وحدت نیوز(آرٹیکل) جس دن امریکی وزیر دفاع نے ہمارے سپہ سالار کو ٹیلی فون کیا اُسی دن وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں ایک یوٹیلٹی سٹور کا دورہ کر رہے تھے۔ اُسی دن ایرانی سفیر بھی فوج کے سربراہ سے ملے۔ یہ رہا ہمارے حکومتی بندوبست کا اصل چہرہ، کہ کون کس کام پہ لگا ہوا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان فون کیا۔ انہوں نے فون ملایا تو آرمی چیف کو۔ وزیر اعظم کو فون کرنے کا تکلّف کیوں نہ برتا‘ وہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ موجودہ حکومتی بندوبست میں کام بڑے خوبصورتی سے بٹے ہوئے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹوروں اور یہ جو تماشا غریبوں کیلئے پناہ گاہوں کی شکل میں کھیلا جا رہا ہے‘ اِن کے دورے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ذمے ہیں۔ کبھی وزیر اعظم کسی پناہ گاہ میں مسکینوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے ہوتے ہیں کبھی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار۔ دیگر معاملات یا یوں کہیے تھوڑے سے بڑے معاملات سپہ سالار نمٹا لیتے ہیں۔ بس انہی خطوط پہ حکومتی بندوبست استوار ہے۔ اور یہ ہیں وہ عوام کے چیمپئن جن سے اُمیدیں وابستہ تھیں کہ وہ قوم کی تقدیر بدلنے والے ہیں اور طیب اردوان نہیں تو مہاتیر محمد بننے جا رہے ہیں۔

یوٹیلٹی سٹور کا دورہ تو ایک واقعہ ہوا۔ آئے روز اسلام آباد میں کوئی بے معنی سی تقریب منعقد ہوتی ہے جس کا نہ کوئی مقصد نہ فعالیت اور وزیر اعظم صاحب پہنچے ہوتے ہیں اور حسبِ عادت ایک فی البدیہہ تقریر چنگھاڑ دیتے ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال تو کرپشن اور ممکنہ این آر او سے گزارہ ہو گیا۔ ملک میں ہیں یا کسی غیر ملکی دورے پہ وہی ایک تقریر، وہی گھسے پٹے جملے، اور کام چل جاتا تھا۔ اب یہ ایران اور امریکا والا مسئلہ آ گیا ہے۔ کل ایک اور تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، مبینہ طور پہ ہنر مند پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کی خاطر۔ نون لیگ والوں نے تو پھبتی کَسی کہ یہ نواز شریف کا ایک پرانا پروگرام تھا جسے کچھ رنگ روغن کر کے نئے پروگرام کے طور پہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کو جانے دیجیے۔ جو تقریر وزیر اعظم صاحب نے فرمائی‘ اُس میں انہوں نے کہا کہ ہم ایران، سعودی عرب اور امریکا میں دوستی کے خواہاں ہیں اور اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اِسے کہتے ہیں‘ پدّی کا شوربہ۔

تقریباً کل ہی کی بات ہے کہ ہم سعودی عرب سے جھاڑ پی چکے ہیں۔ اِسی کی وجہ سے بہتر یہی سمجھا گیا کہ کوالالمپور میں مہاتیر محمد کی بلائی گئی کانفرنس میں شریک نہ ہوں۔ حالانکہ جیسا ہم سب جانتے ہیں اِس کانفرنس کے تجویر کنندہ ہم بھی تھے۔ بہرحال جھاڑ پڑی تو ہوش ٹھکانے آ گئے اور کمال دانش مندی سے ایک اور یُو ٹرن لے لیا گیا۔ اِس سارے ماجرے میں پاکستان کی رسوائی کیا ہوئی‘ وہ الگ کہانی ہے۔ اب بوساطتِ وزیر اعظم ایک اور شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ ہم ان تین ممالک میں دوستی کراتے ہیں۔ یہ تین ممالک ایسے ہیں کہ امریکا اور سعودیہ ایران کو نہیں دیکھ سکتے اور ایران اِن دونوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اور ہم ان میں دوستی کرانے چلے ہیں۔ پدّی کی دوبارہ بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ان تینوں ممالک کی استطاعت ہم سے کچھ زیادہ ہے۔ ہم ہیں اور ہمارا ناقابل تسخیر کشکول۔ اِس کشکول کے سہارے اِس نئے اَمن مشن پہ چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صرف اِتنی احتیاط کر لی جائے کہ اپنے سے بڑے جھگڑے میں قدم رکھنے سے ملک کی مزید رسوائی نہ ہو جائے۔ سوال تو یہ ہے کہ ایسے عقل کے جھٹکے وزیر اعظم صاحب کو آتے کہاں سے ہیں؟ بیٹھے بٹھائے بغیر سوچے اور مزید برآں بغیر کسی سے پوچھے ایسے بیان داغ دیتے ہیں۔ جھاڑ سہہ کے اور کوالالمپور کانفرنس میں نہ جا کے پاکستان پہلے ہی کافی بے نقاب ہو چکا ہے۔ مزید اپنے ملک کی جگ ہنسائی پہ ہم کیوں تُلے ہوئے ہیں۔ کچھ تو خیال کر لیں۔

کئی ای میل جو مجھے کبھی کبھار آتے تھے انہیں اَب پڑھ کے حیران ہوتا ہوں۔ کوئی تنقیدی الفاظ عمران خان کے بارے میں ہمارے منہ سے نکلے نہیں اور پی ٹی آئی والے ایسی ایسی سُنانے لگ پڑتے تھے۔ گالیاں تو اُن کا عام معمول تھا اور ساتھ ہی یہ کہتے کہ تمہیں پتہ نہیں خان صاحب ملک کی تقدیر بدلنے جارہے ہیں۔ ہم تو کچھ نہ کچھ خان صاحب کی صلاحیتوں کے بارے میں جانتے تھے۔ جو زیادہ واقفانِ حال تھے سمجھاتے کہ تم یہ کیا نیا مسیحا سمجھ کے خان سے اُمیدیں لگائے بیٹھے ہو۔ پھر بھی ہم کہتے تھے کہ جن کو ہم بھگت چکے ہیں‘ اُن دونوں سے تو یہ بہتر ہوں گے۔ پھر وہی تعریف و توصیف کی کہانی آتی کہ ذاتی طور پہ بے داغ ہیں، کرپٹ نہیں اور سخت گیر آدمی ہوتے ہوئے سب کو درست کر دیں گے۔ واقفانِ حال سمجھانے کی کوشش کرتے کہ اِس فضول کے رومانس میں کیوں پڑے ہوئے ہو۔ پلے شے ہے کوئی نہیں تو کس چیز کا انتظار ہے؟ لیکن ہماری بھی عادت بن چکی تھی کہ نواز شریف کرپٹ اور زرداری ملک کو کھا گیا‘ ہمیں ایک بے داغ قیادت کی ضرورت ہے۔

ہمارے دوسرے بھائی‘ کیا کہیں کہ کون سے بھائی اور کس ادارے سے‘ کا اپنا ایجنڈا تھا۔ مقصد تھا نوازشریف سے حساب برابرکرنا۔ پانامہ سکینڈل ایک ایسی چیز تھی جو واقعی آسمانوں سے گری۔ اگلوں کے ہاتھ لگی تو پھر بات سے بات نکلتی گئی اور آخری نتیجہ نواز شریف کی اقتدار سے سبکدوشی تک پہنچا۔ ایک طرف خان صاحب کرپشن کا راگ الاپ رہے تھے اور دوسری طرف دوسرے‘ کیا کہیں کون‘ وہ بھی اپنے مقصد سے لگے ہوئے تھے۔ الیکشن جیسے ہوئے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ ہمارا ملک زرعی ملک ہے‘ اس لئے کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ زراعت اور اُس سے جڑے ہوئے محکموں کا الیکشن میں خاصا کردار رہا۔ کچھ ریاضی کا بھی کمال تھا۔ ایسی جمع تفریق کی گئی کہ خان صاحب کا دیرینہ خواب پورا ہوا اور وہ وزیر اعظم بن گئے۔

پانامہ سے لے کر انتخابات تک یہ ایک بڑی مشق تھی۔ جو اِس مشق کے اہداف تھے وہ بڑی خوبصورتی سے حاصل کیے گئے۔ لیکن اُس کے بعد جو حشر ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہماری تاریخ میں بڑے بڑے موڑ اور بڑے بڑے فیصلے ایسے آئے جن میں عقل یا سمجھداری کا عمل دخل کچھ زیادہ نہ تھا۔ لیکن ناسمجھی کی حدیں جو اب پار کی جا رہی ہیں اُس کی نظیر ہماری ہوش رُبا تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ اور نتیجہ اِس صورتحال کا وہی نکل رہا ہے جو منطق کے عین مطابق ہے۔ جب خود ڈرائیونگ کی اہلیت زیادہ نہ ہو تو اوروں کا کنٹرول سنبھالنا قدرتی امر ہے۔ اُن کا ہاتھ پہلے بھی سٹیرنگ پہ تھا۔ راستے کا تعین وہی کرتے تھے لیکن پھر بھی کچھ دکھاوے کا لحاظ کیا جاتا تھا۔ خان صاحب کی صلاحیتوں اور کارناموں کی وجہ سے وہ دکھاوا بھی اب ختم ہو چکا ہے۔ اَب تو کام کی تفریق سامنے نظر آتی ہے۔ یوٹیلٹی سٹور اور جو چند ایک مفت کھانے کی پناہ گاہیں ہیں وہ آپ سنبھالیں، دیگر معمولات ہم دیکھ لیں گے۔ باقی دنیا بہری یا اندھی نہیں۔ وہ شاید ہم سے زیادہ پاکستان کے حالات سے باخبر ہے۔ اسی لیے امریکی وزیر خارجہ فون کرتا ہے تو آرمی چیف کو۔ امریکی وزیر دفاع نے کچھ کہنا ہو تو آرمی چیف سے کہتا ہے۔ سفیروں نے با مقصد گفتگو کرنی ہو تو جی ایچ کیو کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اِس دوران وزیر اعظم صاحب ایک نئی تقریر فرما دیتے ہیں۔ جس کا نہ سر نہ پاؤں۔

پارلیمنٹ بھی ہم نے دیکھ لی ہے۔ پہلے بھی اُس کے بارے میں کچھ زیادہ غلط فہمی نہ تھی‘ لیکن رہی سہی کسر توسیع کے معاملے میں پوری ہو گئی ہے۔ ہماری تاریخ تابعداری کے مظاہروں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن اِس بار جو حب الوطنی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تابعداری کا مظاہرہ ہوا اُس کی مثال پرانے اوراق میں نہیں ملتی۔ سوائے چھوٹی پارٹیوں کے جنہوں نے پارلیمانی عزت کا کچھ خیال رکھا تینوں بڑی پارٹیوں نے کمال ہی کر دیا۔ جمہوریت کے حسن بہت ہوں گے لیکن پاکستانی جمہوریت کا حسن نرالا ہے۔

تحریر: ایاز امیر

وحدت نیوز(کوہاٹ) مجلس وحدت مسلمین ضلع کوہاٹ کے زیر اہتمام شہید قاسم سلیمانی مہدی مہندس اور انکے با وفا ساتھوں کی  یاد میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیکرٹری جنرل علامہ وحید کاظمی نے مجلس ترحیم سے خطاب کیا۔ انہوں نے امریکہ کے بزدلانہ حملے اور اسلام دشمن پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ صوبائی سیکرٹری جنرل نے شہید قاسیم سلیمانی اورمہدی مہندس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

 انہوں نے کہا اس عظیم شہید کے بدولت وہ کام جو سالوں میں نہیں ہوسکیں صدر ٹرمپ کی بےوقوفیوں کی وجہ سے چند دونوں میں رونما ہوگئے۔ ایران اورعراق میں عوامی اتفاق اتحاد نے امریکہ کی نیندیں حرام کردی ہیں جو وہ کھبی نہیں چاہتےتھے۔ اس موقع پر امریکہ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا، صدر ٹرمپ کی تصویر اور امریکی پرچم نزر آتش کیا گیا۔

 اجتماع میں مختلف تنظیموں کے نمائندگان، ایم ڈبلیوایم کے صوبائی سیکریٹری جنرل وحیدعباس کاظمی، شیعہ علماء کونسل کےصوبائی صدر حمید حسین امامی، امامیہ علماء کونسل علامہ قیصر عباس الحسینی ، قومی وحدت کونسل کے چیئرمین آغا سید عبدالحسین الحسینی ،علامہ محمد باقر منتظری ،علامہ سید ثاقب حسین شیرازی ،علامہ اشرف علی قرائتی نے اپنے خطابات سے شہداء کوخراج  عقیدت پیش کیا۔ ان خطباء کے علاوہ دسیوں علماء مشران قوم اور سینکڑوں مومنین اور میڈیا کے نمائندے موجودتھے۔

وحدت نیوز(ملتان) ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام امام مہدی کی شان میں گستاخی اور امریکہ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، احتجاجی ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ غلام مصطفی انصاری اور سید امیر حسین گیلانی نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے امام مہدی علیہ السلام کی شان میں ہونے والی گستاخی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ گستاخ امام مہدی کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ ریلی کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے خلاف پاکستانی حکومت فی الفور اپنا بیانیہ جاری کرے۔

ریلی کے شرکا نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ علامہ اقتدار نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، آج امت اسلام میں جو انتشار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ ہی ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ عالم اسلام متحد ہوجائے، آج پہلے سے کہیں زیادہ عالم اسلام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔


علامہ اقتدار نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس وقت اپنا کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن پاکستان کے بیان سے افسوس ہوا، ہمارے اندر اتنی بھی جرات نہیں ہے کہ ہم ایک اسلامی ملک کے جنرل کی شہادت کی مذمت کر سکیں، ہم سے تو افغانستان ہی بہتر ہے جس نے کم از کم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی مذمت تو کی ہے۔ علامہ غلام مصطفی انصاری نے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ دادو میں عبدالستار جمالی کے خلاف اگر بروقت کاروائی کی جاتی تو کبیروالا میں اسامہ موچی یہ حرکت نہ کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں اس ملک کی سالمیت عزیز ہے، پاکستان ہمارے آباو اجداد نے بنایا تھا اور ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرکے اپنی نابودی کا پیش خیمہ خود بنادیا ہے، امریکہ شاید بھول رہا تھا کہ میں نے قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا مجھے کوئی جواب نہیں دے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ثقافتی مقامات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے بھی ہمارے مقدس مقامات کی جانب بری نگاہ سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال لیں گے، خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ جس طرح سے ہمارے مقدس مقامات ہیں اسی طرح ائمہ اہل بیت کے مزارات بھی ہمارے لئے مقدس مقامات اور ہماری ریڈلائن ہیں۔ مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے شیعہ سنی متحد ہیں اگر کسی نے کوئی میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان میں امریکیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ ریلی سے سلیم عباس صدیقی، سید امیر حسین گیلانی، مولانا غلام جعفر انصاری، مولانا مظہر عباس اور دیگر نے خطاب کیا۔ جبکہ مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل مرزا وجاہت علی، آئی ایس او ملتان کے صدر شہریار حیدر، عاطف حسین اور دیگر شریک تھے۔

وحدت نیوز(کراچی) خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے زیر اہتمام سردار رشید اسلام، شہیدحاج قاسم سلیمانی ؒ ، شہید ابومہدی المہندس اور دیگر مجاہدین اسلام کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا ۔

تعزیتی ریفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی ، صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی ، معروف عالم دین علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی ،علامہ شبیر میثمی ،سربرا ہ جعفریہ الائنس پاکستان علامہ رضی جعفرنقوی، قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوری ایران کراچی آقائی احمد محمدی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

جبکہ بزرگ علمائے کرام علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ حیدرعلی جوادی، علامہ مرزایوسف حسین، سمیت ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کےرہنما علامہ صادق جعفری ، علامہ مبشر حسن، جعفریہ الائنس کےرہنما شبر رضا،شیعہ علماءکونسل کے رہنما علامہ جعفرسبحانی، فلسطین فاؤنڈیشن کے صابرابو مریم اور دیگر سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں ۔

مقررین نے شہدائے راہ اسلام شہید قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی مہندس اور ان کے رفقائے کار کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نےکہاکہ شہید قاسم سلیمانی نے امریکی استعمار کے مقابل عظیم استقامت کا مظاہرہ کیا ، شہید نے عراق وشام کو داعش جیسے ناپاک وجود سے پاک کیا۔ انشاءاللہ ان پاک باز شہداءکے پاکیزہ لہو کی بدولت جلد دنیا امریکا اور اسرائیل کے منحوس وجود سے آزاد ہوگی ۔

وحدت نیوز(چنیوٹ) سپاہ قدس کے کمانڈرمیجر جنرل قاسم سلیمانی ایک عظیم مجاھد ، شجاع ، باتقوی اور ذھین ترین شخصیت کے مالک تھے کہ جن کی قیادت میں داعش کو عبرتناک شکست ھوئ جس کے نتیجے میں  مقامات مقدسہ محفوظ رھے اور زائرین کے آمدو رفت کے لیے راھیں ھموار اور آسان ھوئیں۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ سیدہ معصومہ نقوی مرکزی راہنما مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین نے مدرسہ اھل بیت جامعہ بعثت میں مالک اشتر زمان سردار قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر کیا۔

 انھوں نے اس سانحہ پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ قاسم سلیمانی جیسے بہادر مجاھد صدیوں میں پیدا ھوتے ھیں رھبر معظم سید علی خامنائ نے آپ کی جانفشاں خدمات کی بدولت شھید ِ زندہ کے لقب سے آپ کو نوازا اس ناقابل تلافی نقصان پر رھبر معظم کے حضور تعزیت و تسلیت پیش کرتے ھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن امریکہ و اسرائیل سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رھے سردار قاسم سلیمانی کا خون استکباری طاقتوں کی نابودی کا سبب بنے گا۔ اس المناک سانحے میں جنرل قاسم سلیمانی ، ابو مھدی المھندس سمیت دیگر شھداء کی یاد میں جامعہ کی طالبات نے شمع روشن کیں اور شھداء سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔

شیعت نیوز: لیبیا نشانہ پر کیوں؟ اور کیسے؟
1- لیبیا گیس اور تیل کے ذخائر سے مالا مال ملک ہے. اس لئے اس ملک پر عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنا اپنا تسلط اور نفوذ چاہتی ہیں.
  2- جیو پولیٹیکل طور پر یہ ملک مصر ، تیونس اور الجزائر جیسے ممالک کے سنگم میں واقع ہے. خطے کی لبرل اور اسلامی طاقتیں اپنی اپنی مرضی کی حکومت لانا چاھتی ہیں.
  3- اس خطے میں اخوان المسلمین کا بھی کافی اثر و رسوخ ہے جس کی وجہ سے امارت اسلامیہ یا خلافت عثمانیہ کے احیاء کے منصوبے کو بھی تقویت مل سکتی ہے.
4- اسلحہ سازی اور اسلحہ کی فروخت کی انٹرنیشنل کمپنیوں کا کاروبار بھی اس ملک میں جنگ کو گرم رکھنے اور طول دینے سے چمک سکتا ہے.
  5- لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی خود کو افریقہ کا شہنشاہ تصور کرتا تھا جب تک اس کا اقتدار رہا اسرائیل کو بھی افریقہ میں قدم رکھنے کا موقع نہیں ملا  اب اسرائیل بھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا قذافی لیبیا حکمران بن جائے.

امریکی بلاک کے اھداف اور آلہ کار عناصر

جب عرب و اسلامی دنیا میں نوجوان نسل نے کرپٹ اور امریکہ و اسرائیل کے سامنے بے بس سیاسی نظاموں کے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کی تو اس بیداری کی عوامی موج پر سوار ہونے کے لئے دشمن تیار تھا.  اور طالبان حکومت کے افغانستان  میں خاتمے کے بعد تکفیری کیمپوں کے تربیت یافتہ عرب افغان جنگجو مختلف ممالک میں منتقل ہو گئے.  جب 2011 میں جائز عوامی مطالبات کی تحریکوں کا آغاز ہوا.  تو اس موقع سے فائدہ اٹھانے، ان ممالک میں قائم حکومتوں کو گرانے ، خانہ جنگی ، تقسیم ، قتل و غارت کا بازار گرم کرنے اور ان ممالک کی فوجوں کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لئے دشمن تیار تھا. افغانستان کے تربیت یافتہ تکفیری و اخوانی کمانڈرز  جیسے لیبیا کے عبدالحکیم بلحاج ودیگر  ، عراق میں ابو مصعب الزرقاوی و دیگر  ، سوریہ میں شیخ عدنان عرعور و دیگر وغیرہ سب خود کو عالمی سامراج کی جانب سے تفویض ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار تھے. امریکہ و مغرب و اسرائیل کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے قطر ، سعودی عرب ، ترکی و امارات وغیرہ سب نے اسلحہ ، ٹریننگ ، لاجسٹک اور مالی مدد کی اور ڈپلومیٹک اور  میڈیا وار بھی اپنے چینلز کے ذریعے لڑی.

جیسا کہ گذشتہ کالم میں بھی بیان کیا . اور بقول قطری شہزادے حمد بن جاسم کہ اتفاق اس بات پر تھا کہ ہم یعنی قطر ڈرائیونگ سیٹ پر ہونگے اور لیڈنگ کردار ادا کریں گے. اور ہمارے اس خطے کے شرکاء و اتحادی ترکی ، سعودیہ ، امارات ، بحرین وغیرہ سب ہمارا ساتھ دیں گے.  جب لیبیا میں فروری 2011 میں تحریک چلی تو قذافی حکومت گرانے میں سب سے بڑا رول بھی قطر نے ہی ادا کیا.

لیبیا بحران میں قطر کا کردار

قطر ان ممالک میں سے ایک ہے کہ جس کا قذافی حکومت گرانے میں بنیادی کردار ہے. قطر نے الجزیرہ ودیگر چینلز کے ذریعے میڈیا وار میں بنیادی کردار ادا کیا. عرب لیگ اور اقوام متحدہ میں لیبیا پر حملوں کی راہ ہموار کی. اور شدت پسند اسلامی گروہوں کے ذریعے بغاوت کروانے اور خانہ جنگی کے لئے ہر طرح کی مالی مدد کی اور  دسیوں ٹن اسلحہ وہاں پہنچایا.

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قطر نے اخوان المسلمین کے مقامی لیڈروں سے متعدد تنظیمیں بنوائیں اور انکی ہر لحاظ سے مدد بھی کی.

 قطر نے لیبیا میں:

1-   ڈاکٹر علی الصلابی کی قیادت میں جماعت اخوان کی بنیاد رکھی.  
2- ڈاکٹر محمد صوان کی قیادت میں اخوانی فکر کی حامل حزب العدالہ والبناء کی بنیاد رکھی.  
3- عبدالحکیم بلحاج کی قیادت میں حزب و الوطن کی بنیاد رکھی جس نے قذافی کے قتل اور اقتدار کے خاتمے میں عسکری میدان میں بنیادی کردار ادا کیا.
4- جمعہ القماطی کی قیادت میں حزب التغیر کی مدد کی.
5- السویحلی کی قیادت میں حزب الاتحاد من اجل وطن اور دیر کئی ایک گروھوں کو قذافی حکومت کے خلاف کھل کر مدد کی .
اس کے علاوہ ان مذکورہ جماعتوں کے لئے میڈیا ہاؤسز اور ٹی وی چینلز بھی لانچ کر کے دیئے.  

بین الاقوامی فورسز کی عسکری کارروائیوں اور فضائی حملوں کا خرچ بھی قطر نے اس شرط پر ادا کیا کہ اپوزیشن اور بین الاقوامی طاقتیں طے کریں کہ دس سال تک لیبیا کے گیس اور تیل کی فروخت کے معاہدوں سے وہ اپنا خسارہ پورا کرے گا.

جس قسم کے لوگوں پر قطر نے اعتماد کیا اور انکی مدد کی ان میں سے فقط ایک شخص کا تھوڑا تعارف کرواتے ہیں.  اور باقی ساری پارٹیاں ، گروہ اور لیڈرز  بھی اسی قسم کی (شدت پسند اخوانی) فکر اور تاریخ کے حامل ہیں. جس کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے کی جا سکتی ہے.  

عبدالحکیم الخویلدی بلحاج

یکم مئی 1966 کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پیدا ہوا. طرابلس یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی. فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1988 میں جہاد کرنے افغانستان چلا گیا. اور چند سال وہیں پر مقیم رہا.  اور اس عرصے میں پاکستان ، ترکی اور سوڈان سفر کئے. اور انہیں ممالک میں مختصر مدت کے لئے قیام بھی کیا. 1994 میں اپنے ملک لیبیا گیا اور اپنی بنائی ہوئی تنظیم " الجماعۃ الاسلامیہ اللیبیۃ المقاتلۃ " کو منظم کیا. اور حکومت لیبیا کے خلاف مسلح جہاد کرنے کے لئے الجبل الاخضر کے علاقے میں عسکری ٹریننگ کیمپ قائم کیا.  1995 کو لیبیا حکومت نے یہ کیمپ تباہ کردیا اور کافی کمانڈر اور جنگجو مارے گئے اس دوران بلحاج فرار ہوکر واپس افغانستان چلا گیا. افغانستان میں عبدالحکیم بلحاج عبد اللہ الصدیق کے نام سے معروف ہوا. اور اس نے اپنی پارٹی کے اراکین کی تربیت کے لئے افغانستان میں ہی کیمپ بنایا اور ابوحازم کو اپنا نائب ، ابو منذر الساعدی کو شرعی امور کا انچارج اور خالد الشریف کو سیکورٹی امور کا انچارج بنایا.

فروری 2004 کو ایمیگریشن حکام کے توسط سے اسے امریکی سی آئی اے نے کوالمپور سے گرفتار کر لیا اور تحقیق کے بعد اسے لیبیا حکومت کے حوالے کر دیا. چند سال لیبیا کی ابو سلیم جیل میں گزارے. اخوان المسلمین لیبیا کی لیڈرشپ نے قذافی حکومت سے اسکی رہائی کے لئے رابطے کئے. اخوان المسلمین لیبیا کے امیر الشیخ ڈاکٹر علی الصلابی اور الشیخ یوسف القرضاوی کی کوششوں سے کرنل قذافی نے اپنی سابقہ روش کےخلاف بلحاج کو  دیگر 214 اخوانی قیدیوں کے ساتھ رہا کر دیا. شاید یہ  اس وقت کے بیرونی پروپیگنڈے اور پریشر کا نتیجہ تھا.

بلحاج نے 17 فروری کی تحریک میں عسکری میدان میں قذافی حکومت گرانے میں اھم کردار ادا کیا. یہ شخص قذافی حکومت کے سقوط کے وقت باب العزیزیہ پر میڈیا میں سامنے آیا.  اور الجزیرہ چینل پر بلحاج نے طرابلس کی آزادی کے لیے کیے جانے والے عسکری آپریشن کی کامیابی کا اعلان کیا. اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اب طرابلس شہر کی عسکری کونسل کا سربراہ ہے. 2011  سے لیکر آج تک یعنی 2020 کی ابتداء تک عبدالحکیم بلحاج ہی دارالحکومت طرابلس کی عسکری کونسل کا سربراہ ہے. اور اسکا مرکز جو معیتیقۃ کے فضائی اڈے پر قائم ہے یہ لیبیا کی وزارت دفاع کے اختیارات اور کنٹرول سے باہر ہے.

قطر نے بلحاج کو طیارے خریدنے کی صرف ایک مد میں 750 ملین ڈالرز دئے.  اس نے فضائیہ کمپنی."اجنحۃ للطیران" بنا رکھی ہے. اور انکے طیارے مسافر بردار بھی ہیں اور انسانی سمگلنگ اور جنگجوؤں کی نقل وحرکت کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں.  12 جون 2017 کو فرانسیسی حکومت کے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ بلحاج کی ثروت 2 ارب ڈالرز ہے. یہ ان 100 افراد میں سے ایک ہے جو قذافی حکومت کے گرنے کے بعد مالدار ہوئے ہیں۔

لیبیا کے بحران میں ترکی کا کردار

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔


تحریر : علامہ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی

Page 10 of 208

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree