وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء، سابق صوبائی وزیر آغا رضا نے کہا ہے کہ مخلوط صوبائی حکومت میں شامل ایک جماعت نے سابق دور حکومت کے اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس کو نالیوں اور ٹف ٹائلز کی نظر کر دیا، عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اور نہ ہی کسی کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت دینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا گذشتہ دو دہائیوں سے ہمارا قتل عام کرکے ہمارا اقتصادی، معاشی، تعلیمی اور کاروباری لحاظ سے استحصال کیا گیا۔ طلبہ پر ہونے والے حملوں سے انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا، مظالم کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں عوام نے جب ہمیں نمائندگی کا موقع دیا تو ہر فورم پر ہم نے ان کی نمائندگی کا حق ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں ہم نے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے لئے اڑھائی ارب روپے کے تین بڑے منصوبے شروع کرائے، جن میں 96 کروڑ روپے کی لاگت سے بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کا قیام، 60 کروڑ کی لاگت سے ہاؤسنگ اسکیم اور 30 کروڑ کی لاگت سے مغربی بائی پاس پر بس اڈہ اور مارکیٹ گیراج کی تعمیرات شامل تھیں، تاکہ دیگر صوبوں سے آنیوالے زائرین وہاں قیام کرسکیں، تاہم مخلوط حکومت میں شامل مسلط کردہ فاشسٹ ٹولےنے گذشتہ حکومت اور کابینہ سے منظور ہونے والے ان منصوبوں کو ندی نالیوں اور ٹف ٹائلز کی نظر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جماعت نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ عوام پر مسلط کی گئی ہے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) گذشتہ چار دھائیوں سے امریکہ اور غرب اس خطے میں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پٹرول گیس اور دیگر وسائل کو لوٹنے کے لئے انھوں نے مختلف ممالک کے نظاموں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا. انکے ظلم وستم کا مقابلہ کرنے کے لئے مقاومت کا بلاک ابھر کر سامنے آیا. انھوں نے خباثت سے مذھبی رنگ دیکر جہان اسلام کو سنی اور شیعہ میں تقسیم کرنے پر کام کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہمارے مخالف تو بس شیعہ مسلمان ہیں. اور سنی مسلمان ہمارے اتحادی ہیں. حالینکہ سب سے زیادہ نقصان ان ممالک کے عوام کا ہوا جہاں پر اکثریت اھل سنت مسلمانوں کی ہے. اور امریکہ وغرب کی ان مسلط کردہ جنگوں میں اگر کوئی اعداد وشمار پر نظر کرے تو سب سے زیادہ قتل ہونے والے بھی اھل سنت مسلمان ہی ہیں. اس وقت جب مقاومت کی حکمت عملی و استقامت اور جوابی کارروائیوں سے اس خطے میں امریکہ شکست سے دوچار ہے. اور دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

 امریکہ اور غرب نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودیہ وامارات کو لیبیا ، الجزائر ، تیونس ، مصر ، لبنان وسوریہ ، فلسطین وعراق اور یمن وبحرین سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اس قدر استعمال کر لیا ہے کہ اب سعودیہ کا چہرہ پورے جہان اسلام میں امریکی اشاروں پر ناچنے اور خطے کے ان مذکورہ ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت کرنے اور انکے امن امان کو تباہ برباد کرنے ، آباد وشاد ممالک کو ویران کرنے کے لئے دہشگردی کی کھلی مدد کرنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکا ہے. اقوام عالم میں آل سعود کے خلاف بہت نفرتیں جنم لے چکی ہے. وہ اب اس قابل نہیں رہے کہ کوئی مسلمان انہیں اپنا پیشوا وراھنما قبول کر سکے. اب انکےطاقتدار کے زوال کا وقت آن پہنچا ہے اور انکی قیادت کا خاتمہ ہونے والا ہے . اقبال نے تو بہت عرصہ پہلے جہان اسلام کی نجات کا فارمولہ بتا دیا تھا اور کہا تھا کہ

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

مقاومت کا بلاک ہر گز فقط شیعہ بلاک نہیں بلکہ اس میں عراق ولبنان وشام وفلسطین ویمن کے اھل سنت صوفی ، مسیحی ، درزی ، ایزدی ، عاشوری ، علوی ، زیدی واسماعیلی. نیشنلسٹ وکیمونسٹ ولیبرل وغیرہ سب شامل ہیں . اور امریکہ واسرائیل کی استعماری پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور انکی غلامی کی بجائے انکے خلاف قیام اور ہر وسیلہ سے مقاومت کرنے کے موقف پر متحد ہیں۔

لیکن شاید امریکہ اور اسرائیل کی پیدا کردہ نفرتوں کا شکار مسلمان ابھی تک اس حقیقت کو درک کرنے کے قابل نہیں. اس لئے اب امریکہ کو شکست دینے والے مقاومت کے بلاک کے محور مرکز سے ھٹ کر سنی سیاسی اسلام کے دعویدار اخوان المسلمین جہان اسلام کو قیادت کا جدید نظام فراھم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. جبکہ سعودی عرب اب بھی اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے ھاتھ پاوں مار رھا ہے. انہیں ایرانی مسلمان بھائی کلمہ شھادت پڑھنے والا اسلام دشمن اور اسرائیلی وصہیونی ویہودی اسلام کا کا ھمدرد اور دوست نظر آتا ہے اس لئے ایران سے تعلقات منقطع کرتے ہیں اور امریکا وغاصب اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر فخر کرتے ہیں۔

تاریخ عصر حاضر کے تناظر میں عالمی سنی قیادت

– پہلی عالمی جنگ سے پہلے جہان تسنن کی زعامت وقیادت ترکی کے پاس خلافت عثمانیہ کی شکل میں تھی۔
– اس کے کے بعد تدریجا سعودیہ کو یہ قیادت تفویض کی گئی. اور پورے سنی جہان اسلام کا سرپرست اور قائد وراھبر ال سعود کو بنایا گیا۔
– جب اردغان کو طاقتور کیا گیا تو اسے پھر خلافت عثمانیہ کے احیاء کا خواب دکھایا گیا. اور اس نے سنی اسلام سیاسی ( اخوان المسلمین ) کو جذب کیا۔
– جب مصر میں محمد موسی کے اقتدار میں آنے کے بعد مصر نے خلافت وقیادت سنی اسلام کی انگڑائی لی. سعودیہ نے جنرل سیسی کے ذریعے اس کا تختہ الٹ دیا۔
– قطر کے اخوانی رجحانات نے اسے سعودیہ کا دشمن بنایا۔
– مہاتیر محمد نے اپنے پہلے دور اقتدار میں اسرائيل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور حماس کی حمایت کی . تو ملائشیا میں سعودی نواز حکومت لائی گئی۔

– نون پریس کی رپورٹ کے مطابق کوالمپور میں ہونے والی کانفرنس اپنی نوعیت کی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس ہے۔
– 2014 کو مہاتیر محمد نے اقتدار میں آنے سے پہلے اسلامی مفکرین کی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ” اسلام کا سیاسی وفکری نظام ” بلائی۔
– دوسری بین الاقوامی کانفرنس بھی کوالمپور میں بعنوان ” ترقی واستحکام کے لئے حریت ودیموکریسی کا کردار ” منعقد کی کئی۔
– تیسری بین الاقوامی کانفرنس اخوان کے نفوذ کے ملک سوڈان میں بعنوان ” الحکم الرشید ” یعنی حکومت راشدہ منعقد ہوئی۔
– چوتھی بین الاقوامی کانفرنس استنبول میں ” الانتقال الدیمقراطی ” منقعقد ہوئی۔
– ابھی 18 سے 21 دسمبر 2019 کو پانچویں کانفرنس بعنوان “قومی استقلالیت کے حصول میں تعمیر وترقی کا کردار ” اور امت اسلامیہ کو درپیش مسائل پر بحث کرنے کے لئے منعقد ہو رہی ہے جس میں پانچ ممالک ملائشیا ، ترکی ، پاکستان ، قطر اور انڈونیشیا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے البتہ شرکت کے لئے 50 کے قریب اسلامی ممالک کہ جن میں ایران بھی ہے ان کو دعوت دی گئی ہے. اس کے علاوہ جہان اسلام کے 450 مفکرین کو بھی ان مسائل پر بحث کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے. کانفرنس کے انعقاد کے بعد سب کچھ سامنے آ جائے گا کہ یہ مفکر کیا فقط اھل سنت ہیں یا کسی شیعہ مفکر کو بھی دعوت ہے. یا پھر اھل سنت میں سے بھی فقط اخوان المسلمین عالمی کے مفکرین اور انکے طرفدار ہی مدعو ہیں یا دیگر اھل سنت مفکرین بھی شریک ہو رہے ہیں۔

– ملائشیاء کے وزیر اعظم مھاتیر محمد نے اپنے بیان میں جن زیر بحث آنے والے اہم مسائل کا تذکرہ کیا وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

مسلمانوں کی مجبورا ھجرت ، اقتصادی مسائل ، قومی وفرھنگی شناخت ، اسلام فوبیا ، مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرتیں ، انٹرنیٹ وٹیکنالوجی، ترقی واستقلال ، صلح امن اور دفاع ، استقامت اور حکومت راشدہ ، عدالت وآزادی وغیرہ شامل ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور ملیشیاء کے ساتھ ملکر امت کو درپیش مسائل کہ جن میں فلسطین اور روھینگیا کے مسلمانوں کے مسائل ہیں اس سلسلے میں تعاون کو بہتر بنائیں گے. اور ان مشکلات کا حل تلاش کریں گے۔

ترکی کے صدر کے مشیر یاسین اقطای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ سعودی عرب ،امارات ،اور مصر وغیرہ طاقتور ملک میانمار ، کشمیر ، فلسطین ، ترکستان ، سوریہ کے مسلمانوں کی مشکلات کا حل نکال سکتے ہیں جبکہ یہی وہ ممالک ہیں جو یمن ، لیبیا اور مصر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور جو کچھ ان پر گزر رہا ہے یہی ان مسائل کا موجب و منبع ہیں۔

ملائشیاء کانفرنس اور قضیہ فلسطین

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں مسئلہ فلسطین کو اولویت دی جائے گی. امریکی سفارتخانے کے قدس شريف میں منتقل ہونے اور اسے مقدس شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی امریکی تائید کے بعد جب دنیا بھر میں اس عمل کی مذمت کی گئی. تو اسی دوران اقوام متحدہ میں عربی واسلامی ممالک کی نمائندگی میں ترکی کے صدر نے قرار داد پیش کی اور موقف اختیار کیا کہ فلسطین کے مسئلہ کے حل کے لئے اسرائیل اور فلسطینوں کے مابین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں بلاواسطہ مذاکرات ہونے چاہئیں. جسے 128 اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا.
فلسطین کے وزیراعظم اسماعیل ھنیئۃ کی شرکت بھی متوقع ہے. امریکہ واسرائیل اب فلسطین کے مسئلے پر حماس سے معاملات پر راضی ہیں. بشرطیکہ اس کا عسکری ونگ کنٹرول ہو جائے. جیسے پہلے یاسر عرفات اور محمود عباس سے معاملات چلتے رہے اور حماس وجہاد اسلامی اور مقاومت کے باقی گروہ دشمن رہے. اب یوں نظر آ رھا ہے کہ حماس محمود عباس کی جگہ لینے والی ہے اور یہی معاملات کرے گی. اور پوری دنیا کے اخوان المسلمین بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے ترکی اور قطر کے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب ، بحرین، اردن ومصر کے تعلقات قائم ہیں. حماس اسرائیل مذاکرات کی کامیابی کے اعلان کے بعد ملائشیا وپاکستان ودیگر اسلامی ممالک کے راستے ہموار ہو جائیں گے. فقط مقاومت کا بلاک کہ جس میں ایران ، عراق ، شام ، لبنان اور یمن و فلسطینی مقاومتی گروہ ہیں وہ غاصب صہیونی حکومت کے مد مقابل رہ جائیں گے۔

قطری اقتصادی تعاون اور مالی امداد کا منصوبہ

قطر گیس کے ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے. اور اسرائیلی قطری تعلقات اور الجزیرہ کی شکل میں میڈیا کے شعبے میں تعاون بھی سب جانتے ہیں. قطر نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ ملکر اقتصادی تعاون اور اسلامی ممالک کی ترقی کے لئے مالی امداد کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے. جس کے لئے تین مراکز بنائے جا رہے ہیں. مشرق وسطیٰ کے لئے مالی امداد وتعاون کا مرکز دوحہ میں اور یورپ کے لئے ترکی میں اور ایشیا کے باقی ممالک کے لئے کوالمپور میں مرکز بنایا جائے گا. اس پر دوحہ ، استنبول اور کوالمپور حکومتوں کے مابین معاملات طے پا چکے ہیں. اور تینوں مراکز کے لئے 3 ٹریلین ڈالرز کی امداد کا بجٹ بھی طے پا چکا ہے۔

تحریر: علامہ ڈاکٹر سید شفقت شیرازی

وحدت نیوز(کراچی) خیرالعمل ویلفیئراینڈ ڈویولپمنٹ ٹرسٹ کراچی ڈویژن کے سیکریٹری سید زین رضا رضوی نے میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہاکہ مجلس وحدت مسلمین کا فلاحی شعبے خیر العمل ویلفیئراینڈ ڈویولپمنٹ ٹرسٹ کی جانب سےشہر کے تمام اضلاع میں موسم سرما میں سردیوں سے بچنے کے لئےضرورت مند افراد کے لئے جامع و مرکزی مساجد کے باہر کیمپ لگائے جائیں گے۔جہاں مخیر افراد نئے اور استعمال شدہ احسن حالت میں گرم ملبوسات جمع کرواسکتے ہیں ، زین رضوی نے کہاکہ یہ گرم کپڑے و کمبل شہر کے مختلف علاقوں میںموجود ضرورت مندوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما و رکن شوری عالی عارف حسین قنبری نے کہا ہے کہ جی بی میں کرپشن حد سے بڑھ گئی ہے اور اینٹی کرپشن کا ادارہ نیب کی کل کارکردگی سیمینارز کے انعقاد اور میسجز تک محدود ہے۔ اپنے ایک بیان میں عارف قنبری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرپٹ آفیسروں کیخلاف کاروائی کی بجائے نیب ان کے ساتھ فوٹو سیشن کر رہا ہے۔ میسجز، سیمینارز کے انعقاد اور ریلیاں نکالنے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کرپشن کا قلع قمع از حد ضروری ہے جس کے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔

 انہوں نے کہا کہ جی بی میں ایک عرصے سے حکومتی سطح پر کرپٹ پریکٹس بڑے زور و شور سے جاری ہے اور نیب نے پراسرار خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ نیب نے نہ صرف خاموشی اختیار کی ہے بلکہ کرپٹ آفیسروں کے ساتھ فوٹو سیشن کرتی رہتی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ نیب اور کرپٹ آفیسرز کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے سرکاری ملازمتیں فروخت ہو رہی ہے، ٹھیکوں کی کھلے عام بولیاں لگائی جارہی ہیں اور من پسند افراد کو ملازمتوں میں کھپایا جا رہا ہے اور اپنے پیاروں کو ٹھیکے نیلام کئے جا رہے ہیں اور نیب لاچار و بےبس تماشائی بنا ہوا ہے، جو لوگ کل تک ایک ایک پائی کے محتاج تھے وہ آج کروڑوں کے مالک بن گئے ہیں، دولت کی اس غیر منصفانہ تقسیم سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت جی بی میں ایسے مخلص اور دباؤ کو قبول نہ کرنیوالے افراد کو تعینات کرے تاکہ کرپشن کیخلاف پی ٹی آئی حکومت کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، سلیم عباس صدیقی اور صوبائی ترجمان ثقلین نقوی نے سانحہ لاہور کے بعد وکلا کی ہڑتال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل قاتل وکلا کا ساتھ دینے کی بجائے قوم سے معافی مانگے، گذشتہ روز لاہور میں جس وکلا احتجاج کے نام پر جس دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا اس پر پوری قوم کے سرشرمندگی سے جھکے ہوئے ہیں، پوری قوم افسردہ ہے مگر وکلا پوری ڈھٹائی کے ساتھ قاتلوں کے حق میں ہڑتال کررہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات قوم کے نمکوں پر زخم چھرکنے کے مترادف ہے، چند شرپسندوں نے ہسپتال میں گھس کر جس طرح مریضوں کی جانیں لیں اس سے کالے کوٹ کا تقدس بری طرح پامال ہوا ہے۔ قانون کے رکھوالوں سے قوم کو یہ امید ہرگز نہیں تھی۔ وکلاء تنظیمات کو پوری قوم کے ساتھ ہم آواز ہوکر ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے اور ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کر دینا چاہیے۔ رہنماوں نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندوں کو وکیل کہنا مقدس پیشے کی توہین ہے۔ لاہور واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے، اس پر وکلا نمائندگان کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور قاتل وکلا کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

وحدت نیوز(ملتان) مرکزی کوآرڈینیٹرتنظیم سازی کونسل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آصف رضاایڈوکیٹ اور صوبائی سیکرٹری تنظیم سازی جنوبی پنجاب علی رضا زیدی کا ضلع ملتان کا دورہ ،ضلعی کا بینہ کے ممبران سے ملاقات، تنظیمی صورت حال کا جائزہ لیااور تنظیمی سازی کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات میںآئندہ ماہانہ دورجات اور یونٹس کے وزٹ پر اتفاق کیا گیا۔آئندہ ماہانہ سطح پر مرکزی شخصیت کےملتان کے باقائدہ دورہ جات کالائحہ عمل تیارکیا گیا۔آصف رضا ایڈوکیٹ ضلعی سیکریٹری جنرل کو آئندہ ایک ماہ کے اندر تنظیم سازی تیز کرنے کی ہدایت دی اور اعلان کیا کہ اگلے ماہ جنوری 2020 مرکزی ترجمان مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ مقصود ڈمکی ملتان کا دورہ کریں گے۔

Page 5 of 200

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree