وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری روابط عارف قنبری کو گلگت بلتستان پولیس نے یمنی مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے جرم میں گرفتار کرلیا ہے، گذشتہ روزعارف قبنری کو کڑے پہرے میں پولیس نے انسداددہشت گردی عدالت میں پیش کیا، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے وقت وکٹری کا نشان بناکر اپنے عزم وحوصلے کی بلندی کا واضح ثبوت دیا، یاد رہے کہ انہیں یمن کے مظلوم عوام کی حمایت میں سعودی جارحیت کی مذمت کرنے پر گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی نگران حکومت جو براہ راست یہودی ریاست کے نمک خوار ہیں کی جانب سے انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا ہے۔
وحدت نیوز (اسلام آباد) گلگت بلتستان ٹرانسپورٹرزایسوسی ایشن کے وفد کی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی،مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر شیرازی سے ملاقات اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوُں علامہ اعجاز بہشتی،سید اخلاق الحسن بخاری،مظاہر شگری،عبداللہ مطہری و دیگر بھی شریک تھے، ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں محمد حسن،اختر حسین،سید زوالفقار شاہ،سید محمد قذافی اور محمد تقی شامل تھے،وفد نے کے پی کے گورنمنٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماوُں کی بلا جواز گرفتاری اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ،وفد سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ عوام کی جان مال کے تحفظ کا ذمہ دار حکومت ہے ،حکمران ٹرانسپورٹرز کو حراساں کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں گلگت بلتستان کے مسافروں کے مشکلات حل نہ ہوئے تو احتجاج پر مجبور ہونگے،مرکزی سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت مسلمین پاکستان سید ناصر شیرازی نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو فون کرکے کے پی کے گورنمنٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات کے حل کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ آج کمشنرہزارہ ڈویژن محمد خان ٹرانسپورٹرز کی وفد سے ملاقات کریں گے اور گرفتار رہنماوُں کی فوری رہائی اور ٹرانسپورٹروں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کریں گے ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے مجلس وحدت مسلمین کا اس مشکل موقع پر ساتھ دینے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مسائل کے حل میں عوام کی نظریں ایم ڈبلیوایم پر ہے اور مجلس وحدت مسلمین نے عوامی جماعت ہونے کا ثبوت دے کر گلگت بلتستان کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔
وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویڑن کے سیکریٹری جنرل آغا سید علی رضوی نے ڈویژنل سیکرٹریٹ میں یمن کی تشویشناک صورتحال پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے یمن پر فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور چونکہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہا اس لیے پاکستان کو ہرگز یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ سعودی عرب نے ماضی میں بھی اس روش پر عمل کی ہے اور مصری حکومت کے خاتمہ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا، سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ کے ساتھ مل کر شام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، پاکستان، عراق، افغانستان، یمن سمیت دیگراسلامی ممالک کے نامساعد حالات کے ذمہ دار سعودی عرب ہے انہوں نے وطن عزیز پاکستان کو فرقہ واریت اور دہشتگردی میں دھکیل کے رکھ دیا ہے۔اس موقع پر ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مظاہر علی موسوی، سیکریٹری فلاح وبہبود علامہ احمد علی نوری ، فدا حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔
آغا علی رضوی نے مزید کہا کہ دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے یمن میں تحریک انصاراللہ کے خلاف لڑائی میں اتحاد کا حصہ بننے کے لئے پاکستان سے رابطہ کیا ہے، اس سلسلے میں ہم پاکستانی حکمرانوں کو باور کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگوں میں ملوث نہیں ہونی چاہئے، اس سے نہ فقط پاکستان کا امیج خراب ہوگا، بلکہ داخلی طور پر دہشتگردی کا شکار ملک کو مزید مشکلات آئے گی۔پاکستان مقروض اور مجبور ملک ہے ،ہماری خارجہ پالیسی ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتی، پاکستانی فوج صرف پاکستان کے دفاع کے لئے ہے، اگر پاکستانی فوج یمن میں گراؤنڈ آپریشنز میں حصہ لیتا ہے تو پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ تناو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے ، یہ اسلام کا لشکر ہے اور اس وقت پا کستانی فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ جو کی ملکی سا لمیت اوراستحکام کی حفاظت کی جنگ ہے۔ لہٰذا نواز شریف اپنے ذاتی احسانا ت کا بدلہ چکانے کی خاطر ملکی سلامتی کو داو پر نہ لگائے۔انہوں نے حکمرانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا رویہ بدلیں ورنہ ہم اپنی قیاد ت کے حکم کے منتظر ہیں اور اگر ہماری قیادت اجازت دے تو ہم ملک گیر احتجاج کریں گے اور ان حکمرانوں کی نیندیں حرام کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یمن کے اندر سعودی عرب کی جارحیت انسانی حقوق ،عالمی قوانین اور پڑوسی ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے،سعودی عرب اسرائیل کے ایماء پر پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے،پاکستان کے غیرت مند اور شجاع افواج رینٹ این آرمی نہیں جو کوئی بھی پیسوں کے بل بوتے پر خرید سکے۔
آغاعلی رضوی نے مشرق وسطیٰ کے ممالک خصوصاً خلیجی تعاون کونسل کو خبردار کیا کہ عمان کی پیروی کرتے ہوئے سعودی عرب کے اس ظالمانہ کاروائی میں شریک نہ رہے اورانکے ساتھ عسکری و سیاسی تعاون بند کرے۔کیونکہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے شدید خوفزدہ ہے۔ یمن میں امریکی سفارتخانے کا بند کیا جانا اور اس سے اہم یہ کہ وہاں موجود تمام اسناد و مدارک کو جلا دیا جانا اور حتی امریکیوں کے زیر استعمال اسلحہ کو بھی نابود کر دیا جانا، امریکہ کے شدید خوف کی نشاندہی کرتا ہے۔ صنعا میں امریکہ کے اہم انٹیلی جنس مراکز کی بندش ایک طرح سے یمن کے سیاسی حالات پر امریکی گرفت کے کمزور ہونے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے سلسلے میں امریکہ کی مایوسی کو ثابت کرتی ہے۔لہذا امریکہ یمن میں بلاواسطہ فوجی مداخلت سے اظہار عجز کرنے کے بعد یمنی عوام کے خلاف بالواسطہ سکیورٹی اور فوجی مداخلت پر مبنی اقدامات انجام دے رہاہے۔سعودی سلفی افواج کا یمن پر حملہ دراصل یمنی عوام کے ارادے اور آزادی پر حملہ ہے ،جب کہ یمنی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں اور خالصتا عوامی تحریک انصاراللہ اور یمنی افواج کا سعودی و اسرائیلی پٹھو ہادی عبد الرب منصور کے خلاف حریت پسند تحریک چلانا عوامی حق خود ارادیت ہے اور اس کو دبانے کے لئے سعودی عرب نے یمنی عوام کو ٹارگٹ کیا ہے اور کل رات یمنی علاقوں میں جو شب خون مارا گیا اس سے سعودی سفاکیت کا واضح چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو چاہیے کہ وہ سعودی اور عرب ممالک کی اس بے جا مداخلت اور شب خون مارنے کے خلاف کاروائی کریں کیونکہ یہ یمن کے تشخص پر حملہ ہے، ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی اس بڑھتی ہوئی جارحیت کو لگام دے اور یمنی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا بہتر فیصلہ کر سکیں۔انہوں کا مزید کہا کہ حکومت پاکستان ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو برولے کار لائیں اور دوسروں کی جنگ میں شرکت ہو کر ملکی سلامتی اور داخلی وحدت کو درو پر نہ لگائیں۔
وحدت نیوز (گلگت) دنیا کی کوئی طاقت یمنی انقلاب کا راستہ روکنے کی ہمت نہیں رکھتی۔نواز حکومت یمن کے خلاف امریکی سعودی اتحاد میں شامل ہوکر بے نقاب ہوچکی ہے۔ یمن کے عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک میں جو چاہے اصلاحات لائیں اور اپنے حکمرانوں کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں یہ یمن کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ مسلم لیگ نواز نے خود کو عرب تکفیری اتحاد میں شامل کرکے ثابت کردیا کہ ان کے عزائم کیا ہیں۔ ملک کے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کو اعتماد میں لئے بغیر اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگادیا ہے جو کہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شیخ نیئر عباس مصطفوی اور ڈویژنل سیکرٹری جنرل علامہ محمد بلال سمائری نے وحدت ہاؤس میں ڈویژنل اور صوبائی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے میں انہی تکفیری قوتوں کا عمل دخل رہا ہے ،پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دینے میں انہی عرب ممالک کا ہاتھ ہے جو آج یمن کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے اقتدار تک پہنچنے کیلئے انتہا پسندوں کے سرغنوں کو استعمال کرکے ایسا ماحول بنایا کہ دیگر جماعتیں کھل کر الیکشن کمپین نہ کرسکے اور حکمران جماعت دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ آج یہی جماعت اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو فتنہ و فساد کی آگ میں دھکیل کر پاکستان کی سالمیت کو داؤ پر لگانا چاہتی ہے جبکہ نواز حکومت کی اس احمقانہ فیصلے کے خلاف تمام جماعتوں نے آواز بلند کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات اور مفادات کیلئے ملک کو خطرات کی طرف دھکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے بیگناہ شہریوں پر بمباری ایک ظلم عظیم ہے اور مجلس وحدت مسلمین اس ظلم و بربریت کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کرے گی اور سعودی عرب کے ذریعے دنیا میں ایک مخصوص سوچ کو مسلط کرنے کی نواز لیگ کی خواہشات کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جائینگے۔
وحدت نیوز(گلگت) گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن چرانے کیلئے مسلم لیگ نے سیاسی رشوتوں کا بازار گرم کیا ہے، سیاسی پارٹیوں کے مزے لینے والی ماروی میمن کے جھوٹے وعدوں کی کوئی اہمیت نہیں۔گلگت بلتستان کے عوام ضمیر فروش نہیں ، پیسوں کے عوض ان کی وفاداری کو خریدا نہیں جاسکتا۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظیفوں کو دوگنا کرنے کا محترمہ کا وعدہ پری پول رگنگ کے زمرے میں آتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری سیاسیات غلام عباس نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کی حکومت کو دو سال کا عرصہ پورا ہونے کو ہے انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظائف کو دوگنا کرنے کا خیال گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن کے وقت یاد آگیا جو صرف اور صرف الیکشن کو ہائی جیک کرنے کی سازش ہے۔نواز لیگ کی گلگت بلتستان کے عوام سے بدنیتی کسی سے پوشیدہ نہیں ،جب بھی نواز لیگ برسراقتدار آئی ہے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق غصب کئے گئے ہیں۔ انہیں صرف اپنے اقتدار سے غرض ہے عوام سے کوئی غرض نہیں،برجیس طاہر کی بطور گورنر گلگت بلتستان تعیناتی سے صاف واضح ہوگیا ہے کہ ان کی نظر میں گلگت بلتستان میں کوئی شخص اس عہدے کا اہل نہیں ۔پاکستان کے عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے جھوٹے وعدوں اور نعروں سے برسر اقتدار آنے والی جماعت سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو وفا کرسکے۔انہوں نے کہا کہ نواز لیگ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ سمجھنے سے انکاری ہے اور علاقے کو متنازعہ بناکر آئینی حقوق سے محروم رکھنے کا جواز تلاش کررہے ہیں ۔
وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اسکردو چندا نے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی و سماجی شخصیت کی مجلس وحدت میں باقاعدہ شمولیت کے موقع پر ایک پریجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت جہاں ایک طرف وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی امین ہے، وہیں اس ملک میں اسلامی فلاحی ریاست کا جو خواب اقبال نے دیکھا تھا اور جسے محمد علی جناح نے تکمیل کرنے کی کوشش کی تھی اسی خواب کی حقیقی تعبیر کے لیے ہمیں جدوجہد کرنا ہے اور اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز پاکستان کو دولت استحکام سے سرفراز کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس اعلٰی ہدف کے لیے معاشرہ کے تمام طبقات کو مل کر چلنا ہوگا اور اپنے ذاتی مفادات کو اسلام اور پاکستان کے وسیع تر مفاد پر قربان کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں آپ صحافی حضرات جو کہ پہلے سے ہی اس میدان میں موجود ہیں کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور مزید حوصلہ و ہمت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب بخوبی آگاہی رکھتے ہیں کہ اس وقت وطن عزیز پاکستان کو جہاں بیرونی خطرات اور مسائل ہیں وہاں سب سے بڑا مسئلہ اندرونی طور پر دہشتگردی کی صورت میں ہے، دہشتگردی کے ناسور نے ملک کو عدم استحکام کی راہ پر لاکھڑا کیا ہے اور مادر وطن کو ایک غیرمحفوظ ملک بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک دشمن عناصر نے ان دہشتگردوں کے ذریعے ہمارے سکیورٹی اداروں پر حملے کروائے، فوج، ائیربیسز، حساس ادارے، ہسپتال، تعلیمی ادارے، اسکول، سڑکیں، شاہراہیں، مسجد، چرچ مختصر یہ کہ ہر اہم مقام کو غیرمحفوظ بنا دیا ہے اور ان دہشتگردوں کے حملوں میں پچاس ہزار سے زائد محب وطن پاکستانی شہید ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس دن دہشتگرد قانون کو ہاتھ میں لے کر ملک میں دہشتگردی کا آغاز کرے اسی دن ان کے سر کچل دئیے جائیں لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی جماعتوں نے ان پر ہاتھ ڈالنے نہیں دیا اور مذاکرات کے نام پر ان کو مضبوط ہونے کا موقع بخشا۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو وطن عزیز کی غیور فوج نے آپریشن کا آغاز جو کامیابی کیساتھ جاری ہے، ہم اول روز سے دہشتگردوں کے مخالف تھے کبھی ان کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھا اور وقت ثابت کر رہا ہے کہ ہمارا فیصلہ درست فیصلہ تھا۔ دوسری جانب وہ تمام جماعتیں جنہوں نے دہشتگردوں سے مذاکرات مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر انہیں پھلنے پھولنے کا موقع دیا وہ سب بلواسطہ دہشتگردی کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا دہشتگردی کے سلسلے میں اب بھی یہی موقف ہے کہ دہشتگرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، پاک فوج اور پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قاتل ہیں انکی اصلی جگہ تختہ دار ہے مذاکرات کی میز نہیں۔ ہم ملک بھر میں موجود فوجی عدالتوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسے دہشتگردی کیخلاف ایک اہم قرار دیتے ہیں۔ اور ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو ملک گیر کیا جائے کیونکہ دہشتگرد ملک کے گوشہ و کنار میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کیساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ملک بھر کی طرح بلتستان میں سکیورٹی خدشات موجود ہیں، سیکیورٹی ادارے ہشیاری سے کام لیں اور پیش بندیوں کو جدید بنیادوں پر استوار کریں۔
پریس کانفرنس سے پرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے آغا علی رضوی کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کے دن قریب تر آتے جا رہے ہیں، جوں جوں انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں گزشہ پارٹیاں جنہوں نے گلگت بلتستان کو سوائے دھوکہ کے کچھ نہیں دیا ایک بار پھر گلگت بلتستان میں دھوکے دھونس، طاقت اور کھوکھلے وعدوں کیساتھ وارد ہو رہی ہیں۔ گلگت بلتستان کی عوام ان تمام سیاسی پارٹیوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ تم سب نے گلگت بلتستان پر باری باری 67 سال حکومت کی لیکن اب تک ہمیں شناخت سے کیوں محروم رکھا۔ ابھی تک گلگت بلتستان کو آئینی حق نہ دینے کا اصل ذمہ دار مسلم لیگ نواز سمیت وہ تمام پارٹیاں ہیں جنہوں نے یہاں حکومت کی اور کچھ نہیں دیا۔ آپ صحافی حضرات کے توسط سے یہ سوال بھی ہم اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کے عام انتخابات میں سوائے مجلس وحدت مسلمین کے کس سیاسی پارٹی کے منشور میں گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کا ذکر تھا؟۔ ملک کے عام انتخابات میں جن پارٹیوں کو گلگت بلتستان کی یاد تک نہ آئی ہو اب وہ کس منہ سے گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے گلگت بلتستان کو حقوق نہ ملنے کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ تمام پارٹیاں ہیں جنہوں نے یہاں حکومتیں کی اس خطہ کے وسائل لوٹے اور حق سے محروم کر دیا۔ اب ہم کسی وفاقی حکومتی پارٹی کو ریاستی جبر کے ذریعے یہاں کے عوامی مینڈیٹ کو چرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم عوامی طاقت کے ذریعے مسلم لیگ نواز کی سیاسی اور انتظامی دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے۔ یہاں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ اس وقت گلگت بلتستان میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ نواز کی سیاسی اور انتظامی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ جسکی مثال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہی عہدیدار کو چیف الیکشنر تعینات کیا، کسی سیمی گورنمنٹ بنک کے ملازم کو وزیر اعلٰی بنایا، اپنی مرضی کے نگران کابینہ کی فوج بنائی گئی، اور غیرمقامی گورنر کو مسلط کیا گیا کیا یہ سب سیاسی دہشتگردی نہیں؟ اسی طرح انکی انتظامی طور پر ملک بھر چن چن کے ایسے افراد کو جمع کر کے یہاں لانے کی کوشش میں ہے جو نگران حکومت سے ملکر الیکشن کو یرغمال بنائے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ گلگت اسکردو روڈ کی تعمیر جو کہ سابقہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہے اس پر تختہ چڑھا کر یہاں کی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ شگر اور کھرمنگ ضلع کو آخری وقت میں ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرنے کے لیے رکھا ہوا ہم میڈیا کی توسط یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ وفاقی حکومت کو دوسال کا عرصہ گزر گیا ہے اگر تمہارے اختیار میں شگر اور کھرمنگ ضلع بنانا ہے تو اسے تاخیر کرنا کیا عوام کیساتھ خیانت نہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم محض عوام کی خاطر ایک دو سال قبل ہی اپنے اختیارات کو استعمال میں لا کر ضلع بنانے دیتے تمہاری بد نیتی پر مبنی یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ تم عوام سے مخلص نہیں بلکہ عوام کا ووٹ چرانے چاہتے ہو اور سیاسی بلیک میلنگ کے قائل ہو۔ تم چاہتی ہو کہ ایک ضلع کی لالی پاپ دے کر اس خطے پر حکومت کرے۔ شگر اور کھرمنگ ضلع عوام کا حق مسلم ہے کسی کی خیرات نہیں اور نہ کھرمنگ اور شگر کے عوام کے ضمیر کو تم ایک ضلع کے جھوٹے دعوئے سے خرید سکتے ہو، کیونکہ عوام جانتی ہے کہ تمہارے ضلع کا اعلان یا تو جھوٹا ہے اگر ضلع بنا بھی تو تم ایسے حکمرانوں کو مسلط کریں گے جو عوام کے حقوق کو لوٹیں۔ ہم یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر گلگت اسکردو روڈ کی توسیع کی بجائے ری کارپیٹنگ کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے اور ایک انچ کام کرنے نہیں دیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے گلگت اسکردو روڈ کی تعمیر و توسیع کا منظورہ شدہ منصوبہ جسے تم نے دو سالوں سے دبا کر رکھا ہوا ہے اس پر اسی انداز میں کام کیا جائے جس طرح منظور ہوا ہے تختی لگا کر پٹی لگانے کی کوشش کی گئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ہم اس کانفرنس کے توسط سے واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک کسی پارٹی کا نہیں سب کا ہے ریاستی وسائل اور ریاسی جبر کیساتھ سیاست میں وارد ہونے والے ریاستی مجرم ہیں۔ انہیں ان باتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کانفرس کے ذریعے بلتستان کی انتظامیہ سے یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ طالب علم لاپتہ واقعہ اور ڈیڑھ مہینے بعد ایک طالب کی لاش ملنے کی حقیقت کیا ہے؟ اس سلسلے میں عوام کو شدید تحفظات ہیں فوری طور پر حقائق کو سامنے لایا جائے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں اس واقعہ کو انتظامیہ آسان نہ لے اور جوڈیشل کمیشن بنا کر معاملے کی تہہ تک جایا جائے اور مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔