The Latest

وحدت نیوز (ملتان) قائد وحدت وناصر ملت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر سانحہ پشاور کے ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں آج یوم احتجاج منایا گیا۔ اسی سلسلے میں ملتان میں نماز جمعہ کے جامع مسجد احسین نیوملتان سے گلشن مارکیٹ تک مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ملتان کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کی۔ ریلی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد موجودتھی۔ ریلی کے شرکاء نے مجلس وحدت مسلمین کے پرچم اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر خیبرپختونخواہ اور وفاقی حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی اور سانحہ پشاور کے ذمہ داران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔


ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ملتان علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ سانحہ پشاور، دیامر اور کراچی میں جسٹس مقبول پر حملہ سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ آج پورے ملک میں علامہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر مظاہرے ہورہے ہیں اگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کیا تو پھر یہ قوم ایک بار پھر سڑکوں پہ آجائے گی۔ علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ آج طالبان سے مذاکرات کی باتیں ہورہی ہیں یہ وہی طالبان ہیں کہ جنہوں نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا، سکولوں پر حملے کر کے تباہ کردیے، قائداعظم بانی پاکستان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا، مہمان سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا۔ چند روز قبل سیاحوں پر حملہ کیا۔ مساجد پر حملہ کیا، مندروں پر حملے کیے، عیسائیوں کے چرچوں پر حملے کیے، مقدس اولیاء کے مزارات پر حملے کیے، سخی سرور پر حملہ ہوا، لاہور میں داتا دربار پر حملہ کیا۔ عبداللہ شاہ غازی پہ حملہ کیا۔ مساجد کو نشانہ بنایا ، امام بارگاہوں پر حملے کیے حتی کی یونیورسٹیوں پر بھی حملے کیے ۔


اُنہوں نے کہا کہ آج ان طالبان کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ اگر پاکستانی حکمرانوں کو ملکی سلامتی عزیز ہے تو ان ناسور طالبان کے خلاف فوجی اپریشن کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں اور ملک میں دہشت گردی پھیلا کر امریکہ کو پاکستان میں لانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کا قلع قمع نہ کیا گیا تو مادروطن کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ریلی سے مولانا عمران ظفر، علامہ قاضی نادرحسین علوی، قمر عباس زیدی اور ثقلین نقوی نے خطاب کیا۔

وحدت نیوز (جوہی) ملک بھر میں شیعہ نسل کشی اور ٹارگٹ کلنگ اور پشاور سانحہ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان سٹی جوہی کی جانب سے مسجد امام رضا (ع) سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنما اعجاز حسینی اور محمد حنیف جعفری نے کہا کہ پشاور مدرسہ میں حملہ کرنے والے دہشت گرد وں کو فوری گرفتار کیا جائے اور ملک میں شیعہ آفیسروں اور کارکنوں کو حکومت فوری تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس مقبول باقر پر دہشت گردی کرنے والوں کو گرفتار کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں امریکی پشت پناہی پر بے گناہ گرفتار شیعہ جوانوں کو فوری رہا کیا جائے ۔

وحدت نیوز (فارن ڈیسک) فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ممتاز عالم دین اور تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا ہے کہ مصر میں پیروان مکتب اہلبیت علیھم السلام کے خلاف شدت کی تازہ لہر کا اصل سبب وہابی مفتیوں کے تکفیری فتوے اور اسرائیل کی غاصب صیہونیستی رژیم ہے۔ وہ شہر مقدس قم میں گذشتہ ہفتے مصر میں جام شہادت نوش کرنے والے شہید شیخ حسن شحاتہ اور انکے ھمراہ شہید ہونے والے تین دوسرے ساتھیوں کے ایصال ثواب کیلئے برگزار کی گئی مجلس ترحیم سے خطاب کر رہے تھے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے شب ولادت حضرت امام زمان عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مناسبت سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب واقع گاوں الجیزہ میں ایک گھر میں شیعیان اہلبیت علیھم السلام ایک جشن کی تقریب میں شریک تھے جس پر ہزاروں وہابی اور سلفی دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا اور معروف شیعہ عالم دین شیخ حسن شحاتہ کو انکے تین دوسرے ساتھیوں سمیت انتہائی بے دردی سے شہید کرنے کے بعد انکے جسد خاکی کو گاوں کی گلیوں میں گھماتے ہوئے اپنے یزیدی آباء و اجداد کی یاد تازہ کر دی۔

 

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ مصر کے علاوہ عراق اور دوسرے اسلامی ممالک سے بھی سلفی تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں بیگناہ شیعہ مسلمانوں کی شہادت کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے گاوں الجیزہ میں انجام پانے والا مجرمانہ فعل تاریخ میں ہمیشہ سے دیکھنے کو ملتا ہے اور آئندہ بھی ملتا رہے گا لیکن آج ہم ایسے مجرمانہ افعال سے روبرو ہیں جو اسلام کے نام پر انجام پاتے ہیں، وہابی تکفیری دہشت گرد گروہ اسلام سے خیانت کرتے ہوئے اسلام کے نام پر بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔  تہران کے خطیب نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ ان وہابی تکفیری دہشت گرد گروہوں کا مقصد حقیقی محمدی ص اسلام کے چہرے کو مخدوش کرنا ہے کہا: ہم اہلسنت کو وہابیت سے جدا سمجھتے ہیں، اہلسنت علماء کی جانب سے وہابیت کے خلاف تقریبا 30 کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

 

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ وہابیت کا آغاز پہلے دن سے ہی مجرمانہ افعال اور بیگناہ انسانوں کے قتل سے ہوا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہابیت عالمی استعماری قوتوں بالخصوص برطانیہ کا بویا ہوا بیج ہے۔ امام جمعہ تہران نے 1216 ہجری قمری میں انجام پانے والے دہشت گردانہ منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 12 ہزار افراد پر مشتمل وہابی تکفیری لشکر نے شہر مقدس کربلا پر حملہ کیا اور وہاں بسنے والے تمام بیگناہ افراد کا قتل عام کر دیا جس میں ہزاروں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل تھے۔ اس المناک واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہزار سے لے کر 20 ہزار تک بیان کی گئی ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ وہابی شیعہ مسلمانوں کو مشرک اور کافر کہتے ہیں جس کی بنیاد پر وہابی دہشت گرد گروہ شام سمیت کئی مسلم ممالک میں شیعیان اہلبیت علیھم السلام کے خلاف ایسے جانسوز غیرانسانی افعال انجام دے رہے ہیں جن کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مجرمانہ افعال کی چند مثالیں ہمیں شام میں نظر آئی ہیں جہاں ایک تکفیری دہشت گرد نے شامی فوجی کو قتل کرنے کے بعد اس کا دل نکال کر دانتوں سے کاٹ لیا یا ایک گاوں میں صرف شیعہ ہونے کے جرم میں ایک معصوم بیگناہ بچی کو زنجیروں سے باندھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے انتہائی بے دردی سے اس کے ماں باپ کو قتل کر دیا گیا۔

 

امام جمعہ تہران نے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی اس لہر کے تین بڑے اسباب ہیں۔ ایک وہ دہشت گرد افراد جو یہ دہشت گردانہ افعال انجام دے رہے ہیں، یہ وہ افراد ہیں جن کی برین واشنگ کر دی گئی ہے اور وہ عبادت سمجھتے ہوئے بیگناہ انسانوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر وہ دہشت گرد جو کربلا میں خودکش حملہ انجام دینا چاہتا تھا لیکن پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اس نے اپنے اعترافات میں کہا کہ مجھے ایک بیابان میں جا کر خود کو بم سے اڑانے کی اجازت دیں کیونکہ میں آج رات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہمان ہوں۔ یہ خودکش بمبار اور سلفی دہشت گرد اس طرح برین واشنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کا دوسرا بڑا سبب تکفیری وہابی مفتی ہیں جو اپنے بے بنیاد اور غلط فتووں کے ذریعے شیعہ مسلمانوں کے قتل کو جایز قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفتی دراصل انہیں مفتیوں کی نسل سے ہیں جو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے قتل کو جایز قرار دیتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی واضح آیات کی روشنی میں جو شخص بھی "لا الہ الا اللہ" پڑھتا ہے اور کلمہ گو کہلاتا ہے اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

استاد حوزہ علمیہ قم اور امام جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں ابن تیمیہ اور اس کے بعد عبدالوہاب وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے شیعہ مسلمانوں کے کفر اور انکے قتل کو جایز قرار دینے پر مبنی فتوے جاری کئے۔ انہوں نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ وہابیوں کا راستہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بالکل مختلف ہے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں ہر وہ شخص جو دوسرے مسلمانوں پر کفر کا فتوا لگاتا ہے خود کفر سے زیادہ نزدیک ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آیا ہے کہ جو مسلمان دوسرے مسلمانوں کو کافر کہے وہ خود کافر ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ یہ تکفیری مفتی درحقیقت اسلام کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں اور مسلمان ہر گز ان کی خیانت کو نہیں بھولیں گے اور انہیں قیامت کے دن بھی خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف اس دہشت گردانہ لہر کا تیسرا بڑا سبب اسرائیل کی غاصب صیہونیستی رژیم ہے، اسرائیل وہابی دہشت گرد گروہوں کی مدد اور ان کی ترویج کے ذریعے اسلام کے خوبصورت چہرے کو مخدوش کرنے کے درپے ہے اور اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ان فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے عالم اسلام میں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اتنا کمزور کر دے کہ اس کیلئے کوئی خطرہ ثابت نہ ہو سکیں۔

00 amin jamaatوحدت نیوز (گلگت) جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے وفد کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین کے قائم مقام سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گلگت میں ہونے والی ملاقات میں طرفین کے علمائے کرام اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں طرف سے گلگت بلتستان میں امن، بھائی چارے کے قیام، دہشتگردی کے خاتمے اور علاقہ میں امت کے تصور کو اجاگر کرنے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا۔ دونوں طرف سے آئندہ بھی میٹنگز جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے صوبائی امیر، نائب امیر جبکہ ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ شیخ نیئر عباس مصطفوی، صوبائی ترجمان، شعبہ سیاست کے مسئول غلام عباس اور دیگر موجود تھے۔

00 mwm shia sunni jirgaوحدت نیوز (گلگت) گلگت میں شیعہ سنی جرگے کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں دونوں طرف سے علمائے کرام اور شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر طرفین کی جانب سے نائی پوئی کے علاقے میں اب تک ہونے والے 23 شیعہ سنی افراد کے قتل پر عام معافی اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ یاد رہے کہ شیعہ سنی جرگے کی ڈیڑھ سال کی مسلسل کوششوں کے بعد جنگ بندی اور خون معافی کا اعلان کیا گیا ہے، اس موقع پر دونوں جانب سے شخصیات ایک دوسرے کے گلے ملیں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں جرگے کی علاقے میں امن کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں کا سراہا گیا اور حوصلہ افزائی کی گئی۔ مشترکہ اجلاس میں جرگے کی کوششوں کے پیش نظر مختلف شخصیات کو گلگتی ٹوپیاں بھی پہنائی گئیں۔

00 maqsood domkiوحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے زیر اہتمام شہدائے پشاور کی یاد میں تعزیتی تقریب منعقد ہوئی۔  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ شہدائے پشاور نے اسلام اور حسینیت کی راہ میں اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ حکومت دہشت گردی کے خلاف جامع پالیسی کا اعلان کرے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کرتے ہوئے ان کے ٹریننگ کیمپس بند کرے اور ان کے سرپرستوں ہاتھ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ حق و باطل کے اس عالمی معرکے میں ہم امام عصر (عج) کے منتظرین کو چاہیئے کہ وہ کربلائے پاکستان میں اپنی تاریخی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے میدان عمل میں آئیں۔  تقریب سے مولانا ولایت حسین جعفری، آقا عبدالعلی اصغری اور بیرسٹر افتخار حسین ہزارہ نے بھی خطاب کیا۔

00 mwm gilgit ailamiaوحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے زیر اہتمام گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں "دہشت گردی کی حالیہ لہر اور گلگت بلتستان کا مستقبل" کے عنوان سے تمام سیاسی جماعتوں ، وکلاء برادری، چیمبر آف کامرس، سول سوسائٹی کے عمائدین نے بھرپور شرکت کی۔ تمام Burning Issues پر سیر حاصل گفتگو کے بعد گلگت بلتستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے یہ اعلامیہ اپنے قارئین کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔

 

*یہ کانفرنس حالیہ دنوں بونر نالے میں غیر ملکی سیاحوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پرطالبان کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس واقعے کو ملکی سالمیت کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتا ہے۔ طالبان دہشت گردوں کی جانب سے اس قسم کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ماہرین کو قتل کیا جاچکا ہے۔البتہ گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کے قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے جو کہ ملک عزیز پاکستان کو بالعموم اور گلگت بلتستان کو بالخصوص بین الاقوامی برادری میں بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اسی علاقے میں بے گناہ مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس پر سیکورٹی ایجنسیز اور خفیہ اداروں نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا ۔ اگر اس وقت ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی تو آج ملک عزیز پاکستان دنیا کے سامنے یوں بدنام نہ ہوجاتا۔

 

* یہ ایک ناقابل تردید اور تلخ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے فرقہ واریت کی جنگ میں دھکیلنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں اور یہاں کے پر امن لوگوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھاکرعلاقے کے امن کو برباد کیا جارہا ہے۔یہ کانفرنس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ خود ساختہ معیارات سے بالاتر ہوکر حقیقی اسلامی اور فلاحی معاشرے کی تشکیل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اختلاف برائے تعمیر مد نظر ہوگااور ہر سطح پر دہشت گردی اور فرقہ ورانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کی جائیگی۔

 

* یہ کانفرنس گزشتہ کئی مہینوں سے گلگت شہر میں قائم امن و امان کی صورت حال کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنے والے حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، مساجد بورڈ، سیاسی و سماجی حضرات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور قیام امن کیلئے کوششوں میں مزید گنجائش کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے تمام سیاسی پارٹیوں کو جوائنٹ پولیٹیکل فورس کے طور پر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

 

* فرقوں کے مابین فاصلوں کو ختم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائینگے۔ تمام سیاسی و مذہبی پارٹیاں پر مشتمل ایک ایسا فورم تشکیل دیا جائیگا جو بین المذاہب ہم آہنگی اور ملی و قومی مسائل میں مفاہمت کیلئے کوشش اور جدوجہد کرے۔

 

* دہشت گردی کو کسی مذہب سے منسلک کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر عالمی سازشوں کا ادراک کیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف بغیر کسی دباؤ میں آئے پوری ریاستی طاقت کو استعمال کیا جائے۔

 

* دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کیمپوں کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت اور ہماری مقتدر فورسز کو تمام سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر عملی اقدامات اٹھانا چاہئے۔

 

*صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں جس طرح کے تعاون کی ضرورت ہو وفاقی حکومت کو اسے پورا کرنا چاہئے۔

*مستقبل میں علاقے کی سالمیت، وحدت اور امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوششوں کے مقابلے میں خطے کی تمام پارٹیاں مل کر مثبت کردار ادا کریں گی۔

 

* مختلف جماعتوں اور شخصیات کی جانب سے خطے میں قیام امن اور دہشت گردی کے مقابلے کیلئے نہایت مفید اور قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ان تمام تجاویز کو مرتب کرنے کے بعد عنقریب ایک پمفلٹ یا بک لیٹ کی صورت میں قوم کے سامنے پیش کرے گی۔

00 mwm gilgit apcوحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے تحت مقامی ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد بعنوان ’’ دہشت گردی کی موجودہ لہر اور گلگت بلتستان کا مستقبل ‘‘ کیا گیا۔ کانفرنس میں مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، آل پارٹی مسلم لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، مجلس وحدت مسلمین، تحریک اسلامی شیعہ علماء کونسل، پریس کلب، امامیہ مسجد بورڈ، اہل سنت مسجد بورڈ، نپورہ امن جرگہ، بالاورستان نیشنل فرنٹ، جماعت اسلامی پاکستان و دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں علامہ اعجاز حسین بہشتی، علامہ شیخ بلال سمائری سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ابتدائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ نیئر عباس مصطفوی نے کہا کہ تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہیں اور شکر گزار ہیں۔ بحیثیت مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے کہ عالمی استکبار ہمیں جس طرف دھکیلنا چاہتا ہے کہ یہ جنت نظیر علاقہ بد امنی کا شکار ہو جائے ہمیں اس کے لیئے کوئی لائحہ عمل بنانا ہے۔ آپ کی رائے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔پاکستان کو بچانے کے لیے ہم تمام لوگوں کو مل کر قرآن کا سینے سے لگا کر اور مشترکات کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا ہو گا اور سیرت پیغمبر اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے اور نمونہ بناتے ہوئے اس وادی کو دہشت گردی سے بچانا ہوگا ۔


بالاورستان نیشنل فرنٹ کے صفدر حسیننے کہا کہ ایسے نازک موڑ پر اے پی سی کے انعقاد پر ہم مجلس وحدت کو مبارک پیش کرتے ہیں۔ موجودہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خیبر پختونخواہ ہے اور ہم جغرافیائی طور پر ان سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے ہم بھی متاثر ہو رہے۔ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی فرقہ واریت کی ہمیں نشاندہی کرنی پڑے گی ۔2800ایجنسیز کی افراد بقول سی ایم موجود ہیں جو کہ بد امنی پیدا کرتے ہیں امن نہیں کرتے ۔ ہمیں منافقت چھوڑنی پرے گی ۔ ان یہاں عالمی سازشیں شروع ہو چکی ہیں۔ اب ریاستی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی ادارے بھی شامل ہو چکے ہیں۔


مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمن کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت نے ہمیشہ گلگت میں امن کے لئے موثر کردار ادا کیا ہے ہم اس پر بھی شکر گزار ہیں، دہشت گردی میں اضافی کی وجہ سے مقامی خامیاں اور وفاقی اور ادارہ جاتی خامیاں ہیں۔ 1974سے کو سازشیں شروع ہوئی ہیں ان کی کئی وجوہات ہیں مگر ہم ایک دوسرے کو وجہ قرار دیتے ہیں۔ سنی شیعہ کو اور شیعہ سنی کو کوستا ہے اور جب دونوں مل کر بیٹھتے ہیں تو ایجنسیوں کو کوستے ہیں ۔ لیکن اصل میں ہم منافق ہیں۔ آج بھی یہاں سنی کے بڑے علماء کو ہونا چاہئے تھا۔ آج علامہ شہیدی آئے ہیں کل یہ چلے جائیں گے پھر ہمیں کیا کرنا ہوگا ۔ ہم کہتے ہیں کہ شیعہ چاہتے ہیں سنیوں کو سیاسی طور پر باہر نکال دیں اور یہ سنی چاہتے ہیں۔ خود اس خطے کو جو انتظامی نظام ہمیں دیا گیا ہے وہ بھی ہم سے پوچھے بغیر ہمیں دیا گیا ۔ آج موجودہ حکمران جماعت کے کسی وزیر کو بلانا چاہیے تھا۔ نانگا پربت کے واقعے پر بھی اپ تک کئچھ نہیں ہوا۔2دن کا یہ ٹریک تھا آخر گئے کہاں؟؟ ؑ عوام کے درمیان گیپ کو ختم کر دیا جائے اور شیعہ سنی علماء کا مکالمہ ہونا چاہیے، پچھلے دنوں راحت حسینی نے جو اجتماع میں شرکت کی اس کا بہت مثبت اثر ہوا ہے ۔ ہمیں کنکریٹ اقدامات کرنے چاہیے۔


تحریک اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہماری کچھ تجاویز ہیں۔ ہمیں شیعہ سنی، اسماعیلی، نور بخشی ، غیر مسلم حتیٰ کہ ہر پاکستانی کو اس مملکت خداداد کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کچھ حقائق عرض ہیں کہ آج سے 25 یا 30 سال پہلے اہل سنت برادران آ کر شیعہ مساجد میں نعتیں پڑہتے تھے پھر کیا ہوا کہ ایک دوسرے سے دور ہو گئے ؟ اس پر سوچنا پڑے گا ۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ شیعہ سنی مل کر بیٹھیں ایک ہی محفل میں۔ چین کی ہمارے ساتھ سرحد ہے اور اب چائنہ کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ پاکستان آپ کا دوست نہیں اور ڈرانے کے لئے یہ سازش کی گئی ہے ۔ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ ہمارے علاقے کی معیشت صرف اور صرف سیاحت پر منحصر ہے اسی لئے سیاحوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔کہ اس علاقے کی معیشت تباہ کی جائے ۔ میں مجلس وحدت کا مشکور ہوں۔


متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے تشریف لانے والے نمائندے کا کہنا تھا کہ بیروزگاری، غربت اور دہشت گردی کے مسائل ہیں اگر حکومت وقت ایسے اقدامات کرتی جیسے اب دہشت گردوں کو گرفتار کو کرنے کے لئے کر رہی ہے تو ایسا واقعہ کبھی نہ ہوتا۔ یہ دہشت گرد کون ہیں اور کہاں سے آئے ؟ یہ کون لوگ ہیں جو خود ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں مذہبی جماعتوں کو بہت پہلے بیٹھنا چاہیے تھا اس پر سوچنا چاہیے تھا کہ ان لوگوں کو سمجھا سکتا۔اس ساری صورتحال کے مستقبل میں بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے جو کہ خود دہشت گردی کا شکار ہے جس کی قائد تحریک الطاف حسین نے بھر پور مذمت کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں۔


ٓآل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما کریم خاننے کہا کہ گلگت بلتستان کی دہشت گردی میں شیعہ سنی علماء کا کوئی کردار نہیں ۔ اس کا ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہے ۔ اور یہ پر مساوات نہیں ہے فیڈرل گورنمنٹ اس کی پوری اور پوری ذمہ دار ہے ۔ افسران یہاں ہوتے نہیں ہیں صرف نو آموز یا بوڑھے افسران بھیجے جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمان اپنا کام نہیں کرتے بلکہ صرف پکنک کے لئے آتے ہیں ۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوا آئی جی صاحب اسلام آباد ہوتے ہیں ۔ گورنمنٹ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں ن لیگ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بابو سر میں کوئی چیک پوسٹ نہیں ہے آپ سے گذارش ہے کہ وہاں چیک پوسٹ ہونی چائیے۔


جماعت اسلامی کے مقامی رہنما عبد السمیع کا کہنا تھا کہ اپنے خطے کی فکر کرتے ہوئے مجلس وحدت کو پروگرام کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو ہم غیروں کی جنگ اپنے گھر میں لائے اور ہم نے اپنی مصلحتوں کو سامنے نہیں رکھا جس کی وجہ سے مملکت پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے ۔ گلگت بلتستان میں جو دہشت گردی میں اضافہ ہوا ، کارڈ چیک کر کے مارا گیا اور اب تاریخ میں پہلی دفعہ سیاحوں کو مارا گیا ۔ جماعت اسلامی امت واحدہ پر یقین رکھتی ہے ۔ ہم نے ملی یکجہتی کونسل کے ذریعہ اور مختلف کوششیں کی ۔ ابھی میں اسکردو میں گیا تو شیخ حسن جعفری سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد دی کہ آپ نے امن قائم کیا ہوا ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ گلگت میں بھی کوشش کرنی چائیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جماعت جو قدم اٹھائے گی ہم ان کا ساتھ دیں گے ۔ ہم اگر اپنی دوریا ں اور نفرتیں ختم کر دیں تو امن ہو سکتا ۔ آپس کی نا چاقی کی وجہ سے دشمن کو موقعہ ملتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں دیا مر انتظامیہ سے کوتاہی ہوئی ہے ۔ اس خطے پر عالمی طاقتوں کی نظریں ہیں اور وہ فروعی اختلافات ابھار کر ہمیں لڑانا چاہتا ہے اور وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور ہمارا خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ اس کی اسٹرٹیجک ویلیو ہے ۔ پچھلے دنوں مولانا طارق جمیل نے ایک کردار ادا کیا امامیہ بورڈ اور اسماعیلیوں کے پاس جا کر ۔ ہم بھی برداشت کا ما حول پیدا کرنا ہو گا ۔ سب سے پہلے یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے ، پھر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل ہیں ۔ جیسے دیامر جرگہ نے ایک کمیٹی بنائی اور حکومت کا ساتھ دے رہی تاکہ جرائم پیشہ پکڑے جا سکیں ۔ ہم علماء پر الزام ہے کہ یہ فرقہ واریت ان کی وجہ سے ہے ۔ ہم ہر جمعہ کے خطبہ میں جھوٹ ، چوری ، سود پر بات کرتے مگر کوئی عمل نہیں ہوتا تو پھر کیا صرف مرنے مارنے والی بات پر عمل کرتے ہیں ۔؟؟؟؟؟؟ یہ صرف اپنی جان چھڑوانے کی خاطر علماء پر ڈال دیا جاتا ہے ۔


تحریک انصاف کی نمائندگی کرتے ہوئے حشمت اللہ نے کہا کہعلماء کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اب تک 37معاہدے ہوئے اس کا کیا اثر ہوا، یہاں سب بیٹھے ہیں باہر جا کر سب اپنی اپنی بولیاں بولیں گے ۔ علماء نوجوانوں کو سمجھائیں کہ قتل و غارت نہ کریں ۔میں یہ عرض کروں گا کہ پولیٹیکل پارٹیز کچھ نہیں کر سکتی اگر علماء کردار ادا نہ کرے۔ اس وقت یہاں نوکریاں بکتی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ شیعہ حکومت ہے ۔ یہ تاثر کیوں پیدا ہوا۔ امن کے لئے علماء کو ہی اٹھنا ہو گا ۔ہماری مالی حالت بہت کمزور ہے ہمیں سوچنا ہو گا ۔ ہمیں 1952کی طرح 30پوائنٹ دے دیں ہم آپ کے دوش بدوش ہیں اور دیکھیں کہ سابقہ معاہدے کیوں ناکام ہوئے ۔؟ سوچیں اس پر ۔


اہل سنت ساجد بورڈ کے رہنما راجہ نثار کا کہنا تھا کہگلگت میں جو شیعہ سنی مخالفت کی جو لہر تھی وہ اللہ کے کرم سے ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے ٹھانی ہوئی ہے کہ ہم یہ مخالفت ختم کریں گے اور آپ کو خوشخبری ہو کہ پچھلے 6ماہ میں گلگت میں کوئی بھی مذہبی منافرت کا واقعہ کوئی نہیں ہوا ہے۔ہم نے عملی ثبوت دیا عاشورہ میں آپ کے پرگرامز میں گئے ۔راحت الحسینی نے بڑا کردار ادا کیا ۔ اس وقت یہاں ہمین سمجھانے کی نہین عملی طور پر باہر جا کر عوام اور جہلاء کو سمجھانے کی ہے ۔دشمن نے جب دیکھا کہ اب مذہبی منافرت ختم ہو گئی تو اس نے دوسری دہشت گردی شروع کی اس میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے اور راتوں رات 18آدمی کہاں سے آئے ۔۔ وہ بونیر، چلاس اور مانسہرہ کے دہشت گرد ہوں گے اور ایجنٹ ہوں گے بیرونی طاقتوں کے ۔ حکومت جواب دے کہ بونجی میں جو ہیلی کاپٹر اور ایس ایس جی کے جوان رکھے تھے وہ کہاں گئے تھے؟ حکومت کو ٹارگٹڈ آپریشن کرے۔ اب حکومت دیامر جرگے کو کہتی ہے کہ ان 10دہشت گردوں کو پکڑے ۔۔۔ اب وہ کہاں سے پکڑے ؟؟؟؟ سرکاری افسران یہاں موجود ہی نہیں رہتے ، آئی جی نیہں ہوتا ، چیف سیکرٹری نہیں ہوتا تو کام کون کرے گا ۔ ہم علماء کو گلہ اس لئے کرتے کہ آپ موثر ہیں ، ہر جمعہ کو لوگ آپ کی سنتے ہیں ۔ ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ البتہ اندرونی منافرت ہم ختم کریں گے اور بیرونی کو حکومت ہی پکڑے گی ۔ ایسے سیمینارز ہوں جس میں دونوں طرف کے علماء ہوں وہ مل کر بیٹھیں ۔


پاکستان مسلم لیگ ق کے نمائندے کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے تمام مسائل کی اصل وجہ شیعہ سنی ہیں ۔ ہم آج تک دوسروں کے آلہ کار بنے رہے ہیں ۔ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں پسے ہوئے ہیں ۔ ہم نے کس قانون میں اپنا حصہ لیا؟ کس وجہ سے ہم پھانسی چڑھ رہے ہیں ؟ ہم وہ لوگ ہیں جن کا عملی طور پر کوئی کردار نہیں ہے ۔کبھی ہمیں کشمیر سے نتھی کرتے کبھی بھارت کے ساتھ ۔ ہمارا اپنا ہی سٹیٹس ہے۔ میں تو اس وجہ سے پاکستان کی کسی پارٹی کے ساتھ ہوں کہ وہ ہمیں ہمارے حقوق دیں گے۔ ایک ایجنسی کے کرنل صاحب ہیں انہوں نے بتایا کہ یہاں فسادات کے لئے کوئی پیسے نہیں خرچ کرنے پڑتے۔ اب یہاں ایک انٹر نیشنل دہشت گردی ہے ، اب ہم یہ بھی سنتے ہیں 2100سے 3000طالبان ہیں گلگت میں اور جیکٹ اور بم بنانے کی فیکٹری ہے میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں سنی علماء کو کہ جن کی وجہ سے کوئی بڑا دہشت گردی نہیں ہوئی۔ جو طالبان ہیں ان کے خلاف کردار ادا کرنا چاہیئے شیعہ سنی علماء کو ۔یہاں سے گفتگو سے زیادہ ہر کوئی اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اپنے حصے کا کام لے۔اور جوانوں پر کام کرے ان کو تعلیم دے ۔سب کو ایک ایک ٹاسک دیا جائے۔اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دیا جائے ۔ پاکستان کی بیورو کریسی نے ہمیشہ ہمیں دبایا ہے اور ہمیں کچھ نہیں دیا بلکہ تعلیمی اداروں میں خیرات میں ہمیں کچھ سیٹیں دی جاتی ہیں ۔ یہاں کوئی میڈیکل کالج یا صنعت یا بڑا ادارہ نہیں ہے ۔ہم اس طرف جا رہے ہیں کہ ہم غلامی کرتے رہیں گے ۔ سب سے پہلے اس دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہونے کے لئے سنی بھائیوں کو اجتماعی کوشش کرنی چاہیئے اور شیعوں سے گذارش ہے کہ فوری رد عمل نہ دیں ۔ ہم تو ایک دوسرے کی تجہیز و تکفین حتیٰ کہ تعزیت کے لئے نہیں جاتے ہمیں یہ طریق تبدیل کرنا پرے گا ۔دہشت گرد جب حملہ کرتے تو اللہ اکبر کرتے جو کہ کسی طرح سے بھی سنیوں سے گئے ہوئے ہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیئے وہ بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔سیاسی طور پر انتظامی عہدوں پر آنے والے لوگوں کو شیعہ سنی بنیاد پر نہیں بلکہ پارٹی اکثریت کی بنیاد پر آنا چاہیئے۔ اگر حکومت پاکستان کے سیکیورٹی کے ادارے ایک ہو جائیں تو کوئی بڑی بات نہیں کہ جلد یہ مسائل حل ہو جائیں۔


نپورہ امن جرگہ کے جعفر اللہ نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی سازش ہے جو کہ ہم پر تھونپی گئی ہے ، اور 9/11کو بہانہ بنا کر دنیا بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ موقع پرست حکمرانوں اور عیاش سربراہوں نے ان کی مدد کی ہے۔ امریکہ اسرائیل روس فرانس ہندوستان کی ایجنسیوں نے اسلام کے خلاف محاذ کھولا ان کے تھنک ٹینک نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ٹھانی اور طالبان اور القاعدہ کہ تشکیل دیا۔ ہمارے حکمران اس میں پورے پورے شریک ہیں وہ کبھی ان کو مجاہد کہتے ہیں اور کبھی ان کو دہشت گرد کا نام دیتے ہیں ۔ دہشت گردوں نے نہ سیاحوں کو چھوڑا، نہ مسجد ، مدرسہ، امام بارگاہ،بچے بوڑھے عورتیں سب ان کا شکار ہوئی۔ یہاں آج سنی علماء کے علاوہ اگر نور بخشی اور اسماعیلی بھی ہوتے تو زیادہ اچھا اور بہتر ہوتا ۔مگر ہم تو فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ہم فرقہ واریت کو اتنا آگے لے گئے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔ جو کام ہمارے ساتھ کافر نہیں کر سکتا تھا وہ خود ہم نے اپنے ساتھ کر دیا ۔ یہاں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر جو منافق ہیں انہوں نے ڈالر اور پیسے کی وجہ سے ہمارا نقصان کیا اور کافر اپنی سازشوں میں کامیاب ہیں ۔ اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر ہے پھر علماء پر کہ انہوں نے اسلام کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے فرقہ کو دیکھا۔ اس وقت یہاں علماء کردار ادا کرنا ہے۔ ہم نے اپنے اپنے فرقے کے لوگوں کے قاتلوں، چوروں، کرپٹ لوگوں، دہشت گردوں کی پشت پناہی کی ۔ہم نے نپورہ میں ایک سال میں امن قائم کر لیا اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ یہاں گلگت میں آپ اچھے علماء بھی کردار ادا کریں اور دوسرے فرقہ کے علماء کے ساتھ مل کر بیٹھ جائیں ۔یہاں منبر پر بھی دوسرے فرقوں پر حملے کیے جاتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ مشترکات پر بات کی جائے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے نیشنل لیول پر بات کی جائے اور قومی سطح پر سیمینارز کروائے جائیں۔ امریکہ خود طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور ہمیں روک رہا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اور ان کو قومی دھارے میں لایا جائے۔


مسلم لیگ ق کی رہنما اور ممبر جی بی اسمبلی آمنہ انصاری نے کہا کہ 1975, 88, 92,93,94یہ وہ عرصہ ہے کہ جب کہیں دہشت گردی نہیں تھی بلکہ یہاں پر فسادات ہوئے پھر 2005میں دہشت گردی کا آغاز ہوا اور 2007میں یہ پیکیج آ گیا ۔ ہمارے جوان دہشت گرد نہیں ہیں مگر ہم پر یہ لیبل لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔میں کچھ تجاویز دوں گی امن بحال کرنے کے لیے علماء کا بہت اہم کردار ہے جبکہ ڈیلویپمنٹ کے لیئے ریاست کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔ گلگت بلتستان 72کلومیٹر طویل علاقہ ہے اور اس کے 4روٹ ہیں ، اگر ان پر سیکیورٹی سخت کر دی جائے دو بیرونی دہشت گردوں کا راستہ روکا جاسکتا ہے ۔ ہم سیاسی سیٹ اپ کا مذہبی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں ۔۔۔۔ ہمیں اسے مذہبی نہیں بلکہ میرٹ پر تقسیم کرنا چاہیئے۔ جو وسائل جی بی میں اس وقت سیکیورٹی کے نام پر استعمال ہو رہے ہیں کیا وہ واقعی سیکیورٹی پر استعمال ہو رہے ہیں ؟ اس کو دیکھنا چاہیئے اپنے حقوق کے تحفظ اور موجودہ پیکج کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اگر کوئی افسر میرٹ پر کام کرنا شروع کرتا ہے تو اس کو سیاسی کی مذہبی بنیاد پر ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے ۔ آج تک کسی بھی دہشت گردی کے مجرم کو سزا نہیں ملی ۔ ہمارے مذہبی اور کلچرل ایونٹس کو دوبارہ سے بحال کرنا چاہیئے۔ جی بی کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کو پروموٹ کرنا چاہیئے۔ عدلیہ ، صحافت کو بہتر بنانا چاہیے۔ ہمیں گھر گھر جا کر لوگوں سے رابطہ رکھنا چاہیئے۔


پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم اپنی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ 1973کے آئین کے مطابق یہاں کوئی بھی سول آرمڈ فورس نہیں بنائی جا سکتی مگر ہم نے روس کے خلاف آئین پاکستان کو توڑا اور سول آرمڈ فورس بنائی ۔ یہ تمام لوگ ریاست کی طرف سے ہی پیدا کیے گئے ہیں ۔ ہم آج تک کوئی واضح پالیسی نہیں بنا سکے ۔ حتیٰ کہ کارروائی کر کہ کالعدم جماعت ذمہ داری لے لیتی ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں ۔ یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ریاستی دہشت گردی نہیں ختم ہو تی۔ پاکستان کا گلگت بلتستان میں وجود کا کوئی حق نہیں ہے ، کیونکہ ریاست کا کردار آئین کے مطابق جی بی میں امن قائم کرنا ہے ۔ اگر امن نہیں تو پھر جناب کوئی تعلق نہیں ہے پاکستان سے ۔ جی بی میں فرقہ واریت ہماری اپنی نہیں ہے بلکہ باہر سے پیدا کی گئی ہے ۔عام عوام کا کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ کچھ خواص ہیں جن کا روزی رزق اسی وجہ سے ہے کہ فساد پھیلتا رہے ۔ فساد پھیلانے کی فیکٹریاں ہمارے اپنے پاس ہیں ۔ علماء دو اقسام کے ہیں ۔ علماء اسلام اور علمائے فرقہ اور یہی مسلک کے علماء ہمارا مسئلہ ہیں ۔ ہم سیاست کو بھی مذہب میں کھینچ لیتے ہیں ۔ دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کو غور سے دیکھنا چاہیے۔ ہمارے اندر کے لوگ غربت کی وجہ سے خریدے گئے ہیں ۔ اور ان واقعات کو افغانستان کے میدان جنگ سے تیار کیا جاتا ہے۔ نانگا پربت کا واقعہ صرف پیسہ اور کسی اور کے مفاد کے لئے کیا گیا ہے۔ 10 لوگوں نے 18کروڑ عوام کی روزی پر قدغن لگائی ہے ۔ ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں بلکہ قانونی طور پر سزا دینی چاہیے ۔ آج تک جتنے بھی واقعات ہوئے ان کے لئے ہمارے پاس کوئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کاؤنٹر ٹیررازم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سیکیورٹی کے ادارے ہمیں کہتے ہیں کہ یہ مجرم ہے اور ہم کہتے ہیں کہ بلکل ٹھیک ہے ۔ افغانستان میں بیٹھے ہوئے لوگ خیبر پختونخواہ سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کے ذریعے سنکیانگ تک پہنچنا ہے ۔ ہم زیادہ دیر نہیں بچا سکیں گے ۔ یہ جی بی کو بہت مسلح کیا گیا ہے ۔ بہت زیادہ اسلحہ موجود ہے ۔ دشمن کو جی بی کی سرزمین کی ضرورت ہے عوام کی نہیں ہے ، ہمیں تھر پارکر میں پھینک دیا جائے گا اور سر زمین پر قبضہ کیا جائے گا یہاں کے معتبر لوگوں کو اپنی اہمیت پہچاننی چاہیئے۔ دیا مر کے علماء اور جرگہ نے ہمیں کہا کہ یہ ان لوگوں کے گھر ہے جن کے آپ نے نام لیے ہیں ان کو گرفتار کر لیں وہاں کے لوگ بہت مدد کر رہے ہیں ۔ فرقہ واریت در اصل کسی بھی معاملے کو مذہب کی بنیاد پر پیش کرنا ہے۔مسلکی بنیاد پر چیزوں کو خراب نہیں کرنا چاہیئے بلکہ بہتر بنانا چاہئے۔ جیسے مولانا طارق جمیل اور راحت حسینی کی وجہ سے حالات بہت بہتر ہوئے جس کو دیکھتے ہوئے جی بی حکومت نے بھی ایسے فورم بنانے کا سوچا ہے۔جیسے پہلے مسجد بورڈ کام کر رہا ہے پہلے سے ۔ہم 4اہلسنت اور 4اہل تشیع، 2 اسماعیلی اور باقی شامل ہو کر 16افراد کی کمیٹی بنائی جارہی ہے جس کا نام ابھی فائنل نہیں ہوا ہے بہت جلد یہ فائنل ہو جائے گا ۔علماء کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

00 amin shaheedi gilgit 01وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے تحت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن قائم کرنا علماء اور امراء یعنی سرکاری اور با اثر افراد کا کام ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم مل کر بیٹھیں اور کوئی حل سوچیں اور لائحہ عمل ترتیب دیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان نظریاتی اختلافات ہیں جو کہ چودہ سو سال سے ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ مگر ہمیں اپنے مشترکات دیکھنے ہیں ۔ہمارے 95فیصد ہمارے مشترکات ہیں البتہ پانچ فیصد اختلافات ہیں لیکن ہمیں مشترکات کی طرف جانا ہے ۔ رہبر کبیر امام خمینی (رہ)نے ہمیں بتایا ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات کی بات کرتا ہے وہ استعمار کا ایجنٹ ہے اوررہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ جو اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے وہ شیطان کی زبان بولتا ہے اور انہوں نے اسے حرام قرار دیا ہے ۔ ہم اہلسنت کے ساتھ ملتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔


علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ اس خطے میں دہشت گردی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عالمی مسئلہ ہے ۔ میرے پاس رپورٹ موجود ہے کہ اسرائیل میں تل ابیب میں ایک تین روزہ کانفرنس ہوئی اور مسلم شناس لوگوں کو بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ شیعہ سنی کو کیسے لڑایا جا سکتا ہے ۔ ہمیں کچھ اقدامات عملی کرنے ہیں اس کے لئے ہمیں ایسا فورم بنانا ہے جو نہ شیعہ ہو اور نہ سنی ہو بلکہ اس میں تمام مسالک کے لوگ اکٹھے ہوں ۔ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیز کے اکابرین کو بھی اپنے خطے کو اور مستقبل کی نسلوں کو بچانے کے لئے اکٹھے بیٹھنا چاہیے۔ ایسا فورم ہو جس میں ہر پارٹی کا نمائندہ ہو اور ہر ماہ اکٹھے بیٹھیں اور ہمیں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں جانا چاہیے اور عوام کو پیغام دینا چاہیے، اچھے اکابرین کو اکٹھے بیٹھنا چاہیے۔

00 mursiوحدت نیوز (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر میں عوامی بیداری اور حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد تشکیل پانے والی اخوان المسلمین کی حکومت  کا ایک سال مکمل ہونے پر صدر مرسی نے قوم سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سب سے زیادہ تعریف فوج کی کی جس سے اس بات کا خطرہ ہے کہ فوج کہیں تیس جون کو صدر مرسی کی حکومت کیخلاف ہونے والے حزب اخلاف کے مظاہروں کا ساتھ نہ دے کیونکہ مرسی پہلے سے ہی عدلیہ سے الجھ پڑے  ہیں۔ ادھر صدر مرسی کے خطاب کے بعد تحریر اسکوائر میں دو روز پہلے سے ہی دھرنے پر بیٹھے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر مرسی نے اپنے خطاب میں حزب اختلاف یا اپنی پالیسیوں سے ناراض افراد کے مطالبات پر کوئی خاص توجہ نہ دی اس لئے مظاہرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

حزب اختلاف کے رہنما مرسی سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ملک کو اندرونی اور بیرونی سطح پر تنہائی کا شکار کرچکے ہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما کہتے ہیں کہ مصر میں عوامی انقلاب کو مرسی اپنے اصل راستے سے ہٹاچکے ہیں اور اب انقلاب کی گاڑی غلط پٹری پر نکل چکی ہے اس لئے  صدر مرسی کو فوراً مستعفی ہونا چاہیے۔ حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ محمد مرسی مستعفی ہوں ادھر مصری دانشوروں کی جانب سے بھی حزب اختلاف کے ساتھ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قاہرہ کے مناظر ایک بار پھر حسنی مبارک کیخلاف ہونے والے مظاہروں کی یاد تازہ کررہے ہیں، دوسری جانب مرسی کے حامیوں نے بھی گذشتہ روز ایک بڑا مظاہرہ کیا ہے جو حزب اختلاف کے مظاہرین کے ساتھ شدیدجھڑپ اور پانچ افراد کے قتل کے بعد ختم ہوا ہے۔

 

اس وقت قاہرہ کی تمام اہم عمارتوں پر فوج تعینات ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف ملکی اہم تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کرے گی۔ جوں جوں تیس جون قریب آرہا ہے مصری عوام اشیائے خرد و نوش کی ذخیرہ اندوزی میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ مصر میں راستوں کے بند ہونے اور ہڑتالوں کے سبب اشیائے خورد و نوش کی سخت کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، خاص طور پر کہ رمضان المبارک بھی قریب ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس تمام کشمکش میں فوج کا کردار کیا ہوتا ہے، کیا فوج مارشل لاء لگائے گی یا پھر صدر مرسی اور حزب اختلاف کے درمیان موجود اس کشمکش کے حل کے لئے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree