وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات جائز ہیں، حکومت فوری طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم کرے اور احتجاج ختم کروائے، پیرامیڈیکل سٹاف کے احتجاج سے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں، احتجاج کے دوران کسی قیمتی جان کا ضیاع ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ اپنے ایک بیان میں الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے اپنے جائز حقوق کیلئے جاری احتجاج پر حکومت کی بے حسی افسوس ناک ہے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے جائز حقوق کو پس پشت ڈالنا انتہائی زیادتی ہے۔

حکومت اپنی عیاشیوں پر تو کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن قوم کے خدمت گاروں کو کھڈے لائن لگانا سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے پورے گلگت بلتستان کا پیرامیڈیکل اسٹاف احتجاج پر ہے اور کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ابھی تک اس احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا، جو کہ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات کو سنیں اور ان کے حل کیلئے راست اقدامات کرکے پیرامیڈیکل سٹاف کی بے چینی کو دور کیا جائے۔

وحدت نیوز(گلگت) گلگت بلتستان کے مختلف محکموں میں تقرریوں کے حوالے سے آئے دن بے ضابطگیوں اور سیاسی اثر رسوخ کی خبریں زبان زد عام ہیں۔چیف سیکرٹری گلگت بلتستان مستحق افراد کا استحصال روکنے کیلئے اپنے زیر سایہ اچھی شہرت کے حامل آفیسران پر مشتمل ریکروٹمنٹ کمیٹی تشکیل دیں۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کسی طور پر بھی سابقہ حکومت سے پیچھے نہیں۔کرپشن اور اقربا پروری اپنے عروج پر ہے جبکہ حکومت زبانی طور پر میرٹ کی رٹ لگائے ہوئے ہے اور عملی طور پر اندرون خانہ ملازمتوں کی بندربانٹ جاری ہے۔ای پی آئی اور سولڈ ویسٹ منیجمنٹ میں ملازمتوں کی بندربانٹ کی گئی ہے اور تقرریوں کیلئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے باقاعدہ لسٹیں مہیا کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں میرٹ کا جو جنازہ نکالا گیا اس کی کوئی مثال موجود نہیں جبکہ باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت سی ٹی ایس پی نامی ادارے کو لایا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ کا ایک قریبی عزیز گلگت بلتستان میں اس ادارے کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے اور اس ادارے کے متعلق سخت تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے وفاقی سطح پر وزیر اعظم اور وزیر امور کشمیر سے ان بے ضابطگیوں کے متعلق ملاقات میں باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے۔انہوں نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے بھی ملاقات میں اپنے تحفظات کے ساتھ ثبوت بھی پیش کرینگے۔

وحدت نیوز(گلگت) پاکستان پیپلز پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق کیلئے مخلص ہوتی تو اپنی تین باریوں میں مسئلہ حل کرچکے ہوتی۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی راہ میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہی سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں کانفرنسز کرنے سے قبل اپنے مرکزی رہنماؤں اعتزاز احسن اور رضا ربانی کو قائل کروائیں۔جب یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں تو گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل سے صرف نظر کرتے ہیں اور جب اقتدار چھن جاتا ہے تو ان کو گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق یاد آنے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ چاہے تو اب بھی اسمبلی میں قرارداد پیش کرکے گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دلواسکتے ہیں اور اس وقت گلگت بلتستان کے پارٹی رہنماؤں کا بیانیہ کچھ اور ہوتا ہے اور مرکزی رہنماؤں کا کچھ اور۔پیپلز پارٹی کی گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کھسیانی بلی کھمبہ نوچے کے مصداق ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے اس کانفرنس کو آل پارٹیز کانفرنس کا نام دینا ہے ایک دھوکہ ہے جبکہ گلگت بلتستان میں موجود اکثریتی سیاسی جماعتوں نے اس کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے شرکت سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان جماعتوں کا اپنا قبلہ درست نہیں اور ہرمرتبہ یہ ایک نئے نعرے کے ساتھ عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام اب بیدار ہوچکے ہیں جو اب کھوکھلے نعروں کو ہرگز قبول نہیں کرینگے۔

وحدت نیوز (گلگت) گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے متعلق کشمیری سیاستدانوں کی غیر ضروری مداخلت سے علاقے میں کشمیر کیلئے نفرت کا ماحول بن رہا ہے۔سٹیٹ سبجیکٹ رولز کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان کی حیثیت سٹیٹ جیسی نہیں رہی ہے ۔گلگت بلتستان کو مزید بے آئین حالت میں نہیں رکھا جاسکتا۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ کشمیر ی رہنما محض بدنیتی کی بنیاد پر گلگت بلتستان کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور اکہتر سالوں سے 28 ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے علاقے کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام کا آئینی حقوق کے حوالے سے ایک ہی بیانیہ ہے جبکہ چند لوگ جن کی تعداد انگلیوں میں گنی جاسکتی ہے وہ آئینی حقوق کی مخالفت میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ آئینی گلگت بلتستان میں نہیں رہنا چاہتے وہ بے شک کشمیر چلے جائیں۔گلگت بلتستان کا نمائندہ فورم قانون ساز اسمبلی ہے جس نے دو مرتبہ متفقہ طور پر آئینی حقوق کے حوالے سے قرارداد پاس کی ہے جبکہ سول سوسائٹی اور بار کونسلز کے کئی مرتبہ آل پارٹیز کانفرنسز کا متفقہ اعلامیہ بھی آئینی گلگت بلتستان کے حوالے سے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو مایوس کیا ہے اور موجودہ تحریک انصاف کی حکومت اور سپریم کورٹ سے عوام نے امیدیں وابستہ کی ہوئیں ہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

وحدت نیوز(گلگت) کراچی اور ہنگو میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے ایک ہی مائنڈ سیٹ کے پیروکار ہیں۔کراچی اور ہنگو میں بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔حکومت ملک دشمن عناصر کیخلاف عملی اقدامات کرے اور دہشت گردوں کو نشان عبرت بنائے۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کراچی اور ہنگو کے ناخوشگوار واقعات پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کیخلاف کاروائی سے گھبراہٹ کا شکار ہے ۔پچھلی حکومتوں میں بھی دہشت گردوں کیخلاف کاروائی کی بجائے نرم رویہ اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستان لقمہ اجل بن گئے اور اب موجودہ حکومت بھی اپنے پیشرو حکومتوں کے نقش قدم پر چل نکلی ہے۔دہشت گرد کھلے عام دندناتے پھررہے ہیں جبکہ شریف اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کو تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک کیلئے ناسور بن چکا ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک فعال ہے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ بین ہے۔جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو سیکورٹی ادارے حرکت میں آتے ہیں اور پکڑ دھکڑ شروع کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے ایک مائنڈ سیٹ ہے جس کی بیخ کنی کی ضرورت ہے جب تک اس مائنڈ سیٹ کو ختم نہ کیا جائے دہشت گردی یوں ہی جاری رہے گی۔ہمارا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کو مالی واخلاقی سپورٹ کرنے والوں کے خلاف اقدام کیا جائے جبکہ حکومت نے انہیں کھلی آزادی دے رکھی ہے اور اسلام آباد میں کالعدم جماعتوں اور دہشت گردی کے حامیوں کو کھلے عام جلسے جلوسوں کی اجازت دیکر حکومت نے اپنے چہرے سے خود ہی نقاب الٹ دیا ہے۔

وحدت نیوز(گلگت) ملت تشیع کے باکردار افراد کو جبری گمشدگیوں کے ذریعے مرعوب کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا حکومت کی بیلنس پالیسی سے مسائل پیچیدہ ہورہے ہیں۔ملکی سالمیت کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی تنظیموں کے باکردار افراد سید رضوان کاظمی اور سید رضی العباس شمسی کی جبری گمشدگی قابل مذمت ہے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے سابق چیئرمین سید رضی العباس شمسی اور آئی ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر برادر رضوان کاظمی کی جبری گمشدگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی بیلنس پالیسی کا شاخسانہ ہے۔امامیہ آرگنائزیشن اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملت تشیع کی پرامن اور فلاحی امورپر کام کرنے والی تنظیمیں ہیں جن کا دامن دہشت گردی سے پاک و صاف ہے اور ایسے فلاحی اور کردار سازی کے ذریعے ملکی استحکام کیلئے بے لوث خدمات سرانجام دینے والے والوں کے خلاف کاروائیاں انتہائی ظلم ہے جبکہ ریاستی اداروں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کے خلاف نہ صرف کوئی کاروائی نہیں ہورہی بلکہ ان کے مطالبات بھی مانے جاتے ہیں اور اسلام آباد کے مرکز میں انتہا پسند و کالعدم جماعتوں کو جلسے جلوسوں کی اجازت دی جارہی ہے جن کے جلسے جلوسوں میں کھلے عام فرقہ واریت کو ہوادی جارہی ہے اور دوسری جانب اتحاد بین المسلمین کیلئے کام کرنے والوں کے خلاف معاندانہ کاروائیاں خلاف قانون و خلاف عقل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اگر حکومت کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو عدالتوں میں پیش کرے۔

Page 1 of 26

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree