The Latest

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان خواتین ونگ کے کوارڈینیٹر عظیمہ نے وحدت ہاؤس گلگت میں خواتین ونگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسلام نے معاشرے میں خواتین کو جو عزت اور مقام عطا کی وہ کسی اور مذہب و مکتب نے عطا نہیں کر سکے۔ آج مغربی خواتین اسلام سے متاثر ہو کر جوق درجوق رجوع کر رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے معاشرے نے خواتین کو وہ عزت و وقار نہیں دیا جو اسلام نے دیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان میں خواتین کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہی ہیں جو ایک فعال اور متحرک معاشرے کیلئے افرادی قوت فراہم کرتی ہیں، خواتین اگر اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں کرینگی تو معاشرہ کبھی بیمار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی خواتین کو اپنے حقوق کیلئے آگے آنا ہوگا اور ہم مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے عنقریب خواتین کے حقوق کیلئے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔

 

انہوں نے نام نہاد این جی اوز کی جانب سے حقوق نسواں کے نام پر بدترین استحصال کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام نہاد ادارے علاقے میں مغربی سوچ اور تہذیب کو پروان چڑھانے کی سازشوں میں مصروف عمل ہیں جن کا مقابلہ اسلامی تہذیب و ثقافت کے زیور سے آراستہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے ماروی میمن کے حالیہ دورے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی جانب سے ہمیں کسی بھیک کی ضرورت نہیں اور ماروی میمن الیکشن سے قبل علاقے کی غربت کا فائدہ اٹھا کر جھوٹے وعدوں سے الیکشن چرانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن رضویہ یونٹ کی جانب سے  ''سعودی بمباری اور مظالم کا شکار '''یمن کی نہتی مظلوم عوام ''' کے حق میں اور دوشمن کے نیست و نابودی کے لیے '' دعائے جوشنِ صغیر'' کا اہتمام ، رضویہ امام بارگاہ '' شاہِ کربلا'' میں، ''جنت البقیع'' کے سامنے، صحنِ امام بارگاہ میں دعا کی قبولیت و باریابی کے لیے کھلے آسمان تلے کیا گیا. جسمیں علاقے کے علاوہ اور دوسرے یونٹز کی خواتین نے بھی بچوں کے ساتھ شرکت کی. دعائیہ پروگرام کا باقائدہ آغاز تلاوت حدیثِ کساء سے '' خواہر زرین'' نے کیا. پھر '' خواہر رجاء'' نے ''بارگاہ امامِ وقت،[ع] '' میں نذرانہ منقبت پیش کیا. جس کے بعد '' محترمہ خواہر سیما'' نے بارگاہِ خداوندی میں باقائدہ طور پہ دعا کا آغاز ''دعائے سلامتئ امام زمانہ[ع]'' سے کیا اور پھر '' دعاے جوشنِ صغیر'' کی تلاوت فرمائی. دورانِ دعا '' مصائبِ محمدﷺ وآلِ محمدﷺ'' بھی جاری رہیے.اور مسلسل ''مظلومینِ یمن'' کے لیے ، '''سعودی بربریت و ظلم و ستم'' سے نجات کے لیے گریہ و ذاری کے ساتھ ''فتح و کامیابی و کامرانی'' کی دعا جاری رکھی گئ.پروگرام کا اختتام  ''دعائے تعجیل امامِ زمانہ[ع] اور دعائے فرج'' سے کیا گیا.جسکے بعد شرکاء  میں تبرک تقسیم کیا گیا

وحدت نیوز (گلگت) مظلوم کی حمایت اور ظالم سے اظہار بیزاری کرنے پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں پر ایف آئی آر درج کرکے ہراسان کرنا حقوق انسانی اور تعلیمات اسلامی کے منافی اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ صوبائی حکومت مسلم لیگ نواز کی ڈکٹیشن پر مجلس وحدت کے خلاف انتقامی کاروائی کا حصہ نہ بنے تو بہتر ہے۔حرمین شریفین کا واویلا کرنے والے بتائیں کہ کیا یمنی عوام نے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے یا پھر سعودی عرب نے یمن پر جارحیت کی ہے؟ مظلوم اور ظالم میں فرق نہ کرنے والی حکومتیں بہت جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائینگی۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سیکرٹری اطلاعات خواہر ساحرہ نے امپھری گلگت میں خواتین ونگ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یہودی لابی کے ایماء پر یمن پر حملہ آور ہوئے ہیں حالانکہ یمن کی طرف سے کسی کو کوئی خطرہ لاحق تھا اور نہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اگر کسی ملک سے خطرہ ہے تو وہ یہودی ریاست ہے جو آئے روز مظلوم فلسطینی عوام، بچوں اور خواتین کے خون سے سیراب ہورہے ہیں جن کے خلاف سعودی اتحاد نے آج تک کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ فلسطین کے مظلوم عوام مدد کیلئے پکار رہے ہیں اور عرب عیاش پرست حکمرانوں کی جانب سے مدد تو درکنار زبان سے حمایت میں کوئی بیان تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان میں سعودی ڈالر سے پیٹ بھرنے والے حرمین شریفین کے دفاع کا شور مچاکر رائے عامہ کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ ملک حجاز میں واقع ہونے سے سعودی حکمران مقدس نہیں ہونگے ، آل سعود نے مقدس سرزمین کا کتنا احترام کیا سب جانتے ہیں اسی مقدس سرزمین یعنی مکہ مکرمہ میں امریکہ کے اشاروں پر آل سعود نے 400 حجاج کرام کا خون بہادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حامی ہیں چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقے اور مذہب سے ہو۔انہوں نے مسلم لیگ نواز کی ڈکٹیشن پرچلنی والی کٹھ پتلی نگران حکومت کو خبردار کیا کہ سیاسی انتقام کی بنا ء پر قائم مقدمات کو فوری ختم کیا جائے ۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس لاہور میں شعبہ خواتین کے آفس میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس صاحب کی سربراہی میں منعقد ہوا۔جس میں شعبہ خواتین کی مرکزی کوآرڈینیٹر خانم زہرا نقوی اور ڈپٹی کوآرڈینیٹر محترمہ تحسین شیرازی ،مرکزی سیکرٹری تربیت مولانا سید احمداقبال رضوی اور مرکزی سیکرٹری سیاسیات برادرسید ناصرعباس شیرازی نے شرکت کی،میٹنگ میں گذشتہ دو ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے اہداف اورلائحہ عمل کا تعین کیا گیااور میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی لحاظ سےملک کے چار بڑے اور اہم شہروں کراچی،لاہور ، اسلام آباد اور کوئٹہ کے اسٹرکچر کی تمام ترتنظیمی امور کی نگرانی مرکز خود انجام دے گااور مقامی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط اور فعال بنانے میں ان کی معاونت کرے گا۔اس اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر میں دارالقرآن ،ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس ،تعلیمی اکیڈمیز کا قیام اور مستحق طالبات کے لئے اسکالرشپ اور دیگر فلاحی اور سماجی خدمات انجام دی جائیں گی۔

 

    میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام اضلاع میں ۲۰جمادی الثانی حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت با سعادت اور یوم خواتین کے دن کو بھرپور انداز میں منائیں اور اس سلسلے میں جشن اور دیگر پروگرام منعقد کروائیں گے۔مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری صاحب نے تاکید کی کہ شعبہ خواتین کو خواتین کی اسلامی اور انقلابی تربیت کے حوالےسے شعبہ تربیت کے دیے گئے پروگرام پر عمل کرنا چاہیے اور شعبہ تربیت کی ترتیب شدہ کتب، لٹریچراور پروگرام سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے ۔انہوں نے مزید فرمایا کہ " اسلام شناسی " کورس اور بصیرت افزائی کورس تمام خواتین کو کروایا جائے گا۔

 

    علامہ  ناصرعباس جعفری نے زور دیا کہ گلگت اور بلتستان میں بھی ہماری بہنیں انتخابی عمل میں بھرپور کردار ادا کریں گی ۔مرکزی کوآرڈینیٹرخانم زہرا نقوی نے تمام صوبائی کوآرڈینیٹرز سے درخواست کی ہے کہ جلد از جلد ضلعی اسٹرکچر مکمل کریں اور اضلاع، یونٹس اور ممبر شپ کی تکمیل کر کے جلد از جلد مرکز کو رپورٹ کریں ۔آخر میں ضرب عضب آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمیں پرائی جنگ کا حصہ بننے کی بجائے اپنے ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر توجہ کرنی چاہےاور سعودی عرب کی مہم جوئی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

وحدت نیوز (چنیوٹ) پاکستان بھر کی طرح مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ وحدت اسکاوٹس کے زیراہتمام چنیوٹ میں رجوعہ سادات کے مقام پر، خاکی، سیاہ اور نیلی وردیوں میں ملبوس وحدت اسکاوٹس کے چاک و چوبند دستوں نے، یوم پاکستان کی مناسبت سے پاکستان کے خاکی سبز ہلالی پرچم کو سلامی دی۔ پریڈ کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس اور ضلع چنیوٹ کے ڈی پی او تھے۔ سلامی کے چبوترے پر ڈی پی او چنیوٹ اور علامہ راجہ ناصرعباس کے ساتھ وحدت یوتھ ونگ کے انچارج سید فضل عباس نقوی اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری  امور سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی موجود تھے۔ وحدت اسکاوٹس کے پانچ سو رضاکاروں کے کئی دستوں نے سلامی کے چبوترے سے گذرتے ہوئے قومی پرچم کو سلامی دی۔ سلامی دینے والے ایک دستے کی قیادت جامعہ بعثت رجوعہ سادات کے سربراہ مولانا مظہر کاظمی کر رہے تھے، جبکہ جامعہ بعثت کے نائب سربراہ مولانا مہدی کاظمی پریڈ کمانڈر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ پریڈ کی تیاریوں کی سلسلے میں علما کی سرپرستی میں وحدت اسکاوٹس کی طرف سے ملک گیر سطح پر تیاریاں کی گئی تھیں، پریڈ کے کامیاب انعقاد میں ایم ٹی آئی رجوعہ سادات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب میں اہل علاقہ، طلاب اور علمائے کرام کی کثیر تعداد ایم ٹی آئی رجوعہ سادات کے پریڈ گراونڈ میں موجود تھی۔ مہمانوں نے یوم پاکستان کے موقع پر وطن عزیز کے ساتھ تجدید عہد کیا اور تقریب کے انعقاد کے لیے جامعہ بعثت کے تعاون اور وحدت اسکاوٹس کے ذمہ داروں اور کارکنوں کی کاوشوں کو داد تحسین دی۔

وحدت نیوز (کراچی) وحدت یوتھ کراچی ڈویژن ضلع جنوبی کے زیر اہتمام فوارہ چوک سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا اور شمعیں روشن کی گئی ۔سعودی عرب میں سعودی متعصب حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے علمبردار عالم دین آیت اللہ شیخ باقر نمر کو کئی ماہ سے قید و سلاسل میں رکھنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور سعودی حکومت کے متعصبانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی، احتجاجی مظاہرے میں کراچی کے مختلف تعلیمی اداروں سمیت بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوانوں نے شرکت کی ، شرکائے مظاہرہ نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آیت اللہ شخ نمر کی آزاد ی سمیت مردہ باد امریکہ، اسرائیل نامنظور اور شیخ نمر کو فوری رہا کیا جائے سمیت آیت اللہ باقر نمر کی رہائی کے لئے اقوام متحدہ ، ایمنسٹی انٹر نیشنل ، سمیت عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے شیخ نمر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 

سعودی عالم دین آیت اللہ شیخ باقرنمر کی رہائی کیلئے وحدت یوتھ پاکستان کراچی ڈویڑن کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کراچی ضلع جنوبی کے رہنما مولانا محمد حسین کریمی ،مولانا احسا ن دانش ،رضوان پنجوانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعود ی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے شیعہ سنی وحدت کے علمبردار عالم دین آیت اللہ باقر نمر کو قید میں رکھا جانا انسانی حقوق کی پامالی اور مہذب دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ مقررین کاکہنا تھا کہ آیت اللہ باقر کا گناہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انہوں نے عرب دنیا میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر پر لبیک کہا اور دنیا کے تمام طاغوتی نظاموں کے خلاف صدائے حق بلند کی ، انہوں نے سعودی عرب میں انسانی حقوق سے محروم عوام کے لئے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے صدا بلند کی اور اس جرم کی پاداش میں انہیں سعودی متعصب حکومت کی جانب سے سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا جو یقیناًقابل شرم اور قابل مذمت فعل ہے۔

 

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اقوام متحدہ ، عالمی عدالت انصاف اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی اور ہیومن رائٹس واچ سمیت دنیا کے مہذب معاشروں اور حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی شیعہ عالم دین آیت اللہ باقر نمر کو سعودی حکومت کی جانب سے گرفتاری کے خلاف سراپا احتجاج ہوں اور سعودی متعصب انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ فی الفور آیت اللہ باقر نمر کو رہا کریں ، اس موقع پر شرکاء نے آیت اللہ باقر نمر کی رہائی کے لئے نعرے لگائے اور مردہ باد امریکہ اور اسرائیل نا منظور کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔

ہر آنکھ اشک بار تھی !!

وحدت نیوز (آرٹیکل) وحد ت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹس کیمپ کی آخری رات کو ہونے والے اسکاؤٹ کیمپ فائر کی یاد گار داستان ۔
وحدت اسکاؤٹس پاکستان جو کہ وحدت یوتھ پاکستان کا ذیلی شعبہ ہے اور پاکستان بھر میں انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے میں مصروف عمل ہے، 23مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے وحدت اسکاؤٹس کی جانب سے مرکزی اسکاؤ ٹ کیمپوری بعنوان ’’پیام امن ‘‘ کا انعقاد چنیوٹ میں رجوعہ سادات کے مقام پر کیا ، اس کیمپوری میں ملک کے گوش وکنار بشمول سندھ، پنجاب، بلوچستان،خیبر پختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے وحدت اسکاؤٹس جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

 

وحدت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹ کیمپ ’’پیام امن‘‘ میں نوجوانوں کی ذہنی ، جسمانی و روحانی نشو نما اور بہترین تربیت کے لئے منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں نوجوانوں میں روزانہ صبح سویرے ورزش کرنے ، ابتدائی طبی امداد ، فائر فائٹنگ (ہنگامی صورتحال میں آگ بجھانے کی تربیت)، میسنجر آف پیس ، مہارت تیر اندازی ، باکسنگ، ہائیکنگ، خیمہ باشی،سیکورٹی کے بارے میں آگاہی ، بغیر برتن کے کھانا پکانے کی مہارت، پاکستان کے اندر پائی جانے والی مختلف ثقافتوں کے بارے میں ثقافتی فیسٹیول کا اہتمام جبکہ ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے شجر کاری اور مملکت پاکستان کے شہداء سمیت شہدائے ملت جعفریہ پاکستان کے ساتھ تجدید عہد وفا کرتے ہوئے شب شہداء کا اہتمام اور دینی علوم کی مناسبت سے عقائد ، احکام، ولایت فقیہ، درس قرآن، کربلائی نوجوان، غیبت ممنوع ہے، خلقت انسان میں ہدایت و رہبری، مدیریت جیسے اہم موضوعات پر دروس کا اہتمام بھی کیا گیا، نوجوانوں کی روحانی نشو نما کے لئے نماز با جماعت ، دعائیہ اجتماعات جس میں دعائے کمیل، دعائے عہد، دعائے توسل، دعائے ندبہ سمیت مناجات کے خصوصی پروگرام منعقد کئے گئے، وحدت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹس کیمپ کو جہاں ’’پیام امن ‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا وہاں وحدت اسکاؤٹس نے اس مرکزی کیمپ کو ’’غیبت ممنوع ‘‘ کا شعار دیا اور اسی شعار کے تحت سال بھر اسکاؤٹس اپنے پروگراموں کو ترتیب دیں گے۔

 

واضح رہے کہ 23مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے وحدت اسکاؤٹس کے خصوصی دستوں نے یوم پاکستان پر مختلف انداز میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا عملی نمونہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پرچم کشائی کا مظاہرہ بھی کیا اور شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔

 

دنیائے اسکاؤٹنگ ایک منفرد اور انوکھی دنیا کا نام ہے، جو لوگ اسکاؤٹنگ سے واقفیت رکھتے ہیں یقیناًوہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کسی بھی اسکاؤٹ کیمپ کی جان اس اسکاؤٹ کیمپ کے اختتام سے ایک رات قبل اسکاؤٹس کیمپ فائر کے عنوان سے ایک پروگرام کرتے ہیں اسکاؤٹس کے اس خاص پروگرام میں اسکاؤٹ کیمپ میں گزار ے گئے تمام دنوں کا احوال اور اس کا خلاصہ کچھ مزاحیہ لطیفوں، خبروں ، مزاحیہ و درس آمیز خاکوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اس رات کو تمام اسکاؤٹس اپنی اپنی مہارتوں کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور یہ اسکاؤٹس کا ایک خاص پروگرام ہوتا ہے جسے اسکاؤٹس خاص طریقے سے ہی مناتے ہیں۔

 

وحدت اسکاؤٹس کے پانچ روزہ مرکزی اسکاؤٹ کیمپ ’’پیام امن ‘‘ کے اختتا م پر بھی وحدت اسکاؤٹس نے کیمپ فائر کا انعقاد کیا اور اس رات کو بھرپور انداز سے منایا ، کیونکہ اس موقع پر پاکستان بھر سے آئے ہوئے اسکاؤٹس نے مختلف موضوعات پر مزاحیہ و درس آمیز خاکے بھی پیش کئے، جبکہ اپنے سینئرز کی پیروڈی بھی بنائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ مزاحیہ خبروں اور لطیفوں سے اسکاؤ ٹس کو لطف اندوز کیا جاتا رہا، لیکن اس کیمپ فائر کی سب سے عمدہ اور انوکھی بات یہ رہی کہ اچانک کیمپ فائر کے چار سو سے زائد شرکاء کہ جن میں مہمان خصوصی پنجاب بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری طارق قریشی سمیت تما م افراد کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

 

جی ہاں ! یہ واقعاً ایسے لمحات تھے کہ درد دل رکھنے والے تمام افراد کی آنکھیں تر ہو چکی تھیں، اسٹیج پر گلگت اور بلتستان نے تعلق رکھنے والے ننھے معصوم بچے اپنا خاکہ پیش کر رہے تھے اور اس خاکے کا عنوان رکھا گیا تھا ’’سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور‘‘۔مجھے یقین ہے کہ یہ پڑھنے کے بعد یقیناًآپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے۔

 

خاکے کے آغاز میں ایک معصوم بچہ اپنی والدہ کو صبح اسکول جانے سے پہلے گذشتہ رات کو دیکھا ہوا اپنا ایک خواب کچھ اس طرح سناتا ہے کہ ’’پیاری امی جان ! امی جان بڑی محبت سے اپنے لخت جگر کو سلام کا جواب دیتے ہوئے پیار کرتی ہیں اور کہتی ہیں جی میری جان!تب یہ معصوم بچہ گویا ہوتا ہے ک امی جان میں نے کل رات ایک خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے اسکول کے تمام دوستوں کے ساتھ ایک دریا کے کنارے کھیل رہا ہوں اور اچانک دریا میں طغیانی شروع ہوتی ہے اور ہم سب بچے دریا میں پھنس گئے ہیں اور اس دریا میں بہنے والے پانی کا رنگ سرخ ہے ، میں آپ کو آواز دیتا ہوں لیکن آپ میری آواز نہیں سن پا رہی ہوتی، آخر اس خواب کی تعبیر کیا ہو گی؟ ماں اپنے بیٹے کو ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہتی ہے پیارے بیٹا اسکول جاؤ آپ کو دیر ہو رہی ہے۔

 

تمام بچے اسکول پہنچ چکے ہیں، کلاس میں بیٹھے استاد کا انتظار کرتے ہیں، استاد کلاس روم میں تشریف لاتے ہیں، بچے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں استاد صاحب کو سلام کرتے ہیں، استاد انہیں بیٹھنے کوکہتے ہیں ان سے حال احوال دریافت کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ کل ہم نے علم کے موضوع پر گفتگو کی تھی کیاکوئی بچہ کل کی کلاس کا خلاصہ کر سکتا ہے، ایک طالب علم کھڑا ہو کر بتانا شروع کرتا ہے، ہم نے کل پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث کہ جس میں فرمایا گیا ہے، ’’علم نور ہے‘‘پر گفتگو کی تھی، ابھی علم کے حصول کے بارے میں یہ بچہ گفتگو کر رہا ہے کہ اچانک پاکستان اور اسلام کے دشمن طالبان ظالمان دہشت گرد کمرہ کلاس میں بھاری اسلحہ کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور استاد سمیت تمام بچوں کو پکڑ پکڑ کر گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی زندہ بچ گیا ہے تو اسے دوبارہ اٹھا کر سر میں گولی مار دی جائے، خاکے میں تھوڑی دیر بعد افواج پاکستان بھی پہنچ جاتی ہیں جو دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیتی ہیں اور پھر اس طرح ریسکیو آپریشن کا آغاز ہو جاتا ہے ،لیکن افسوس کے بچوں میں سے کوئی نہیں بچ سکا، سب کے سب بچے شہید ہو چکے ہیں، استاد بھی شہید ہو چکے ہیں، انہیں تو خبر بھی نہیں ہوئی کہ آخر ہم معصوم بچوں کو یہ طالبان دہشت گرد کیوں مار رہے ہیں؟

 

بہر حال یہ درد بھرے مناظر آنکھوں کے سامنے دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار تھی، ماحول پر رقت آمیز مناظر کا قبضہ ہو چکا تھا، یہ وہی ماحول تھا جو ابھی چند لمحات پہلے قہقہوں اور مزاحیہ خاکوں کی وجہ سے پر رونق تھا لیکن اچانک اس خاکے نے سب کو سنجیدہ کر دیا، ان معصوم بچوں نے ایک مرتبہ پھر سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد کو زندہ کر دیا، ہر با ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، آہوں اور سسکیوں کے آوازیں گونج رہی تھیں،سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ خاکہ کے اختتام پر بچوں کو تالیوں کی گونج میں داد تحسین پیش کی جائے یا پھر کھڑے ہو کر اسٹیج سے اترنے والے ان معصوم ہونہاروں کو داد تحسین دی جائے، بہر حال یہ لمحات گزر گئے ، فضا سوگوار رہی اور وحدت اسکاؤٹس کے ان شاہینوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک و ملت شہداء کو یاد رکھنے والوں میں سے ہیں اور ملک وملت و اسلام کے دشمنوں کے سخت دشمن ہیں۔

 

یہاں ان سب باتو ں سے بڑھ کر ایک نقطہ اور بھی ہے جسے شاید بیان کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں، یہ جو معصوم بچے شہدائے سانحہ پشاورا سکول کی یاد تازہ کر رہے تھے ، یہ بھی ایسی قوم کے بچے تھے کہ جس قوم کو روزانہ مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے والدین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان بچوں کے اسکولوں کو بھی بم دھماکوں سے اڑایا جاتا رہاہے، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں جن کو کافر کا لیبل لگا کر اس ملک میں قتل کرنا جیسے حلال قرار دے دیا گیا ہے، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ جس قوم میں روزانہ جنازہ اٹھایا جاتا ہے، یہ اس قوم کے بچے ہیں کہ جہاں ایک ایک دن میں ایک سو جنازے بھی اٹھائے گئے ہیں، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ جو خود کش بم دھماکوں کی زد میں آ کر اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے ہیں کہ ان کے جسموں کو ڈھونڈھا نہیں جا سکا، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ دشمن ان سے خوفزدہ ہے، یہ اس قوم کے بچے ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کے شہداء کو ہمیشہ اپنی یادوں میں یاد رکھا ہے، اپنی خوشیوں میں اور اپنے دکھوں میں ہر موقع پر ان شہداء کو یاد رکھا ہے، میرا دل کرتا ہے کہ ان تمام بچوں کا ماتھا چوم لوں، انہیں اپنے کاندھوں پر اٹھا لوں،ان کے والدین پر درود و سلام ہوکہ جنہوں نے اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کی ہے کہ آج ان کی معصومانہ سوچوں میں سانحہ پشاور اسکول کے شہداء کی یاد زندہ و تابندہ ہے اور آج انہوں نے ہمیں بھی اشک بار کر دیاہے ، شاید انہی کی بدولت ہمیں بھی یاد آ گیاہے کہ یہ کوئی پرانی بات نہیں ہے، یہ تو ابھی کی بات ہے جب اسکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، لیکن ہم نے کیوں فراموش کر دیاہے؟ہم ابھی تک ان معصوم بچوں کے قاتلوں سے انتقام نہیں لے سکے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے معصوم بچوں کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ظالم اور سفاک قاتلوں کو بھی فراموش کر بیٹھیں، میری آنکھیں پھر امڈ آئی ہیں، دل پھٹ رہاہے، مزید قلم میں بھی طاقت نہیں رہی، بس یہی دعا کرتا ہوں کہ میرے وطن تیری توقیر سلامت رہے۔کیونکہ میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچو ں سے ڈرتا ہے ، بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے، میں ایسی قوم سے ہوں جس میں ہر روز جنازہ اٹھتا ہے۔


تحریر:تنصیر حیدر شہیدی

وحدت نیوز (راولپنڈی)  خیرالعمل فاؤنڈیشن کا شعبہ صحت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام بڑے شہروں میں طبی مراکز قائم کرے گا ان طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ ساتھ فوری رسپانس کے لیے ایمبو لینس سروس بھی فراہم کی جائے گی اور بلڈ ڈونیشن کا سلسلہ بھی جاری کیا جائے گا تاکہ ایمرجنسی کی صورتحال میں خون کی فراہمی کو بر وقت یقینی بنایا جاسکے اب تک خیرالعمل فاؤنڈیشن اس شعبے کے تحت اسکردو،گلگت،لیہ،لاہور،راولپنڈی،ڈی جی خان میں 9 ہیلتھ سنٹر اور ایک ہسپتال قائم کر چکی ہے اور کچھ پر کام جاری ہے ان خیالات کا اظہار خیرالعمل فاؤنڈیشن کے چیئرمین نثار علی فیضی نے ریلوے سکیم نمبر 9 میں کلینک کا سنگ بنیاد رکھنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی کے مسؤلین مولانا سید ساجد شیرازی،مولانا علی اکبر کاظمی اور دیگر افراد بڑی تعداد موجود میں موجود تھے ۔ نثار علی فیضی نے کہا پاکستان کی عوام آئے دن قدرتی و انسانی سانحات کا سامنا کر رہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان سہولیات کا فقدان ہے جن میں فوری طبی امداد،ایمبولینسسز کی فراہمی،خون کی فراہمی شامل ہیں جس کے نتیجے میں نقصانات کی شدت بڑھ جاتی ہے خیرالعمل فاؤنڈیشن کا شعبہ صحت اس صورتحال کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے اور پہلے فیز میں مختلف بڑے شہروں میں کلینکس،ڈسپنسری قائم کی جارہی ہیں اور دوسرے فیز میں طبی سہولیات کے حوالے سے دیگر لوازمات پورے کیے جائیں گے جن میں ایمبو لینسسز ،خون کی فراہمی شامل ہے۔

وحدت نیوز (لاہور) علامہ ناصرعباس جعفری کی زیر صدارت مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کا ایک روزہ مرکزی تنظیمی وتربیتی اجلاس لاہور میں شعبہ خواتین کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا جس میں شعبہ خواتین کی از سر نو تنظیم سازی کی گئی ۔ملک بھر سے آئی ہوئی خواتین جن میں گلگت ، بلتستان ، کوئٹہ ، خیبر پختونخواہ ، اندرون سندھ ، کراچی اور لوئر ،اپراور مڈل پنجاب اور ریاست آزاد جموں کشمیرشامل تھیں نے شرکت کی اس اجلاس میں صوبوں کی نمائندگی میں آنے والی خواتین کو کوآرڈینیٹر اور معاون کوآرڈینیٹرکی ذمہ داریاں دی گئیں اور انہیں یہ ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی سیٹ اپ کو جلد از جلد مکمل کر کییونٹس تشکیل دیں گی اور انشا اللہ مئی کے پہلے ہفتے میں شعبہ خواتین کا کنونشن منعقد کیا جائے گا ۔اس اجلاس میں مرکزی کمیٹی شعبہ خواتین کے اراکین جن میں شعبہ سیاسیات کے مرکزی سیکریٹری برادر ناصر عباس شیرازی ، شعبہ تربیت کے مرکزی سیکریٹری مولانا احمد اقبال رضوی ، مرکزی کوآرڈینیٹر شعبہ خواتین خانم زہرا نقوی ،معاون کوآرڈینیٹر شعبہ خواتین خواہر تحسین شیرازی ، خانم زہرا نجفی کے علاوہ محترمہ خانم طیبہ ناصر نے خصوصی طور پرشرکت کی اور اجلاس سے خطاب بھی کیا ۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے ایک روزہ مرکزی تنظیمی و تربیتی اجلاس کی صدارت کر تے ہو ئے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے کہاکہ زینبی(س)کردار کی حامل خواتین مجلس وحدت مسلمین کا توانا بازو ہیں پوری تاریخ میں اسلامی تحریکوں میں انقلابی خواتین نے قربانیاں دیکر حق کے پرچم کو سر بلند رکھا ہے انہوں نے خواتین کے انقلابی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں خواتین نے ایثار اور قربانیوں کے ایسے عظیم نمونے دنیا کے سامنے پیش کیے جو اپنی مثال آپ ہیں ۔انہوں نے مزید کہاحزب اللہ کی خواتین نے اسرائیل کو شکست اور ذلت سے دچار کیا ہے ۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور شوہروں کو قربان کر کے لبنان کوہمیشہ کے لئے اسرائیل کے شر سے محفوظ بنایاہے ۔

 

علامہ ناصر عباس جعفری نیاجلاس میں شریک خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواتین بھی ایرانی اور لبنانی خواتین سے کسی طرح بھی کم نہیں ہیں ، انہوں نے بھی قربانیاں دینے کا جذبہ موجود ہے جو انہوں نے کربلا سے سیکھا ہے۔علامہ ناصر عباس جعفری نے مجلس وحدت مسلمین کے ممبران اور مسولین سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ بھی شعبہ خواتین کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ، مجلس وحدت کے تمام صوبائی اور ضلعی مسؤلین کو اس مہم میں خواتین کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ۔اس اجلاس سے شعبہ خواتین مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی کوآرڈینیٹر خانم زہرا نقوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ : اس مشکل گھڑی میں جب ہماری ملت پر روزانہ شب خون مارا جا رہا ہے اور روز ہماری مساجد ، امام بارگاہوں پر حملے ہو رہے ہیں اور سینکڑوں شیعیان علی (ع)کو شہید کیا جا رہا ہے اور ملک میں دہشت گردوں کا راج ہے ۔ اور ملت کے جوانوں کو بے گناہ اسیر کیا جا رہا ہے ،شعبہ خواتین کو مضبوط کر کے فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے بھائیوں کی پشتبانی کرتے ہوئے انکی اس عظیم انقلابی اور الہی جدو جہد میں ان کے برابر کی شریک رہیں۔انہوں نے اس بات کا بھی عزم کیا کہ ملت کی مستضعف خواتین کو اوپر لا کر انہیں ملت کا مضبوط بازو بنائیں گے ۔ انہوں نے بھی مجلس وحدت کے مسولین اور کارکنان سے اپیل کی کہ شعبہ خواتین کی مضبوطی کیلئے ان کا ساتھ دیں اور اپنے گھر کی خواتین کو بھی اس شعبے سے منسلک کرتے ہوئے اپنے ضلعوں سے موثر خواتین کی لسٹ فراہم کرنے میں ان کی مدد کریں ۔

 

اس مرکزی اجلاس سے شعبہ سیاسیات کے مرکزی سیکریٹری جناب ناصر عباس شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بگڑی ہوئی صورتحال اور تشیع پر یزیدی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے مقابلے میں مجلس وحدت مسلمین اپنے الہی اور انسانی فریضے کو ادا کر رہی ہے اور اس مشکل وقت میں شعبہ خواتین کا از سر نو فعال ہونا خوش آئند ہے ۔شعبہ تربیت کے مرکزی سیکرٹری مولانا احمداقبال رضوی نے اسلامی تنظیم کے کارکن کی خصوصیات اور اخلاق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک اسلامی تنظیم کے کارکن میں اخلاص ،بصیرت اور ایمان کا ہونا ناگزیر ہے انہوں نے مزید کہامجلس وحدت مسلمین ایک عام سیکولر یا لبرل جماعت نہیں بلکہ اس کا منشور اور اغراض و مقاصد اسلامی اور الہی ہیں لہذا ہمیں بھی انہیں اسلامی و الہی اقدار کا حامل ہونا چاہیے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree