امریکہ ایران تنازعہ

21 مئی 2019

وحدت نیوز(آرٹیکل) یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کی امریکہ ایران تنازعہ نے سر اٹھایا ہو، انقلاب اسلامی ایران کے بعد ہر سال یہ تنازعہ مختلف صورتوں میں رونما ہوتا رہا ہے اور اس کا انجام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست پر تمام ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں کبھی یہ نہیں چاہتیں کہ کوئی ملک خصوصا اسلامی ممالک خودمختار ہو جو عالمی طاقتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرے، اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے۔

 لہذا انقلاب اسلامی ایران کے بعد نظریہ انقلاب امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواریوں کے لئے بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ انقلاب دشمنوں کی صبر کا پیمانہ کچھ مہینے پہلے لبریز ہوا جب ایران نے انقلاب کی چالیسویں سالگرہ منائی اور ان کی تمام تر پیشنگوئیوں کو شرمندہ تعبیر کیا۔کچھ دنوں پہلے امریکہ نے ایرانی افواج پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ قرار دیا جس کے جواب میں ایران نے امریکی سنٹرل کمانڈ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، یوں امریکہ ایران تنازع نے ایک دفعہ پھر سر اٹھایا ہے۔

یاد رہے امریکی سنٹرل کمانڈ انقلاب اسلامی کے بعد وجود میں آیا ہے اور اس کی جغرافیائی اسٹریکچر اسرائیل کے گرد گومتی ہے یعنی اس کے بنانے کا مقصد ایران سے کسی بھی ممکنہ خطرے سے اسرائیل اور امریکی مفادات کی تحفظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، عراق جنگ سے لیکر مشرق وسطی، افریقہ اور ایشیاء میں جتنی بدامنی و انارکی پھیلتی ہے یہ سب اسی کمانڈ سنٹر سے کنٹرول ہوتا ہے۔امریکہ مختلف حیلوں بہانوں سے ایران پر دباء ڈالنا چاہتا تھا تاکہ ایران پریشر میں آکر کسی حد تک امریکہ کو تسلیم کرے لیکن ایسا نہیں ہوپایا۔ بلکہ برعکس ایران کی طاقت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا اور انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ عراق، شام، فلسطین، لبنان کے محازوں پر بھی امریکہ اسرائیل کو شکست دینے کا جشن منایا جس نے امریکی شکست اور بے بسی کو ساری دنیا کے سامنے واضح کیا۔

اب امریکہ دوبارہ اپنے جھوٹے دعوں کو سچ ثابت کرنے اور ایران کو محکوم کرنے کے لئے میدان میں کود پڑا ہے جس کا مقدمہ پاسداران انقلاب کو بلیک لیسٹ کرنے کے بعد عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ اور عراق سے اپنے تمام باشندوں کو انخلاء کا حکم، ایران کی طرف سے عراق میں امریکیوں پر ممکنہ حملے کے خدشہ کو ظاہر کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر چار جھازوں میں تخریب کاری کی کوشش کی گئی جن میں سے دو تیل بردار جہازوں کو شدید نقصان پہنچا اور یہ دونوں جہازیں سعودی عرب کی تھیں۔ کہتے ہیں کہ تخریب کاری کی یہ کوشش بھی امریکہ کی طرف سے بنایا گیا منصوبہ تھا تاکہ ایران کے خلاف اس کے دعوں کو سچ ثابت کر سکیں مگر ابھی تک اس کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔

امریکہ زبانی حد تک تو ایران سے جنگ کرتا ہے مگر حقیقی میدان میں وہ ایران کے ساتھ دو بہ دو جنگ کو تیار نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے، جب انقلاب اسلامی نومولد تھا اور اُس نے آٹھہ سالہ عراق جنگ مسلط کیا تھا تب ایران کو شکست نہیں دے سکے تھے۔ ابھی تو ایران ایک ناقبل تسخیر طاقت بن چکی ہے جس کی میزائیلوں کی رینج میں امریکہ کا قلب اسرائیل موجود ہے اور کسی بھی امریکی جارحیت کا خمیازہ اسرائیل کو اٹھانا پڑے گا۔ لہذا کہتے ہیں کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے بلکل اسی طرح امریکہ نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے اوراسی لئے ایک دفعہ پھر سعودی عرب اور امارات کو آگے کیا ہے جس نے اپنی بادشاہت کی خاطر امریکہ و اسرائیلی غلامی کو قبول کیا ہوا ہے اور عالم اسلام میں اس وقت جو مشکلات ہیں ان کی اسی فیصد جڑیں انہیں ممالک سے ملتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسلامی ممالک کو ایران کے روبرو کھڑی کریں { واضح رہے کی ایران نے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے اور اس تخریب کاری کی مخالفت کی ہے} اور خود جنگی طبل بجا کر پیچھے ہٹ جائے، لیکن اس میں ابھی تک امریکہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ بلکہ امریکہ کی طرف سے ان تمام تر جنگی خطرات کا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہٰ ی نے صرف دو جملوں میں جواب دیا کہ " جنگ نہیں ہوگی اور مذاکرات ہم نہیں کرینگے"۔

دوسری طرف امریکی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ کبھی جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو تو کبھی تردید کرتا ہے، کبھی حملے کی بات کرتا ہے تو کھبی ٹرمپ اپنا فون نمبر دیتا ہے کہ ایرانوں سے کہیں وہ ان سے بات کریں۔ان سب کے باوجود میری نظر میں ابھی ایک خطرہ موجود ہے اور وہ سعودی اور عرب امارات کے خائن و بے وقوف حکمرانوں کی جانب سے ہے جو امریکی اور اسرائیلی باتوں کو کسی بھی چوں چرا کے بغیر تسلیم کرتے ہیں، کہیں ان کی مشوروں میں آکر مسلمان ممالک کو پھر کسی مشکلات سے دوچار نہ کر دیں۔

ابھی فجیرہ تخریب کاری کو گزرے کئی دن ہوئے ہیں اور کل واشنگٹن کی طرف سے بن سلمان کو کال کی جاتی ہے اور ایک گھنٹے کی طویل گفتگو کے بعد ان کو یاد آتا ہے کہ فجیرہ حملے اور یمنی ڈرون حملے کے حوالے سے عرب سربراہان کی ایمرجنسی میٹینگ ہونی چاہئے اور اس حملے کے حوالے سے لاحہ عمل طے ہونا چاہئے یعنی ایران کے خلاف ایک نئے محاز کا آغاز کرنا چاہئے۔ اگر یہاں پر اسلامی ممالک نے ذاتی مفادات کو بالائی طاق رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کی نہیں سوچی تو ایک نئے فتنہ کا آغاز ہوسکتا ہے، لیکن اگر مدبرانہ اور مخلصانہ فیصلہ کیا گیا تو امریکہ کی شکست لازمی ہے۔ لہٰذا اب کچھ دن مزید انتظار کریں اور دیکھیں کہ حالات کہا تک پہنچتے ہیں اور عرب سربراہان کیا گل کھلاتے ہیں۔

 تحریر: ناصر رینگچن



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree