وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی رپورٹ کے بعد ایران میں پاکستانی زائرین کی ایک بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔ایران میں موجود پاکستانی سفارت خانہ پاکستانی زائرین کی مشکلات کے ازالے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کررہا جس سے زائرین کی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دیار غیر میں اپنی شہریوں کی مشکلات کا ازالہ کسی بھی سفارت خانے کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

انہوںنے کہاکہ مقامات مقدسہ کی زیارت پر جانے والے پاکستانی شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نکالنے کے لیے حکومت کو ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے چاہیے۔ایران عراق جانے والے زائرین کی ویزہ اور بیرون ملک قیام کی اجازت کا دورانیہ انتہائی مختصر ہوتا ہے۔زائرین نے رہائش و طعام کے ذاتی انتظامات بھی قیام کی مدت کو مدنظر رکھ کر کیے ہوتے ہیں۔ زائرین کے قیام میں طوالت ان کے لیے رہائشی و سفری مشکلات اور اشیائے خوردونوش کی عدم دستیابی کی شکل میں سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ زائرین کی واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا جائے تاکہ زائرین اور ان کے خاندانوں کو درپیش اضطراب کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جو زائرین زمینی راستے کے ذریعے پاکستان کے سرحدی علاقے تفتان میں داخل ہو رہے ہیں انہیں پاکستان ہاؤس میں غیر ضروری قیام پر مجبور کیا جا رہا ہے جو اپنی شہریوں کے ساتھ بدترین زیادتی اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ کروناوائرس کو بنیاد بنا کر زائرین کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) مسئلہ فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک سو سالہ تاریخ میں فلسطین کے باہمت عوام نے صہیونیوں کی ریشہ دوانیوں کا ہمیشہ مقابلہ کیا ہے اور اپنی استقامت اور مزاحمت سے مسئلہ فلسطین کو نابود ہونے سے بچایا ہے۔فلسطینیوں کی مزاحمت ہی ہے کہ جس کا آغاز پتھروں سے شروع ہوا اور آج کے زمانے میں فلسطینی مزاحمت غاصب صہیونیوں کے مقابلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے انجام دے رہے ہیں۔اسرائیل جس کے لئے برطانوی استعمار نے سنہ1917ء میں بالفور اعلامیہ کے تحت فلسطین کی زمین پر قبضہ جمانے کی سازش تیار کی تھی اور سنہ1948ء میں فلسطین کی ارض مقدس پر صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست بعنوان اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

فلسطینی عوام نے اسرائیل کے قیام سے قبل کی جانے والی تمام تر صہیونیوں کی کوششوں کے مقابلہ میں مزاحمت کی اور سینہ سپر رہے اور عالمی فورم پر ہونے والی ہر قسم کی نا انصافی پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز بلند کی۔مسئلہ فلسطین سنہ67ء اور پھر سنہ73ء کی عرب اسرائیل جنگوں کے بعد نابودی کا شکار ہو نا شروع ہو چکا تھا۔ مصر جو اس زمانے میں عرب اسرائیل جنگ میں عرب دنیا کی قیادت کر رہا تھا اور فلسطینیوں کے لئے ایک ڈھارس بنا ہو ا تھا کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں شامل ہونے کے بعد فلسطین کی حمایت سے رفتہ رفتہ دور ہوتا چلا گیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایک طرف اردن میں فلسطینیوں کے لئے مشکلات تھیں تو دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کی آباد کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور غاصب اسرائیل اپنے دیرنہ مقصد یعنی گریٹر اسرائیل (عظیم تر اسرائیل) کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف تھا اور اسرائیل کے صہیونی یہ چاہتے تھے کہ صہیونیوں کی اس جعلی ریاست اسرائیل کی سرحدوں کی وسعت نیل کے ساحل سے فرات تک کھینچ دی جائے۔یہ ایک ایسے زمانے کی شروعات تھی کہ عرب دنیا میں اور خاص طور پر فلسطینی عربوں میں مصر کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں شمولیت کی وجہ سے مایوسی کے بادل چھا گئے تھے۔

ایسے حالات میں فلسطین کی آزادی کی ایک اور کرن ایرا ن میں اسلامی انقلاب کی صورت میں نمودار ہوئی اور اس انقلاب کے بانی حضرت آیت اللہ امام خمینی ؒ نے فلسطین کے لئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور ایران میں اسرائیل کے سفارت خانہ کو فلسطینی سفارت خانہ میں بدلنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کی ہر سطح پر مدد کرنے کا اعلان کیا اور عملی طور پر اس مدد کو انجام دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب فلسطینی عوام کی مزاحمت کمزور ہو چکی تھی اور اسرائیل طاقت کے نشے میں مست ایک بد مست ہاتھی کی طرح علاقے کے ممالک میں در اندازی کر رہا تھا اور اپنے عظیم تر اسرائیل کے منصوبہ کو تکمیل کے خواب کی کوششوں میں مصروف عمل تھا۔ان حالات میں فلسطین میں اسلامی مزاحمت نے از سر نو جد وجہد کا آغاز کر دیا، لبنان میں اسلامی مزاحمت نے اسرائیل کے خلاف اپنی کاروائیوں کا آغاز کر دیا، شام نے فلسطین کی حمایت میں کھڑے ہو کر صہیونیوں کو بہت بڑا جھٹکا پہنچایا۔ان حالات کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان سے فرار ہونے پر مجبور ہوا، فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے وجود نے امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔حالات اس ڈگر پر آن پہنچے ہیں کہ آج غرب ایشیائی ممالک میں امریکہ اور اسرائیل کی پہلی جیسی قوت باقی نہیں رہی ہے۔

 آج فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ اسرائیل چند گھنٹوں سے زیادہ فلسطینی مزاحمت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہاہے، حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کو اس قدر گھٹنوں پر ٹیکا دیا ہے کہ حزب اللہ جب اور جہاں چاہتی ہے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی قابض افواج پر نشانہ وار حملہ کرتی ہے اور اسرائیل اس قابل نہیں کہ اپنا دفاع بھی کر سکے۔آج فلسطینی عوام کی جد وجہد پہلے سے کئی گنا تیز ہو چکی ہے، یہ فلسطینیوں کی ایک سو سالہ جد وجہد کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں عالمی شیطانی قوتوں کو فلسطینیوں کے سامنے شکست کا سامنا ہے۔امریکی صدر نے فلسطین سے متعلق صدی کی ڈیل کا اعلان کیا ہے تاہم فلسطینیوں نے صدی کی ڈیل کو اپنی مزاحمت سے ناکام بنا دیا ہے۔آج امریکی حکومت اسرائیل کی غاصب حکومت کے ساتھ مل کر فلسطینیوں پر اپنے فیصلے تھونپنا چاہتی ہے لیکن فلسطینیوں کی مزاحمت کے باعث امریکہ اور اسرائیل کو ناکامی کا سامنا ہے۔ امریکی حکام اس قدر بوکھلا ہٹ کا شکار ہیں کہ دوسرے ممالک میں دوسرے ملکوں کو فوجی افسران پر حملے کرکے انہیں قتل کر رہے ہیں جس کی تازہ مثال حال ہی میں امریکی صدر کے احکامات پر بغداد میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی کو شہید کیا گیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکی و صہیونی سازشوں کے مقابلہ میں اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کا مرکز و محور فلسطین ہے۔فلسطین کی آزادی کے لئے جاری جد وجہد ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس عنوان سے خود صہیونی تجزیہ نگاروں نے بھی اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ اسرائیل عنقریب دنیا کے نقشہ سے محو ہو جائے گا اور فلسطین کی آزادی حتمی ہے۔ اسرائیل میں ایک نامور مورخ اور پروفیسر بنی موریس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں اور مقبوضہ فلسطین کے رہنے والے فلسطینیوں کے حوصلوں میں روزانہ اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔دوسری طرف فلسطینیوں نے اپنے حق واپسی کی صدا بلند کر رکھی ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر انداز نہیں کر سکتی کیونکہ فلسطینیوں کو دنیا کا کوئی بھی قانون اپنے وطن فلسطین واپس آنے سے نہیں روک سکتا۔اسی طرح امریکی صدر کے منصوبہ صدی کی ڈیل پر بھی فلسطینی مجبور نہیں ہو رہے کہ وہ امریکی صدر کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سرزمین فلسطین دھیرے دھیرے خود بخود ان کے قبضہ میں واپس چلی جائے گی۔صرف انہیں ایک دو نسلوں تک صبر کرنے کی ضرورت ہے یہاں تک کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل نابود ہو جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی حتمی ہے اور اسرائیل کا زوال شروع ہو چکا ہے جو عنوریب اسرائیل کی نابودی اور دنیا کے نقشہ سے محو ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا اور یقینا خداوند کریم کا فیصلہ مظلوموں کی حمایت میں ہی ہے کہ مظلوموں کی حکومت قائم ہو کر رہے گی۔


 تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی جانب لاہور ایوان صنعت و تجارت میں یوم مادر کے سلسلے میں سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمنار میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی اہلیہ پروین سرور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

لاہور ایوان صنعت و تجارت میں سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے موضوع پر ہونیوالے سیمینار میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہر انقوی ،معروف اینکر عروج ناصر، سرور شجاع، سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع لاہورمحترمہ حنا تقوی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری محترمہ عظمٰی نقوی، شفا زہرا، عذرا بتول، زاہدہ طارق، دعا زہرا، سیدہ کوکب حنا، جبیں زہرا، سیدہ صباحت مشہدی، سمیعہ رضوی، لاہور چیمبر کی سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر نبیلہ انتظار سمیت دیگر نے شرکت کی۔

سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع لاہورمحترمہ حنا تقوی کا کہنا تھا کہ سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ملاحظہ کرنے کے بعد صنف نازک سے تعلق رکھنے والی تمام ماؤں اور بہنوں کو چاہیئے کہ وہ خود کو نہ صرف زبانی کلامی حد تک سیرت زہراء سلام اللہ علیہا کا پیروکار نہ بنائیں بلکہ عملی میدان میں بھی سیرت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر عمل پیرا ہونے کا ثبوت دیں۔

اس موقع پر بیگم پروین سرور کا کہنا تھا کہ دین ہمارے گھر سے شروع ہوتا ہے اور اس کی بہترین مثال رسول اللہ (ص) اور ان کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب خواتین کو ان کی سیرت پر عمل کرنا چاہیئے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وہ اپنی ماں کی دعاؤں سے یہاں تک پہنچی ہیں اور ماں باپ کی دعائیں انسان کو بہت اوپر لے جاتی ہیں اس لئے ہمیں ان کی دعائیں لینی چاہئیں۔

وحدت نیوز(پشاور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے جامعہ شہید عارف الحسینی میں بزرگ عالم دین اور سابق سینیٹر علامہ سید جواد ہادی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملکی صورتحال پر بات چیت کی گئی اور خاص طور پر مدرسہ کلائیہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ایم ڈبلیو ایم رہنماء ارشاد حسین بھی موجود تھے۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اس مدرسہ سے شہید قائد علامہ عارف الحسینی کیوجہ سے ہماری خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، مجلس وحدت مسلمین اپنے شہید قائد کے مشن پر ہی روز اول سے گامزن ہے اور الحمد اللہ اسی مشن کو جاری رکھے گی۔

وحدت نیوز(فیصل آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین فیصل آباد کی جانب سے میلاد حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا پر جشن سعید کا انعقاد کیا گیا ،بچیوں کو عبادت اور حجاب کی جانب تشویق اور ترغیب دلانے کی غرض سے اس پروگرام کو جشن عبادت اور حجاب کے عنوان سے منایا گیا اور نماز و حجاب کے احکام عملی طور بچیوں کو سکھاۓگئے  ۔

جشن میں ضلع فیصل آباد کی تمام کابینہ اراکین نے شرکت کی اس موقع پر خصوصی خطاب مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری سیاسیات محترمہ نرگس سجاد اور مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود محترمہ فرحانہ گلزیب نے خطاب کیا، علاوہ ازیں ضلع فیصل آباد کی سیکرٹری جنرل محترمہ مقدس نقوی اور سیکرٹری نشر و اشاعت محترمہ ثمینہ نقوی نے بھی خطاب کیا ۔

جشن سے خطاب کرتے ہوے مقررین نے سیرت جناب فاطمة الزھرا کی روشنی میں خواتین پر عائد ذمہ داریوں کو بیان کیا اور معاشرہ سازی میں عورت کے کردار کے حوالے سے گفتگو کی جشن کے اختتام پر بچیوں میں انعامات تقسیم کیے گئے

وحدت نیوز(ملتان) محترمہ حنا تقوی کی پرنسپل جامعہ خدیجة الکبری ملتان کی محترمہ تصدق زھرا سے ملاقات اور اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ محترمہ حنا تقوی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیوایم وومن ونگ لاھور نے ملتان میں میلاد جناب فاطمہ زھرا س کی مناسبت سے منعقدہ سالانہ کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا بعد ازاں جامعہ خدیجة الکبری کی پرنسپل محترمہ تصدق زھرا اور مختلف شعبہ ہاۓ زندگی سے تعلق رکھنے والی فعال خواتین سے ملاقات کی جس میں  مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا  خواتین کا معاشرے میں مثبت تعمیری اور فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اس موقع پر محترمہ حنا تقوی نے ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور تنظیمی منشور سے آگاہ کیا اور خواتین کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے دین و ملت کی خدمت کرنے کی دعوت دی۔

Page 7 of 209

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree