وحدت نیوز (اسلام آباد) سنٹرل سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں ''وحدت کنونشن'' کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ چیئرمین کنونشن و مرکزی سیکرٹری شعبہ روابط ملک اقرار حسین کے زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جس میں آفس مسئول علامہ محمد اصغر عسکری، سیکرٹری تعلیم نثار فیضی، مسرت کاظمی، علی شیر انصار ی، ضلع جہلم، ضلع اسلام آباد، ضلع اٹک اور ضلع راولپنڈی کے افراد نے شرکت کی۔ تمام افراد نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا تاہم اس موقع پر چیئرمین کنونشن کا کہنا تھا کہ عالم اسلام اور بالخصوص وطن عزیز پاکستان جن مسائل و مشکلات کا شکار ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہر ذی شعور انسان اپنی ملت، اپنی قوم اور مادر وطن کی نسبت اپنی قومی و ملی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے بیداری اور تدبر کا ثبوت دے۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی عالمی سیاسی صورتحال، مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی داخلی کیفیت اور عالم کفر امریکہ و اسرائیل اور ان کے آلہ کار حکمرانوں کی سازشیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ تمام سنجیدہ و دین پسند طبقات پورے ادراک کے ساتھ باطل کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے شعوری طور پہ مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔


ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اپنی تشکیل سے اب تک ملی و قومی وحدت کو اپنا جزو ایمان سمجھتی ہے اور اتحاد و وحدت کے ہدف کے حصول کے لئے عملی طور پر کوشاں ہے۔ اس وقت جب کہ پوری دنیا بلاتفریق مذہب و مسلک دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے ایک بلاک مظلومین و مستضعفین اور مدافعین کا ہے اور دوسرا بلاک جابروں، مستکبروں اور طاغوتوں کا ہے۔ پاکستان کی انتہائی اہم جغرافیائی صورتحال اور اس  وطن کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہونے کے ناطے ملت جعفریہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔

  ان حالات میں ''مجلس وحدت مسلمین پاکستان''  کا سالانہ یوم تاسیس کا پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بالخصوص اب جبکہ ہم آئندہ تین سال کے لئے نئی مرکزی قیادت کا چنائو کر رہے ہماری ملی و مکتبی ذمہ داری مزید سنگین ہوجاتی ہے۔ ہمیں اپنے ماضی اور حال کا درست جائزہ لینا ہے اور اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرنی ہے، ہمیں اپنے نکات قوت اور نکات ضعف کا درست جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لئے تیاری کرنی ہے۔ ''پیام وحدت کنونشن'' انشااللہ وسیع تر قومی و ملی اہداف کے حصول کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ اصغر عسکری نے کراچی اور حیدر آبادسمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران صحافی حضرات کو مظاہرین کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہے میڈیا کارکنوں پر اس طرح کے حملے پیشہ وارانہ صحافتی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔احتجاج ہر شخص کا بنیادی ہے لیکن اسے شر پسندی اور تشدد سے پاک ہونا چاہیے۔کسی واقعہ کی اخبار میں اشاعت یا ٹی وی پر نشر نہ ہونے کا تعلق فیلڈ میں موجود صحافیوں سے نہیں بلکہ ادارے کی پالیسی سے ہے۔اس لیے صحافیوں کو مورد الزام ٹھرانا قطعی نا انصافی ہے۔ممتاز قادری کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت ایک تاریخی واقعہ اور بڑی خبر تھی۔پیمرا کی طرف سے اس کی کوریج پر پابندی لگا کر آزادی صحافت کے منافی اقدام کیا گیا جو سراسر غلط ہے۔تاہم اس قصور کی تمام تر ذمہ داری حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے نا کہ صحافتی اداروں پر۔علامہ عسکری نے میڈیا سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہر اہم موقعہ پر میڈیا کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے سعودیہ کی قیادت میں بنے والے34 ممالک کے فوجی اتحاد اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اتحادی کی حیثیت سے شرکت پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد اسلامی ممالک میں دہشت گردی کے خاتمہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے خلاف امریکی وصیہونی مفادات اور گریٹر اسرائیل کی تکمیل ہے۔اس کے پس پردہ وہ قوتیں ہیں جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نہ صرف لاکھوں مسلمانوں آگ بارود کی بھٹی میں جھونک دیا بلکہ امت مسلمہ کو اقتصادی و معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔تاریخ شاید ہے کہ دہشت گرد چاہے طالبان کے روپ میں ہوں یا داعش کی شکل میں ان کی فکری رہنمائی اور مالی معاونت میں عرب ممالک اور امریکہ کا کردار کلیدی رہا ہے۔ہم خیال ریاستوں کا یہ فوجی اتحاد ان مسلم ممالک کے داخلی و خارجی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو گا جو طاغوتی طاقتوں کے زیر اثر نہیں ہیں۔خطہ میں سعودی عرب و اسرائیل کے درینہ دوستانہ تعلقات مسلم ممالک سے ڈھکے چھپے نہیں عالمی میڈیا میں اس اتحاد کو امریکی حکمت عملی کی طرف مثبت قرار دیا جانا ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔انسداد دہشت گردی اتحاد میں ان مسلم ممالک کو دانستہ طور پر شامل نہیں کیا گیا جو امریکی ڈکٹیشن کو خاطر میں نہیں لاتے۔فرقہ وارانہ تقسیم کی بنیادپر تشکیل کردہ اس اتحادکے نافقط عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوں رہے ہیں بلکہ داخلی طور پربھی یہ اختلاف اور انتشار کا باعث بن رہا ہے، ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے ذاتی مفادات اور کاروباری مقاصدکے حصول کی خاطربیس کروڑ عوام کی عزت اور وقارکو داؤ پر لگا دیا ہے،انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر تشکیل کردہ یہ اتحاد کسی بھی صورت موثرثابت نہیں ہوسکتا کیوں کہ عالمی سطح پر اسلام کے خوش نما چہرے پرلگے داعش،النصرہ ، القائدہ ،طالبان اور بوکوحرام جیسے بدنماداغوں کو مٹانے کیلئے عملی طورپر میدان میں حاضر ممالک شام ، لبنان، عراق ، فلسطین اور ایران کو اس اتحاد سے باہر رکھا گیا ہے جو کہ اس اتحاد کی تشکیل میں تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔

وحدت نیوز (لاہور) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بانی ڈاکٹر محمد علی نقوی کی اکیسویں برسی کی مناسب سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والے  چونتیس رکنی ممالک کے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ درست نہیں ہے، سعودی اتحاد مظلوموں کی مدد کے بجائے اسرائیل کے دفاع کیلئے بنایا گیا ہے، خلیجی ممالک کی طرف سے حماس کے بعد حزب اللہ کو دہشتگرد قرار دینا ثابت کرتا ہے کہ اس اتحاد کا مقصد فقط اسرائیلی اہداف کو تکمیل تک پہنچانا ہے، داعش کیخلاف فقط ایران، روس، عراق اور شام سمیت حزب اللہ میدان میں لڑ رہی ہے، لیکن سعودی عرب کی جانب سے انہی دہشتگردوں کو سپورٹ کیا۔ پاکستان اپنی غیرجانبداری کو قائم رکھے اور ایسے کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے جو  مسلکی بنیاد پر بنایا گیا ہو، جس کا مقصد دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو روکنے کے بجائے انہیں سپورٹ کرنا ہے۔ یہ کیسا اتحاد ہے جو اسرائیل اور اس کے مظالم پر تو خاموش  ہے لیکن اسلامی تحریکوں کیخلاف میدان عمل میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کریں۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے پنجاب میں نون لیگ کی حکومت کی جانب سے جاری بیلنس پالیسی کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیڈول فور میں بیگناہوں کو ڈالنا ثابت کرتاہے کہ مسلم لیگ ن اپنے سیاسی مخالفوں کیخلاف کارروائی انجام دینے میں کوئی چیز درمیان میں نہیں لاتی۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے آئی ایس او کے بانی ڈاکٹر محمد علی نقوی کی قومی خدمات کی بھی تعریف کی اور کہا کہ شہید نے اپنی زندگی دین کی سربلندی اور پاکستان مخالف قوتوں کیخلاف لڑتے گزاری۔ امریکہ مردہ باد کا نعرہ انہی کا دیا ہوا ہے،برسی سے امامیہ اسٹوڈ نٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر علی مہدی کا کہنا تھا کہ شہید محمد علی نقوی کی زندگی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہے، انہوں نے اپنے خون کے آخری قطرہ تک اسلام اور پاکستان کی جنگ لڑی ، نوجوان نسل کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور انہیں بیدار کرنے میں ڈاکٹر محمد نقوی نے اہم کردار ادا کیا۔ علی مہدی کا کہناتھا کہ  پاکستان کو عالمی سطح پر ایسا کردار ادا کرنا چاہیے جس سے اسلامی ممالک قریب آئیں نہ کہ دوریاں پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار امریکہ پاکستان سمیت خطے کے اسلامی ممالک کے مسائل کا ذمہ دار ہے، امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کی خاطر داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروپوں کو وجود بخشا ہے جس کے باعث اسلامی ممالک آج بھی لہو لہو ہے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے رہنما اور کونسلرحلقہ نمبر10کربلائی عباس علی نے کہا ہے کہ معاشرے کے رکن کی حثیت سے ہم سب پر کئی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ جن میں سے ایک اخوت و بھائی چارگی کا فروغ ہے۔ اتحاد ہمارے درمیان امن اور ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ اسلام امن کا دوسرا نام ہے اور اسلام کے تمام پروکار یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے تو ہمیں اسلامی اصولوں کو مد نظر ر کھ کر اتحاد کو قائم رکھنا ہوگا۔ جس سے ہمارے درمیان نہ صرف تفرقہ ختم ہوگا بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور تمام نظریاتی مسائل ختم ہو جائیں گے۔ خداوند یہی چاہتا ہے کہ اسکے تمام بندے ایک دوسرے کے ساتھ امن سے زندگی بسر کرے۔ اگر ہم اللہ کے نیک بندے ہونے کے دعویدار ہیں تو آخر کونسی بات ہے جو ہمیں اللہ کے حکم کی پاسداری سے روکھتی ہے۔ اسلامی اصولوں کی پیروی سے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

انہوں نے مذید کہا کہ ہماری جماعت اس وقت امن کی بقا ء کیلئے اتحاد بین المسلمین کو سب سے ضروری سمجھتی ہے۔ہم نے کبھی بھی رنگ و نسل یا مذہب کے بنیاد پر تقسیم بندی نہیں کی بلکہ ہر رنگ و نسل اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی مدد کی ان کی خدمت کی اور ان کیلئے جتنا ممکن تھا کام کیا۔ ہم نے ہمیشہ تمام مذاہب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے اور اتحاد بین المسلمین کیلئے کام کیا ہے. اپنے اہل سنت بھائیوں کے ساتھ کہی بار ہم ایک ساتھ رہے ہیں چاہے عید میلاد النبی کی بات آئی ہو یا کہ ان کے ساتھ ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کی ہم ہمیشہ ان کے ساتھ اتحاد میں پیش پیش رہے ہیں۔ہمارے مرکزی قائدین نے قومی سطح پر اہل سنت سے وابسطہ لوگوں کا ساتھ بھی دیا ہے اور ہماری جماعت انکے حمایت یافتہ بھی ہے جو کہ ہماری امن پسندی کی دلیل ہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ شر پسند عناصر کو پہچانے اور ان کے باتوں سے کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے اہل سنت بھائیوں سے بھی اچھا رویہ رکھے اور اتحاد بین المسلمین قائم کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒکی اکیسویں برسی کے موقع پر وحدت سوشل میڈیا ٹیم کو جاری ویڈیوپیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں عدالت خواہی کے عظیم علمبردار شہید قائد حسینی ؒ اور ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی تھے،جتنے بھی انبیاءآئے ان کی تحریک عدل خواہی کی تحریک تھی کہ لوگوں کو بیدار کریں باشعور کریں تاکہ انسان عدل کے نفاذکے لئے اُٹھیں،انبیا ءکی تحریک کو  دو لفظوں میں اگر خلاصہ کیا جائے تو یہ کہیں گئے کہ انبیا کی جدوجہد عدالت خواہی ، عدل کے نفاذ کے لئے تھی اور ظلم مٹانے کے لئے تھی ،یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا،انبیا کے ساتھ اولیا ءاللہ اس رستے پر چلتے رہے آئمہ اہل بیت ؑ نے اسی رستے کو اپنایااور اس جدوجہد میں کربلا ایک اہم موڑ ہے کربلا ایک اہم مرحلہ ہے عدالت خواہی کی تحریک کا ظلم ستیزی کا ظلم سے ٹکرانے کی تحریک کا !

ان کا کہنا تھا کہ شہید ڈاکٹر نقویؒ اور قائد شہید ؒاس سرزمین پرعظیم رہنما تھے،شہیدڈاکٹر نقویؒ،انبیاءکی عدالت خواہی اور ظلم ستیزی کی تحریک کے روحِ رواں تھے،انبیاء، آئمہ اور اولیاءکی تحریک عدل خواہی کو آگے بڑھانے کیلئے یہ دونوں شخصیات نمونہ عمل ہیں اور دونوں نے اس راستے میں قربانی دی شہید ہوئے،ڈاکٹر شہید میڈیکل کالج میں پڑھتے رہے تھے تو اس کے ساتھ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں تھے ،جب انقلاب اسلامی نہیں آیا تھا ۔جب دنیا اس طرح کے افکار سے زیادہ آشنا نہ تھی انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر اس تحریک کو شروع کیا لوگوں کو منظم کیا ان کی تربیت کرنا شروع کی۔،ڈاکٹر نقوی ،عدالت خواہی اور ظلم ستیزی کی تحریک کا شجرہ طیبہ تھے ، جس کے پھل آج تک ہم دیکھ رہے ہیں،آج پاکستان میں اور دنیا بھر میں جہاں چلے جائیں آپ کو ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی رح کے تربیت شدہ لوگ ملیں گے ، ہمیں شہید ڈاکٹر کے مشن کی تکمیل کے لئے خود کو آمادہ وتیار کرنا ہوگا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree