو کیمیائی اسلحے سے منع کرے۔اس سے پہلے عراق پر بھی اس بہانے سے حملہ کیا تھا کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار  ہیں۔

 لیکن سب کچھ جھوٹ نکلا۔ جو خود سب سے زیادہ ایٹمی اور کیمیائی  اسلحہ رکھتا ہو وہ دوسروں کو ایٹمی اور کیمیائی  اسلحے سے منع کرتا نظر آتا ہے۔ یہ وہی طاقت اور بدمعاشی کی زبان نہیں تو اور کیا ہے؟بنیادی سوال یہاں یہ ہے: اسلامی ممالک کہاں ہے؟ سوائے ایران کے کسی اور ملک کا رسمی طور پر کوئی بیان ابھی تک سننے کو نہیں ملا۔ کہاں ہے او آئی سی؟ کہاں ہیں عرب ممالک؟  کیا تمام اسلامی ممالک کو شرم کے مارے ڈوب نہیں مرنا چاہیے؟ ایک اسلامی ملک پر دشمن آکر حملہ کر کے چلا جاتا ہے اور تمام اسلامی ممالک خاموش ہیں ۔ مذمت کے دولفظ اور احتجاج کے دو بول تک بولنے کو آمادہ نہیں۔ یہ شاید سمجھتے ہیں آج شام ہے۔  ان کی باری نہیں آئے گی۔ یہ ان کی بھول ہے۔ کل عراق اور افغانستان کو تباہ کیا ہے تو آج لیبیا اور شام کو ۔ لہذا دوسرے اسلامی ممالک کی باری آنے میں دیر نہیں لگے گی۔کچھ اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد نے مغربی طاقتوں کو شام پر حملے کے لیے اکسایا تھا اور تمام تر خرچہ اٹھانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ سعودی عرب کو اس بات کا غم کھائے جارہاہے کہ اس کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو شامی فوج نے  دوما شہر سے انتہائی ذلیل اور رسوا کر کے نکال باہر کیا ہے۔ سعودی عرب سات سال کے دوران اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود بشار الاسد کو گرانے میں ناکام رہا ہے۔

 اب یہ آخری کوشش ہے کہ کسی طرح برارہ راست حملہ کروا  کر  بشار اسد کو جھکنے کو مجبور کیا جائے۔ لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ رات کے حملے کے باوجود بشار اسد صبح معمول کے مطابق اپنے آفس "قصر جمہوری" پہنچے ہیں اور شیڈول کے مطابق اپنے کام میں مصروف ہوگئے ہیں۔ شامی عوام بھی اپنے معمول کی مصروفیات میں مشغول ہیں۔امریکہ شاید اپنی دھاک اور ہیبت بٹھانہ چاہتا تھا۔ اتنی ساری دھمکیوں کے باوجود کچھ میزائل نہ مارتا  تو اسے خفت کا سامنا ہوتا ۔ لہذا اس نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ ایک تو اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے، اور دوسرا یہ کہ اسی بہانے سعودی عرب سے  خوب ڈالرز بطور خرچہ وہ لے گا۔مقاومتی بلاک روز بروز طاقتور کے ہونے سامنے آرہا ہے۔ جس طرح سے عراق اور افغانستان میں  امریکہ ذلیل اور رسوا ہوا ہے اسی طرح شام سے بھی رسوا اور بے آبروہو کر نکلے گا۔ دنیا بھر کے ۴۰ سے زیادہ ملکوں سے دہشت گرد جمع کرنے کے بعد ان کو تمام تر جدید اسلحے اور تربیت فراہم کرنے کے باوجود  اور سات سال کی مسلسل دہشت گردی کے ذریعے شام کو جھکانے میں ناکام رہے۔ اب یہ ان کی بھول ہے کہ چند میزائل مارنے سے شام جھک جائے گا۔


تحریر۔۔۔۔سید عباس  حسینی
(مدرستہ الولایہ مقیم قم )

سرفہ رنگاہ

وحدت نیوز (آرٹیکل)  ہر چند کہ راقم بلتی زبان و ادب کے رموز اورادبی و علمی اصطلاحات سے تقریبا نا آشنا ہوں۔ یوں سمجھ لیجیئے کہ صرف معاشرے میں رائج الفاظ اور عام بول چال ہی جانتا ہوں۔ ایک مرکب لفظ‘‘سرفہ رنگہ’’پر غور کیا گیا۔  پہلا لفظ سرفہ یعنی تازہ، نیا، جدید، جبکہ رنگاہ ایسا خطہ ارضی یا زمین کا ایسا ٹکڑا جو باقاعدہ ذراعت وغیرہ کیلئے استعمال نہ ہو، بلکہ قرب و جوار کی آبادیوں کے لئے بطور چراگاہ استعمال ہونے والی زمین۔ اس مرکب لفظ کے معنی و مفہوم جو اخذ کئے جا سکتے ہیں وہ ہیں  ایسی تازہ زمین جو کہ کاشت کاری کیلئے استعمال نہ ہو۔ رنگاہ، سنیو رنگا، ہلما رنگاہ اور سرفہ رنگاہ وغیرہ کے علاقوں سے بلتستان کے عوام واقف ہیں۔ سرفہ کو ہم ماڈرن یا جدید کے معنی میں لیں تو ہمارے ذہنوں میں زمانے کے نت نئے طور طریقوں، نت نئی ٹیکنالوجی، نئی سیاسی، سماجی اور اقتصادی اصطلاحات اور پالیسیاں وغیرہ بھی آجاتے ہیں۔ انسان اپنی ضروریات کے مطابق رنگاہ یعنی غیر آباد علاقے کو استعمال کرتا ہے۔  جس کیلئے سرفہ یعنی تازہ خیالات اور مشورے کار آمد ہوتے ہیں۔ نئی اصطلاحات اور پالیسیاں ضروری نہیں کہ کسی پرانے اصطلاح یا پالیسی کے متبادل کے طور پر بنائی جائے، بلکہ یہ نئی تخلیق بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ انسان کو اللہ نے سوچنے کی صلاحیت دی ہے جس سے نت نئے ایجادات ہوتے آج کی دنیا کو اکیسویں صدی میں ھم گلوبل ولیج کہتےہیں۔ بقولِ شاعر،
جہانِ تازہ کے افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

یہی وجہ ہے دنیا آج تحقیق کے شعبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورمحققین کی ہی محنت کا ثمرہے جو آج نت نئی ٹیکنالوجی، ایجادات ہماری زندگیوں کو پر آسائش بنا رہی ہیں۔ سکردو کے مضافات میں دریائے سندھ کے اس پار  سرفہ رنگاہ سے اب ایک دنیا واقف  ہوچکی ہے۔  اس کی وجوہات سرفہ رنگاہ جیب ریلی، سرفہ رنگاہ ہائیکنگ اور سرفہ رنگاہ کی جانب سکردو شہر کی وسعت کیلئے ہونے والے اقدامات ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ عظمی کی سلطنت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی، تقریبا پوری دنیا میں اسکا سکہ رائج تھا۔ لوگوں کیخیالات بدلے، زمانہ بدلا، ضروریات بدلیں، نئے تقاضے سامنے آئے۔  آج ڈالر پوری دنیا پر راج کررہا ہے۔ اور سپر پاور امریکہ دنیا پر دھاک بٹھاتا نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کی دنیا پر معاشی و سیاسی اجارہ داری کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ قرائن یہی بتلاتے ہیں کہ  جدت پسندی اور تازہ خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں مہارت ایسا ہتھیار ہے جو امریکہ کو سپر پاور بنا گیا۔ دنیا کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہئے کہ امریکہ کی اجارہ داری اس وقت تک قائم رہے گہ جب تک اقوام عالم میں اس کے خیالات و افکار کے مقابل کوئی تازہ تر اور جدید تر خیال سامنے نہیں آجاتا۔
تحقیق کے طالبعلم ہونے کے ناتے مختلف کتب اور دستاویز سے واسطہ پڑتا ہے اور ماضی اور حال کی کئی حقیقتیں اور ایجادات سے واقفیت ہو جاتی ہے۔  میرا قلیل مطالعہ باور کراتا ہے کہ دنیا کی معاشی بازار میں تیل کو اولیت حاصل ہونے سے قبل لوگوں کا انداز فکر ویسا نہیں تھا جیسا عہد رفتہ میں ہے۔ عرب ممالک میں قدامت پرستی عروج پر تھی، لارنس آف عربیہ نامی مووی دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خطہ عرب کے نقشے کو اس عہد کی طاقتوں نے نئی شکل دی۔ تب سے زمانہ جدید سے ما بعد جدیدیت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی دنیا کی طاقتیں خاص کر امریکہ بہادرعرب سرزمین کو  اپنے بہترین مفاد میں استعمال کررہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم اور مایہ ناز لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرایا گیا۔ اس سے قبل سعودی عرب کے جدید تفکر کے حامل شاہ فیصل کو بھی انجام تک پہنچایا جا چکا تھا۔ بھٹو تازہ خیالات کے مالک تھے جو سامراجی قوتوں کے جبر کو قبول کرنے کو اپنی اور قوم کی توہین سمجھتے تھے۔بھٹو کو منظر سے ہٹانے کے بعد پاکستان میں امریکہ کا عمل دخل بڑھ گیا۔ امریکی ساختہ مرد مومن, مرد حق ضیاء الحق کے ذریعے  مجاہدین کی تربیت کروائی، ضیاء کے اندھیرے ملک کے کونے کونے میں  پھیل گئے۔ مخصوص سکول آف تھاٹ کو پروان چڑھایا گیا۔ حال ہی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعتراف کے بعد اب اس میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔  امریکی ساختہ مرد مومن کے مجاہدین کے نعرے با قاعدہ عقیدے بن گئے۔ اس وقت بوئی گئی زہریلی فصل کو پاکستان سمیت خطے کے ممالک اب تک کاٹ رہے ہیں۔ امریکہ بہادر کی ضروریات بدلیں، سو پالیسی بھی بدلی۔ نتیجتا نئی تھیوری سامنے آئی۔اب روشن خیال اعتدال پسندی کا ڈھونگ رچایا گیا اور یہ بھی ایک اور آمر مطلق کے ذریعے۔ گزشتہ مرد مومن سے تربیت دلانے گئے مجاہدین کو کچلنے کیلئے روشن خیال بہادر کو خوب استعمال کیا گیا جس کے نتائج سے پوری دنیا واقف ہے۔ افغانستان میں سترہ سالہ جنگ میں ناکامی کے بعد گزشتہ دنوں قندوز میں ڈیڑھ سو معصوموں پر بمباری نے ثابت کیا کہ اس اعتدال پسند روشن خیال سوچ کے پیچھے شہہ دماغوں کو اپنی دھاک بٹھانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے سے کوئی روکنے والا نہیں۔
گزشتہ دنوں مقامی اخباروں  میں خبر شائع ہوئی ہے کہ بلتستان کے مخصوص علاقے میں مخصوص بیرونی طاقت کو پانچ سو کنال کی اراضی چاہئے۔ صوبائی حکومت خطے کی ہزاروں بلکہ لاکھوں ایکڑ زمین خالصہ سرکار کے نام پر ہتھیانے کے لئے پہلے سے ہی بے تاب ہے۔ خالصہ سرکار کے کالے اصول کے نفاذ میں ہنوز عوامی طاقت رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سکردو چھومک میں سولہ روزہ عوامی نگہبانی کے نتیجے میں انتظامیہ قبضے میں فی الحال ناکام ہے۔  اب خبریں آ رہی ہیں کہ  لینڈ ریفارمز کے نام پر گلگت بلتستان میں جہاں جہاں سرفہ رنگاہ یعنی غیر آباد علاقے ہیں ان کو زیر استعمال لانے کیلئے حکومت نئی پالیسی بنا رہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ حکومتی پالیسی کی آڑ میں مخصوص ملک کے لئے پانچ سو کنال عوام کی ملکیتی زمین مفت دینے کی بھی حکمت عملی بن رہی ہو۔  عوامی سطح پر ایسی پالیسی کی شدید مخالفت کے آثار نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب اسی علاقے کے نوجوانوں کا ایک طبقہ روشن خیالی کے نعروں اور سوچ سے مرعوب و متاثر دکھائی دیتا ہے۔ مقامی طور پر اس سوچ کو ہوا دینے کی کچھ مثالیں ثقافتی پروگرامز اور خواتین کے حقوق کیلئے سرگرم سماجی انسان دوست گروہوں کی سرگرمیاں ہیں۔ اتفاقا ثقافت کے نام پر کی جانیوالی سرگرمیوں کو بھی ستر کی دہائی کے بعد سے باقاعدہ ایک نئی فکر کے ساتھ علاقے سے ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دنیا جدیدیت کے جتنے زینے طے کر لے مگر یہ بات اٹل ہے کہ کوئی  شریف انسان قدیم جاہلیت کے زمانے  کے قبیح کاموں کو اچھا نہیں سمجھتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں اب  کچھ لا ابالے منچلے ڈانس پارٹیاں منعقد رہے ہیں۔ یعنی ان کے حصے میں جدید تعلیم اور طرز فکر کی بجائے ایسی جدید مگر قبیح حرکتیں آئیں۔

گلگت بلتستان کے اہل فکر اور ہوش مند افراد کی یہ اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ خطے کو بیرونی عناصر کے ثقافتی یلغار سے بچایا جائے. مروت اور ادب کی آمیزش میں گوندی ہوئی ہماری تہذیب کو کسی اور تمدن سے ملانے کی چنداں ضرورت نہیں. ساتھ ساتھ اہل نظر کایہ بھی قومی فریضہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کی اچانک گلگت بلتستان میں بڑھتی دلچسپی کا ادراک کیا جائے. یہاں کی جدی پشتی عوامی ملکیتی زمینوں کو خالصے والی سرکار کی مشکوک نظروں سے بچایا جائے۔  یہ زمینیں نہ سرکار کی ہیں اور نہ کسی بیرونی شاہ، شیخ یا مسٹر کو تحفے میں دینے کے واسطے پڑی ہیں۔ یہ زمین ہماری ہے۔ہم اس زمین سے ہیں۔سارفہ رنگاہ ہمارا ہے۔نہ سرکار کا ہے اور نہ کسی بیرونی طاقت کی ملکیت ہے۔


تحریر: شریف ولی کھرمنگی(بیجنگ)

وحدت نیوز (آرٹیکل)  سب لوگ برابر نہیں ہوتے، سب کو ایک جیسا کہنا اچھے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور برے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہے، لُٹنے والا اور  لوٹنے والا، قاتل اور مقتول، ظالم اور مظلوم  نیز دھوکہ دینے والا اور دھوکہ کھانے والاکبھی بھی برابر نہیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں  بہت ساری غلط باتیں پڑھے لکھے لوگوں کی زبان پر بھی جاری رہتی ہیں ، جن میں سے ایک یہی بات ہے کہ جی یہاں تو سب لوگ ہی برے اور فراڈی ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، جہاں بر ے لوگ ہیں وہیں اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔  ہم اچھوں کو بروں کے ساتھ خلط ملط کرکے بروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک کسان کے چھ بیٹے تھے، سب کے سب نمازی اور محنتی، بوڑھے کسان نے اپنے بڑے بیٹے کو گھر کا سربراہ بنایا اور بقیہ بیٹوں سے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا کہا، اگلے دن  گاوں کے دکاندار نے سب سے بڑے بیٹے کو خاندان کا سربراہ بننے پر مبارکباد دی اور   دکان پر اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا اور گپ شپ میں اسے سگریٹ کے ایک دو کش بھی لگوائے، دوسرےدن  بڑے بیٹے نے  پھر جا کر دکاندار کو سلام کیا اور سگریٹ کے ایک دو کش لگانے کا خود تقاضا کیا ، تیسرے دن دکاندار نے اسے پورا سگریٹ مفت پلا دیا اور چوتھے دن اسے کہا کہ اگر تم روزانہ میرے پانچ سگریٹ بکواو تو میں تمہیں ایک سگریٹ مفت پلاوں گا، جوان نے کچھ دیر سوچا اور اپنی جیب سے پانچ سگریٹ خریدے اور ایک مفت کا  سگریٹ لے کر گھر آگیا، گھر آکر اس نے اپنے بھائیوں کو سگریٹ کے فوائد پر ایک لیکچر دیا اور  وہ پانچ سگریٹ اپنے بھائیوں کو  بیچ کر اپنے پیسے پورے کر لئے۔ بھائی بھی تو بھائی ہونے کے ناطے  اپنے بڑے بھائی پر اندھا اعتماد کرتے تھے، انہوں نے یہی خیال کیا کہ  یہ ہمارا  بڑا بھائی ہمیں کوئی غلط  چیز تھوڑی لا کر دے گا۔

یہ سلسلہ چل نکلا تو ایک دن دکاندار نے کسان کے بڑے بیٹے سے کہا کہ اگر تم سونا لاکر مرے پاس بیچو تو تمہارے پانچ بھائیوں کو بھی منافع ہوگا اور تمہیں بھی پانچ گنا زیادہ منافع دوں گا۔ کسان  کے بیٹے نے کہا کہ میرے پاس تو سونا ہے ہی نہیں، دکاندار نے کہا  کہ تمہارے گھر میں سونا  موجود ہے ذرا اپنی ماں سے پوچھو۔ جوان نے گھر آکر بھائیوں سے مشورہ کیا اور ماں سے معلومات لیں تو دکاندار کی پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی، سب بچوں نے مل کر ماں کو سونا بیچنے پر آمادہ کیا، ماں کا سونا بک گیا اور  سب بچوں کو اپنے اپنے حصے کا منافع بھی بروقت مل گیا ، سب سے بڑا بیٹا تو پانچ گنا منافع ملنے پر پھولے نہیں سما رہا تھا، اب اس کا دکاندار سے یارانہ اور بھی بڑھ گیا، دکاندار نے ایک دن اسے سمجھایا کہ ان زمینوں پر کب تک کاشتکاری کرو گئے ، یہ  زمینیں بیچو اور پیسے کما کر کوئی کاروبار شروع کرو اور فوراً ارب پتی بن جاو، جوان نے گھر آکر بھائیوں سے مشورہ کیا اور کاروبار کے فوائد پر لیکچر جھاڑا، بوڑھے ماں باپ کڑھتے رہے لیکن بچوں نے زمینیں بیچ ڈالیں اور پیسے کما لئے، اب دکاندار نے کہا کہ اتنے پیسوں کا تم کیسے کاروبار کرو گے تمہیں تو کاروبار کا تجربہ ہی نہیں لہذا یہ پیسے اکٹھے مجھے دے دو میں اپنے کاروبار میں لگاوں گا اور منافع تم سب بھائیوں کو ملے گا البتہ تمہیں  شریکِ درجہ  اول  ہونے کی وجہ سے پانچ گنا زیادہ دوں گا۔

جوان نے سر کھجایا ، تھوڑا بہت سوچا اور خوشی خوشی بھائیوں کو دکاندار کے کاروبار میں شریک ہونے کے منصوبے سے آگاہ کیا، سب نے سابقہ تجربے اور بھائی کے رشتے پر اعتماد کی وجہ سے ساری رقم بڑے بھائی کے قدموں میں لا کر رکھ دی۔ اب بڑے بھائی نے وہ رقم اٹھائی اور  جاکر دکاندار کی گود میں رکھ دی ، دکاندار نے بہت گرمجوشی سے جوان کا استقبال کیا اور اسے دودھ پتی پلاکر رخصت کیا، اگلے چند دنوں میں دکاندار نے  اپنا سارا سامان سمیٹا اور وہاں سے رفوچکر ہوگیا۔ اب عام لوگ تو کسان کے سارے بیٹوں کو ملامت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ سارے بیوقوف ہیں لیکن اگر غوروفکر سے کام لیاجائے تو دراصل اس سارے مسئلے کا اصل زمہ دار کسان کا وہ بڑا اور لالچی  بیٹا تھا جو کسان کے گھر کا سربراہ  تھا اور جس نے سگریٹ کے ایک کش کے لئے اپنے بھائیوں کے اعتماد کو بیچ ڈالا تھا۔

آج اسلامی دنیا کا یہی حال ہے، خانہ کعبہ مسلمانوں  کاقبلہ ہے، حرمین شریفین سے امت مسلمہ کا قلبی لگاو ہے، دینی، سیاسی، جغرایافیائی اور منطقی حوالے سے سعودی عرب مسلمانوں کا بڑا، رہبر اور قائد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب جو کچھ کرتا ہے دیگر اسلامی ممالک اسے بسرو چشم قبول کرتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے سعودی عرب ایک بڑے اسلامی بلاک کا قائد ہے ، اسلامی دنیا کے اکتالیس ممالک کی فوج سعودی عرب کے پرچم تلے آج بھی متحد ہے ۔ ایسے میں اگر سعودی عرب عالمی سرمایہ داروں  اور دکانداروں کے کہنے پر اسلامی ممالک کو جہادی کلچر میں لپیٹ کر منشیات، ہیروئن، افیون، چرس، کلاشنکوف اور دہشت گرد سپلائی کرتا ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ سارے اسلامی ممالک ایک جیسے ہیں بلکہ سعودی عرب کا کردار سب سے منفرد اور جداگانہ ہے ۔

 خصوصاً جب سے سعودی شہزادے نہیں میڈیا میں برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ہم نے وہابی ازم کو بھی امریکہ و مغرب کے مفاد کے لئے عام کیا ہے اس کے بعد مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور اپنے اپنے حکمرانوں کو بیدار کرنا چاہیے کہ وہ سعودی عرب پر اندھا اعتماد کرنے کی وجہ سے کہیں دیگر اسلامی مناطق سےبھی ہاتھ نہ دھو ڈالیں۔ آج صورتحال ایسی نہیں ہے کہ سب اسلامی ممالک بے حس ہو چکے ہیں، سب لوگ برابر نہیں ہوتے، سب کو ایک جیسا کہنا اچھے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور برے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہے، بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ اکثر ممالک  ایک بڑا بھائی سمجھتے ہوئے سعودی عرب پر اندھا اعتماد کئےبیٹھے ہیں اور اب  مسلمان دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یاتو اپنی ملتوں اور حکومتوں کو سعودی عرب کا اصل چہر ہ دکھائیں اور یا پھر اس اندھے اعتماد کی قیمت چکانے کے لئے تیار رہیں۔

 

 

تحریر۔۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (آرٹیکل)  اسلام  ایک عالمی اورابدی دین ہے جس میں انسان کی فردی و اجتماعی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔انسان کی فطری ضرورتوں میں سے ایک  ازدواج ہے ۔یہ ضرورت اس وقت پوری ہوگی جب وہ کسی سےشادی کرے ۔قرآن کریم نےمرد و عورت کی تخلیق کو خدا کی نشانی اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے کو مودت و رحمت قرار دیا ہے ۔ارشاد رب العزت ہو رہاہے:{ وَ مِنْ ءَايَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکمُ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُواْ إِلَيْہَا وَ جَعَلَ بَيْنَکُم مَّوَدَّۃً وَ رَحْمَۃً  إِنَّ فیِ ذَالِکَ لاَيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفکَّرُون}1اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاراجوڑا تمہیں میں سے پیدا کیا ہےتاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قراردی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ۔ اس آیہ کریمہ میں  شادی کی بعض حکمتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ازداوجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد انسان کو فکری و روحی سکون مل جاتاہے ۔ شادی کرنے سےنسل انسانی جاری رہتی ہے اور انسانی معاشرے وجود میں آتے ہیں ۔قرآن اس سلسلے میں کہتاہے :{وَ اللّہ  ُ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکمُ أَزْوَاجًا وَ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَزْوَاجِکُم بَنِينَ وَ حَفَدَۃً وَ رَزَقَکُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ} 2 اور اللہ نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں اور اس نےتمہاری ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کیےاور تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں ۔شادی کرنےسےعقلی و معنوی مقاصد حاصل ہونےکےساتھ ساتھ انسان کی نفسانی خواہشات بھی پوری ہو تی ہیں۔چنانچہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا:{من تزوج فقد احرزنصف دینہ}جس نےشادی  کی اس نے اپنا  نصف دین بچا لیا ۔ آپ ؐ نے شادی کو بہترین عمل قرار دیا اور فرمایا:{ما بنی فی الاسلام بناء احب الی الله من التزویج}خدا کےنزدیک اسلام میں سب سےبہترین بنیاد ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔

اگرہم انسان کی زندگی کا مطالعہ کریں توہم اس حقیقت کو درک کر سکتے ہیں کہ انسان کےلئے دو قسم کی شادیوں کی ضرورت ہے ایک دائمی شادی اور دوسری موقتی شادی۔دائمی شادی عام حالتوں  کےلئے ہےجبکہ موقتی شادی غیر معمولی حالات  کے پیش نظر جیسے اگرکوئی طولانی  مدت  کےلئےسفر میں جائےاور بیوی ساتھ نہ ہو ۔اسی طرح جنگ اور مختلف حوادث میں جو عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں  ۔علاوہ ازیں دائمی شادی  کے لئےبہت زیادہ اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے   جبکہ موقتی شادی  کے لئے اتنےاخراجات کی ضرورت نہیں ہوتی ۔انسان کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے  کےلئےاسےشادی کرنےکی ضرورت ہے اگرموقتی شادی کےذریعے اس کی یہ خواہش پوری  نہ ہو تو وہ ناجائز روابط کے ذریعے اسےپوری کرنےکی کوشش کرے گا جس سے انسانی معاشرے میں اخلاقی برائی پھیل جائی گی اور معاشرہ تباہ و بربادہو جائے گا۔

دین مقدس اسلام نے انسان کی اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے دو قسم کی شادیوں کو جائز قرار دیا ہے ۔ایک دائمی شادی اوردوسری موقتی شادی۔ دائمی شادی کے بارے میں قرآن کریم کہتاہے :{ وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُواْ فیِ الْيَتَامی فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنیَ وَ ثُلَاثَ وَ رُبَاعَ  فاِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃ}3اور اگر یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکنےکا خطرہ ہے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو،تین ،چار  ان سےنکاح کر لو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کر سکنے کا خطرہ ہے تو پھر ایک ہی عورت {کافی ہے}۔

قرآن کریم عقد موقت یا متعہ کےبارے میں کہتاہے:{ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنہنَّ فَاتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِيضۃ}4

پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطورفرض ادا کرو ۔لفظ متعہ عرف،شرع اور شیعہ وسنی فقہاء کےنزدیک نیز روایات میں عقد موقت  کے معنی میں ہے۔مشہور مفسر جناب طبرسی مجمع البیان میں اسی آیت  کے ذیل میں فرماتے ہیں:اس آیت  کے  متعلق دو نظریےپائے جاتے ہیں :1۔ بعض لوگوں  نےاستمتاع سےمراد لذت جوئی  لیا ہے  اور بطور دلیل بعض اصحاب اور تابعین  کے عمل کو پیش کیا ہے ۔2۔ بعض لوگوں نے استمتاع سےمراد عقد موقت لیا ہے  اور بطوردلیل ابن عباس، سدی ،ابن مسعوداور تابعین کی ایک جماعت کو پیش کیا ہے  جو  استمتاع کوعقد موقت سے تفسیر کرتے تھے۔ ان دو نظریوں میں سے دوسرےنظریے کی صحت واضح ہے اس لئے کہ عرف و شرع  میں متعہ اور استمتاع سے مراد عقدموقت ہے ۔اس کے علاوہ مہر کا ادا کرنا لذت اٹھانے پر منحصر نہیں ہے۔ بنابرین آیہ کریمہ متعہ پر دلالت کرتی ہے کیونکہ :1۔ اس آیت سے  پہلی والی آیتوں میں عقد دائمی اور اس کے مہریہ کا حکم بیان ہوا ہے لہذا اسےدوبارہ تکرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے  ۔2۔دائمی شادی میں جونہی صیغہ عقد جاری ہو مہر شوہر پر واجب ہوتا ہے  اور اگر عورت ہمبستری سے پہلے اس کامطالبہ کرے تو مہر  دینا واجب ہے جبکہ مذکورہ آیت  کےمطابق شوہر پر مہر اس وقت واجب ہوگا جب اس نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو لہذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب عورتوں سے ہمبستری کرنا تو ان کا مہر ادا کرنا۔5اس نظریہ پر یہ اعتراض ہے کہ :مہریہ کاا دا کرنا عقد پرمنحصر ہے یعنی جیسےہی عقد پڑھ لیاگیا ،عورت اپنا تمام مہر مانگ سکتی ہے اور اس میں ہمبستری کی کوئی شرط نہیں ہے البتہ اگر دخول سے پہلے طلاق ہو جائے تونصف مہر دینا ہو گا ۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث  6کےعلاوہ اہل سنت نے بعض اصحاب اور تابعین سےوقتی شادی کےبارےمیں احادیث نقل کی ہیں۔ابن عباس،ابی بن کعب ،سعید بن جبیر اورسدی آیہ کریمہ کی تلاوت اس طرح کرتے تھے:{فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنہْنَّ ُإلی اجل مسمی فَاتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِيضَۃ}مجاہد کا کہنا ہے:مذکورہ آیہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔7.فخر الدین رازی لکھتے ہیں :مسلمانوں نےابی کعب اور ابن عباس کی قرائت سےانکار نہیں کیا ہے ۔یہاں سےمعلوم ہوتاہے کہ ان دونوں کی قرائت کے صحیح ہونے کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ متعہ کےجائزہونے کے بارے میں بھی مسلمانوں کا اجماع ہے ۔8اہل سنت کے علماء نے یہ ادعا کیا ہے کہ یہ آیہ نسخ ہوئی ہے اور انہوں نے اس سلسلے  میں بعض آیات کے علاوہ صحاح اور مسانید میں منقول احادیث سے استدلال کیاہے ۔بعض افراد نے آیہ کریمہ {وَ الَّذِينَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ.إِلَّا عَلیَ أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَيْمَانہُمْ فاِنہَّمْ غَيرْ مَلُومِين َ.فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاءَ ذَا لک ِفاُوْلَئکَ ہُمُ الْعَادُون}۹{اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیویوں اورکنیزوں سے پس ان پر ملامت نہیں ہے، جو لوگ اس کے علاوہ کی خواہش کریں وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں }کو حکم متعہ کےمنسوخ ہونے کی دلیل قرار دیاہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کےمطابق صرف دو طریقوں سے عورتیں مرد پر حلال ہوجاتی ہیں ۔  ایک زوجیت اور دوسرا ملکیت جبکہ اس آیت میں متعہ کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے ۔ متعہ کا ملک یمین نہ ہونا واضح ہے اسی طرح متعہ شادی کی قسم بھی نہیں ہے کیونکہ اس میں شادی  کےاحکام جیسے ارث ،نفقہ اور حق قسم {شب خوابی}نہیں ہیں ۔اس غلط تصور کا جواب یہ ہے کہ

 پہلا: عقد موقت {متعہ}کیفیت  کےلحاظ سے عقد دائمی  جیسا ہے ۔اس قسم کے ازدواج کے شرعی ہونےمیں کوئی انکار نہیں کرتا۔ان دونوں  کےدرمیان بعض احکام مشترک اور بعض احکام ان میں سے ہر  ایک مخصوص ہیں۔

دوسرا:سورۃ مومنون کی آیت مکی آیات میں سے ہے جبکہ عقد موقت پر دلالت کرنےوالی آیت مدنی ہے ۔ مسلمانوں کا اجماع ہےکہ آیۃ متعہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے  جبکہ ناسخ کو زمان  کے اعتبار سےمنسوخ کے بعد ہونا چاہیے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جب ان سےکہا جاتاہے کہ سورۃ مومنون کی اس آیت  نےکنیزوں سے شادی کرنے کے حکم کو کیوں نسخ نہیں کیاہے؟ چنانچہ ارشاد ہوتاہے :{وَ مَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنکُمْ طَوْلاً أَن يَنکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُم مِّن فَتَيَاتکُمُ الْمُؤْمِنَات}10{اور جس کےپاس اس قدر مالی وسعت نہیں ہے کہ آزاد مومنہ عورتوں سے نکاح کرے تو وہ کنیز مومنہ عورت سے عقد کرے}تو جواب دیتے ہیں کہ سورہ مومنون کی آیت مکی ہےلیکن مذکورہ آیت { جس میں کنیزوں سے شادی کاحکم ہوا ہے }مدنی ہے ۔مکی آیتیں مدنی آیات  کے لئے ناسخ نہیں بن سکتیں ۱۱جبکہ اسی بات کو متعہ کے بارے میں  کہنےسےگریزکرتے ہیں ۔{والذین ہم هلفروجہم حافظون}یہ آیتیں سورہ معارج میں بھی موجود ہیں جبکہ سورہ معارج بھی مکی ہے  ۔

بعض روایات  کےمطابق متعہ کا حکم اضطراری حالات  کے لئے تھالہذا جب اضطرار ی حالات ختم ہوگئے تو متعہ کاحکم بھی منسوخ ہوا ہے ۔ 12جبکہ اضطراری احکام، اضطراری حالتوں کے تابع ہیں  اور اضطراری حالات صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانےسے مخصوص نہیں ہیں جیسے مجبوری کی حالت میں مردار کا گوشت کھانا جائز ہے اور یہ حکم صرف صدر اسلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ آج  بھی اس قسم کی کوئی حالت پیش آجائے تومردارکا گوشت کھانا جائز ہے ۔اس قسم کی روایتوں  کے مقابلے میں اوربھی روایات موجود ہیں جو خلیفہ دوم  کےزمانے تک متعہ کے جائز ہونےپر دلالت کرتی ہیں ۔ عمران بن حصین سےبخاری نےنقل کیا ہے کہ اس نےکہا : آیہ متعہ کتاب خدا میں نازل ہوئی ہے ہم نے بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ساتھ اس پر عمل کیا ۔اس کےحرام ہونے کے بارے میں کوئی دوسری آیت نازل نہیں ہوئی ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنی وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا ۔ اس  کےبعد ایک شخص نے اپنی رائے کی بنا پر اس سلسلے میں حکم صادر کیا ۔13اس قسم کی روایتوں کو مسلم نےچند واسطوں سے جابر بن عبد اللہ انصاری سےنقل کیا ہے۔۱۴متعہ کے منسوخ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں ایک واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن ان روایتوں میں بہت زیادہ ضد و نقیض باتیں ہیں جوان کے جعلی ہونے کو ثابت کرتے ہے۔۱۵ مثلا بعض روایات کے مطابق یہ حکم فتح مکہ کے سال منسوخ ہوا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ فتح خیبر کے سال یہ حکم منسوخ ہوا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر یہ حکم نسخ ہوا ہے جبکہ بعض کےمطابق جنگ تبوک میں یہ حکم نسخ ہوا ہے۔16ان اقوال کا لازمہ یہ ہے کہ ایک حکم چند سالوں میں متعدد بار مباح اور متعدد بار نسخ ہو اہو۔یہ نہ علم و حکمت خداوندی سے سازگار ہے اور نہ اسلام میں اس قسم کی کوئی روش پہلے سے موجود تھی۔واضح رہےکہ اتنے اختلافات اور تعارض کےہوتےہوئے ان روایات سےایک قطعی حکم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں یہ روایتیں دوسری روایتوں سے{جو متعہ کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہیں}تعارض رکھتی ہیں۔ابن عباس کہتے ہیں :{ماکانت المتعۃ الارحمۃ رحم الله بہا امۃ محمد{ص}لو لا نہیہ{یعنی عمر}عنہا ما احتاج إلی الزناء الاشقی}17

متعہ ایک رحمت تھی خدا نے اس کے ذریعے پیغمبر کی امت پر رحمت کی۔اگر عمربن خطاب متعہ سے منع نہ کرتا تو سوائےشقی   کے کسی اور کو زنا کی ضرورت نہ پڑتی ۔اس حدیث کا مفہوم یہ ہےکہ متعہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعےمنسوخ نہیں ہوا بلکہ خلیفہ دوم نے اس سےمنع کیا ہے ۔یہ حدیث جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل ہونے والی حدیث کی موٴید ہے ۔

طبری اور ثعلبی آیہ کریمہ{فمااستمتعتم بہ منہن}18کی تفسیرمیں حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتےہیں کہ آپؑ نےفرمایا : {لو لا ان عمرنہی عن المتعۃ مازنی الاشقی}19اگرعمر نےمتعہ سےمنع نہ کیا ہوتاتو شقی کےسوا کوئی زنا نہ کرتا۔اسی بات کو دوسرے ائمہ اہلبیت علیہم السلام نےبھی متواتر طریقوں سےآپؑ سے نقل کیا ہے۔یہ حدیث بھی جابربن عبداللہ انصاری کی حدیث کی موٴید ہے ۔ جناب جابر ابن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے :ہم رسول خداؐ کے زمانےمیں بطور مہر مختصر کھجور اورآٹے پر چند دنوں کے لئے متعہ کیا کرتےتھے اوریہ کام ابوبکرکےزمانے تک انجام دیا لیکن عمر نے عمرو بن حریث  کےواقعے کےبعد اس سے منع کردیا۔ 20

6۔خلیفہ دوم کا یہ قول مشہور ہے {متعتان کانتا علی عہد رسول الله{ص}و انا انہی عنہما و اعاقب علیہما: متعۃ الحج و متعۃالنساء}21دو متعے جو رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےزمانےمیں رائج تھے میں ان سےمنع کرتاہوں اور جو ان کا مرتکب ہو ااسے سزا دوں گا: متعۃ النساء اور حج تمتع۔خلیفہ دوم کے اس قول سے واضح ہو جاتاہے کہ متعہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانےمیں منسوخ نہیں ہوا تھابلکہ انہوں نے اپنی طرف سے منع کیا تھا ۔ فریقین کی روایتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے بلکہ خلیفہ دوم نےاس حکم پر عمل کرنے سے روکاہے وہ کہتا ہے :{ایہا الناس ثلاث کن علی عہد رسول الله.انا انہی عنہن و احرمہن و اعاقب علیہن وہی ه متعۃ النساء و متعۃ الحج و حی علی خیرالعمل} اےلوگو:تین چیزیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانےمیں رائج تھیں میں ان سےمنع کرتا ہوں اور انہیں حرام قراردیتا ہوں ۔ جس کسی کو ان کا مرتکب پاوَں گا اسےسزا دی دوں گا وہ تین چیزیں یہ ہیں :عورتوں سے متعہ کرنا ،حج تمتع اور حی علی خیر العمل۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پہلے اور تیسرے مسئلے میں خلیفہ کی ممانعت ابھی تک باقی ہے لیکن حج تمتع کوخلیفہ دوم کی مخالفت  کےباوجود مسلمان بجا لاتے ہیں ۔22

عقد موقت کے مخالفین اس بارے میں بہت سےشبہات پیش کرتےہیں جو  عموما نکاح موقت سے آشنائی نہ رکھنےکی وجہ سے ہے۔ ہم یہاں عقد موقت کےسلسلے میں کئےگئے دو اعتراضات کا مختصراجواب دینے کی کوشش کرینگے ۔

1۔شادی کا مقصد ازداجی زندگی اور نسل کو باقی رکھناہے جبکہ یہ ہدف صرف عقد دائمی کےذریعےحاصل ہوتا ہے کیونکہ متعہ یا عقد موقت کرنےکا مقصد صرف جنسی خواہشات کو بجھانا ہے  ۔ 23

جواب:اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ شادی کرنےکا ایک مقصد نسل کو باقی رکھنا اور ازدواجی زندگی کوقائم کرنا ہے لیکن شادی کرنے کا مقصد
صرف یہی نہیں بلکہ جنسی لذتوں کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور معاشرے کو فساد اور برائیوں سے پاک رکھنا بھی شادی کے اہم اغراض میں سے ہے۔لہذا جب عقد دائمی کےلئےراستہ ہموارنہ ہو تو ان اہداف کو حاصل کرنے کا معقول اور جائز طریقہ عقد موقت ہے ۔ علاوہ ازیں بہت سارے افراد تولیدنسل کی خاطر اس قسم کی شادی کرتے ہیں کیونکہ متعہ اور دائمی شادی سےپیدا ہونےوالےبچوں کے احکام مشترک ہیں۔
2۔متعہ عورت کی شرافت و کرامت کے ساتھ منافات رکھتاہے کیونکہ یہ ایک قسم کی جسم فروشی ہے ۔ عورت کی عزت وکرامت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کچھ چیزوں کی خاطر اپنے آپ کو ایک اجنبی مرد کے سپرد کرے ۔

جواب:متعہ اوردائمی شادی کے درمیان ماہیت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے ۔جو کچھ عورت مرد سے لیتی ہے وہ مہر ہے۔ان دونوں قسموں میں مرداپنی بیوی سے لذت اٹھانے کا حق رکھتا ہےجس کے مقابلےمیں مردپرعورت کا مہر واجب ہوتا ہے۔عقد موقت اور دائمی کوئی مالی تجارت نہیں بلکہ یہ ایک مقدس عہد وپیمان ہے جو معقول اور جائز طریقے سے شوہر اور بیوی کے درمیان انجام پاتا ہے ۔یہ بات بہت تعجب آور ہے کہ جو لوگ اس قسم کی شادی پر اعتراض کرتے ہیں یہیں افراد اس دور میں جہاں کچھ شیطان صفت افراد اپنے جنسی خواہشات کو پوری کرنے کے لئےعورتوں کو مختلف طریقوں سے شکار کرتے ہیں اور انہیں اپنی جنسی پیاس بجھانے  کا ایک وسیلہ سمجھتے ہیں  اسے  جدید دور کے تہذیب و تمدن  کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔یہ کیسےممکن ہے کہ اگرایک عورت اپنی مرضی سے کسی کےساتھ متعہ کرےتو یہ عورت کی شرافت کے خلاف ہو لیکن اگر ایک عورت چند پیسوں کی خاطر کسی لہوو لعب کی محفل میں یا کسی نائٹ کلب میں ہزاروں عیاش مردوں کے سامنےان کی جنسی خواہشات کو ابھارنے کی خاطر ہر قسم کی حرکتیں انجام دے اور چند افرادکے ہاتھوں اس کی عزت لٹ جائے تویہ عورت کی کرامت و شرافت کے خلاف نہ ہو۔ 24

بہت افسوس کی بات ہے کہ بعض مسلمان مردوں اور عورتوں کی طرف سے متعہ جیسےاسلامی احکام کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ بعض خود خواہ مردوں اور عورتوں نے اس اہم اسلامی قانون کے فلسفےکو پاوٴں تلے روندتے ہوئے اسے صرف لذت اٹھانے کا وسلیہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے کچھ موقع پرست نادان افراد کو موقع مل گیا تاکہ وہ اسی بہانے سے اس حکم شرعی کو ایک فعل قبیح کےطورپر پیش کریں۔ائمہ اہلبیت علیہم السلام نے اسی لئےشادی شدہ افراد کو متعہ کرنےسےمنع فرمایا اس کے باوجود انہوں نےہمیشہ اس حکم شرعی کی اہمیت کے پیش نظر اہل سنت کے نظریے کی سختی سے مخالفت کی اور اس بارے میں تقیہ اختیار کرنے کو جائز قرار نہیں دیا ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جن موضوعات میں تقیہ نہیں کروں گا ان میں سے ایک متعہ ہے ۔25

امام موسی کاظم علیہ السلام نے علی بن یقطین کو{ جنہوں نے متعہ کیا تھا }سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: تمھیں متعہ کرنے کی کیا ضرورت ہے خدا نے تمہیں اس کام سے بے نیاز کیا ہے ۔ آپ ؑکسی اورمقام پر فرماتےہیں:یہ کام اس شخص کےلئے مناسب ہےجو شادی شدہ ہونے کے باوجود خدا نے اسے اس کام سے بے نیاز نہیں کیا ہے۔جو شخص شادی شدہ  ہے وہ اس وقت متعہ کر سکتا ہے جب اس کی بیوی اس کے پاس نہ ہو یعنی اس تک رسائی نہ ہو۔26

بہر حال جو کچھ واضح ہے وہ یہ کہ شارع کی طرف سے اس شرعی حکم کو صادر ہونےاورائمہ اہلبیت علیہم السلام کا اس مسئلے کے بارے میں رغبت دلانے کا مقصد یہ نہیں کہ چند ہوسران اورشیطان صفت افراد اس کے ذریعے اپنی جنسی لذتیں پوری کریں یا اس کے ذریعے چند سادہ لوح عورتوں اور بےسرپرست بچوں کو مشکلات میں گرفتا ر کریں ۔27


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

 

 

حوالہ جات:
۱۔روم،21۔
۲۔نحل،72۔
۳۔نساء،3۔
۴۔نساء،24۔
۵۔مجمع البیان ،ج3ص60۔ ناصر مکارم شیرازی،شیعہ پاسخ می گوید،ص 114 ۔
۶۔وسائل الشیعۃ ،ج14،ابواب المتعۃ،باب1۔
۷۔تفسیر ابن کثیر،ج2، ص244۔
۸۔مفاتیح الغیب،ج10ص52۔
۹۔مومنون ،5 – 7۔معارج،29 – 31۔
۱۰۔نساء،25۔
۱۱۔سید شرف الدین عاملی ،الفصول المہمۃ ،ص75۔
۱۲۔صحیح بخاری ،ج3،ص246۔صحیح مسلم،ج2،ص1027۔
۱۳۔صحیح بخاری،ج6ص27۔
۱۴۔صحیح مسلم،ج2ص1023۔
۱۵۔سید محسن امین ، نقض الوشیعۃ ،ص 303۔شرف الدین عاملی ،مسائل الفقیۃ ،ص69۔ علامہ امینی ،الغدیر،ج6ص225۔،شیخ محمد حسین کاشف الغطاء،اصل الشیعۃ و اصولہا،ص171۔
۱۶۔شرح صحیح مسلم،نووی ،ج9،ص191۔
۱۷۔ابن اثیر،نہایۃ،ج2،ص488۔
۱۸۔نساء،24۔
۱۹۔سیدشرف الدین عاملی،الفصول المہمۃ ،ص79۔
۲۰۔ صحیح مسلم ، ج 2 ،ص131۔
۲۱۔فخر الدین رازی ،مفاتیح الغیب،ج10،ص52۔
۲۲۔ جعفرسبحانی،عقائدامامیہ ،ص367۔
۲۳۔تفسیرالمنار۔
۲۴۔مرتضی مطہری،نظام حقوق زن دراسلام،ص67۔
۲۵۔نظام زن در اسلام،ص82۔
۲۶۔ایضاً،ص82۔
۲۷۔ایضاً۔

Page 1 of 57

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree