The Latest

shamشام کے وزیر اعظم کو صدر بشار الاسد کی جانب سے برطرف کئے جانے کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوکر اردن چلے گئے جہاں پناہ نہ ملنے کے بعد اب انہوں نے قطر کا رخ کیا ہے 
شام کی حکومت نے عمر غلونجی کو ان کی جگہ عبوری وزیر اعظم کے طور پر تعین کیا جو ایک عبوری کابینہ کو چلاینگے 
قطر جوکہ اس وقت شام مخالف افراد کی پناہ گاہ میں بدل چکا ہے اس سے قبل لیبیا مخالف افراد کو پناہ دیتا رہا ہے 
ادھر شامی حکومت کا کہنا ہے کہ شددت پسند گروہ اغواشدہ ایرانی زائرین کو جنگی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ فورسز اور شدت پسندوں کی مڈبھیڑ میں اب تک تین زائرین شہید ہوچکے ہیں

syriaالعالم نیوز چینل کے مطابق شامی فورسز نے ترکی اور سعودی سات ایسے ایجنسیوں کے آفیسروں کو گرفتار کیا جو شام میں مسلح گروپوں کی سرپرستی کر رہے تھے 
نامہ نگاروں کے مطابق سعودی اور ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کے آفیسر زکو ایک خاص خفیہ آپریشن کے بعد حلب شہر کے ٹی وی اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کیا گیا 
ترکی کی خفیہ ایجنسی کے لوگوں کے نام بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا سلطان اولدو،طاہر آمنیتووغیرہ شامل ہیں جبکہ سعودی عرب کے گرفتار شدہ افراد میں عبدالواحد ثانی، عبدلعزیز المطری،احمد الہادی،موسی زہرانی،فراس زہرانی،شامل ہیں 
ادھر دوسری جانب شام کی افواج نے حلب شہر کے صلاح الدین علاقے سے شدت پسندوں کا صفایا کرنے کے بعد سیف الدولۃ علاقے کی جانب پیشقدمی کی ہے 
واضح رہے کہ شام میں جاری بد امنی میں امریکہ اسرائیل سعودی عرب اردن اور ترکی مکمل طور پر شدت پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں شام میں اب تک کئی بار القاعدہ سمیت متعدد شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کے اعترافات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان شدت پسندوں کو ان ممالک کابھرتعاون حاصل ہ

hashim
مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ عالمی برادری پر انحصار کرنے کی بجائے خود سامنے آئیں اور اپنا موثر کرداد ا کریں
مسلمانوں کے مابین اتحاد واتفاق عصر حاضر کی اولین ضرورت ہے، کوئٹہ میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب

کوئٹہ ( وحدت نیوز) ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے رکن اور امام جمعہ کوئٹہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ برما میں مسلمانوں کے عام پر اوقام عالم کی خاموشی افسوسناک ہے، مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری پر انحصار کرنے کی بجائے خود سامنے آئیں اور اپنا موثر کردار ادا کریں ، انہوں نے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں نماز جمعہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا مسلمانوں کے مابین اتحاد و اتفاق عصر حاضر کی اولیں ضرورت ہے ۔ ملت اسلامیہ کو طاقتور بنانے کے لیے ہمیں آس کے اختلافات ختم کرنا ہوں گے، علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ دومسلمانوں کے درمیان ناراضگی کو ختم کرنا خدا کے نزدیک انتہائی پسندہدہ عمل ہے انہوں نے مسلمانوں اور مومنین کے درمیان اتحاد واتفاق کی ضرورت پر زور د دیتے ہوئے اختلافات کے ہوا دینے والے افراد کونا دشمنوں کے ایجنٹ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ علما دین کے خلاف پروپیگنڈہ دشمن کی جانب سے اسلام کے خلاف کی جانے والی ایک سنگین سازش ہے ، دشمن چاہتا ہے کہ ہماری نسلیں دینی تعلیمات سے دور رہیں ہمیں دشمن کی ان مذموم سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔



mqmqمسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری کے اعزاز میں منگل کو افطار ڈنر دیں گے۔ مسلم لیگ ق کی طرف سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری اور علامہ امین شہیدی سمیت بارہ افراد کو افطار ڈنر پر مدعا کیا گیا ہے۔ افطار ڈنر کے موقع پر دونوں جماعتوں کے رہنما ملکی سیاسی صورتحال، ملک کو درپیش چیلنجز اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے قائدین آئندہ انتخابات پر بھی گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ یکم جولائی قرآن و سنت کانفرنس کے بڑے پروگرام کے بعد ایم ڈبلیو ایم ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ شیعیوں کی ایک بڑی سیاسی و مذہبی جماعت ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ ہم خیال، ایم کیو ایم اور اب مسلم لیگ ق کی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے ترجمان فدا حسین نے گلگت میں نہتے مسافرین کی گاڑی پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ

کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ اگر کوہستان اور چلاس کے دہشت گردوں کو سزا ہوتی تو آج یہ سانحہ پیش نہ آتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب تو خواب غفلت سے بیدار ہوجاو اور حکومتی رٹ قائم کرو۔ عجیب حکومت ہے اگر لوگ ظلم کے خلاف احتجاج بلند کریں اور سڑکوں پہ نکل آتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کرتی ہے، ان کو نوکریوں سے معطل کرتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ منظور نظر سرکاری ملازمین اسلحوں کی نمائش کریں، برسر بازار ہوائی فائرنگ کرتا پھرے یا مسافر وین پر حملہ کرکے خواتین تک کو شہید کریں ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کی جراءت نہیں ہوتی۔ مہدی شاہ حکومت یاد رکھو حکومت کفر سے تو قائم رہ سکتی ہے ظلم سے نہیں۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی طرف اس واقعے کی شدید مذمت اور سوگواران سے اظہار یکجہتی کی

barmaمسلم ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی کا میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی برداری کی خاموشی پر اظہار برہمی، میانمار میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا فیصلہ۔
برما کی صورتحال پر او ائی سی کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا۔ اجلاس کے دوران برما جنرل یونین کے سربراہ ڈاکٹر وقار الدین دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ ڈاکٹر وقار نے ارکان او ائی سے میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام روکنے کیلئے مدد کی اپیل کی۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر اکمل الدین احسان اوگلو نے کہا کہ میانمار میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کیلئے برما کی حکومت سے جلد رابطہ کیا جائیگا۔ انہوں نے بنگہ دیش کی حکومت سے میانمار کے پناہ گزینوں سے متعلق موقف تبدیل کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ اس معاملے پر او ائی سی کی وزارتی کمیٹی بھی بنائے جائے گی۔
واضح رہے کہ برما کی متعصب حکومتی فورسز کی سرپرستی میں مسلمانوں کا نہ صرف قتل عام کیا گیا بلکہ عصمت دری اور بچوں کے قتل تک کے سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے ایک مجرمانہ خاموشی کے بعد زبان کھولی تو اب او آئی سی کو بھی مجبورا زبان کھولنی پڑی ہے

arifhusainآج 5 اگست کا دن ہے۔ آج اس شہید قائد کی شہادت کا دن ہے۔ اس شخص کی شہادت کا دن ہے جس نے اپنی قوم و ملت اور اپنے خدا کے ساتھ جو عہد کیا اسے نبھایا۔ اپنے راستے کے سچائی کی گواہی اپنے لہو سے دی۔ پاکستان کے تمام مومنین کو، پاکستان سے محبت کرنے والوں کو اور دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی ان شخصیات کو جو شہید قائد کو تسلیم کرتی ہیں سے تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔ شہید کی شہادت پر امام خمینیؒ نے شہید کے چہلم پر پاکستانی قوم کے نام اپنا پیغام دیا تھا۔ اس پیغام میں شہید قائد کی عظمت اور ان کے مقام کو بیان کیا تھا کہ وہ امام حسین ؑ کے سچے بیٹے تھے۔ وہ فرزند صادق تھا، وہ واقعاً عارف حسین تھا۔ جنہوں نے محراب عبادت کو عروج اعلیٰ کی طرف سفر کیا۔ عروج ملوکیت کی طرف سفر کیا۔ امام خمینیؒ نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ پاکستان کی ملت شہید قائد کے تفکر کو زندہ رکھے۔ امام خمینیؒ جانتے تھے کہ شہید قائد کا تفکر، شہید کی فکر، شہید کا نظریہ، شہید کا ویژن اسلام کے لیے، مسلمانوں کے لیے، پاکستان کے لیے نجات دہندہ ہے، صراط مستقیم ہے لہٰذا شہید قائد کا ہم سے بچھڑنا اور ہماری قوم و ملت کا شہید قائد کی قیادت سے محروم ہونا یہ بہت بڑا المیہ تھا اور بہت بڑا نقصان تھا۔ جو شاید مدتوں بعد بھی اس خلاء کو پر نہیں کیا جا سکتا۔ شہید قائد پاکستان کو ایک مستقل پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک ایسا پاکستان کہ جس میں پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات کے درمیان بہترین عادلانہ تعلقات اور روابط ہوں۔ جہاں پر بھائی چارہ، اخوت ہو۔ مسلمانوں اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کے درمیان بھائی چارے کی بہترین مثال قائم ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ ہمارا وطن مستقل ہو، آزاد ہو، اس کی خارجہ و داخلہ پالیسی آزاد ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ پاکستان کو عالمی قوتوں کے سایہ سے نکالا جائے اور اسے خودمختار بنایا جائے۔ شہید قائد امریکہ کو شیطان بزرگ سمجھتے تھے۔ شہید قائد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ روابط و تعلقات کو پاکستان کے حق میں نقصان دہ سمجھتے تھے بلکہ اس کو پورے خطے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے تھے۔ شہید قائد شیعہ سنی کے تفرقے کے مقابلے میں شیعہ سنی وحدت پر یقین رکھتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان مل کر رہیں۔ شہید قائد یہ کہتے تھے کہ ہمارا نظام حکومت اسلامی ہو، یہاں اللہ کا دین غالب ہو۔ شہید قائد یہ کہتے تھے کہ علاقائی، قومی، لسانیت ہمارے وطن عزیز کے لیے نقصان دہ چیزیں ہیں۔ ہمیں وطن دوستی کی ترویج کرنی چاہیے۔ شہید بہت بڑی طاقتور شخصیت تھی۔ اگر پاکستان میں شخصیات کی فہرست دیکھیں تو شہید قائد جیسی شخصیت آپ کو نہیں ملے گی۔ شہید قائد کی روحانیت، معنویت، اخلاق، پاکیزگی، بصیرت، شجاعت، ہمت، صبر یہ سب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایسی جامعیت کی مالک شخصیت پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ 

س: شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ امام خمینیؒ اور ولایت فقیہ پر کتنا اعتقاد رکھتے تھے؟ 
شہید قائد امام خمینیؒ کی مرجیعت اور ان کی رہبریت پر ایمان رکھتے تھے۔ مرجیعت علمی رہبری کو کہتے ہیں جبکہ لیڈرشپ ایک اجتماعی روابط کو کہتے ہیں۔ شہید قائد امام خمینیؒ کو اپنا مرجع بھی مانتے تھے اور اپنا رہبر بھی مانتے تھے۔ یعنی شہید قائد ولایت فقیہ پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ شہید قائد کا اس بات پر یقین تھا کہ غیبت کبریٰ میں یہ امام زمانہ ؑ کی ولایت کا تسلسل ہے۔ پس شہید قائد اس بات کے قائل تھے کہ غیبت کبریٰ میں جو ہمیں صراط مستقیم کے ساتھ متصل رکھتا ہے وہ صرف اور صرف ولایت فقیہ ہے۔ جیسا کہ ان کا یہ مشہور قول کہ ’’میں حاضر ہوں کہ اپنا سب کچھ قربان کر دوں لیکن میں ولایت فقیہ کی حمایت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اس زمانے میں پاکستان میں بہت سے علمائے کرام تھے لیکن اس زمانے میں شاید علمائے کرام یا تو ولایت فقیہ کو سمجھتے نہیں تھے یا پھر ہم آہنگ نہیں تھے۔ شہید قائد پر عالمی قوتوں کا دباؤ تھا کہ وہ ولایت فقیہ کے راستے کو امام خمینیؒ کے راستے کو ترک کر دیں، اس کے علاوہ اپنے لوگوں میں سے بھی بعض کا یہی اصرار تھا۔ امام خمینیؒ کا ساتھ دینا یعنی امریکہ کے مدمقابل محاذ میں شامل ہونا ہے۔ پس شہید قائد نظام ولایت فقیہ کو بہترین نظام قرار دیتے تھے۔ جب شہید قائد کے بارے میں نعرے لگائے جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میرے حق میں نعرہ نہ لگاؤ بلکہ امام خمینیؒ کے بارے میں نعرہ لگاؤ۔ جس نے ہمیں بصیرت دی، حیات دی، جس نے ہمیں بیداری دی۔ شہید قائد نجف میں امام خمینیؒ کے ساتھ تھے۔ پس شہید قائد امام خمینیؒ کے ہر لحاظ سے پیروکار تھے۔ شہید قائد امام خمینیؒ کی شجاعت، بصیرت، جذبہ کے وارث تھے۔ اسی لیے امام خمینیؒ نے شہید قائد کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں اپنے ایک حقیقی فرزند سے محروم ہو گیا ہوں۔ 

س: کیا ہم نے شہید قائد کے افکار کو زندہ رکھا ہے؟ 
ج: امام خمینیؒ نے کہا تھا کہ شہید قائد اپنے تفکر کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں اور شہید قائد کا تفکر یہ تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور اسرائیل کو عالم اسلام کا دشمن سمجھتے تھے۔ یہ شیطانی نظام تھا جو عالم اسلام پر مسلط تھا۔ شہید قائد کا نظریہ ولایت فقیہ پر بھی ایمان تھا۔ شہید کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ شہید قائد معنوی لحاظ سے بھی بہت بلند تھے۔ خدا پر توکل، خدا پر قوی ایمان یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ دعا، طہارت، پاکیزگی نفس یہ ساری چیزیں شہید قائد کے اندر بہت زیادہ پائی جاتی تھیں۔ ان چیزوں کو نظرانداز کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ 25 سالوں میں جس طرح شہید کی یاد، شہید کا ذکر، شہید کی فکر کی ترویج ہونی چاہیے تھی اس طرح سے نہیں ہوئی۔ اس میں کوتاہی کی گئی ہے۔ 2008ء میں جب شہید قائد کی برسی منانا شروع ہوئی، یہ مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں نے شروع کی، اس سے پہلے آپ دیکھ لیں کہ کتنا کم شہید کا نام زندہ رکھا گیا۔ صرف اور صرف تنظیمی حوالے سے آئی ایس او نے بہت کام کیا جو کہ سراہا جانے کے قابل ہے لیکن اس کے علاوہ آپ دیکھ لیں کہیں بھی شہید کے حوالے سے آپ کو کوئی کام نظر نہیں آئے گا۔ جس طرح امام خمینیؒ کی نصیحت تھی اور جس طرح ان کا حکم تھا اس طرح سے شہید قائد کی فکر کی ترویج کے لیے کام نہیں کیا گیا۔ جس شخص نے عارف حسین الحسینیؒ کو قتل کیا، وہ شخص کو نہیں مارنا چاہتا تھا بلکہ وہ شخصیت کو مارنا چاہتے تھے، اس کے افکار کو مارنا چاہتے تھے، اس کے راستے کو مارنا چاہتے تھے، اس کے نظریے کو مارنا چاہتے تھے۔ ہمیں چاہیے تھا کہ جس کے لیے شہید اپنا خون دے گیا، ان نظریات پر ہم کام کرتے اور ان کو پورے معاشرے میں پھیلاتے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ تین چار سالوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے شہید کی برسی، شہید کے افکار پر کام کیا ہے۔ ہم مزید کوشش کریں گے کہ جتنا ہم سے ہو سکے گا انشاء اللہ ہم شہید قائد کی فکر کی ترویج کے لیے رات دن کام کریں گے تاکہ شہید قائد کی روح بھی ہم سے راضی ہو اور ہم بھی دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔ 

س: شہید قائد نے ایک روحانیات و معنویات کا ایک کلچر پورے ملک میں متعارف کرایا تھا، اب اس حوالے سے شہید کے معنوی فرزند جو کہ میدان میں اتر چکے ہیں،وہ اس حوالے سے کیا اقدامات کریں گے؟ 
ج: آپ نے درست کہا کہ شہید جہاں جاتے تھے شہید کے ساتھ دعا، مناجات، تہجد اور خدا سے رازو نیاز کرتے تھے۔ شہید کی وجہ سے جوانوں کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی۔ شہید قائد جہاں جاتے، دعائے کمیل پڑھتے تھے، دعا توسل، دعائے ندبہ، اس کے علاوہ رمضان میں خصوصی دعائے و مناجات کرتے تھے۔ شہید قائد شب زندہ دار تھے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بنیادی کاموں میں سے ایک کام یہ ہے کہ شہید قائد کی روحانیت اور معنویت پر کام کرے۔ ہمارے دفاتر میں دعا، مناجات ہوں۔ اس کے علاوہ سب جگہوں پر دعا و مناجات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بعض جگہوں پر ہفت وار اور بعض جگہوں پر ماہانہ دعاؤں کا پروگرام ہوتا ہے لیکن ہم مزید کوشش کر رہے ہیں کہ ان پروگرامات کو مزید بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ بہرحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ روحانیت اور معنویت کے لحاظ سے شہید قائد جیسا ماحول بنا سکتے ہیں کیونکہ وہ شہید محراب اور شہید مدنی و شہید مطہری کے شاگرد تھے۔ شہید قائد نے امام خمینیؒ سے براہ راست تربیت پائی تھی۔ اس کے باوجود ہم بھی کوشش کریں گے کہ ان کے افکار و نظریات پر چل کر روحانیت اور معنویت لحاظ سے بھی اپنے کاموں کو بہتر انداز میں کر سکیں(شکریہ اسلام ٹائمز)

arifhusainشہید کے فرزند علامہ سید علی الحسینی سمیت مختلف علمائے کرام اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی
علامہ عابد الحسینی ، علامہ علی صفدر شاہ، ڈاکٹر سید حسین جان،مولانا باقر زیدی، مسرت حسین اورمنیر حسین نے خطاب کیا

پارا چنار ( وحدت نیوز) ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں بھی قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ عارف حسین حسینی شہید کی چوبیسویں برسی انتہائی عقیدت و احتران کے ساتھ منائی گئی برسی میں شہید کے فرزند علامہ سید علی الحسینی سمیت جید علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید عابد حسین الحسینی ، علامہ سید علی الحسینی، علامہ صفدر علی شاہ ۔ ڈاکٹر سید حسین جان ۔مولانا باقر زیدی ، مسرت حسین ، مولانا منیر حسین اور دیگر مقررین نے شہید کی زندگی کے مختلف پہلوووں اور ان کے افکارو نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی عصر حاضر کا تقاضہ ہے کہ مسدلمان اپنی گرتی ہوئی ساکھ کی بحالی کے لیے متحد ہوجائیں ، انہوں نے کہا کہ ہم جس ہستی کی یاد منا رہے ہیں، اگر وہ آج اس دنیا میں ہوتی تو تو وطن عزیز میں فرقہ واریت کا نام و نشان تک نہ ہوتا ، علامی عار ھسین حسینی کی شخصیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہ ان کی شہادت کی منصوبہ بندی خود جنرل ضیا الحق اور گورنر فضل حق نے امریکہ کے ایما پر کی ، استعمار نے بھانپ لیا تھا کہ اگرعارف حسین حسینی زندہ رہا تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا ، مقررین نے کہا کہ شہید حسینی نے اپنے مختصر دور میں اتھاد بین المسلمین کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور ان کی جدوجہد کے بہترین تنائج سامنے آ رہے ہیں ، شہید حسینی نہ صرف اپنی قوم بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کی آوازبن کر ابھرے اور ان کی کاوشوں کو عالم اسلام میں پذیرائی ملی ،مقررین نے کرم ایجنسی کی گذشتہ پانچ سال کی گھمبیر صورتحا ل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہم جرگہ کی کارکردگی سے قطعی مطمئن نہیں ، کرم ایجنسی کی انتظامیہ کا رویہ غیر جانب دارانہ نہیں جب تک انتظامیہ کے رویے میں تبدیلی نہیں آتی ، یہاں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں ۔

سیمینار میں حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق کی خصوصی شرکت 
مقررین نے فلسطینیوںکی ثابت قدمی، استقامت اور تحر یک آزادی فلسطین میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی

کراچی ( وحدت نیوز) ١ یم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام بارگاہ سید فاطمہ زہرا میں اسلامی بیداری سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق اورا لقدس ایسو سی یشن لبنان کے راہنما بو علی نے خصوصی شرکت کی ، فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے صدر صابر کربلائی اور آغا صادق رضا تقوی بھی ان کے ہمراہ تھے ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی نے تحر یک آزادی فلسطین میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور غزہ میں خواتین مردوں کے شانہ بہَ شانہَ رہی اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دے رہی ہیں ہماری دلی آرزو ہے کہ پاکستانی خواتین بھی تحریک آزادی فلسطین میں اپنا کردار ادا کریں ا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہم سے کئی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ،اسے 2006میں جو عبرتناک شکست ہوئی وہ اس کو کبھی نہیں بھولے گی،اسرائیل سمجھ رہا تھا کہ لببان خطے کے اعتبار سے چھوٹاہے اور یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں لہٰذا وہ اپنی مکاریوں سے ان کے درمیان اختلاف پیدا کر کے انہیںاسرائیل سے صلح کرنے پر مجبور کردے گا یہ اس کے وہم و گمان بیں بھی نہیں تھا کہ لبنان اس کے لیئے اتنا بڑا خطرہ بن جائے گا انہوں نے کہا کہ ہم کو یہ قوت کربلا سے ملی اور ہم کو بیدار کرنے والے رہبر کبیرآیت اللہ خمینی ہیں جنھوں نے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر کامیابی چاہتے ہوں تو کربلائی انداز میں سوچو اور عمل کرو، ڈاکٹر احمد ملی نے کہا کہ رہبر کبیر کی وجہ سے ہم کو شعور اور بیداری کا درس ملا اور آج یہ شعور اور بیداری لبنان سے نکل کر شام تک جا پہنچی ہے مگر اس بار جمہوریت اور آزادی کے نا م پر اسرائیل فتنة اٹھا رہا ہے ، انھوںنے کہا کہ ہم رحم کی اپیل نہیں کرتے ہمارا مقصد یہ ہے کہ عالم اسلام کو آگاہ کریں کہ سر زمین فلسطین سے ف فلسطینی مسلمانوں کو بے داخل کیا جارہا ہے ،پاکستان ،افغانستان،برما،بحرین میں جو کچھ ہورہا ہے ان سب کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستانی عوام نے اسرائیل کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ سیمینار سے لبنان کی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے مختصرخطاب میں اسرائیل کی بربریت اور فلسطینوں کی ثابت قدمی اور استقامت پر روشنی ڈالی، سیمینار کے دوران آغاصادق رضا تقوی نے مترجم کے فرائض سر انجام دیئے انجام دیئے جبکہ صابر کربلائی نے حزب اللہ لبنان کے وفد کا تعارف کرایا،ختمام پر مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی صدرخواہر زہراہ نجفی نے فلسطین فانڈیشن پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سمینار میںایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کے تمام یونٹس کے علاوہ امامیہ اسٹوڈنٹس شعبہ طالبات نے بھرپورشرکت ک

مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی جانب سے رضویہ لان میںبچیوں کے لیئے اجتماعی روزہ کشائی کا اہتمام کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں بچیوں سمیت خواتین نے بھرپور شرکت کی۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے کیاگیاجس کے بعدحمد،نعت،اور قصیدے پیش کیے گئے تقریب روزہ کشائی کی صدارت ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی ڈپٹی سیکٹری جنرل خواہرحنا جعفری نے کی۔ تقریب کے دوران مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی جانب سے بچیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور مبارکباد پیش کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواہر سیما منظور نے اس تقریب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ جشن عبادت نوجوانوں کو کمال تک پہنچنے کا راستہ بتایا جاتا ہے۔یہ محفل نہایت منفردہے انقلابی اسلامی کے بعد ایسے روحانی محفلوں کا انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ ان روحانی محفلوں کے زریعے نوجوانوں کی بہترین تربیت کی جاسکے اختتام پر خواہر زہرا نجفی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے تقریب میں شریک تمام بچیوں کو مبارکباد پیش کی اور مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی کابینہ اور تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree