The Latest

شفاف ، منصفانہ اوربروقت انتخابات کا انعقاد ہی سرزمین وطن پر جمہوریت کے استحکام اور بحرانوں سے نکلنے کی ضمانت ہےaliawsat
انتخابات جمہوری عمل کی اکائی ہیں انہیں رکوانے کی ہر سازش کا راستہ روکیں گے ، سیاسی اکابرین انتخابات کا راستہ ہموار کریں

کراچی ( وحدت نیوز) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری امور سیاسیات سید علی اوسط رضوی نے کہا ہے مجلس وحدت مسلمین سرزمین وطن پر اعلیٰ جمہوری روایات کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اگر وطن عزیز میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا اس وقت ہمار ملک اندرونی و بیرونی سازشوں کی زد میں ہے ، ان سازشوں کا راستہ روکنے کے لیے جمہوریت کومضبوظ اور مستحکم کرنا ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ شفاف ، ،منصفانہ اور بر وقت انتخابات کا انعقاد ہی سرزمین وطن پر جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کی ضمانت ہے ، انتخابات ہی جمہوری عمل کی اکائی ہیں ، ہم انتخابی عمل کو رکوانے کی ہر سازش کا کا راستہ روکیں گے انہوں نے کہا کہ کہ تمام محب وطن سیاسی اکابرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی توانائیاں بروئے کا ر لائیں اور عام انتخابات کے انعقاد کے لیے راستہ ہموار

ہم غمزدوں کے عارف حسینی سلام ہو

شہید عارف رح کی بہترین خوبیاں اور انوکھی خصوصیاتarifhusain
تقوی کا مظھر
شہید حسینی رح تقوی کے مظھر تھے ۔ آپ انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی ، علمی اور سیاسی حلقوں میں تقوی کے ہتھیار سے مسلح تھے ۔ آپ اس راہ تقوی میں اس قدر عروج پر پہنچ چکے تھے کہ دوسروں کیلئے نمونۂ عمل بن گئے تھے ۔ اس عزیز سید نے اپنی ساری بابرکت عمرسادگی سے ایک غریب اور معمولی گھر میں بہت ہی قلیل ضروری سازوسامان کے ساتھ گذاری ۔ وہ دوسروں کو بھی زہد و تقوی اپنانے کی نصیحت و تلقین کرتے تھے ۔
طولانی اور مسلسل سفروں کی تکلیفیں اور سختییاں آپ کے خضوع و خشوع میں دن بدن نکھار لاتی تھی ۔ اس طرح کہ بعض افراد کی نظر میں تو یہ سیاسی اور اجتماعی سرگرمیاں تقوی کے خلاف سمجھی جاتی ہے لیکن اس عظیم المرتبت شہید کے پاس یہی امور تقوی کا حقیقی میدان تھا ، نہ یہ کہ تقوی یعنی بغیر کسی حرکت و اقدام کے گھر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا ، فقیری و غریبی اور ظلم و ستم کا صرف تماشا دیکھنا اور خود اپنی آنکھوں سے اسلامی اقدار کی پائمالی اور نابودی کا مشاہدہ کرنا ، یہ طرزتفکر، یہ گوشھ نشینی اوریہ خاموشی سب
ان کی نظر میں تقوی کے ضد اور مخالف ہے جبکہ دور سے بھی انکا تقوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے بلکہ یہ تقوی کے طرز تفکر کے ساتھ صرف و صرف ایک طرح کا استحصال بھرتا جاتا ہے ۔ شہید حسینی رح نہ فقط خود متقی اور پرہیز گار تھے بلکہ دوسروں کو بھی زبان و عمل سے تقوی سکھاتے تھے ۔

راتوں کی بیداری
شہید حسینی رح راتوں کے لمحات عبادت میں گذارتے تھے اس طرح کہ راتیں خود دوسروں سے زیادہ اس کے نالہ و زاروں اور اس کے ذکروں ، فریادوں اور زمزموں سے آشنا ہے ۔ عرشوں کے مالک و معبود کی درگاہ میں اس کی گریہ گذاری دوسروں کے دلوں میں جوش و جذبہ پیدا کردیتی تھی ، اس دن تک کسی بھی سحرخیزافراد نے اس عظیم عابد کو نیند کی حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔ پلیس اہلکاروں کا ظلم و ستم اور راتوں کی گہری تاریکی بھی اس کے نماز شب اور راتوں کی شب بیداری کے درمیان حائل نہیں بن سکی ۔

تواضع و فروتنی
عام اور معمولی انسانوں کے مقام و منصب اور نام و شھرت میں جس قدر اضافہ ہوتا جاتا ہے اتنے ہی وہ لوگ زیادہ ہی مغرور اور بے رحم و بے توجہ بن جاتے ہیں لیکن جو افراد خداوندمتعال کے حقیقی اور صالح بندے ہوتے ہیں وہ ہرگز کسی بھی خدمت و ذمہ داری کو اپنا کوئی مقام و منصب نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی بھی طرح کے دنیوی نام و شھرت کو اپنے افتخار اور سرفرازی کا باعث سمھتے ہیں ۔ شہید حسینی رح نرم مزاجی اور تواضع میں بے نظیر تھے ۔ وہ جس طرح کا احترام بزرگوں سے بھرتے تھے وہی عزت و احترام جوانوں اور بچوں سے بھی کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ بچوں کو سلام کرنے میں بھی دوسروں سے سبقت لیتے تھے ۔ ان کی آخری عمر تک کوہی ہی ایسا شخص ہوگا جس کے ذھن میں شہید کی کوئی برائی اوربدی موجود ہوسکتی ہو ۔ اس عظیم شہید کی دوسروں کو اپنی طرف جذب کرنے کی خوبی کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کے تواضع اور نرم مزاجی کی تعریف کرتے تھے ۔ دن بھر سینکڑوں افراد سے ملنا ، ان کی مشکلات اور مسائل حل کرنا نیز متعدد اور مختلف مسائلوں میں مشغول اور محو وغرق ہوجانا ، ان سب کے باوجود اپنے تواضع اور فروتنی کی پاسداری اور حفاظت کرنا اس عزیز شہید کا ہنر اور ان کی ایک بڑی خوبی تھی ۔

محروم اور ناتوان افراد کی مدد اور دستگیری
شہید حسینی رح اپنی ساری زندگی میں محروم ، کمزور اور ناتوان لوگوں کی خدمت میں مصروف رہتے تھے . گھر ہو یا گھر سے باہر ، ہر جگہ اور ہر وقت ان کو دنیا کے مظلوموں اور مصیبت زدہ لوگوں کی فکر لگی رہتی تھی ۔ ملک کے مختلف جگہوں اور گوشوں میں اپنے سارے سفروں اور ملاقاتوں کے دوران اسی طرح کے لوگوں کو اہمیت اور توجہ دیتے تھے ۔ وہ ان کے مسائل پوری توجہ سے سنتے تھے اور اپنے امکان اور طاقت کی حد تک انہیں حل کرتے تھے ۔ ملک میں محروم طبقہ کے تئییں شہید کی حمایت و نصرت کی وجہ سے لوگ اس کی طرف دوڑ دوڑ کرچلے آتے تھے اور وہ بھی لوگوں سے اتنی محبت رکھتے تھے کہ رات دن عوام کے آنے جانے اور ملنے کے باوجود کھبی بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے ۔ اکثر اوقات فقراء اور محتاجوں کی مالی مدد کرتے تھے اور یہ حمایتیں اس طرح ہوتی تھی کہ کوئی بھی دوسرا آدمی ان سے باخبر نہیں ہوتا تھا ۔ افغانی مھاجروں کی بھی مختلف مالی مدد کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے اس عظیم شہید کی شھادت کے غم عزاداری میں کثیر تعداد میں افغانی مھاجرین بھی موجود تھے ۔

اجتماعی ، مذہبی اور ثقافتی خدمات
الف ) کلینک کی تأسیس و تعمیر :
پاراچنار
پاراچنار میں شہر کے اطراف میں " علامدار شفاخانہ " نامی ایک کلینک شہید حسینی رح کی تلاش و کوشش سے بنایا گیا ۔ اس مطب میں مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے ضروری وسائل اور دیگر سھولتوں کے علاوہ ایڈمیٹ ہونے کیلئے تیس بیڈ بھی موجود ہیں ، ماہراور اسپیلشٹ ڈاکٹر جدید اور پیشرفتہ ابزار و آلات (Advanced & Modern Technology) سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس مطب میں غریب مریضوں کا علاج و معالجہ مفت کیا جاتا ہے نیز منشیات اورنشیلی چیزیں استعمال کرنے والوں کا بھی علاج ہوتا ہے اور علاج و نشہ ترک کرنے کیلئے بھی انہیں دوائیاں دی جاتی ہے ۔

کراچی
کراچی شہر میں بھی غریبوں اور بے روزگار لوگوں کے علاج کیلئے " العصر " نامی ایک کلینک شہید حسینی رح کے حکم سے تأسیس و تعمیر کیا گیا اور انہی کے مبارک ہاتھوں سے اس کا افتتاح بھی کیا گیا ، اور آج بھی یہ کلینک اس شہر کے محروم لوگوں کی خدمت میں لگا ہوا ہے ۔

ب ) مدارس کی تأسیس و تعمیر :
شہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل مدرسوں کے تشکیل اور تعمیر کا کام انجام دیا :
۱۔ جامعۃ معارف اسلامیہ ، (اس کا نام اس عظیم شخصیت کی شہادت کے بعد ان کی خدمات اور سرگرمیوں کی قدردانی ، پاسداری اور حفاظت کے خاطر " شہید عارف حسین الحسینی رح " رکھا گیا ہے ! )
۲ ۔ جامعۃ اھل بیت (ع ) ،
۳ ۔ جامعۃ انوار المدارس ۔

ج ) مساجد کی تأسیس و تعمیر :
شہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل علاقوں میں مسجدوں کی تشکیل اور تعمیر کیلئے بھی اقدام کیا :
۱ ۔ علاقۂ بنگش ،
۲ ۔ علاقۂ کچی ،
۳ ۔ علاقۂ سترسام ،
۴ ۔ علاقۂ شبلان ۔

د) امام باڑوں کی تأسیس و تعمیر :
نیزشہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل علاقوں میں امام باڑوں کی تشکیل اور تعمیر کیلئے قدم اٹھایا :
۱ ۔ علاقۂ مومن آباد بنگش ،
۲ ۔ علاقۂ سترسام ۔

علامہ عارف حسینی رح کی شھادت و سعادت!!
علامہ عارف حسین حسینی رح ۱۳ مرداد ۱۳۶۷ (مساوی ۴ اگست ۱۹۸۸عیسوی) کی تاریخ کو شام کے وقت اپنے شھر پاراچنار سے پیشاور آئے ہوئے تھے اور پروگرام کے حسب مطابق یہ طے پایا تھا کہ کل یعنی ۱۴ مرداد ۱۳۶۷ (مساوی ۵ اگست ۱۹۸۸) کو لاہور شہر میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے روانہ ہونا ہے ، اور اس کانفرنس کے بعد ایک بڑے عوامی اجتماع میں تقریر بھی کرنی ہے جس میں ایک اہم اور ضروری مسئلے کا اعلان بھی کرنا ہے ۔ چودویں مرداد (۵ اگست ) کے صبح کے ستارے نے آسمان میں طلوع کیا تھا لیکن پاکستانی قوم اور تحریک ملت جعفری کی قیادت کا آفتاب شھادت کے خون سے بھرے افق میں ڈوب گیا ۔ شہید حسینی رح نے روزجمعہ کی نماز فجر ادا کی ، نماز ادا کرنے اور تعقیبات نماز پڑھنے کے بعد وضو خانہ کی طرف چلے گئے ، لیکن دوسری منزل کی آخری سیڑھی سے اترتے ہی نامعلوم قاتل یا قاتلوں نے آپ پر سیلینسڈ ہتھیار سے گولی چلائی ۔ گولی لگنے کے فوراً بعد آپ کے لسان مبارک سے " لاالھ الاّ اللہ " کی فریاد بلند ہوگئی اور پھر زمین پر گرگئے ۔ اس عظیم اور بے مثال رہبر کی شھادت کی خبر نے بہت جلد ہی پشاور شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، پیشاور ایک بڑے ماتم خانہ میں تبدیل ہوگیا اور شھر کی جگہ جگہ پر شہید کے غم عزاداری میں سیاہ پرچم بلند ہوگئے ۔

aministiایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں ایک بار پھر متحدہ عر ب امارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت پسندوں کے خلاف سخت گیری چھوڑ دے ۔
یو اے ای میں کہا جاتا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران پنتیس سے زائد دانشوروں اور کالم نگاروں کو ملک میں جمہوریت کے لئے کوششوں کے الزام پر جیل میں ڈالا گیا ہے 
ابوظبی کے حکومت نے امن امان کے لئے خطرہ کے نام سے بہت سے ایسے افراد کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا تھا جن میں زیادہ تر کا تعلق ان دانشوروں سے تھا جو عرب ممالک میں بادشاہی نظام پر تنقید کرتے ہیں اور جمہوریت اور عوامی رائے کے احترام پر تاکید کرتے ہیں 
جب سے عرب ممالک کی عوام میں ملکی نظم و نسق میں حق رائے دہی کا خیال مضبوط ہوتا جارہا ہے تب سے عرب بادشاہتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے خاص طور پر کچھ عرب ملکوں میں عوامی بیداری اور حکومتوں کی تبدیلی کے بعد باشاہتوں کا خوف مزید بڑھ چکا ہے 

تجھ پر میرے وطن کے خمینی سلام ہو

arifپیکر تسلیم و رضا، منبع اخلاص، عارف الٰہی، مجسمہ عقیدہ و عمل، شجاع، غیور اور بابصیرت قائد علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے متعلق بولنے سے زبان قاصر ہے اور لکھنے کے لیے قلم میں تاب نہیں، لیکن دل شہید کی یاد اور محبت سے مخمور ہیں۔ مجھ جیسے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو زندگی میں تو آپ کی زیارت سے شرف یاب نہیں ہوئے، لیکن ہر صاحب دل کی روح آپ کی ذات سے خاص تعلق کو ہر لمحہ محسوس کرتی ہے۔ یہ ہر شہید کی خصوصیت اور اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ خاص منزلت ہے کہ جو اپنی ہستی کو خدا کی راہ میں قربان کر دے، وہ تا ابد زندہ و پائندہ رہتا ہے۔
فرزند حقیقی سید شہداء علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے متعلق آپکے نہایت معتمد ساتھی اور جانثار دوست ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے آپ کا مقام و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’عزیز دوستو ! ہر ایک کے لیے دین مبین اسلام کو سمجھنا آسان نہیں، ہم معیارات کے ذریعے اسلام کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ فقیہ عالیقدر شہید باقر الصدر نے امام خمینی (رہ) کے متعلق فرمایا کہ امام خمینی (رہ) کی ذات میں اس طرح ضم ہو جاؤ، جس طرح وہ اسلام مین ضم ہو چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح امام خمینی (رہ) اسلام میں ضم ہو چکے تھے، اسی طرح قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی امام خمینی (رہ) کی ذات میں ضم ہو چکے تھے۔
پس امام خمینی (رہ) کے بعد شہید عارف حسینی بھی ہمارے لیے ایک معیار ہیں کہ جن کو دیکھ کر ہم دین مبین اسلام کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں اور دین مبین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے شہید عارف حسین الحسینی کے آثار ہماری نسلوں کے لیے کافی ہیں، جس طرح شہید مطہری، شہید بہشتی اور دیگر شہداء بزم امام خمینی (رہ) کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں، علامہ شہید عارف حسین الحسینی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔‘‘
علامہ شہید عارف حسین الحسینی نے امام خمینی (رہ) کے پیغام کا علم اٹھایا اور تادم شہادت اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا، آپ امام خمینی (رہ) کے سچے عاشق تھے اور عاشق و معشوق کا رشتہ کچھ ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ زمان و مکان کی قید سے آزاد دونوں ہر لمحہ، ہر پل ایک دوسرے کو اپنے قریب بلکہ اپنے سامنے پاتے ہیں۔ اس لیے عاشقوں کے نزدیک تو سید روح اللہ خمینی اور شہید عارف حسین حسینی کبھی جدا نہیں رہے، البتہ ہر مادی آنکھ اس کو نہیں دیکھ سکتی، نہ ہر کس و ناکس کا دل اس کو محسوس کر سکتا ہے۔ اگر ہم شہید حسینی کے آثار کو اٹھا کر دیکھیں تو ایسی کوئی گفتگو یا تحریر نہیں ملتی، جس میں اہلبیت علیھم السلام کے ذکر کے ساتھ شہید نے اپنے روحانی پدر بزرگوار امام خمینی (رہ) کا ذکر نہ کیا ہو۔ آپ کا دل عشق خمینی (رہ) سے لبریز تھا اور آپ سرزمین پاکستان پر مجسم خمینی تھے، نہ ایک تولہ کم نہ زیادہ۔
سچ کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اور عاشق و محبوب کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس کو فقط وہ دونوں ہی سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ عشق ایک کیفیت کا نام ہے، جو اس میں سے گذر رہا ہو وہی سمجھ سکتا ہے کہ عشق کیا ہے۔ جس طرح سرزمین پاکستان پر شہید عارف حسین الحسینی ایک خمینی شناس تھے، ایسے ہی اگر دنیا میں کوئی حسینی شناس تھا تو فقط امام خمینی (رہ) تھے۔
شہید حسینی کیا تھے؟ اور آپ کا مقام کیا ہے؟ اس حقیقت کا اظہار تو فقط امام خمینی (رہ) کے اس نوحے میں ہوا، جو آپ نے شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت پر لکھا۔ امام خمینی (رہ) نے شہید حسینی کو اپنا عزیز فرزند قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ فرزند حقیقی سیدالشہداء ہیں۔ شہید عارف حسین الحسینی کے متعلق ان خیالات کا اظہار کسی رکھ رکھاؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ تو شہید مرتضٰی مطہری کے بعد بوڑھے باپ کا واحد سرمایہ لٹ جانے کے بعد ایک ٹوٹے ہوئے دل کی آواز تھی، ورنہ امام خمینی (رہ) فقط شہید حسینی کی شہادت کا ذکر کرتے، افسوس کا اظہار کرتے اور پاکستانی قوم کو ان کے غم میں برابر کا شریک قرار دیتے اور بس۔
ایسا ہرگز نہیں ہے، امام خمینی (رہ) کو شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت سے کوئی ایسا دکھ پہنچا تھا جو فقط امام خمینی (رہ) ہی سمجھ سکے اور جس پاکستانی قوم آج تک سمجھنے سے قاصر ہے۔ کاش ہمارے دل دنیا سے آزاد ہو جاتے اور امام خمینی (رہ) کے درد کو سمجھ پاتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے تو امام راحل (رہ) نے درد بھرے دل کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مدارس اپنا اپنا کردار ادا کرتے تو آج ہمیں شہید حسینی کی شہادت کا صدمہ برداشت نہ کرنا پڑتا۔
اے شہید مظلوم، ہماری روحیں آپ پر فداء ہوں۔ آپ کی عظمت اور شان کو سمجھنا ہمارے بس میں نہیں۔ ہاں اے شہید بزرگوار! آپ کی شہادت کے موقع پر امام خمینی (رہ) جیسے کوہ گراں کے آنسو یہ پتہ دیتے ہیں کہ آپ کو فقط خمینی (رہ) نے سمجھا، پاکستان کی فضاوں اور مٹی میں شائد اس کی تاب ہی نہیں تھی، آپ امام خمینی (رہ) کا درد تھے اور خمینی (رہ) کے درد کا درماں۔ آپ کو سمجھنے اور آپکی حقیقت تک رسائی کے لیے کم از کم امام خمینی (رہ) جیسی شخصیت اور دل درد شناس کا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ کربلائے پاکستان میں نہ آپ مظلومانہ طور پر شہید ہوتے، نہ آپ کی شہادت پر امام خمینی (رہ) دکھی دل کے ساتھ اہلبیت نبوت (ع) کے گھرانے کی عظیم مصیبت کا پاکستانی قوم کے ساتھ یوں شکوہ کرتے۔
اے شہید کربلا کے حقیقی فرزند! آپ کی شہادت پر ہماری آنکھیں آپ کے سامنے، امام راحل (رہ) کے سامنے اور سیدالشہداء (ع) کے سامنے شرم سے جھکی ہوئی ہیں۔ ہم آپ ہی سے توسل کرتے ہیں اور آپ کے مقدس خون کو اپنی گردنوں پر قرض سمجھتے ہیں۔ آپ کی شان بلند ہے، ہماری کوئی بساط نہیں، بس آپ کی نسبت ہے اور آپ کی محبت جو ہمارے دلوں کا سرمایہ اور ہماری روحوں کی پاکیزگی کا سامان ہے۔ اے فرزند علی (ع) و زہرا (س) یہ درست ہے کہ ہمارے قلب و جاں کا ظرف کوتاہ ہے، لیکن آپ کی شان اعلٰی و ارفا ہے، آپ کریم ابن کریم ہیں، آپ نے ملت پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، یہ آپ کی کرامت اور مقدس خون کا معجزہ ہے کہ آج بھی ملت مظلوم پاکستان سر اٹھا کے داخلی و خارجی ملک دشمن طاقتوں کو آپ ہی کے لہجے میں للکار رہی ہے۔ انشاءاللہ آپ کی مقدس روح مظلومین پاکستان پر شاہد اور انکی مددگار ہے۔
سلام ہو آپ پر اے شہید کہ جسے فقط خمینی (رہ) یا خمینی (رہ) کے خمیر والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔
بقلم سردار تنویر حیدر بلوچ

shahidمومن کبھی بھی شکست نہیں کھاتااس کی لغت میں ناکامی کا لفظ نہیں ہے وہ ہمیشہ کامیاب ہے لہٰذا جو بھی مشکل آجائے اگر میدان میں ہے تو کہتا ہے الٰہی
تیری رضا میری رضا ہے۔
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی
جس کا ارتباط خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ امریکہ کو ایک چوہے کی مانند سمجھتا ہے جیسے ایک چوہا اپنے سوراخ سے نکل کر آپ کو دھمکی دے تو کیا آپ اس چوہے کی پرواہ کریں گے؟ نہیں !! اس لئے کے آپ چوہے کو کچھ بھی نہیں سمجھتے لہٰذا وہ لوگ جن کا رابطہ خدا سے ہوتا ہے وہ امریکہ جیسی طاغوتی طاقتوں کو چوہا بھی نہیں سمجھتے۔
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو بہت جلد گیس فراہم کی جائے گی۔۔irsp

یہ بات ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر علی لاریجانی نے تہران میں چیئرمین سینیٹ نیر بخاری سے ملاقات میں کی۔ علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو پاکستانی عوام کو ایرانی گیس فراہم کی جائے۔ ایرانی مجلس شوریٰ اس سے متعلق قانون سازی کے لئے بھی تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لئے تمام ذرائع استعمال کئے جائیں گے۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نیر بخاری کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے ایران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ضروری ہے

saudiانساني حقوق مرکز الشرق کے مطابق مشرقي صوبے کے شہر القطيف ميں جمعے کي شام ميں پرامن مظاہرہ کرنے والوں پرسعودي سيکورٹي اہلکاروں نے بلااشتعال فائرنگ کردي جسکے نتيجے ميں حسين يوسف نامي ايک نوجوان شہيد ہوگيا۔عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ سيکورٹي فورس کي فائرنگ ميں دو افراد زخمي بھي ہوئے ہيں۔کہا جارہا ہے کہ سيکورٹي اہلکارو نے زخمي ہونے والے مظاہرين کو اسپتال منتقل کرنے کي اجازت نہيں دي۔
سعودي وزارت داخلہ نے دعوي کيا کہ مذکورہ نوجوان ان چند نوجوانوں نے سے ايک ہے جو سيکورٹي فورس کے ساتھ ايک جھڑپ ميں زخمي ہوئے ہيں۔سعودي وزارت داخلہ نے دعوي کيا کہ مظاہرين نے علاقے ميں گشت کرنے والے سعودي سيکورٹي اہلکاروں کے ايک گشتي دستے پر حملہ کرديا تھا جس ميں ايک پوليس اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمي ہوگيا تھا۔
سعودي عرب کے تيل سے مالا مال مشرقي علاقوں ميں کافي عرصے سے حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے چلے آئے ہيں۔ جمعے کے روز ہونے والے مظاہروں ميں شريک نوجوان اپنے ايک ساتھي کي فوري رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے جسے سعودي پوليس نے ستائيس جولائي کو ظہران ميں ہونے والے مظاہرے کے دوران زخمي کرنے کے بعد گرفتار کرليا تھا۔
سعودي عرب ميں فروري دوہزار گيارہ سے جاری احتجاج میں مظاہرین ملک کے مشرقي علاقوں کے لوگ مذہبي اور سياسي بننادوں پر روا رکھنے جانے والے امتيازي سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہيں۔

barsiمجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصعر عسکری نے کہا ہے شہید قائدعلامہ عارف حسین حسینی کی شخصیت اور ان کے مقام کو سمجھنے کے لیے ضرور ی ہے کہ ان کے دور کی مشکلات کا ادراک کیا جا ئے ، شہید نے مشکل ترین حالات میں محدود وسائل کے باوجود جدو جہد جاری رکھی اور قوم کو ترقی و خوشحالی کی دیلیز پر پہنچایا ا، شہید کا جراتمندانہ کردار آج بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی ٹین اسلام آباد میں شہید قائد کی برسی کے حوالے سے منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا ۔ علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ عقل انسانی شہید قائد علامہ عارف حسین حسینی کی خصوصیات کا احاطہ نہیں کر سکتی ، شہید نے قوم کے طرز تفکر کو تبدیل کیا اور کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا ، اتحاد بین المسلمین جیسے اہم امور شہید کی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائد کا یہ عظیم کارنامہ نا قابل فراموش ہے کہ انہوں نے انتہائی قلیل عرصہ میں اس قوم کو جو امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگانے سے ہچکچاتی تھی مینار پاکستان پر اکٹھا کر کے سیاسی میدان میں لا کھڑا کیا، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے راہنما بھی اس عظیم قائد کے شاگرد اور ساتھی ہیں جنہوں نے عظیم قائد کے اصولوں پر چلتے ہوئے آج میدان میں اترے ہیں، قوم کو چاہیے کہ شہید کے ان مخلص ساتھیوں کا بھرپور ساتھ دیں

karachiکراچی(پ ر)مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈو یڑن ڈسٹرکٹ ملیر کے شعبہ ویلفیئرخیر العمل فاؤنڈیشن کی جانب سے ماہ مبارک رمضان کے مقدس مہینے میں پروردگار عالم کی خوشنودی کے لیئے غریب نادار مومنین کی مدد کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم ڈسٹر کٹ ملیرنے مخیر مومنین کے تعاون سے ضلع کے 100مستحق خاندانوں کو ایک ماہ کا راشن تقسیم کیا گیا ۔
مستحقین کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم کی اس کاوش کو خوب سراہا گیا ۔ ایم ڈبلیو ایم ضلع ملیر ان تمام مومنین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اس کار خیر کی تکمیل میں ہمارا ساتھ دیا اور امید کرتی ہے کے آئندہ بھی اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

mwmlogoلاہور( )مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد اقبال کامرانی نے صوبائی آفس میں برسی شہید حسینی ؒ کی مناسبت سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی ؒ پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے داعی اور امن کے سفیر تھے۔ ان کی شخصیت سے تمام مکاتب فکرکے علماء بخوبی واقف ہیں کہ انہوں نے اپنی ساری توانائیاں صرف اور صرف وحدت امت کے لئے صر ف کی۔ استعماری قوتوں کو ان کی یہ کاوشیں ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی تھیں۔ کیونکہ یہ شیطانی قوتیں تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کے فارمولے پر ہر وقت عمل پیرا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا دشمن نے ہم سے صرف ان کے ظاہر ی زندگی کو چھین لیا مگر ان کی فکر اور عزم کو چھیننا کسی کے بس کی بات نہیں۔آج بھی لاکھوں ان کے فرزندان ملک کے طول و عرض میں ان کے افکار کے سفیر بن کر میدان عمل میں دشمنان اسلام اور پاکستان سے صف آرا ہیں ۔ آج مجلس وحدت مسلمین پاکستان ان کے عظیم مشن کی تکمیل کے لئے سر گرم عمل ہے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree