وحدت نیوز(کندھ کوٹ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع کشمور ایٹ کندھ کوٹ کی جانب سے "بھارت اور کشمیر " میں مسلمانوں کے قتل عام اور مساجد سمیت دیگر املاک کو نذرِ آتش کرنے کے خلاف مدرسہ ارشاد الثقلین کندھ کوٹ سے پریس کلب تک "احتجاجی ریلی" نکالی گئی. مظاہرین کی جانب سے" بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام اور گجرات کے قصاب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی، احتجاجی ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی سیکریٹری جنرل میر فائق علی جکھرانی، صابر حسین کربلائی، لالا شبیر سرور پٹھان، عبداللہ چاچڑ اور جاوید احمد میرانی نے کی۔

وحدت نیوز(نیوز ڈیسک) رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری بدترین مظالم کےخلاف جاری بیان کا صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، سابق وزیر خارجہ سینیٹر مشاہد حسین سید ودیگر نے خیرمقدم کیا ہے اوراس کی تائید کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت دہلی سمیت مختلف شہروں میں پھوٹنے والے منظم مسلم کش فسادات کی مذمت میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کی شہادت پر مسلم امت کا دل خون ہو گیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے اس بیان میں لکھا تھا کہ بھارتی حکومت کو انتہاء پسند ہندوؤں اور انکی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو (مسلمانوں کی منظم قتل و غارت سے) روکنا چاہیئے۔

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے بھارتی مسلمانوں کی نسل کُشی کی مذمت پر مبنی بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ پاکستان امام خامنہ ای کے اس ردعمل کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ (بھارتی مسلمانوں کی منظم قتل و غارت کے) اس خطرناک مسئلے پر (امت مسلمہ کی طرف سے) ایک متفقہ موقف سامنے آنا چاہیئے۔ ڈاکٹر عارف علوی کا لکھنا تھا کہ نازی انتہاء پسندی اور میانمار کی مسلم نسل کُشی کے مدنظر یہ مسئلہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کو جنم دے سکتا ہے۔ اپنے پیغام میں پاکستانی صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم نسل کشی کے اس جیسے متعدد نمونوں کو نظرانداز نہ کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے مظالم کا شکار بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای اور ترک صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران نے کہا کہ دونوں سربراہان نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور کشمیریوں پر مظالم کے خلاف زبردست آواز اٹھائی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ افسوس ہے کہ مسلم ممالک کی طرف سےصرف چندایک آوازیں اس کی مذمت کر رہی ہیں، جبکہ مغرب میں ہندو بالادست مودی حکومت کی جانب سے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور اس کی مذمت کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے آیت اللہ خامنہ ای کے بھارتی مسلمانوں کی حمایت میں جاری بیان کوسراہتے ہوئے کہاکہ میں ہندوستان میں جاری مظالم اور مسلمانوں کی نسل کشی کےخلاف سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کا خیرمقدم حمایت اور تعریف کرتی ہوں ۔

سابق وزیر خارجہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے بیان پر درعمل دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار بھارتی مظلوم مسلمانوں کے حق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کا بیان زبردست اور باہمت بیان ہے، ہندوستان کے مظلوم مسلمان بھارتی حکومت کی جانب سے بھیجےگئے آر ایس ایس کے غنڈوں کے ہاتھوں تعصب ، فاشزم اور اسلامو فوبیا کی بدترین شکل کا سامنا کررہے ہیں!

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور مساجد سمیت دیگر املاک کو نذر آتش کرنے کے خلاف جمعے کے روز ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود ڈومکی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی ایما پر مسلمانوں پر تشدد اور قتل کے جو دلخراش واقعات رونما ہو رہے ہیں ان پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔

انہوں نے کہا مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی ہدایات کے مطابق 6 مارچ بعد از نماز جمعہ اسلام آباد،کراچی،لاہور،ملتان، پشاور، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے جن کا مقصد بھارتی حکومت کی نگرانی میں انتہا پسند غنڈوں کے ہاتھوں بھارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے قتل عام پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جارحیت اب سفاکیت میں بدل چکی ہے۔ مسلمانوں کو بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔سیکولر ریاست اور سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے جھاگ کی طرح بیٹھ چکے ہیں۔یہود و ہنود عالم اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت کے ساتھ ہر طرح کے تجارتی و سفارتی روابط منقطع کر کے ان سازشوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف احتجاج میں مرکزی ،صوبائی و ضلع رہنما، معروف مذہبی و سماجی شخصیات اورکارکن شریک ہوں گے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ سٹی کے سیکریٹری جنرل ارباب لیاقت علی ہزارہ نے اپنے بیان میں کہا کے کرونا وائرس کو صرف زائرین سے جوڑنا ان کی منافقانہ طرز عمل کی نشانی ہے۔ اس فاشسٹ پارٹی کو زائرین سے مسئلہ نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام سے مسئلہ ہے ان کو۔ یہ فاشسٹ ٹولا مظلوم ہزارہ مومنین کو نقصان دینے کے درپے ہے اور ہزارہ قوم کو دو گلیوں میں محدود کرنا چاہتے ہے ان زائرین میں پنجاب، سندھ، خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان سے لوگ شامل ہے۔ لیکن زائرین کی آمد سے علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاون میں الہی برکات نازل ہوتے ہیں، کیونکہ وہ زوار امام حسین علیہ السلام، حضرت ابولفضل عباس علیہ السلام، مولا کائنات امام علی علیہ السلام، امام علی رضا علیہ السلام، بی بی معصومہ قم  و دیگر مزارات سے ہوکر آتے ہیں۔

 علاوہ ازیں آگر معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو زائرین کی برکت سے علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاون کے روزگار کا پہیہ تیز ہوتا ہے۔کبھی رکشے والے، تندور والے، سبزی والے، اور پرچون والے سے پوچھ لیں۔ اور یاد رہے ایران میں صرف زائرین نہیں جاتے بلکہ غریب مزدور اور تجارت کے غرض سے بھی لوگ جاتے ہے اور بیان صرف زائرین کے خلاف دینا ان کی منافقانہ سوچ ہے۔ کرونا وائرس افغانستان میں بھی پھیلا تھا نہ تو باڈر بند ہوا اور نہ تو لوگوں کی آمد و رفت بند ہوئی جوکہ سنے میں آیا ہے کے پیر کو افغان باڈر بند کردیا ہے۔ بقول صوبائی حکومت جو زائرین ایران سے آتے ہی ان کو 14 دن تک آئسولیشن وارڈ میں رکھتے ہے جب تک ان کو کلیئرنس نہیں ملتا یہ لوگ تقتان سے نہیں جاسکتے اس فاشسٹ پارٹی کو کون سمجھائے جو کہ صوبائی حکومت میں شامل ہے۔ آئین پاکستان سب کو یہ اجازت دیتا ہے کہ آزادی سے پاکستان کے کیسی بھی حصہ میں آزادی سے گھومے پیرے کیسی کو یہ حق حاصل نہیں کے بکواس کرے۔ زائرین تو بہت خوش ہونگے آگر کانوائے کو ختم کردیا جائے۔ آگر اس فاشسٹ پارٹی کے دونوں ایم پی ایز کے پاس آگر اختیارات ہے تو کانوائے کو ختم کرائے۔ زائرین کوئٹہ آنے کے بجائے ڈائریکٹ تقتان جانا پسند فرمائیں گے

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی رپورٹ کے بعد ایران میں پاکستانی زائرین کی ایک بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔ایران میں موجود پاکستانی سفارت خانہ پاکستانی زائرین کی مشکلات کے ازالے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کررہا جس سے زائرین کی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دیار غیر میں اپنی شہریوں کی مشکلات کا ازالہ کسی بھی سفارت خانے کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

انہوںنے کہاکہ مقامات مقدسہ کی زیارت پر جانے والے پاکستانی شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نکالنے کے لیے حکومت کو ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے چاہیے۔ایران عراق جانے والے زائرین کی ویزہ اور بیرون ملک قیام کی اجازت کا دورانیہ انتہائی مختصر ہوتا ہے۔زائرین نے رہائش و طعام کے ذاتی انتظامات بھی قیام کی مدت کو مدنظر رکھ کر کیے ہوتے ہیں۔ زائرین کے قیام میں طوالت ان کے لیے رہائشی و سفری مشکلات اور اشیائے خوردونوش کی عدم دستیابی کی شکل میں سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ زائرین کی واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا جائے تاکہ زائرین اور ان کے خاندانوں کو درپیش اضطراب کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جو زائرین زمینی راستے کے ذریعے پاکستان کے سرحدی علاقے تفتان میں داخل ہو رہے ہیں انہیں پاکستان ہاؤس میں غیر ضروری قیام پر مجبور کیا جا رہا ہے جو اپنی شہریوں کے ساتھ بدترین زیادتی اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ کروناوائرس کو بنیاد بنا کر زائرین کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) مسئلہ فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک سو سالہ تاریخ میں فلسطین کے باہمت عوام نے صہیونیوں کی ریشہ دوانیوں کا ہمیشہ مقابلہ کیا ہے اور اپنی استقامت اور مزاحمت سے مسئلہ فلسطین کو نابود ہونے سے بچایا ہے۔فلسطینیوں کی مزاحمت ہی ہے کہ جس کا آغاز پتھروں سے شروع ہوا اور آج کے زمانے میں فلسطینی مزاحمت غاصب صہیونیوں کے مقابلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے انجام دے رہے ہیں۔اسرائیل جس کے لئے برطانوی استعمار نے سنہ1917ء میں بالفور اعلامیہ کے تحت فلسطین کی زمین پر قبضہ جمانے کی سازش تیار کی تھی اور سنہ1948ء میں فلسطین کی ارض مقدس پر صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست بعنوان اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

فلسطینی عوام نے اسرائیل کے قیام سے قبل کی جانے والی تمام تر صہیونیوں کی کوششوں کے مقابلہ میں مزاحمت کی اور سینہ سپر رہے اور عالمی فورم پر ہونے والی ہر قسم کی نا انصافی پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز بلند کی۔مسئلہ فلسطین سنہ67ء اور پھر سنہ73ء کی عرب اسرائیل جنگوں کے بعد نابودی کا شکار ہو نا شروع ہو چکا تھا۔ مصر جو اس زمانے میں عرب اسرائیل جنگ میں عرب دنیا کی قیادت کر رہا تھا اور فلسطینیوں کے لئے ایک ڈھارس بنا ہو ا تھا کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں شامل ہونے کے بعد فلسطین کی حمایت سے رفتہ رفتہ دور ہوتا چلا گیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایک طرف اردن میں فلسطینیوں کے لئے مشکلات تھیں تو دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کی آباد کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور غاصب اسرائیل اپنے دیرنہ مقصد یعنی گریٹر اسرائیل (عظیم تر اسرائیل) کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف تھا اور اسرائیل کے صہیونی یہ چاہتے تھے کہ صہیونیوں کی اس جعلی ریاست اسرائیل کی سرحدوں کی وسعت نیل کے ساحل سے فرات تک کھینچ دی جائے۔یہ ایک ایسے زمانے کی شروعات تھی کہ عرب دنیا میں اور خاص طور پر فلسطینی عربوں میں مصر کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں شمولیت کی وجہ سے مایوسی کے بادل چھا گئے تھے۔

ایسے حالات میں فلسطین کی آزادی کی ایک اور کرن ایرا ن میں اسلامی انقلاب کی صورت میں نمودار ہوئی اور اس انقلاب کے بانی حضرت آیت اللہ امام خمینی ؒ نے فلسطین کے لئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور ایران میں اسرائیل کے سفارت خانہ کو فلسطینی سفارت خانہ میں بدلنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کی ہر سطح پر مدد کرنے کا اعلان کیا اور عملی طور پر اس مدد کو انجام دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب فلسطینی عوام کی مزاحمت کمزور ہو چکی تھی اور اسرائیل طاقت کے نشے میں مست ایک بد مست ہاتھی کی طرح علاقے کے ممالک میں در اندازی کر رہا تھا اور اپنے عظیم تر اسرائیل کے منصوبہ کو تکمیل کے خواب کی کوششوں میں مصروف عمل تھا۔ان حالات میں فلسطین میں اسلامی مزاحمت نے از سر نو جد وجہد کا آغاز کر دیا، لبنان میں اسلامی مزاحمت نے اسرائیل کے خلاف اپنی کاروائیوں کا آغاز کر دیا، شام نے فلسطین کی حمایت میں کھڑے ہو کر صہیونیوں کو بہت بڑا جھٹکا پہنچایا۔ان حالات کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان سے فرار ہونے پر مجبور ہوا، فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے وجود نے امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔حالات اس ڈگر پر آن پہنچے ہیں کہ آج غرب ایشیائی ممالک میں امریکہ اور اسرائیل کی پہلی جیسی قوت باقی نہیں رہی ہے۔

 آج فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ اسرائیل چند گھنٹوں سے زیادہ فلسطینی مزاحمت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہاہے، حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کو اس قدر گھٹنوں پر ٹیکا دیا ہے کہ حزب اللہ جب اور جہاں چاہتی ہے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی قابض افواج پر نشانہ وار حملہ کرتی ہے اور اسرائیل اس قابل نہیں کہ اپنا دفاع بھی کر سکے۔آج فلسطینی عوام کی جد وجہد پہلے سے کئی گنا تیز ہو چکی ہے، یہ فلسطینیوں کی ایک سو سالہ جد وجہد کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں عالمی شیطانی قوتوں کو فلسطینیوں کے سامنے شکست کا سامنا ہے۔امریکی صدر نے فلسطین سے متعلق صدی کی ڈیل کا اعلان کیا ہے تاہم فلسطینیوں نے صدی کی ڈیل کو اپنی مزاحمت سے ناکام بنا دیا ہے۔آج امریکی حکومت اسرائیل کی غاصب حکومت کے ساتھ مل کر فلسطینیوں پر اپنے فیصلے تھونپنا چاہتی ہے لیکن فلسطینیوں کی مزاحمت کے باعث امریکہ اور اسرائیل کو ناکامی کا سامنا ہے۔ امریکی حکام اس قدر بوکھلا ہٹ کا شکار ہیں کہ دوسرے ممالک میں دوسرے ملکوں کو فوجی افسران پر حملے کرکے انہیں قتل کر رہے ہیں جس کی تازہ مثال حال ہی میں امریکی صدر کے احکامات پر بغداد میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی کو شہید کیا گیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکی و صہیونی سازشوں کے مقابلہ میں اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کا مرکز و محور فلسطین ہے۔فلسطین کی آزادی کے لئے جاری جد وجہد ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس عنوان سے خود صہیونی تجزیہ نگاروں نے بھی اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ اسرائیل عنقریب دنیا کے نقشہ سے محو ہو جائے گا اور فلسطین کی آزادی حتمی ہے۔ اسرائیل میں ایک نامور مورخ اور پروفیسر بنی موریس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں اور مقبوضہ فلسطین کے رہنے والے فلسطینیوں کے حوصلوں میں روزانہ اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔دوسری طرف فلسطینیوں نے اپنے حق واپسی کی صدا بلند کر رکھی ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر انداز نہیں کر سکتی کیونکہ فلسطینیوں کو دنیا کا کوئی بھی قانون اپنے وطن فلسطین واپس آنے سے نہیں روک سکتا۔اسی طرح امریکی صدر کے منصوبہ صدی کی ڈیل پر بھی فلسطینی مجبور نہیں ہو رہے کہ وہ امریکی صدر کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سرزمین فلسطین دھیرے دھیرے خود بخود ان کے قبضہ میں واپس چلی جائے گی۔صرف انہیں ایک دو نسلوں تک صبر کرنے کی ضرورت ہے یہاں تک کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل نابود ہو جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی حتمی ہے اور اسرائیل کا زوال شروع ہو چکا ہے جو عنوریب اسرائیل کی نابودی اور دنیا کے نقشہ سے محو ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا اور یقینا خداوند کریم کا فیصلہ مظلوموں کی حمایت میں ہی ہے کہ مظلوموں کی حکومت قائم ہو کر رہے گی۔


 تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

Page 5 of 208

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree