وحدت نیوز(آرٹیکل) انحرافات آتے رہتے ہیں، یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، عوام منحرف ہوجائیں تو خواص ان کی اصلاح کرتے ہیں، عوام کے منحرف ہونے سے نظریات اپنی جگہ  مستحکم رہتے ہیں، لیکن اگر خواص منحرف اور آلودہ ہو جائیں تو وہ نظریات کو بھی اپنی جگہ سے ہلانے اور بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے سامنے  پاکستان کی تاریخ موجود ہے، نظریاتی طور پر یہ ملک اس لئے بنایا گیا تھا کہ سارے مسلمان اس میں ملکر رہیں گے لیکن کچھ خواص نے  اپنے سے بلند منصب پر بیٹھے ہوئے خواص کی اطاعت کرنے کے لئے اس  ملک میں دیگر مکاتب کی تکفیر شروع کردی جس سے  بڑے پیمانے پر  بگاڑ پیدا ہوا اور عوامی  سطح پر خون خرابہ ہوا۔

معاشرے میں ظاہری طور پر حکمرانوں اور سرکاری شخصیات  کو سب سے بلند مقام حاصل ہوتا ہے، جب معاشرے میں کسی بلند منصب پر بیٹھے ہوئے افراد کثیف، آلودہ اور غلیظ ہو جاتے ہیں تو ان سے ٹپکنے والی غلاظت ، نشیب اور اطراف کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ اس لئے خواص کا نحراف ، عوام کے انحراف کی نسبت بدترین اور   زیادہ نقصان دہ ہے۔

پاکستان میں نظریہ پاکستان کے ساتھ جتنا بھی ظلم ہوا، اور پاکستانیوں کو جس قدر بھی خاک و خون میں غلطاں کیا گیا اس کی ایک اہم وجہ پاکستان کے سیاسی و سرکاری  خواص کا  خود نظریہ پاکستان سے منحرف ہوجانا ہے۔

جب معاشرے کی بڑی سطح کے خواص امریکہ  کے مفادات کے لئے پاکستان کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئےتو اس کے اثرات نیچے عوام تک دیکھنے کو ملے اور  بعض دینی و مذہبی  درسگاہیں  اور سکول وکالج بھی اس در آمد شدہ نام نہاد جہاد اور شدت پسندی  کی لپیٹ میں آئے۔

جس طرح ایک انسان میں حواس خمسہ  ہوتے ہیں اور اُس کی متفاوت  حِسیں ہوتی ہیں، اگر انسان کے حواس خمسہ کام کرنا چھوڑ دیں تو اس کے لئے  یہ خوبصورت اور دلکش زندگی ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گی۔بالکل اسی طرح ایک معاشرے کی بھی مختلف حِسیں  ہوتی ہیں،جیسے فنون لطیفہ، شعرو شاعری، مصوّری، موسیقی ۔۔۔ ان حِسوں میں سے ایک حِس ہے برائی کے خلاف ردِّ عمل دکھانا۔

جب کسی معاشرے کے خواص کثیف اور آلود ہوجاتے ہیں تو وہ معاشرہ مریض ہو جاتا ہے اور اس وقت اُسے برائی کے خلاف بے حسی کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔  جب برائی کے خلاف ردّعمل ختم ہوجاتا ہے تو لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ معاشرے کے سب سے بلند منصب پر کیسا شخص بیٹھا ہوا ہے!؟

لوگ فقط کھاتے پیتے ہیں، افزائش نسل کرتے ہیں اور مرجاتے ہیں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کی گردن میں کس کی غلامی کی زنجیر پڑی ہوئی ہے، ان کی محنت کا ثمر کون کھا رہا ہے، وہ کس کی دست بوسی کر رہے ہیں اور کس کے ساتھ تصاویر بنوا کر فخر محسوس کر رہے ہیں، ان کی آئندہ نسلیں کس کی غلامی میں جئیں گی اور ان کے ملک کا مستقبل کیا ہوگا!؟

جب معاشرہ برائی کے مقابلے میں بے حس ہوجاتا ہے، سچ اور جھوٹ کے معرکے میں غیرجانبدار ہوجاتا ہے، اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرتا ، کھرے اور کھوٹے میں فرق نہیں کرتا تو پھر وہ آٹے کی ایک بوری اور چند ڈالروں کے گرد گھومنے لگتا ہے، پیٹ بھرنے کے لئے بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے، مسلمان مسلمان کی تکفیر کرتا ہے اور اسلامی ریاست میں پر امن غیر مسلموں کی عبادت گاہیں غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔

یہ معاشرتی انحطاط، اخلاقی زوال، باہمی نفرتیں اور انسانوں کے درمیان فاصلے در اصل معاشرے کے سب سے بلند منصب پر غیر صالح اور مفسد لوگوں کے بیٹھنے کی وجہ سے ہیں۔

ہر دفعہ الیکشن  آتا ہے، ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، یہ لوگوں کو  برائیوں کے خلاف بیدار کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے،اس موقع پر عوام میں برائیوں کے خلاف ردّعمل کی حس کو بیدار کیا جانا چاہیے، لوگوں کو یہ راستہ نہ دکھایاجائے کہ دو بروں میں سے کم برے کا انتخاب کریں بلکہ لوگوں کے سامنے اچھے ، متقی اور صالح افراد کو   انتخاب کے لئے  پیش کیاجانا چاہیے۔

یہ ہمارے دانشمندوں خصوصاً، وکلا، اساتذہ اور میڈیا پرسنز کی اوّلین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ  درپیش سیاسی انتخابات میں عوام کی درست رہنمائی کریں اور اہلیانِ پاکستان کو نظریہ پاکستان کے مطابق امیدواروں کے انتخاب کا شعور دیں۔

جب ہم عوام کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد مرد و خواتین دونوں ہوتے ہیں۔ ایک اسلامی معاشرے میں ایک خاتون کسی بھی طور پر  معاشرتی امور سے  غافل یا لا تعلق نہیں رہ سکتی۔خواتین کے لئے دینِ اسلام میں حضرت فاطمہ الزہراؑ اور حضرت زینبؑ بنت علیؑ نمونہ عمل ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ معاشرے میں فتنہ و فساد عروج پر ہو اور مسلمان خواتین اس کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کریں اور معاشرے کے اعلی ترین منصب پر بے اصول اور بے دین لوگ براجمان ہوں اور مسلمان خواتین اُن کے خلاف جدوجہد نہ کریں۔

لہذا پاکستان میں  انتخابات  کے موقع پر برائیوں کے خلاف  ردّ عمل دکھانے میں اور کرپٹ خواص کو دیوار کے ساتھ لگانے میں  خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

معاشرہ اس وقت برائیوں کے خلاف بے حس ہوجاتا ہے جب کرپٹ خواص  مختلف بہانوں  سےلوگوں کو بے وقوف  بنا لیتے ہیں،  اور اپنے کالے کرتوتوں پر لوگوں کو خاموش اور بے حِس  رہنے پر قانع کر لیتے ہیں۔

ہم کب تک بے وقوف بنتے رہیں گے!اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیاہم اپنی آئندہ نسلوں کو انہی کرپٹ خواص کی غلامی میں دیں گے  یا پھر ان کے خلاف جدجہد میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(آرٹیکل) دماغ کی غذا علم ہے، ساری غذائیں چمچ سے نہیں کھائی جاتیں، کچھ ہاتھ سے، کچھ گلاس سے اور کچھ کپ سے لی جاتی ہیں، اسی طرح ہر غذا کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے، صبح ناشتے میں جو غذائیں پسند کی جاتی ہیں وہ دوپہر کے کھانے سے مختلف ہوتی ہیں اور رات کے کھانے میں جن چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ ناشتے اور دن کے کھانے سے مختلف ہوتی ہیں۔

جس طرح جسم کے رشد اور ارتقا کے لئے مختلف غذاوں کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح دماغ کے  رشد اور ارتقا کے لئے بھی مختلف علوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرینِ تعلیم، طالب علم کی عمر ،اس کے  ماحول اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق  علوم کی بھی درجہ بندی کرتے ہیں۔

ہر عمر کے تناسب سے طالب علم کو مناسب مقدار میں علم دیا جاتا ہے اور ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق طالب علم کو مفید علم سیکھنے  اور حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ بدن کی غذا کی طرح دماغ کی غذا یعنی علم  دینے کے بھی مختلف طریقے اور روشیں ہیں جن سے مناسب استفادہ ضروری ہے۔

جس طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے اسی طرح مجموعی طور پر ایک ملت کو بھی تعلیم و تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔یہ دانشمندوں اور ہمارے ماہرین تعلیم کا کام ہے کہ وہ بحیثیت ملت اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل مرتب کریں۔

مسجد کےمحراب و منبر سے لے کر میڈیا تک یہ سب انسانی تعلیم و تربیت کے ذرائع ہیں، انہی ذرائع کو بروئے کار  لاکر ہم اپنے ملی و قومی شعور میں بطریقِ احسن اضافہ کر سکتے ہیں۔ انسان فطری طور پر علم کا تشنہ ہے، اگر انسان فطری تقاضوں کا ساتھ دے تو پورا نظامِ کائنات اس کی مدد کرتا ہے۔

آج ہمارے ہاں ہر چیز میں بگاڑ ہے، ہر شخص ناراض ہے، ہر شعبہ خراب ہے چونکہ ہم بحیثیت قوم نظامِ فطرت سے ہٹے ہوئے ہیں، جس طرح اسلام، دینِ فطرت ہے اسی طرح علم، انسان کی فطری ضرورت ہے ، چنانچہ دینِ اسلام میں بھی بار بار حصولِ علم کی تاکید کی گئی ہے ۔

کبھی کہا گیا ہے کہ علم حاصل کرو مہد سے لے کر لحد تک یعنی علم حاصل کرنے میں عمر کی کوئی قید نہیں، کبھی کہاگیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے یعنی علم کی خاطر ہجرت کرنے میں اور دوسرے ممالک کی طرف جانے میں کوئی مضائقہ نہیں، کبھی کہاگیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مردو عورت پر فرض ہے یعنی علم کے حصول میں لڑکے اور لڑکی کا کوئی فرق نہیں۔

بلاشبہ علم انسانی معاشرے کی مسلسل ضرورت اور انسانی فطرت کی مسلسل آواز ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طور پر  اُن لوگوں کا منبر و محراب اور میڈیا پر قبضہ ہوتا ہے جو خود علمی طور پر عقب ماندہ ہوتے ہیں۔ جب محراب و منبر اور میڈیا پر عقب ماندہ لوگ براجمان ہوتے ہیں تو معاشرہ بھی پسماندگی کی طرف جاتا ہے اور معاشرے پر ایسے لوگ حکومت کرتے ہیں جن  کی تعلیمی ڈگریاں تک جعلی ہوتی ہیں۔

جب محراب و منبر ، میڈیا اور سیاست میں تعلیمی  و اخلاقی طور پر زوال پذیر لوگ چھائے ہوئے ہوں تو ماہرین تعلیم اور دانشمندوں کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ وہ منبر و محراب، سیاست اور میڈیا کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کریں اور شائستہ اور بہترین افراد کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھائیں۔

جب تک ہم اپنی قوم کی تعلیمی و شعوری سطح بلند نہیں کرتے ، بچوں کی طرح مساجد و مدارس اور سیاست دانوں نیز میڈیا پرسنز کے ایک مخصوص تعلیمی و اخلاقی معیار کے قائل نہیں ہوجاتے اس وقت تک صرف ووٹ ڈالنے اور الیکشن کرانے سے ملکی و قومی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔

سیاسی شعور اور بازار سے آٹا اور صابن خریدنے کے شعور میں بہت فرق ہے، جب ووٹ ڈالنے والے کو ہم نے سیاسی شعور ہی نہیں دیا اور اس کی سیاسی تربیت ہی نہیں کی تو وہ کبھی آٹے کی ایک بوری کی خاطر اور کبھی برادری، فرقے یا علاقائی و لسانی تعصب  کی خاطر ہی ووٹ دے گا۔

اس وقت انتخابات سے پہلے سیاسی دانشوروں اور عمومی مفکرین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو سیاسی طور پر بیدار کریں، انہیں ملک و قوم کا نفع و نقصان سمجھائیں، انہیں سیاست کی ابجد سے آشنا کریں اور ان کے سامنے ایک صاف و شفاف سیاسی نظریہ پیش کریں۔

خصوصا جو تنظیمیں اپنے آپ کو الٰہی و نظریاتی کہتی ہیں ان کی ذمہ داری سب سے زیادہ بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو الٰہی سیاست کے اصولوں کی تعلیم دیں۔

چونکہ جس طرح تعلیم و تربیت کے بغیر بچہ عقب ماندہ رہ جاتا ہے اسی طرح تعلیم و تربیت کے بغیر اقوام بھی پسماندہ اور عقب ماندہ رہ جاتی ہیں ۔

آج ہمیں ایک ایسی اسلامی حکومت کی ضرورت ہے کہ جسمیں  کم از کم مندرجہ زیل خصوصیات پائی جائیں:

۱۔ لوگوں کا انتخابات میں انتخاب  اُن کے ایمان ، تعلیم اور کردار  کی وجہ سے کیا جائے

۲۔ کچہری سسٹم اور عدالتی نظام میں رشوت خور بابو حضرات اور ہرکاروں کا خاتمہ کیا جائے

۳۔امیر و غریب سب کے بچوں کے لئے ایک جیسا معیاری اور جدید نظامِ تعلیم فراہم کیا جائے

۴۔کام اور روزگار کے مواقع رشوت اور سفارش کے بجائے ، تعلیم، میرٹ اور تجربے کی بنیاد پر سب کے لئے یکساں ہوں

۵۔ تھانوں اور دیگر سرکاری داروں میں عوام کے احترام کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری اہلکاروں کی تربیت و نگرانی کی جائے تاکہ رشوت و سفارش کا خاتمہ ہو

۶۔ عوام کو قانونی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی تعلیم اور شعور دیا جائے

۷۔بنیادی انسانی حقوق پر سب کا حق تسلیم کیا جائے

۸۔ صحت کے سہولتیں امیر و غریب کے لئے ایک جیسی ہونی چاہیے

یہ ہم نے کم از کم خصوصیات کا ذکر کیا ہے ۔ جب تک ہم عوام کو اسلامی نظام ریاست و سیاست سے آشنا نہیں کریں گے ، عوام کو آٹے کی بوری اور برادری سے باہر نہیں نکالیں گے تب تک  ، پاکستان بحرانات سے نہیں نکل سکتا اور عوام کے دکھوں کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (آرٹیکل)  مقدمہ:حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کےبارے میں کچھ لکھنا عام انسانوں کی بس کی بات نہیں آپ کے فضائل اور مناقب خدا وندمتعال،  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماورائمہ معصومین علیہم السلام ہی بیان کر سکتے ہیں  ۔آپؑ کائنات کی وہ بے مثال خاتون ہیں جنہیں دو اماموں کی ماں بننے کا شرف حاصل ہوا ۔آپؑ وہ ممدوحہ ہیں جس کی مدح سورۃ کوثر ،آیت تطہیر اور سورۃ دہر جیسی قرآنی آیتوں اور سوروں میں کی گئی۔آپؑ  وہ عبادت گزار ہیں جس کی نماز کے وقت زمین سے آسمان تک ایک نور کا سلسلہ قائم ہو جاتا تھا ۔آپؑ وہ  صاحب سخاوت ہیں جس نے فاقوں میں سائل کو محروم واپس نہیں جانے دیا۔آپؑ وہ باعفت خاتون ہیں جس کا پردہ تمام زندگی برقرار رہا کہ باپ کے ساتھ نابینا صحابی بھی آیا تو اس سےبھی پردہ فرمایا۔ آپؑ وہ صاحب نظر ہیں کہ جب رسول خدا ﷺکے سوال پر کہ عورت کے لئے سب سے بہتر کیا چیز ہے ؟تواس وقت آپؑ نے فرمایا: عورت کے حق میں سب سے بہتر شے یہ ہے کہ نامحرم مرد اسے نہ دیکھے اور وہ خود بھی  کسی نامحرم کو نہ دیکھے۔{خیر لہن ان لا یرین الرجال و لا یرو نہن}۱۔رسول خدا ﷺ آپ  ؑکے بارے میں فرماتے ہیں :{ان الله یغضب لغضبک و یرضی لرضاک}۲۔

بےشک خدا آپ کے غضبناک ہونے سے غصے میں آتا ہے اور آپ کی خوشنودی سےخوش ہوتا ہے ۔ انسانیت کے کمال کی معراج وہ مقام عصمت ہے جب انسان کی رضا و غضب خدا کی رضا و غضب کے تابع ہو جائے۔اگر عصمت کبری یہ ہے کہ انسان کامل اس مقام پر پہنچ جائے کہ مطلقا خدا کی رضا پر راضی ہو اور غضب الہی پر غضبناک ہو تو فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا وہ ہستی ہیں کہ خداوند متعال مطلقا آپ کی رضا پر راضی اور آپ کے غضب پر غضبناک ہوتا ہے ۔یہ وہ مقام ہے جو کامل ترین انسانوں کے لئے باعث حیرت ہے ۔ان کی ذات آسمان ولایت کے ستاروں کےانوار کا سر چشمہ ہے ،وہ کتاب ہدایت کے اسرار کے خزینہ کی حد ہیں ۔آپؑ لیلۃ مبارکۃ کی تاویل ہیں ۔ آپ ؑشب قدر ہیں ۔ آپ ؑنسائنا کی تنہا مصداق ہیں۔ آپ ؑ زمانے میں تنہا خاتون ہیں جن کی دعا کو خداوند متعال نے مباہلہ کے دن خاتم النبین کے ہم رتبہ قرار دیا ۔آپؑ کائنات میں واحد خاتون ہیں جن کے سر پر{انما نطعمکم لوجہ الله}۳۔ کا تاج مزین ہے ۔وہ ایسا گوہر یگانہ ہیں کہ خداوند متعال نے رسول خدا ﷺکی بعثت کے ذریعے مومنین پر منت رکھی اور فرمایا:{ لقد من الله علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم۔۔ }۴

اور اس گوہر یگانہ کے ذریعے سرور کائنات پر منت رکھی اور فرمایا:{انا اعطیناک الکوثر فصل لربک و انحر ،ان شانئک هو الابتر}بے شک ہم نے ہی آپ کو کوثر عطا فرمایا۔لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔یقینا آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔ اس مختصر مقالہ میں ہم  سیرت حضرت فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا  میں موجود چند  تربیتی نمونوں کو پیش کرنے کی کوشش کریں  گے۔

لغت میں سیرۃ ،رفتار کے معنی میں آیا  ہے۔ "حسن السیرۃ؛ یعنی خوش رفتار یا اچھی رفتار۔"۵  ۔

ابن منظور کے مطابق سیرۃ سے مراد: "سنت" اور "طریقہ"ہے۔ جیسے" السیرۃ:السنۃ؛ سیرت یعنی  سنت اور  راہ  وروش کے معنی میں ہے۔سار بہم سیرۃ حسنہ"یعنی ان کے ساتھ اچھا رویہ اور سلوک کے ساتھ پیش  آیا۔اصطلاح میں سیرہ سے مراد کسی انسان کی زندگی کے مختلف مراحل اور مواقع میں چھوڑے ہوئے نقوش اور کردار کے مجموعہ کو" سیرۃ  کہا جاتا ہے جسے دوسرے  انسان  اپنے لئے نمونہ عمل بنایا جاسکے ۔۶

صاحب مفردات کے مطابق "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے  کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش  اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۷صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے اور نقائص کو  تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔  ۷۔بنابر این اگر اس کا ريشہ(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو  نظارت ، سرپرستي و رہبري  اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

شہید مرتضی مطہری لکھتے ہیں: تربیت انسان  کی حقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا نام ہے۔ ایسی صلاحیتیں جو بالقوہ جانداروں ( انسان، حیوان، پودوں) میں موجود ہوں  انہیں بالفعل پروان چڑھانے کو تربیت کہتے ہیں۔ اس بناء پر تربیت صرف جانداروں سے مختص ہے۔۸
سیرہ تربیتی ہر اس رفتار کو کہا جاتا ہے جو دوسروں کی تربیت کی خاطر انجام دی جاتی ہے۔اس بناء پر انسان کا ہر وہ رفتار جو وہ دوسروں  کے  احساسات ،عواطف، یقین و اعتقاد اورشناخت پر اثرانداز  ہونے کےلیے انجام دیتا ہے ،سیرت  تربیتی کہا جاتاہے۔۹

سیرت حضرت فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا  میں موجود چند  تربیتی نمونے

الف۔گھریلو اور ازدواجی نمونہ
زندگی ایک ایسا مرکز هے جس میں نشیب وفراز پائے جاتے ہیں زندگی میں کبھی انسان خوش ، کبھی غمگین ، کبھی آسائش اور کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا هے اگر میاں بیوی با بصیرت اشخاص هوں تو سختیوں کو آسمان اور ناہموار کو همورا بنادیتے ہیں۔ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا  اس میدان میں ایک کامل اسوہ نمونہ ہیں آپ بچپن سے ہی سختی اور مشکل میں رہی اپنی پاک طبیعت اور روحانی طاقت سے تما م مشکلات کا سامنا کیا اورجب شوہر کے گھر میں قدم رکھا تو  ایک نئے معرکہ کا آغاز هوا اس وقت آپ کی شوہرداری اور گھریلوزندگی کے اخلاقیات کھل کر سامنے آئے ۔

ایک دن امام علیؑ جناب فاطمہؑ سے کھا نا طلب کیا تا کہ بھوک کو برطرف کرسکیں لیکن جناب فاطمہؑ نے عرض کیا میں اس خدا کی قسم کھاتی ہوں جس نے میرے والد کو نبوت اور آپ کو امامت کے لیے منتخب کیا دو دن سے گھر میں کافی مقدار میں غذا نہیں ہےاور جو کچھ غذا تھی ویہ آپ اور آپ کے بیٹے حسنؑ اور حسینؑ کو د هی ہے امام نے بڑی حسرت سے فرمایا اے فاطمہ آخرمجھ سے کیوں نہیں فرمایا میں غذا فراہم کرنے کے لیے جاتا توجناب فاطمہؑ نے عرض کیا: اے ابوالحسن میں اپنے پروردگار سےحیا ءکرتی هوں کی میں اس چیز کا سوال کروں جو آپ کے پاس   هنہ ہو۔۱۰۔

ب۔ سیاسی نمونہ
حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا ؑکے سیاسی  اخلاقیات کو درج ذیل عناوین کے تحت دیکھا جاسکتا هے جیسے امام اور حجت خدا کا دفاع، امامت اور رہبری کی کامل پیروی اور فدک کے متعلق مختلف میدانوں میں مقابلی اور جنگ وجہاد کے بندوبست میں خوشی اور دلسوزی سے حاضر رہنا ۔سب سے پہلے آپ نے غصب  شدہ حق کو گفتگو سے حل کرنے کی کوشش کی اور قرآن کریم کی آیات سے دلیلیں قائم کیں۔

حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا خلیفہ کےپاس تشریف لے گئیں اور فرمایا:۔تم کیوں مجھے میرے بابا کے میراث سے منع کر رہا ہے  اور تم کیوں میرے وکیل کو فدک سے بے دخل کردیا هہے حالا نکہ الله کے رسول نے الله کے حکم  سے اسے میری ملکیت میں دیاتھا۔"۱۱۔

اسی طرح جب خلافت کا حق چھینا گیا تو دفاع امامت میں پورا پورا ساتھ دیا  اور آپ حسن وحسین کا هاتھ پکڑکر رات کے وقت مدینہ کے بزرگوں اور نمایاں شخصیات کے گھرجاتے اور انہیں اپنی مدد کی دعوت دیتے اور پیغمبر کی وصیت یا ىد  دلواتے ۔۱۲

حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا فرماتیں ہیں اے لوگو!کیا میرے والد نے علی ؑکو خلافت کے لیے معین نہیں فرمایا تھا کہا ان کی فداکاریوں کو  فراموش کربیٹھے ه ہوکیامیرے پدر بزرگوار نے ہی نہیں فرمایاتھا کہ میں تم سے رخصت ه ہو رہا ہوں اور تمہارے درمیان دو عظیم چیزین چھوڑے جارہا هہوں اگر ان سے تمسک رہوگے توہرگز گمراہ نہیں هہوگے اور وہ چیزیں ایک الله کی کتاب اور دوسرا میری  اہل بیت ۔

ج۔  اقتصادی نمونہ
حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اقتصادی اخلاقیات میں بھی همارے لیے اسوہ کامل ہیں سخاوت کے میدان میں آپ اپنے پدر بزرگوار کے نقش قدم پر چلتی تھیں ۔ آپ نے اپنے بابا سے سن رکھاتھا" السخی قریب من الله" سخی الله کے قریب هہوتا هہے ۔

جابر بن عبد الله انصاری کا بیان هے کہ رسو ل خدا نےہمیں ه عصر کی نماز پڑھائی جب تعقیبات سے فارغ هوگئے تومحراب میں هہماری  طرف رخ کرکے بیٹھ گئے لوگ آپ کو هر طرف سے حلقہ میں لیے هہوئے تھے کہ اچانک ایک بوڑھا شخص آیا جس نے بالکل پرانا کپڑہ پہنا هہوا تھا یہ منظر دیکھ کر رسول خدا نے اس کی خیرت پوچھی اس نے کہا:ا ے الله کے رسول میں بھوکا هہوں لہذا کچھ کو دیجئے میرے پاس کپڑا بھی نہیں ہیں مجھے لباس بھی دیں۔ رسول خدا نے فرمایا فی الحال میرے  پاس کوئی چیز نہیں هے لیکن تم اس کے گھر جاؤ جو الله اور اس کے رسول سےمحبت کرتاہے اورالله اور اس کا رسول بھی  اس سے محبت کرتے ہیں جاؤ تم فاطمہ کی طرف اور بلال سے فرمایا تم اسے فاطمہ کے گھر تک پہنچا دو۔فقیر حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے دروازہ پررکا بلند آواز سے کہا نبوت کے گھرانے والو تم پر سلام ۔شہزادی کونین نے جواب میں کہا  تم پر بھی سلام هہو ۔تم کون ہو ه؟کیا میں بوڑھا اعرابی ہوں آپ کے پدر بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا لیکن رسول خدا نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ میں فقیرہوں مجھ پر کرم فرمائے خدا آپ پر اپنیرحمت نازل فرمائے حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا نے اپنا هہار یا گردن بند جو آپ کو حضرت حمزہ کی بیٹی نےہبہ کیا تھا اتار کر دے دیا اور فرمایا امید ہے کہ خدا تم کو اس کے ذریعے بہتر چیز عنایت فرمائے ۔

 اعرابی ہارلے کر مسجد میں آیا حضور مسجد میں تشریف فرماتھے عرض کیا اے رسول خدا: فاطمہ زہرا نے یہ ہار دے کر کہا اس کو بیچ دینا حضور یہ سن کر روپڑے اس وقت  جناب عمار ىاسر کھڑے هوئے عرض کیا یارسول الله کہا مجھے اس ہا رکے خریدنے کی اجازت ہے رسول خدا نے فرمایا خرید لو جناب عمار نے عرض کی اے اعرابی یہ ہار کتنے میں فروخت کرو گے اس نے کہا اس کی قیمت یہ هہے کہ مجھے روٹی اور گوشت مل جائے اور ایک چادرمل جائے جسے اوڑھ کر میں نماز پڑھ سکوں اور اتنے دینار جس کے ذریعے میں گھر جاسکوں۔ جناب عمار اپنا وہ حصہ جو آپ کورسول خدا  نےخیبر کے مال سے غنیمت میں دیا تھا قیمت کے عنوان سے پیش کرتے  ہوئے کہا :اس ہارکے بدلے تجھےبیس دینار،دوسو درہم ٬ ایک بردیمانی ٬ ایک سواری اور اتنی مقدار میں گیہوں کی روٹیاں  اور گوشت فراہم کررہا هہوں جس سے تم بالکل سیرہوجاؤ  گے۔جب یہ سب حاصل کیا تو اعرابی رسول خدا کے پاس آیا ۔رسول خدا نے فرمایا کیا تم سیرہوگئےہو؟ اس نے کہا میں آپ پر فدا ہوجاؤں بے نیازہو گیا ہوں۔جناب عمار نے هہار کو مشک سے معطر کیا اپنے غلام کو دیا اور عرض کیا ا س ہار کو لو اور رسول خدا کی خدمت میں دو اور تم بھی  آج سے رسول خدا کو بخش دیتا ہوں۔  غلا م ہار لے کر رسول خدا کی خدمت میں آیا او رجناب عمار کی بات بتائی رسول خدا نے فرمایا یہ ہار فاطمہ کو دو اور تمہیں فاطمہ کو بخش دیتا ہوں۔ غلام هہار لی کر حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت میں آیا اور آپ کو رسول خدا کی بات سے آگاہ کیا ۔
 
حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا نے و ہ ہار لیا اور غلام کو آزاد کردیا۔ غلام مسکرانے لگا ۔ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا نے وجہ پوچھی تو غلام نے کہا مجھے اس ہا ر کی برکت نےمسکرانے پر مجبور کیا جس کی برکت سے بھوکا سیرہو ها اوربرھنہ کو لباس اور غلام آزادہوگیا پھر بھی  یہ ہا هر اپنے مالک کے پاس پلٹ گیا۔۱۳۔

خلاصہ یہ کہ حضرت زہراؑ منصب امامت کے لحاظ سے تو  اگرچہ پیغمبر گرامیﷺ کی جانشین نہیں تھیں لیکن وجودی کمالات  اور منصب  عصمت و طہارت  کے لحاظ سے کوئی دوسری خاتون اولین و آخرین میں سے ان جیسی نہیں ہے۔ جناب سیدہ ؑ علمی ،عملی ،اخلاقی،اور تربیتی حوالے سے نمونہ عمل ہیں۔ انسان کی دینی و دنیاوی سعادت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ ان ہستیوں سے متمسک رہے جنہیں اللہ  نے"اسوہ حسنہ"قرار دیا ہے۔بنابرین حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا ہمارے لئے زندگی کے ہر شعبے میں نمونہ عمل اور قابل تقلید ہے ۔

{السّلام علیک أیّتہا الصدّیقۃ الشہیدۃ الممنوعۃ إرثہا، المکسور ضلعہا، المظلوم بعلہا، المقتولِ وَلَدُہا}

 

 

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

 

حوالہ جات:
۱۔حلیۃ الاولیاء ج2ص40۔
۲۔  المستدرک علی الصحیحین ، ج3 ص154
۳۔  انسان،9۔
۴۔  آل عمران،164۔
۵۔ فیروز آبادی، القاموس المحیط، بیروت، دارالکتاب العربیہ ، ۱۴۳۲ھ ،ص۴۳۹۔
۶۔ محمد بن مکرم ابن منظور،لسان العرب،بیروت: دارالفکر، ۱۴۱۴ق، ج۴ ،  ص۳۸۹؛  فخرالدین محمد طریحی ، مجمع البحرین ،  تہران:مرتضوی، ۱۳۷۵، ج۳، ص۳۴۰۔
۷۔ معجم مقاييس اللغہ، ص378؛ لسان العرب، ج2، ص1420؛ مجمع البحرین، ج2، ص63؛  محمدمرتضي حسینی زبيدي، تاج العروس من جواہر القاموس،  بیروت،دارالفکر، ۱۴۱۴ق ،چ اول ،ص459 و460.
۸۔مرتضیٰ مطہری، تعلیم و تربیت در اسلام ، تہران:  صدرا، ، ۱۳۳۷ش۔  ، ص۴۳ ۔ ۔ مرتضیٰ
۹۔محمد داؤدی، سیرہ تربیتی پیامبر و اہل بیت ، تربیت دینی ، بی تا،ج ۲، ص۲۳۔                  
۱۰۔باقر مجلسی مجلسی بحار الانوار مؤسس الوفا بیروت 1404ق ج43 ٬ص59۔
 ۱۱۔قزوینی،محمد کاظم، مترجم الطاف حسین ٬فاطمہ زہرا من المہدی الی الحد، قم قزوینی فاونڈیشن ، 1980،ص343۔
۱۲۔ابراہیم امینی، ،اسلام کی مثالی خاتون،(مترجم،اخترعباس)،دارالثقافہ اسلامیہ ،1470 ھ، ص191۔
۱۳۔ محمد باقر بحار الانوارج43 فص56و57۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) بیداری ایک مسلسل عمل کا نام ہے، افراد کی بیداری سے اقوام بیدار ہوتی ہیں، اور اقوام کی بیداری ممالک و معاشروں کی بیداری کا باعث بنتی ہے، جس طرح نیند اور غفلت میں ایک نشہ اور مستی ہے اسی طرح بیداری میں بھی ایک لذّت، طراوت اور شگفتگی ہے۔

اگر ہم انتخابات کے ذریعے اپنے ملک میں بیداری اور تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں گام بہ گام تمام شعبہ ہای زندگی میں بیداری کے ساتھ درست انتخاب کی عادت ڈالنی ہوگی۔ہمیں عملی طور پر اپنا آئیڈیل، رول ماڈل اور نمونہ عمل رسولِ اعظمﷺ کی ذاتِ گرامی کو بنانا ہوگا۔

پیغمبرِ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں کی طرح سیاسی زندگی میں بھی بطورِ رہبر ہماری رہنمائی کی ہے۔ آپ نے مسلمانوں کے درمیان ایک مکمل اور بھرپور سیاسی زندگی گزار کر ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ اسلامی معاشرے کے سیاستدانوں کو کیسا ہونا چاہیے۔

مدینے سے ہجرت کے دوران جب آپ ﷺ قبا کے مقام پر کچھ دن کے لئے ٹھہرے تو یثرب سے لوگ جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے آتے تھے، آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر اور مسلمان ہوکر پلٹتے تھے، بلاشبہ تلواریں توفقط  شر سے دفاع اور احتمالی ضرر سے بچاو کے لئے تھیں چونکہ لوگ تو آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر  دیوانہ وار کلمہ پڑھتے جارہے تھے۔

مورخ کو یہ لکھنے میں قطعا کسی قسم کی تردید نہیں کہ مدینہ پیغمبرِ اسلام کے اخلاق کی وجہ سے مفتوح ہوا، آج جب ہم کسی کو اپنا سیاسی لیڈر یا رہنما  منتخب کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کے اخلاق اور عادات و اطورا کے بارے میں بھی جانیں۔

مدینے میں جب رسولِ گرامی ﷺ کی سواری داخل ہوئی تو ہر طرف ایک جشن کا سماں تھا، کبھی کسی قبیلے کا رئیس آپ کی اونٹنی کی لگام تھام لیتا تھا کہ ہمارے ہاں تشریف رکھئے ، کبھی کسی گروہ کا کوئی معزز فرد آپؐ کی اونٹنی کی باگ تھام کر اپنے گھر میں ٹھہرنے کی التجا کرتا تھا، کبھی کوئی بڑا تاجر آگے بڑھ کر دستِ ادب دراز کر کے شرفِ میزبانی حاصل کرنے کی اپیل کرتا تھا اور کبھی کسی محلے کا کوئی بزرگ آپ کے نعلین مقدس کو چوم کر اپنے ہاں ٹھہرنے کی دعوت دیتا تھا،  لیکن آپ نے سب سے یہی کہا کہ میری اونٹنی کو چلنے دیجئے یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے ، یہ جہاں خود ٹھہرے گی میں وہیں قیام کروں گا۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ اونٹنی نہ کسی سردار کے گھر ٹھہری، نہ کسی وڈیرےکےہاں اس نے ڈیرہ ڈالا ، نہ کسی بزرگ کے ہاں اس نے زانو ٹیکے بلکہ مدینے کے ایک عام شخص حضرت ابوایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔

حضرت ابوایوب انصاری کے گھر میں قیام میں اہلِ اسلام کے لئے یہ پیغام تھا کہ رسولِ اسلام کے تعلقات کسی کے ساتھ کسی کی خاندانی  شرافت و منزلت، قبائلی جاہ و حشمت اور خاندانی مال و ثروت کی بناپر نہیں ہونگے بلکہ ایک عام مسلمان بھی رسولِ اکرم کے نزدیک اتناہی محترم تھا جتنے کہ قبائل کے  امرا و سردار تھے۔

یہ اسوہ حسنہ ہے آج پاکستان کی ملتِ اسلامیہ کے لئے کہ ہم اپنے ملک میں سیاسی رہبر ی و قیادت کے لئے ایسے لوگوں کو منتخب کریں کہ  جن کے نزدیک امرا اوفقرا کی کوئی تمیز نہ ہو۔

اور ہاں! سیرت النبیﷺ اس بات پر شاہد ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ ، غربا، فقرا اور مساکین پر زیادہ توجہ دیتے تھے تاکہ زمانہ جاہلیت میں  ان کے ساتھ جو زیادتیاں کی گئی ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے۔

حضرت ابو ایوب انصاری ؓکے گھر کے سامنے  کچھ زمین خالی پڑی ہوئی تھی، اس کے مالک دو یتیم بچے تھے، نبی اکرمﷺ نے مسجد کے لئے وہ زمین اپنی جیب سے خریدی اور اس پر مسجد تعمیر کرنے کے کام میں صحابہ کرام کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا اور اپنا پسینہ بہایا۔

آج کل ہمارے ہاں ہمارے لیڈر شجر کاری مہم کے افتتاح کے لئے زمین پر ایک ضرب لگاکر لاکھوں تصویریں بنواتے ہیں اور اگر کسی غریب فقیر کی مدد کر دیں تو اخبارات و جرائد ان کے بیانات سے بھر جاتے ہیں۔ جبکہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد نبوی کی زمین اپنی جیب سے خرید کر اور مسجد کی تعمیر میں مزدوروں کی طرح کام کر کے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اسلامی معاشرے کا لیڈر وہ ہو جو دینی امور کے نام پر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی جیب سے خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور دین کے کاموں میں عملاً مشقت میں کوئی عار محسوس نہ کرتا ہو۔

جب تک ہمارے لیڈر بیت المال کو چوسنے کے بجائے اپنی جیب سے خرچ کرنے اور عوام کے ساتھ برابر مشقت اٹھانے  کی عادت نہیں اپنائیں گے اس وقت تک معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔

جب مسجد کے لئے موذن کے انتخاب کا وقت آیا تو سروروعالمﷺ نے بڑے بڑے رئیس زادوں، آقا زادوں، تاجروں، مالداروں، مہاجروں، انصار اور نامی و گرامی شخصیات کے ہوتے ہوئےحبش کے ایک سیاہ رنگ کے شخص کا انتخاب کیا جس کی زبان میں بھی لکنت تھی۔

حضرت بلال حبشیؓ کو بطور موذن منتخب کر کے آپ نے ہمارے لئے یہ پیغام چھوڑا ہے کہ دینِ اسلام میں کسی کی ظاہری خوبصورتی، رنگ و نسل، قوم و قبیلے، برادری اور علاقے نیز ملک و خطے کی کوئی اہمیت نہیں دینِ اسلام میں ایمان، تقویٰ اور اسلام پر عمل ہی اصل میزان ہے۔

پاکستان میں حقیقی تبدیلی کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم سیرت النبیﷺ سے انتخاب کا طریقہ سیکھیں اور انتخابات میں عشقِ رسولﷺ کا مظاہر کریں۔

اگر ہم نعرے تو عشقِ رسولﷺ کے لگاتے رہیں اور ووٹ بدمعاشوں اور شرابیوں کو دیتے رہیں تو اس سےہمارا اعمال نامہ بھی اور  ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔

کتنے بدقسمت ہیں ہم لوگ کہ جو سیرت النبیﷺ کے ہوتے ہوئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (آرٹیکل) یہ الله تعالیٰ کا نظام ہے کہ وہ معاشروں میں اعتدال قائم رکھنے کے لئے انسانوں کی تعداد میں مختلف حوالوں سے ایک توازن رکھتا ہے۔ جیسے مرد و زن کی تعداد میں ایک قدرتی توازن برقرار رہتا ہے اسی طرح معاشروں میں عقل و دانش اور ضروری ہنر و فن کی صلاحیت رکھنے والے افراد کی تعداد میں بھی ایک توازن برقرار رہتا ہے- مرد و زن کی تفریق اور دیگر صلاحیتوں کو متوازن رکھنے میں فرق صرف یہ ہے کہ مرد و زن کو ظاہری جسمی علامتوں سے تشخیص دینا آسان ہے جبکہ دیگر صلاحیتوں کے حامل افراد کی شناخت کرنا قدرے محنت طلب کام ہوتا ہے۔ نظام تعلیم جہاں انسانی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے وہاں ان صلاحیتوں کے حامل افراد کی شناخت میں مدد بھی دیتا ہے۔

آج کی دنیا میں ہمارا خطہ دو قسم کے بنیادی تعلیمی نظاموں میں تقسیم ہے_ انگریزی (جو دنیاوی علوم کے نام سے مشہور ہے) اور عربی (جو دینی علوم کے نام سے مشہور ہے)- میں انگریزی نظام تعلیم اس لئے کہتا ہوں کہ انگریز سرکار کے غلبہ کے بعد اس نظام کو رائج کیا گیا اور سر سید احمد خان کی حکیمانہ جدوجہد کے بعد مسلمانوں نے اسے وقت کی ضرورت کے تحت قبول بھی کر لیا جبکہ اس سے پہلے جو نظام تعلیم رائج تھا اس کی بنیاد وہ مسلمان بادشاہ تھے جنہوں نے صدیوں اس زمین پر اپنی حکومت قائم رکھی- اس نظام تعلیم کی بنیاد عربی، فارسی اور ترکی زبانوں میں رائج تعلیم کا سلسلہ تھا اور انہی تین زبانوں اور مقامی سنسکرت و ہندی کے امتزاج کے ساتھ اردو زبان معروف وجود میں آئی جو مسلمانوں کی زبان بن گئی اور اب ایک ورثہ کے طور پر ہمارے ہاتھوں میں ہے-

انگریزی نظام تعلیم رائج کرنے والوں کی نظر میں یہ ہدف تھا کہ معاشرے کی ضرورت کے مطابق  اسی معاشرے سے امور مملکت چلانے کے لئے افراد مہیا کئے جائیں جبکہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے والوں کے پیشِ نظر اچھے روزگار کا حصول اور مالی پریشانیوں سے پاک زندگی کا حصول تھا جو آج تک قائم ہے- اسی دور میں عربی نظام تعلیم بھی متبادل کے طور پر چلتا رہا اور ان اداروں کو مدارس کا نام دے دیا گیا جبکہ انگریزی تعلیم کے ادارے اسکول و کالج کہلائے- عربی مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم لازمی تھی لہذا انہیں دینی مدارس بھی کہا جانے لگا-  یہی وہ وقت ہے جب دینی اور دنیاوی علوم کی تقسیم ہوئی- دینی علوم کے مدارس سے فارغ ہونے والے عوام کی دینی ضروریات جیسے نکاح و طلاق، امامت نماز، تراویح و خطبہ جمعہ کو پورا کرنے دھن میں لگ گئے جبکہ دنیاوی علوم نے اچھے کھاتے پیتے مغرب سے متاثر افراد تیار کرنے شروع کر دئے-

انگریزی نظام تعلیم نے معاشرے کے اعلیٰ اذہان کو فلٹر اور جذب کرنا شروع کر دیا- گویا اس نظام نے معاشرے کے اعلیٰ  اذہان کو چنا اور انہیں اپنے نظام کو چلانے کے لئے استعمال کیا- جب معاشرے کے بہترین ذہن انگریزی تعلیم کی طرف چلے گئے تو دینی مدارس کے پاس متوسط یا کمزور اذہان کے طالب علم آئے- البتہ چند استثنائات کو چھوڑ کر-

یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا جس کے تدارک کے لئے ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا ہے- اگر‎ آج ہمارے مشاہدے میں آتا ہے کہ منبر  رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے ایک دوسرے کو گالیاں دی جاتی ہیں یا تفرقہ بازی کی باتیں ہوتی ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ دینی علوم سے معاشرے کے بہترین اذہان کو دور رکھا گیا ہے بلکہ ان دو نظام تعلیم کی تقسیم نے مہذب اور غیر مہذب افراد کو بھی الگ الگ کر دیا ہے۔

آج کا دور اپنی ساخت کے اعتبار سے ایک منفرد دور ہے کیونکہ اس دور میں دین شناسی کی تڑپ میں اضافہ ہوا ہے- اس دور میں دینی علوم کے ماہرین سے دینی ہدایت اور راہنمائی طلب کی جا رہی ہے گویا ہدایت کا جو پیغمبرانہ کام تھا اس کا تقاضا کیا جارہا ہے- اب منبرِ رسول سے حکمت و دانش کی باتوں کی امید کی جا رہی ہیں- دینی راہنماؤں سے امت کو لڑانے کے بجائے انہیں جوڑنے کی فرمائش کی جا رہی ہے- دین کی ان تعبیروں کو زندہ کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے جو ایک صاف ستھرے اور مہذب معاشرے کی تشکیل کی بنیاد فراہم کرتا ہے-

‎میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ گذشتہ چار دہائیوں میں ہمارے ملک پاکستان میں عوامی اور ملکی سطح پر مذہبی رجحان بہت زیادہ بڑھا ہے۔ اس رجحان میں اضافے کی وجہ سے دینی ہدایت اور دینی راہنمائی اور قیادت کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے۔

کیا ہمارے آج کے دینی مدارس اس ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا نفی میں جواب دینے میں شاید ہی کسی ذی فہم کو تامل ہو لیکن اگر ہم اس نظام تعلیم کی اصلاح کر سکیں جس کے ذریعے معاشرے کے بہترین اذہان کو ان علوم کی طرف مائل کر سکیں اور معاشرے کے مہذب گھرانوں کے افراد کی پہلی ترجیح دینی علوم کو بنا سکیں تو شاید یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا- کیونکہ ہدایت کا کام الله تعالیٰ نے ہمیشہ معاشرے کے بہترین انسانوں سے لیا ہے-

دنیاوی علوم کے مقاصد کو بھی صرف اچھے روزگار کے حصول سے موڑ کر کائنات کی حقیقت، اس کی ابتدا و انتہا اور اس دنیا میں ایک سعادت مند زندگی کے معیارات سمجھنے کا ذریعہ بھی بنانا ہو گا- آج کا دور معاشرے کے لئے بابو تیار کرنے کا دور نہیں ہے بلکہ دین فہم ، معاشرہ ساز ہادی بنانے کا دور ہے جو اصل میں انسان کا کام ہے-

تحریر۔۔۔پروفیسر سید امتیاز رضوی

وحدت نیوز (آرٹیکل) لوگ ہنستے رہتے ہیں، بعض تالیاں بھی بجاتے ہیں اور بعض واہ واہ اور سبحان اللہ بھی کہتے ہیں، شیخ رشید جب بلاول بھٹو کو ایک فلمی اداکارہ سے تشبیہ دیتے ہیں تو لوگ  ہنستے ہیں، عمران خان جب آزاد کشمیر کے  وزیراعظم  کو زلیل اور گھٹیا انسان کہتے ہیں  تو لوگ تالیاں بجاتے ہیں اور پیر طریقت  خادم رضوی جب  ڈاکٹر طاہرالقادری سمیت دوسروں کے بارے میں  نازیبا  زبان استعمال کرتے ہیں تو  مجمع واہ واہ اور سبحان اللہ کہتا ہے،مسلمانوں کے دینی  مدرسوں میں دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے  تو لوگ آنکھیں موندھ لیتے ہیں، مشال خان کو یونیورسٹی میں قتل کیا جاتا ہے تو عوام قاتلوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ایک فرقے کے اجتماع میں دوسرے فرقے کے خلاف  کافر کافر کے نعرے لگائے جاتے ہیں تو   لوگ اچھل اچھل کر نعروں کے جواب دیتے ہیں، یہ سب کچھ ظاہر کر رہا ہے کہ  ہمارے  اجتماعی اورسماجی و  سیاسی کلچر کو اب  اسی سمت لے جایا جارہا ہے۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ دشمن طاقتیں ایکدم تو پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کو دینِ اسلام سے بیزار اور متنفر نہیں کر سکتیں لہذا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں سے غیر ت ایمانی کے خاتمے اور حرام کاموں سے نفرت کو بتدریج کم کیا جا رہا ہے۔

لوگ جب اپنے سیاستدانوں کی زبان سے نازیبا الفاظ سنتے ہیں تو انہیں اپنی روزمرّہ زندگی میں بھی نازیبا الفاظ کے استعمال میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی اور اسی طرح جب ٹیلی ویژن پر فحاشی دیکھتے ہیں تو عام زندگی حتیٰ کہ اپنے گھرانوں اور شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بے حجابی اور عریانیت سے کراہت محسوس نہیں کرتے۔

آج ایک دم سے لوگوں کا فر نہیں کیا جا سکتا اور حرام کو حلال نہیں کہاجاسکتا لہذا بتدریج لوگوں کے دلوں سے کفر اور حرام کی نفرت کو کم کیا جارہا ہے۔

آج لوگوں کو جہاد سے بیزار کرنے کے لئے دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دئیے گئے ہیں  اور کفر جیسے لفظ کے وزن کو ختم کرنے کے لئے مشال جیسے بے گناہ طالب علم کو قتل کروا دیا گیا ہے۔

اسلامی تعلیمات کےمطابق بے حیائی صرف  ٹیلی ویژن پر گانے بجنے اور بے حجاب عورتوں کو دیکھنے کا نام نہیں ہے بلکہ گالیاں دینے والے،  بداخلاق، شرابی اور بدمعاشوں کا مسلمانوں سے اقتدار کے لئے ووٹ مانگنا بھی سراسر بے حیائی اور فحاشی ہی ہے۔

ہمارے معاشرے کو بداخلاق، بدزبان اور بے حیا لیڈروں کے بجائے شریف ، نیک اور متقی سیاستدانوں کی ضرورت ہے، آج معاشرے میں تو ہر طرف، ظلم، فساد ، بے عدالتی، ذخیرہ اندوزی ، گراں فروشی  اور ملاوٹ کا دور دورہ ہے ایسے میں اگر ہم لوگ دبک کر گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہیں کہ ہم تو شرفا کی زندگی گزار رہے ہیں تو در اصل یہ شرفا کی زندگی نہیں بلکہ بزدلوں کا جینا ہے۔

شرفا کی زندگی یہ ہے کہ معاشرے میں شرافت کا اقتدار ہو ، ہر کسی کے ساتھ عدل و انصاف ہو ، لوگوں کو مفت تعلیم ، انصاف اور صحت کی سہولیات نصیب ہوں، بیت المال سے غربا کی کفالت کی جائے، ملک سے بے روزگاری اور ملاوٹ کا خاتمہ ہو ، نوکریوں میں سفارش اور رشوت کے بجائے میرٹ کا بول بالا ہو۔۔۔

یہ سب آج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم لوگ تہِ دل سے پیغمبراسلامﷺ  کو اپنے لئے سیاست میں بھی نمونہ عمل تسلیم کریں اور ہمارے دانشور اور مفکرین ، دیندار اور متقی لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی زندگی اور سیرت اس بات پر شاہد ہے کہ آپ نے پتھر کھا کر، توہین اور اہانت برداشت کر کے، ہجرت کر کے، اپنے جلیل القدر اصحاب کی قربانیاں دے کر ، اپنے مقدس دانت شہید کروا کر، اپنے زمانے کے مظلومین، دبے ہوئے اور کمتر سمجھے جانے والے لوگوں کو پستی سے نکال کر شریکِ اقتدار کیا۔

آپ نے مظلومین اور محکومین اور غلاموں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر کے انہیں اتنا مضبوط کیا کہ آپ نے ان مظلوموں کے ذریعے معاشرے پر حاکم وڈیروں، قبائلی سرداروں اور گناہ و زنا کے رسیا لوگوں کی طاقت کا طلسم توڑ ڈالا۔

جب سرورِ دوعالمﷺ نے سیاسی تبدیلی کی جدوجہد شروع کی تو آپ کے مقابلے میں جہاں عرب کے متکبر، عیاش اور اوباش بادشاہ اور سردار تھے وہیں ایران اور روم کے بدمعاش بادشاہ بھی تھے۔

آپ نے گالیوں کا جواب گالیوں اور پتھروں کا جواب پتھروں سے نہیں دیا بلکہ اپنے حسنِ اخلاق سے ، بد زبانی، بدکرداری اور بد اخلاقی پر خطِ بطلان کھینچ دیا۔

خودپیغمبر اسلام کا ارشاد ہے :  إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق

مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گيا ہے، اسی طرح قرآن مجید نے آپ ﷺ کے بارےمیں فرمایا ہے :

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ. ''اور بے شک آپ عظیم الشان خلق کے مرتبے  پر قائم ہیں،

یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پیغمبرﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے اعلی ترین مقصد مکارم اخلاق کی تعمیل ہو اور جس پیغمبرﷺ کو خود قرآن خلق عظیم پر فائز قرار دے ، اس پیغمبر کی امت سے اقتدار کے لئے بدزبان، بدترین، اور بدمعاش لوگ منتخب کئے جائیں۔

آج ہمیں اپنی تمام تر عبادی و سیاسی و اقتصادی زندگی میں  اپنے نبی ﷺ کو نمونہ عمل بنانے کی ضرورت ہے، جب پیغمر اسلام نے جہالت قدیم کے عہد میں مستضعفین ، مظلومین اور محکومین کی نجات کے لئے اسلام کا پرچم بلند کیا تھا تو ہر طرف سے فتنوں نے لوگوں کو گھیر رکھا تھا، مادہ پرستی، شراب و کباب، راگ و موسیقی، شہوت رانی، دست درازی اور زنا جیسی سماجی و اخلاقی برائیاں لوگوں میں رچ بس چکی تھیں، بلا روک و ٹوک  قبائلی سرداروں اور مالداروں کے ہاتھ غریبوں کی عزت و آبرو پر پڑتے تھے، شعرو شاعری میں عورتوں کو بطور جنس استعمال کیا جاتا تھا اور یہ صورتحال صرف عرب دنیا تک محدود نہیں تھی بلکہ  روم و ایران جیسی متمدن اور مہذب کہلاوانے والی اقوام میں بھی یہی کچھ ہو رہا تھا، ایسے میں  معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے ہمارے نبیؐ نے  جن مشکلات   کا سامنا کیا ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

 آپ نے اس معاشرے میں جہاں جاہلانہ رسوم و رواج کو بہادری اور عقلمندی کہا جاتاتھا ، آپ نے وہاں پر اپنے آپ کو صادق اور امین کہلوایا، آپ نے کفر اور ضلالت اور ظلم و جہالت کے درمیان اسلامی سیاست و حکومت ، اسلامی اقتصاد ، اسلامی نظام عدل اور اسلامی  فوج کو قائم کیا ، آپ نے مشرق و مغرب  کی مخالفت مول لے کر بڑے بڑے بادشاہوں کو اسلام کے قبول  کرنے کی دعوت دی ۔آج جہالت جدید کے عہد میں بھی ہمارے ہاں پاکستان میں بھی  اور پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر وہی کچھ دہرا یا جا رہا ہے ۔

اس سماجی ابتری، معاشی ناانصافی، قبائلی مظالم، دینی اجارہ داری اور موروثی سیاست کے مقابلے کے لئے ہمارے پاس صرف ایک ہی راہ ِ حل ہے کہ ہم ان بدترین حالات میں صرف اور صرف  اپنی نبیﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور صرف انہیں لوگوں کو ووٹ دیں جن کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ وہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے نقشِ قدم  اور اسوہ حسنہ پر چلنے اور عمل کرنے والے ہیں۔

متوقع الیکشن میں سیاسی بیداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کے ساتھ یہ ثابت کریں کہ  ختم النبیین ﷺ ہی ہمارے لئے  اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہیں۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 54

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree