وحدت نیوز(اسلام آباد) مسئلہ فلسطین پر دنیا کی خاموشی مجرمانہ ہے ،قبلہ اول کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلم امہ کے حکمران ہیں جو غاصب اسرائیل کے ساتھ یارانہ بنانے کے لئے سرگراداں ہیں، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ حمایت فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوا کیا انہوں نے کہ پاکستانی عوام کے دل فلسطین کے مظلومین کے ساتھ ہیں اور پاکستانی عوام کسی بھی صورت اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو قبول نہیں کرئے گی پاکستانی قوم گذشتہ ستر سال سے زیادہ عرصے سے مسئلہ فلسطین پر اپنے فلسطین بھائیوں کے موقف کی تائید کرتی رہی ہے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اسرائیل کو غاصب قرار دیتی ہے ۔مسئلہ فلسطین ایک سلگتا ہوا المیہ ہے جس کے حل کے لئے اب تک کی جانے والی کوششیں کسی صورت سنجیدہ نہیں کہی جاسکتیں کیونکہ اب تک فلسطینی مسلمانوں نا صرف مظالم میں اضافہ ہواہے بلکہ وہ دھیر ے دھیرے اپنے علاقے سے محروم ہوتے چلے گئے ہیں ۔امریکہ اور اس کے حواریوں کے مسلط کردہ ناسور نے دنیاکے امن کو برباد کر رکھا ہے ۔ فلسطینوں کے قتل میں امریکہ اور اسے کے حواری برابر کے شریک ہیں ۔عرب حکمرانوں کی خیانتوں نے مسئلہ فلسطین کو گھمبیر بنا دیا ہے۔مظلوم فلسطینوں کی استقامت اور حوصلے ہی غاصب اسرائیل کی نابودی کا سبب بنیں گے مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہر پلٹ فارم پر اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گی ۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار سابق وزیر قانون سید محمد رضا (آغا رضا) نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کی دفاع اور سالمیت کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار ہے 71 سالون میں ہماری قربانیاں تاریخ کا حصہ ہے جسے مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حلقہ پی بی 26 کے مختلف قبائلی، سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقوں اور خطابات کے دوران کہا کہ ہزارہ ٹاون کے غیور عوام ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

آغا رضا نے کہا کہ کوئٹہ کے ہزارہ مومنین دنیا بھر سے سالانہ اربوں روپے زر مبادلہ کما کر پاکستان بھیجتے ہے۔حلقہ پی بی 26 کے عوام کا  مجلس وحدت مسلمین پاکستان پر اعتماد قابل تحسین ہے حمایت اور تعاون کامیابی کی نویدہے کا رنر میٹنگ میں مختلف محلوں اہلیان ہزارہ ٹاون، علی آباد، مری کالونی، کرنل یونس روڑ، بشیر ٹاون  اور حسین آباد کی طرف سے بھر پور حمایت کا اعلان انکے اعتماد کی دلیل ہے۔

سید محمد رضا نے علاقہ عمائدین سماجی شخصیات کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا اور آپ باشعور عوام نے ہم پر اپنے قمتی ووٹ کے ذریعے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا تو انشاء اللہ تمام تر مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) ملیر کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، ضلع ملیر کا شمارشہر قائد کے کثیر آبادی والے ضلع میں ہوتاہے، برسراقتدار جماعتوں نے عوام کو صرف دھوکا دیا ہے، تبدیلی کا راگ الاپنے والوں نے کامیابی کے تین ماہ گذرجا نے کے باوجود نا ہی کوئی خاطر خواہ کارنامہ انجام دیا نا ہی کسی ترقیاتی منصوبے کا آغاز کیا، 23دسمبر کے دن یوسی 11کے باشعور عوام روٹی کپڑا اور مکان کے جھوے نعرے لگانے والوں اور چوروں، لٹیروں اور بھتہ خوروں کو مسترد کردیں گے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے نامزد اور حمایت یافتہ امیدوار برائے وائس چیئرمین یوسی 11جعفرطیار سید عارف رضا زیدی نے مختلف مقامات پر کارنرمیٹنگز اور مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کیا۔

دریں اثناءعارف رضازیدی نے ایم ڈبلیوایم کے وفد کے ہمراہ عماریاسر سوسائٹی میںمعروف اہل سنت عالم دین مولانا سلیم اللہ سے ملاقات کی یوسی 11کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، مولانا سلیم اللہ نے عارف رضا زیدی کی انتخابی حمایت کا اعلان کیا اور اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایاہے، عارف رضا زیدی نے جعفرطیار سوسائٹی کی مختلف ماتمی انجمنوں اور سنگتوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں اپنی انتخابی ترجیحات سے آگاہ کیا، ملیر جعفرطیار کی ماتمی انجمن لشکر عباس ماتمی سنگت کے بانی ندیم بھائی ،انجمن تنظیم امامیہ کے صدر قیصر جعفری اور فقرہ کمیٹی ماتمی سنگت باب الحوائج غازی ٹاون کے فیصل بھائی نےبھی عارف رضازیدی کے وژن اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں سے متاثرہوکر ضمنی بلدیاتی انتخاب 2018 میں مجلس وحدت مسلمین کے حمایت یافتہ امیدواربرائےوائس چیئرمین یونین کونسل 11جعفرطیار سوسائٹی ملیر سید عارف رضا زیدی کی مکمل حمایت کا اعلان کیااور اہلیان یوسی 11سے نڈر، انسان دوست ،بے لوث ،مخلص ، ایماندار، پہاڑ جیسے عزم وحوصلے کے حامل , عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار سید عارف رضاز یدی کوپہاڑ کے نشان پر ووٹ ڈال کر کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

وحدت نیوز (خیرپور) مجلس وحدت مسلمین ضلع خیرپور کی جانب سے ضمنی بلدیاتی انتخاب برائے چیئرمین یوسی راھوجاکے لئے لکھمیرلوڈرو کو امیدوار نامزد کیاہے، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے فعال کارکن برادر لکھمیرلوڈرو ایم ڈبلیوایم ضلع خیرپور کی تائید وحمایت سے سیب کے نشان پریوسی راھوجاکے چیئرمین کی نشست پر  الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے انتخابی نشان خیمہ کی درخواست کی مگر بوجوہ انہیں سیب کا نشان دیا گیا۔

صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصودڈمکی اور صوبائی پولیٹیکل سیکریٹری علی حسین نقوی نےکہاہے کہ تمام دوست ان کی کامیابی کے لئے دعا کریں اور متعلقہ ضلع کے تنظیمی ساتھی ان کی کامیابی کے لئے باقاعدہ طور پر ان کی انتخابی مہم میں سپورٹ کریں،انشاءاللہ یوسی  راھوجاکے ووٹرز 23دسمبر کو سیب کے نشان پر مہر لگاکر ایم ڈبلیوایم کے حمایت یافتہ نڈربے باک اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار  امیدوار لکھمیرلوڈرو کو کامیاب بنائیں گے۔

وحدت نیوز(شکارپور) درگاہ ماڑی شہید سید حاجن شاہ پر 2013 میں ہونے والے واقعے کا سکھر کی دہشت گردی عدالت میں فیصلہ انصاف کی فتح ہے۔ جس پر اس کیس کے وکلاء اور وارثان شہداء مبارکباد کے مستحق ہیں،سانحہ جیکب آباد اور سانحہ سہون شریف سمیت دھشت گردی کے واقعات کے مجرموں کو بھی پھانسی کی سزا دی جائے،تفصیل کے مطابق 2013 میں درگاہ ماڑی سید شہید حاجن شاہ پر بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں سید حاجن شاہ نے جام شہادت نوش کیااور واقعہ کا فریادی شہید حاجن شاه کے فرزند رجب علی شاہ اور وارثان شہداء کمیٹی شکارپور کے وکلاء کا پینل اظہر حسین عباسی اور مظہر حسین منگریو 2013 سے شہید حاجن شاه کا کیس لڑرہے تھے اور آج سکھر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت خلیل بروہی اور عبدالرحمٰن عرف اسماعيل بروہی پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور پھانسی کی سزا سناتی ہے اور یہ دونوں دھشت گرد شکارپور 30 جنوری 2015 مرکزی کربلا معلی' امام بارگاہ کے واقعہ میں بھی ملوث ہیںاور شہید سید حاجن شاہ شکارپور کے تمام واقعات اور سیہون شریف واقعہ کے ماسٹر مائنڈ حفیظ بروہی روپوش ہیں اور ضمیر معرفانی پر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت باعزت بری کرتی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے آج عدالت کے فیصلے کو حق و سچ کی فتح قرار دیتے ہوئے کہاکہ سانحہ شکارپور کے دو دہشت گردوں کی پھانسی کی سزاکا اعلان خانوادہ شہداءکے دکھوں کا مداواہے، سانحہ کیس کی بھرپور پیروی کرنے پر وارثان شہداء اور وکلاء کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شکارپور کا تاریخی واقعہ جس میں 65 نمازی شہید ہوئے تھے اس ضلع کے 6 سانحات میں 72 شہداء کا کیس جو وکلاء لڑرہے ہیں ان کو اور شہداء کمیٹی کے اراکین کو مسلسل دہشتگردوں کی دھمکیاں مل رہی ہیں ہم حکومت سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وکلاء فریادی گواہوں اور وارثان شہداء کو فی الفور سیکورٹی فراہم کرکے ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس وقت بھی شکارپور میں سیکورٹی کے حوالے سنگین خدشات موجود ہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) کمزور اپنے اوپر ہی غصہ نکالتا ہے،اگر کوئی علمی و فکری طور پرکمزور ہو تو  وہ اپنے گلی محلےوالوں کی  غیبت میں ہی سارا دن صرف کردیتا ہے، جیسے جیسے انسان کی سوچ کاافق وسیع ہوتا جاتا ہے ،اسکے دوستوں اور دشمنوں کی سطح بھی مختلف ہوجاتی ہے، ہم عموماًاپنے ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال میں پھنسے رہتے ہیں اور یا پھر دوسرے ممالک کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں کے بیانات تک محدود رہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے دشمن کی دشمنی ہماری حکومتوں یاسرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ   دشمن تمام اسلامی ممالک، اسلامی ثقافت اور اسلامی تہذیب و تمدن سے بر سر پیکار  ہے۔

بدقسمتی سے ہم انتہائی محدود سوچ اور کمزور اطلاعات کی بنیاد پر  تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں جبکہ ہمارے مخالفین تاریخی تناظر کے ساتھ تجزیہ  اور پلاننگ کرتے ہیں۔۱۱ستمبر ۲۰۰۱ کے واقعات کے بعد دنیا ابھی حالات کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی تو ۱۶  ستمبر ۲۰۰۱کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نےوائٹ ہاوس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ   اس صلیبی جنگ (crusade)، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجنے جا رہا ہے۔ اور امریکی عوام کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں بھی صبر کا مظاہرہ کروں گا۔ لیکن میں امریکی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں ثابت قدم ہوں، اور پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔

اس دور میں ہم جب وقتی حالات کے تحت قومی فیصلے کر رہے تھے   تو  اس وقت مغربی و امریکی اقوام، تاریخی پسِ منظر کے ساتھ ، ہمیں مسلمان سمجھ کربحیثیت مسلمان ہمارا تعاقب کر رہی تھیں۔مذہبی و  دینی بنیادوں پر ہمارا تعاقب اس بات کی دلیل ہےکہ دشمن صلیبی جنگوں کو تسلسل کے ساتھ لڑ رہاتھا، یہ لڑائی کسی اسلامی حکومت تک محدود نہیں   تھی بلکہ اس لڑائی  میں ممالک  کو کھنڈرات  میں تبدیل  کیا گیا، قبائل کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیا گیا،نوجوانوں کو  منشیات کا عادی بنایا گیا،تعلیمی ا داروں کوتباہ کیا گیا ، سول شہریوں کو  یرغمال بنایا گیا ۔اب تک صرف افغانستان میں سول شہریوں پر ٹنوں کے حساب سے بارودی مواد گرایا گیا۔شام و عراق میں انفرااسٹریکچر کو تباہ کرنے کے بعد آثار قدیمہ تک کو منہدم  کر دیا گیا ، صلیبی جنگوںمیں اس سے پہلے دشمن نے ہم پر ہر طرح کاحربہ ازمایا تھا ، حتی کہ ایک صلیبی جنگ  صرف بچوں کے ساتھ  ہی مسلمانوں کے خلاف لڑی گئی تھی۔
"بچوں
تاریخی اسناد کے مطابق 1212ء میں مسلمانوں خلاف کی صلیبی جنگ" لڑی گئی۔ مسیحی راہبوں کا کہنا تھا کہ بڑی عمر کے افراد گنہگار ہوتے ہیں اس لئے ہمیں مسلمانوں پر فتح نصیب نہیں ہورہی  ، جبکہ بچے معصوم ہوتے ہیں ،انہوں نے معصوم بچوں پر مشتمل  37 ہزار کا ایک لشکر بنایا جو فرانس سے روانہ ہوا۔ یہ   لشکر بیت المقدس پہنچنے سے پہلے ہی نیست و نابود ہوگیا۔

اس طرح کے تجربے کرنے کے بعد اب دشمن ہمارے خلاف اپنے بچوں کے لشکر ترتیب نہیں دیتا بلکہ  اب تو ہمارے ہی بچوں کو دہشت گردی کی ٹریننگ دے کر ہمارے اوپر خود کش حملےکرواتا ہے اور اب مسلمانوں کے خلاف جو لشکر ترتیب دئیے جاتے ہیں ان کے ہاتھوں میں صلیب نہیں  بلکہ   ایسا پرچم ہوتا ہے جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہوتا ہے۔

دشمن قدیمی صلیبی جنگوں کے ذریعے تو ہم سے بیت المقدس کو نہیں لے سکا تھا لیکن بعد ازاں نئی حکمت عملی کے ساتھ  بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین چکا ہے۔ اس وقت اسرائیل کاوجود صلیبی ممالک کی حمایت کا ہی مرہون منت ہے۔

مسلمان ایک طرف  طالبان ، القائدہ،داعش اور لشکر جھنگوی سے نبرد ازما ہیں اوردوسری طرف، اسرائیل   اور  بھارت  جیسے ممالک سے پنجہ ازمائی کر رہے ہیں جبکہ صلیبی طاقتیں دونوں محازوں  پر مسلمانوں کے خلاف کھل کر اسلام دشمن ممالک اور تنظیموں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ حتی کہ اگر یمن میں ایک گھنٹے میں ایک بچہ بھوک سے مر جاتا ہے تو یہ سب بھی صلیبی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

اس وقت مشرقی ممالک کا اقتصاد،کرنسی،  سیاست، معدنی ذخائر، فوجی نقل و حرکت اور  آبی وسائل ان سب پر امریکہ و مغرب کاکنٹرول ہے، اور یہ  مکمل کنٹرول انہوں  نے  صلیبی جنگوں کے تجربات کے بعد حاصل کیاہے۔لڑاو اور حکومت کرو کی پالیسی آج مکمل طور پر اسلامی دنیا پر حاکم ہے اورافسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہاہے کہ مسلمان دانشمند اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔

امریکہ ومغرب کا انداز تفکر یہ ہے کہ وہ  ساری دنیاکے مالک ہیں، اور ساری دنیاانکی غلام ہے،لہذا غلاموں کے لئے وہ کسی احترام یا اخلاق کے قائل نہیں ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کے پھینکے گئے بم اس کی واضح دلیل ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے کس بے دردی سے فلسطینیوں کو بے گھر کیا ہے، شام کو کھندرات میں تبدیل کیاہے، عراق کو تہس نہس کیا ہے اور افغانستان کو برباد کیا ہے یہ سب کسی سے ڈھکاچھپا نہیں۔

امریکہ و مغرب کا کینہ حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ ملتوں تک پھیلاہوا ہے،یہ جب کسی ملک  میں داخل ہوتے ہیں تو صرف اس کی  حکومت کو ختم نہیں کرتے بلکہ اس کی ملت کو بھی تباہ کرتے ہیں اور ملتوں کی تباہی کے لئے ، فرقہ واریت، باہمی نفرت، علاقائی تعصب ،فحش فلموں،  اخلاقی فساد، جنسی بے راہروی ، کلاشنکوف کلچر، اغوا برائے تاوان ، اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ نیز منشیات تک کے حربے استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ ومغرب کے حالیہ کنٹرول سے نجات کے لئے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ گلی کوچے کی دوستی و دشمنی سے باہر آئیں اور عالمی اسلامی برادری  کے تصور کےمطابق اپنے نفع و نقصان کا تعین کریں۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم مسجد سےمسجدکے خلاف فتوے، مسلک سے مسلک کے خلاف کتابیں لکھنے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگانے کے بجائے باہمی فاصلوں کو  مٹانے، مشترکہ دشمنوں کو پہچاننے،  اور آپس میں اخوت و رواداری کے فروغ کا خلوص دل سے قصد کریں۔

ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ  ہم بین الاقوامی آمریت کے دور میں جی رہے ہیں، ایسی آمریت جس میں  واضح طور پر یہ پیغام دیاجاتا ہے کہ  ہماری اطاعت کرو، ہمارا ساتھ دو نہیں تو ہم  تمہیں کھنڈرات میں تبدیل کر دیں  گے۔اس زمانےکا آمر جدیدتعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور وہ کمزور اقوام کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت کرنے پر آمادہ نہیں،ایسے میں اگر ہمارے دانشمند  صرف اپنے اوپر ہی غصہ نکالتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو کوستے رہیں گے تو دشمن مزید طاقتور ہوتا جائے گا۔ہمیں دشمن کی علمی و فکری طاقت کو سامنے رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مقابلے کی تیاری کرنی چاہیے۔

ہماری تمام مسلمانوں خصوصاً علمائے  اسلام سے اپیل ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ کو پہچانیے،مسلمانوں کے تاریخی دشمنوں پر ایک نگاہ ڈالئے،دشمنوں کی سازشوں پر لبیک کہنے کے بجائے ، تجزیہ و تحلیل کےذریعے سازشوں  کو بے نقاب کیجئے،  عالم اسلام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیجئے، اور  مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو ابھارنے کے بجائے  وحدتِ اسلامی  کے سورج کو طلوع ہونے دیجئے ، اسی میں پورے عالم بشریت کی بھلائی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کمزور اپنے اوپر ہی غصہ نکالتا ہے،اگر کوئی علمی و فکری طور پرکمزور ہو تو  وہ اپنے گلی محلےوالوں کی  غیبت میں ہی سارا دن صرف کردیتا ہے،ہمیں اب گلی محلے کی سطح سے اوپر آنے  کی ضرورت ہے۔


تحریر: نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 851

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree