وحدت نیوز (آرٹیکل) اوریا مقبول جان کا ایک ویڈیو کلپ سننے کو ملا ، وہ کرونا وائرس کی آڑ میں بھنے جا رہے تھے۔ وہ کرونا وائرس کے بارے میں اپنا ایک من گھڑت فلسفہ پیش کر رہے تھے، ان کہنا تھا کہ اسلامی ممالک میں ایران واحد ملک ہے جو اس قدر متاثر ہوا ہے، ایران کیوں متاثر ہوا ہے اس کے لئے بھی اپنی من پسند وجوہات بیان کر رہے ہیں، پھر انہوں نے اپنا اصلی دکھ بیان کرنا شروع کر دیا، وہ پھٹ پڑے کہ  ایران نے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کروائی اور عراق، شام اور لبنان میں اپنا  کردار ادا کیا وغیرہ وغيره۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی صاحب اوریا مقبول جان صاحب کو یہ سمجھا دیں کہ یہ جو کورونا وائرس ہے یہ اوریا صاحب کے اندر موجود فرقہ پرستی والے وائرس سے بہت مختلف ہے۔

کورونا وائرس آپ کی طرح تعصب اور بغض کا لبادہ اوڑھ کر کسی خاص فرقے، نسل یا قوم کو ٹارگٹ نہیں کرتا۔ یہ ایک بیماری ہے جو کسی کو بھی لائق ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی احتیاطی تدابیر پرعمل نہیں کرے گا تو اس وائرس نے اثر کرنا ہے۔ آپ کی انفارمیشن کے لئے عرض کرتا چلوں کہ اس وقت ایران آٹھویں نمبر پہ ہے اور ایران میں تیزی سے وائرس پر قابو پایا جا رہا ہے اور احتمال ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں میں حالات معمول پر آجاَئے۔دوسری بات انہوں نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا کہا ہے یہ بھی سراسر جھوٹ ہے اور تاریخی حقائق کو توڑ موڑ کے پیش کیا گیا ہے۔


مختصرا یہ کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے اب تک امریکہ، برطانیہ سے ایران کے تعلقات خراب ہے جس کی تاریخ گواہ ہے، کیونکہ انقلاب سے پہلے ایران میں رضا شاہ کی حکومت تھی جو ایک طرح سے امریکہ کا چوکیدار تھا بلا چون چراں امریکہ کی ہر بات کو تسلیم کرتا تھا مگر انقلاب اسلامی نے عالمی طاقتوں کے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور دنیا کے مظلوموں اور مستضعفین کا ساتھ دیا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کسی طرح قبول نہیں تھا۔ یوں ایران پر عراق جنگ مسلط کر دی گئی۔ اس کے بعد پابندیوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا حتی اس وقت کورونا کے اس وبائی مرض سے لڑنے کے لئے ایران کو جو میڈیکل ایکوپمنٹس کی ضرورت ہیں اس پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں جو سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔  پھر بھی ایران، عراق جنگ سے لیکر کورونا جنگ تک اپنے بل بوتے پر لڑ رہا ہے اور دشمنان اسلام سے ڈٹ کر مقابلہ بھی جاری ہے۔

اب بھلا ایران اپنے سب سے بڑے دشمن کے ساتھ مل کر افغانستان میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں کرے گا؟؟ آپ ایک دفعہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں طالبان حکومت سے لیکر آج تک افغان ایران باڈر پر زرہ برابر بھی کوئی نوک جھونک نہیں ہوئی اس کے برعکس پاک افغان پاڈر پر نگاہ ڈالیں جہاں آئے روز کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ یہ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیکر نہیں کیا بلکہ ان کی بہترین حکمت عملی تھی کہ اپنے سرحدوں کو محفوظ رکھا۔ جس کی وجہ سے طالبان حکومت کو ایران کے ساتھ اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ  ایران نے طالبانی حکومت کو تسلیم کیا ہو، ایران طالبانی فکر کے مخالف تھے اور اب بھی ہیں بلکہ دنیا کا ہر باشعور فرد طالبانی طرز حکومت کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ طالبان امریکہ کا ہی پرجکٹس تھا جس کو اس نے اپنے مقاصد کی خاطر پروان چڑھایا اور افغانستان پر مسلط کیا تھا۔

اس کے علاوہ طالبان نے اسلام کے نام پر اپنی من پسند کے قوانین نافظ کئے تھے جن کا اسلام محمدی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، بلکہ طالبانی حکومت نے اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کر کے پیش کیا جس سے اسلام اور مسلمانوں کو کاری ضرب لگی۔ پھر بھی وقتا فوقتا طالبان ایران سے مدد بھی طلب کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں طالبان کے وفد نے ایران کا دورہ بھی کیا۔ اب طالبان کا دورہ ایران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے امریکہ کی افغان جنگ میں کوئی مدد نہیں کی تھی بلکہ دوسرے اسلامی ممالک جنہوں نے طالبان کو پروان چڑھانے میں مدد کی تھی انہوں نے امریکہ کا کھول کر ساتھ دیا تھا۔تیسری بات اوریا مقبول جان صاحب نے عراق، شام اور لبنان میں مسلمانوں کے قتل و عام کا الزام بھی ایران پر لگایا ہے جو صد در صد حقیقت کے منافی ہیں۔ پہلے ہم عراق کی بات کرتے ہیں، انقلاب اسلامی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صدام کے زریعے ایران پر جنگ مسلت کی جو تقریبا آٹھ سال جاری رہا اور دونوں طرف لاکھوں لوگ اس جنگ کے نظر ہوئے یہاں تک کہ جس طرح امریکہ نے طالبان کو استعمال کرنےکے بعد افغان وار شروع کیا تھا بلکل اسی طرح عراقی صدر صدام حسین کو بھی ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کے بعد ۲۰۰۳ میں کیمائیائی ہتھیاروں کے بہانے عراق پر حملہ آور ہوئے۔

امریکی حملے کا مقصد عراقی قدرتی وسائل تیل و گیس وغیرہ پر قبضہ کرنا اور ایران کا گیرا تنگ کرنا تھا۔ ساری دنیا نے ایک دفعہ پھر عراق جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا سوائے ایران کے جس نے نہ صرف اس جنگ کی مخالفت کی بلکہ عراقی عوام کی بھر پور مدد بھی کی۔ صدام حکومت کو ختم کرنے کے بعد امریکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ عراق میں کوئی جمہوری اور عوامی مظبوط حکومت بنے کیونکہ اگر عراق میں کوئی مظبوط حکومت بنتی تھی تو یہ امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی اور امریکہ کے پاس کوئی جواز نہیں بچتا تھا کہ وہ عراق میں مزید قیام کریں۔ لہذا امریکہ نے طالبانی تجربہ کو دھراتے ہوئے اُسی طالبانی زہنیت کے ایک نئے گروہ کو ترتیب دیا تاکہ یہ عراق میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرے اور عراق کو مختلف حصوں میں تقسیم کریں اور امریکہ کو یہاں رہنے کا جواز پیدا کریں، یہ نئے گروہ اس قدر شددت پسند تھے کہ دنیا طالبان اور القاعدہ کو بھول گئی اور یہ گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پشت پناہی میں داعش یا آئی ایس آئی ایس  کے نام سے عراق اور پھر شام کے سر زمین پر ابھرے ان کی وحشت گری نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

امریکہ جو اپنے آپ کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا چئمپین تصور کرتا تھا داعش کے خلاف فیک جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ نے لگا اور ساری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے باوجود داعش نے آدھے عراق پر اپنا تسلت قائم کیا تھا اور بڑی تیزی کے ساتھ دوسرے علاقوں پر قابض ہو رہے تھے۔ انہوں نے اسلام کے نام پر جو دہشت گردی پھیلائی شاید اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، انہوں نے حلال محمدی کو حرام اور حرام محمدی کو حلال کر دیا، ان کے ستم سے بچوں سے لیکر بزرگ، خواتین کوئی بچ نہیں پایا اور سادی دنیا میں اسلام کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ داعش بڑی تیزی کے ساتھ ابھر رہے تھے اور انہوں نے عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی اپنے قدم جمانے شروع کر دئے تھے، داعش کے اس قدر طاقتور ہونے کے پیچھے امریکہ و اسرائیل کے اتحادیوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے ظاہری طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جھنڈا تھاما تھا اور پشت پردہ دہشت گردوں کی ھر طرح سے سپورٹ کر رہے تھے۔ان حالات میں عراق و شام کی حکومت اور عوام کو کسی ایسے طاقت کی ضرورت تھی جو بیک وقت امریکہ اور داعش جیسے لعنت سے مقابلہ کر سکے۔

لہذا عراق و شام کو انقلاب اسلامی ایران کے علاوہ کوئی اور ملک نظر نہیں آیا جو اس مشکل کی گھڑی میں مسلمانوں کی مدد کر سکے، انہوں نے باقاعدہ رسمی طور پر ایران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کی اپیل کی [عراق اور شام کے صدور نے ایران کو رسمی طور دعوت دینے کا کئی دفعہ اعتراف کر چکے ہے] کی یوں ایران نے اپنے بہترین جنگی مشاورین کو شام اور عراق کی طرف بھیجا جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے  چار سے پانچ سال کے قلیل عرصے میں نہ صرف داعش کا خاتمہ کیا بلکہ غاصب امریکہ کا مشرق وسطی اور عرب ممالک میں جینا حرام کر دیا اور امریکی مقاصد کو خاق میں ملا دیا۔ تیسری بات لبنان کی جہاں حزب اللہ نے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے نکال باہر پھینکا ہے اور غاصب صہونیوں کے مقابلے میں ایران نے حزب اللہ کی مدد کی ہے جو جناب اوریا مقبول جان کو پسند نہیں ہے کیونکہ حزب اللہ نے ان کے آقا اسرائیل  کی نیندیں حرام کردی ہیں، اب اسرائیلوں کو نکال باہر کرنے کو جناب اوریا مقبول جان مسلمانوں کا لبنان میں قتل عام کہتے ہیں اور داعش کی شر سے عراقی اور شامی عوام کو نجات دینے اور اسلام کی حفاظت کرنے کو عراق، شام میں قتل عام کہتے ہیں۔ یاد رہیں فلسطین جہاں پر مسلمانوں کا قبلہ اول ہے وہاں کے مزاحمتی تحریکیں جن میں سرفہرست حماس ہے جو مسلکی طور پر سنی مسلمان ہیں ان کو سب سے ذیادہ مدد کرنے والا حزب اللہ اور ایران ہے۔

اگر آپ کو یقین نہ آتا تو حماس اور دوسرے فلسطینی تحریکوں کے بیانات کو دیکھیں جو ایران اور حزب اللہ کے حوالے سے دی گئی ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کے مدد کا طریقہ کار بھی نرالا ہے جس طرح اوریا مقبول جان غاصب صہونیوں اور عالمی ظالموں کے خلاف قیام کرنے والے مظلومین کے خلاف قلم اور زبان سے جہاد کرتے ہیں اسی طرح سعودی عرب بھی عملی میدان میں مصروف عمل ہے، جس کی چھوٹی مثال سعودی عرب میں قید حماس کے رہنماء اور مالی مدد کرنے والے لوگ ہیں جن کو اسرائیل کے اشارہ پر قید کر دیا گیا ہے لیکن مجال ہے اس حوالے سے اوریا مقبول جان صاحب کے قلم اٹھے۔آج اگر ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی کو ہیرو مانتے ہیں تو وہ ایران کے القدس کے کمانڈر شہید قاسم سلیمانی ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا خون کا آخری قطرہ بھی عراقی سرزمین پر گرادیا اور اگر انہوں نے واقعا عراق، شام اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہوتا تو ان کی شہادت کے موقع پر لبنان سے لیکر عراق تک لوگ ان کی تصاویر اٹھا کر سڑکوں پر نہیں نکلتے اور ساری دنیا میں ہلچل نہیں مچتی۔ دہشت گردی کے خلاف قاسم سلیمانی اور ایران کے کردار کو اس وقت ساری دنیا خراج تحسین پیش کرتے ہیں سوائے چند تکفیریوں کے جو اپنے مفادات کی خاطر نہ صرف اسلام کو بدنام کرتے ہیں بلکہ جو لوگ اسلام کی دفاع میں میدان میں حاضر ہیں ان کے خلاف بھی پروپگینڈا کرتے ہیں اور عام عوام کے ذہنوں کو خراب کرتے ہیں۔

جناب اوریا مقبول جان کے اکثر کالم اور ٹاک شوز کو دیکھیں یہ ہمیشہ تکفیری نظریات کی پرچار اور حمایت کرتے نظر آتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی حماس اور دوسرے مجاہدین جو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف بر سرپیکار ہیں کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔ ان کو ہمیشہ طالبان، القاعدہ یا داعش ہی اسلام کے محافظ نظر آتے ہیں جنہوں نے صرف اور صرف اسلام کو بدنام کیا ہے اور اسلام کی حرمت کو پامال کیا ہے، مسجدوں اور اصحاب رسول  ص کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑایا ہے اور مسلمانوں کا قتل و عام کیا ہے، خواتین کی عصمت دری کی ہے اور بچوں کو زبح کیا ہے اور ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کے وفادار رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان صاحب نے ہمیشہ تاریخی حقائق سے لیکر عصر حاضر کے حالات سب کو ایک ہی سوچ اور عینک سے دیکھا ہے اور کبھی سچائی کو سجھنے اور قبول کرنے کی کوشش نہیں کی۔

مختصر یہ کہ اس ایک چھوٹے سے مقالے میں اوریا مقبول جان کی تکفیری نظریات کو بیان نہیں کرسکتا، ناہی ان کے رول ماڈل طالبان، القاعدہ اور داعش وغیرہ کی حقیقت کو بیان کرسکتا ہوں، اور ناہی امریکہ، اسرائیل کے خلاف اور عالم اسلام کی دفاع کے لئے ایران اور مقاومتی بلاک کے کردار کو بیان کرسکتا ہوں۔ میں نے بس مختصرا کچھ حقائق کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ہمیں چاہئے ہمیشہ چار انگلیوں کے فرق کو سمجھیں اور اس فارمولے کو اپنائیں ہمارے کانوں اور آنکھوں کے درمیان چار انگلیوں کا فرق ہے جو آنکھوں سے دیکھیں وہ حقیقت ہے اور جو کانوں سے سنیں اُس پر تحقیق لازم ہے لہذا اس میڈیا وار میں ہمیشہ حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں۔

تحریر: ناصر رینگچن

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلائو کا سبب کوئی ایک بھی زائرنہیں بلکہ حکومت کی ناقص حکمت عملی  کے باعث یہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیلاہے ۔ زائرین کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے کی گئی کردار کشی متعصبانہ عمل ہے ۔ اس ناانصافی و بددیانتی کے خلاف اگر کوئی زائر عدالتی چارہ جوئی کرے گا تو مجلس وحدت مسلمین اس کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبا کے آغاز سے ہمارے فقہا اور مجتہدین عظام نے حکومتی اور طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کرنے کو واجب قرار دیا تھا۔اگر کوئی شخص اس وبا کاشکار ہے اور دانستہ طور پر کسی کو اس مرض کا شکار کرتا ہے تو وہ نہ صرف ملک  وقوم کا مجرم ہے بلکہ سخت ترین گنہ گار بھی ہے۔ایران سے براستہ سڑک آنے والے زائرین  ایران میں اپنی قیام کی مدت پورے کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے جنہیںتفتان میں موجود قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا۔ بد قسمتی سے تفتان کے قرنطینہ سینٹر کا ماحول اور انتظامات کورونا وبا سے بچائو کی ضروری  احتیاطی تدابیر سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔وہاںاکیس روز تک تمام افراد کو ایک جگہ رکھا گیا اور اس حقیقت کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا کہ یہ وبا ایک دوسرے سے فوراََ پھیل سکتی ہے۔ متعلقہ حکام کی اس سنگین  مجرمانہ غفلت کی اصل ذمہ داری وزیر مملکت ظفر مرزا پر عائد ہوتی ہے جن کی ناقص حکمت عملی کے باعث یہ وبا بے قابوہوتی چلی گئی۔قرنطینہ سینٹر سے ان زائرین کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیا گیا ۔وہاں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد انہیں ضلعی قرنطینہ سینٹرز میں بھیج دیا گیا۔ایران سے آنے والے ہر زائر نے چھ چھ ہفتے سے زائر عرصہ مختلف قرنطینہ سینٹر میں گزارا اور متعلقہ  ادارے سے اجازت کے بعد اپنے گھرروانہ ہوئے۔ حکومت کے کچھ ذمہ داران اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کو چھپانے کے لیے زائرین کو نشانہ بنا کر مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کا تعلق کسی بھی مذہبی طبقے سے جوڑ کرقوم کے درمیان فاصلے بڑھانا پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے ۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں حکومت کے وسائل کی کمی کو قومی یکجہتی سے دور کیا جا سکتا ہے تاہم آج اس یکجہتی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے یک جاں ہونے کی بجائے سیاسی بیان بازی  اور مخالفتیں عروج پر نظر آ رہی ہیں جن کے نتائج کس بھی اعتبار سے حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور قوم کومشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے کہا ہے کہ کرونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ضرورت مند افراد کی ہر ممکن مدد کریں۔مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن نے اپنے ذیلی ادارے المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے زریعہ نادار افراد تک مہینے بھر کا راشن پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس نے اپنے دوسرے مرحلے کو مکمل کر کے متعین اہداف حاصل کر لیے ہیں۔جبکہ اگلے اہداف کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہیں جس کے تحت مخیر حضرات اور دیگر آرگنائزیشنز و ورکنگ گروپس کے اشتراک سے عوام کے گھروں میں راشن کی تقسیم، گنجان آباد علاقوں میں سپرے مہم اور ممکنہ بگڑتی صورت حال کے دوران ہنگامی حکمت عملی جیسے مسائل کو ضلعی انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کر کے حل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاون کے سبب شہرقائد کے متاثرہ ڈیلی ویجز ملازمین کیلئے راشن بیگز کی فراہمی میں اب تک ضلع وسطی، غربی،جنوبی، شرقی، ملیر، لانڈھی کورنگی کے پانچ ہزارسے زائد متاثرہ خاندانوں میں بلاتفریق رنگ ونسل مذہب ومسلک تقسیم یہ راشن بیگز تقسیم کیئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ راشن بیگز کی تقسیم کے تیسرے مرحلے کی تیاریوں آغاز بھی کردیا گیا ہے، مخیرحضرات زیادہ سے زیادہ مالی تعاون فرماکر اس کارخیرمیں بھرپورحصہ لیں۔

وحدت نیوز(ڈی آئی خان) قرنطینہ سینٹر ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم 121 زائرین کوروناٹیسٹ منفی آنے پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ کردیئے گئے ہیں ۔ قرنطینہ سینٹر ڈیرہ اسماعیل خان سے فارغ ہوکر جانے والے زائرین کا تعلق اسلام آباد، راولپنڈی، ڈیرہ اسماعیل خان، پاڑاچنار، ہنگو، کوہاٹ، بنوں، مردان، چارسدہ، پشاور، مانسہرہ، صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، اپردیر، مالاکنڈ، سوات، کراچی، گجرانوالہ، گجرات، جھنگ ، منڈی بہاؤالدین سے ہے ۔ قرنطینہ میں موجود باقی زائرین کے رزلٹ منفی آنے کے بعد وہ بھی اپنے گھروں کو روانہ ہو ں گے ۔

مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ اسماعیل خان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید غضنفرعباس نقوی نےزائرین کو الوداع کرتے ہوئے کہاکہ ہم ڈیرہ کی ضلعی انتظامیہ، سٹیشن کمانڈر ڈیرہ ،کمشنر ڈیرہ ،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ،آر پی او ڈیرہ ،ڈی پی او ڈیرہ،ڈاکٹرماجد خان اورمیڈکل سٹاف کا شُکریہ ادا کرتے ہیں ،قرنطینہ سینٹر ڈیرہ اسماعیل خان میں زائرین کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔

انہوں نے کہاکہ زائرین کو بہترین کھانا،بہترین رہائش، بہترین صفائی ، میڈسن وقت پر دی گئی ۔ میں اپنی پوری ٹیم کا بھی شکر گُزار ہوں کہ مومنین کے تعاون سے زائرین تک کپڑے، دودھ،فروٹ ،صابن شیمپو،بچوں کے کھلونے وغیرہ قرنطینہ سینٹر پہنچانے میں مدد کرتےرہے۔


انہوں نے مزید کہاکہ قرنطینہ سینٹر میں موجود باقی زائرین کی خدمت المجلس ڈیزاسٹرمینجمنٹ سیل جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ زائرین ڈیرہ انتظامیہ اور ڈیرہ کے مومنین کی محبت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔

وحدت نیوز (جیکب آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے 10 شعبان المعظم یوم ولادت با سعادت حضرت علی اکبر ع اور یوم جوان کی مناسبت سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت علی اکبر ع اپنی پاکیزہ سیرت اور حسن کردار کے باعث نوجوانوں کے لئے آئیڈیل شخصیت ہیں آپ اخلاق و کردار اور صورت و سیرت میں سیدالانبیاء ص سے شباھت رکھتے تھے اس لئے آپ کو شبیہ پیغمبر کہا گیا۔  آج ہمارے جوانوں کو حضرت علی اکبر ع کی سیرت اپنا کر حق کی سربلندی کے لئے میدان عمل میں رہنا چاہیے۔ حضرت علی اکبر ع کا صبر و حوصلہ شجاعت و معرفت  اور راہ خدا میں ھجرت و جہاد اور امام زمانہ ع کی اطاعت و نصرت ہمارے لئے رہنما اصول ہیں۔

انہوں نےکہا کہ مشکل ترین حالات میں المجلس ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل کے دوستوں کی گرانقدر خدمات لائق صد تحسین ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہمارے نوجوانوں نے قومی امور میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ ہمارے جوانوں کو تعلیمات محمد ص و آل محمد ع کے سائے میں اپنے کردار کو مثالی بنا کر وطن عزیز پاکستان کے سبھی جوانوں کے لئے رہنما بننا چاہئے۔

وحدت نیوز(لاہور) سینئر ممبر پولیٹکل کونسل پنجاب مجلس وحدت مسلمین ,انچارچ المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل لاہور و ساہیوال ڈویژن سید حسین زیدی نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈاکٹر حسین مودود سے ہنگامی بنیادوں پر میٹنگ کی اورکارونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے سبب حلقہ NA. 120کے 175 ضرورت مندخاندانوں کے لیے راشن (مکمل کریانہ + سبزیاں ایک ماہ کا ) موصول کر کے متعلقہ حلقہ کے یونٹ سیکرٹری جنرل خرم نقوی کے سپرد کر دیا ہے جو کہ جلد از جلد میرٹ کی بنیاد پر ضرورت مند افراد کے حوالے کر دیا جائے گا. اس کے علاوہ اور مزید راشن کی دستیابی کے لئے کوششیں جاری ہیں ہم سینئر ممبر پولیٹکل کونسل پنجاب سید حسین زیدی صاحب کی کاوشوں کو سہراتے ہیں ۔

Page 3 of 209

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree