وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان آج شیعہ نسل کشی کے خلاف حسن ابدال میں ایک عظیم الشان مظاہرہ کرے گی، یاد رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں حسن ابدال سے تعلق رکھنے والے دو شیعہ ڈاکٹروں کو یکے بعد دیگرے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، تاہم تاحال انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی سامنے نہیں آئی۔  مجلس وحدت مسلمین پاکستان پنجاب کے رہنما علامہ اصغرعسکری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کو جڑواں شہروں میں کوئی اجتماع نہیں ہوگا، تمام اجتجاجی ریلیوں کا رخ حسن ابدال کی جانب ہوگا۔ انہوں نے حکومت وقت کو سعودی پٹھو قرار دیتے  ہوئے کہا کہ حکمران ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض پاکستان کے عوام پر بدترین ظلم ڈھا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ نہ روکا گیا تو سعودی آلہ کاروں کو نکال باہر کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(لاہور) کراچی شیعہ مسلمانوں کی مقتل گاہ من چکا ہے ،روز انہ ڈاکٹرز، انجینئرز، علماء، تاجر ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ، سندھ حکومت کے کسی ایک وزیر کو مذمتی بیان تک دینے کی توفیق نہیں ہے، دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے سدباب کے لئے بلائے گئے اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا، ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں بعد بھی کراچی میں بد امنی کا راج ہے،آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کلرز کوٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص وزیر داخلہ بھی ہے،سندھ حکومت کی نا اہلی اور شیعہ نسل کشی کی خلاف کل بروز جمعہ 23مئی کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر علامہ مبارک موسوی، علامہ عبد الخالق اسدی اوراسد عباس نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کراچی میں بیٹھ کر ایک رسمی اعلان کے ذریعے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس آپریشن کا کیپٹن بنایا گیا۔لیکن اس ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں میں بھی کراچی میں نا امنی کا راج رہا، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز، جرائم پیشہ افراد اور خاص طور پر کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولے بے جرم و خطا پاکستانی شہریوں کا قتل عام کرتے رہے۔آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔ان 8مہینوں میں آج تک 125شیعہ مسلمان ہدف بنا کر شہید کئے جاچکے ہیں۔ان شہدا ء میں شیعہ علماء و ذاکرین، ڈاکٹرز ، انجینیئرز، وکلاء، سرکاری افسران، معلمین اور تاجر سبھی شامل ہیں۔ خاص طور سے کاروباری حضرات اب کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا نیا ہدف ہیں۔یہ رجحان پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کراچی کے کئی خاندانوں کی اقتصادی نسل کشی کے بھی مترادف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک جانب شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا خاص طور سے ہدف بنانے والے دہشت گرد ہیں۔اور دوسری جانب ایک نااہل و ناکام حکومت ہے جس کی بنیادی آئینی ذمے داری میں شہریوں کے جان و مال کی حفاظت بھی ایک اہم فریضے کے طو ر پر شامل ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کراچی آئے اور امن و امان پرایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیالیکن افسوس صد افسوس کہ اس اجلاس میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ کسی جماعت کو یا رہنما کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو اس اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا۔معلوم ہوا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی تحفے کے بدلے میں انہیں مزید کون کون سی پاکستان دشمن خدمات انجام دینا ہوں گی۔شیعہ مسلمانوں کو امن و امان کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دے کر نواز لیگی حکومت نے قوم کو واضح پیغام دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں نہ کہ دہشت گردی کے شکار پاکستانیوں کے ساتھ۔یہ پیغام وہ شروع دن سے دیتے آرہے تھے کیونکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بجائے ان سے مذاکرات کرکے ان کی شرائط مان کر انہیں دوبارہ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا ایک اور موقع دینا چاہتے تھے۔امن کے نام پر وہ دہشت گردوں کو دہشت گردی کا ایک اور چانس دینا چاہتے ہیں۔لیکن نوازلیگی وفاقی اور صوبائی حکومتیں، خیبر پختونخواہ کی تحریک انصاف حکومت اورسندھ کی پی پی پی حکومت کو ہم تاریخ کا یہ سبق پڑھ کر سنادیتے ہیں اور یہی پیغام ریاستی اداروں کے لئے بھی ہے کہ ان دہشت گردوں سے چشم پوشی کرنا یا ان کی سرپرستی کرنا جو پاکستان کے باوفا اور غیرت مند شہریوں کے دامن میں آگ لگارہے ہیں، وہ یہ یاد رکھیں کہ یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی۔ماضی قریب میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔بے نظیر بھٹو بھی انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں، مفتی حسن جان دیوبندی کو بھی ان دہشت گردوں نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کیا۔انہوں نے بشیر بلور کو بھی نہیں بخشا۔

 

انہوں نے مذید کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر ملک دشمنوں اور انسانیت دشمنوں کی سرپرستی کرنے کی جو مذموم پالیسی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی ہے، اس سے ملکی سالمیت اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص ہی وزیر داخلہ بھی ہے۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اس روش کو ترک کریں جس کے تحت دہشت گروں کو قوت اور طاقت مل رہی ہے۔ وہ کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں کسی بھی بہانے سے اجتماع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ذرائع ابلاغ ان کا بائیکاٹ کرے۔نااہل حکمران تبدیل کرکے اہل افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی غیر جمہوری طریقے سے نااہل حکمرانوں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یا تو یہ حکمران آئینی ذمے داری نبھاتے ہوئے دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیں تاکہ ان کی اہلیت ثابت ہو ورنہ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ مطلوبہ آئینی اہلیت کے حامل افراد یہ ذمے داریاں سنبھالیں۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ ملک بھر اور خاص طور پر کراچی میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی نے ہمارے قلوب کو رنجیدہ و غمزدہ کردیا ہے۔شہداء کے ورثاء ہماری جانب امید افزا نظروں سے دیکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام ناب محمدی کے مقدس لہو سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان کے قاتل کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں اور ان کے سرپرست نااہل حکمرانوں کی مذمت کی جائے اور ان کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے۔اس لئے شیعہ نسل کشی کے خلاف جمعہ 23مئی کو یوم احتجاج و یوم مذمت کے طور پر منایا جائے گا۔ یوم احتجاج و یوم مذمت کی مناسبت سے جمعہ کے روز نماز جمعہ کے خطبات میں ، مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر اور باہراجتماعات اور ملک بھر میں مختلف عوامی مقامات پر ریلیاں ، مظاہرے اور علامتی دھرنے ہوں گے۔ عوام ان میں بھرپور شرکت کریں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے قائدین ان اجتماعات سے خطاب فرمائیں گے۔آپ سے التماس ہے کہ یوم احتجاج اور یوم مذمت کے پروگراموں کی کوریج فرمائیں اور شیعہ نسل کشی کے خلاف ، دہشت گردوں کے خلاف احتجاج میں ہماراساتھ دیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سرزمین پاکستان پر انبیاء ، اولیاء، آئمہ ، شہداء اور صدیقین کی آرزوں ، امنگوں اور ارمانوں کی تکمیل میں امامیہ طلباء کی زحمتیں تا قیامت یاد رکھی جائیں گی ، پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے حقیقی محافظ یہی امامیہ طلباء ہیں ، پاکستان میں انقلاب اسلامی کی ترویج و اشاعت میں آئی ایس او کا کردار منفرد ہے ، امامیہ طلباء کو اس عظیم شجرہ طیبہ کی تاسیس کے 42سال مکمل ہو نے پر ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں ، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 42ویں یوم تاسیس پر مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے تہنتی پیغام میں کیا۔

 

ان کا کہنا شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ نے اس پاک سرزمین جس شجر طیبہ کا بیج اپنے دست مبارک سے کاشت کیا اور جس شجر کی آبیاری شہید نے اپنے مقدس لہو سے کی آج وہ شجر سایہ دار فرقہ پرستی ، انتہاپسندی، بے راہ روی ، معاشرتی انحطاط کے مقابلے میں جائے پناہ ہے، آئی ایس او وہ ماں ہے جس نے سرزمین پاک پرمدافعان ولایت کو جنم دیا،انہوں نے مذید کہا کہ آئی ایس او پاکستان سے وابسطہ طلباء آج پاکستان اور پاکستان سے باہر دین ، ملک اور ملت کی خدمت میں شب و روز کوشاں ہیں ، جو کہ شہید ڈاکٹر کےلئے ایصال ثواب کا زریعہ ہیں۔

وحدت نیوز(نجف اشرف) مجلس وحدت مسلمین نجفِ اشرف کے سیکرٹری جنرل علامہ سید مہدی نجفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے سب سے بڑی عوامی اجتماع نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ شخصیت پرستی معیار نہیں ہے بلکہ نظریہ معیار ہے اور اس نظریہ اتحاد کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے عملی جامہ پہنایا اور یہ بھی بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان عملی جدوجہد والی جماعت ہے۔ علامہ سید مہدی نجفی نے یہ بھی بتایا کہ ہم زندہ، باوقار، سربلند، باعزت اور جرات مند قوم ہیں۔ غیور عوام ملک کے دفاع اور محبت کا حق ادا کرتے رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے اپنے اندر تبدیلی لانا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے اندر تبدیلی لے آئیں گے اور متحد ہو جائیں گے تو پھر کوئی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔

وحدت نیوز(اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی الیکشن کے ذریعے برسراقتدار آنے والی کسی حکومت کو نہیں مانتے، ملک میں آزاد الیکشن کمیشن کے ذریعے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر الیکشن کرائیں جائیں، بدقسمتی سے آج جو ہم پر حکمران مسلط ہیں وہ جھوٹے، بدکردار، کرپٹ اور لٹیرے ہیں، جو الیکشن چوری کرکے جعلی مینڈیڈیٹ لیکر جعلی حکومت بنا لیتے ہیں، ان چوروں اور انکی چوری کی ہوئی حکومت کو ہم نہیں مانتے، گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق پاکستان کی گلی گلی میں لے کر جائیں گے، یہاں کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اشرافیہ سے عوام کے حقوق چھین کر دم لیں گے، ہم مظلوموں کی زبان بنیں گے، سیاسی تبدیلی کے لئے سیاسی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین بلتستان کے زیراہتمام اسکردو میں ہونے والی بیداری ملت و استحکام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے سنی اتحاد کونسل کے وائس چئیرمین صاحبزادہ حسین رضا، منہاج القرآن کے مرکزی رہنما سید فرحت عباس شاہ، اہل حدیث رہنما حافظ بلال زبیری اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی، علامہ حسن ظفر نقوی، سنی اتحاد کونسل کے رہنما جواد کاظمی، مسلم لیگ (ق) کے رہنما ظفر ریلے اور بلوچستان اسمبلی کے رکن آغا سید محمد رضا و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

 

علامہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے اپنے اندر تبدیلی لانا ضروری ہے اور جب ہم اپنے اندر تبدیلی لے آئیں گے اور متحد ہوجائیں گے تو پھر کوئی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، اگر ہم شیعہ سنی کے فسادات میں الجھے رہے تو پھر یہی بدکردار سیاستدان ہم پر مسلط رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ 12 روز احتجاج کرنے کے بعد ہمیں گندم کی سبسڈی ملی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ان تمام بنیادی مسائل کا حل عوام کو ان کی دہلیز پر پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے اس علاقے کے لوگوں کے حقوق غضب کئے، ان کے خلاف متحد ہوکر اعلان جنگ کیا جائے اور اس کے لیے یہاں کے لوگوں کو اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہوگا، تب ہی ہم اپنے حقوق حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مظلوموں کی آواز ہیں اور انکے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے اور ہمیشہ دشمنوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے ہیں، بےشک امریکہ ہی کیوں نہ ہو، دشمن ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم کرکے ہم پر مسلط ہونا چاہتے ہیں، اب وقت آچکا ہے ہم اپنی مظلومیت کو چھوڑ کر متحد ہوجائیں اور ظالم حکمرانوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیں، آج دنیا بدل رہی ہے، مگر پاکستان کے حالات ان کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے جوں کے توں ہیں، اب ان حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دینگے۔

 

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وعدہ کرتے ہیں کہ جعلی الیکشن کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں مسائل حل نہیں کرسکتیں، پاکستان میں ہونے والے جعلی الیکشن ہمیں قبول نہیں، آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے جو متناسب نمائندگی کے ذریعے الیکشن کرائے،تاکہ 2 فیصد اشرافیہ کی بجائے 98 فیصد عوام کو ایوانوں میں نمائندگی مل سکے، ہم سیاست میں اختلاف کے قائل ہیں دشمنی کے نہیں، ہم برے کو نہیں برائی کو برا جانتے ہیں اور برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے عوامی جدوجہد کے قائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان سے محبت کرنے والوں کا خطہ ہے یہ خطہ پاکستان کی فطری دفاعی لائن ہے، لیکن 65 سالوں سے حکمران انہیں نظر انداز کرتے رہے، عوامی طاقت کے ذریعے کوئٹہ کے رئیسانی کو اقتدار سے نکالا، اگر ظلم بند نہ ہوا اور کراچی اور پنجاب میں مظلوموں کا خون بہایا جاتا رہا تو کراچی، اسلام آباد، لاہور اور گلگت بلتستان کا کوئی بھی رئیسانی اقتدار میں نہیں رہیگا۔ انہوں نے جمعہ کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کر دیا۔

وحدت نیوز(اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان سے الیکشن جیت کر وزیراعلٰی بننے والے نے اپنے حلقہ میں بھی کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا بلکہ لوٹ مار کرکے لاہور اور اسلام آباد میں اپنے محل تعمیر کر لئے ہیں اور اس نام نہاد عوامی نمائندے نے یہاں کی عوام کے حقوق کی کوئی بات نہیں کی، یہاں کے غیور عوام ملک کے دفاع اور محبت کا حق ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یادگار چوک اسکردو پر منعقدہ بیداری ملت و استحکام پاکستان کانفرنس کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ گذشتہ 67 سالوں سے گلگت بلتستان کی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، ہر حکمران نے ہمارے حقوق پر ڈاکے ڈالے، اس کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام نے پاکستان کا پرچم سربلند رکھا، مگر ہمیں آج تک اپنے حقوق نہیں دیئے گئے، اگر یہاں کی عوام کو انتظامی بنیاد پر کوئی عہدہ دیا بھی ہے تو وہ بے اختیار ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اپنے خطے کو اپنے زور بازو پر آزاد کروانے والے اور ان کا خطہ آج مشکلات اور مسائل میں گھرا ہوا ہے، گلگت بلتستان کی عوام نے نہ صرف اپنے طور پر آزادی حاصل کی بلکہ پاکستان کی ہر جنگ میں کھل کر اس کا ساتھ دیا، مگر کچھ وطن فروش مردہ ضمیر والے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں اور وہی اس خطے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں گلگت اور بلتستان میں مقامی افراد کو چیف سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری نہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سے ایک بہت بڑا بھونڈا مذاق ہے، ہم اس نظام کو اٹھا کر دریائے سندھ میں غرق کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ہمارا 8 ہزار مربع میل علاقہ فروخت کیا، وہ نہ صرف ہمارے غدار ہیں بلکہ وہ پاکستان کے بھی غدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈاکوؤں کو اپنے ملک کی معدنیات لوٹنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree