مسئلہ تفتان ۔۔۔کچھ وضاحتیں اور کچھ حل

07 ستمبر 2016

وحدت نیوز(آرٹیکل)امید اپنے اندر کشش رکھتی ہے۔انسان جس طرف امید پاتا ہے اس طرف کھچا چلاجاتاہے۔کوئٹہ اور مسئلہ تفتان کے حوالے سے اکثر لوگوں کی امیدیں  جہاں پرمجلس وحدت مسلمین اور دیگر قومی و دینی تنظیموں  سے سے وابستہ ہیں وہیں پر لوگ ملکی سلامتی کے ضامن اداروں سے بھی ناامید نہیں ہیں۔لوگ یہ امید رکھتے ہیں  سرکاری ادارے اور قومی  تنظیمیں  ،حکومتی ایوانوں تک ان کے مسائل کو پہنچانے اور حل کروانے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

گزشتہ روز کوئٹہ اور تفتان کے مسئلے پر پاکستانیوں کی پھر ایک نشست ہوئی۔نشست میں اس چیز کی ضرورت کو محسوس کیاگیا کہ اس مسئلے کو اس کی حقیقی شکل میں سامنے لایاجائے اور لوگوں کے اندر سے ظلم سہنے اور ظلم برداشت کرنے کی عادت کو ختم کیاجائے۔حد اقل جس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے وہ زبان کھولنے کی جرات تو کرے۔

یہاں پر یہ وضاحت دینا بہت ضروری ہے کہ کوئٹہ میں موجود شیعہ کانفرنس کا تعلق کسی بھی صورت میں مجلس وحدت مسلمین یا کسی اور شیعہ تنظیم سے نہیں ہے۔شیعہ کانفرنس خود ایک مستقل ادارہ ہے ،جس کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ یہ فقط ایک مخصوص سرمایہ دار طبقے کی نمائندگی کرتاہے۔

شیعہ کانفرنس چونکہ حکومتی سرپرستی میں کام کررہی ہے لہذا اس کو براہ راست روکنا مجلس وحدت مسلمین ،یا کسی بھی دوسری تنظیم کے بس کی بات نہیں۔اسی طرح ہزارہ کمیونٹی، خود شیعہ کانفرنس سے نالاں ہونے کے باوجود اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔

لہذا ہمیں اپنے ہزارہ برادران اور مجلس وحدت جیسی تنظیموں سے امیدیں باندھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس سلسلے میں ہم سب کو باہمی اعتماد اور اتحاد کے ساتھ مل کر فعالیت کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں پر حکومت کے لئے بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لے۔ماضی کی حکومتوں نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں ایک اقلیتی فرقے کو مسلح کرکے اہل سنّت اور اہل تشیع کا قتل عام کروایاگیا۔پاکستان کی سب سے بڑی اکثریت اہل سنت ہیں۔انہوں نے وہابی ،اہلحدیث اور دیوبندی مسلک کی آڑ میں بنائے جانے والے دہشت گردوں کی دہشت گردی کو صبر کے ساتھ برداشت کیا لیکن دہشت گردی کو اختیار نہیں کیا۔

اہل سنت کے بعد دوسرا بڑا فرقہ اہل تشیع  کا ہے۔اہل تشیع کو بھی شدت اور تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کانشانہ بنایا گیا لیکن اہل سنت کی طرح اہل تشیع کی عوام اور قیادت نے بھی کبھی دہشت گردی اور فرقہ واریت کو نہیں اپنایا۔

حالات جتنے بھی سنگین ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع نے مل کر دہشت گردوں اور دہشت گردی کی مخالفت کی۔

حکومتی ادارے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اچھی طرح جانتی ہیں کہ آج اگر پاکستان باقی ہے تو وہ صرف اور صرف اہل سنت  اور اہل تشیع کے صبرو تحمل اور حب الوطنی کی وجہ سے باقی ہے۔

موجودہ حکومت کو جہاں سابقہ حکمرانوں کے بنائے گئے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور ان کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت ہے وہیں پاکستان کے اہل سنت اور اہل تشیع کی حب الوطنی کو سراہنے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کی بھی ضرورت ہے۔

یہ پاکستان کے اہل سنت اور اہل تشیع کے لئے فخر کی بات ہے کہ ان کی تاریخ دہشت گردی اور بے گناہوں کے خون سے پاک ہے۔انہوں نے ہمیشہ  اپنے دفاع اور تحفظ کے لئے قانونی،آئینی اور سیاسی جدوجہد کی ہے۔

بانی پاکستان سے ان کا لگاو،سر زمین پاکستان سے ان کی محبت،دیگر مسالک و مذاہب کے ساتھ ان کا حسنِ اخلاق ،دیگر مکاتب کی عبادت گاہوں کا ان کے ہاں احترام ،کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان میں ان کا کوئی دہشت گردی کا اڈہ نہیں ہے اور یہ ہمیشہ دہشت گردی کے مراکز اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اب یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حب الوطنی کی قدر کرے۔ان کے دکھوں کا مداوا کرے،ملک کو سنوارنے اور بچانے کے لئے ان کے صبرو تحمل کو سراہے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرے۔

اس وقت کوئٹہ اور تفتان میں زائرین کے ساتھ شیعہ کانفرنس یا ایف سی جو کچھ کررہی ہے ،وہ محب وطن لوگوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر زیادتی کی جارہی ہے۔شیعہ کانفرنس یا ایف سی کا فقط نام شیعہ کانفرنس یا ایف سی ہے ورنہ کام وہی ہورہاہے جو سپاہ صحابہ یا لشکر جھنگوی  کاہے۔

لوگوں کو ہراساں کرنا،بے عزت کرنا،دھونس جمانا،بھتہ اور رشوت وصول کرنا یہ سب انسانی و پاکستانی اقدار و اخلاق کے منافی ہے۔

میں یہاں پر یہ وضاحت دینا بھی ضروری سمجھتاہوں کہ خود شیعہ کانفرنس  اور ایف سی میں بھی دیندار،محب وطن اور شریف لوگ موجود ہیں ،انہیں  بھی چاہیے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اور کرپٹ عناصر کو لگام دیں۔

ایسے میں حکومتی سطح پر چند کاموں کو فوری طور پر انجام دیاجانا چاہیے:۔

۱۔شکایات سیل قائم کیاجائے۔

آرمی کا ایک بااختیار شکایات سیل قائم کیاجائے جو زائرین کی شکایات کو فوری طور پر سنے ،درج کرے،تحقیقات کرے اور مجرموں پر ہاتھ ڈالے۔

یاد رہے کہ زائرین کو قانونی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے اور شکایت درج کروانے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے ، انہیں بتایاجائے کہ اگر کوئی آپ سے بدتمیزی کرے،رشوت لے،خواہ مخواہ بٹھائے یا کسی بھی طرح کی ازیت کرے تو فورا  ان نمبروں پر رابطہ کریں۔

۲۔میڈیا ٹرائل  اور تحقیقاتی کمیشن  کا قیام

اب تک کرائے بڑھا کر اور کانوائے کے نام پر زائرین سے جو رقم بٹوری گئی ہے ،اس سلسلے میں میڈیا ٹرائل  کیا جائے اور تحقیقاتی کمیشن بنایاجائے جو اس بات کا جائزہ لے کہ کتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی گئی ہے،اس لوٹے ہوئے پیسے کو سرمایہ داروں سے اگلواکر دوبارہ کم از کم حکومتی خزانے  یا اوقاف میں ڈالاجائے اور آئندہ زائرین پر خرچ کیاجائے۔

۳۔خفیہ ادارے  اور صحافی حضرات اپنی فعالیت کوبڑھائیں۔

ملکی سلامتی کے ضامن خفیہ اداروں اور محب وطن صحافیوں کو چاہیے کہ وہ سادہ لباس میں زائرین کے روپ میں ایف سی اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔

۴۔پاراچنار اور مسئلہ کوئٹہ و تفتان

علمائے کرام بھی پاراچنار کی طرح مسئلہ کوئٹہ و تفتان کو اپنی ترجیحات میں رکھیں،زائرین کو درپیس مشکلات کو صبر و تحمل سے سنیں اور مسلسل ان کی شکایات سرکاری اداروں تک پہنچاتے رہیں۔

۵۔ محرم و صفر کے حوالے سے خصوصی اقدامات کی ضرورت

پاکستان کی انفرادیت اور حسن یہی ہے کہ یہ ملک  مذہبی رواداری کی خاطر بنایا گیاہے۔ہر سال محرم الحرام اور صفر میں چہلم امام حسینؑ کے لئے کربلاجانے والے زائرین کی تعداد میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوجاتاہے۔

اس موقع پر مفاد پرست عناصر بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان ایام میں شکایت سیل کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیاجائے اور زائرین کی خدمت کے لئے ساری تنظیمیں اور ادارے وغیرہ مل کر قومی سطح پر سبیلیں وغیرہ بھی لگائیں اور حفاظتی انتظامات میں بھی سیکورٹی اداروں کا ہاتھ بٹائیں۔

۶۔ کانوائے اور بلوچستان ہاوس

ہر ہفتے میں ایک مرتبہ کانوائے کو یقینی بنایاجائے اور کوئٹہ سے نکلنے کے بعد زائرین کو مختلف چیک پوسٹوں پر ہراساں کرنے اور دیگر کسی بھی ہاوس میں محصور کرکے بھتہ وصول کرنے سے گریزکیاجائے۔

میں نے مسئلہ تفتان و کوئٹہ  کے سلسلے  میں ہونے والی چند نشستوں میں یہ درک کیا ہے کہ  ملت پاکستان آج بھی ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو اپنا محافظ سمجھتی ہے اور   لوگوں کی امیدیں پاکستان کی سلامتی کے ضامن اداروں سے سے وابستہ ہیں ۔۔۔پس۔۔۔امیدوں کے یہ چراغ جلتے رہنے چاہیے۔


تحریر۔۔۔۔۔نذرحافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree