وحدت نیوز (گلگت) جنگ بندی کا اعلان یمن کے مظلوم عوام کی فتح ہے ، 27 دنوں تک مظلوم یمنی عوام کو جارحیت کا نشانہ بنانے والے سعودی حکمرانوں کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہوگیا۔سعودی حکمران جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے صیہونی ریاست کے ادھورے خواب کی تکمیل چاہتے ہیں اور مسلم دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مشرق وسطی کو فتنے کی آگ میں دھکیلنا چا ہتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین خواتین ونگ کی سیکرٹری سیاسیات خواہر شکیلہ نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 روزہ جنگ میں سعودی اور اس کے اتحادیوں کو رسوائیوں اور بد نامیوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور پارلیمنٹ کے فیصلے سے سعودی شہنشاہوں کی تمام امیدوں پر پانی پھرگیا اور وہ مظلوم یمنی عوام کی استقامت نے ان کے چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یمن کے عوام مسلمان ہیں اور وہ حرمین شریفین کی بیحرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتے اور اگر حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق ہے تو وہ خود سعودی حکمرانوں اور ان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے جو عراق اور شام میں بیگناہ انسانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت تمام مسلمانوں پر واجب ہے لیکن میر سوال یہ ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت احترام کے جھوٹے دعویدار اس وقت کہاں تھے جب رسول اسلام کی آل پاک کے مقدس روضوں کی بیحرمتی کرکے انہیں مسمار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت میں یمن کے مظلوم عوام کی حمایت میں ریلی نکالنے پر مجلس وحدت کے رہنماؤں اور کارکنوں پر جھوٹی ایف آئی آر بد نیتی پر مبنی ہے اور طارق قنبری کی گرفتاری بلا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت رنگ و نسل مذہب سے بالاتر ہوکر عوام کی خدمت کررہی ہے اور تمام مظلوم طبقات کی نمائندہ جماعت ہے جو پوری دنیا کے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے چاہے وہ فلطین و لبنان ہو یا کشمیر و افغانستان یا شام ،عراق و یمن۔
وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رکن مرکزی شوریٰ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل ایک غیر جانبدارانگران حکومت قائم کی جائے تاکہ وہ صاف و شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں لیکن اس کے بر عکس مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی من پسند افراد کو نگران سیٹ اپ میں رکھ کر انتخابات سے قبل ہی جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے، گلگت بلتستان کی عوام با شعور ہیں وہ اپنے ووٹ کے زریعے سے ن لیگ کی حکومت کے دھاندلی کے زریعے انتخابات میں کامیابی کو ناکامی میں بدل دیں گے یہاں نواز شریف کا گلگت بلتستان میں یہ پہلا دورہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی گلگت کا دورہ کر چکے ہیں اور بلند و بانگ دعوے کئے ہیں اور متعدد بار گلگت بلتستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کی باتیں بھی کر چکے ہیں گلگت کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم کے اعلان تعلق ہے تو ان کے بہت سے اعلانات تو ایسے ہیں جن پر سابقہ حکومتوں میں کام ہوا ہے اس طرح کے اعلانات نواز حکومت کی ذہنیت کی عکاس کرتا ہے جیسا کہ انہوں نے دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا ہے ، اس ڈیم پر تقریباً دس سالوں سے کام جاری ہے، عطا آباد جھیل منصوبے پر کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اسی طرح رائے کوٹ پل پر سڑک کی تعمیر بھی مکمل ہونے والی ہے یہ سارے کام تو سابقہ حکومتوں میں ہو چکے ہیں اور نواز شریف اس کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے، گلگت بلتستان میں چھوٹے سطح سے لی کر چیف سیکرٹری تک کا تبادلہ کیا جا رہا ہے
گلگت بلتستان میں چیف سیکرٹری نواز حکومت کی ، گورنر نواز لیگ کی۔ نگران حکومت نواز لیگ کی ہے اور حد تو یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر بھی نواز لیگ کا رہنماء ہے۔ ایسے میں شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن ہی نہیں ، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے محروم عوام کے حقوق کی جنگ لڑے گی اور عوامی طاقت سے انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی اور کامیابی ہمکنار ہو گی گلگت بلتستان کی عوام باشعور ہو چکی ہے اور جانتی ہے کہ کونسی جماعت گلگت بلتستان کے امنگوں کی ترجمانی کرسکتا ہے ۔ وزیراعظم کا دورہ گلگت حقوق سے محروم عوامی امنگوں کا ترجمان بننے کی بجائے مایوسی کا سبب بنا۔
وحدت نیوز (گلگت) گلگت بلتستان کو حقوق دینے والی لیگی حکومت نے گندم کے کوٹے کو روک کر علاقے میں آٹے کا بحران پیدا کروایا ہے۔گلگت بلتستان کے لئے مختص 20 لاکھ بوری گندم کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی ترجمان محمد الیاس صدیقی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے مختص کوٹہ علاقے میں نہیں پہنچ رہا ہے اور گلگت بلتستان میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے۔جو حکومت علاقے کے کوٹے کا گندم پورا نہیں دے رہی ہے وہ کیا خاک گلگت بلتستان کو حقوق دیگی۔گلگت بلتستان میں وسیع و عریض رقبے پر مشتمل زمینیں حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث بنجرپڑی ہوئی ہیں اور ان زمینوں کو نہ صرف قابل کاشت بنانے کیلئے وسائل فراہم نہیں کررہے ہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام پر حکومتی قبضے ہیں اور گندم ضرورت کے مطابق کاشت نہیں ہورہا ہے اور تمام تر دارومدار ڈپو کے گندم پر ہوتا ہے جس میں بھی کرپشن ہے۔ علاقے کے عوام روٹی کے بدلے مہنگے داموں چاول کھانے پر مجبور ہیں اور موجودہ حکومت لاہور میں میٹروبس سروس پر بھی سبسڈی دے رہی ہے اور گلگت بلتستان کے غریب عوام کو گندم پر سبسڈی دینے کو تیار نہیں اور موجودہ مصنوعی بحران اس لئے کیا جارہا ہے کہ لوگ تنگ آکر پنجاب سے مہنگا آٹا کھانے پر مجبور ہوجائیں۔
وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری سیاسیات سید ناصرعباس شیرازی سے بلتستان کے مختلف وفود نے ملاقاتیں کیں اور اس موقع پر انہوں نے ایم ڈبلیو ایم میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ عمائدین نیورنگاہ، نیانیور، سندس، کتپناہ اور شگریخورد نے مجلس وحدت مسلمین کی ملک بھر میں جاری تحریکوں کا خیرمقدم کیا اور انہوں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایم ڈبلیو ایم میں شمولیت اس تنظیم کی اطمینان بخش کارکردگی اور نظریات کے سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس نے ملک میں دنیا بھر میں جاری مظالم کے خلاف صدائے حق ہر حالت میں بلند کرتی رہی۔ اس موقع پر سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین غریبوں اور کمزوروں کی جماعت ہے اور مستضعفین کے حقوق کی جنگ ہر حالت میں لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے گلگت بلتستان کو محرومی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا۔ سابقہ حکمران جماعت کے استحصال کے بعد یہاں کی عوام نواز لیگ کی سیاسی مکاریوں کا مقابلہ کرنا جان چکی ہے اور مسلم لیگ نواز کو سیاست کے میدان میں بھرپور شکست دے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کی عوام سے گندم سبسڈی چھین کر ظلم کیا تو یہاں کی غیور عوام نے انکو اس ظلم میں کامیاب ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی کی سابقہ پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں سوال کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ان پانچ سالوں میں عوام کو کیا دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلتستان آکر یمن کے مسئلے پر عوام کو گمراہ نہ کریں، پیپلز پارٹی کی قیادت، زرداری اور رحمان ملک فوج کو یمن بھیجنے اور یمن مسئلے پر نواز شریف کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکی ہے، خورشید شاہ اور قمرالزمان کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں کہ وہ یمن کے مسئلے پر گفتگو کریں اور نواز شریف پر تنقید کریں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نواز شریف کو ان حالات میں سہارا دیا، جن حالات میں نواز شریف کی حکومت جانے والی تھی، اب بلتستان آکر نواز شریف سے اختلاف کرنا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ عوام کے درمیان آکر اختلافات کی باتیں کرنے میں مصروف ہیں جبکہ وہ ایک دوسرے کی دوست جماعتیں ہیں۔ اب یہ دونوں جماعتیں باریاں لینا چاہتی ہیں جسے ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام اب کارکرگی اور نظریات کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لے گی اور کسی جعلی دعوے کرنے والے کا ساتھ نہیں دے گی۔ عوامی وفد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلتستان میں آٹے کا بحران پیدا کیا جا رہا ہے اور اس بحران کے پیچھے مسلم لیگ کا ہاتھ ہے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ آٹا بحران انتظامیہ کی نااہلی ہے اور سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے، اگر آٹے کے بحران کا مسئلہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو موثر آواز بلند کی جائے گی۔
وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماچودھری غلام سرور کی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی سے ایم ڈبلیو ایم سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ملاقات ، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے غلام سرو رخاں اور زوالقرنین شاہ جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی، کراچی ڈویثرن کے سیکریٹری سیاسیات سیدعلی حسین ، مرکزی آفس اسلام آبادکے انچارچ علامہ محمد اصغر عسکری اورپولیٹیکل کور کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ سید آصف رضا شامل تھے۔
پی ٹی آئی کے رہنماوں سے ملاقات میں علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے پورے ملک میں اصولی بنیادوں پر پی ٹی آئی کا ساتھ دیا ہے۔ کراچی میں امن امان کی بحالی کے لئےNA-246 کی الیکشن میں تحریک انصاف کا ساتھ دیا اور اسی طرح گلگت بلتستان الیکشن میں بھی مفاہمت کی پالیسی پر عمل کرینگے، گلگت بلتستان میں کسی بھی امیدوار پر کوئی پریشر نہیں ڈالا ، ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہونے والے تمام امیدوار اپنی مر ضی سے شامل ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کور کمیٹی امید وار کی قابلیت اور عوامی خدمت کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے گی،علامہ امین شہیدی کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں ہم نے کسی شخصی اور مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عملی میدان میں کام کر کے عوام کا دل جیتا ہے، ہم نے جی بی، کراچی سمیت ملک کے تمام حصوں میں مظلوم اور مشکلات میں گرِے عوام کا ساتھ دیا اور ہمیشہ حق کے لئے آواز بلند کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء غلام سرورخاں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان الیکشن میں ایم ڈبلیوایم اور پی ٹی آئی دونوں نئی جماعتیں ہیںِ لہذٰا ہم یہ خواہش رکھتے ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر کام کریں۔ان کا کہنا تھا کراچی الیکشن میں مجلس و حدت مسلمین کا کردار قابل تحسین تھا اور ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ،کے پی کے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کے حوالے سے مجلس و حدت کے تمام تحفظات دور کرینگے،ملا قات میں دونوں رہنماوں نے گلگت بلتستان الیکشن مہم میں کمیٹیاں بنانے پر بھی غور کیا، اور جلد ہی دونوں جماعتوں کے اعلیٰ سطح وفد بھی ملاقات کرینگے۔
وحدت نیوز (اسکردو) جیسے جیسے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات نذدیک آرہے ہیں خطے کی موثرسیاسی اور سماجی شخصیات کی تیزی کے ساتھ مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ روزڈویژنل سیکریٹریٹ وحدت ہاؤس اسکردومیں ایک پروقار تقریب جس میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی سیکریٹری امور سیاسیات سید ناصرشیرازی ، مرکزی معاون سکریٹری امورسیاسیات علامہ مقصودڈومکی اور ڈویژنل سیکریٹری جنرل علامہ سید علی رضوی مہمان خصوصی تھے، روندو کی معروف سیاسی شخصیت راجہ ناصرعلی خان مقپون نے علمائے کرام اور برادری کے سینکڑوں افراد کے ہمراہ ایم ڈبلیوایم میں شمولیت کا باقائدہ اعلان کیا، جبکہ یاسین شاہ کی قیادت میں یوتھ آف روندوکے سینکڑوں کارکنان نے بھی ایم ڈبلیوایم میں شمولیت کا باظابطہ اعلان کیا، یوتھ آف روندوکے جوان ایک بڑی موٹر سائیکل ریلی کی صورت میں ایم ڈبلیوایم کے دفتر پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا، دوسری جانب تریکو کے عمائدین کی بھی بڑی تعداد ایم ڈبلیوایم میں شامل ہوگئی ہے،جن میں حوالدارعبدالرحیم، قلب علی، حاجی رستم، جوہر،ذوالفقار، نوازش ، حوالداررسول اور محمد کاظم شامل ہیں ، ایم ڈبلیوایم کے قائدین نے نو وارد اراکین کو پھولوں کے ہار پہناکر ایم ڈبلیوایم میں خوش آمدید کہا.
اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم میں شمولیت اختیار کرنے والی شخصیات کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کی تمام مظلوم عوام بالخصوص گلگت بلتستان کے عوام کے لئے خدمات اور ہر میدان میں اٹھنے والی آوازکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، ہم ایم ڈبلیوایم کی خدمات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیوایم کے پاس خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک مضبوط وژن موجود ہے،جس کے تحت خطے کی تقدیر کو بدلا جاسکتا ہے،عمائدین نے کہا کہ روندوکے بااثرراجہ خاندان کی ایم ڈبلیوایم میں شمولیت علاقے کیلئے نیک شگون ہے،ہم روندومیں ایم ڈبلیوایم کی کامیابی کے لئے بھر پورکردارادا کریں گے،انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید اہم سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات ایم ڈبلیوایم میں شمولیت کا اعلان کریں گی۔