The Latest

وحدت نیوز(قمبر شہدادکوٹ) مجلس وحدت مسلمین قمبرشہدادکوٹ کے تحت مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی کال پر کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف نصیر آباد سے حسینی مسجد تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی کی قیادت ضلعی سیکریٹری جنرل اخترعباس شاہ نے کی۔ ریلی میں کثیر تعداد میں ایم ڈبلیوایم کے کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی امام خمینی چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اختر عباس نقوی، غلام شبیر اکبری، مست علی حیدری، حبدار علی لغاری نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں شیعہ نسل کشی روکنے کے لئے اقدامات کرے، انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی شیعہ نسل کشی پر اپنی آواز کو بلند کریں۔

 

رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ بھر میں امن و امان کے حوالے سے بدترین صورتحال ہے، اولیاء کی سرزمین سندھ کالعدم جماعتوں کی آماجگاہ بن چکی ہے اور سندھ کی حاکم جماعت پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری صرف ٹوئیٹر پر بیانات دے رہے ہیں۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں شیعہ نسل کشی میں ملوث عناصر کو منظر عام پر لاکر قرار واقعی سزا دی جائے اور سندھ بھر میں کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں کو بند کیا جائے، اگر ایسا نہ گیا تو وزیراعلیٰ سندھ کی برطرفی کی مہم چلائیں گے اور قائم علی شاہ کا انجام بھی لشکری رئیسانی جیسا ہوگا۔

وحدت نیوز(کراچی) کراچی سمیت پاکستان بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین نے اس کے خلاف جمہ 23مئی کو یوم احتجاج و یوم مذمت منانے کا اعلان کردیا۔ ایم ڈبلیوایم کی قیادت نے نااہل وفاقی و صوبائی حکومتوں اوران ریاستی عناصرکو شیعہ نسل کشی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا ذمے دار بھی قرار دیا جو ان کے مطابق کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ پاک محرم ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما حجت الاسلام علامہ باقر زیدی نے کہا کہ یوم احتجاج و یوم مذمت کی مناسبت سے جمعہ کے روز نماز جمعہ کے خطبات میں ، مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر اور باہراجتماعات اور ملک بھر میں مختلف عوامی مقامات پر ریلیاں ، مظاہرے اور علامتی دھرنے ہوں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعلان کے مطابق شیعہ نسل کشی کے خلاف عوام ان میں بھرپور شرکت کریں گے اور قائدین ان اجتماعات سے خطاب فرمائیں گے۔

 

علامہ مبشر حسن علی حسین نقوی اور مولانا علی انور جعفری کی موجودگی میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کراچی میں بیٹھ کر ایک رسمی اعلان کے ذریعے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس آپریشن کا کیپٹن بنایا لیکن ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں میں بھی کراچی میں نا امنی کا راج رہا، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز، جرائم پیشہ افراد اور خاص طور پر کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولے بے جرم و خطا پاکستانی شہریوں کا قتل عام کرتے رہے۔آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔ان 8مہینوں میں آج تک 120سے زائد شیعہ مسلمان ہدف بنا کر شہید کئے جاچکے ہیں۔ان شہدا ء میں شیعہ علماء و ذاکرین، ڈاکٹرز ، انجینیئرز، وکلاء، سرکاری افسران، معلمین اور تاجر سبھی شامل ہیں۔ خاص طور سے کاروباری حضرات اب کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا نیا ہدف ہیں۔یہ رجحان پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کراچی کے کئی خاندانوں کی اقتصادی نسل کشی کے بھی مترادف ہے۔ ایک جانب شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا خاص طور سے ہدف بنانے والے دہشت گرد ہیں۔اور دوسری جانب ایک نااہل و ناکام حکومت ہے جس کی بنیادی آئینی ذمے داری میں شہریوں کے جان و مال کی حفاظت بھی ایک اہم فریضے کے طو ر پر شامل ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں امن و امان پرایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا لیکن افسوس صد افسوس کہ اس اجلاس میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ کسی جماعت کو یا رہنما کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو اس اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا۔معلوم ہوا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی تحفے کے بدلے میں انہیں مزید کون کون سی پاکستان دشمن خدمات انجام دینا ہوں گی۔شیعہ مسلمانوں کو امن و امان کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دے کر نواز لیگی حکومت نے قوم کو واضح پیغام دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں نہ کہ دہشت گردی کے شکار پاکستانیوں کے ساتھ۔یہ پیغام وہ شروع دن سے دیتے آرہے تھے کیونکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بجائے ان سے مذاکرات کرکے ان کی شرائط مان کر انہیں دوبارہ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا ایک اور موقع دینا چاہتے تھے۔امن کے نام پر وہ دہشت گردوں کو دہشت گردی کا ایک اور چانس دینا چاہتے ہیں۔لیکن نوازلیگی وفاقی اور صوبائی حکومتیں، خیبر پختونخواہ کی تحریک انصاف حکومت اورسندھ کی پی پی پی حکومت کو ہم تاریخ کا یہ سبق پڑھ کر سنادیتے ہیں اور یہی پیغام ریاستی اداروں کے لئے بھی ہے کہ ان دہشت گردوں سے چشم پوشی کرنا یا ان کی سرپرستی کرنا جو پاکستان کے باوفا اور غیرت مند شہریوں کے دامن میں آگ لگارہے ہیں، وہ یہ یاد رکھیں کہ یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی۔ماضی قریب میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔بے نظیر بھٹو بھی انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں، مفتی حسن جان دیوبندی کو بھی ان دہشت گردوں نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کیا۔انہوں نے بشیر بلور کو بھی نہیں بخشا۔مجلس وحدت مسلمین کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر ملک دشمنوں اور انسانیت دشمنوں کی سرپرستی کرنے کی جو مذموم پالیسی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی ہے، اس سے ملکی سالمیت اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص ہی وزیر داخلہ بھی ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اس روش کو ترک کریں جس کے تحت دہشت گروں کو قوت اور طاقت مل رہی ہے۔ وہ کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں کسی بھی بہانے سے اجتماع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ذرائع ابلاغ ان کا بائیکاٹ کریں۔نااہل حکمران تبدیل کرکے اہل افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی غیر جمہوری طریقے سے نااہل حکمرانوں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یا تو یہ حکمران آئینی ذمے داری نبھاتے ہوئے دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیں تاکہ ان کی اہلیت ثابت ہو ورنہ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ مطلوبہ آئینی اہلیت کے حامل افراد یہ ذمے داریاں سنبھالیں۔ ملک بھر اور خاص طور پر کراچی میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی نے ہمارے قلوب کو رنجیدہ و غمزدہ کردیا ہے۔شہداء کے ورثاء ہماری جانب امید افزا نظروں سے دیکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام ناب محمدی کے مقدس لہو سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان کے قاتل کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں اور ان کے سرپرست نااہل حکمرانوں کی مذمت کی جائے اور ان کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) کراچی شیعہ مسلمانوں کی مقتل گاہ من چکا ہے ،روز انہ ڈاکٹرز، انجینئرز، علماء، تاجر ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ، سندھ حکومت کے کسی ایک وزیر کو مذمتی بیان تک دینے کی توفیق نہیں ہے، دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے سدباب کے لئے بلائے گئے اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا، ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں بعد بھی کراچی میں بد امنی کا راج ہے،آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کلرز کوٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص وزیر داخلہ بھی ہے،سندھ حکومت کی نا اہلی اور شیعہ نسل کشی کی خلاف کل بروز جمعہ 23مئی کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر علامہ مبارک موسوی، علامہ عبد الخالق اسدی اوراسد عباس نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کراچی میں بیٹھ کر ایک رسمی اعلان کے ذریعے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو اس آپریشن کا کیپٹن بنایا گیا۔لیکن اس ٹارگٹڈ آپریشن کے آٹھ مہینوں میں بھی کراچی میں نا امنی کا راج رہا، دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز، جرائم پیشہ افراد اور خاص طور پر کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولے بے جرم و خطا پاکستانی شہریوں کا قتل عام کرتے رہے۔آپریشن تو ان کو ٹارگٹ کرنے میں مکمل ناکام رہا لیکن وہ چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے رہے اور تا حال کررہے ہیں۔ان 8مہینوں میں آج تک 125شیعہ مسلمان ہدف بنا کر شہید کئے جاچکے ہیں۔ان شہدا ء میں شیعہ علماء و ذاکرین، ڈاکٹرز ، انجینیئرز، وکلاء، سرکاری افسران، معلمین اور تاجر سبھی شامل ہیں۔ خاص طور سے کاروباری حضرات اب کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا نیا ہدف ہیں۔یہ رجحان پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کراچی کے کئی خاندانوں کی اقتصادی نسل کشی کے بھی مترادف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک جانب شیعہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا خاص طور سے ہدف بنانے والے دہشت گرد ہیں۔اور دوسری جانب ایک نااہل و ناکام حکومت ہے جس کی بنیادی آئینی ذمے داری میں شہریوں کے جان و مال کی حفاظت بھی ایک اہم فریضے کے طو ر پر شامل ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کراچی آئے اور امن و امان پرایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیالیکن افسوس صد افسوس کہ اس اجلاس میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ کسی جماعت کو یا رہنما کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دہشت گردی کے شکار شیعہ مسلمانوں کو اس اجلاس میں نہ بلا کر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سعودی نمک خوار ہونے کا ثبوت دیا۔معلوم ہوا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر سعودی تحفے کے بدلے میں انہیں مزید کون کون سی پاکستان دشمن خدمات انجام دینا ہوں گی۔شیعہ مسلمانوں کو امن و امان کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دے کر نواز لیگی حکومت نے قوم کو واضح پیغام دیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں نہ کہ دہشت گردی کے شکار پاکستانیوں کے ساتھ۔یہ پیغام وہ شروع دن سے دیتے آرہے تھے کیونکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بجائے ان سے مذاکرات کرکے ان کی شرائط مان کر انہیں دوبارہ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا ایک اور موقع دینا چاہتے تھے۔امن کے نام پر وہ دہشت گردوں کو دہشت گردی کا ایک اور چانس دینا چاہتے ہیں۔لیکن نوازلیگی وفاقی اور صوبائی حکومتیں، خیبر پختونخواہ کی تحریک انصاف حکومت اورسندھ کی پی پی پی حکومت کو ہم تاریخ کا یہ سبق پڑھ کر سنادیتے ہیں اور یہی پیغام ریاستی اداروں کے لئے بھی ہے کہ ان دہشت گردوں سے چشم پوشی کرنا یا ان کی سرپرستی کرنا جو پاکستان کے باوفا اور غیرت مند شہریوں کے دامن میں آگ لگارہے ہیں، وہ یہ یاد رکھیں کہ یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی۔ماضی قریب میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔بے نظیر بھٹو بھی انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں، مفتی حسن جان دیوبندی کو بھی ان دہشت گردوں نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کیا۔انہوں نے بشیر بلور کو بھی نہیں بخشا۔

 

انہوں نے مذید کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر ملک دشمنوں اور انسانیت دشمنوں کی سرپرستی کرنے کی جو مذموم پالیسی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی ہے، اس سے ملکی سالمیت اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔سندھ حکومت کا سربراہ ایک نااہل شخص ہے اور بدقسمتی سے وہی نااہل شخص ہی وزیر داخلہ بھی ہے۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اس روش کو ترک کریں جس کے تحت دہشت گروں کو قوت اور طاقت مل رہی ہے۔ وہ کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں کسی بھی بہانے سے اجتماع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ذرائع ابلاغ ان کا بائیکاٹ کرے۔نااہل حکمران تبدیل کرکے اہل افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی غیر جمہوری طریقے سے نااہل حکمرانوں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ یا تو یہ حکمران آئینی ذمے داری نبھاتے ہوئے دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیں تاکہ ان کی اہلیت ثابت ہو ورنہ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ مطلوبہ آئینی اہلیت کے حامل افراد یہ ذمے داریاں سنبھالیں۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ ملک بھر اور خاص طور پر کراچی میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی نے ہمارے قلوب کو رنجیدہ و غمزدہ کردیا ہے۔شہداء کے ورثاء ہماری جانب امید افزا نظروں سے دیکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام ناب محمدی کے مقدس لہو سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان کے قاتل کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گرد ٹولوں اور ان کے سرپرست نااہل حکمرانوں کی مذمت کی جائے اور ان کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے۔اس لئے شیعہ نسل کشی کے خلاف جمعہ 23مئی کو یوم احتجاج و یوم مذمت کے طور پر منایا جائے گا۔ یوم احتجاج و یوم مذمت کی مناسبت سے جمعہ کے روز نماز جمعہ کے خطبات میں ، مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر اور باہراجتماعات اور ملک بھر میں مختلف عوامی مقامات پر ریلیاں ، مظاہرے اور علامتی دھرنے ہوں گے۔ عوام ان میں بھرپور شرکت کریں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے قائدین ان اجتماعات سے خطاب فرمائیں گے۔آپ سے التماس ہے کہ یوم احتجاج اور یوم مذمت کے پروگراموں کی کوریج فرمائیں اور شیعہ نسل کشی کے خلاف ، دہشت گردوں کے خلاف احتجاج میں ہماراساتھ دیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سرزمین پاکستان پر انبیاء ، اولیاء، آئمہ ، شہداء اور صدیقین کی آرزوں ، امنگوں اور ارمانوں کی تکمیل میں امامیہ طلباء کی زحمتیں تا قیامت یاد رکھی جائیں گی ، پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے حقیقی محافظ یہی امامیہ طلباء ہیں ، پاکستان میں انقلاب اسلامی کی ترویج و اشاعت میں آئی ایس او کا کردار منفرد ہے ، امامیہ طلباء کو اس عظیم شجرہ طیبہ کی تاسیس کے 42سال مکمل ہو نے پر ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں ، ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 42ویں یوم تاسیس پر مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے تہنتی پیغام میں کیا۔

 

ان کا کہنا شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ نے اس پاک سرزمین جس شجر طیبہ کا بیج اپنے دست مبارک سے کاشت کیا اور جس شجر کی آبیاری شہید نے اپنے مقدس لہو سے کی آج وہ شجر سایہ دار فرقہ پرستی ، انتہاپسندی، بے راہ روی ، معاشرتی انحطاط کے مقابلے میں جائے پناہ ہے، آئی ایس او وہ ماں ہے جس نے سرزمین پاک پرمدافعان ولایت کو جنم دیا،انہوں نے مذید کہا کہ آئی ایس او پاکستان سے وابسطہ طلباء آج پاکستان اور پاکستان سے باہر دین ، ملک اور ملت کی خدمت میں شب و روز کوشاں ہیں ، جو کہ شہید ڈاکٹر کےلئے ایصال ثواب کا زریعہ ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) وہ کون تھا جس نے لا دینیت کے مقابل دین داری او ر باطل پرستی کے مقابل حق پرستی کا علم بلند کیاتھا ۔۔وہ کون تھا جس نے سوشلزم کی سرخ آندھیوں کے سامنے اسلام حقیقی کی نسیم بہار کی دیوار کھڑی کر دی۔۔۔وہ کون تھا جس نے نوجوانوں کوبے راہ روی سے نکال کر تعلیم و تربیت کی راہ دکھائی ۔۔۔وہ کون تھا جس نے نوجوانوں کو جامد سوچوں اور پست افکار کے مقابل کربلا کی بلند فکر سے روشناس کر نے کی ٹھان لی اور اسے کر گذرے۔۔۔وہ کون تھا جس نے فلمی ہیروز کو آئیڈیل سمجھنے والے ملک و ملت کا مستقبل طالعلموں کو علما ء حق کی پیروی اور ان سے محبت کے گَر سکھائے ۔۔وہ کون تھا جس نے متفرق،منقسم اور بکھرے ہوئے قومی قائدین کو متحد،منظم اور یکجان ہونے کا ماحول وموقعہ فراہم کیا ۔۔۔ وہ کون تھا جس نے دانہ دانہ ہو کر نابود ہو جانے کے بجائے تسبیح بن جانے کی راہ اور تدبیر نکالی ۔۔۔۔وہ کون تھا جس نے کراچی سے لیکر پاراچنار اور کوئٹہ سے لیکر سیاچن کے نوجوانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ۔۔ایک مقصد،ایک ہدف ،ایک رستہ،ایک شعار،ایک نصب العین،ایک دستور،ایک اصول،ایک جذبہ،ایک فکر اور ایک ضابطے کے پابند تسبیح کے یہ دانے پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نام سے جانے اور پہچانے گئے ۔ وہ سب ایک جیسے (i so )تھے،لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ انجیئنرنگ یو نیورسٹی سے آغاز سفر کر کے کراچی کے ساحلوں سے لیکرپاراچنار کے کوہ سفید کی عظمت تک اور بلوچستان کے صحراؤ ں سے لیکر سیاچن کی بلند ترین چوٹیوں تک وہ ایک تھے اور ایک ہیں۔

 

2مئی 1972ء جب ارضِ وطن پاکستان کے شہر لاہور میں مکتبِ اہلبیت ؑ کے پروردہ کالجز اور یونیورسٹیزکے طلبا ء نے چمن پاک میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مقدس نام سے ایک ایسا پودا لگایا ،جس کی خوشبو سے گلشن وطن مہک اُٹھا اس کی مہکتی نسیم بہاراں، جہاں بھی گئی لوگوں کو اپنے سحر میں اسیرکر لیاا،لاہور سے چلنے والی اس بہار صبح نو کے چرچے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ملک کے گوش وکنار میں سنائی دینے لگے،صرف تین برس کے عرصہ میں اس کے باغبانوں نے ملک بھر میں اس کی آبیاری کی ۔ اس نو خیز پودے کو علم، عمل، تقویٰ ،خلوص، جذبہ ، عہد،ایقان، اتحاد ،یکجہتی ،اُصول، ضابطے ، روایات، معرفت اور نظریہ ولایت سے سیراب کر دیا گیا ظلم اور ظالموں سے نفرت اس کی بنیادوں میں شامل کر دیئے گئے یہی وجہ ہے کہ آج بیالیس سال گذع جانے کے بعد بھی یہ استعمار دشمنی کا استعا رہ کے طور پر افق ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر بنا ہوا ہے ۔ اس نحیف، نرم ،نازک اور کمزور پودے کو زمانے کی بادِ مسموم سے بچانے اور تواناو مضبوط، طاقتورو قوی ،سایہ دار وجانداربنانے اوراس نوخیز پودے کوٹوٹنے ، جھکنے ، بکھرنے سے بچانے کیلئے یوں تو ان بیالیس برسوں میں ہزاروں نوجوانوں ،بھائی بہنوں نے اس کی بنیادوں کو اپنے خون پسینے سے سینچا اور اپنی طاقت و قوت سے بڑھ کر اپنا دم اور زور لگایا مگر اس کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچنے والوں میں سب سے بڑی قربانی تنظیم کے بانی اورہم سب کی سب سے پسندیدہ شخصیت ، سفیر انقلاب ڈاکٹر محمد علی نقویؒ نے دی، قربانیوں کے پیش کاروں میں راجہ اقبال حسین، سیدتنصیر حیدر، ڈاکٹر قیصر عباس سیال ،اعجاز حسین رسول نگری ،پروفیسر نزاکت علی عمرانی کے نام بھی روشن و تابندہ ہیں۔ جبکہ اس کاروان الہٰی کو آغاز سفر سے اپنے علم ،شعور ،اور تقوی سے سیراب کرنے والے علماء کرام میں مرحوم آغا علی الموسوی،قبلہ مرتضیٰ حسین صدرالافاضل،قبلہ مولانا صادق نجفی ،قبلہ علامہ صفدر حسین نجفی، مولانا امیر حسین نقوی اور کچھ دیگر علماء کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔بیالیس برس ہونے کو آئے ہیں الحمد للہ اب یہ پوداخوبصورت،مہکتا مضبوط تناور،شجر سایہ دار کی صورت میں ہر سو نظر آتا ہے۔ اپنے کردار، عمل ،نظریہ اور قوت کے بل بوتے پر آج پوری قوم اس تنظیم سے ایسے ہی مستفید ہو رہی ہے جس طرح کسی تناور، مضبوط اور گھنے درخت کی چھاؤں سے تپتی دھوپ میں مستفید ہوتی ہے ۔ اب یہ ایک ایسا کاررواں بن چکا ہے جس میں شریک ہر ایک مسافر نے اسے منزل پر پہنچانے کے عہد کو نبھانے کی ٹھان لی ہے۔ گزشتہ بیالیس برس گواہ ہیں کہ اس ملت پر جب بھی کڑا وقت آیا ہے تو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہی قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے اور ہمیشہ اس کے مخلص اور دین دار ،منظم کارکنان نے خود کو سب سے آگے رکھا ہے۔ہر محاذ پر فرنٹ لائن کی پوزیشن اختیار کی ہے اور ہر مشکل کا مقابلہ سینہ سپرہوکر کیا ہے۔

 


آئی ایس او پاکستان کی تاریخی وچیدہ چیدہ خدمات ،کارہائے نمایاں ،ملت پر اس کے مثبت و دیرپا اثرات کو اگر انتہائی جامع اور مختصر ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو 22 مئی 1972ء کو یہ کارروان باقاعدہ طور پر قائم ہو گیا تھا اور اپنی تاسیس کے ساتھ ہی اس کے ذمہ داران نے اس کی وسعت اور توسیع کیلئے کوششیں شروع کر دی تھیں ،اس سے قبل مختلف ناموں سے جو کارروان لاہو ر کے کالجز کی سظح پر کام کر رہے تھے سب اس میں ضم ہو گئے تھے یہ شیعہ طلبا ء کا پہلا ملک گیر پلیٹ فارم تھااس سے پہلے قومی سطح پر بہت محدودلوگ شیعہ مطالبات کمیٹی کے نام سے ایک تحریک چلا رہے تھے جن کی سوچ محدود تھی اور ان کے پاس قوم کی ترقی و تعمیر اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی واضح برنامہ، ہدف و پروگرام نہیں تھا، اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد روز بروز پیش رفت کی اور 1974ء میں اس تنظیم سے فارغ التحصیل ہونے والے برادران کی کو ششوں سے ہی سابقین کا ایک پلیٹ فارم امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کا قیام ممکن ہوا، 1978ء میں انقلاب سے قبل انقلاب اسلامی کے قائد امام خمینیؒ کی حمایت میں لاہور کی مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کا شرف اسی کارروان کو حاصل ہوا اور فرانس میں جلا وطنی کے دوران ان سے یکجہتی کا اظہارو حمایتی خط بھی اس بات کی علامت تھا کہ ا س کارروان کا ہر فرد ولایت فقیہ و ولی فقیہ امام خمینی کی بلند معرفت رکھتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں وہ لوگ آج کے پیروان ولایت کے دعویداروں سے کہیں زیادہ آگاہ،متعہد اور مخلص تھے،ان لوگوں نے انقلاب کے ثمرات کو دیکھا تھا اور نہ چکھا تھا آج کی طرح ان کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے تھے ان کے پاس بسیجیوں جیسی آئیدیل فورس بھی نہیں تھے جن کی مثال دیکر نوجوانوں کو متوجہ کیا جاتا ،جو کچھ بھی تھے یہ خود تھے اور ان کی سرپرستی کرنے والے گنتی کے چند علماء تھے جو ان نوجوانوں کو دینی تربیت اور فکری غذا فراہم کرتے تھے۔ اس بات کا اعتراف کیئے بنا آگے نہیں بڑھ سکتے کہ یہی وہ کاروان تھا جس نے یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبا ء ہوتے ہوئے عالمانہ کردار ادا کیا اور امام خمنی کی انقلابی سوچ و افکار کی تبلیغ کا بیڑا اٹھایا در حالینکہ ان نوجونوں کو ولایت کے درس دینے والے ہی نظر نہیں آتے تھے،جبکہ ان کی مخالفت کا دم بھرنے والے بہت سے اہل تشیع موجود تھے،کبھی لبھار تو یہ لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اس طویل عرصہ میں بہت سے روحانیان پکی پکائی کھانے کے با وجود اپنے حصہ کا کام نہیں کر رہے۔

 

ہماری قومی و اجتماعی زندگی کا نیا دور اس وقت شروع ہوا جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا 11سالہ دور 1977 ء میں ایک منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا گیا، جنرل ضیا ء الحق نے ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم بندی کے لیئے کئی ایک اقدامات کیئے اور اس کے دور میں ہی کئی مقامات اور شہروں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ زکوٰۃ کے مسئلہ پر احتجاج اور ملک میں فقہ حنفی کے نفاذ کی سازش اور خطرات کو بھانپتے ہوئے اس کارروان کے راہیوں نے قومی سطح پر TNFJکی صورت میں 1979ء میں قومی پلیٹ فارم کی تشکیل میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا اس کردار کو تاریخ میں کوئی مٹا نہیں سکتا، مفتی جعفر حسین قبلہ کی قیادت میں ضیائی مارشل لاء کے خلاف 1980ء میں اسلام آباد کے عظیم قومی اجتماع کا انتظام و انصرام اور کفن پوش دستوں کی تشکیل اور پروگرام کو کامیاب کرنا اسی تنظیم کا کام تھا ،مفتی صاحب کی رحلت کے بعد 10 فروری 1984ء کو بھکر کنونشن میں انقلابی قیادت علامہ سید عارف حسین الحسینی کی بھر پور اور بلا مشروط حمایت،شہید کی قیادت میں ساڑھے چار برس تک ملک بھر میں قومی پلیٹ فارم کو متحرک کرنا اور جگہ جگہ پر شہید کے استقبال، قرآن و سنت کانفرنسز ،لاہور،فیصل آباد، ملتان ،ڈیرہ اسماعیل خان میں امامیہ نوجوانوں نے ہی ان تاریخی پروگراموں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنا خون پسینہ خرچ کیا ، 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں آنے والے عظیم اسلامی انقلاب کی مکمل حمایت،انقلاب کے تعارف کیلئے گاؤں گاؤں ،قریہ قریہ پروگرام۔ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے خلاف تظاہرات اور ایرانی بھائیوں کی اخلاقی و عملی مدد، امریکہ کی عالم اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت اور سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہونا اور پاکستان کی سڑکوں پر امریکہ کے پرچم کو جلانے کی روایت جب کوئی بھی اس کا م پر آمادہ نہ ہوتا تھابلکہ شرعی دلیلیں دیکر اس سے منع کیا جاتا تھا اس تنظیم کا کارکنان کا شیوہ تھا یہ لوگ ہمیشہ اپنے دشمن کو شناخت کر کے اس کے خلاف برسر پیکار رہتے تھے ،بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس اور 16 مئی کو بفرمان شہید قائد یوم مردہ باد امریکہ منانے کا رواج و روایت بھی اسی کارروان نے شروع کی تھی جو آج تک جاری و ساری ہے ، علماء کرام کی توقیر بڑھانے کی منصوبہ بندی ہو یا قومی سطح پر انہیں فعال کرنے کی بات،بامقصد عزاداری کا فروغ،نماز دوران جلوس کے پروگرام، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت ،اصلاح نفس ،بلندی کردار،بیداری ملت کیلئے تعلیمی ورکشاپس کا انعقاد،تربیتی نشستوں کا اہتمام ،اخلاقی محافل کے مواقع ،دعا و مناجات کے کلچر کا فروغ مقصد کربلا سے آگاہی کی مہم اور کربلا شناسی کے مقابلہ جات ،نوجوانوں کو متحرک و فعال رکھنے کیلئے شعبہ اسکاؤٹنگ کا قیام اور اسکاؤٹ کیمپس کا انعقاد ، تعلیمی اداروں میں طلباء کے مسائل کے حل کیلئے فعالیت،رہنمائے تعلیمی کتابچہ ،تعلیمی کنونشنز کے ذریعہ ماہرین تعلیم سے تعلیمی رہنمائی ،کیرئیر گائیڈنس ،متحدہ طلباء محاذ کے ذریعہ دیگر طلباء تنظیموں سے بھر پور تعلقات اور طلباء مسائل کے حل کیلئے متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل میں کردار ہر ایک پر آشکار ہے، قائد محبوب علامہ عارف الحسینی کی الم ناک اور عظیم شہادت کے بعد شہید کے کیس کی مکمل پیروی اور قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیراؤ،اجتماعات ،مظاہرات،شہید کے افکار و کردار کی امانت کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے فریضہ کی ادائیگی، ملی و قومی اجتماعات کو کامیاب بنانے میں بھر پور کردار، فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت کے خلاف ملت میں شعور کی بیداری اور علاقائی سطوح پر مومنین کی بھر پور رہنمائی و مدد، تعلیمی میدان میں ہزاروں طلباء کو قرض حسنہ کی صورت میں اسکالر شپس کا اجراء اورا علیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کیلئے داخلہ فیسز کی ادائیگی اور مالی معاونت شعبہ طالبات کی صورت میں خواتین اور طالبات میں پیغام کربلا کی تشہیر اور زینبی کردار کی حامل بہنوں کی تربیت کیلئے پلیٹ فارم ،علماء کی سرپرستی و رہنمائی میں ایک مضبوط ،قوی اور با اثر و باشرف ملت کی تشکیل کیلئے ہمہ تن کوششیں ا ور جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تعلیمی اداروں میں نظریہ ولایت فقیہہ پر کاربند و عمل پیرا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے گروہوں کی تشکیل کا مسئلہ، ارض پاکستان کی نظریاتی ،جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کا معاملہ ہو یا وطن کی سا لمیت ،استحکام اور استقلال کیلئے اپنے مقدس لہو کو پیش کرنے کا مطالبہ امامیہ نوجوان ہر میدان میں بلا خوف، بلا جھجھک اور بغیر ڈر کے سینہ سپر ہوئے نظر آئے،کشمیر میں آنے والے زلزلہ اور ملک میں آنے والی بد ترین سیلاب میں بھی اس کارروان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کر خدمات سرانجام دیں اور کئی ایک مثالیں قائم کیں، یہ ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کاجھومر ہیں ۔۔۔اس کے علاوہ اسرائے ملت کی معاونت، شہدائے ملت کے خانوادوں کی کفالت وامداد، دیگر قومی اداروں کی معاونت ،مشکل و کڑے حالات میں ملت کی نمائندگی کرنے کا سہرا ،یہ سب آئی ایس او پاکستان کی خدمات و تاریخ جو ملت تشیع پاکستان کی42 سالہ تاریخ کہی جاسکتی ہے کا خلاصہ بلکہ صرف عنوانات ہیں ۔ اگر ان عنوانات کے ذیل میں ہم تفاصیل کا ذکر کرنا شروع کردیں تو کتابیں شائع کرنا پڑیں گی ۔ اس کالم کے ذریعہ ہم صرف اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ تمام پروگرام، اہم ایشوز،برنامے اور فعالیت گذشتہ 42برس سے جاری ہیں زمانے کی تبدیلیوں اور سائنس کی پیش رفت و ترقی نیز نوجوان نسل کی فکری و روحانی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جدید وسائل اور رسل و رسائل سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کاروان الٰہی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

قارئین محترم ! آپ آگاہ ہیں کہ کہ اس قدر طویل خدمات کسی ایک فرد اور گروہ کے بس کی بات نہیں ، یہ ممکن نہیں ہے کہ ان سب برادران، بزرگان، خواہران ،دوست احباب ،سینئرز ،جونیئرز ،اسکاؤٹس، علماء، زعماء،جانباز و مجروحین اور شہداء کی فہرست شائع کی جاسکے جنہوں نے 42 برس کے دوران اس کاروان الٰہی کے پلیٹ فارم سے اپنا خون ،پسینہ ،ذہن ،مال ،جائیداد ،وقت اور دیگر توانائیاں خرچ کیں۔۔۔ہاں۔۔۔یہ ضرور کہیں گے کہ اک چھوٹے سے یونٹ کے پروگرام سے لے کر مرکزی سطح تک ہونے والے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں ان 42 برسوں کے دوران جس جس نے بھی جو خدمت سرانجام دی ہے ،جو بھی اس کاروان الٰہی کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا ہے ، جس نے بھی اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالا ہے، جو بھی خطرات سے کھیلا ہے، جس نے بھی مشکلات جھیلی ہیں، اس کے خلوص، تقویٰ ،ہمت ،جدوجہد ،کاوش کو سلام ،سب سے بڑھ کر ان برادران کی عظمت و سربلندی کو سلام جن کے لہو کی سرخی اس کاروان کو منزل کی طرف گامزن رکھنے میں بنیادی کردار بن گئی، جن کے جسموں پر زخموں کے نشان آج بھی اس بات کی علامت ہیں کہ حق کا سفر قربانیاں مانگتا ہے اور راہیان حق اس روایت کو خندہ پیشانی سے آگے بڑھ کر زندہ رکھنے کی سعی کرتے ہیں۔۔۔اور یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ کسی معمولی پروگرام سے لے کر مرکزی سطح کے پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے کتنے ورکرز ،مخلص ،بے لوث خدمت کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم گذشتہ 42برس کے ہر پروگرام کے انعقاد میں حصہ لینے والے ان مخلص ، بے لوث ،ایثار گر، الٰہی نوجوانوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں جو کبھی بھی، کسی بھی مقام اور کسی بھی ٹائم پر اس کا رروان کے ہمرکاب ہوئے، ہم سفر ٹھہرے ۔

 

تاریخ گواہ ہے کہ اس تمام عرصہ کے دوران اس ملت پر بڑے کٹھن دور بھی آئے ہیں، بہت مشکل اور کڑے لمحے جب فیصلے کی قوت جواب دے جاتی ہے ،جب مایوسیاں گھیر لیتی ہیں، جب ایمان کمزور پڑ جاتے ہیں بلکہ ایمان ڈول جاتے ہیں ،جب ملت امتحان یا آزمائش کا سامنا کرتی ہے۔ جب قیادتیں اپنا اعتماد کھو بیٹھتی ہیں ۔ ایسے ادوار اور مشکل لمحات کو بھی اس کارروانِ الٰہی نے بے حد خوبصورت انداز میں گذارا ہے آج تک کئی ایک تاریخی بحرانوں سے کامیابی سے نکل جانے کے بعد اکثر ہمارے برادران اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ، اس کا رروانِ الٰہی پر یقیناًحضرت حجتؑ کا خاص لطف اور نظر ہے ،اسی وجہ سے تمام تر مشکلات ،مسائل، مصائب ، اور ناگفتہ بہ احوال کے باوجود یہ کاررواں \" حی علیٰ خیر العمل\" کا پرچم لہراتا آگے بڑھتا دیکھا جاسکتا ہے۔انشا ئاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے اس منزل کی طرف جس کا وعدہ اللہ اور اس کے پاک پیغمبر ؐ نے کیا ہے زمین کو عدل وانصاف سے بھر دینے کا وعدہ اور ظالمین کی ہمیشہ کیلئے نابودی کا وعدہ یہ وعدہ جلد پورا ہو گا اور ہم جو ایک جیسے(i so) ہیں اس وقت بھی حکم خدا کے نافذ کرنے والی ہستی کے ساتھ ایک ساتھ اور ایک جگہ ہوں گے کیا خوبصورت اور روحانی و معنوی کیفیات و لمحات ہوں گے جب ہم شہید قائد او ر شہید ڈاکٹر کی معیت میں حضرت حجتؑ کی بارگاہ میں موجود ہوں گے۔

 

خدا وند کریم ! تمام برادران و خواہران کی زحمات، تکالیف اور کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کی مناز ل سے سرفراز فرمائے، خدا کے ہاں ان کیلئے انعام و اکرام ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ،ہمیں یوم تاسیس کے دن ان سینئرز کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے راستے پر چلنے کا عہد دہرانا ہے اوراس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ اس پر خار رہ پر چلتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں گے اس کی ساتھ ساتھ آج اس تنظیم اور کارروانِ الٰہی کے بیالیس سالہ سفر کے بعد خدا کے حضور گڑ گڑانے اور دستِ دعا بلند کرنے کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

 


 تحریر:ارشاد حسین ناصر

وحدت نیوز(کراچی) شہر قائد میں کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے ، سندھ حکومت کالعدم جماعتوں کی پشت پناہی کر رہی ہے ،وزیر اعلیٰ سندھ دینی مدارس کے نام پر دہشتگردوں کو پناہ دے رہیں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس ورینجرز میں موجود کالی بھڑوں کی سرپرستی میں کالعدم دہشتگرد گروہوں کے شہر میں دفاتر کھولے جا رہے ہیں ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ حکومت میں شامل وزراء پر نظر رکھیں ،شہر قائد میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، اسمبلی میں موجود حکمران صرف قوم کو دھوکا دے رہے ہیں، وفاقی حکومت کے ایک سال اور صوبائی حکومت کے 6سالہ دور میں عوام کو مزید بے روزگاری ،بجلی بحران،اور ٹارگٹ کلنگ و دہشتگری کا تحفہ دیا، 23مئی کو نا اہل وفاقی اورصوبائی حکومت کے خلاف علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے حکم پر ملک گیر عوامی احتجاج ہوگا ۔

 

ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کراچی کے رہنما علامہ مبشر حسن نے وحدت ہاؤس میں 23مئی ملک گیر یوم احتجاج کے حوالے سے ہونے والے کابینہ اورڈسٹرکٹ  عہدیداران کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک منظم سازش کے تحت پورے ملک میں کالعدم گروہوں کو حکومتی سطح پر پروموٹ کیا جا رہا ہے،کراچی شہر میں شیعہ نسل کشی اور قاتلوں کی عدم گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے شہر قائد کو کالعدم تکفیری جماعتوں کے دہشت گردوں او ر سیاسی طالبان کے حوالے کردیا ہے، روزانہ بے گناہ تاجروں، ڈاکٹرز، وکلاء اور انجینئرز کی ٹارگٹ کلنگ وزیراعلیٰ سندھ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ جس وزیراعلیٰ کے صوبے میں ناامنی کی بدترین صورتحال ہو اور شہری ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں ، ایسے صوبے میں وزیر داخلہ کا نہ ہونا اس بات کا غماز ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور اس کی تمام اتحادی جماعتیں سندھ میں قیام امن کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو متنبہ کیا کہ کراچی میں بڑھتی ہوئی شیعہ نسل کشی کا نوٹس لیا جائے اور شہداء کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے بصورت دیگرشیعہ قوم انصاف کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کا گھیراؤ کرے گی۔

وحدت نیوز(گجرات)ضلع گجرات کے سیکرٹری جنرل برادر تنویر حسین رضوی کی دعوت پر تحصیل کھاریاں کے مقام لالہ موسیٰ میں ایم ڈبلیوایم کی تحصیل کابینہ تشکیل دی گئی جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت فرمائی ہوئی تھی۔ صوبائی سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام والمسلمین قبلہ علامہ عبدالخالق اسدی صاحب صوبائی کابینہ تحصیل کھاریاں سے حلف لیا۔

 

اس پروگرام سے پہلے ایک عوامی جشنِ مولودِ کعبہ بھی منعقد کیا ہوا تھا جوجامعہ مسجد لالہ موسیٰ میں قیام پذیر تھاایک بڑی تعداد میں لوگ شرکت فرما تھے جس میں حجتہ الاسلام والمسلمین قبلہ علامہ عبدالخالق اسدی صاحب خصوصی خطاب کیا۔جشن مولود کعبہ کی مناسبت سے فلسفہ ولایت و امامت پر روشنی ڈالی سیرت محمد وآل محمد پر عمل پیراہو نے کی وضاحت کی اور عالمی اور موجودہ پاکستان سے عوام کو اگاہ کیا ،اس طرح یہ ایک تنظیمی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ۔

وحدت نیوز(نجف اشرف) مجلس وحدت مسلمین نجفِ اشرف کے سیکرٹری جنرل علامہ سید مہدی نجفی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے سب سے بڑی عوامی اجتماع نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ شخصیت پرستی معیار نہیں ہے بلکہ نظریہ معیار ہے اور اس نظریہ اتحاد کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے عملی جامہ پہنایا اور یہ بھی بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان عملی جدوجہد والی جماعت ہے۔ علامہ سید مہدی نجفی نے یہ بھی بتایا کہ ہم زندہ، باوقار، سربلند، باعزت اور جرات مند قوم ہیں۔ غیور عوام ملک کے دفاع اور محبت کا حق ادا کرتے رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے اپنے اندر تبدیلی لانا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے اندر تبدیلی لے آئیں گے اور متحد ہو جائیں گے تو پھر کوئی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔

وحدت نیوز(کراچی) میٹھادرمیں امریکی سعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے امام بارگاہ شیرازی کے متولی شوکت شیرازی شہید جب کے ان کے ساتھ ان کے اہلسنت دوست قیصر بھی شہید ہوگئے ۔نمائندیکی اطلاعات کے مطابق امریکی سعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں نے اس وقت گولیاں مار کے شہید کیا جب وہ اپنے اہلسنت دوست کے ساتھ جارہے تھے کے گھات لگائے دیوبندی دہشتگردوں نے فائرنگ کردی جس سے شوکت شیرازی اور ان کے اہلسنت دوست قیصر شہید ہوگئے ۔شوکت شیرازی امام بارگاہ شیرازی کے متولی اور مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے پولٹیکل کونسل کے رکن تھے۔

وحدت نیوز(کراچی ) مجلس وحدت مسلمین کراچی،جعفریہ الائنس ،امامیہ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن کی جانب سے شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور جنگ گروپ کی جانب سے توہین اہلبیت علیہ السلام کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی امام بارگاہ شاہ خراسان سے نکالی گئی جس میں خواتین ،بچوں سمیت شیعہ افراد کی بڑی تعداد موجود تھی ریلی میں موجود شرکاء ریلی نے وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سمیت جنگ گروپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ریلی کے شرکاء سولجربازار سے ہوتے ہوئے نمائش چورنگی پہنچے جہاں احتجاجی دھرنا دیا گیا دھرنے سے خطاب میں مجلس و حدت مسلمین کے رہنماء علی حسین نقوی ،علامہ مبشر حسن ،علامہ علی انور نقوی کاکہنا تھا کہ کراچی اب تک 350 سے زائد شیعہ علماء ،پروفیسرز،ڈاکٹرز،وکلاء ،تاجر وں سمیت عمائدین کو نشانہ بنایا گیا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال کسی دہشتگرد کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرکوبی کرنے کے بجائے ان سے مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ یہ سفاک اور انسانیت کے دشمن دہشت گرد ملک کے تین صوبوں میں ہولناک تباہی مچا کر معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔دہشت گردی کا خاتمہ صرف اور صرف کالعدم دہت گرد گروہوں کا قلع قمع کئے جانے سے ہی ممکن ہے جبکہ حکومت اور حکومتی ادارے ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گردگروہوں سے مذاکرات کی باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو براہ راست پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ کراچی میں350 جبکہ سے زائد شیعہ علماء و نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹارگٹ کلنگ کی ان واقعات میں ملوث تاحال کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا یہ اس بات کا واضح ثبوت کے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کالعدم گرہوں کے حمایت یافتہ افراد موجودہیں سندھ حکومت کو چاہیے کے اپنی صفوں میں سے ان کالی بھیٹوں کو علیحدہ کرے اور وفاقی و صوبائی حکومت شیعہ اور سنی فسادات پھیلانے والے عناصر سے حکومت مذاکرات کی بجائے طاقت سے نمٹے اور ان کا قلعہ قمع کرے۔

 

ریلی سے خطاب میں مجلس و حدت مسلمین کے رہنماء علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ اہلیبت علیہ السلام کی شان میں جیو ٹی وی کے پروگرام میں گستاخی سے امت مسلمہ کی دل آذاری ہوئی اور ایسی دل اذاری جنگ گروپ گزشتہ کئی عرصے سے کر رہا ہے اور اس کے پس پردہ وہی عوامل ہیں جو اس ملک میں فرقہ واریت اور عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں ،گستاخ اہلبیت علیہ السلام جنگ گروپ کی داستان ایسے کئی کارموں سے بھری پڑی ہے جس کی وجہ سے اس ملک کا امن و امان خراب کیا گیا اور ایک مخصوص تکفیری ذہنیت کو پروان چڑھایا گیا جس نے امت مسلمہ اور ملکی عوام میں قومیت اور فرقہ بندی کی اور کئی پروگرامات کے علاوہ اپنے اخبار میں کئی بار لوگوں کی دل اذاری کی۔

 

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پیمرا اور حکومت فوری طور پر ایسے شر پسند چینل کو بند کرے اور اس پر مکمل پابندی لگائی جائے ،حکومت فوری ایکشن لیتے ہوئے جنگ گروپ کے خلاف سخت ایکشن لے اور گستاخی کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے سخت سزادی دی جائے تاکہ پھر کوئی ایسی گستاخی کرنے کی ہمت نہ کر سکے درایں اثناء رہنماؤں نے اعلان کیا کہ کراچی شیعہ نشل کشی اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف 23مارچ کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا بعد اذاں شرکاء نے احتجاج ریلی کا اختتام امام بارگاہ علی رضا ایم اے جناح پر کیا اور حکومت و جنگ گروپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree