وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل کو حکومت کی مجرمانہ خاموشی اور بےحسی قرار دیتے ہوئے بھوک ہرتال کر اعلان کر دیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام کو تحفظ دینے کی بجائے دہشت گردی پر اتر آئے ہیں۔ پارا چنار میں لیویز اور ایف سی کے اہلکاروں نے پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے معصوم شہریوں پر اس طرح فائرنگ کی جیسے وہ کسی دشمن کے سپاہی ہوں۔ ڈیرہ اسمعاعیل خان میں چار شیعہ پروفیشنلز کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ ظالمانہ طرز عمل ایک انصاف پسند ریاست کا نہیں ہو سکتا۔ ملک میں تکفیری گروہوں حکومتی آشیرباد میں پروان چڑھ رہے ہیں اور محب وطن افراد کو موت کی وادی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں ملت تشیع کے ہونہار افراد اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کے جنازے اٹھااٹھا کر تھک چکے ہیں۔ اس شیعہ نسل کشی کے خلاف بھوک ہرتالی کیمپ میں بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراوں گا۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اس ملک میں امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت تکفیر کے فتوی دینے والے دین فروش ملاؤں کے خلاف کاروائی نہیں کرتی۔ ملک میں امن کے قیام اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لیے ہم حکومت کے سامنے اپنے دس نکات پر مشتمل مطالبات پیش کررہے ہیں۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ شیعہ نسل کشی میں ملوث تکفیری دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کیا جائے۔ ریاستی اور عسکری ادارے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف فوری کاروائی کریں اور مجرمانہ خاموشی ختم کریں۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کیا جائے اور نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ ملک میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملوں بالخصوص سانحہ شکار پور، سانحہ جیکب آباد، سانحہ چلاس، سانحہ بابوسر، سانحہ حیات آباد، سانحہ عاشور اور سانحہ راولپنڈی سمیت تمام سانحات کے مقدمات کو ملٹری کورٹس میں بھیجا جائے۔ پاکستان میں موجود تمام مسالک اور مذہب کے لوگوں کو تکفیری دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ پنجاب حکومت اپنی شیعہ دشمنی فوری ختم کرے۔ عزاداری سید الشہدا پر غیراعلانیہ پابندیاں، شیعہ عمائدین اور بانیان مجالس کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائیں۔ علما و ذاکرین پر عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور جن لوگوں کا نام بلاوجہ شیڈول فور میں ڈالا گیا ہے اسے نکالا جائے۔ خیبرپختونخواہ حکومت شیعہ قتل عام پر مجرمانہ خاموشی ختم کرے اور دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کاروائی کی جائے۔

سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے مطالبہ کیا کہ پارا چنار کرم ایجنسی میں ایف سی کے ہاتھوں شہید ہونے والے بےگناہ مظاہرین کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے اور کمانڈیٹ کرم ایجنسی، پولٹیکل ایجنٹ اکرام اللہ اور اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ شاہد علی کے خلاف قانونی کاوررائی کی جائے۔گلگت بلتستان اور پارا چنار کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش اور حکومتی سرپرستی میں شیعان حیدر کرار کی زمینوں پر قبضہ فوری ختم کیا جائے۔ مسلکی بنیادوں پر پاکستان کی تقسیم کی سازش کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں۔ علامہ ناصر نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پھر یہ تاثر سچ ثابت ہو گا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام میں مخلص نہیں ہے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) ہر منصف مزاج انسان نے امام حسینؑ کی تعریف و تمجید کی ہے، آپ کے قیام  کوانسانیت کی بہترین خدمت قرار دیا ہے،آپ کے حق پر ہونے کی سبھی نے تائید کی ہے۔ہم یہاں صرف غیر مسلم دانشوروں اور تاریخ نویسوں کے اقوال کو نقل کرنے پر اکتفاء کریں گے: (Urgel Babry) کا کہنا ہے: واقعہ کربلا نےحسینؑ اور علیؑ کے حامیوں کے دلوں میں خوف طاری کرنے کی بجائے ان کے شیعوں کی شجاعت میں اضافہ کیا اوروہ ان کے خون کا انتقام لینے پر تلے آئے۔

جرمن مستشرق (Brockelmann, Carl) کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت سیاسی اثرات کے علاوہ مکتب تشیع کی مضبوطی اور ترویج کا بھی سبب بنی، یوں  یہ مذہب عرب کے ہونے کے  بجائے ان کے خلاف ایک مرکز بن کر ابھرے۔

برطانوی مورخ اور دانشور (Brown, Edward) کا کہنا ہے: میری نظر میں واقعہ کربلا سے پہلے شیعوں یا  علیؑ کے طرفداروں کے درمیان اتنی  شجاعت اور ایثار پایا نہیں جاتا تھا، لیکن واقعہ کربلا کے بعد حالت بالکل بدل گئی، سرزمین  کربلا کا تذکرہ، جسے فرزند پیغمبر کے خون سے رنگین کیا گیا، ساتھ ہی  فرزند پیغمبر  کی پیاس کی شدت کی یاد اور صحرائے کربلا میں بکھرے پڑے ان کے اصحاب و اقرباء کی لاشوں کی یاد  ایک بےحس شخص کے اندر بھی ولولہ  پیدا کرنے، مردہ ضمیروں  کو  جھنجوڑنے،  اس کے بعد ہر قسم کی مشکلات اور خطرات کو مول لینے اور جان  کی بازی لگانے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

(Tvndvl, Bvrshv Tamdas)کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت نے بچپنے میں ہی مجھ پر عمیق اثرات مرتب کئے اور مجھے محزون کیا۔ میں اس عظیم تاریخی سانحے کے واقع ہونے کی اہمیت سے واقف ہوں، دنیا میں امام حسینؑ جیسوں کی فداکاریوں نے انسانیت کو فروغ بخشا ہے، ایسے سانحوں کی یاد ہر وقت زندہ رہنا چاہیئے اور اس کی یاد ہمیں تازہ کرتے رہنا چاہیئے۔

برطانوی فلاسفر اور مورخ (Toynbee, Arnold Joseph) کا کہنا ہے: معاویہ کا تعلق قریش کے ایک مقتدر خاندان سے تھا، حضرت علیؑ اس کی ریاکارانہ سیاست سے مقابلہ نہ کرسکے، درنتیجہ آپ اور آپ  کے صاحبزادے اور رسول کے نواسے کو مظلومانہ شہید کیا گیا۔ انقلاب ہندوستان کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کا کہنا ہے، میں نے اسلام کے عظیم شہید امام حسینؑ کی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا ہے، میں نے کتاب کربلا کے مختلف صفحات پر غور کیا تو میں مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اگر ہندوستان کو ایک فاتح ملک بنانا ہے تو ہمیں امام حسینؑ کو اپنے لیے نمونہ عمل  قرار دینا ہوگا۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے انیسویں قرن کے دائرۃ المعارف کےمؤلف (Madame, English) کا کہنا ہے: امام حسینؑ کی مظلومیت پر مسلمانوں کی سب سے بڑی دلیل آپؑ کا اپنے دودھ پیتے بچوں کو قربان کرنا ہے، تاریخ میں ایسی مثال  کہیں نہیں ملتی کہ کوئی شخص دودھ پیتے بچے کو پانی پلانے لایاہو اور سرکش قوم نے اسے پانی کی جگہ تیر سے سیراب کیا ہو، دشمن کے اس کام نے حسینؑ کی مظلومیت کو ثابت کیا، آپ نے اسی مظلومیت کی طاقت سے،  طاقت سے لیس بنی امیہ کی عزت کو خاک میں ملاکر انھیں بدنام زمانہ بنا دیا۔ آپ ؑ اور آپ کی اہل بیت ؑ کی عظیم قربانی نے دین محمدی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اگرچہ ہمارے پادری بھی حضرت مسیح کے مصائب کا تذکرہ کرکے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن جو جوش و خروش حسینؑ کے پیروکاروں میں پایا جاتا ہے مسیحؑ کے پیروکاروں میں نہیں پایا جائے گا، کیونکہ مسیحؑ کے مصائب حسینؑ کے مصائب کے مقابلے میں بہت بڑے پہاڑ کے مقابلے میں ایک تنکے کے برابر ہے۔

مشہور انگریز تاریخ نویس (Gibbon) کا کہنا ہے: واقعہ کربلا کو رونما ہوئے کافی وقت گزرچکا، ساتھ ہی ہم نہ  ان کے ہم وطن ہیں، اس کے باوجود وہ مشکلات اور مشقتیں کہ  جن کو حضرت حسینؑ نے تحمل کیا، یہ سنگ دل قاری کے احساسات کو بھی ابھارتا ہے اور آپؑ سے ایک خاص قسم کی محبت اور ہمدردی ان کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے۔

(Pvrshv Tamlas Tvndvn) کا کہنا ہے: میں اس عظیم تاریخی واقعے کے واقع ہونے کی اہمیت سے واقف ہوں، امام حسینؑ کی فداکاری اور شہادت نے انسانی افکار کو ارتقاء بخشا ہے، اس واقعے کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیئے اور اس کی یاد آوری بھی ہوتی رہنی چاہیئے۔

جرمن سے تعلق رکھنے والے(Marbin) کا کہنا ہے: عقل و خرد  رکھنے والے افراد اگر عمیق نظر سے اس دور کی وضعیت و احوال ،  بنی امیہ کے اہداف،  ان کی حکومت کی حالت اور حق و حقیقت سے ان کی دشمنی پر نظر دوڑائیں تو خود بخود وہ تصدیق کریں گے  کہ حسینؑ نے اپنے عزیز ترین افراد کو قربان کرکے اوراپنی مظلومیت اور حقانیت کو ثابت کرکے دنیا والوں کو فداکاری اور شجاعت سکھادیا ہے۔ ساتھ ہی آپ نے  اسلام اور مسلمانوں کے نام ایک نئی تاریخ رقم کرکے  انھیں ایک عالمی شہرت عطا کردی ہے۔

مشہور برطانوی مستشرق (Browne) کا کہنا ہے: کیا کسی ایسے دل کا پانا ممکن ہے کہ جس کے سامنے واقعہ کربلا کا تذکرہ ہو لیکن اس کے باوجود وہ دل غم سے نڈھال نہ ہو، اس اسلامی جنگ نے جو روح کو پاکیزگی عطا کی ہے اس سے  غیر مسلم بھی انکار نہیں کرسکتے۔

(Fryshlr) کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت بھی دوسرے حوادث میں مرنے والوں کی مانند تھا لیکن یہ حادثہ ایک استثنائی حادثہ تھا، چودہ قرن گزرنے کے باوجود بھی ایک غیرجانبدار مورخ اس حادثے کو ایک طویل و عریض پہاڑ کی مانند دیکھتا ہے، اس کے مقابلے میں دوسرے حوادث اور جنگیں ایسی دبی ہیں کہ آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔

امریکی مورخ (Ironic Wshington) قیام امام حسینؑ کے حوالے سے رقمطراز ہیں: امام حسینؑ یزید کے سامنے سرتسلیم خم ہوکر اپنے آپ کو نجات دلا سکتے تھے، لیکن اسلام کے پیشوا  ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری آپ کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ آپ یزید کو خلیفہ کے طور پر قبول کریں۔ آپ نے اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہر قسم کی سختیوں اور مشکلات کو سینے سے لگالیا۔ عرب کے خاردار ریتلے صحرا میں تیز دھوپ کے سائے میں حسینؑ کی روح لازوال ہو گئی۔

جرمن دانشور(Monsieur Marbin) کا کہنا ہے: حسینؑ وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے 14 قرن پہلے ظالم و جابر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ مورد جسے ہم نادیدہ قرار نہیں دے سکتے یہ ہے کہ حسینؑ وہ سب سے پہلی شخصیت ہیں کہ جن کی مانند آج تک کوئی ایسی مؤثر ترین سیاست انجام نہ دے سکے۔ ہم دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ بشریت میں کوئی بھی آپ جیسی فداکاری کا نہ آج تک مظاہرہ کرسکا ہے اور نہ کبھی  کرسکے گا۔ ابھی اسراء حسینی دربار یزید پہنچنے بھی نہیں پائے تھےکہ اتنے میں  انتقام خون حسین کی تحریک شروع ہوگئی،  آہستہ آہستہ یزید کے خلاف  اس تحریک میں شدت آتی گئی،  یوں یہ ایک بہت بڑی تحریک کی صورت اختیار کرگئی، جس سے حسینؑ کی مظلومیت اور آپ کی حقانیت سب پر ثابت ہوگئی، ساتھ ہی اس سے  یزید اور بنو امیہ کی باطنی خباثت اور ان کی جنایتوں  کا پردہ چاک ہوگیا۔(Thomas Carlyle) کا کہنا ہے: سانحہ کربلا سے جو بہترین درس لے سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حسینؑ اور آپ کے اصحاب خدا پر مضبوط ایمان رکھتے تھے،آپ لوگوں نے اپنے عمل سے اس حقیقت  کو ثابت کردیا کہ حق و باطل کے معرکے میں افراد کی تعداد اہمیت کے حامل نہیں، حسینؑ نے اپنے کم اصحاب کے ذریعے جو کامیابی حاصل کی وہ میرے لیے حیرت کا باعث ہے۔مشہور تاریخ دان (Gibbon) کا کہنا ہے: آنے والی صدیوں میں مختلف ممالک میں واقعہ کربلا کی منظر کشی اورحسینؑ کی شہادت کی وضاحت سنگ دل ترین قارئین کے دلوں کو موم بنانے کا سبب بنےگی۔(Frederick James) کا کہنا ہے: امام حسین اور ہر پہلوان شہید کا بشریت کے لیے پیغام یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والی عدالت، رحم وکرم، محبت و سخاوت جیسے ناقابل تغییر اصول موجود ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ جب بھی کوئی ان ابدی اصولوں کے لیے مقاومت دکھائے اور استقامت کا مظاہرہ کرے تب ایسے اصول ہمیشہ دنیا میں باقی رہیں گے اور ان میں پائیداری آجائے گی" آج بھی دنیا کی موجودہ یزیدیت کو سرنگون کرنے کے لیے کردار حسینی کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی تمام مشکلات کا بنیادی سبب پیغام حسینی سے دوری اختیار کرکے یزید صفت استعماری طاقتوں کے سائے میں پناہ لینا ہے۔حسینی کردار کے حامل افراد اگر پیدا ہوجائیں تو معاشرے میں موجود تمام یزیدی افکار کو سرنگون کرکے حسینی افکار کو زندہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ کا بنیادی ہدف معاشرے میں امربہ معروف اور نہی از منکر کو عام کرنا، اپنے جدامجد کی امت کی اصلاح کرنااور ظالموں سے مقابلہ کرکے مظلوموں کو ان کا حق دلانا ہے۔آپ نے ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو اپنےلیے ننگ و عار اوران کو سرکوب کرنے کی راہ میں شہادت پانے کو اپنے لیے سعادت قرار دیا۔ یوں آپ نے ہر قسم کی طاقتوں سے آراستہ یزیدیت کو کربلا کی سرزمین میں دفن کرکے حسینیت کو تاقیام قیامت دوام بخشا۔ساتھ ہی حق و باطل کے درمیان آپ نے ایسی دیوار کھڑی کردی جسے ہزاروں یزیدی صفت افراد بھی آج تک نہ گراسکے ہیں  اور نہ ہی قیامت تک گراسکیں گے۔ یہ سب کچھ کربلا کی لق دق صحرا میں آپ کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
حوالہ جات:
1.    asps.19-post/com.blogfa.ahmogiss
2.    50774/fa/article/jamhornews.com/doc
3.    ir.post erfind.mind-royal
 

تحریر۔۔۔۔۔سید محمد علی شاہ حسینی

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی اور ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ قاضی نادر حسین علوی نے اپنے مشترکہ بیان میں امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کو پروگرام میں شرکت سے روکنا اور پُرامن حسینیوں پر پولیٹیکل انتظامیہ اور فرنٹیر کانسٹیبلری کی فائرنگ قابل مذمت ہے۔ ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے ترجمان کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ اور فرنٹیر کانسٹیبلری کی پرامن حسینیوں پر بلا اشتعال فائرنگ سے چار عاشقان امام حسین علیہ السلام شہید اور درجنوں گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ پاراچنا رکے پُرامن شہریوں پر پولیٹیکل انتظامیہ کا تشدد حکومت کی جانب سے شیعہ دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر پاراچنا میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لے ورنہ جمعہ کو ہونے والے ملک گیر احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے پاراچنار میں ایف سی کی فائرنگ سے چار افراد کی شہادت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا پارا چنار میں پولٹیکل انتظامیہ کے حکم سے فرنٹیر کانسٹیبلری اور لیویز کے اہلکاروں کی جانب سے پُرامن احتجاج کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ ریاستی دہشت گردی ہے۔ کچھ نادیدہ طاقتیں کرم ایجنسی کے محب وطن باسیوں کو ملک دشمنی پر اکسانے کے لئے مشتعل کر رہی ہیں۔ ان مذموم ہتکھنڈوں کے مرتکب ملک دشمن ایجنٹوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ولادت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں سے علماء، نعت خوان اور شعراء حضرات کرم ایجنسی میں مدعو تھے۔ جنہیں محض اس لئے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، تاکہ حالات کو دانستہ طور پر کشیدہ کیا جا سکے۔ اس ناانصافی پر صدائے احتجاج بلند کرنے والوں پر فائرنک کرکے متعصب پولٹیکل انتظامیہ نے چار افراد کو شہید جبکہ دس سے زائد افراد کو شدید زخمی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے شہریوں کو احتجاج کا قانونی و آئینی حق حاصل ہے، لیکن پولٹیکل انتظامیہ پاکستانی آئین سے کھلم کھلا انحراف برت رہی ہے۔ پارا چنار کے عوام کے ساتھ اس ظالمانہ سلوک کا مذکورہ انتظامیہ کو جواب دینا ہوگا۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ پولٹیکل ایجنٹوں کی شرپسندی کے باعث پیش آیا۔ کرم ایجنسی میں ہر سال اس اہم موقع پر پولٹیکل انتظامیہ کی طرف سے جان بوجھ کر فساد برپا کیا جاتا ہے۔ ملک دشمن عناصر اپنے ان آلہ کاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ کرم ایجنسی کے مکینوں نے ہمیشہ حب الوطنی کو مقدم رکھتے ہوئے اعلی مثالیں رقم کی ہیں، انہیں محب وطن ہونے کی سزا گولیوں سے چھلنی کرکے دی جا رہی ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔ ملت تشیع ایک طرف دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور دوسری طرف ریاستی جبر سے انہیں دبایا جا رہا ہے، جو سراسر ظلم اور غیر منصفانہ طرز عمل ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ نے فرنٹیر میں اپنی بادشاہت قائم کر رکھی ہے، وہاں میڈیا کے لوگوں کو بھی ان مظالم کے خلاف کھل کر بولنے نہیں دیا جاتا۔ حکومت کی مصلحت پسندی کے باعث ملت تشیع کے لئے پورے ملک میں حیات تنگ کی جا رہی ہے۔ چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہی دن میں چار شیعہ ماہرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کراچی میں سول سوسائٹی کے ممتاز رہنما خرم ذکی کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین دہائیوں میں ستر ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ہم کب تک لاشوں کو کندھے دیتے رہیں گے۔ ہمارا چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، کور کمانڈر پشاور اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ ہے کہ پارا چنار میں نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے والے اہلکاروں اور ذمہ داران کے خلاف فوری ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے اور کرم ایجنیسی کے رہائشیوں کے ساتھ امتیاز سلوک بند کیا جائے۔ آئین کی رو سے ہر شخص مذہبی آزادی حاصل ہے، اس آزادی کو سلب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملک بھر میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگز اور امتیازی سلوک کے خلاف جمعہ کے روز مجلس وحدت مسلمین نے "یوم احتجاج" منانے کا بھی اعلان کیا۔ اس روز بعد از نماز جمعہ احتجاجی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری، سید اسد نقوی، نثار فیضی اور علامہ علی انصاری بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے گذشتہ روزمعروف سماجی رہنما اور صحافی شہید خرم ذکی کے گھرجاکرانکے بھائی اور فرزندسے ملاقات کی تعزیت کااظہارکیا اورشہید کی بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودڈومکی، کراچی ڈویژن کے رہنما علی حسین نقوی ودیگربھی موجود تھے، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے شہید کے پسماندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید خرم ذکی پاکستان کا محب وطن بیٹا تھاجس نے اس وطن سے دہشت اور نفرت کے خاتمے کی جدوجہد کی راہ میں اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کیا، شہید خرم ذکی کا مشن ہم سب پر قرض کی صورت باقی ہے، خدا آپ اہل خانہ کو اس رنج کی گھڑی میں صبر جمیل عنایت فرمائے۔

اصول حکومت

وحدت نیوز (آرٹیکل)عصر حاضر میں دنیا بھر میں خصوصا وطن عزیز پاکستان میں حکومتی اور انتظامی امور میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں جن کی وجہ سے رعایا اور عوام میں روز بہ روز فاصلہ بڑھ رہا ہے،کرپشن لوٹ مار،غربت بیروزگاری، ظلم ناانصافی کی حدیں پار کردی گئی ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف قائم نہیں ہے؟ کیا ہمارے پاس اصول و قوانین موجود نہیں؟ کیا ہمارے پاس کوئی رہنما شخصیت موجود نہیں ہے؟ کیا ساری خامیاں اور غلطیاں ہمارے اندر موجود ہیں؟۔۔۔ہمارے پاس اصول و قانون بھی موجود ہے، اور ہمارے ماضی میں بھی ایسی رہنما شخصیتیں بھی موجود ہیں جن کی اصولوں کی اگر ہم پیروی کریں تو ایک کامیاب حکومت کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس ہدایت کے لئے سب سے بہترین اصول اور قانون قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہیں ، زرا ہم اپنے گریبان میں جھانکے توساری خامیاں اور کمزوریاں ہمارے اندر موجود ہیں، ہم علم حاصل نہیں کرتے کرتے بھی ہیں تو زاتی فائدہ اور مقاصد کے لئے، ساری دنیا اسلام کے اصولوں اور قوانین کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتی ہے مگر مسلمان صرف لفاظی میں مشغول ہے اسی لئے ہم ہر میدان میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔۔ آج کے موجودہ حالات اور واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کوشش کی ہے کہ حضرت علی ؑ کا وہ خط بیان کروں جو آپ نے مالک اشتر کو لکھا اور ان کو مصر کا والی بنایا اور انہیں حکومتی اور انتظامی امور میں بہترین اصول نصیحت فرمائے، اگر ہمارے حکمران صرف اس خط پر عمل کریں تو دنیا میں بہترین اور مثالی حکومت قائم ہو سکتی ہے، اس خط سے چند حکومتی،فوجی اور عدلیہ کے بارے میں رہنما اصول قارئین کی نظر کر رہاہوں۔
"خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں نہ ٹکراواور اس کی شان و جبر سے ملنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ ہر جبارو سرکش کو نیچا دکھا تا ہے اور ہر مغرور کے سر کو جھکا دیتا ہے، اپنی زات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعا یا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا، کیونکیہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے اور جو خڈا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو ا اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا، اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا، یہاں تک کہ بازآئے اور توبہ کرلے اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے کیونکہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کے لئے موقع موقع کا منتظر رہتا ہے، تمھیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہئے جو حق کے اعتبار سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ عوام کی نارضگی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنادیتی ہے اور خواص کی نارضگی عوام کی رضا مندی کے ہوتے ہوئے نظرانداز کی جاسکتی ہے۔
اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی سودو بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔
ٓ ٓ)اس مقام پر امیر المومنینؑ نے سماج کو نو حصوں میں تقسیم کی اہے اور سب کے خصوصیات،فرائض،اہمیت اور ذمہ داریوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ کسی کا کام دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا لہذا ہر ایک کافرض ہے کہ دوسرے کی مد د کرے تاکہ سماج کی مکمل اصلاح ہو سکے اور معاشرہ چین اور سکون کی زندگی گزار سکے ورنہ اس کے بغیر سماج تباہ و بر باد ہوجائے گا اور اس کی ذمہ داری تمام طبقات پر یکساں طور پر عائد ہوگی، میں یہاں فوج اور عدلیہ کے بارے میں حضرت علی ؑ نے کیا فرمایا یہ بیان کروں گا۔(
امام فرماتے ہیں فوج کا سردار اس کو بناناا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول کا تمہارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو، سب سے زیادہ پاک دامن ہو، اور بردباری میں نمایاں ہو، جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو، عذر معذرت پر مطمن ہوجاتا ہو، کمزوروں پر رحم کھاتا ہو اور طاقتوروں کے سامنے اکڑ جاتا ہو، نہ بدخوئی اسے جوش میں لے آتی ہو اور نہ پست ہمتی اسے بٹھا دیتی ہو، پھر ایسا ہونا چاہیے کہ تم بلند خاندان نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جو دو سخاوت کے مالکوں سے اپنا رابط و ضبط بڑھاؤ کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہوتے ہیں ، پھر ان کے حالات کی اس طرح دیکھ بھال کرنا، جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرو کہ جو ان کی تقویت کا سبب ہو تو اُسے بڑا نہ سمجھنا اور اپنے کسی معمولی سلوک کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا کیونکہ اس حسن سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جزبہ اُبھرے گا اور حسن اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کر دیا ہے کہیں انکی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بند نہ کر لینا۔
(سوچئے ملک کا کروڑوں کا دفاعی بجٹ اور دفاع پر خرچ ہونیوالا بے حساب سرمایہ اسی قابل ہے کہ اسے انتہائی بے دردی سے برباد کردیا جائے اور اسکی ذمہ داری غیر ذمہ دار قسم کے افراد کے حوالہ کردی جائے جو ملک کو اپنے خواہشات کی راہ پر چلا نا چاہتے ہوں۔)
حکمرانوں کے لیے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل و انصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر ہوتی رہے اور ان کی محبت اسی وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کے لئے گھیر ا ڈالے رہیں ان کا اقتدار سر پڑا بوجھ نہ سمجھیں اور ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے گھڑیاں گنیں لہذا ان کی اُمیدوں میں وسعت و کشائش رکھنا انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان کارناموں کا ذکر کرتے رہنا کہ ان کے اچھے کارناموں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے، انشااللہ جو شخص جس کارنامہ کو انجام دے اُسے پہچانتے رہنا اور ایک کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کر دینا اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا اور کھبی ایسا نہ کرنا کہ کسی شخص کی بلندی ورفعت کی وجہ سے اُس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو اور کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کہ وجہ سے معمولی قرار دے لو۔؂
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئیایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق و تنگی میں نہ پڑجاتا ہو، اور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو، نہ اپنے کسی غلط نقطہ نظر پر اڑتا رہتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو اور نہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو، شک و شبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو اور دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین کی بخشابخشی سے اکتانہ جاتا ہو، معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو اور جب حقیقت آئینہ ہوجاتی ہو، تو بے دھڑک فیصلہ کردیتا ہو وہ ایسا ہو جسے سراہنا مغرور نہ بنائے اور تاننا جنبہ داردی پر آبادہ نہ کردے، اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں، پھر یہ کہ خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا، دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جو اُن کے ہر عزر کو غیر مسمع بنادے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے، اپنے ہاں انہیں باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگ کی سازش سے محفوظ رہیں اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا، کیونکہ (اس سے پہلے) یہ دین بد کرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے جس میں نفسانی خواہشوں کی کار فرمائی تھی اور اسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنالیا گیاتھا۔
پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا کبھی صرف رعایت اور اجانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا، اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سر چشمہ ہیں اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ و غیرت مند ہوں، ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں۔ حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں، پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا، کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے، جو اُن ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا، اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں، تو تمہاری حجت ان پر قائم ہوگی، پھر ان کے کاموں کو دیکھنے بھالتے رہتا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر چھوڑ دینا کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی باعث ہوگی، خائن و مددگاروں سے اپنا بچاو کرتے رہنا اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں، تو شہادت کیلئے بس اسے کافی سمجھنا اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے(کرپشن)، اسے واپس لینا اور اسے ذلت کی منزل پر کھڑا کردینا اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانا اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔"

تحریر۔۔۔۔ناصررینگچن

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree